Explained with ayahs 10–14
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 13
یعنی زمین کی تمام مخلوقات میں سے تنہا انسان کو کشتیاں اور جہاز چلانے اور سواری کے لیے جانور استعمال کرنے کی یہ مقدرت اللہ تعالیٰ نے اس لیے تو نہیں دی تھی کہ وہ غلے کی بوریوں کی طرح ان پر لد جائے اور کبھی نہ سوچے کہ آخر وہ کون ہے جس نے ہمارے لیے بحر ذخّار میں کشتیاں دوڑانے کے امکانات پیدا کیے، اور جس نے جانوروں کی بیشمار اقسام میں سے بعض کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ ہم سے بدرجہا زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود ہمارے تابع فرمان بن جاتے ہیں اور ہم ان پر سوار ہو کر جدھر چاہتے ہیں انہیں لیے پھرتے ہیں۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور نعمت دینے والے کو فراموش کردینا، دل کے مردہ اور عقل و…
Read the full tafseer →(آیت) ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ (اور تاکہ تم یاد کرو اپنے پروردگار کی نعمت کو) اس سے اشارہ فرما دیا گیا کہ ایک صاحب عقل و ہوش انسان کا کام یہ ہے کہ وہ منعم حقیقی کی نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے غفلت، بےپروائی، اور استغناء کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس بات پر دھیان دے کہ یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے لہٰذا مجھ پر اس کے شکر کی ادائیگی اور عجز و نیاز کا اظہار واجب ہے۔ ایک کافر اور مومن میں درحقیقت یہی فرق ہے کہ کائنات کی نعمتوں کو دونوں استعمال کرتے ہیں لیکن کافر انہیں غفلت اور بےپروائی سے استعمال کرتا ہے اور مومن اللہ کے انعامات کو مستحضر کر کے اپنا سر نیاز اس کے حضور جھکا دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
والذین خلق الازواج کلھا و جعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون، لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا ستویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرننی، وانآ الی ربنا لمنقلبون (14-12)
بعض اور آثار قدرت کی طرف اشارہ
اسی خدائے عزیز وعلیم کی پروردگاری کے بعض اور آثار کا ذکر کر کے ان کے متقضیات کی طرف توجہ دلائی جن کا احساس ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر پیدا ہونا چاہئے جو ان سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔
فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے دوسری نوع بنوع چیزیں پیدا کی ہیں۔ لفظ ازواج یہاں گوناگون اور نوع بنوع چیزوں کے مفہوم میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ قرآن مجید اور عربی ادب میں بکثرت استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13۔ 1 یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کی سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
4: یہ وہ دعا ہے جو کسی سواری پر سوار ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے۔ اس میں اول تو اس بات کا شکر اور اعتراف ہے کہ یہ سواری اللہ تعالیٰ کا انعام ہے، اور دوسرے اس کے آخری جملے میں انسان کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سفر کرتے وقت یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اسے ایک آخری سفر پیش آنے والا ہے جس میں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کے پاس پہنچے گا، اور اس وقت اپنے سارے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ اس لیے یہاں رہتے ہوئے کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں وہاں شرمندگی اٹھانی پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور…
Read the full tafseer →6 یعنی خشکی میں بعض چوپایوں کی پیٹھ پر اور دریا میں کشتی پر سوار ہوتے۔
7 یعنی چوپایوں یا کشتی پر سوار ہوتے وقت اللہ کا احسان دل سے یاد کرو کہ ہم کو اس نے اس قدر قوی اور ہنرمند بنادیا کہ اپنی عقل و تدبیر وغیرہ سے ان چیزوں کو قابو میں لے آئے۔ یہ محض خدا کا فضل ہے ورنہ ہم میں اتنی طاقت اور قدرت کہاں تھی کہ ایسی ایسی چیزوں کو مسخر کرلیتے۔ نیز دلی یاد کے ساتھ زبان سے سواری کے وقت یہ الفاظ کہنے چاہئیں۔ (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ ) 43 ۔ الزخرف :13) اور بھی اذکار و ادعیہ احادیث میں آئی ہیں جو کتب حدیث و تفسیر میں مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 13 { لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ } ”تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر“
{ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ } ”پھر اپنے رب کے انعام کا ذکر کرو جب کہ تم ان کے اوپر جم کر بیٹھ جائو“
{ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہٗ مُقْرِنِیْنَ } ”اور تم کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان سواریوں کو ہمارے بس میں کردیا ہے ‘ اور ہم تو انہیں قابو میں لانے والے نہیں تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12 سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعا :۔ مثلاً ایک انسان اونٹ پر سواری کرتا ہے جو اس سے طاقت اور قد و قامت میں بیسیوں گناہ زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ بگڑ جائے تو آن کی آن میں کئی انسانوں کو ہلاک بھی کرسکتا ہے۔ اب یہ انسان پر اللہ کا خاص فضل ہے جس نے انسان کو اتنی عقل بخشی کہ وہ بڑے بڑے جانوروں سے سواری لیتا ہے اور وہ اس کی خادم بن جاتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسا بھی دیکھا کہ ایک بکری کسی اونٹ یا گائے پر سواری کر رہی ہو۔ اور اپنی مرضی سے اسے جہاں چاہے لے جاسکے ؟ جبکہ انسان کا ایک چھوٹا سا بچہ اونٹوں کی قطار کو جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ علاوہ ازیں پہلے انسان صرف جانوروں پر سوار ہوتا تھا مگر آج بھاپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
8۔ اسلام زندگی کے ہر ہر شعبہ کے لئے ایک مکمل دستور العمل ہے۔ وہ انسان کو خدا کی حاکمیت اور اپنی عبدیت کی طرف سے غفلت کی اجازت کسی وقت اور کسی حالت میں نہیں دیتا۔ سواری اچھے گھوڑے کی ہو یا موٹر کی یاریک کی یا جہاز کی، انسان جب کبھی اس نعمت سے مستفید ومحظوظ ہوتا ہے تو اکثر اس میں ایک گونہ تفاخر کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اسے وہ اپنے کمال و استحقاق کی جانب منسوب کرکے فخر کرنے لگتا ہے، قرآن نے اس کی جڑ کاٹ دی اور ارشاد فرمادیا کہ جب سواریوں سے فائدہ اور لطف اٹھاؤ تو پہلے دل میں خدائی نعمتوں کا استحضار کرلو، اور یہ خیال تازہ کرلو کہ یہ جو کچھ بھی مل رہا ہے۔ سب عنایت وافضال الہی سے مل رہا ہے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →لتستوا علی ظھورثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا
ہذا وما کنا لہ مقرنین تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر بیٹھو ‘ پھر جب اس پر بیٹھ چکو ‘ پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو اور یوں کہو : پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تو ایسے نہ تھے کہ (خود) ان کو قابو میں کرلیتے۔
عَلٰی ظُھُوْرِہٖ واحد غالب کی ضمیر ما ترکبون کی طرف راجع ہے جو لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے لیکن معنوی لحاظ سے چونکہ کثیر سواریاں مراد ہیں ‘ اسلئے ظہور جمع کا صیغہ استعمال کیا۔
ثمَُّ تَذْکُرُوْا یعنی پھر دل سے یاد کرو کہ اللہ نے ان سواریوں کو تمہارے بس میں کردیا ‘ جن پر سوار ہو کر خشکی اور سمندر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12۔ 14) اور جس نے نر و مادہ سے تمام اصناف بنائیں اور تمہارے لیے سمندروں میں چلنے کے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جیسا کہ اونٹ بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم ان جانوروں کی پیٹھ پر جم کر بیٹھ جاؤ اور جب تم ان جانروں پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ان کو تمہارے لیے مسخر کردیا اور زبان سے کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا۔
اور ہم تو ایسے طاقتور نہ تھے جو ان کو اپنے بس میں کرلیتے اور مرنے کے بعد ہم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(1) لتستوا علی ظھورہ……: انسان جب گھوڑوں ، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کردیئے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہوگی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمہارے لئے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
والذی خلق الا زواج کلھا و جعل لکم من الفلک والا نعام ماترکبون۔ لتستواعلی ظھورہ ثم تذکروا نعمتہ ربکم اذا اس تو یتم علیہ و تقولو اسنحن الذی مخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلیبون۔ ” اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنادیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دلوں میں) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب کم کر بیٹھ جائو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو : پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں “۔
