Explained with ayahs 15–20
مشرکین کا بدترین فعل
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 18
یعنی مذکر یا مونث ہونے سے مبرا ہیں۔ یہ مفہوم فحوائے کلام سے خود بخود مترشح ہو رہا ہے۔
سورة الزُّخْرُف 19
دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے " ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔
(آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…
Read the full tafseer →وجعلوا الملٓئکۃ الذین ھم عیدالرحمٰن انثا ط اشھداوا خلقھم ط ستکب شھدتھم ویسئلون 19
اس واہمہ کی تردید ایک اور پہلو سے
ان کے اس واہمہ پر ایک اور پہلو سے بھی ضرب لگائی۔ فرمایا کہ انہوں نے فرشتوں کو جو عوتریں بنا کر رکھ دیا ہے تو آخر ان کے اس دعوے کی بنیاد کیا ہے کیا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا تو یہ اس وقت موجود تھے ! اس کے بعد نہایت سخت الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ان کا یہ دعوے نوٹ رہے گا اور ایک دن ان سے اس کی پرسش ہونی ہے۔ فرشتوں کے متعلق یہ پوری بحث سورة صافات کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیجیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →2 یعنی یہ ان کا ایک اور جھوٹ ہے کہ فرشتوں کو عورتوں کی صف میں داخل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ نہ عورت نہ مرد جنس ہی علیحدہ ہے۔
3 یعنی کوئی دلیل عقلی و نقلی تو ان کے پاس اس دعوے پر نہیں۔ پھر کیا اللہ نے جب فرشتوں کو بنایا تو یہ کھڑے دیکھ رہے تھے کہ مرد نہیں عورت بنایا ہے۔ بہت اچھا ! ان کی یہ گواہی دفتر اعمال میں لکھ لی جاتی ہے خدائی عدالت میں جس وقت پیش ہوں گے تب اس کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ایسا کیوں کہا تھا۔ اور کہاں سے کہا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 19 { وَجَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا } ”اور انہوں نے فرشتوں کو ‘ جو کہ رحمان کے مقرب ّبندے ہیں اس کی بیٹیاں قرار دے دیا ہے۔“
{ اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ سَتُکْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَیُسْئَلُوْنَ } ”کیا یہ لوگ موجود تھے ان کی تخلیق کے وقت ؟ ان کی یہ گواہی کہ فرشتے مونث ہیں لکھ لی جائے گی اور پھر ان سے باز پرس ہوگی۔“
Read the full tafseer →18 اس جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کیا انہوں نے فرشتوں کی جسمانی ساخت کو اچھی طرح دیکھا ہے جس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فرشتے مذکر نہیں بلکہ مونث ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرشتوں میں تذکیر و تانیث یا توالد و تناسل کا سلسلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہ خالصتاً اللہ کے بندے ہیں اور اس کے حکم کے پابند۔ اپنے اختیار سے وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔
19 یعنی وہ پھر بھی اپنی ہٹ سے باز نہیں آتے اور اپنی اس بیان بازی پر مصر ہیں۔ کہ فرشتے واقعی عورتیں ہیں۔ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور قابل پرستش دیویاں ہیں۔ تو ان کا یہ بیان ریکارڈ ہوجائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کس بنیاد پر…
Read the full tafseer →12۔ فرشتوں کی نسائیت پر حاشیے اس کے قبل گذر چکے ہیں۔ پ 5 اور پ 15 میں۔ محققین نے آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ کسی عقیدہ کا بلادلیل قائل ہوجانا قابل ملامت ہے اور تقلید جامد جو محض رسم پرستی کی مرادف ہے مورد وعید ہے۔ ھذا یدل علی ان القول بغیر دلیل منکر وان التقلید یوجب الذم العظیم والعقاب الشدید (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…
Read the full tafseer →وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن اناثا اور انہوں نے فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں ‘ عورتیں
قرار دے رکھا ہے۔ یعنی مشرکوں نے نازیبا اوصاف ہی اللہ کیلئے ثابت نہیں کئے ‘ اور اللہ کو صرف صاحب اولاد ہی نہیں قرار دیا اور محض اللہ ہی کی توہین نہیں کی ‘ بلکہ فرشتوں کی بھی تحقیر کی۔ وہ فرشتے جو اللہ کے برگزیدہ بندے اور مقرب بارگاہ خداوندی ہیں اور ان کا قرب ناقابل بیان ہے ‘ ان کو عورتیں قرار دے رکھا ہے۔
