Az-Zukhruf 43:16

Az-Zukhruf · from ayah 16

43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ ۟اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصۡفٰٮكُمۡ بِالۡبَنِيۡنَ

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or has He taken, out of what He has created, daughters and chosen you for [having] sons?

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:16

کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے تو بیٹیاں پسند کی ہیں، اور تمہیں بیٹوں کے لیے منتخب کیا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے کافرو! اپنے پیمانۂ فکر کے مطابق یہی جواب دو کہ) کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے (خود اپنے لئے تو) بیٹیاں بنا رکھی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مختص کر رکھا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا اس نے اس (مخلوق) میں سے جسے وہ پیدا کرتا ہے (خود) بیٹیاں رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں کے لیے چن لیا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے (اپنے لئے) بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اس نے اپنے لئے تو اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں چن لیں اور تمہیں بیٹوں سے نواز دیا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں تو) کیا (اللہ) نے مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس نے بنا لی ہیں اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں اور تمہیں پسند کرلیا ہے بیٹوں کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا اس نے اپنی مخلوقات میں سے خود تو بیٹیاں لیں اور تم کو چن کر بیٹے دیے

— محترمہ رفعت اعجاز

Has Allah taken for Himself daughters out of those whom He creates and has chosen you to have sons?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that He has adopted daughters from those whom He has created, and chosen you for (having) sons?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that He has adopted daughters from those whom He has created, and chosen you for (having) sons?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or has He taken daughters out of what He has created, and He has selected for you sons

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or chooseth He daughters of all that He hath created, and honoureth He you with sons?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or has He taken, out of what He has created, daughters and chosen you for [having] sons?

— Saheeh International

Has God chosen some of His own creatures as daughters for Himself and has given you the preference of having sons?

— Muhammad Sarwar

What! has He taken daughters to Himself of what He Himself creates and chosen you to have sons?

— Muhammad Habib Shakir

Hath He taken for Himself from whatsoever He hath created daughters, and hath honoured you with sons.

— Abdul Majid Daryabadi

What! has He taken daughters out of what He himself creates, and granted to you sons for choice?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

مشرکین کا بدترین فعل اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الزُّخْرُف 16 یہاں مشرکین عرب کی نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے بت انہوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے تھے، اور یہی ان کی وہ دیویاں تھیں جن کی پرستش کی جاتی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اول تو تم نے یہ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے اور اس زمین کو اسی نے تمہارے لیے گواہ بنایا ہے، اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے، اور اسی نے یہ جانور تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں، اس کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا۔ حالانکہ جنہیں تم معبود بنا رہے ہو وہ خدا نہیں بلکہ بندے ہیں۔ پھر مزید غضب یہ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

(آیت) وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا۔ (اور انہوں نے خدا کے بندوں میں سے خدا کا جزو ٹھہرایا) یہاں جزو سے مراد اولاد ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اولاد کے بجائے جزو کا لفظ اختیار کر کے مشرکین کے اس دعوائے باطل کی عقلی تردید کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے کوئی اولاد ہو تو وہ اس کی جزو ہوگی کیونکہ بیٹا باپ کا جزو ہوتا ہے، اور یہ عقلی قاعدہ ہے کہ ہر کل اپنے وجود میں جزو کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ بھی اپنی اولاد کا محتاج ہو۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بھی قسم کی احتیاج شان خداوندی کے بالکل منافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 16–17

ام اتخذ مما یخلق بنات و اصغکم بالبنین، واذا بشراحدھم بما ضرب للرحمن مثلاً ظل وجھہ مسوداً وھو کظیم (17-16) مشرکین کے عقیدے کا بھونڈا پن اخلاقی پہلو سے ام استنکار و الستعجاب کے مفہوم میں ہے۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں جو قرار دیتے تھے، ان کے اس عقیدے پر ایک دوسرے پہلو سے نکیر فرمائی۔ اوپر والی آیت میں ان کے جزء خدا ہونے کی تردید تھی۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی پہلو سے ان کے اس عقیدے کے بھونڈے پن کو واضح فرمایا کہ صرف یہی ستم نہیں ہے کہ خدا کی مخلوقات کو اس کا ایک جزو بنائے دے رہے ہیں بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لئے تو ایک نہایت نفرت کی چیز سمجھتے ہیں لیکن خدا کی طرف ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–19