اس میں پانچ مسائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ حسین بن علی ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جانور پر سوار ہوا تو اس نے پڑھا (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (13) واناالی ربنا لمنقلبون “ انہوں نے پوچھا کیا اس کے ساتھ تو حکم کیا گیا اس نے پوچھا (اور) میں کس طرح کہوں، انہوں نے فرمایا (تو اس طرح کہہ) ” الحمد للہ الذی ھدانا للاسلام “ ساری تعریف اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم کو اسلام کی ہدایت دی) ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ” من علینا بمحمد ﷺ “ جس نے پر محمد ﷺ کے ذریعہ احسان فرمایا (ساری تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے تجھے آخر بہترین امت میں…
Read the full tafseer →لِتَسْتَوٗا [ تاکہ تم لوگ جم کر بیٹھو ] عَلٰي ظُهُوْرِهٖ [ ان کی پیٹھوں پر ] ثُمَّ [ پھر ] تَذْكُرُوْا [ تاکہ تم لوگ یاد کرو ] نِعْمَةَ رَبِّكُمْ [ اپنے رب کی نعمت کو ] اِذَا اسْـتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ [ جب تم لوگ بیٹھ جاؤ ان پر ] وَتَـقُوْلُوْا [اور تاکہ تم لوگ کہو ] سُبْحٰنَ الَّذِيْ [ پاکیزگی اس کی ہے جس نے ] سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا [ مطیع کیا ہمارے لئے اس کو ] وَمَا كُنَّا لَهٗ [ اور ہم نہیں تھے اس کو ] مُقْرِنِيْنَ [ باندھنے والے (قابوپانے والے ) ]
نوٹ۔ 2: انسان کی سواریاں دو قسم کی ہیں ۔ ایک وہ جنھیں انسان اپنی صنعت وحرفت سے بناتا ہے اور دوسرے وہ حیوانات جن کی تخلیق میں انسانی صنعت کا کوئی…
Read the full tafseer →﴿لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ﴾ (تاکہ تم اچھی طرح ان کی پشتوں پر بیٹھ جاؤ) جب خوب اچھی طرح جم کر جانوروں کی پشت پر بیٹھ جاتے ہیں تو اس کو ایڑھ مار کر چلاتے ہیں اور ان کی پشتوں پر بیٹھنے اور جمنے کے طریقے بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دئیے ہیں، گھوڑے پر زین کستے ہیں اور اونٹ پر کجا وہ باندھتے ہیں اس کے اٹھے ہوئے کوہان کے باوجود اس کی کمر پر بیٹھتے ہیں اور اس پر سفر کرتے ہیں۔
وقولہٗ تعالیٰ : مَا تَرْكَبُوْنَ ما موصولة والعائد محذوف والضمیر المجرور فی ظھورہ عائد الی لفظ ما وجمع الظھور رعایة للمعنی۔ ” اللہ تعالیٰ کے ارشاد مَا تَرْكَبُوْنَ میں ماصولہ ہے اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے اور ظھورہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →8:۔ ” لتستوا علی ظہورہ “ اس میں مذکورہ بالا نعمت کا شکر ادا کرنے کے طریق کی تعلیم دی۔ یہ سواری کے چوپائے اس لیے پیدا کیے تاکہ جب تم ان پر سواری کرو، تو اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو اور زبان سے اس کی یوں تسبیح و تقدیس کرو کہ وہ ہر شریک اور نائب سے اور ہر نقص و عیب سے پاک اور منزہ ہے جس نے یہ دیو ہیکل اور گرانڈیل چوپائے ہمارے تابع کردئیے ہیں، حالانکہ ہم میں ان کو اپنے تابع اور اپنے قبضے میں کرنے کی قدرت نہیں ہے۔ جانوروں پر سواری کرتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے یعنی سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین، وانا الی ربنا لمنقلبون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات
گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…
Read the full tafseer →لِتَسْتَوٗا عَلٰي ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْـتَوَيْتُمْ عَلَيْہِ وَتَـقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَہٗ مُقْرِنِيْنَ 13 ۙ
استوا
أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6]
( س و ی ) المسا واۃ
کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
ظهر
الظَّهْرُ الجارحةُ ، وجمعه ظُهُورٌ. قال عزّ وجل :
وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتابَهُ وَراءَ ظَهْرِهِ [ الانشقاق/ 10]
( ظ ھ ر ) الظھر
کے معنی پیٹھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
وَالّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا وَجَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَاتَرْکَبُوْنَ ۔ لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۔ (الزخرف : 12 تا 14)
(اور وہی ہے جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کا احسان یاد کرو جبکہ تم ان پر بیٹھو اور کہو کہ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات حق قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی اسی نے ہی ساری مخلوق کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں۔ جوڑوں کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ جس طرح ہر چیز کے جوڑے ہیں اسی طرح زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد زندگی ہے۔ یعنی دنیا کے بعد آخرت ہے۔
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جس ذات نے مردوں کو زندہ کرنا ہے اسی ذات نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر انسان سواری کرتے ہیں۔ اس کا حکم ہے کہ جب تم سواریوں پر سوار ہو تو اپنے رب کے اس انعام کو یاد کرو کہ اسی نے چوپاؤں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کیا ہے۔ جب تم ان پر اچھی طرح بیٹھ…
