Explained with ayahs 15–20
مشرکین کا بدترین فعل
اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورة انعام کی آیت (وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِيْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَھٰذَا لِشُرَكَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَاۗىِٕهِمْ فَلَا يَصِلُ اِلَى اللّٰهِ ۚ وَمَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ يَصِلُ اِلٰي شُرَكَاۗىِٕهِمْ ۭسَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ01306) 6۔ الانعام :136) میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 15
جُزء بنا دینے سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے کسی بندے کو اس کی اولاد قرار دیا جائے، کیونکہ اولاد و لامحالہ باپ کی ہم جنس اور اس کے وجود کا ایک جزء ہوتی ہے، اور کسی شخص کو اللہ کا بیٹا یا بیٹی کہنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ اسے اللہ کی ذات میں شریک کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کسی مخلوق کو اللہ کا جزء بنانے کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اسے ان صفات اور اختیارات کا حامل قرار دیا جائے جو اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اسی تصور کے تحت اس سے دعائیں مانگی جائیں، یا اس کے آگے عبودیت کے مراسم ادا کیے جائیں، یا اس کی تحریم و تحلیل کو شریعت واجب الاتباع ٹھہرا لیا جائے۔ کیونکہ اس صورت میں آدمی الوہیت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(آیت) وَجَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا۔ (اور انہوں نے خدا کے بندوں میں سے خدا کا جزو ٹھہرایا) یہاں جزو سے مراد اولاد ہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے اور اولاد کے بجائے جزو کا لفظ اختیار کر کے مشرکین کے اس دعوائے باطل کی عقلی تردید کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ کے کوئی اولاد ہو تو وہ اس کی جزو ہوگی کیونکہ بیٹا باپ کا جزو ہوتا ہے، اور یہ عقلی قاعدہ ہے کہ ہر کل اپنے وجود میں جزو کا محتاج ہوتا ہے تو اس سے لازم آئے گا کہ معاذ اللہ خدا تعالیٰ بھی اپنی اولاد کا محتاج ہو۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بھی قسم کی احتیاج شان خداوندی کے بالکل منافی ہے۔
Read the full tafseer →وجعلوا لہ من عبادہ جزئً ط ان الانسان لکفور مبین 15
مشرکین کے فکری تضادات پر تبصرہ
اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 9 (ولئن سالتھم من خلق السموت … الایۃ) سے ہے۔ وہاں اس کے بعد تضمین کی آیتیں آگئی تھیں اس وجہ سے ان تضادات پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا تھا جو اعتراف کرنے والوں نے اپنے اندر جمع کر لئے تھے۔ اب یہ ان تضادات پر تبصرہ ہو رہا ہے۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کا اقرار یہ ہے کہ آسمان و زمین کا خالق خدا ہی ہے، دوسری طرف انہوں نے خدا کے بندوں میں سے کچھ کو خدا کا جزء یعنی شریک ذات بنا رکھا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ان کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہی تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ 1 عِبَاد سے مراد فرشتے اور جُزْء سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے۔
Read the full tafseer →5: مشرکین عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، ، یہاں سے ان کے اس عقیدے کی تردید کی جارہی ہے اور اس کے خلاف چار دلیلیں پیش کی گئی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی اولاد ہونا ناممکن ہے، اس لئے کہ اولاد ماں باپ کا جزء ہوتی ہے، کیونکہ وہ ان کے نطفے سے پیدا ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کوئی جزء نہیں ہوسکتا وہ ہر قسم کے اجزاء سے پاک ہے، لہذا اس کی کوئی اولاد نہیں ہوسکتی، دوسرے یہ کہ ان مشرکین کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹیوں کی ولادت کو عار سمجھتے ہیں اور اگر کسی کے یہاں کوئی لڑکی پیدا ہوجاتی ہے تو وہ اس پر بہت مغموم ہوتا ہے، اب یہ عجیب بات ہے کہ بیٹی کو خود اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت نمبر 15 تا 25
قرآن مجید اس افسانوی عقیدے پر اس طرح حملہ آور ہوتا ہے کہ اس کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا جاتا ہے اور ان کی اپنی دنیا میں ہر طرف سے اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے یہاں تک ان کے ذہنوں تک اس کے پہنچنے کی ہر راہ بند کردی جاتی ہے۔ اور پھر قرآنی استدلال خود ان کی منطق اور ان کے مسلمات کی اساس پر ہے اور یہ دلائل ان کی زندگی کے واقعات پر ہیں۔ نیز قرآن مجید ان کے سامنے اقوام سابقہ کی مثال بھی پیش کرتا ہے کہ جس نے بھی یہ عقیدہ اختیار کیا ہے ہم نے اس سے عبرت آموز انتقام لیا ہے۔
