Explained with ayahs 21–25
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا (اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ 35) 30۔ الروم :35) یعنی کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت (اِنَّ هٰذِهٖٓ…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 21
مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جہالت سے یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ چونکہ اللہ کی مشیت کے تحت ہو رہا ہے، اس لیے ضرور اس کو اللہ کی رضا بھی حاصل ہے۔ حالانکہ اگر یہ استدلال صحیح ہو تو دنیا میں صرف ایک شرک ہی تو نہیں ہو رہا ہے۔ چوری، ڈاکہ، قتل، زنا، رشوت، بد عہدی، اور ایسے ہی دوسرے بیشمار جرائم بھی ہو رہے ہیں جنہیں کوئی شخص بھی نیکی اور بھلائی نہیں سمجھتا۔ پھر کیا اسی طرز استدلال کی بنا پر یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمام افعال حلال و طیب ہیں، کیونکہ اللہ اپنی دنیا میں انہیں ہونے دے رہا ہے، اور جب وہ انہیں ہونے دے رہا ہے، تو ضرور وہ ان کو پسند بھی کرتا ہے ؟ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔
(آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم ط مالھم بذالک من علم ق ان ھم الایخرصون، ام اتینھم کتباً من قبلہ فھم بہ مستمسکون، بل قالوآ انا وجدنآ اباء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون (22-20)
اپنی حماقت کی تائید میں مشرکین کی شرعی دلیل اور اس کی تردید
اپنی اس حماقت کی تائید و تصویت میں مشرکین جو شرعی دلیل پیش کرتے یہ اس کا حوالہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان کو پوجنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت پسند ہے۔ اگر یہ چیز اس کو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے، وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کر پاتے جو اب میں فرمایا کہ یہ محض ان کی اٹکل پچو باتیں ہیں۔ اسی باب…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی قرآن سے پہلے کوئی کتاب، جس میں ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کا اختیار دیا ہے جسے انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے ؟ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ اپنے آباو اجداد کی پیروی کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
6 عقلی دلیل کا حال تو سن چکے۔ اسے چھوڑ کر کیا کوئی نقلی دلیل اپنے دعوے پر رکھتے ہیں ؟ یعنی خدا کی اتاری ہوئی کوئی کتاب ان کے ہاتھ میں ہے ؟ جس میں شرک کا پسندیدہ ہونا لکھا ہو۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی سند ان کے پاس نہیں۔ پھر آگے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کیا باقی رہ گیا۔ وہ ہی ان کی سب سے زیادہ زبردست دلیل ہے جس کو ہر زمانہ کے مشرک پیش کرتے آئے ہیں آگے اسی کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →آیت 21 { اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَہُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ } ”کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں ؟“
کیا ان لوگوں کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس سے یہ اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے دلیل پکڑتے ہوں ؟ یا ان کے معبودانِ باطل لات ‘ منات ‘ ُ عزیٰ ّاور ہبل میں سے کسی نے ان پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل کر رکھا ہے ؟ سورة ما قبل الشوریٰ کی آیت 21 میں بھی اس سے ملتا جلتا سوال کیا گیا ہے : { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اللّٰہُط } ”کیا ان کے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21 محض تقلید آباء سب سے بڑی گمراہی ہے :۔ یعنی ملائکہ پرستی کے لیے ان کے پاس کوئی نقلی دلیل موجود نہیں۔ کسی آسمانی کتاب میں انہیں یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ فرشتے واقعی اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اللہ کی الوہیت میں حصہ دار ہیں۔ لہذا تمہیں ان کی بھی عبادت اور پوجاپاٹ کرنا چاہئے اور اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کے وقت انہیں پکارنا چاہئے۔ لے دے کے ان کے پاس یہی جواب ہوتا ہے۔ کہ یہ رسوم ہمارے اسلاف سے چلی آرہی ہیں جو ہم سے زیادہ نیک اور پارسا تھے۔ لہذا ہم ان کے دین کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ تقلید آباء یا اسلاف کا مرض صرف اس دور کے مشرکوں میں ہی نہیں پایا جاتا تھا۔ بلکہ آج کے مسلمانوں میں بھی پایا جاتا…
