Az-Zukhruf 43:20

Az-Zukhruf · from ayah 20

43:20

وَقَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ ؕ— مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۗ— اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ۟ؕوَقَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰهُمۡ‌ؕ مَا لَهُمۡ بِذٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍ‌ اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَؕ

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they said, "If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them." They have of that no knowledge. They are not but falsifying.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:20

یہ کہتے ہیں "اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے" یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہتے ہیں کہ : اگر خدائے رحمن چاہتا تو ہم ان (فرشتوں) کی عبادت نہ کرتے۔ ان کو اس بات کی حقیقت کا ذرا بھی علم نہیں ہے اور ان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اندازوں کے تیر چلاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم اِن (بتوں) کی پرستش نہ کرتے، انہیں اِس کا (بھی) کچھ علم نہیں ہے وہ محض اَٹکل سے جھوٹی باتیں کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس (مشیئت الٰہی) کا کچھ علم نہیں۔ یہ محض تیر تکے چلاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو پوجنے والے نہ بنتے۔ ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ اگر (خدائے) رحمان چاہتا تو ہم کبھی ان کی پوجا نہ کرتے ان کو اس بارے میں کچھ علم نہیں یہ تو محض اٹکلیں دوڑاتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ اگر (خدائے) رحمن کو (یہی) منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش (ہی) نہ کرتے انہیں اس بارے میں کچھ بھی تحقیق نہیں محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے ان کو اس کا کچھ علم نہیں یہ تو صرف اندازے لگا رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “Had the Merciful One so willed, we would never have worshipped these deities.” But they have no knowledge of the matter and are simply conjecturing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :Had the RaHman so willed, we would not have worshipped them. They have no knowledge of that. They do nothing but make conjectures.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :Had the RaHman so willed, we would not have worshipped them. They have no knowledge of that. They do nothing but make conjectures.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they said: "If it had been the will of the Most Gracious, we should not have worshipped them." They have no knowledge whatsoever of that. They do nothing but lie!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: If the Beneficent One had (so) willed, we should not have worshipped them. They have no knowledge whatsoever of that. They do but guess.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they said, "If the Most Merciful had willed, we would not have worshipped them." They have of that no knowledge. They are not but falsifying.

— Saheeh International

The pagans say, "Had the Beneficent God wanted, we would not have worshipped them (idols)." Whatever they say is not based on knowledge. It is only a false conjecture.

— Muhammad Sarwar

And they say: If the Beneficent Allah had pleased, we should never have worshipped them. They have no knowledge of this; they only lie.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: had the Compassionate willed we should not have worshipped them. They have no knowledge thereof; they are only guessing.

— Abdul Majid Daryabadi

("Ah!") they say, "If it had been the will of (Allah) Most Gracious, we should not have worshipped such (deities)!" Of that they have no knowledge! they do nothing but lie!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:20

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

مشرکین کا بدترین فعل اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 20 یہ اپنی گمراہی پر تقدیر سے ان کا استدلال تھا جو ہمیشہ سے غلط کار لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ ہمارا فرشتوں کی عبادت کرنا اسی لیے تو ممکن ہوا کہ اللہ نے ہمیں یہ کام کرنے دیا۔ اگر وہ نہ چاہتا کہ ہم یہ فعل کریں تو ہم کیسے کرسکتے تھے پھر مدت ہائے دراز سے ہمارے ہاں یہ کام ہو رہا ہے اور اللہ کی طرف سے اس پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو ہمارا یہ کام ناپسند نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔ (آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم ط مالھم بذالک من علم ق ان ھم الایخرصون، ام اتینھم کتباً من قبلہ فھم بہ مستمسکون، بل قالوآ انا وجدنآ اباء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مھتدون (22-20) اپنی حماقت کی تائید میں مشرکین کی شرعی دلیل اور اس کی تردید اپنی اس حماقت کی تائید و تصویت میں مشرکین جو شرعی دلیل پیش کرتے یہ اس کا حوالہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان کو پوجنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت پسند ہے۔ اگر یہ چیز اس کو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے، وہ اپنی مشیت کے زور سے اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کر پاتے جو اب میں فرمایا کہ یہ محض ان کی اٹکل پچو باتیں ہیں۔ اسی باب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