آغاز اس عقیدے کی کمزوری سے کیا جاتا ہے اور یہ کہ خدا کے نزدیک یہ ایک عظیم گناہ ہے اور صریح کفر ہے۔
وجعلوا لہ ۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
9 یعنی چاہیے تھا اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر شکر ادا کرے۔ یہ صریح ناشکری پر اترآیا۔ اور اس کی جناب میں گستاخیاں کرنے لگا۔ اس سے بڑی گستاخی اور ناشکری کیا ہوگی کہ اس کے لیے اولاد تجویز کی جائے، وہ بھی بندوں میں سے اور وہ بھی بیٹیاں، اول تو اولاد باپ کے وجود کا ایک جزو ہوتا ہے تو خداوند قدوس کے لیے اولاد تجویز کرنے کے یہ معنی ہوئے کہ وہ اجزاء سے مرکب ہے اور مرکب کا حادث ہونا ضروری ہے، دوسرے ولد اور والد میں مجانست ہونی چاہیے دونوں ایک جنس نہ ہوں تو ولد یا والد کے حق میں عیب ہے۔ یہاں مخلوق و خالق و مجانست کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ تیسرے لڑکی باعتبار قوائے جسمیہ و عقلیہ کے عموماً لڑکے سے ناقص اور…
Read the full tafseer →آیت 15{ وَجَعَلُوْا لَـہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا } ”اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کا ایک ُ جزوٹھہرایا۔“
یعنی اس کے بعض بندوں کو اس کی اولاد قرار دے دیا۔ انسان کی اولاد دراصل اس کا جزو ہی ہوتا ہے۔ باپ کے جسم سے ایک سیل spermatozone نکل کر ماں کے جسم کے سیل ovum سے ملتا ہے اور ان دو cells کے ملاپ سے بچے کی تخلیق ہوتی ہے۔ -۔ - cells ماں اور باپ کے اپنے اپنے جسموں کے جزوہی ہوتے ہیں۔
{ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ } ”یقینا انسان بہت کھلا نا شکرا ہے۔“
Read the full tafseer →14 یہ تو تھے اللہ کے بندوں پر احسانات چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ کے ان احسانات اور انعامات کے بدلے اس کا ممنون احسان ہوتا اور اس کا شکر ادا کرتا۔ مگر اس نے نہ صرف یہ کہ اللہ کی ناقدر شناسی کی، بلکہ مزید ستم یہ ڈھایا کہ اس کی ذات اور صفات کے حصے بخرے کر ڈالے اور کئی چیزوں کو اس کی ذات وصفات میں اس کا حصہ دار اور ہمسر بنا ڈالا۔ اس نے اللہ کی اولاد قرار دی۔ حالانکہ اللہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ جبکہ اولاد نہ مخلوق ہوتی ہے اور نہ مملوک۔ اولاد تو اسی کی جنس سے اور اس کا حصہ ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ سبحانہ کی ذات کو کئی حصوں میں بانٹ ڈالا۔
Read the full tafseer →9۔ یہ عام فطرت بشری کا بیان ہے کہ انسان بجائے نعمتوں کی شکر گذاری کے الٹا ناسپاسی ونافرمانی کی طرف چلا جاتا ہے۔ (آیت) ” وجعلوا ...... جزء ا “۔ مثلا مسیحی جو الوہیت کے اجزاء روح القدس ومسیح کو بھی قرار دیئے ہوئے ہیں۔ المراد انھم اثبتوا لہ ولدا (کبیر) فلسفہ قدیم کی اصطلاحوں میں مسء لہ کی تقریر یہ ہوگی کہ خدا کو جب خالق مان لیا تو لازم ہے کہ وہ قدیم بھی ہو کیونکہ حادث موجد کل ہو ہی نہیں سکتا۔ اور جب وہ قدیم ٹھہرا تو اس سے عدم ترکیب بھی اس کے لئے لازم آئی۔ جو مرکب ہے وہ قدیم کیونکر ہوسکتا ہے تو جو قدیم، غیر مرکب ہے اس کا کوئی جزء تسلیم کرنا اسے مرکب وحادث قرار دینا ہو ! آیت کے ایک معنی یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →وجعلوا لہ من عبادہ جزئا ان الانسان لکفور مبین اور انہوں نے اس (ا اللہ) کیلئے (اسکے) بعض
بندوں کو (اس کا) جزء قرار دیا۔ بلاشبہ انسان کھلا ناشکرا (اور کافر) ہے۔
بعض بندوں کو اللہ کا جزء قرار دینے سے یہ مراد ہے کہ ملائکہ کو ان کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اولاد باپ کے نطفہ سے بنتی ہے اور نطفہ انسان کا جزء ہوتا ہے ‘ اسلئے اولاد کو باپ کا جزء یا ٹکڑا کہا جاتا ہے۔
بخاری نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا۔
امام احمد اور حاکم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جو بات اس کو ناراض کرتی…
