Az-Zukhruf 43:14

Az-Zukhruf · from ayah 14

43:14

وَاِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۟وَاِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed we, to our Lord, will [surely] return."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:14

اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینی طور پر ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم کو تو اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یقینا ہم اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

It is to our Lord that we shall eventually return.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and of course, towards our Lord we have to return.

— Muhammad Taqi Usmani

and of course, towards our Lord we have to return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, to Our Lord we indeed are to return!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And lo! unto our Lord we surely are returning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed we, to our Lord, will [surely] return."

— Saheeh International

To our Lord we shall all return".

— Muhammad Sarwar

And surely to our Lord we must return.

— Muhammad Habib Shakir

And verily Unto our Lord we are to return.

— Abdul Majid Daryabadi

"And to our Lord, surely, must we turn back!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–14

اصلی زاد راہ تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 14 مطلب یہ ہے کہ ہر سفر پر جاتے ہوئے یاد کرلو کہ آگے ایک بڑا اور آخری سفر بھی درپیش ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ہر سواری کو استعمال کرنے میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ شاید کوئی حادثہ اسی سفر کو آدمی کا آخری سفر بنا دے، اس لیے بہتر ہے کہ ہر مرتبہ وہ اپنے رب کی طرف واپسی کو یاد کر کے چلے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو بیخبر نہ مرے۔ یہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر ذرا اس تعلیم کے اخلاقی نتائج کا بھی اندازہ کر لیجیے۔ کیا آپ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ جو شخص کسی سواری پر بیٹھتے وقت سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ اس طرح اللہ کو اور اس کے حضور اپنی واپسی اور جواب دہی کو یاد کر کے چلا ہو وہ آگے جا کر کسی فسق و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ (اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں) ان الفاظ کے ذریعہ تعلیم یہ دی گئی ہے کہ انسان کو اپنے ہر دنیوی سفر کے وقت آخرت کا وہ کٹھن سفر یاد کرنا چاہئے جو ہر حال میں پیش ہو کر رہے گا اور اسے سہولت کے ساتھ طے کرنے کے لئے اعمال صالحہ کے سوا کوئی سواری نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

والذین خلق الازواج کلھا و جعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون، لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا ستویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرننی، وانآ الی ربنا لمنقلبون (14-12) بعض اور آثار قدرت کی طرف اشارہ اسی خدائے عزیز وعلیم کی پروردگاری کے بعض اور آثار کا ذکر کر کے ان کے متقضیات کی طرف توجہ دلائی جن کا احساس ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر پیدا ہونا چاہئے جو ان سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے دوسری نوع بنوع چیزیں پیدا کی ہیں۔ لفظ ازواج یہاں گوناگون اور نوع بنوع چیزوں کے مفہوم میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ قرآن مجید اور عربی ادب میں بکثرت استعمال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

15۔ 1 عِبَاد سے مراد فرشتے اور جُزْء سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

4: یہ وہ دعا ہے جو کسی سواری پر سوار ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے۔ اس میں اول تو اس بات کا شکر اور اعتراف ہے کہ یہ سواری اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، اور دوسرے اس کے آخری جملے میں انسان کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سفر کرتے وقت یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اسے ایک آخری سفر پیش آنے والا ہے جس میں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کے پاس پہنچے گا، اور اس وقت اپنے سارے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اس لیے یہاں رہتے ہوئے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں وہاں شرمندگی اٹھانی پڑے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–14

آیت نمبر 9 تا 14 عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اس سفر سے آخرت کا سفر یاد کرو۔ آنحضرت ﷺ سوار ہوتے تو یہ ہی تسبیح کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ } ”اور یقینا ہم اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی اس دنیا میں ہماری ساری زندگی ہی مسافرانہ ہے اور ہماری منزل آخرت ہے۔ اب سوچئے اگر کوئی شخص سفر پر روانہ ہوتے وقت یا سواری پر بیٹھ کر سوچ سمجھ کر یہ دعا پڑھے تو کیا وہ کسی گناہ کے کام کے لیے سفر کرسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

