Explained with ayahs 15–20
مشرکین کا بدترین فعل
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 17
بالفاظ دیگر جو نرم و نازک اور ضعیف و کمزور اولاد ہے وہ تم نے اللہ کے حصے میں ڈالی، اور خم ٹھونک کر میدان میں اترنے والی اولاد خود لے اڑے۔
اس آیت سے عورتوں کے زیور کے جواز کا پہلو نکلتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے زیور کو ایک فطری چیز قرار دیا ہے۔ یہی بات احادیث سے بھی ثابت ہے۔ امام احمد، ابو داؤد اور نسائی حضرت علی ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک ہاتھ میں ریشم اور دوسرے ہاتھ میں سونا لے کر فرمایا یہ دونوں چیزیں لباس میں استعمال کرنا میری امت کے مردوں پر حرام ہے۔ ترمذی اور نسائی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ریشم اور سونا میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
(آیت) اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ الخ (کیا جو آرائش میں نشوونما پائے) اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے لئے زیور کا استعمال اور موافق شرع آرائش کے طریقے اختیار کرنا جائز ہے۔ چناچہ اس پر اجماع ہے لیکن ساتھ ہی پیرایہ بیان یہ بتارہا ہے کہ آرائش میں اتنا انہماک کہ صبح وشام بناؤ سنگھار ہی میں لگی رہے یہ مناسب نہیں بلکہ یہ ضعف عقل ور ائے کی علامت بھی ہے اور اس کا سبب بھی۔
(آیت) وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ (اور وہ مباحثہ میں قوت بیان بھی نہ رکھے) مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت ایسی ہے کہ وہ ما فی الضمیر کی قوت اور وضاحت کے ساتھ بیان کرنے پر مردوں کے برابر قادر نہیں ہوتی۔ اسی لئے اگر…
Read the full tafseer →اومن ینشوا فی الحلیۃ وھو فی الخصام غیر مبین 18
لڑکویں سے متعلق عرب جاہلیت کے احساس کی تشبیہ
یہ ان کے اس احساس کی تعبیر ہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر ان کے دل میں پیدا ہوتا اور ان کی گھٹن کا باعث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ وہ اس سوچ میں پڑجاتے ہیں کہ کیا وہ آئی ہے جو زیوروں میں پلتی اور مفاخرت کے مقابلوں میں بالکل بےزبان ہے۔
لفظ خصام یہاں مبارزت اور مفاخرت دونوں معنوں پر مشتمل ہے اور عرب جاہلیت ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے۔ ان کے ہاں آئے جن جنگیں بھی برپا ہوتی رہتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے جن میں ہر قبیلہ کے خطیب اور شاعر اپنے اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرین میں داد خطابت و شاعری دیتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →1 یعنی کیا خدا نے اولاد بنانے کے لیے لڑکی کو پسند کیا ہے جو عادۃً و زیبائش میں نشوونما پائے اور زیورات وغیرہ کے شوق میں مستغرق رہے جو دلیل ہے ضعف رائے و عقل کی، اور وہ بوجہ ضعف قوت فکریہ کے مباحثہ کے وقت قوت بیانہ بھی نہ رکھے۔ چناچہ عورتوں کی تقریروں میں ذرا غور کرنے سے مشاہدہ ہوتا ہے کہ نہ اپنے دعوے کو کافی بیان سے ثابت کرسکیں، نہ دوسرے کے دعوے کو گرا سکیں، ہمیشہ ادھوری بات کہیں گے یا فضول باتیں اس میں ملا دیں گے جن کو مطلوب میں کچھ دخل نہ ہو کہ اس سے بھی تبیین مقصود میں خلل پڑجاتا ہے اور مباحثہ کی تخصیص اس حیثیت سے ہے کہ اس میں بوجہ بیان کی احتیاج زیادہ ہونے کے ان کا عجز زیادہ ظاہر ہوجاتا…
Read the full tafseer →آیت 18 { اَوَمَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ } ”کیا وہ جو پرورش پاتی ہے زیور میں اور بحث میں اپنا موقف واضح نہیں کرسکتی !“