Read the full tafseer →آیت 13 : لِتَسْتَوٗٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ (تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو) ان کی پشت پر جن پر تم سواری کرتے ہو اور وہ کشتیاں اور چوپائے ہیں۔ ثُمَّ تَذْکُرُوْا (پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو) اپنے دلوں میں نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا (جب ان پر بیٹھ چکو اور اس طرح کہو اپنی زبانوں سے) سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ہٰذَا (اس کی ذات پاک ہے جس نے ان کو ہمارے قابو میں دے دیا) اس سواری کو ہمارا مطیع بنایا۔ وَمَا کُنَّا لَہٗٗ مُقْرِنِیْنَ (ہم تو ایسے نہ تھے کہ جو ان کو قابو میں کرلیتے) مقرنین طاقت رکھنے والے۔ عرب کہتے ہیں۔ اقرن الشیٔ اذا اطاقہٗ ۔ اقرن کی حقیقت اس کو…
Read the full tafseer →12، والذی خلق الازواج کلھا، یعنی تمام قسموں کو۔ ، وجعل لکم من الفلک والانعام ماترکبون، خشکی اور سمندر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
13۔ 15۔ صحیح 2 ؎ مسلم ابو داؤود ترمذی نسائی مستدرک حاکم اور تفسر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ جس وقت سفر کے ارادہ سے سوار ہوا کرتے تھے تو یہ آیت پڑھا کرتے تھے قرطبی 3 ؎ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خشکی میں چوپایوں پر سوار ہونے کے وقت یہ آیت اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ میں بسم اللہ مجریھا و مرساھا۔ کشتی پر سوار ہونے کے وقت سکھائیں چوپائے اور کشتی کی سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کا سبب پڑجاتی ہے۔ اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی یا تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
سورة الزخرف
سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنے کا بیان
قول باری ہے (لتستو وا علی ظھورہ ثم تذکرو انعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ ۔ تاکہ تم ان کی پشت پر جم کر بیٹھو پھر جب تم اس پر جم کر بیٹھ چکو تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو) ۔
ہمیں عبداللہ بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے علی بن ربیعہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ کو سواری پر سوار ہوتے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا۔ جب پوری طرح جم کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ کہا۔ پھر یہ آیت پڑھی (سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
16 نعمتوں کے حقِّ شکر اور سفر آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم ان سواریوں پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ تو یوں کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے فضل و کرم سے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ از خود اور اپنے طور پر اس کو اپنے قابو میں لے آتے اور یقینا ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ سو اس طرح اس مختصر اور عارضی سفر سے تم اپنے ذہن کو آخرت کے اس حقیقی اور آخری و دائمی سفر کی طرف منتقل کرلو جو تمہیں مسلسل درپیش ہے۔ سو اس طرح ایک مومن کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔ اور وہ ہر چیز سے درس عبرت و اصلاح لینے کا عادی بن جاتا ہے۔ اور وہ مخلوق کی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ کی نعمتیں
تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →۔6” ہ “ کی ضمیر ” ما ترکبون “ کے لئے ہے یا مراد ہر صنف کی پیٹھ ہے اس لئے ” ظہور کا لفظ جمع ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ” ہ “ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے جو واحد ہے۔ (قرطبی وغیرہ)
Read the full tafseer →(43:13) لتستوا لام کی۔ اور اس کے بعد ان مقدرہ ہے۔ تستوا مضارع جمع مذکر حاضر استواء (افتعال) مصدر سے علی کے صلہ کے ساتھ ، جس کا مطلب ہے اچی طرح سوار ہوجانا۔ تاکہ تم جم کر سوار ہوجاؤ۔ س و ی مادہ۔
ظھورہ مضاف مضاف الیہ۔ ظھور جمع ہے ظھر کی بمعنی پیٹھ، پشت ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ اور اسی طرح اذا ستویتم علمیہ۔ میں ضمیر ہ ما ترکبون کے لفظ ما کی طرف راجع ہے جو لفظ کے لحاظ سے مفرد ہے۔ لیکن معنوی لحاظ سے چونکہ کثیر سواریاں مراد ہیں اس لئے معنوی لحاظ سے ظھور جمع کا صیغہ لایا گیا ہے اور لفظی لحاظ سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب استعمال کی گئی ہے۔
ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ : ای ثم اذا استویتم علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