اشھدوا خلقھم کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے (اور دیکھ رہے تھے کہ فرشتوں کو اللہ نے عورتیں بنایا ہے)
ستکتب شھادتھم ویسئلون انکی شہادت لکھ لی جاتی ہے اور (قیامت کے دن) ان سے (اس بات کی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) گویا کہ ان سے کہا گیا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے عورتیں کیا تم اس وقت موجود تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا تو یہ کہنے لگے کہ ہم اس وقت موجود نہ تھے پھر ان سے دریافت کیا کہ پھر کیسے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو یہ کہنے لگے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد سے اسی طرح سنتے آرہے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کا یہ دعوی لکھ لیا جاتا ہے اور قیامت کے دن ان سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی اور یہ بنو ملیح بطور مذاق کے کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی عبادت سے منع کعتا اور روکتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے مگر اس نے نہ اس کا حکم دیا اور کوئی ممانعت بھی نہیں…
Read the full tafseer →(1) وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبدالرحمٰن اناثاً : فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے میں جو صریح شرک ہے اور عبودیت اور ولدیت کسی صورت جمع نہیں ہوسکتیں۔ دوسرا ظلم یہ کہ فرشتے جو تذکیر و تانیث سے بلندو برتر ہیں اور جن کی پیدائشی ہی انسانوں سے مختلف ہے ، انھیں اتنا گرایا کہ ان کے لئے برتر جنس مرد کے بجائے کمزور جنس عورت ہونا تجویز کیا۔ جھوٹے اور بہتان باز لوگوں کا جھوٹ ایسے ہی تناقص سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔
(2) اشھدوا خلقھم : اس کے دو معانی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا، کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے کہ انھیں ان کا مونث ہونا معلوم ہوگیا۔ دوسرا یہ کہ کیا انھوں نے ان کے…
Read the full tafseer →وجعلوا الملئکتہ الذین ھم عبدالرحمن اناثا کو فیوں نے عباد کو جمع پڑھا ہے، ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اس میں اسناد اعلی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول میں انہیں جھٹلایا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں وہ اس کی بیٹیاں نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے عبادالرحمن پڑھا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : میرے مصحف میں عبدالرحمن تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسے مٹادے اور اسے عبادالرحمن لکھ اس قراءت کی تصدیق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : بل عبادمکرمون۔ (الانبیائ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الذین تدعون من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
1:۔ عبدبن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا “ (اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے) یعنی یہ باتیں کچھ لوگوں نے کہی اور ہم کسی کو نہیں جانتے سوائے یہودیوں کے کہ اللہ عزوجل نے (نعوذ باللہ) جنات سے شادی کی تو اس کی اولاد فرشتے ہیں۔
2:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں اس کو یوں پڑھتا تھا (آیت) ” عبد الرحمن اناثا اشھدوا خلقھم “ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا عباد الرحمن ہے میں نے کہا میرے…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوا [ اور انھوں نے بنایا ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ [ ان فرشتوں کو جو کہ ] هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ [ رحمان کے بندے ہی ہیں ] اِنَاثًا ۭ [ مؤنث ] اَشَهِدُوْا [ کیا وہ موقعہ پر موجود تھے ] خَلْقَهُمْ ۭ [ ان کے پیدا کیے جانے کے ] سَـتُكْتَبُ [ لکھ لی جائے گی ] شَهَادَتُهُمْ [ ان کی گواہی ] وَيُسْــَٔــلُوْنَ [ اور اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی ]