Read the full tafseer →مگر بنو ملیح والوں نے تو فرشتوں ہی کو اللہ کی بیٹیاں بنا ڈالا حقیقتا یہ لوگ صاف طور پر اللہ تعالیٰ کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وجعلوا لہ من عبادہ جزئاً : اس آیت کا تعلق آیت (9):(ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم) کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کی جہالت پر تعجب دلاتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ مانتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خلاق اور ان کی ہر چیز کا مدبر اللہ تعالیٰ ہے، جو مخلوق سے جدا ہے اور کسی طرح محتاج نہیں، پھر اس کے لئے شریک اور اس کی اولاد بناتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ مدد کے لئے یا دل لگانے کے لئے کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ یہ دونوں نقص کی علامتیں ہیں۔ پھر ظلم دیکھو کہ عباد (غلاموں) کو اولاد قرار دے رہے ہیں، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
والذی خلق الا زواج کلھا و جعل لکم من الفلک والا نعام ماترکبون۔ لتستواعلی ظھورہ ثم تذکروا نعمتہ ربکم اذا اس تو یتم علیہ و تقولو اسنحن الذی مخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلیبون۔ ” اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنادیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دلوں میں) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب کم کر بیٹھ جائو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو : پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں “۔
اس میں پانچ مسائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
20:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق وبن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔
21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ (اور انہوں نے اس اللہ کے لئے اس کے لئے بعض بندوں کو اس کا جزو قرار دیا) اس میں جزء کا معنی ہے عدل۔
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا [ اور انہوں نے بنایا ] لَهٗ [ اس کے لیے ] مِنْ عِبَادِهٖ [ اس کے بندوں میں سے ] جُزْءًا ۭ [ ایک ٹکڑا (ایک اولاد) ] اِنَّ الْاِنْسَانَ [ بیشک انسان ] لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ [ یقینا کھلا کھلا انتہائی ناشکرا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی تردید، فرشتوں کو بیٹیاں بتانے والوں کی جہالت اور حماقت
مشرکین عرب اور دیگر مشرکین جو دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں جن میں نصاریٰ بھی ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرلی، سب جانتے ہیں کہ اولاد اپنے باپ کا جزو ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کے لیے جزو تجویز کرنا ہوا۔ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے جیسا کہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مشرکین کا یہ عقیدہ بیان فرما کر ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →10:۔ ” وجعلوا لہ “ تا ” عقبۃ المکذبین “ شکوی ہے۔ مشرکین کے اعتراف (دلیل عقلی) سے اور پھر دلیل پر تنویر سے ثابت ہوگیا کہ ہر چیز کا خالق اور سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اب مشرکین مکہ پر شکوی کیا گیا جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں اور اس کے نائب متصرف مانتے تھے۔ جزءا ای ولدا، ولد کو جزء سے تعبیر کیا گیا اور مراد اس سے نائب متصرف ہے نہ کہ حقیقی ولد جیسا کہ کئی جگہوں میں اس مضمون کو اتخاذ ولد (بیٹا بنا لینا) سے تعبیری کیا گیا ہے۔ ای قالوا الملائکۃ بنات اللہ (مدارک ج 4 ص 87) ۔ یا جزء کے معنی برابر اور ہمسر کے ہیں۔ امام قتادہ فرماتے ہیں۔ جزء سے معبود غیر اللہ مراد ہے۔ حاصل یہ ہے کہ اس اعتراف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا بیان ہوا ، پھر اللہ نے رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ ہر رسول کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ، لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ اللہ نے اپنی قدرت تامہ کے دلائل بیان فرمائے جن سے اس کی توحید بھی بخوبی سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ نے مخلوق پر کیے جانے والے انعامات کا تذکرہ کیا اور خاص طور پر انسانوں کے لیے سواریوں کا ذکر فرمایا اور ان پر سوار ہوتے وقت کی خصوصی دعا سکھائی ۔ اب آج کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد ہے اور اس سلسلے میں عقیدہ اولاد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مشرک لوگ خدا کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءًا 0 ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ 15 ۧ
عبد
والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب :
الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ
[ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] .
الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] .
والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة،
والناس في هذا ضربان :
عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ…
Read the full tafseer →ا ؎ مشرکین نے ان دلائل پر بھی اس کی مخلوق میں سے اس کا جز بنا دیا۔ فرشتوں کو بیٹیاں بعض انبیاء کو بیٹا کہتے ہیں بعض اس کی ذات کا ٹکڑا کہتے ہیں کہ اس سے منفصل ہو کر بنا فلاں خدا کے منہ سے فلاں ہاتھ سے فلاں پائوں سے بنا ہے ہنود چار ذاتوں برہمن چھتری وغیرہ کے نسبت ایسا ہی کہتے ہیں اور یہ ثبوت دیا کرتے ہیں جزء اً کے معنی شریک کے بھی ہوسکتے ہیں کہ عبادت اور خدائی کا حصہ دار بنا دیا۔ حقانی
Read the full tafseer →وَجَعَلُوْا لَـہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا ط اِنَّ الْاِنْسَانَ لَـکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (الزخرف : 15)
(اور ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، بیشک انسان کھلا احسان فراموش ہے۔ )
مشرکین کے فکری تضادات پر تنبیہ
اس آیت کا تعلق اوپر کی آیت 9 وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ سے ہے۔ اگر آپ ان مشرکین سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ جواب دیں گے کہ انھیں اس زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔ ان کے اس اعتراف کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ہستی کے مزید چند احسانات کا ذکر کیا کہ وہ ہستی وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور پھر زمین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی توحید کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے۔ یہ اس کی واضح طور پر ناشکری کی دلیل ہے۔
اس جاری خطاب میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مشرکین کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو ان کا جواب ہوتا ہے اور ہوگا کہ زمین و آسمانوں کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد اپنی آٹھ قدرتوں اور نعمتوں کا ذکر فرمایا جس سے تمام انسان مستفید ہوتے ہیں۔ مشرکین اللہ تعالیٰ کی خالقیّت کا اعتراف کرنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود ” اللہ “ کے بندوں میں سے کچھ بندوں کو اس کا حصہ…
Read the full tafseer →آیت 15: وَجَعَلُوْا لَہٗٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْئً ا (اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کا جزو قرار دیا) یہ ولئن سالتہم سے متصل ہے۔ یعنی ولئن سالتہم عن خالق السمٰوٰت والارض لیعترفن بہٖ وقد جعلوا لہ مع ذلک الاعتراف من عبادہ جزئً ا۔ اگر آپ ان سے آسمان و زمین کے بنانے والے کے متعلق سوال کریں تو وہ ضرور اس کا اعتراف کریں گے حالانکہ انہوں نے اس اعتراف کے باوجود اس کے بندوں میں سے جزو قرار دے لئے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے ان فرشتوں کو اس کا جزو بعض حصہ بنایا جیسا کہ لڑکا والد کا جزو ہوتا ہے۔
قراءت : جُزؤًا ابوبکر و حماد نے پڑھا ہے۔
اِنَّ…
Read the full tafseer →14، وانا الی ربنا لمنقلبون ، آخرت میں لوٹنے والے ہیں ۔ علی بن ربیعہ (رح) نے خبردی ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کے پاس حاضر تھے کہ وہ سوار ہونے لگے۔ جب انہوں نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھاتو کہابسم اللہ پھر جب ٹھیک بیٹھ گئے تو کہا الحمد للہ، پھر کہا، سبحان الذی سخرلنا ھذا وماکنا مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون، پھر تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور تین مرتبہ تکبیر کہی۔ پھر کہا، لاالہ الا اللہ ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی فانہ لا یغفرالذنوب الا انت، پھر مسکرائے تو علی بن ربیعہ نے پوچھا کس چیز نے آپ کو ہنسا یا اے امیر المؤمنین ؟ تو آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا جیسا میں نے کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13۔ 15۔ صحیح 2 ؎ مسلم ابو داؤود ترمذی نسائی مستدرک حاکم اور تفسر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت سفر کے ارادہ سے سوار ہوا کرتے تھے تو یہ آیت پڑھا کرتے تھے قرطبی 3 ؎ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خشکی میں چوپایوں پر سوار ہونے کے وقت یہ آیت اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں بسم اللہ مجریھا و مرساھا۔ کشتی پر سوار ہونے کے وقت سکھائیں چوپائے اور کشتی کی سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کا سبب پڑجاتی ہے۔ اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی یا تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–25