Read the full tafseer →14۔ مشرکوں کے استدلال عقلی کی تردید ابھی ہوچکی، اب ارشاد ہورہا ہے کہ ان کے پاس شرک پر کوئی دلیل نقلی ہے ؟ کسی قدیم نوشتہ الہی کی سند ہے ؟...... قرآن مجید نے بار بار مشرکوں کی یہ دکھتی ہوئی رگ پکڑی ہے، اور بار بار ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اثبات شرک پر، اثبات تعداد الہہ پر کوئی دلیل عقلی یانقلی کسی قسم کی ہو، تو پیش کرو،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…
Read the full tafseer →ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون کیا ہم نے ان کو اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ اس کو پکڑے ہوئے ہیں ؟
اس آیت کا ربط آیت اشھد واخلقھم سے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کیا انکی پیدائش کے وقت یہ لوگ موجود تھے ‘ یا قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی آسمانی کتاب عطا کی تھی جس سے وہ استدلال کرتے ہیں ؟
مَنْ قَبْلِہٖ قرآن سے پہلے یا ان کے دعوے سے پہلے۔ یعنی کیا کوئی ایسی سابق آسمانی کتاب انکے پاس موجود ہے جو ان کے قول کی سچائی پر دلالت کرتی رہی ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21۔ 22) کیا ہم نے ان کو قرآن حکیم سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ اپنے اس دعوے میں اس سے استدلال کر کے کہہ رہے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو اس کے جواب میں وہ کہنے لگے کہ ایسا نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے طریقے پر اور ان کی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →ام اتینھم کتباً من قبلہ …:”ام“ سے پہلے ہمزہ استفہام پر مشتمل کوئی جملہ ہوتا ہے جو بعض اوقات مذکور اور بعض اوقات محذوف ہوتا ہے۔ یہاں ذکر یہ ہو رہا ہے کہ مشرکین نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بٹیٹیاں قرار دے کر انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا رد فرمایا۔ ظاہر ہے فرشتوں کے مونث ہونے کا علم یا تو مشاہدے سے ہوسکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے بتانے سے، جو اس کی نازل کردہ کسی کتاب میں موجود ہو۔”اشھدوا خلقھم“ (کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے) میں پہلی صورت کا رد اور ان کے مشاہدے کی نفی ہے، یعنی انھوں نے ان کی پیدائش کو نہیں دیکھا کہ وہ مذکر ہیں یا مونث اور ”ام اتینھم کتباً…
Read the full tafseer →ام اتینھم کتبا من قبلہ فھم بہ مستمسکون۔ ” کیا ہم نے دی انہیں کوئی کتاب اس سے پہلے پس وہ اسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں “۔
یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : اشھدواخلقھم کا معادل ہے معنی ہے کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے یا ہم نے قرآن سے پہلے کوئی کتاب انہیں عطا کی تھی جس نے انہیں اس امر کی دعوت دی تھی وہ اس کو پکڑے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل پیرا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔
2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…
Read the full tafseer →اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ [ یا ہم نے دی ان کو ] كِتٰبًا [ کوئی کتاب ] مِّنْ قَبْلِهٖ [ اس (قرآن ) سے پہلے ] فَهُمْ بِهٖ [ تو وہ اس سے ] مُسْتَمْسِكُوْنَ [ چمٹنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
﴿قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى ﴾ (الآیۃ) سابقہ امتوں کی طرف جو نذیر بھیجے گئے ان کے مالدار لوگوں نے جو انہیں جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے پر ہیں اسی کا اقتداء کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے حضرات نے سوال کیا کہ تم نے جن طریقوں پر اپنے دادوں کو پایا ہے اگر ہم اس سے بڑھ کر اور بہتر ہدایت لے کر آئے ہوں کیا پھر بھی تم اپنے باپ دادوں کا اتباع کرتے رہو گے اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ تم جو کچھ لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے جب ان لوگوں نے حق کو نہ مانا اور حضرات انبیاء کرام کی تکذیب کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں مبتلا فرما دیا ﴿ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
