Az-Zukhruf 43:22

Az-Zukhruf · from ayah 22

43:22

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ ۟بَلۡ قَالُـوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰٓى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰٓى اٰثٰرِهِمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Rather, they say, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are in their footsteps [rightly] guided."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:22

نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک رستے پر پایا ہے اور ہم انہی کے قدم بقدم چل رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

نہیں، بلکہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کے مطابق ٹھیک ٹھیک راستے پر جارہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(نہیں) بلکہ وہ کہتے ہیں: بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک ملّت (و مذہب) پر پایا اور یقیناً ہم انہی کے نقوشِ قدم پر (چلتے ہوئے) ہدایت یافتہ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ انھوں نے کہا کہ بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بیشک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقے پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر راہ یاب ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(کچھ بھی نہیں) بلکہ یہ تو بس یہی کہے جا رہے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چلے جا رہے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

نہیں بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم قدم رکھ رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباء و اَجداد کو پایا ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم پر ہدایت یافتہ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلکہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay; they simply claim: “We found our forefathers on a way, and we continue to find guidance in their footsteps.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Instead, they say, :We have found our fathers on a certain way, and we are on their footprints, fully guided.

— Muhammad Taqi Usmani

Instead, they say, :We have found our fathers on a certain way, and we are on their footprints, fully guided.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! They say: "We found our fathers following a certain way and religion, and we guide ourselves by their footsteps."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, for they say only: Lo! we found our fathers following a religion, and we are guided by their footprints.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Rather, they say, "Indeed, we found our fathers upon a religion, and we are in their footsteps [rightly] guided."

— Saheeh International

In fact, they say, "We found our fathers following a certain belief and we now follow in their footsteps for our guidance".

— Muhammad Sarwar

Nay! they say: We found our fathers on a course, and surely we are guided by their footsteps.

— Muhammad Habib Shakir

Nay! they say: verily we have found our fathers on a certain way, and verily by their footsteps we are guided.

— Abdul Majid Daryabadi

Nay! they say: "We found our fathers following a certain religion, and we do guide ourselves by their footsteps."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–25

جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ 35؀) 30۔ الروم :35) یعنی کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت (اِنَّ هٰذِهٖٓ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 22 یعنی ان کے پاس کسی کتاب الہیٰ کی کوئی سند نہیں ہے بلکہ سند صرف یہ ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آ رہا ہے، لہٰذا ہم بھی انہی کی تقلید میں فرشتوں کو دیویاں بنائے بیٹھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔ (آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرعم مھتدون 22 مشرکین کی روایتی دلیل اور اس کی تردید اوپر مشرکین کی کالمی دلیل کی تردید فرمائی ہے۔ اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مشرکین عرب کو بھی بالکل اسی طرح کا دھوکا پیش آیا جس طرح کا دھوکا ہمارے ہاں مجبرہ کو پیش آیا۔ اب یہ ان کی روایتی دلیل ایک حوالہ ہے جس پر ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور چونکہ اس کی بنیاد تقلید آباء پر ہے جس کا تعلق عقل کے بجائے مجرد جذبات سے ہے اس وجہ سے ہر دور کے اشرار نے اس ہتھیار سے فائدہ اٹھایا اور عوام کے جذبات بھڑکا کر مصلحین کی مساعی اصلاح کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ امۃ کے معنی جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 22–24

24۔ 1 یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے فتح القدیر، للشوکافی)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–31

7: دو بستیوں سے مراد مکہ مکرمہ اور طائف کے شہر ہیں۔ چونکہ اس علاقے میں یہی دو بڑے شہر تھے، اس لیے مشرکین نے یہ کہا کہ ان شہروں کے دولت مند سرداروں پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

6 عقلی دلیل کا حال تو سن چکے۔ اسے چھوڑ کر کیا کوئی نقلی دلیل اپنے دعوے پر رکھتے ہیں ؟ یعنی خدا کی اتاری ہوئی کوئی کتاب ان کے ہاتھ میں ہے ؟ جس میں شرک کا پسندیدہ ہونا لکھا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی سند ان کے پاس نہیں۔ پھر آگے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کیا باقی رہ گیا۔ وہ ہی ان کی سب سے زیادہ زبردست دلیل ہے جس کو ہر زمانہ کے مشرک پیش کرتے آئے ہیں آگے اسی کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 { بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ } ”بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباء و اَجداد کو پایا ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقش ِقدم پر ہدایت یافتہ ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

