Az-Zukhruf 43:17

Az-Zukhruf · from ayah 17

43:17

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِیْمٌ ۟وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡهُهٗ مُسۡوَدًّا وَّهُوَ كَظِيۡمٌ

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when one of them is given good tidings of that which he attributes to the Most Merciful in comparison, his face becomes dark, and he suppresses grief.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:17

اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے خدا کے لئے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا اور وہ غم سے بھر جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ ان میں سے کسی کو جب اس (بیٹی) کی (ولادت) خوشخبری دی جاتی ہے جو اس نے خدائے رحمن کی طرف منسوب کر رکھی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اُس (کے گھر میں بیٹی کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے جسے انہوں نے (خدائے) رحمان کی شبیہ بنا رکھا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور غم و غصّہ سے بھر جاتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان میں سے کسی کو وہ مژدہ سنایا جاتا ہے جسے یہ رحمن سے منسوب کرتے ہیں (یعنی لڑکی کا) تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان لوگوں کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جس کو وہ خود (خدائے) رحمان کی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ کڑھنے لگتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

درآنحالیکہ ان لوگوں میں سے خود جب کسی کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جسے (خدائے) رحمن کا نمونہ قرار دے رکھا ہے تو اس کا چہرہ دن بھر اداس رہتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان میں سے کسی کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جس کی مثال وہ رحمان کے لیے بیان کرتا ہے تو اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم کے گھونٹ پی رہا ہوتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو خوشخبری دی جاتی ہے جو انہوں نے اللہ کے لیے بیان کی ہے تو اس کا منہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(They believe so although when) any of them is given tidings of the birth of a female child the like of which he assigns to the Merciful One, his countenance darkens and he is choked with grief.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When one of them is given the good news of (the birth of) that which he has attributed to RaHman (i.e. the daughters), his face turns black, and he becomes choked with sorrow.

— Muhammad Taqi Usmani

When one of them is given the good news of (the birth of) that which he has attributed to RaHman (i.e. the daughters), his face turns black, and he becomes choked with sorrow.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if one of them is informed of the news of that which he sets forth as a parable to the Most Gracious, his face becomes dark, and he is filled with grief!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if one of them hath tidings of that which he likeneth to the Beneficent One, his countenance becometh black and he is full of inward rage.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when one of them is given good tidings of that which he attributes to the Most Merciful in comparison, his face becomes dark, and he suppresses grief.

— Saheeh International

When one of them is given the glad news of the birth of a daughter, which they believe to be the only kind of child that the Beneficent God can have, his face blackens with anger.

— Muhammad Sarwar

And when one of them is given news of that of which he sets up as a likeness for the Beneficent Allah, his face becomes black and he is full of rage.

— Muhammad Habib Shakir

And when there is announced Unto any of them the birth of that which he likeneth Unto the Compassionate, his countenance remaineth darkened the whole day and he is wroth inwardly."

— Abdul Majid Daryabadi

When news is brought to one of them of (the birth of) what he sets up as a likeness to (Allah) Most Gracious, his face darkens, and he is filled with inward grief!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

مشرکین کا بدترین فعل اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الزُّخْرُف 16 یہاں مشرکین عرب کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے بت انہوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے تھے، اور یہی ان کی وہ دیویاں تھیں جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اول تو تم نے یہ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے اور اس زمین کو اسی نے تمہارے لیے گواہ بنایا ہے، اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے، اور اسی نے یہ جانور تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا۔ حالانکہ جنہیں تم معبود بنا رہے ہو وہ خدا نہیں بلکہ بندے ہیں۔ پھر مزید غضب یہ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

(آیت) وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا۔ (اور انہوں نے خدا کے بندوں میں سے خدا کا جزو ٹھہرایا) یہاں جزو سے مراد اولاد ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اولاد کے بجائے جزو کا لفظ اختیار کر کے مشرکین کے اس دعوائے باطل کی عقلی تردید کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے کوئی اولاد ہو تو وہ اس کی جزو ہوگی کیونکہ بیٹا باپ کا جزو ہوتا ہے، اور یہ عقلی قاعدہ ہے کہ ہر کل اپنے وجود میں جزو کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ بھی اپنی اولاد کا محتاج ہو۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بھی قسم کی احتیاج شان خداوندی کے بالکل منافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