آیت 15
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے قول کی قباحت بیان کرتا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بےنیاز ہے جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور یہ متعدد وجوہ سے باطل ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اس کے بندے ہیں اور بندگی اولاد ہونے کے منافی ہے۔
(2) بیٹا اپنے والد کا جز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات سے علیحدہ ہے وہ اپنی صفات کمال اور لعوت جلال میں تمام مخلوق سے الگ ہے جبکہ بیٹا والد کا جز ہوتا ہے، سا لئے اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہونا محال ہے۔
(3) کفار سمجھتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، حالانکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الزخرف
سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔
ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…
Read the full tafseer →17 بندوں کی ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سب کے باوجود لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے کچھ کو اسکا جزو بنادیا "۔ یعنی اللہ پاک کی اس عظمت و رفعت شان اور خود ان لوگوں کے اس اقرار و اعتراف کے باوجود کہ خالق ومالک سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ ان لوگوں نے اس کے بندوں میں سے کچھ کو اسکا جز بنا ڈالا۔ کوئی ملائکہ کو اس کی بیٹیاں قرار دیتا ہے۔ کسی نے عزیر کو اور کسی نے مسیح کو اس کا بیٹا قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ سب مخلوق اور مادی جسم رکھنے والی ہستیاں ہیں۔ جبکہ اللہ پاک خالق اور جسم و جسمانیات سے پاک اور وراء الوراء ہے۔ افسوس کہ آج امت مسلمہ کے اندر بھی شرک اور شرکیات کی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
مشرکین کا بدترین فعل
تشریح : یہ تمام آیات ان بیوقوف لوگوں کی بےبنیاد باتوں کے جواب میں ہیں جو کفر و شرک کی دلدل میں پھنس کر الٹی سیدھی دلیلیں دیتے رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دین اسلام اور اسے لے کر آنے والے حضرت محمد ﷺ سب جھوٹے ہیں اور اللہ پر الٹے سیدھے بہتان لگاتے ہیں۔ مثلاً پہلا بہتان کہ اللہ کی اولاد ہے۔ دوسرا یہ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تیسرا صرف اپنے باپ دادا کی دیکھا دیکھی مخلوق خدا کی ہی پرستش شروع کردی۔ چوتھا یہ کہ اللہ کی مرضی تھی تب ہی تو ہم اللہ کے سوا کسی اور کو پوجتے ہیں۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ نے انسان کو عقل اور ارادہ کی آزادی دے کر اس کو نیکی و بدی میں تمیز کرنے کے لیے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →ف 8 جزء سے شریک یا اولاد میں سے خا ص طور پر بیٹیاں مراد ہیں اور محاورہ میں ( اجزات المراہ) کے معنی ہیں عورت نے مادین اولاد کو جنم دیا۔ ( قرطبی)
1 جو اپنے مالک کی شان اور عظمت کو نہیں سمجھتا۔
Read the full tafseer →(43:15) وجعلوا لہ میں جعلوا کی ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع کفار ہیں اور لہ میں ہ کا مرجع اللہ ہے۔ انہوں نے بنادیا اس کیلئے
من عبادہ : من تبعیضیہ ہے عبادہ مضاف مضاف الیہ۔
جزئ۔ حصہ۔ اولاد۔ جزء الشیء چیز کا وہ ٹکڑا جس سے وہ چیز مل کر بنے۔ اولاد کو بھی جس کا ٹکڑا کہتے ہیں کیونکہ اولاد باپ کے نطفہ سے بنتی ہے اور نطفہ انسان کا جزو ہوتا ہے اس لئے اولاد کو بھی جسم کا ٹکڑا کہتے ہیں۔
بخاری (رح) نے حضرت مسور بن مخرمہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :۔ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