21 محض تقلید آباء سب سے بڑی گمراہی ہے :۔ یعنی ملائکہ پرستی کے لیے ان کے پاس کوئی نقلی دلیل موجود نہیں۔ کسی آسمانی کتاب میں انہیں یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ فرشتے واقعی اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اللہ کی الوہیت میں حصہ دار ہیں۔ لہذا تمہیں ان کی بھی عبادت اور پوجاپاٹ کرنا چاہئے اور اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کے وقت انہیں پکارنا چاہئے۔ لے دے کے ان کے پاس یہی جواب ہوتا ہے۔ کہ یہ رسوم ہمارے اسلاف سے چلی آرہی ہیں جو ہم سے زیادہ نیک اور پارسا تھے۔ لہذا ہم ان کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ تقلید آباء یا اسلاف کا مرض صرف اس دور کے مشرکوں میں ہی نہیں پایا جاتا تھا۔ بلکہ آج کے مسلمانوں میں بھی پایا جاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ یعنی بجز اندھی تقلید کے ان کے پاس دلیل کے نام سے کوئی چیز ہی نہیں، نہ عقلی نہ نقلی، امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ آباء پرستی وتقلید جامد کی مذمت میں قرآن مجید میں اگر اور کہیں کچھ نہ ہوتا۔ جب بھی یہی آیات بالکل کافی تھیں، ولم یکن فی کتاب اللہ الا ھذہ الایات لکفت فی ابطال القول بالتقلید (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون بلکہ وہ کہتے ہیں : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے (صحیح) راستہ پر چل رہے ہیں۔ یعنی تخلیق کے وقت نہ تو یہ موجود تھے ‘ نہ ہم نے ان کو (ان مشرکانہ عقائد کی تعلیم دینے والی) کوئی کتاب دی ‘ بلکہ باپ دادا کی تقلید میں یہ ایسی باتیں کہتے ہیں۔ عَلٰٓی اُمَّۃٍ یعنی ایک دین اور طریقہ پر پایا۔ ملت کو امت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ملت کی طرف قصد کیا جاتا ہے ‘ جیسے رحلۃ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طرف لوگ سفر کر کے جاتے ہیں۔ مجاہد نے امّۃ کا ترجمہ امام کیا ہے۔ عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ یعنی ان لوگوں کے پاس کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) کیا ہم نے ان کو قرآن حکیم سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ اپنے اس دعوے میں اس سے استدلال کر کے کہہ رہے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو اس کے جواب میں وہ کہنے لگے کہ ایسا نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے طریقے پر اور ان کی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ…: یعنی ایسا نہیں کہ ان کے پاس اپنی گمراہی کے لئے اللہ تعالیٰ کی کسی کتاب کی کوئی دلیل یا سند موجود ہے، بلکہ ان کی دلیل اور سند یہی ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راہ پر پایا ہے اور ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔ اس کی ہم معنی آیت کے لئے دیکھیے سورة ذاریات (52، 53)۔ باطل اور ناحق باتوں (شرک و بدعت اور رسوم) میں بڑوں اور بزرگوں کی پیروی کو دلیل بنانا وہ گمراہی ہے جو قدیم زمانے سے چلی آئی ہے اور کفار کا شیوہ رہا ہے کہ وہ انیاء کے مقابلے میں اس کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں، قرآن نے متعدد آیات میں ان کی مذمت فرمائی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس بات میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر ا۔ علی امتہ مراد طریقہ اور مذہب ہے ؛ یہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول ہے (1) ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز، مجاہد اور قتادہ اسے امتہ پڑھا کرتے تھے اور امتہ کا معنی طریقہ ہے۔ جو ہری نے کہا : امتہ کا معنی نعمت ہے اور امتہ، امتہ کی بھی ایک لغت ہے اس سے فراد طریقہ اور دین ہے ؛ یہ ابو عبیدہ سے مروی ہے۔ عدی بن زید نے نعمتہ کا معنی لیتے ہوئے کہا : ثم بعد الفلاح و الملک والامتہ وارتھم ھناک القبور کامیابی، بادشاہت اور نعمت کے بعد وہاں قبروں نے انہیں چھپا لیا۔ یہ جوہری کے علاوہ سے مروی ہے۔ قتادہ اور عطیہ نے کہا : علی امتہ کا معنی ہے دین پر (2) ۔ قیس بن خطیم کا قول اسی معنی میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–25

1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔ 2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ قَالُـوْٓا [ بلکہ انہوں نے کہا ] اِنَّا وَجَدْنَآ [ بیشک ہم نے پایا ] اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ [ اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر ] وَّ اِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْ [ اور بیشک ہم ان کے نقوش قدم پر ہی ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 21–24