ام اتخذ مما یخلق بنات و اصغکم بالبنین، واذا بشراحدھم بما ضرب للرحمن مثلاً ظل وجھہ مسوداً وھو کظیم (17-16) مشرکین کے عقیدے کا بھونڈا پن اخلاقی پہلو سے ام استنکار و الستعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جو قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے پر ایک دوسرے پہلو سے نکیر فرمائی۔ اوپر والی آیت میں ان کے جزء خدا ہونے کی تردید تھی۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزو بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لئے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–19

19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–21

6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جو اولاد اناث خدا کے لیے تجویز کر رہے ہیں۔ وہ ان کے زعم میں ایسی عیب دار اور ذلیل و حقیر ہے کہ اگر خود نہیں اس کے ملنے کی خوشخبری سنائی جائے تو مارے رنج اور غصہ کے تیور بدل جائیں۔ اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتے رہیں۔ اس کی پوری تقریر سورة " صافات " کے اخیر رکوع میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا } ”اور جب ان میں سے کسی کو اس کی بشارت دی جاتی ہے جس کی مثال وہ رحمان کے لیے بیان کرتا ہے“ وہ بڑی بےشرمی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہیں ‘ لیکن جب خود ان میں سے کسی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے : { ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ } ”تو اس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم کے گھونٹ پی رہا ہوتا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

15 بیٹی کی خبر پر اہل مکہ کے تیور بگڑنا :۔ یہ ستم ہی کیا کم تھا کہ اللہ کی اولاد قرار دی جائے۔ اس پر مزید پر ستم ڈھایا کہ اولاد میں سے بھی صرف لڑکیاں اللہ کے لیے تجویز کیں۔ جنہیں وہ اپنے لیے سخت ناپسند کرتا ہے۔ اور انگر اسے بتایا جائے کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔ شرم اور ندامت سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اندر ہی اندر اسے اس بات کا غم کھائے جاتا ہے۔ اور جب کوئی بس نہیں چلتا تو اسے زندہ درگور کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عورتوں کی شکل کے ان کے خیالی مجسمے بناتے اور پھر ان کی پوجا کرتے تھے۔ عزیٰ اور لات و منات ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

10۔ بہت سی مشرک قوموں نے دیویوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا ہے۔ مشرکین عرب میں یہ مرض اور زیادہ تھا۔ مشرک قوموں نے عموما اور عرب نے خصوصا بیٹیوں کو ذلیل بھی بہت سمجھا ہے تو یہاں مقصود کلام یہ ہے کہ یہ احمق ایک تو اللہ کی اولاد فرض کر تین ہیں، اور پھر اولاد بھی بیٹیاں جنہیں خود اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل وجھہ مسودا وھو کظیم حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جائے ‘ جس کو اس نے خدا کا نمونہ بنا رکھا ہے (یعنی بیٹی ہونے کی خبر دی جائے) تو اتنا ناراض ہوتا ہے کہ اس دن اس کا چہرہ بےرونق ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹا رہتا ہے۔ بِمَا ضَرَبَ للرَّحْمٰنِ مَثَلاً یعنی جب اس جنس کی بشارت دی جاتی ہے تو جس کو وہ خدا کی مثل قرار دیتا ہے (مطلب یہ کہ ملائکہ کو وہ خدا کی بیٹیاں قرار دیتا ہے اور ان کو خدا کی مثل مانتا ہے) کیونکہ اولاد اپنے باپ کی مثل اور مشابہ ہوتی ہے ‘ یا مثل سے مراد ہے صفت ‘ یعنی جب اس کو اس وصف کی بشارت دی جاتی ہے جس کو اس نے رحمن کا وصف قرار…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–18