نوٹ ۔ 2: مشرکین یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارا فرشتوں کو پوجنا اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کو ان کی عبادت کرنا پسند ہے اگر یہ چیز اسکو پسند نہ ہوتی تو اس کی قدرت میں تو سب کچھ ہے ۔ وہ اس کو روک دیتا اور ہم ان کی عبادت نہ کرپاتے ۔ جواب میں فرمایا کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
اس کے بعد فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتانے والوں کی تردید کی اور بطور استفہام انکاری ارشاد فرمایا کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا اس کے لیے اولاد ہونا عیب کی بات ہے وہ اس عیب سے پاک ہے لیکن تم اپنی بیوقوفی تو دیکھو کہ رحمان جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو اس کے لیے بیٹیاں تجویز کردیں اسی کو سورة النجم میں فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى 0021 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ (کیا تمہارے لیے بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں یہ تو اس حالت میں بےڈھنگی تقسیم ہے۔ )
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…
Read the full tafseer →13:۔ ” وجعلوا الملئکۃ۔ الایۃ “ یہ اعادہ ہے اور ” وجعلوا لہ من عبادہ جزءا “ کی تفسیر ہے۔ ان ظالموں نے فرشتوں کے بارے میں یہ کہا کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور عبادت گذار بندے ہیں۔ بندگی اور فرزندی میں تضاد و اضح ہے جو بندہ ہو وہ فرزند اور ولد نہیں ہوسکتا۔ نیز جو خود ہر وقت اللہ کی عبادت و اطاعت میں لگا رہے وہ اس لائق نہیں ہوسکتا کہ اسے خدا کا نائب سمجھا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ والعباد جمع عبد وھو الزم فی الحجاج مع اھل العناد لتضاد بین العبودیۃ والولاد (مدارک ج 4 ص 88) ۔ ” وذکر العباد مدح لھم، ای کیف عبدوا من ھو فی نہایۃ العبادۃ (قرطبی ج 16 ص 73) ۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ الَّذِيْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا 0 ۭ اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ 0 ۭ سَـتُكْتَبُ شَہَادَتُہُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ 19
فرشته
الملائكة، ومَلَك أصله : مألك، وقیل : هو مقلوب عن ملأك، والمَأْلَك والمَأْلَكَة والأَلُوك : الرسالة، ومنه : أَلَكَنِي إليه، أي : أبلغه رسالتي، والملائكة تقع علی الواحد والجمع . قال تعالی: اللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا [ الحج/ 75] . قال الخلیل : المَأْلُكة : الرسالة، لأنها تؤلک في الفم، من قولهم : فرس يَأْلُكُ اللّجام أي : يعلك .
( ا ل ک ) الملئکۃ ( فرشتے ) اور ملک اصل میں مالک ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ملاک سے معلوب ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیْنَ ھُمْ عِبٰدُالرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ط اَشَھِدُوْا خَلْقَہُمْ ط سَتُـکْتَبُ شَھَادَتُہُمْ وَیُسْئَلُوْنَ ۔ (الزخرف : 19)
(اور انھوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں بیٹیوں کا درجہ دے رکھا ہے، کیا یہ ان کی ولادت کے وقت موجود تھے، ان کی گواہی لکھ دی جائے گی اور ان سے سوال کیا جائے گا۔ )
فرشتوں سے متعلق غلط تصور کی تردید
فرشتوں سے متعلق عربوں کے عقیدے پر ایک اور پہلو سے ضرب لگائی جارہی ہے کہ وہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اور کارکنانِ قضا و قدر ہیں عربوں نے انھیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر انھیں مؤنث بنا رکھا ہے۔ پروردگار براہ راست ان سے سوال کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کے بندوں میں کسی کو اس کا جز بنانے کا ثبوت۔
اہل مکہ نے خود ساختہ تصورات کی بنیاد پر کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز اور کچھ کو اس کی صفات کا مظہر بنا رکھا تھا۔ جن شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیتے تھے ان میں ملائکہ بھی شامل تھے۔ ملائکہ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی مردہ فطرت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی اپنی نفسانی خواہش پیش کر کے سوال کیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کرتا ہے ؟ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →آیت 19: وَجَعَلُوا الْمَلٰٓپکَۃَ الَّذِیْنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا (اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ رحمان کے بندے ہیں۔ عورت قرار دے رکھا ہے) یعنی انہوں نے ان کا نام تجویز کیا اور کہا کہ وہ عورتیں ہیں۔ قراءت : مکی ٗ مدنی و شامی نے عند الرحمان پڑھا۔ یعنی عندیت سے مرتبہ و مقام مراد ہے نہ کہ منزل و مکان والی۔ اور العباد جمع عبد کی ہے۔ اور یہ جھگڑالو لوگوں کے خلاف مضبوط دلیل ہے۔ اس لئے کہ غلامی اور خود رائی میں تضاد ہے۔ اَشَہِدُوْا خَلْقَہُمْ (کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے) یہ ان سے تہکم کیا گیا ہے۔ یعنی وہ یہ بات ایسے ہی کہہ رہے ہیں۔ ان کی بات میں کوئی علمی وزن نہیں پس اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →18، اومن ینشا ، حمزہ ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے، ینشا، یاء کے پیش اور نون کے زبر اور شین کی شد کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی پرورش کیا جاتا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کی زبر اور نون کے سکون شین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ۔ یعنی اگتا اور بڑا ہوتا ہے۔ فی الحلیۃ زینت میں یعنی عورتیں۔
، وھو فی اخصام غیر مبین، جھگڑا میں دلیل واضح نہیں کرسکتا اپنی کمزوری اور کم عقلی کی وجہ سے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ ہے کہ بہت کم ایسا ہے کہ جب عورت اپنی دلیل دینے کے لیے گفتگوکرے تو وہ اپنے خلاف ہی دلیل دے بیٹھتی ہے۔ ، اومن، اس میں تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔ رفع ابتداء کی وجہ سے۔ نصب اضمار کی وجہ سے اصل عبارت ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الزخرف
سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔
ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…
Read the full tafseer →22 مشرکین کے ایک اور وہم کی تردید : یعنی ان کے اس وہم کی تردید کہ فرشتے عورتیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں۔ سو اس بارے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ لوگ فرشتوں کی پیدائش کے وقت وہاں موجود تھے ؟۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا نہیں اور ہرگز نہیں۔ تو پھر یہ لوگ اتنی بڑی بات آخر کہتے کس بنیاد پر ہیں ؟۔ بس محض اٹکل کے تیر چلانے سے کچھ نہیں بن سکتا۔ سو اس سے انکے مشرکانہ خیال پر ایک اور ضرب لگائی گئی ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جو فرشتوں کو عورتیں اور اللہ کی بیٹیاں سمجھ رکھا ہے تو آخر اتنے بڑے دعوے کیلئے انکے پاس بنیاد کیا ہے ؟ کیا جب اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا تھا تو یہ لوگ اس وقت وہاں موجود تھے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیات 16 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔
بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔
یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…
Read the full tafseer →ف 5 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” کیا “ انہوں نے ان کے جسم کی ساخت کو دیکھا ہے “۔
6 یعنی یہ جو فرشتوں کے عورت ذات ہونے کا جھوٹا دعویٰ پیش کر رہے ہیں اسے ان کے نامہ اعمال میں لکھ لیا جائے گا اور قیامت کے دن انہیں اپنے اس جھوٹے دعویٰ پر جواب دہی کرنا پڑے گی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(43:19) الملئکۃ مفعول اول جعلوا کا اناثا مفعول ثانی، الذین اسم موصول ۔ ہم عباد الرحمن صلہ۔ صلہ اور موصول مل کر صفت الملئکۃ کی۔ اور انہوں نے ٹھہرا لیا ہے فرشتوں کو جو (خداوند) رحمن کے بندے ہیں عورتیں ۔ یعنی فرشتوں کو عورتیں قرار دے رکھا ہے۔
اشھدوا : ہمزہ استفہامیہ۔ شھدوا ماضی جمع مذکر غائب شھادۃ وشھود (باب سمع) وہ موجود تھے۔ انہوں نے دیکھا۔ انہوں نے گواہی دی۔ انہوں نے اقرار کیا۔
خلقھم مضاف ، مضاف الیہ مل کر شھدوا کا مفعول۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا۔ یا کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے (کہ فرشتوں کو خدا نے عورتیں بنایا ہے)
ستکتب : تکتب مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ س مضارع کو مستقبل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–30
بت پرستی کا انجام۔