19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–21

6: اللہ تعالیٰ کے بارے میں کوئی عقیدہ یا تو اس وقت رکھا جاسکتا ہے جب وہ ہر عقل والے انسان کے لئے بالکل بدیہی طور پر واضح ہو، یا پھر خود اللہ تعالیٰ نے کسی آسمانی کتاب کے ذریعے اس کی وضاحت فرمائی ہو، مشرکین کے عقیدوں کی کوئی کتاب بھی ایسی نہیں ہے جس میں ایسے عقائد بیان کئے گئے ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–25

آیت نمبر 15 تا 25 قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔ آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔ وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 15–16

9 یعنی چاہیے تھا اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر شکر ادا کرے۔ یہ صریح ناشکری پر اترآیا۔ اور اس کی جناب میں گستاخیاں کرنے لگا۔ اس سے بڑی گستاخی اور ناشکری کیا ہوگی کہ اس کے لیے اولاد تجویز کی جائے، وہ بھی بندوں میں سے اور وہ بھی بیٹیاں، اول تو اولاد باپ کے وجود کا ایک جزو ہوتا ہے تو خداوند قدوس کے لیے اولاد تجویز کرنے کے یہ معنی ہوئے کہ وہ اجزاء سے مرکب ہے اور مرکب کا حادث ہونا ضروری ہے، دوسرے ولد اور والد میں مجانست ہونی چاہیے دونوں ایک جنس نہ ہوں تو ولد یا والد کے حق میں عیب ہے۔ یہاں مخلوق و خالق و مجانست کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ تیسرے لڑکی باعتبار قوائے جسمیہ و عقلیہ کے عموماً لڑکے سے ناقص اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰٹکُمْ بِالْبَنِیْنَ } ”کیا اس نے بنا لی ہیں اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں اور تمہیں پسند کرلیا ہے بیٹوں کے ساتھ !“ یہ مضمون بہت تکرار کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

15 بیٹی کی خبر پر اہل مکہ کے تیور بگڑنا :۔ یہ ستم ہی کیا کم تھا کہ اللہ کی اولاد قرار دی جائے۔ اس پر مزید پر ستم ڈھایا کہ اولاد میں سے بھی صرف لڑکیاں اللہ کے لیے تجویز کیں۔ جنہیں وہ اپنے لیے سخت ناپسند کرتا ہے۔ اور انگر اسے بتایا جائے کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کے تیور ہی بدل جاتے ہیں۔ شرم اور ندامت سے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اندر ہی اندر اسے اس بات کا غم کھائے جاتا ہے۔ اور جب کوئی بس نہیں چلتا تو اسے زندہ درگور کردیتا ہے۔ واضح رہے کہ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ عورتوں کی شکل کے ان کے خیالی مجسمے بناتے اور پھر ان کی پوجا کرتے تھے۔ عزیٰ اور لات و منات ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 16–17

10۔ بہت سی مشرک قوموں نے دیویوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا ہے۔ مشرکین عرب میں یہ مرض اور زیادہ تھا۔ مشرک قوموں نے عموما اور عرب نے خصوصا بیٹیوں کو ذلیل بھی بہت سمجھا ہے تو یہاں مقصود کلام یہ ہے کہ یہ احمق ایک تو اللہ کی اولاد فرض کر تین ہیں، اور پھر اولاد بھی بیٹیاں جنہیں خود اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 16–25

آیت نمبر 16 تا 25 ترجمہ : کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا (یہ بات) تمہارے سابق قول سے لازم آرہی ہے، (اَمْ ) میں ہمزہ انکار کے لئے ہے، اور قول مقدر ہے ای اتَقُولُوْنَ ، وَاَصْفَاکُمْ بِالبَنِیْنَ کا عطف اِتَّخَذَ پر ہونے کی وجہ سے منجملہ منکر (و مذموم) ہے (حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز (بیٹی) کی خبر دی جائے جس کی تشبیہ اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہے بیٹیوں کی اس کی طرف نسبت کر کے اس کا شبیہ قرار دیا، اس لئے کہ ولد والد کے مشابہ ہوتا ہے، معنی یہ کہ جب اس کے (گھر) پیدا ہونے والی بیٹی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ غمزدہ کے مانند متغیر ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام اتخذ مما یخلق بنت والصفکم بالبنین کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے تو لے لیں بیٹیاں اور تمہارے لئے مخصوص کر دئیے بیٹے ؟ ہمزہ مفید زجر و انکار ہے اور مظہر تعجب بھی ہے ‘ بلکہ کافروں کے قول اِنَّ لِلّٰہِ وَلَدًا سے اعراض پر دلالت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کیلئے اجزاء ثابت کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ‘ بلکہ مخلوق میں سے ایسی اولاد اس کیلئے پسند کی جو ان کافروں کو اپنے لئے پسند نہیں ہے۔ اگر ایسی اولاد (یعنی بیٹی) ہونے کی ان میں سے کسی کو بشارت دی جاتی ہے تو اس پر غم کی اندھیری چھا جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–18