بچیاں پیدائشی طور پر نازک ہوتی ہیں ‘ وہ بچپن سے ہی کھلونوں اور گڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہیں اور زیورات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بحث و تکرار کے موقع پر اپنا مدعا بھی واضح انداز میں بیان نہیں کرسکتیں۔ اس کے برعکس لڑکے بچپن سے ہی نسبتاً مضبوط اور جفاکش ہوتے ہیں۔ وہ فطری طور پر ہتھیاروں کے کھلونوں سے کھیلنا اور مارشل گیمز میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →16 یعنی جس کا فطری لگاؤ ہی چوڑیوں، زیورات، آرائش و زیبائش اور نمائش سے ہوتا ہے۔ جسمانی قوت کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہے۔ ایسی کمزور جنس کو اللہ کی اولاد تجویز کرتے ہیں۔ اور لڑکے جو صاحب عزم و ہمت اور مرد میدان ہوتے ہیں۔ اپنے لیے وہ پسند کرتے ہیں۔
17 خصم ایسے فریقین مقدمہ کو کہتے ہیں جن کے درمیان اپنے اپنے حقوق کا جھگڑا ہو اور خصام ایسے ہی مقدمہ یا جھگڑا کو کہتے ہیں۔ یعنی عورتیں شوروغل سے ہنگامہ تو خوب پیدا کرسکتی ہیں۔ آپس میں لڑ بھی خوب سکتی ہیں۔ لیکن بحث وجدال کے وقت انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کون سی بات اس کے موقف کی حمایت میں جاتی ہے اور کون سی مخالفت میں۔ نیز وہ غیر متعلقہ باتوں سے تو طوفان…
Read the full tafseer →11۔ آیت سے فطرت نسوانی کے متعلق دو حقیقتیں ثابت ہوئیں، ایک یہ کہ زیور، آرائش ونمائش کا شوق عورت کی سرشت میں داخل ہے، دوسرے یہ کہ اس کی قوت استدلال ضعیف ہی ہے ..... ان دونوں کے لئے ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” من ینشؤا فی الحلیۃ “۔ آج دیکھ لیا جائے کہ یورپ اور امریکہ کی زن جدید اپنی آرائش وزیبائش کے سامان پر، اپنی تزئین جمال اور اپنے بناؤ سنگھار پر کتنی دولت ہر سال بےدریغ خرچ کرتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیت نمبر 16 تا 25
ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…
Read the full tafseer →او من ینشؤ فی الحیلۃ وھو فی الخصام غیر مبین کیا جو (عادۃً ) آرائش میں نشو و نما پائے اور مباحثہ
میں قوت بیانہ بھی نہ رکھے (اس کو خدا کی اولاد قرار دینا درست ہوسکتا ہے ؟ )
یُنَشَّؤُ (باب تفعیل) یعنی پرورش پاتا ہے ‘ اس سے عورتیں مراد ہیں۔ حسن صورت ‘ عورت کا طرۂ امتیاز ہے ‘ اسی لئے عورت زیور کی ضرورت مند ہے تاکہ اس کے حسن ظاہری میں اضافہ ہو۔ مردوں کا امتیاز اوصاف باطنی اور کمالات ذاتی پر موقوف ہے اور یہ زیور سے حاصل نہیں ہوتا ‘ اسلئے مردوں کو زیور کی ضرورت نہیں۔ آیت میں درپردہ ایماء ہے اس طرف کہ ظاہری ٹیپ ٹاپ اور زیور سے آراستگی عیب ہے ‘ مردوں کو اس سے پرہیز رکھنا چاہئے اور لباس تقویٰ سے آراستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(16۔ 18) تو کیا اللہ نے اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر پسند کیا اور اے بنو ملیح تمہارے لیے بیٹوں کو منتخب کیا حالانکہ جب تم میں سے کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ مغموم اور پریشان ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ اللہ کے لیے وہ چیز پسند کرتے ہو جسے اپنے لیے گوارا نہیں کرتے تو کیا جو عادتا بناؤ سنگھار میں نشو و نما پائے اور وہ مباحثہ میں قوت بیانیہ بھی نہ رکھے تو کیسے زیبا ہوسکتا ہے کہ اللہ اولاد بنانے کے لیے عورتوں ہی کو منتخب کرے۔
ان لوگوں نے فرشتوں ہی کو عورت قرار دے رکھا ہے کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے کہ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ عورتیں ہیں…
Read the full tafseer →(1) اومن ینشوا فی الحلیۃ…: اس آیت میں دو جہوں سے لڑکیوں کا لڑکوں سے کم تر ہونا بیان فرمایا جب کہ مرد کو اس کی ضرورت نہیں، اس کا حسن ویسے ہی کامل ہے۔ دوسری یہ کہ مرد مضبوط، دلیر اور شجاع ہوتا ہے جو خم ٹھونک کر دشمن کے مقابلے میں اترتا ہے، جب کہ عورت نرم و نازک اور کمزور ہوتی ہے جس کی بہادری یہ ہے کہ جب بس نہ چلے تو رہ کر دکھا دے۔ فرمایا ایسی کمزور جنس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہو اور لڑکے جو مرد میدان اور صاحب عزم و ہمت ہوتے ہیں اپنے لئے پسند کرتے ہو۔