8۔ اسلام زندگی کے ہر ہر شعبہ کے لئے ایک مکمل دستور العمل ہے۔ وہ انسان کو خدا کی حاکمیت اور اپنی عبدیت کی طرف سے غفلت کی اجازت کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں دیتا۔ سواری اچھے گھوڑے کی ہو یا موٹر کی یاریک کی یا جہاز کی، انسان جب کبھی اس نعمت سے مستفید ومحظوظ ہوتا ہے تو اکثر اس میں ایک گونہ تفاخر کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اسے وہ اپنے کمال و استحقاق کی جانب منسوب کرکے فخر کرنے لگتا ہے، قرآن نے اس کی جڑ کاٹ دی اور ارشاد فرمادیا کہ جب سواریوں سے فائدہ اور لطف اٹھاؤ تو پہلے دل میں خدائی نعمتوں کا استحضار کرلو، اور یہ خیال تازہ کرلو کہ یہ جو کچھ بھی مل رہا ہے۔ سب عنایت وافضال الہی سے مل رہا ہے اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا الی ربنا لمنقلبون اور بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ سوار ہونے کا مقصد ہوتا ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور سب سے بڑا انتقال اور سفر یہ ہے کہ اس دنیا سے اللہ کی طرف جائے ‘ اسلئے نعمت سواری کی ادائیگی شکر کے ساتھ رب کی طرف لوٹ جانے کا ذکر کیا۔ ابو داؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی اور بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے جب اپنا قدم رکاب میں رکھا تو فوراً بسم اللہ کہا ‘ پھر جب ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے تو الحمد اللہ کہا ‘ پھر فرمایا : سبحان اللہ الّذی سخّر لنا ھٰذا وما کنّا لہٗ مقرنین وانّا الٰی ربّنا لمنقلبون اسکے بعد تین بار الحمد اللہ اور تین بار اللہ اکبر کہا ‘ پھر کہا : لآ الٰہ الّآ انت ظلمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 12–14

(12۔ 14) اور جس نے نر و مادہ سے تمام اصناف بنائیں اور تمہارے لیے سمندروں میں چلنے کے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جیسا کہ اونٹ بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم ان جانوروں کی پیٹھ پر جم کر بیٹھ جاؤ اور جب تم ان جانروں پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ان کو تمہارے لیے مسخر کردیا اور زبان سے کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا۔ اور ہم تو ایسے طاقتور نہ تھے جو ان کو اپنے بس میں کرلیتے اور مرنے کے بعد ہم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

(1) لتستوا علی ظھورہ……: انسان جب گھوڑوں ، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کردیئے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہوگی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمہارے لئے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–15

والذی خلق الا زواج کلھا و جعل لکم من الفلک والا نعام ماترکبون۔ لتستواعلی ظھورہ ثم تذکروا نعمتہ ربکم اذا اس تو یتم علیہ و تقولو اسنحن الذی مخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلیبون۔ ” اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنادیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دلوں میں) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب کم کر بیٹھ جائو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو : پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں “۔ اس میں پانچ مسائل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–14

15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ حسین بن علی ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جانور پر سوار ہوا تو اس نے پڑھا (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “ انہوں نے پوچھا کیا اس کے ساتھ تو حکم کیا گیا اس نے پوچھا (اور) میں کس طرح کہوں، انہوں نے فرمایا (تو اس طرح کہہ) ” الحمد للہ الذی ھدانا للاسلام “ ساری تعریف اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو اسلام کی ہدایت دی) ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ” من علینا بمحمد ﷺ “ جس نے پر محمد ﷺ کے ذریعہ احسان فرمایا (ساری تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے تجھے آخر بہترین امت میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا [ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی ] لَمُنْقَلِبُوْنَ [یقینا پلٹنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 14–15

اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کی تردید، فرشتوں کو بیٹیاں بتانے والوں کی جہالت اور حماقت مشرکین عرب اور دیگر مشرکین جو دنیا میں پھیلے ہوئے تھے اور اب بھی پائے جاتے ہیں جن میں نصاریٰ بھی ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرلی، سب جانتے ہیں کہ اولاد اپنے باپ کا جزو ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کے لیے جزو تجویز کرنا ہوا۔ اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بتاتے تھے جیسا کہ نصاریٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہود حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مشرکین کا یہ عقیدہ بیان فرما کر ارشاد فرمایا ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” وانا الی ربنا لمنقلبون “ یہ سب کچھ اللہ نے اس لیے پیدا کیا ہے، تاکہ تم ان کو دیکھو اور ان میں غور و فکر کرو اور سمجھ لو کہ سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور آخر کار سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور قیامت کے دن اس کی عدالت میں حاضر ہونے والے ہیں۔ اس سورت میں دو دعوے مذکور ہیں۔ اول یہ کہ متصرف و کارساز اور خالق کائنات اللہ تعالیٰ ہی۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نائب نہیں۔ یہاں تک ایک دعوی ثابت ہوگیا کہ سب کچھ پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پہلا جزء مشرکین کے اعتراف سے اور دوسرا جزء دلیل عقلی پر لائی گئی تنویر سے دوسرا دعوی آگے دلائل نقلیہ سے ثابت کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–14