20۔ 1 یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقینا اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اور اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–21

6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 اور لیجیے اپنی ان مشرکانہ گستاخیوں کے جواز و استحسان پر ایک دلیل عقلی بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم کو اپنے سوا دوسری چیزوں کی پرستش سے روک دیتا۔ جب ہم برابر کرتے رہے نہ روکا تو ثابت ہوا کہ یہ کام بہتر ہیں اور اس کو پسند ہیں۔ 5 یعنی یہ تو سچ ہے کہ بدون خدا کے چاہے کوئی چیز نہیں ہوسکتی لیکن اس چیز کا ہمارے حق میں بہتر ہونا اس سے نہیں نکلتا۔ ایسا ہو تو دنیا میں کوئی کام اور کوئی چیز بری ہی نہ رہے۔ سارا عالم خیر محض ہوجائے۔ شر کا بیج ہی دستیاب نہ ہو۔ ہر ایک جھوٹا اور ظالم و خونخوار یہ کہہ دے گا کہ خدا چاہتا تو مجھے ایسا ظلم و ستم نہ کرنے دیتا۔ جب کرنے دیا تو معلوم ہوا کہ وہ اس کام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 20 { وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ } ”اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے۔“ { مَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍق اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ”ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے ‘ وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 گناہوں پر مشیئت کی دلیل باطل ہے :۔ جاہلوں کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مذموم عقائد اور معصیت کے کاموں کے لیے مشیئت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا کے فرق کو نہیں سمجھتے، تبھی ایسی دلیل دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو ایک ظالم اور ڈاکو انسان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس پر اللہ راضی ہے تبھی تو مجھے ایسے کام کرنے کے مواقع دیئے جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے دنیا میں کوئی کام شر رہتا ہی نہیں بلکہ سب کچھ خیر ہی خیر ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام ہے۔ حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ مشرکوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ شرک اگر ایسی ہی بری چیز تھی تو خدا نے آخر ہمیں اس پر قدرت کیوں دی ؟ اسے یہی منظور ہوتا تو وہ ہمیں شرک کرنے ہی نہ دیتا۔ گویا استدلال یہ تھا کہ چونکہ اس نے ہمیں گناہ پر قادر کردیا ہے۔ اس لئے وہ گناہ پر راضی بھی ہے ! بالکل ظاہر ہے کہ انسان کو اختیار جو ملا ہے وہ تو محض اسے مکلف بنانے کے لئے۔ اسے محل احتساب، مستوجب عذاب وثواب بنانے کے لیے ہے۔ اختیار ہی اگر نہ ہوتا تو وہو تو بالکل مشین کے حکم میں داخل ہوتا اور عذاب وثواب کا کوئی سوال ہی نہ باقی رہتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا لو شاء الرحمن ما عبدنھم اور انہوں نے کہا : اگر رحمنٰ چاہتا (کہ ہم ان کو نہ پوجیں) تو ہم انکو نہ پوجتے۔ مَا عَبَدْنٰھُمْ یعنی ہم ملائکہ کو نہ پوجتے (قتادہ ‘ مقاتل ‘ کلبی) یا ہم بتوں کو نہ پوجتے (مجاہد) ۔ مشرکوں نے غیر اللہ کی عبادت ممنوع نہ ہونے یا اس کے اچھا ہونے کا استدلال اس طرح کیا کہ اللہ کی مشیت اس بات کی نہیں ہے کہ ہم ان کو نہ پوجیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ غیرا اللہ کی عبادت ممنوع نہیں ہے یا اچھی ہے ‘ بری نہیں ہے۔ یہ طرز استدلال غلط ہے ‘ مشیت خداوندی تو ایسی صفت کو کہتے ہیں جو ممکنات (ومقدورات) میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتی ہے۔ جس کو ترجیح دی ہے ‘ وہ اچھی ہے یا بری ‘ ممنوع ہے یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 19–20