(16۔ 18) تو کیا اللہ نے اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر پسند کیا اور اے بنو ملیح تمہارے لیے بیٹوں کو منتخب کیا حالانکہ جب تم میں سے کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ مغموم اور پریشان ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اللہ کے لیے وہ چیز پسند کرتے ہو جسے اپنے لیے گوارا نہیں کرتے تو کیا جو عادتا بناؤ سنگھار میں نشو و نما پائے اور وہ مباحثہ میں قوت بیانیہ بھی نہ رکھے تو کیسے زیبا ہوسکتا ہے کہ اللہ اولاد بنانے کے لیے عورتوں ہی کو منتخب کرے۔ ان لوگوں نے فرشتوں ہی کو عورت قرار دے رکھا ہے کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے کہ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ عورتیں ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمٰن مثلاً …: کتنی بڑی ناشکری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ چیز لگا دی جس سے وہ خود شدید نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔ بیٹیوں سے ان کی نفرت کی مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة نحل کی آیات (58، 59) کی تفسیر۔”ظل وجھہ مسوداً“ (اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے) اس لئے فرمایا کہ چہرے کی سیاہی دن کو نظر آتی ہے ، ورنہ چہرہ تو رات کو بھی سیاہ رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذابشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل و ضھہ مسود اوھو کظیم۔ ” اور جب اطلاع دی جاتی ہے ان میں سے کسی کو اس کی جس کی نسبت اس نے رحمن کی طرف کی ہے تو اس کا چہرہ (فرط رنج سے) سیاہ ہوجاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے “۔ واذابشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا یعنی اس کی بیٹی پیدا ہوئی تو اسکا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کی یہ صورت حال اس لیے ہوتی ہے کہ اس نے جو مثال بیان کی تھی وہ باطل ہوچکی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسے بچی کی جو بشارت دی گئی ہے اس کی یہ حالت ہوگئی ہے اس کی دلیل سورة نحل میں موجود ہے واذابشر احدہم بالانثی ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان میں سے ایک کو یہ کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

22:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ میں جزء سے مراد ہے بیٹا اور فرشتوں میں سے بیٹیاں کہ انہوں نے خدا سے بیٹا اور بیٹیوں کو تجویز کر رکھا ہے) (اور فرمایا) (آیت ) ” واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا “ (حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جائے تو اس نے خدا کا نمونہ بنا رکھا ہے یعنی بیٹی ہونے کی خبر دی جائے (تو وہ غمگین ہوجاتا ہے ) 23:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا بشر احدھم بما ضرب للرحمن مثلا ظل وجھہ مسودا وھو کظیم “ (حالانکہ ان میں سے کسی کو اس چیز کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا بُشِّرَ [ اور جب بشارت دی جاتی ہے ] اَحَدُهُمْ [ ان کے کسی ایک کو ] بِمَا ضَرَبَ [ اس کی جو اس نے بیان کیا ] لِلرَّحْمٰنِ [ رحمان کے لئے ] مَثَلًا [بطور مثال کے ] ظَلَّ [ تو ہوجاتا ہے ] وَجْهُهٗ [اس کا چہرہ ] مُسْوَدًّا [ سیاہ پڑنے والا ] وَّهُوَ كَظِيْمٌ [ اس حال میں کہ وہ غم زدہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–19

اس کے بعد فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتانے والوں کی تردید کی اور بطور استفہام انکاری ارشاد فرمایا کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا اس کے لیے اولاد ہونا عیب کی بات ہے وہ اس عیب سے پاک ہے لیکن تم اپنی بیوقوفی تو دیکھو کہ رحمان جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو اس کے لیے بیٹیاں تجویز کردیں اسی کو سورة النجم میں فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى 0021 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ (کیا تمہارے لیے بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں یہ تو اس حالت میں بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ) اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

11:۔ ” ام تخذ مما یخلق۔ الایۃ “ استفہام انکاری ہے برائے تعجب۔ کیا تمہارے خیال باطل کے مطابق اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں منتخب کرلیں اور بیٹوں کو تمہارے لیے مختص کردیا ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت و سرکشی پر اظہار تعجب ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی چیز (بیٹیوں) کی نسبت کی جسے وہ خود نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں ” واذا بشر احدہم الخ “ یہ ان کی حماقت و جہالت کا مزید بیان ہے۔ ضرب ای جعل مثلا ای صفۃ او حالا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یا مثلاً بمعنی شبھا ہے۔ ای بالجنس الذی جعلہ لہ مثلا ای شبھا (مدارک ج 4 ص 88) ۔ اور ان مشرکین کا اپنا حال یہ ہے کہ جس جنس (اناث) کو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَكَظِيْمٌ۝ 17 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰـکُمْ بِالْبَنِیْنَ ۔ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْمٌ۔ (الزخرف : 16، 17) (کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔ ) مشرکین کے ذہنی افلاس کی مثال اَمْ … استنکار اور استعجاب کے مفہوم میں ہے۔ تعجب اس بات پر ظاہر کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا معاملہ نہایت نازک اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–19