(ف 1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکوں سے یہ تو پوچھو کہ جس وقت اللہ نے فرشتوں کو پیدا کیا اس وقت یہ مشرک لوگ کیا وہاں آسمان میں موجود تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں یا اللہ نے ان مشرکوں پر کوئی کتاب آسمان سے اتاری ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ کے فرشتے عورتیں ہیں، فرمایا یہ جھوٹی شہادت دیتے ہیں یہ لکھی جائے گی اور نامہ اعمال میں چڑھائی جائے گی اور انسے بروز قیامت اس شہادت کا حال پوچھاجائے گا تب حقیقت کھلے گی پھر فرمایا کہ نہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت یہ مشرک موجود تھے نہ قرآن سے پہلے کوئی کتاب اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے ان پر، بلکہ اپنے بڑؤں سے جو کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قدامت پرستی
1: مکہ والوں میں ایک بہت بڑا نقص یہ تھا کہ ان میں جمود تقلید کا مرض عام ہوچکا تھا ۔ اس سے غوروفکر کی تمام صلاحتیں چھن چکی تھیں ۔ ان کے ذہن مفلوج تھے اور ان کے سامنے اسلام کے حقائق لامعہ پیش کئے گئے ۔ تو انہیں محض اس لئے مان لینے میں قائل ہوا کہ ان کے آبائی علم ان کی تائید تمہیں کرتے تھے ۔ کہ ہم تو باپ دادا کے مسلک پر قائم رہینگے ۔ اور قطعاً یہ جرات نہیں کرینگے ۔ کہ ان آگے بڑھنے کی کوشش کرینگے گویا ان کے نزدیک یہ کا برحق وصداقت کا مجموعہ تھے ۔ اور ذہنی وفکری ارتقاء کا ایسا کامل نمونہ تھے کہ ان کی مخالفت عقل وخرد کی مخالفت کرنا تھا ۔ ان کے سامنے ہزار دلائل پیش کئے جاتے ۔ قرآن پڑھ کر…
Read the full tafseer →(19) اور ان دین حق کے منکروں نے ان فرشتوں کو جو رحمان کے بندے ہیں عورتیں تجویز کررکھا ہے کیا یہ ان فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے ان منکروں کی یہ شہادت لکھی جائے گی اور ان سے اس کی باز پرس کی جائے گی۔ یعنی ان کی یہ بات ان کے نامہ اعمال میں درج کرلی جائے گی اور قیامت کے دن ان سے اس گواہی کی حقیقت پوچھی جائے گی مطلب یہ کہ ان کی اس لغو اور جھوٹی بات پر گرفت ہوگی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ جو فرمایا بندے رحمان کے ہیں یعنی بیٹیاں نہیں اور معلوم ہوا کہ فرشتے اگرچہ نہ مرد نہ عورت پر بولی مرادنی بولیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 4۔ کیونکہ قادر کردینا دلیل رضا کی نہیں۔
Read the full tafseer →کیا فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں یہ لوگ عورتیں سمجھتے ہیں تو ان کی دلیل کیا ہے ؟
19 ؎ جیسا کہ پیچھے بھی بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے اور گزشتہ آیتوں میں بھی اس کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ کفار مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ عربوں کے ہاں سفارش کی جتنی صورتیں ہیں ان میں سب سے واضح اور بڑی سفارش کو لڑکی کی سفارش سمجھا جاتا تھا اور اس مفروضہ کی بنا پر وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے کہ جب یہ ان کی سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث کے وہ اس کی بیٹیاں ہیں ان کی سفارش کو ضرور قبول کرے گا اور کبھی مسترد نہیں کرے گا اس وجہ سے وہ اس طرح کی لاف زنیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
Commentary
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ (And [ recall ] when Ibrahim said to his father and to his people, 43:26) At the end of the previous verses, Allah Ta’ ala had stated that the 'mushrikin' (polytheists) of Arabia had no argument in favour of their 'shirk' (polytheism) except that they were carrying on the customs of their forefathers. Obviously, sticking to such customs against logical and historical arguments is far from truth and justice. Now the point made in the present verses is that, even if they are adamant on following their ancestors, why do they not follow Sayyidna Ibrahim (علیہ…
Read the full tafseer →18 That is, who are fret from this that they should be males or females.
19 Another translation can be: "were they present at the time of their creation?"
Read the full tafseer →