(2) اس آیت سے عورتوں کے لئے زیور کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لئے ان کے لئے سونا اور ریشم پہننا حلال کردیا یا جو مردوں کے لئے حرام ہے اور یہ…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اومن ینشوا جس کی تربیت کی جاتی ہے اور وہ جو ان ہوتی ہے۔ نشوء کا معنی تربیت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : نشات فی بنی فلاں نشا و نشوا۔ جب تو ان میں جوان ہو۔ نشی اور انشی ‘ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ، ضحاک، ابن و ثاب، حفص، حمزہ، کسئی اور خلف نے ینشا پڑھا ہے جس کی تربیت کی جاتی ہے اور وہ بڑی ہوتی ہے زیورات میں ؛ ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ اس صورت میں اسناد اعلیٰ ہے باقی قراء نے اسے ینشایاء کے فتحہ اور نون کو ساکن کرنے کے ساتھ پڑھا ہے ؛ اسے ابو حاتم نے پسند کیا ہے وہ راسخ ہوتا ہے اور بڑھتا ہے۔ نشا میں اصل معنی بلند ہوتا ہے، یہ ہر وی نے کہا ہے…
Read the full tafseer →25:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ کیا جو عادۃ آرائش میں نشوونما پائے) یعنی انہوں نے لڑکوں کو رحمن کی اولاد بنا دیا (آیت ) ’ ’ فکیف تحکمون “ (کس طرح تم فیصلہ کرتے ہو)
26:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” او من ینشؤا فی الحلیۃ “ سے مراد عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اور مردوں کے لباس میں فرق کردیا ہے اور ان کی میراث اور شہادت کو بھی کم کردیا ہے اور ان کو گھروں میں بیٹھنے کا حکم فرمایا اور ان کو خوالف کا نام دیا یعنی پیچھے رہ جانے والیاں۔
27:۔ عبدالرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح)…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ [ اور کیا وہ (اولاد ) جس کی ] يُّنَشَّؤُا [ پرورش کی جاتی ہے ] فِي الْحِلْيَةِ [ زیور میں ] وَهُوَ فِي الْخِـصَامِ [ اور وہ حجت بازی میں ] غَيْرُ مُبِيْنٍ [وضاحت کے بغیر ہے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 18 ۔ میں اس احساس کی تعبی رہے جو لڑکی کی ولادت کی خبر سن کر اہل عرب کے دل میں پیدا ہوتا ۔ وہ اس سوچ میں پڑجاتے کہ کیا وہ وجود میں آئی ہے جو زیوروں میں پلتی ہے ( یعنی شمشیر زنی نہیں کرتی ) اور مفاخرت کے مقابلوں میں بےزبان ہے اور عرب جاہلیت میں ان دونوں ہی چیزوں کے رسیا تھے ۔ ان کے ہاں آئے دن جنگیں بھی برپا ہوتیں اور مفاخرت کے مقابلے بھی ہوتے رہتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ عورت ان دونوں میں ہی میدانوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
اس کے بعد فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتانے والوں کی تردید کی اور بطور استفہام انکاری ارشاد فرمایا کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا اس کے لیے اولاد ہونا عیب کی بات ہے وہ اس عیب سے پاک ہے لیکن تم اپنی بیوقوفی تو دیکھو کہ رحمان جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو اس کے لیے بیٹیاں تجویز کردیں اسی کو سورة النجم میں فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى 0021 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ (کیا تمہارے لیے بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں یہ تو اس حالت میں بےڈھنگی تقسیم ہے۔ )
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…