(19۔ 20) گویا کہ ان سے کہا گیا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے عورتیں کیا تم اس وقت موجود تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا تو یہ کہنے لگے کہ ہم اس وقت موجود نہ تھے پھر ان سے دریافت کیا کہ پھر کیسے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو یہ کہنے لگے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے اسی طرح سنتے آرہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کا یہ دعوی لکھ لیا جاتا ہے اور قیامت کے دن ان سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی اور یہ بنو ملیح بطور مذاق کے کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی عبادت سے منع کعتا اور روکتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے مگر اس نے نہ اس کا حکم دیا اور کوئی ممانعت بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقالوا لوشآء الرحمٰن ماعبدنھم : یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ مشیت تھی اور اس نے ہماری قسمت میں لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں۔ تقدیر لاٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا جیسے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ (ابن کثیر) مزید…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وقالو الوشاء الرحمن ماعبدنھم مالھم بذلک من علم ان ھم الا یخرصون۔ ” اور کفار کہتے ہیں کہ اگر چاہتا خداوند رحمن تو ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس حقیقت کا کوئی علم نہیں وہ محض قیاس آرائیاں کر رہے ہیں “۔ وقالو الوشاء الرحمن مشر کوں نے مذاق کے انداز میں کہا : تمہارے گمان کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم ان کی پوجا نہ کرتے۔ یہ ان کی طرف سے قول تع صحیح تھا مگر باطل تھا ہر شے اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوا کرتی ہے اس کا ارادہ ثابت ہے اسی طرح اس کا علم بھی ثابت ہے اس کے ارادہ کے ساتھ استدلال کرنا ممکن نہیں اسی طرح معلوم کے خلاف بھی ممکن نہیں۔ مراد تحت القدرت ہے اگرچہ واقع نہ ہوا اگر وہ بتوں کی بجائے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–25

1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔ 2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] لَوْ شَاۗءَ الرَّحْمٰنُ [ اگر چاہتا رحمان ] مَا عَبَدْنٰهُمْ ۭ [ تو ہم بندگی نہ کرتے ان کی ] مَا لَهُمْ [ نہیں ہے ان کے لئے ] بِذٰلِكَ [ اس کے بارے میں ] مِنْ عِلْمٍ ۤ [ کوئی بھی علم ] اِنْ هُمْ اِلَّا [ نہیں ہیں وہ مگر ] يَخْرُصُوْنَ [ اٹکل لگاتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مشرکین کی ایک جاہلانہ بات کی تردید، آباو اجداد کو پیشوا بنانے کی حماقت اور ضلالت جب مشرکین کو متنبہ کیا جاتا اور بتایا جاتا تھا کہ تم جو شرک میں پڑے ہوئے ہو یہ گمراہی ہے اور تمہارا خالق اور مالک جل مجدہٗ اس سے راضی نہیں ہے تو کٹ حجتی کے طور پر یوں کہتے تھے کہ اگر ہمارے اس عمل سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہے تو ہمیں اپنے علاوہ دوسروں کی عبادت کیوں کرنے دیتا ہے ان لوگوں کے نزدیک بت پرستی کا عمل صحیح ہونے کی یہ ایک بڑی دلیل تھی اللہ جل شانہٗ نے فرمایا ﴿مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ 1ۗ﴾ (ان کو اس بات کی کچھ تحقیق نہیں) ﴿ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَؕ0020﴾ (یہ لوگ صرف اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ ” وقالوا لوشاء “ یہ شکوی ہے۔ جب مشرکین لاجواب ہوجاتے ہیں تو مشیت خداوندی کی آڑ لیتے ہیں کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی عبادت نہ کرتے اور انہیں خدا کے نائب نہ بناتے۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو ہمیں اس سے زبردستی روک دیتا جب وہ ہمارے اور ان کی عبادت کے درمیان حائل نہیں ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ اس پر خوش ہے۔ ” مالہم بذلک من علم الخ “ یہ جواب شکوی ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا ارادہ کسی فعل کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے۔ حسن و قبح اور خیر و شر سب اس کے ارادے ہی سے ہو رہا ہے اس کے ارادے کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا لَوْ شَاۗءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰہُمْ۝ 0 ۭ مَا لَہُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ۝ 0 ۤ اِنْ ہُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ۝ 20 ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