اللہ کی نعمتیں اور بندے کی ناشکری۔
(ف 1) سواری خوفناک چیز ہے اور کبھی کبھی یہی سواری آدمی کے ہلاک ہوجانے کے سبب پڑجاتی ہے اب شرعی تعلیم کے موافق جو شخص خشکی تری کی سواری کے وقت ان آیتوں کو پڑھے گا تو گویا موت کے سبب کے وقت بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ شمار کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے چوپایوں اور کشی کو ہمارے قابو میں کردیا، ورنہ ہم میں ہرگز یہ طاقت نہیں تھی کہ ہم ان چیزوں کو اپنے قابومی رکھ سکتے اور مالک بن جاتے ، ہم سب بعد موت اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں اب آگے فرمایا کہ اللہ نے انسان پر یہ احسانات کیے کہ انسان کی اور اس کی ضرورت کی چیزو کو پیدا کیا لیکن انسان ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
[7] یعنی ذات یا صفات میں اللہ کا شریک قرار دے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ایک چھوٹا سا مگر عظیم القدر سبق
1: اسلام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایسی روح پھونکتا ہے ۔ کہ وہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کو فراموش نہ کریں ۔ ہر منزل اور ہر مقام میں اللہ کو یاد کریں ۔ اس کا نام لیں ۔ اور اس کے ذکر سے زبان کو حلاوت بخشیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو یا گھوڑے پر بیٹھو ۔ تو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ۔ اور زبان سے ان کلمات کا اظہار کرو ۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا ربنا منقلبون ۔ یعنی وہ خدا شرک کی آلودگی سے پاک ہے ۔ جس نے ان سرکش قوموں کو ہمارے مسخر کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم ان کو اپنے قابو میں نہیں کرسکتے تھے ۔ اور بالآخر ہم سب…
Read the full tafseer →(13) تاکہ تم کشتیوں اور چوپایوں کی پیٹھ پر خوب جم کر بیٹھو پھر جب اطمینان سے ان پر بیٹھ جائو تو اپنے پروردگار کا احسان یاد کرو اور یوں کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کردیا اور ان چیزوں کو ہمارے بس میں دیدیا ورنہ ہم ایسے طاقتور نہ تھے کہ ان چیزوں کو اپنے بس میں لاسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 1۔ کیونکہ جانور سے زیادہ زور نہیں، اور بےالہام حق کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر تعلیم فرمادی۔
Read the full tafseer →تمہارا حق تھا کہ تم انعاماتِ الٰہی کا شکر ادا کرتے اور اس کی حمد کے گیت گاتے
13 ؎ کیا تم کو کوئی شخص ذرا سہولت فراہم کر دے جس کی تم کو ضرورت ہو تو کیا تم اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے ؟ ہاں ! اپنی روزمرہ زندگی کا خیال کرو کہ تم کو ایک ہی دن میں کتنے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ تمہارا وہ دانت جس کی وجہ سے تم بےچین تھے دانتوں کے ڈاکٹر (Dentist) کے پاس گئے اور اس کو اچھی خاصی فیس ادا کی اور اس نے اگر کوئی ایسی دوا استعمال کردی کہ تم کو آرام آگیا تو تم نے کیا کیا ؟ بلاشبہ اس کا شکریہ بھی ادا کیا اور بھاری فیس بھی ادا کی لیکن جس نے تم کو یہ دانت دیا اور برسوں تم نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اب پھر…
Read the full tafseer →ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ (then recall the favour of your Lord - 13). This tells us that a sensible and alert person should not display negligence, carelessness or his need-free of the divine help while enjoying the blessings of the Actual Benefactor, rather he should acknowledge that it is a reward from Allah Almighty, obliging him to be grateful and to display his impotence and humility. Actually this is the difference between an infidel and a Mu'min that an infidel uses the good things of this world carelessly and negligently, while the Mu'min congnizant of the blessings of…
Read the full tafseer →13 That is, "Only man from among all the creatures of the earth was not given this power by Allah to use boats and ships and animals as conveyance so that he may be loaded on them like bags of grain and should never think as to who it is who created possibilities for him to run boats in the mighty oceans, and who created some animals of the countless kinds of animals, with a nature that they become his servants in spite of being far stronger than him in power, and he rides on them and drives them wherever he likes. To benefit by these blessings and to forget the Benefactor is a sign of the…
Read the full tafseer →