Read the full tafseer →12:۔ ” او من ینشا فی الحلیۃ۔ الایۃ “ یہ بھی مشرکین کے قول کی مزید شناعت و قباحت کا بیان ہے۔ کیا انہوں نے اس جنس کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے جس کی نشو ونما زیوروں میں ہوتی ہے یعنی بیٹیاں اور یہ ان کے ناز اور ضعیف ہونے کی دلیل ہے اور لڑائی جھگڑے میں وہ اپنے مدعا پر واضح دلیل اور، روشن برہان پیش نہیں کرسکتیں یہ ان کے عقلی اور ذہنی نقصان کی علامت ہے۔ مشرکین کا یہ قول کس قدر قبیح اور گستاخانہ ہے کہ انہوں نے ایک اخس و اذل جنس کو خدا کی طرف منسوب کیا اور اسے خدا کا نائب متصرف ٹھہرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَۃِ وَہُوَفِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِيْنٍ 18
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…
Read the full tafseer →اَوَمَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَھُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُمُبِیْنٍ ۔ (الزخرف : 18)
(اور کیا (وہ پیدا ہوئی ہے) جو زیوروں میں پالی جاتی ہے، اور بحث و حجت میں بات واضح نہیں کہہ سکتی۔ )
لڑکیوں سے متعلق اہل عرب کا تصور
جب کسی عربی کو گھر میں بیٹی ہونے کی اطلاع ملتی تو وہ انتہائی صدمے کی حالت میں ڈوب جاتا ہے، چہرے پر سیاہی چھا جاتی اور دل میں مختلف خیالات کی وجہ سے گھٹا گھٹا سا رہنے لگتا وہ سوچتا کہ میرے گھر میں ایک ایسے وجود نے جنم لیا ہے جس کا تعلق صنف نازک سے ہے، وہ جیسے جیسے پروان چڑھے گا اس کے اندر آرائش و زیبائش کا جذبہ بھی روزبروز پروان چڑھتا جائے گا، جبکہ میں ایک ایسے ملک کا رہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کے بندوں میں کسی کو اس کا جز بنانے کا ثبوت۔
اہل مکہ نے خود ساختہ تصورات کی بنیاد پر کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز اور کچھ کو اس کی صفات کا مظہر بنا رکھا تھا۔ جن شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیتے تھے ان میں ملائکہ بھی شامل تھے۔ ملائکہ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی مردہ فطرت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی اپنی نفسانی خواہش پیش کر کے سوال کیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کرتا ہے ؟ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے…
Read the full tafseer →آیت 18: اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ (کیا جو آرائش میں نشونما پائے اور وہ مباحثہ میں قوت بیانیہ نہ رکھتی ہو) یعنی کیا رحمان کے لئے ایسی اولاد ثابت کرتے ہو جس میں یہ صفت مذمومہ پائی جاتی ہو۔ اور وہ صفت اس کا آرائش وزینت میں پرورش پانا ہے۔ جب اس کو مخالف کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر مقابلے کا موقعہ آئے اور مردوں سے دوبدو گفتگو کا موقعہ ہو تو وہ اپنی بات کو پورے طور پر بیان نہیں کرسکتی۔ اس کے پاس طاقت بیان نہیں اور نہ وہ کوئی دلیل پیش کرسکتی ہے اور اس کی وجہ عقل کی کمزوری ہے۔
قولِ مقاتل (رح) :
عورت جب بھی گفتگو کرتی ہے تو اس کی دلیل اپنے خلاف…
Read the full tafseer →17، واذا بشراحدھم بما ضرب للرحمن مثلا، اس کی جو اللہ کے مشابہ بنایا ہے کیونکہ ہرچیز کی اولاد اس کے مشابہ ہوئی ہے۔ یعنی جب ان میں سے کسی کو بیٹیوں کی خوشخبری دی جاتی ہے جیسا کہ سورة النحل میں ذکر کیا گیا ہے۔ ، واذا بشر احدھم بالانثی ،۔۔۔۔۔۔۔ ، ظل وجھہ مسوداوھو کظیم، غصہ اور غم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–30
16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الزخرف
سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔
ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