وَقَالُوْا لَوْشَآئَ الرَّحْمٰنُ مَاعَبَدْنٰـہُمْ ط مَالَھُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ق اِنْ ھُمْ اِلاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔ اَمْ اٰ تَیْنٰـہُمْ کِتٰـبًا مِّنْ قَبْلِہٖ فَھُمْ بِہٖ مُسْتَمْسِکُوْنَ ۔ بَلْ قَالُوْٓا اِنَّا وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا عَلٰٓی اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓی اٰثٰرِھِمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 20 تا 22) (اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کو کبھی نہ پوجتے، ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب ان کو دی تھی، سو انھوں نے اس کو مضبوط پکڑ رکھا ہے۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن مشرک سے اس کے شرک کے بارے میں ہر صورت سوال ہوگا۔ دنیا میں اس سے اس کے شرک کے بارے میں سوال کیا جائے اور اس کو اس کے باطل عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے تو وہ سمجھنے کی بجائے مختلف قسم کے بہانے پیش کرتا ہے۔ اس کے بہانوں میں سے ایک بہانہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم شرکیہ عقیدہ اختیار نہ کرتے۔ قرآن مجید نے ہر قسم کے دلائل کے ساتھ مشرکین کو یہ بات سمجھائی ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس نے اپنی خدائی میں کسی کو اپنا شریک ٹھہرایا ہے۔ مشرکین مکہ کے پاس ان دلائل کا کوئی جواب نہ تھا اور نہ ہی آج کا مشرک اس کا جواب دے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کافروں کی بات جھوٹ ہے : آیت 20: وَقَالُوْا لَوْ شَآئَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰـہُمْ (اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے) یعنی ملائکہ کی۔ اس آیت کے ظاہر سے معتزلہ نے استدلال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر سے کفر نہیں چاہا۔ ایمان چاہا۔ اس لئے کہ کفار نے دعویٰ یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے کفر چاہا ہے اور ان سے عبادت اصنام کو چھڑوانا نہ چاہا۔ اس لئے تو انہوں نے کہا لوشاء الرحمان ماعبدناہم۔ اگر وہ ہم سے چاہتا تو ہم بتوں کی عبادت چھوڑ دیں تو ہمیں ان کی عبادت سے منع کردیتا لیکن اس نے بتوں کی عبادت ہم سے چاہی اس لئے ہمیں روکا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 19، وجعلوا الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمن اناثا، اہل کوفہ اور ابوعمرورحمہم اللہ نے ، عبادالرحمن، باء کے ساتھ اور اس کے بعد الف ہے اور دال کی پیش ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان، بل عباد مکرمون ہے اور دیگر حضرات نے۔ ، عند الرحمن ، نمون اور دال کی زبر کے ساتھ ظرف ہو نیکی بناء پر پڑھا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے فرمان، ان الذین عند ربک، کی طرح ہے۔ ، اشھدواخلقھم، اہل مدینہ نے اس کو نائب فاعل پڑھا ہے اور ہمزہ استفہام کے بعد ہمزہ کو لین پڑھا ہے۔ یعنی کیا وہ ان کی تخلیق میں حاضر تھے اور دیگر حضرات نے شین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی کیا وہ ان کی تخلیق میں حاضر تھے جب وہ پیداکیے گئے اور یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 20–21

نظریہ جبر کی تردید قول باری ہے (وقالوا لو شآء الرحمن ما عبدنا ھم مالھم بذالک من علم ان ھم الا یخرصون۔ اور کہتے ہیں کہ اگر رحمن کو یہی منظور ہوتا تو ہم فرشتوں کی پرستش ہی نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے یہ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں) یعنی کافر کہتے ہیں کہ اگر خدا کو منظور ہوتا تو ہم نہ بتوں کی اور نہ ہی فرشتوں کی پرستش کرتے۔ ہم نے ان کی پرستش صرف اس لئے کی ہے کہ خدا کو ہم سے یہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔ نیز اللہ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ وہ کفر وشرک میں پڑجائیں۔ اس کی نظیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 20–21