ربط آیات گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۝ 14 إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–14

تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

وَالّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا وَجَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَاتَرْکَبُوْنَ ۔ لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۔ (الزخرف : 12 تا 14) (اور وہی ہے جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کا احسان یاد کرو جبکہ تم ان پر بیٹھو اور کہو کہ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–14

فہم القرآن ربط کلام : جو ذات حق قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی اسی نے ہی ساری مخلوق کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں۔ جوڑوں کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ جس طرح ہر چیز کے جوڑے ہیں اسی طرح زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد زندگی ہے۔ یعنی دنیا کے بعد آخرت ہے۔ قیامت کے دن زندہ ہونے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جس ذات نے مردوں کو زندہ کرنا ہے اسی ذات نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر انسان سواری کرتے ہیں۔ اس کا حکم ہے کہ جب تم سواریوں پر سوار ہو تو اپنے رب کے اس انعام کو یاد کرو کہ اسی نے چوپاؤں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کیا ہے۔ جب تم ان پر اچھی طرح بیٹھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 14: وَاِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ (اور ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے) منقلبون۔ لوٹنے والے ہیں۔ ایک قول : وہ دنیا میں سوار ہوتے وقت اس کو اپنی آخری سواری خیال کرتے ہیں اور وہ آخری سواری جنازہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے متعلق وارد ہے کہ جب آپ رکاب میں قدم مبارک رکھتے تو بسم اللہ پڑھتے۔ جب سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاتے تو الحمد للّٰہ علی کل حال سبحان الذی سخرلنا ہذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون پڑھتے اور تین مرتبہ اللہ اکبر ٗ اللہ اکبر ٗ اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ تین مرتبہ پڑھتے۔ رواہ ابو دائود۔ 2602۔ ] الترمذی 3446[ علماء نے کہا جب کشتی پر سواری کرے تو کہے : بسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 13۔ ، لتستواعلی ظھورہ، یہاں ضمیر کو ذکر کیا ہے اس لیے کہ اس ضمیر کو، ما، کی طرف لوٹا یا ہے۔ ، ثم، تذکروانعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ، خشکی اور سمندر میں سوار یوں کو قابو میں کرنے کی۔ ، وتقولوا سبحان الذی سخرلناھذا، اس کو ہمارے تابع بنایا۔ ، وماکنالہ مقرنین، طاقت رکھنے والے اور کہا گیا ہے کہ ضبط کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 13–15

13۔ 15۔ صحیح 2 ؎ مسلم ابو داؤود ترمذی نسائی مستدرک حاکم اور تفسر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت سفر کے ارادہ سے سوار ہوا کرتے تھے تو یہ آیت پڑھا کرتے تھے قرطبی 3 ؎ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خشکی میں چوپایوں پر سوار ہونے کے وقت یہ آیت اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں بسم اللہ مجریھا و مرساھا۔ کشتی پر سوار ہونے کے وقت سکھائیں چوپائے اور کشتی کی سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کا سبب پڑجاتی ہے۔ اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی یا تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–14

آیت 9 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–19

سورة الزخرف سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔ ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–14

16 نعمتوں کے حقِّ شکر اور سفر آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم ان سواریوں پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ تو یوں کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے فضل و کرم سے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ از خود اور اپنے طور پر اس کو اپنے قابو میں لے آتے اور یقینا ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ سو اس طرح اس مختصر اور عارضی سفر سے تم اپنے ذہن کو آخرت کے اس حقیقی اور آخری و دائمی سفر کی طرف منتقل کرلو جو تمہیں مسلسل درپیش ہے۔ سو اس طرح ایک مومن کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔ اور وہ ہر چیز سے درس عبرت و اصلاح لینے کا عادی بن جاتا ہے۔ اور وہ مخلوق کی کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