20 عربوں کے ایک عمومی احساس کی تعبیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ مخلوق ۔ اس کی شریک ہوسکتی ہے ۔ جو زیور میں پروان چڑھے ؟ "۔ معلوم ہوا کہ آرائش و زیبائش میں رہنا مردوں کی شان نہیں، عورتوں کی صفت ہے۔ مردوں کی زینت محنت و مشقت اور جہاد و دقتال ہے۔ چناچہ حضرت عمر۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے مردوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ " روکھا سوکھا کھاؤ، موٹا جھوٹا پہنو اور محنت و مشقت کی زندگی گزارو "۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو عورت میدان حرب و ضرب کی مخلوق نہیں۔ عربوں کا عورت کے بارے میں یہی ذہن تھا اور یہاں پر اسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو عورت کے بارے میں یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کا نہیں بلکہ عربوں ہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
آیات 16 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔
بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔
یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی کیا ایسی نازک اور کمزور اولاد تم خدا کے لئے تجویز کرتے ہو، کیا اس تجویز پر تمہیں شرم نہیں آتی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(43:17) واذا میں واؤ حالیہ ہے اور اذا شرطیہ ۔ حالانکہ جب۔
بشر ماضی مجہول واحد مذکر غائب تبشیر (تفعیل) مصدر جس کے معنی خوشخبری سنانے کے ہیں۔ تبشیر میں کثرت سے خوشخبری دینے کے معنی ملحوظ ہیں۔ لیکن کبھی کبھی غصہ کے اظہار کے لئے تہکما یا طنزا افسوسناک یا بری خبر سنانے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہی معنی مراد ہیں۔
احدہم۔ ان میں سے کوئی ایک۔ احد مضاف ہم مضاف الیہ۔
بما ضرب للرحمن مثلا : ما موصولہ۔ ضرب للرحمن مثلا (مثلا مفعول بہ ضرب کا) صلہ و موصول مل کر مفعول بہ ہوا بشر کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اسی وصف، صفت یا حالت کی بشارت دی جائے (یعنی خبر دی جائے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–25
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ کیا اللہ نے تمکو تولڑکے دیے اور اپنی ذات کے لیے لڑکیاں چھانٹیں، خود تمہارا یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ سکڑ جاتا ہے اور وہ رنج وغصہ میں گھٹ جاتا ہے دل پریشان ہوجاتا ہے کہ افسوس لڑکا کیوں نہ ہوا تو یہ خوب ٹھہرے کہ اپنے لیے تو فرزندوں اور خدا کے لیے لڑکیاں ہیں کیا یہ خدا کے لیے لڑکیاں بتاتے ہیں جو ناز ونعمت میں پرورش کی جاتی ہیں اور سونے چاندی کے زیوروں سے آراستہ و پیراستہ کی جاتی ہیں اور جب گفتگو کا موقع ہوتا ہے تو ان سے صاف صاف عمدہ طور سے گفتگو بھی نہیں کی جاسکتی، تو ایسی چیز خدا کے لیے ثابت کرنا کیا زیبا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
[9] یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قریش کا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ جس دین کی وہ پیروی کر رہے ہیں یہ ان کو ان کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ ان کے اصل جد امجد تو ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے شرک سے اعلان برأت کیا۔ پھر یہ کیسے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کی بٹیاں نہیں ہیں
1: مکہ والوں میں کچھ لوگ ایسے تھے ۔ جو حمق وجہالت کی وجہ سے فرشتوں کو کہتے تھے ۔ کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ان آیات میں اس مسلک کی تردید فرمائی ہے ۔ ارشاد ہے : کہ یہ اللہ کی کس درجہ ناشکر گزاری ہے ۔ اور یہ کس درجہ غلط اتہام ہے ۔ کیا تم لوگ بچیوں کے انتساب سے خوش ہوتے ہو ۔ تمہاری حالت تو یہ ہے ۔ کہ اگر تم یہ سن لو ۔ کہ تمہارے ہاں لڑکی توالد ہوئی ہے تو تمہارا چہرہ مارے غصہ کے سیاہ پڑجاتا ہے اور تم اس وقت اپنے جذبات غیظ وغضب کو چھپا نہیں سکتے ہو ۔ پھر جب تمہارے نزدیک ان کا انتساب عمدہ اور قابل تعریف نہیں ہے ۔ تو پھر میری جانب ان کو منسوب کرنے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا میں ان…