15:۔ ” ام اتینہم کتابا۔ الایۃ “ اس میں دلیل نقلی کی نفی کی گئی ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی ان کے پاس کتب سابقہ میں بھی کوئی ایسی دلیل نہیں جس سے تمسک کر کے وہ فرشتوں کو معبود ٹھہراتے ہوں۔ بان یعبدوا غیر اللہ تعالٰٰ و ینسبوا الیہ الولد (جامع البیان ص 420) ۔ ” بل قالو الخ “ دلیل عقلی اور نقلی کی نفی کے بعد دلیل وحی خود بخود منتفی ہوجاتی ہے، کیونکہ وحی ربانی بھی ان کے خلاف ہے۔ اس لیے ہر طرف سے لاجواب ہو کر وہ کہتے ہیں ہمارے پاس عقل و نقل اور وحی کی تو کوئی دلیل نہیں جس کا تم مطالبہ کرتے ہو، بلکہ ہم نے یہ عقیدہ اور عمل اپنے باپ دادا سے اخذ کیا ہے۔ ہم نے ان کو اسی دین اور طیرقہ پر پایا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →اَمْ اٰتَيْنٰہُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَہُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ 21
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
أتى
الإتيان : مجیء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
وَقَالُوْا لَوْشَآئَ الرَّحْمٰنُ مَاعَبَدْنٰـہُمْ ط مَالَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ق اِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ اَمْ اٰ تَیْنٰـہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَھُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ ۔ بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 20 تا 22)
(اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو کبھی نہ پوجتے، ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی، سو انھوں نے اس کو مضبوط پکڑ رکھا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن مشرک سے اس کے شرک کے بارے میں ہر صورت سوال ہوگا۔ دنیا میں اس سے اس کے شرک کے بارے میں سوال کیا جائے اور اس کو اس کے باطل عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ سمجھنے کی بجائے مختلف قسم کے بہانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بہانوں میں سے ایک بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرکیہ عقیدہ اختیار نہ کرتے۔
قرآن مجید نے ہر قسم کے دلائل کے ساتھ مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی خدائی میں کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ مشرکین مکہ کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کا مشرک اس کا جواب دے…
Read the full tafseer →آیت 21: اَمْ اٰتَیْنٰہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ (کیا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے) ہٗ یعنی قرآن سے پہلے یا ان کی اس بات سے پہلے فَہُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ (پس وہ اس سے استدلال کرنے والے ہیں) اس پر عمل کرنے والے اور اسی کے حکم کو پکڑنے والے ہیں۔
ایک قول یہ ہے :
اس میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ أشہدوا خلقہم ام اتیناہم کتابا فیہ ان الملائکۃ اناث۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے۔ یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ ملائکہ عورتیں ہیں۔
Read the full tafseer →20، وقالوا لوشاء الرحمن ماعبدناھم، یعنی فرشتوں کی ۔ اسی بات کو قتادہ ، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ نے کہا ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یعنی بتوں کی اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان کی عادت پر جلد سزا نہیں دی کیونکہ وہ سے ان کی عبادت کرنے پر راضی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مالھم بذلک من علم، جو وہ کہتے ہیں وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں کہ ، اللہ تعالیٰ ہم سے ان کی عبادت پر راضی ہے۔ ، اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی باتوں میں اندازے لگا رہے ہیں۔ ، ان ھم الا یخرصون، اپنے اس قول میں کہ فرشتے مؤنث ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
نظریہ جبر کی تردید
قول باری ہے (وقالوا لو شآء الرحمن ما عبدنا ھم مالھم بذالک من علم ان ھم الا یخرصون۔ اور کہتے ہیں کہ اگر رحمن کو یہی منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش ہی نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں) یعنی کافر کہتے ہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم نہ بتوں کی اور نہ ہی فرشتوں کی پرستش کرتے۔ ہم نے ان کی پرستش صرف اس لئے کی ہے کہ خدا کو ہم سے یہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔ نیز اللہ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ کفر وشرک میں پڑجائیں۔
اس کی نظیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