﴿قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى ﴾ (الآیۃ) سابقہ امتوں کی طرف جو نذیر بھیجے گئے ان کے مالدار لوگوں نے جو انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے پر ہیں اسی کا اقتداء کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرات نے سوال کیا کہ تم نے جن طریقوں پر اپنے دادوں کو پایا ہے اگر ہم اس سے بڑھ کر اور بہتر ہدایت لے کر آئے ہوں کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہو گے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم جو کچھ لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے جب ان لوگوں نے حق کو نہ مانا اور حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں مبتلا فرما دیا ﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

15:۔ ” ام اتینہم کتابا۔ الایۃ “ اس میں دلیل نقلی کی نفی کی گئی ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی ان کے پاس کتب سابقہ میں بھی کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے تمسک کر کے وہ فرشتوں کو معبود ٹھہراتے ہوں۔ بان یعبدوا غیر اللہ تعالٰٰ و ینسبوا الیہ الولد (جامع البیان ص 420) ۔ ” بل قالو الخ “ دلیل عقلی اور نقلی کی نفی کے بعد دلیل وحی خود بخود منتفی ہوجاتی ہے، کیونکہ وحی ربانی بھی ان کے خلاف ہے۔ اس لیے ہر طرف سے لاجواب ہو کر وہ کہتے ہیں ہمارے پاس عقل و نقل اور وحی کی تو کوئی دلیل نہیں جس کا تم مطالبہ کرتے ہو، بلکہ ہم نے یہ عقیدہ اور عمل اپنے باپ دادا سے اخذ کیا ہے۔ ہم نے ان کو اسی دین اور طیرقہ پر پایا ہے وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ قَالُـوْٓا اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ۝ 22 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–30

ترکیب : قراء الجمہور قل و قریٔ قال حکایۃ لماجری بین النذروقومھم۔ ای قال کل نذیر لقومہ۔ اَہمزۃ انکار وللعطف علی المحذوف ای تتبعون ذالک۔ و جواب لو محذوف۔ الا الذی استثناء منقطع اومتصل علی ان کلمۃ مافی ممایعم لانھم کانویعبدون اللہ والاوثان اوصفۃ بمعنی غیر علی ان ماموصوفۃ ای اننی براء من الہۃ تعبدونھا غیر الذی فطرنی وجعلہا فاعلجعل الضمیر یرجع الی اللہ اوالی ابراھم وھا الی کلمۃ التوحید التی قالھا ابراھیم۔ تفسیر : یہ بقایا ہے اس گفتگو کا جو انبیائِ سابقین اور ان کی قوم میں ہوئی تھی کہ کیا جب تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے اچھا اور ہدایت کا طریقہ ہم تمہارے پاس لاویں جب بھی تم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

وَقَالُوْا لَوْشَآئَ الرَّحْمٰنُ مَاعَبَدْنٰـہُمْ ط مَالَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ق اِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ اَمْ اٰ تَیْنٰـہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَھُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ ۔ بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 20 تا 22) (اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو کبھی نہ پوجتے، ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی، سو انھوں نے اس کو مضبوط پکڑ رکھا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مشرک سے اس کے شرک کے بارے میں ہر صورت سوال ہوگا۔ دنیا میں اس سے اس کے شرک کے بارے میں سوال کیا جائے اور اس کو اس کے باطل عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ سمجھنے کی بجائے مختلف قسم کے بہانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بہانوں میں سے ایک بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرکیہ عقیدہ اختیار نہ کرتے۔ قرآن مجید نے ہر قسم کے دلائل کے ساتھ مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی خدائی میں کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ مشرکین مکہ کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کا مشرک اس کا جواب دے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کے پاس کوئی دلیل نہیں : آیت 22: بَلْ قَالُوْا (بلکہ انہوں نے کہا) بلکہ ان کے پاس کوئی قابل استدلال دلیل نہیں ہے جس سے وہ دلیل لے سکیں نہ تو ظاہر کے اعتبار سے اور نہ ہی عقلی لحاظ سے اور نہ سمعی اعتبار سے بس ان کی تو ایک ہی بات ہے۔ اِنَّا وَجَدْنَا اٰبَآئَ نَاعَلٰٓی اُمَّۃٍ (کہ ہم نے تو اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے) امۃ۔ دین کے معنی میں ہے۔ پس ہم نے ان کی تقلید کی ہے۔ یہ امّ سے ہے۔ جس کا معنی قصد ہے۔ پس اُمۃ اس طریقے کو کہا جاتا ہے جس کی اقتداء کی جائے۔ جس کا قصد کیا جائے۔ وَاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ مُّہْتَدُوْنَ (اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے راستہ چل رہے ہیں) علی ٰاثارہم یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21، ام اتیناھم کتابا من قبلہ، یعنی قرآن سے پہلے کہ وہ اللہ کے غیر کی عبادت کریں۔ ، فھم بہ مستمسکون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