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کے بندوں میں کسی کو اس کا جز بنانے کا ثبوت۔ اہل مکہ نے خود ساختہ تصورات کی بنیاد پر کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز اور کچھ کو اس کی صفات کا مظہر بنا رکھا تھا۔ جن شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیتے تھے ان میں ملائکہ بھی شامل تھے۔ ملائکہ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی مردہ فطرت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی اپنی نفسانی خواہش پیش کر کے سوال کیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کرتا ہے ؟ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 17: وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَـلًا (حالانکہ جب تم میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جاتی جس کو اس نے رب رحمان کا نمونہ بنا رکھا ہے) اس جنس کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ اللہ تعالیٰ کی مثل قرار دیتا ہے۔ مثلاً بمعنی مشابہ۔ کیونکہ جب ان کو اللہ تعالیٰ کا جزء بنادیا تو گویا اس کی جنس بنادیا اور اس کا مماثل بنادیا۔ کیونکہ لڑکا والد کی جنس سے ہوتا ہے۔ ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ (تو سارا دن اس کا چہرہ بےرونق رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے) ۔ انہوں نے اس جنس ملائکہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی۔ حالانکہ ان کی حالت یہ ہے۔ کہ جب ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16، ام اتخذمما یخلق بنات، یہ استفہام ڈانٹ اور انکار کے لیے ہے۔ فرماتے ہیں کہ تمہارے رب نے اپنے لیے بیٹیاں بنائی ہیں۔ ، واصفاکم بالبنین، یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ، افاصفاکم ربکم بالبنین واتخذ من الملائکۃ اناثا، کی طرح ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–19

سورة الزخرف سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔ ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

20 عربوں کے ایک عمومی احساس کی تعبیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ مخلوق ۔ اس کی شریک ہوسکتی ہے ۔ جو زیور میں پروان چڑھے ؟ "۔ معلوم ہوا کہ آرائش و زیبائش میں رہنا مردوں کی شان نہیں، عورتوں کی صفت ہے۔ مردوں کی زینت محنت و مشقت اور جہاد و دقتال ہے۔ چناچہ حضرت عمر۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے مردوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ " روکھا سوکھا کھاؤ، موٹا جھوٹا پہنو اور محنت و مشقت کی زندگی گزارو "۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو عورت میدان حرب و ضرب کی مخلوق نہیں۔ عربوں کا عورت کے بارے میں یہی ذہن تھا اور یہاں پر اسی کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو عورت کے بارے میں یہ تبصرہ اللہ تعالیٰ کا نہیں بلکہ عربوں ہی کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی بیٹی کو اس قدر برا سمجھتا ہے لیکن تعجب ہے کہ اسے اس خدا کے لئے تجویز کرتا ہے جسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 17–18