Read the full tafseer →(18) کیا وہ جو زیور کی زیبائش اور آرائش میں پرورش پائی اور پروان چڑھے اور وہ جو جھگڑے اور مباحثے میں صاف طور سے اظہار مدعانہ کرسکے یہ لوگ اس کو رحمان کی اولاد ٹھہراتے ہیں۔ یعنی حادثاً لڑکی کی پرورش آرائش اور زیبائش میں ہوتی ہے ماں باپ زیور پہناتے ہیں اس کا بنائو سنگھار کیا جاتا ہے پھر ضعف رائے اور قوت فکر یہ کی کمزوری کا یہ عالم کہ بحث مباحثے اور جھگڑے کے وقت اپنے مدعا کو صاف طورپر بیان بھی نہ کرسکے تم ایسی کمزور چیزکو خدا کی اولاد وقرار دیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 3۔ مشرکین مکہ کی یہ حالت تھی کہ اپنے گھر لڑکی کا پیدا ہونا تو برا سمجھتے تھے لیکن رب العالمین کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے تھے، فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے پاتے میں پلے اور بوقت ضرورت جس کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکل سکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو۔
Read the full tafseer →کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں سے پالی جاتی ہے
18 ؎ زیور صنف نازک کے لیے بطور زیبائش اور خوبصورتی شروع ہی سے استعمال ہوتے چلے آ رہے ہیں اور بلاشبہ یہ نرم و نازک اور ضعیف و کمزور ہونے کی علامت بھی ہے کہ کوئی ایسی کمزوری ضرور ہے جس کو دور کرے کے لیے صنف نازک کو زیوروں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ ینشوا فی الحلیۃ وہ پرورش کی جانے والی اولاد جس کی پرورش زیوروں ہی کی جاتی ہو اور ظاہر ہے کہ وہ لڑکیاں ہی ہیں اور گزشتہ آیت میں لڑکیوں ہی کا ذکر بھی کیا گیا ہے بعض مفسرین نے اس سے بت بھی مراد لیے ہیں کہ وہ زیور سے بنائے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کی زیب وزینت بھی زیوروں سے کی جاتی رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ (Is it that (Allah has chosen) those (as His offspring) who are grown up in ornaments,... 43:18). This tells us that use of ornaments and adornment in accordance with 'Shari'ah is permissible for women. As such, there is consensus on this issue, but at the same time the manner of speech indicates that getting so much involved in adornment that one is busy in it the whole day long, is not proper; it is not only a symptom of one's being short-sighted, but also a cause of it.
وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ (and who cannot express themselves in debate…
Read the full tafseer →17 In other words, °You have assigned to AIlah the offspring that is by nature delicate, weak and frail, and adopted for yourselves the offspring that is bold, courageous and fearless. "
This verse shows permissibility of the ornaments for the women, for Allah has mentioned the ornaments as a natural thing for them. The same is also confirmed by the Hadith. Imam Ahmad, Abu Da'ud and Nasa'i have related on the authority of Hadrat `Ali that the Holy Prophet took silk in one hand and gold in the other and said that both were forbidden to be used in dress by the men of his Ummah. Tirmidhi and…
Read the full tafseer →