(16۔ 18) تو کیا اللہ نے اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر پسند کیا اور اے بنو ملیح تمہارے لیے بیٹوں کو منتخب کیا حالانکہ جب تم میں سے کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ مغموم اور پریشان ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اللہ کے لیے وہ چیز پسند کرتے ہو جسے اپنے لیے گوارا نہیں کرتے تو کیا جو عادتا بناؤ سنگھار میں نشو و نما پائے اور وہ مباحثہ میں قوت بیانیہ بھی نہ رکھے تو کیسے زیبا ہوسکتا ہے کہ اللہ اولاد بنانے کے لیے عورتوں ہی کو منتخب کرے۔ ان لوگوں نے فرشتوں ہی کو عورت قرار دے رکھا ہے کیا یہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے کہ ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ عورتیں ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ام اتخذ بما یخلق بنت…: ان کی ناشکری کی انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرائی تو بیٹیاں جو بیٹوں سے کم تر ہوتی ہیں، جب کہ اپنے لئے وہ بیٹوں کے خواہشمند ہیں۔”ام“ (یا) سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، یعنی (کیا اسے زبردستی لڑکیاں دے دی گئی ہیں جنھیں وہ ہٹا نہیں سکا) یا خود ہی اپنی ساری قدرت و اختیار کے باوجود لڑکیاں لینے پر راضی ہوگیا اور تمہیں بیٹے دینے کے لئے چن لیا ، حالانکہ کم تر چیز پر تو کوئی بیوقوف ہی راضی ہوتا ہے۔ سوچو ! تم اللہ کی کتنی بڑی گستاخی کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ام اتخذ مما یخلق بنت و اصفکم بالبنین۔ ” کیا اللہ تعالیٰ نے پسند کرلی ہیں اپنے لیے اپنی مخلوق سے بیٹیاں اور مخصوص کردیا ہے تمہیں بیٹوں کے ساتھ “۔ ام اتخذ مما یخلق بنت ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے کیا اس نے جو پیدا کیا ہے اس کو بیٹیاں بنا لیا ہے جس طرح تمہارا گمان ہے فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں لفظ استفہام کا ہے معنی تو بیخ ہے واصغکم بالبنین۔ تمہیں بیٹوں کے لیے خاص کیا، یہ جملہ کہا جاتا ہے : اصفیتہ بکذا یعنی میں نے اس کو اس کے پیچھے لگایا۔ اصفیتہ الود میں نے اس کے لیے محبت کو خالص کیا۔ صافیتہ و تمافینا ہم نے خالص کیا۔ اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس امر کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–16

20:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق وبن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔ 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے لئے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمِ اتَّخَذَ [ یا اس نے بنایا ] مِمَّا يَخْلُقُ [ اس میں سے جو وہ پیدا کرتا ہے ] بَنٰتٍ [کچھ بیٹیاں ] وَّاَصْفٰىكُمْ [ اور اس نے چن لیا تم کو ] بِالْبَنِيْنَ [ بیٹوں کے لئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 16–19

اس کے بعد فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتانے والوں کی تردید کی اور بطور استفہام انکاری ارشاد فرمایا کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کرلیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کردیا اس کے لیے اولاد ہونا عیب کی بات ہے وہ اس عیب سے پاک ہے لیکن تم اپنی بیوقوفی تو دیکھو کہ رحمان جل مجدہٗ کے لیے اولاد تجویز کرنے بیٹھے تو اس کے لیے بیٹیاں تجویز کردیں اسی کو سورة النجم میں فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى 0021 تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ (کیا تمہارے لیے بیٹے اور اس کے لیے بیٹیاں یہ تو اس حالت میں بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ) اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–25