25 باپ دادا کی اندھی تقلید کا سہارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی ایسی باتوں کی کوئی بنیاد نہیں۔ سوائے اس کے کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا۔ پس ہم ان ہی کے نقش قدم پر چلے جا رہے ہیں۔ یعنی عقل و نقل کی کوئی بھی دلیل ان لوگوں کے پاس موجود نہیں سوائے اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کے جس میں یہ لوگ اندھے ہو کر بہے چلے جا رہے ہیں اور بس۔ اور خود ان کو اس کا اقرار اور اعتراف بھی ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ حق و ہدایت کے اس نور مبین کو ماننے اور اپنانے کے لئے تیار نہیں جو ان کے رب کی طرف سے ان کی راہنمائی کے لیے آیا ہے۔ اور اس طرح یہ کفر و شرک کے گھٹا ٹوپ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی گمراہی کے لئے اگر کوئی سند ہے تو بس یہ کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آیا ہے اور انہی نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم فرشتوں کی پوجا کر رہے ہیں اسی کا نام اندھی تقلید ہے اور اسی کو بزرگ پرستی کہتے ہیں اور یہی ہر عاجز و درماندہ کی بےبنیاد دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:22) بل قالوا۔ یہاں بل (حرف اضراب) پہلی بات کو برقرار رکھتے ہوئے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کرنے کے لئے آیا ہے ۔ یعنی ستم بالائے ستم نہ تو اسن کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی۔ اور اب مزید برآں یہ کہہ رہے ہیں انا وجدنا ۔۔ امۃ۔ طریقہ، دین، جماعت، مدت، امت۔ اثرھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے نشانات قدم۔ ان کے پیچھے۔ اثار اثر کی جمع ، نشانیاں، علامتیں، مجازا نشان قدم کے لئے بھی مستعمل ہے۔ مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر سے۔ ہدایت پانے والے۔ مھتدی واحد۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

حل لغات :۔ یخرصون : خوص سے ہے ۔ یعنی اٹکل سے اندازہ کرنا اثارھم ۔ نقوش قدم مترفوھا ۔ سرمایہ دار ۔ آسودہ حال لوگ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) بلکہ یہ تو یوں کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم بھی ان کی نشانہائے قدم پر راہ سے لگے ہوئے ہیں اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر راہ پانے والے ہیں۔ یعنی ان کی دلیل عقلی اور نقلی سے کیا بحث یہ تو اپنے بڑوں کی راہ پر چلنے کے پابند ہیں آگے اس طریقے کی قدامت کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ ان منکروں کی پرانی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–25

ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون تھا آگے اس کی تاکید و تائید کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو کہ مسلم ومعظم عند العرب تھے اس کا منقول ہونا اور ان کے بعد پھر ان کی اولاد میں اس کا منقول چلا آنا اور اب آخر میں پیغمبر آخر الزمان کی معرفت اس کی تجدید فرمانا اور اس کے ساتھ پیغمبر زمان ﷺ کی نبوت کے متعلق ان لوگوں کے ایک اعتراض کا جواب مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

22 ؎ ان کے سامنے ایک دو نہیں آپ بیسیوں اور سینکڑوں دلیلیں پیش کریں ، کتاب و سنت کو کھول کھول کر رکھیں ان کو انگلی رکھ کر بتائیں کہ قرآن کریم میں یہ لکھا ہے کہ میں اللہ کا کلام ہوں اور میری سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ میری عبارت میں کہیں بھی تضاد نہیں ہے ان کی ان ساری دلیلوں کے سامنے ایک ہی دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جس راہ پر چل رہے ہیں اسی راہ پر ہم نے اپنے بزرگوں کو چلتے پایا ہے اور ہمارے باپ دادا کبھی غلط نہیں ہو سکتے علاوہ ازیں ان کے پاس نہ تو کوئی عقلی دلیل موجود ہے اور نہ ہی نقلی دلیل موجود ہے بس وہی ایک آباؤ اجداد اور بزرگوں کا طریقہ ہے جس کو وہ بطور دلیل پیش کرتے ہیں اور اس راہ کو وہ راہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–26

Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 That is, "They have no authority of any divine book; the only authority they have is that it has becn the practice since the time of their forefathers: therefore, they have taken the angels as goddesses in imitation of them."

Read the full tafseer →