ترجمہ آیت :۔ اور انہوں نے اس (اللہ) کے لئے اس کے بعض بندوں کو (اس کا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اللہ کی نعمتیں اور بندے کی ناشکری۔
(ف 1) سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کے سبب پڑجاتی ہے اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ شمار کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چوپایوں اور کشی کو ہمارے قابو میں کردیا، ورنہ ہم میں ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ ہم ان چیزوں کو اپنے قابومی رکھ سکتے اور مالک بن جاتے ، ہم سب بعد موت اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں اب آگے فرمایا کہ اللہ نے انسان پر یہ احسانات کیے کہ انسان کی اور اس کی ضرورت کی چیزو کو پیدا کیا لیکن انسان ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
[7] یعنی ذات یا صفات میں اللہ کا شریک قرار دے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق
1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب…
Read the full tafseer →(15) اور دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض بندوں کو اس جزو اور حصہ اور ٹکڑا بنارکھا ہے واقعی انسان کھلا ہوا ناسپاس اور ناشکرگزار ہے۔ یعنی ایک طرف بندوں پر اس کے یہ احسانات اور دوسری طرف بندوں کی یہ جرات اور دلیری کو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض بندوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد اور بیٹیاں کہتے ہیں حالانکہ اولاد تو باپ کا حصہ اور جز ہوتی ہے یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے یہ اس کا تجزیہ کررہے ہیں اور اس کو بانٹ رہے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 2۔ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا بڑا کفر کرتا ہے کہ اس کو صاحب جزو قرار دیتا ہے جو مستلزم حدوث کو ہے۔
Read the full tafseer →کتنا ناشکرا ہے انسان کہ اللہ کے ساتھ اس کے بندوں کو شریک ٹھہراتا ہے
15 ؎ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو ، نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا ، مکہ والے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور مسلمان کہلانے والوں میں سے کتنے ہیں جو احد کو احمد کہنے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے حالانکہ سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹا یا اولاد بہرحال اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور جو خاصیت باپ میں ہو وہی بیٹے میں ضروری قرار پاتی ہے اور یہ بھی کہ اولاد بہرحال ماں باپ سے مشابہ اور ان کے نطفہ سے قرار پاتی ہے۔ صرف باپ کہہ دینے سے یا بیٹا کہہ دینے سے نہ کوئی کسی کا باپ بن جاتا ہے اور نہ…
Read the full tafseer →وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا (And they have attributed to Him [ that He is composed on parts [ and that too ] out of His slaves...43:15) 'parts' in this verse means 'offspring', because the polytheists used to say that angels are daughters of Allah, and by using the word 'parts' instead of 'offspring' the fallacy of their claim has been pointed out on pure logical ground. The gist of the argument is that had Allah any offspring, that offspring will have been His part, because a son is a part of his father, and it is a rule of logic that an entity that consists of parts is dependent…
Read the full tafseer →15 "To make part of Allah" implies declaring a servant of Allah His offspring, for an offspring inevitably is homogeneous with and a part of the father's body, and regarding somebody as Allah's son or daughter means that he or she is being made a partner in Allah's Being. Besides, another form of making a creature a part of Allah is that it should be regarded as possessor of the attributes and powers as are specifically Allah's own, and it should be invoked under the same concept, or rites of worship performed before it, or its sanctities observed and regarded as imperative and binding, for…
Read the full tafseer →