24 مشرکین کے مغالطے کی تردید کے لیے ان سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے انکو کوئی کتاب دی ہے جسکو انہوں نے تھام رکھا ہو ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔ اور ہرگز نہیں کہ ہم نے ان کو ایسی کوئی کتاب بھی نہیں دی۔ تو پھر آخر یہ لوگ عقل و نقل کی کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں ؟ اور اس کتاب عزیز سے یہ لوگ کیونکر منہ موڑ رہے ہیں جو کہ اب ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے عطا ہو رہی ہے ؟ اور خداوند قدوس کی پسند اور ناپسند کو جاننے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل کی تعلیمات ہی ہوسکتی ہیں۔ تو کیا ان لوگوں کو قرآن حکیم سے پہلے ایسی کوئی کتاب دی گئی ہے جسکو یہ سند میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیات 16 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔
بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔
یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی بہتر ہونا اس طرح ثابت ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا اس کتاب سے اپنے پاس کوئی سند رکھتے ہیں کہ فرشتے ہماری بیٹیاں ہیں، اور ہم نے ان کی پرستش کی اجازت دی ہے۔
Read the full tafseer →(43:21) ام : یہاں ام منقطعہ۔ یعنی بطریق عقل ان کے پاس اپنے اس قول کی کوئی سند نہیں ہے اور نہ بطریق نقل ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی ہے جس پر یہ سختی سے پابند ہیں۔ یعنی مطلب یہ کہ ان کے پاس اسکی نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ کوئی نقلی (روح المعانی)
من قبلہ ای من قبل القران : بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتبا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری فرماتے ہیں :۔
اس آیت کا ربط اشھدوا خلقھم سے ہے۔ مطلب یہ کہ کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ لوگ موجود تھے یا قرآن سے پہلے ہم نے ان کو کوئی آسمانی کتاب دی تھی جس سے وہ استدلال کرتے ہیں ۔ اس صورت میں ام متصلہ ہے۔
مستمسکون۔ اسم فاعل جمع مذکر استمساک استفعال۔ چنگل سے پکڑنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حل لغات :۔ یخرصون : خوص سے ہے ۔ یعنی اٹکل سے اندازہ کرنا اثارھم ۔ نقوش قدم مترفوھا ۔ سرمایہ دار ۔ آسودہ حال لوگ ۔
Read the full tafseer →(21) کیا ہم نے ان مشرکوں کو اس قرآن سے پہلے کوئی اور کتاب دی ہے کہ اس کتاب سے یہ استدلال کرتے ہیں۔ یعنی دلیل عقلی تو ان کو لغو اور مہمل ہے اب بتائو کہ ان کو کوئی آسمانی کتاب ملی ہے جس سے یہ نقلی دلیل پیش کرسکتے ہیں ، یہ بات بھی نہیں لہٰذا ان کے اس دعوے پر کہ لو شآء الرحمن ما عبدنھم پر دلیل عقل اور نقلی دونوں منتفی ہیں۔
Read the full tafseer →ف 5۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی۔
Read the full tafseer →کیا ان کے پاس کوئی ہماری لکھت آئی ہے جس سے وہ یہ دلیل پکڑ رہے ہیں
21 ؎ اب واضح کیا جا رہا ہے کہ دلیل کس کو کہتے ہیں۔ دلیل یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی بات پیش کی ہے لیکن اس کے پیش کرنے کا انداز صحیح نہیں ہے تو اس کے مقابلہ میں اللہ اور اس کے رسول ہی کی بات سے ثابت کرنا ہوگا کہ آپ کا انداز درست نہیں ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص تو اللہ تعالیٰ کی بات پیش کرے اور دوسرا اس کے مقابلہ میں اپنی طرف سے گھڑ کر کوئی دلیل پیش کر دے جیسا کہ ان صاحب نے کیا جنہوں نے یہ کہا کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم ان لوگوں کی عبادت کیوں کرتے جن کی ہم عبادت کر رہے ہیں کیونکہ ہمارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
Commentary
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…
Read the full tafseer →21 It means this: "These ignorant people think that whatever is happening in the world has the approval of Allah for it, because it is happening according to His will. This argument, however, is wrong. For it is not only shirk which is being committed in the world, but countless other crimes like stealing, robbery, murder, bribery, etc. also are taking place, which nobody likes. Then, can it be said by the same reasoning that all such acts are lawful and good only because Allah is letting them happen in His world, and when He allows them to happen, He must have approved of them also? The…
Read the full tafseer →