اللہ کی نعمتیں تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ جب سفر کے لئے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ ” اللہ اکبر “ کہہ کر (سبحان الذی سخر لنا ھذا) سے ( لمنقلبون) تک یہ دعا پڑھتے اور پھر فرماتے ( اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البروالتقوی ومن العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفروا طولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصحبنا فی سفرنا واخلقنا فی اھلنا اور جب سفر سے واپس آتے تو فرماتے ( ائبون تائبون انشاء اللہ عابد ون لربنا حامدون) (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:14) منقلبون۔ اسم فاعل جمع مذکر ، منقلب واحد۔ انقلاب (انفعال) مصدر۔ قلب مادہ۔ لوٹنے والے۔ قلب الشیء کے معنی کسی چیز کو پھیرنے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں۔ انقلاب کے معنی پلٹنے۔ پھرجانے کے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے : ومن ینقلب علی عقبیہ (3:142) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا۔ بعض نے کہا کہ انسان کے دل کو بھی قلب اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ کثرت سے الٹتا پلٹتا رہتا ہے۔ وانا الیہ لمنقلبون : اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 13–15

اللہ کی نعمتیں اور بندے کی ناشکری۔ (ف 1) سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کے سبب پڑجاتی ہے اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ شمار کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چوپایوں اور کشی کو ہمارے قابو میں کردیا، ورنہ ہم میں ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ ہم ان چیزوں کو اپنے قابومی رکھ سکتے اور مالک بن جاتے ، ہم سب بعد موت اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں اب آگے فرمایا کہ اللہ نے انسان پر یہ احسانات کیے کہ انسان کی اور اس کی ضرورت کی چیزو کو پیدا کیا لیکن انسان ایسا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–17

ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق 1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اور بیشک ہم اپنے پروردگار و کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ حضرت حق جل مجدہ نے دلائل توحید کے سلسلے میں ان احسانات کا تذکرہ فرمایا…ظاہر ہے کہ بحری اور بری میں سفروں کی سہولت اور آسانی کے لئے یہ چیزیں پیدا فرمائیں پھر ان چیزوں پر انسان کو قابو یافتہ فرمایا۔ وہ کشتیاں ہوں یا چوپائے ہوں انسان سب پر حکمرانی کرت ہے آخر میں آداب تعلیم فرمائے کہ جب کسی سواری پر بیٹھو تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا اپنے دل میں اعتراف کیا کرو اور قلب میں اس کی نعمت ہائے بےکراں کو محسوس کیا کرو……اور زبان سے بھی اس کا اظہار کیا کرو سواری پر سوار ہوتے وقت مختلف دعائیں حدیث کی کتابوں میں منقول ہیں قرآن میں یہ الفاظ ہیں۔ سبحن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

ف 2۔ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا بڑا کفر کرتا ہے کہ اس کو صاحب جزو قرار دیتا ہے جو مستلزم حدوث کو ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں 14 ؎ بات سے بات نکلتی ہے اور نکالی جاتی ہے اور خصوصاً نصیحت کی باتیں اسی طرح یاد کی اور کرائی جاتی ہیں۔ اس جگہ سواریوں کا ذکر تھا ، سواریاں محض سفر ہی کے لیے ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کا اشارہ اس طرف کردیا کہ اس آخری سفر کو بھی مت بھولو جس پر تم کو جانا ہے اور یقینا جانا ہے اور کیا معلوم کہ جس سفر پر تم جا رہے ہو اس سفر سے تم کو واپس لوٹنا نصیب ہوگا یا وہیں سے تم کو دوبارہ کسی آخری سفر پر جانا پڑے گا۔ جس سفر کے بعد تم واپس لوٹ کر کبھی نہیں آؤ گے۔ اس لیے فرمایا جب بھی تم کو کوئی سفر درپیش آئے تو گھر والوں سے رخصت ہوتے وقت یا سواری پر بیٹھتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَإِنَّا إِلَىٰ رَ‌بِّنَا لَمُنقَلِبُونَ (and of course, towards our Lord we have to return - 14). These words teach us that every time a man embarks on a journey, he should think of his last arduous journey to the Hereafter also, which one has to undertake in all circumstances; - and the only way to make it easy is to have a vehicle of good deeds.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 That is, "While embarking on every journey one should remember that there is ahead a longer and final journey also. Besides there is the possibility in the use of every conveyance that an accident may turn that very journey into one's last journey; therefore, every time one should remember one's return to one's Lord so that if something untoward happens, one does not die unawares. Let us pause here for a while and consider the moral results of this teaching. Can one imagine that a person who while sitting on a conveyance starts his journey consciously with Rill remembrance of Allah and his…

Read the full tafseer →