(43:17) واذا میں واؤ حالیہ ہے اور اذا شرطیہ ۔ حالانکہ جب۔ بشر ماضی مجہول واحد مذکر غائب تبشیر (تفعیل) مصدر جس کے معنی خوشخبری سنانے کے ہیں۔ تبشیر میں کثرت سے خوشخبری دینے کے معنی ملحوظ ہیں۔ لیکن کبھی کبھی غصہ کے اظہار کے لئے تہکما یا طنزا افسوسناک یا بری خبر سنانے کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ یہاں یہی معنی مراد ہیں۔ احدہم۔ ان میں سے کوئی ایک۔ احد مضاف ہم مضاف الیہ۔ بما ضرب للرحمن مثلا : ما موصولہ۔ ضرب للرحمن مثلا (مثلا مفعول بہ ضرب کا) صلہ و موصول مل کر مفعول بہ ہوا بشر کا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اسی وصف، صفت یا حالت کی بشارت دی جائے (یعنی خبر دی جائے)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ کیا اللہ نے تمکو تولڑکے دیے اور اپنی ذات کے لیے لڑکیاں چھانٹیں، خود تمہارا یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ سکڑ جاتا ہے اور وہ رنج وغصہ میں گھٹ جاتا ہے دل پریشان ہوجاتا ہے کہ افسوس لڑکا کیوں نہ ہوا تو یہ خوب ٹھہرے کہ اپنے لیے تو فرزندوں اور خدا کے لیے لڑکیاں ہیں کیا یہ خدا کے لیے لڑکیاں بتاتے ہیں جو ناز ونعمت میں پرورش کی جاتی ہیں اور سونے چاندی کے زیوروں سے آراستہ و پیراستہ کی جاتی ہیں اور جب گفتگو کا موقع ہوتا ہے تو ان سے صاف صاف عمدہ طور سے گفتگو بھی نہیں کی جاسکتی، تو ایسی چیز خدا کے لیے ثابت کرنا کیا زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق 1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) حالانکہ جس کی مثال یہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیان کرتے ہیں اور رحمان کے لئے جس چیز کا نام دھرتے ہیں جب اس بیٹی کے ہونے کی ان میں سے کسی کو خوشخبری دی جاتی ہے تو تمام دن اس کا منہ سیاہ اوراداس رہتا ہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ یعنی جو چیز یہ رحمان کی طرف سے منسوب کرتے ہیں جب وہی بیٹی کبھی ان کے ہاں پیدا ہوجاتی ہے تو ان کی حالت بیٹی کی خبر سن کر یہ ہوتی ہے کہ ان کا چہرہ کالا ہوجاتا ہے اور دل میں گھٹتا رہتا ہے۔ آگے اور لڑکیوں کی کمزوری اور ضعف کا حال بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 3۔ مشرکین مکہ کی یہ حالت تھی کہ اپنے گھر لڑکی کا پیدا ہونا تو برا سمجھتے تھے لیکن رب العالمین کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے تھے، فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے پاتے میں پلے اور بوقت ضرورت جس کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکل سکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لڑکی کی خبر پا کر جو ان کا حال ہوتا ہے اس کی تصویر کھینچی جارہی ہے 17 ؎ فرمایا تعجب ہے تم لوگوں پر کہ تم میں سے اگر کسی کو لڑکی کی خبر دی جائے کہ تیرے گھر نوزائیدہ بیٹی پیدا ہوئی ہے جیسا کہ تم لوگ رحمن کے لیے بیٹیاں گھڑ رہے ہو اور زور دے دے کر کہہ رہے ہو کہ یہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو تمہاری حالت بیٹی کا نام سنتے ہی غیر ہوجاتی ہے اور چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور تم غصہ سے دانت پسینے لگتے ہو اور ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا تم زندہ درگور ہوچکے ہو اور لوگوں سے چھپتے پھرتے ہو اور پھر بہادری کا سب سے بڑا مظاہرہ کرتے ہو تو اپنی بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے ہو اور پھر اس کو بہادری کی علامت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ (Is it that (Allah has chosen) those (as His offspring) who are grown up in ornaments,... 43:18). This tells us that use of ornaments and adornment in accordance with 'Shari'ah is permissible for women. As such, there is consensus on this issue, but at the same time the manner of speech indicates that getting so much involved in adornment that one is busy in it the whole day long, is not proper; it is not only a symptom of one's being short-sighted, but also a cause of it. وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ‌ مُبِينٍ (and who cannot express themselves in debate…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

16 Here, the folly of the polytheists of Arabia has been fully exposed. They said that the angels were the daughters of Allah. They had carved out their images as females, and these were their goddesses whom they worshipped. About this Allah says: In the first place, in spite of knowing and recognizing that the Creator of the earth and heavens is Allah and it is He Who has made this earth a cradle for you and it is He Who sends down the rain from the sky. and it is He Who has created these animals for your service, yet you have taken others as gods beside Him, whereas those whom you serve as…

Read the full tafseer →