تقبیح وتوبیخ برعناد ومخاصمت مشرکین و انکار از قبول حق : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام اتخذ مما یخلق بنت ...... الی ...... کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں وحی الہی اور کلام ربانی کی عظمت اور حقانیت کے بیان کے ساتھ مجرمین وملحدین کی غلط روش اور بیہودہ خصلتوں پر وعیدتھی اب ان آیات میں مشرکین کا عناد اور ان کی مخاصمت کا بیان ہے اور یہ کہ ان کی مشرکانہ روش کس قدر گستاخانہ ہے کہ خدا کے واسطے اول تو اولاد تجویز کرتے ہیں اور پھر یہ کہ اس سلسلہ میں بیٹیاں خدا کے لیے تجویز کرتے ہیں حالانکہ یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹیوں کے تصور کو انتہائی عار اور اس کی خبر دی جائے تو غصہ اور غم میں ان کا منہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–17

11:۔ ” ام تخذ مما یخلق۔ الایۃ “ استفہام انکاری ہے برائے تعجب۔ کیا تمہارے خیال باطل کے مطابق اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں منتخب کرلیں اور بیٹوں کو تمہارے لیے مختص کردیا ہے۔ یہ مشرکین کی جہالت و سرکشی پر اظہار تعجب ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ایک ایسی چیز (بیٹیوں) کی نسبت کی جسے وہ خود نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں ” واذا بشر احدہم الخ “ یہ ان کی حماقت و جہالت کا مزید بیان ہے۔ ضرب ای جعل مثلا ای صفۃ او حالا۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ یا مثلاً بمعنی شبھا ہے۔ ای بالجنس الذی جعلہ لہ مثلا ای شبھا (مدارک ج 4 ص 88) ۔ اور ان مشرکین کا اپنا حال یہ ہے کہ جس جنس (اناث) کو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–25

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِيْنَ۝ 16 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ أخذ ( افتعال،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–21

ترکیب : بنات مفعول اتخذممایخلق حال منھا، مثلاً مفعول ضرب للرحمن متعلق بہ واذا شرطیۃ ظل الجملۃ الشرط وجہہ بالرفع علی القرآۃ المشہورۃ اسم ظل مسودا خبرہ اومن فی موضع نصب تقدیرہ اتجعلون من ینشؤا قرء الجمہور بفتح الیاء و اسکان النون و قراء ابن عباس والضحاک و حفص بضم الیاء و فتح النون و تشدید الشین قال الھردی الفعل علی القرأۃ الاولی لازم و علی الثانیۃ متعدفی متعلق بمبین وغیرلایمنعہ والجملۃ حال۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا وجعلوالہ من عبادہ جزاء اب یہاں اس کی اور زیادہ تشریح کرتا ہے فقال ام اتخذ الخ کہ کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے لڑکیاں پسند کیں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کئے ہیں ؟ یعنی یہ جو تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 16–17

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّاَصْفٰـکُمْ بِالْبَنِیْنَ ۔ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْھُہٗ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْمٌ۔ (الزخرف : 16، 17) (کیا اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا۔ اور حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی بشارت دی جاتی ہے جس کو وہ خدا کی صفت بیان کرتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔ ) مشرکین کے ذہنی افلاس کی مثال اَمْ … استنکار اور استعجاب کے مفہوم میں ہے۔ تعجب اس بات پر ظاہر کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا معاملہ نہایت نازک اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–19

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کے بندوں میں کسی کو اس کا جز بنانے کا ثبوت۔ اہل مکہ نے خود ساختہ تصورات کی بنیاد پر کچھ شخصیات کو اللہ تعالیٰ کی ذات کا جز اور کچھ کو اس کی صفات کا مظہر بنا رکھا تھا۔ جن شخصیات کو اللہ تعالیٰ کا جز قرار دیتے تھے ان میں ملائکہ بھی شامل تھے۔ ملائکہ کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کی مردہ فطرت کو بیدار کرنے کے لیے ان کی اپنی نفسانی خواہش پیش کر کے سوال کیا گیا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کی ہیں اور تمہارے لیے بیٹے پسند کرتا ہے ؟ حالانکہ تمہاری حالت یہ ہے کہ جب تم میں کسی کو بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہالت کفار : آیت 16: اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰکُمْ بِالْبَنِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا) ام بل کے معنی میں ہے۔ اور ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ اور اس سے ان کی جہالت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ اس لئے کہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے حقیر کو چن لیا اور ان کے لئے اعلی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15، وجعلو الہ من عبادہ جزء ا، یعنی حصہ اور وہ ان کا قول فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہاں جعل کا معنی کسی چیز کا حکم کرنا ہے۔ جیسا کہ تو کہے ، جعلت زیدا افضل الناس ، یعنی میں نے اس کی یہ صفت بیان کی اور اس کا حکم لگایا۔ ، ان الانسان، یعنی کافر، لکفور، اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ہے۔ ، مبین، کلاناشکرا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–30