24 مشرکین کے مغالطے کی تردید کے لیے ان سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے انکو کوئی کتاب دی ہے جسکو انہوں نے تھام رکھا ہو ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں۔ اور ہرگز نہیں کہ ہم نے ان کو ایسی کوئی کتاب بھی نہیں دی۔ تو پھر آخر یہ لوگ عقل و نقل کی کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں ؟ اور اس کتاب عزیز سے یہ لوگ کیونکر منہ موڑ رہے ہیں جو کہ اب ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے عطا ہو رہی ہے ؟ اور خداوند قدوس کی پسند اور ناپسند کو جاننے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں اور اس کے انبیاء و رسل کی تعلیمات ہی ہوسکتی ہیں۔ تو کیا ان لوگوں کو قرآن حکیم سے پہلے ایسی کوئی کتاب دی گئی ہے جسکو یہ سند میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفار مکہ کا ایک اور استدلال تھا یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ خدا ہی کی یہ مشیت تھی اور اسی نے ہماری قسمت میں یہ لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں، تقدیر الٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پر شتوں کا ہمیشہ شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے حالانکہ خدا کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتاجی سے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر ﷺ بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ ( ابن کثیر) 8 یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور خدا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:20) ما عبدنھم : ما نافیہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الملئکۃ ہے ہم ان کو پوجا نہ کرتے۔ یا ہم سے مراد بت ہیں جن کی کافر پرستش کیا کرتے تھے۔ بذلک : ای بذلک القول۔ یعنی ان کا یہ قول لوشاء الرحمن ما عبد نھم۔ من علم : علم سے مراد یہاں سند ہے۔ یعنی اپنے اس قول کی تائید میں ان کے پاس کوئی سند نہ ہے۔ ان ہم میں ان نافیہ ہے۔ یخرصون ۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خرص (باب نصر) مصدر۔ وہ قیاسی باتیں کرتے ہیں۔ الخوص پھلوں کا اندازہ کرنا۔ اندازہ کئے ہوئے پھلوں کو خرص کہا جاتا ہے۔ یہ بمعنی مخروص ہے ہر وہ بات جو ظن اور تخمین سے کہی جائے اسے خرص کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ اندازہ غلط ہو یا صحیح۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–30

بت پرستی کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–28

[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

حل لغات :۔ یخرصون : خوص سے ہے ۔ یعنی اٹکل سے اندازہ کرنا اثارھم ۔ نقوش قدم مترفوھا ۔ سرمایہ دار ۔ آسودہ حال لوگ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(20) اور یہ منکر یوں کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان فرشتوں کی پوجا نہ کرتے ان لوگوں کو اس بات کا کوئی صحیح علم نہیں یہ صرف اٹکل سے تخمینے کیا کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا اسی نے قوت بھی پیدا کیا یعنی اشیائے خوردنی اور زہر بھی زہر کون کھاتا ہے …… خلاصہ : یہ کہ کفارکا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قاعدہ رہا ہے کہ وہ جواب دینے سے جب عاجز ہوتے تو مشیت کی آڑ پکڑتے۔ قرآن میں اور بھی کئی جگہ کفار کا یہ قول ذکر فرمایا ہے چناچہ آٹھویں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے ایک اور شوشہ بھی چھوڑا کہ اگر رحمن نہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت کیوں کرتے ؟ 20 ؎ زیرنظر آیت میں بیان کیا گیا تخیل بہت پرانا ہے اور جس طرح یہ پہلے لوگوں میں پایا جاتا تھا آج بھی پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے سوال کرنے والے نادان اپنے آپ کو دانایانِ زمانہ کہلاتے ہیں اور خود سمجھتے ہیں کہ ہم چوما دیگرے نیست وہ جب کسی سے مخاطب ہوں گے تو یہی کہیں گے صاحب دیکھو تم خود ہی تو یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سوا ایک پتہ بھی نہیں ہلتاتو پھر جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ عین اس کی رضا ہے اور اگر اس کی رضا نہ ہوتی تو ہم ایسا کبھی نہ کرسکتے۔ بلاشبہ وہ جاہل ہیں خواہ کتنے ہی پڑھے لکھے ہوں کیونکہ خواندہ ہونا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–26

Commentary وَإِذْ قَالَ إِبْرَ‌اهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 This was their reasoning from destiny to cover up their deviation and error, and this has been the argument of the wrong-doers in every age. They argued that their worshipping the angels became possible only because Allah allowed them to do so. Had He not willed so they could not have done it; and then it had been a practice with them for centuries and no torment from Allah had descended on them, which meant that Allah did not disapprove of their this practice.

Read the full tafseer →