16۔ 30۔ مشرکین مکہ نے بت پرستی کے کفر میں یہ کفر جمع کئے تھے ایک تو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرایا تھا دوسرے اولاد کی قسم میں لڑکیوں کو خود اپنے حق میں اچھا نہیں جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کو منسوب کرتے تھے تیسرے بغیر جانے بوجھے غیب کی باتوں میں دخل دیتے تھے کہ فرشتے مرد نہیں عورتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں طرح طرح سے ان مشرکوں کو قائل کیا ہے پہلے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم کو تو بیٹے دیئے اور اپنی ذات کے لئے بیٹیاں چھانٹیں خود تمہارا تو یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ بنا لیتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف لڑکیوں کو نسبت دیتے ہو پھر فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–25

آیت 15 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔ (2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔ (3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–19

سورة الزخرف سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔ ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 مشرکین کے ضمیروں پر ایک دستک : سو مشرکوں کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اس نے اپنے لیے تو اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں چن لیں اور تم لوگوں کو بیٹوں سے نواز دیا ؟ "۔ یعنی جن کو تم لوگ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے جس کا کچھ نقشہ اگلی آیت کریمہ میں دکھلایا گیا ہے تو اس مخلوق کو تم لوگ حضرت خالق ۔ جَلَّ وَعَلاَ شَانُہٗ ۔ کی طرف کس طرح منسوب کرتے ہو ؟ تم کیسے لوگ ہو اور تمہاری عقلوں کو آخر کیا ہوگیا ؟ یہ بات جہاں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی جناب اقدس میں سنگین گستاخی ہے وہاں یہ تمہاری عقلوں کے لئے بھی ماتم ہے کہ جو چیز تم خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ تم اس مالک الملک حضرت خالق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–31

مشرکین کا بدترین فعل تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 16–25

آیات 16 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ اور جز یا اولاد بھی ایسی تجویز کی کہ گویا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہیں بیٹے عطا کردیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اگر تم میں سے کسی کو ایسی خوش خبری سنائی جائے یعنی بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملے تو تمہارے منہ لٹک جاتے ہیں چہرے کی رنگت سیاہ ہوجاتی ہے اور دل ہی دل میں بہت دکھ محسوس کرتے ہو حالانکہ بیٹیاں اس طرح کوئی ذلت کی بات نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ وہ بناؤ سنگھار میں پرورش والی ہوتیں ہیں اور مردوں کے مقابل قوت بیانیہ میں کمزور۔ بناؤ سنگھار خواتین کے لیے۔ یہاں ثابت ہے کہ عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے مگر اس میں اس قدر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی یہ انتہائی تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمدہ چیز بیٹے تو تم کو دے دی اور نکمی چیز بیٹیاں اپنے لئے رکھ لی۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں ” تلک اذا اقسمد ضمیری) (النجم :22)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:16) ام : استفہام انکاری کے معنی میں آیا ہے۔ اتخذ ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے) اتخاذ (افتعال) مصدر اس نے اختیار کیا۔ اس نے پسند کیا۔ مما : من حرف جار۔ اور ما موصولہ سے مرکب ہے۔ یخلق صلہ ہے اپنے موصول کا نبات مفعول فعل اتخذ کا۔ کیا جو مخلوق اس نے پیدا کی ہے اس میں سے اس نے اپنے لئے بیٹیوں کو ہی پسند کیا ہے ؟ یہاں ام استفہام انکاری بطور زجر و توبیخ آیا ہے یعنی ایسا ہرگز ہرگز نہیں یہ تمہارا سراسر افتراء ہے۔ واصفکم : اصفی ماضی واحد مذکر غائب اصفاء (افعال) مصدر بمعنی منتخب کرنا۔ برگزیدہ کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اور تمہیں چن لیا (بیٹوں کے لئے) ۔ اور جگہ ارشاد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 16–25

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 25 : اصفی ( اس نے چن لیا ، منتخب کرلیا) ظل ( ہوگیا ( ہوجاتا ہے) مسودا ( سیاہ تاریک) کظیم (گھٹنے والا) ینشوا ( پالا اور پرورش کیا جاتا ہے) الحلیۃ (زیور) الخصام ( جھگڑنا ، بحث کرنا) شھدوا (وہ حاضر تھے ، موجود تھے) یخرصون (وہ اٹل کی باتیں کرتے ہیں) مستمسکون ( تھامنے والے ، سنبھالنے والے) امۃ ( طریقہ ( امت ، جماعت) مترفون (عیش پسند ، مال دار) مقتدون ( پیروی کرنے والے) اھدی (زیادہ ہدایت) انتقمنا (ہم نے انتقام لیا) عاقبۃ (انجام ، نتیجہ) تشریح : آیت نمبر 16 تا 25 : ان آیات سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی بہت سے نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جیسے زمین و آسمان کی پیدائش اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 16–18

(ف 2) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکوں کو قائل کیا ہے کہ کیا اللہ نے تمکو تولڑکے دیے اور اپنی ذات کے لیے لڑکیاں چھانٹیں، خود تمہارا یہ حال ہے کہ لڑکی کے پیدا ہونے کی خبر سن کر منہ سکڑ جاتا ہے اور وہ رنج وغصہ میں گھٹ جاتا ہے دل پریشان ہوجاتا ہے کہ افسوس لڑکا کیوں نہ ہوا تو یہ خوب ٹھہرے کہ اپنے لیے تو فرزندوں اور خدا کے لیے لڑکیاں ہیں کیا یہ خدا کے لیے لڑکیاں بتاتے ہیں جو ناز ونعمت میں پرورش کی جاتی ہیں اور سونے چاندی کے زیوروں سے آراستہ و پیراستہ کی جاتی ہیں اور جب گفتگو کا موقع ہوتا ہے تو ان سے صاف صاف عمدہ طور سے گفتگو بھی نہیں کی جاسکتی، تو ایسی چیز خدا کے لیے ثابت کرنا کیا زیبا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق 1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کردہ مخلوقات میں سے اپنے لئے بیٹیاں تجویز کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا۔ یعنی کیا تم یہ کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے اپنے لئے بیٹیاں تجویز کیں اور تم کو بیٹوں کے لئے چن لیا اور مخصوص کردیا یہ بہت ہی لغو بات ہے جو تم مہتے ہو اول تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا قول بہت ہی نامناسب ہے کیونکہ اولاد جنسیت کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کی کوئی جنس نہیں پھر اولاد میں سے بھی وہ ثابت کرتے ہو جو طبعاً ناقص ہے یعنی بیٹی اور خود اپنے لئے بیٹے چاہتے ہو خود تمہاری حالت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–18

ف 3۔ مشرکین مکہ کی یہ حالت تھی کہ اپنے گھر لڑکی کا پیدا ہونا تو برا سمجھتے تھے لیکن رب العالمین کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے تھے، فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے پاتے میں پلے اور بوقت ضرورت جس کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکل سکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہارے لیے بیٹے 16 ؎ مشرکین مکہ سے استفسار کیا جارہا ہے کہ کائنات کی ہرچیز کا خالق اللہ ہے یہ بات تو تم کو بھی معلوم ہے کیونکہ تم ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو پھر کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازتا ہے ؟ یہ بات اس لیے ارشادفرمائی کہ مکہ والے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ اس کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ اللہ نے اپنے لیے تو بیٹیوں کو پسند کیا اور تمہارے لیے بیٹوں کو یا یہ کہ تم لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہو اور خود بیٹیوں سے نفرت کرتے ہوئے ہمیشہ بیٹوں ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ (Is it that (Allah has chosen) those (as His offspring) who are grown up in ornaments,... 43:18). This tells us that use of ornaments and adornment in accordance with 'Shari'ah is permissible for women. As such, there is consensus on this issue, but at the same time the manner of speech indicates that getting so much involved in adornment that one is busy in it the whole day long, is not proper; it is not only a symptom of one's being short-sighted, but also a cause of it. وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ‌ مُبِينٍ (and who cannot express themselves in debate…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

16 Here, the folly of the polytheists of Arabia has been fully exposed. They said that the angels were the daughters of Allah. They had carved out their images as females, and these were their goddesses whom they worshipped. About this Allah says: In the first place, in spite of knowing and recognizing that the Creator of the earth and heavens is Allah and it is He Who has made this earth a cradle for you and it is He Who sends down the rain from the sky. and it is He Who has created these animals for your service, yet you have taken others as gods beside Him, whereas those whom you serve as…

Read the full tafseer →