Explained with ayahs 10–14
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 12
جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن و مرد، اور حیوانات و نباتات کے نر و مادہ ہی نہیں ہیں، بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً عناصر میں بعض سے جوڑ لگتا ہے اور بعض کا بعض سے نہیں لگتا۔ جن کا جوڑ ایک دوسرے سے لگتا ہے، ان ہی کے ملنے سے طرح طرح کی ترکیبیں واقع ہو رہی ہیں۔ یا مثلاً بجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں عجیب عجیب کرشموں کی موجب بن رہی ہے۔ یہ اور دوسرے ان گنت جوڑے جو قسم قسم کی مخلوقات کے اندر اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →(آیت) وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ (اور تمہارے لئے وہ کشیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہو) انسان کی سواریاں دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ سواریاں جنہیں انسان اپنی صنعت و حرفت کے ذریعہ خود بناتا ہے اور دوسرے وہ حیوانات جن کی تخلیق میں انسانی صنعت کا کوئی دخل نہیں۔ کشتیاں بول کر سواریوں کی پہلی قسم مراد ہے اور چوپائے سے دوسری قسم۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ انسانی استعمال کی تمام سواریاں، خواہ ان کی تیاری میں انسانی صنعت کو دخل ہو یا نہ ہو، اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ چوپایوں کا نعمت ہونا تو بالکل ظاہر ہے کہ وہ انسان سے کئی گنا زائد طاقتور ہوتے ہیں لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
والذین خلق الازواج کلھا و جعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون، لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا ستویتم علیہ وتقولوا سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنالہ مقرننی، وانآ الی ربنا لمنقلبون (14-12)
بعض اور آثار قدرت کی طرف اشارہ
اسی خدائے عزیز وعلیم کی پروردگاری کے بعض اور آثار کا ذکر کر کے ان کے متقضیات کی طرف توجہ دلائی جن کا احساس ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر پیدا ہونا چاہئے جو ان سے بہرہ مند ہو رہا ہے۔
فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے تمہارے لئے دوسری نوع بنوع چیزیں پیدا کی ہیں۔ لفظ ازواج یہاں گوناگون اور نوع بنوع چیزوں کے مفہوم میں ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ قرآن مجید اور عربی ادب میں بکثرت استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13۔ 1 یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کی سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور…
Read the full tafseer →5 یعنی دنیا میں جتنی چیزوں کے جوڑے ہیں اور مخلوق کی جتنی قسمیں اور متماثل یا متقابل انواع ہیں سب کو خدا ہی نے پیدا کیا۔
Read the full tafseer →آیت 12 { وَالَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا } ”اور وہ کہ جس نے بنائے ہیں تمام مخلوقات کے جوڑے“
{ وَجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْکَبُوْنَ } ”اور تمہارے لیے بنائی ہیں کشتیاں بھی اور چوپائے بھی جن پر تم سواری کرتے ہو۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12 سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعا :۔ مثلاً ایک انسان اونٹ پر سواری کرتا ہے جو اس سے طاقت اور قد و قامت میں بیسیوں گناہ زیادہ ہوتا ہے۔ اور اگر وہ بگڑ جائے تو آن کی آن میں کئی انسانوں کو ہلاک بھی کرسکتا ہے۔ اب یہ انسان پر اللہ کا خاص فضل ہے جس نے انسان کو اتنی عقل بخشی کہ وہ بڑے بڑے جانوروں سے سواری لیتا ہے اور وہ اس کی خادم بن جاتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسا بھی دیکھا کہ ایک بکری کسی اونٹ یا گائے پر سواری کر رہی ہو۔ اور اپنی مرضی سے اسے جہاں چاہے لے جاسکے ؟ جبکہ انسان کا ایک چھوٹا سا بچہ اونٹوں کی قطار کو جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ علاوہ ازیں پہلے انسان صرف جانوروں پر سوار ہوتا تھا مگر آج بھاپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
7۔ مشرکین کو قائل کرنے کے لئے اب ذات خالق واحد کی دوسری صفات کا بیان ہورہا ہے۔ یعنی جس خالق کو یکتا تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کے صفات و کمالات یہ بھی تو ہیں۔ کائنات کے سارے انتظامات میں بھی تو وہی لاشریک لہ ہے۔ زمین کی یہ خاص ہئیت اسی کی حکمت کاملہ نے بنائی ہے کہ اس پر انسان کا رہنا ممکن ہو۔ سطح زمین کے راستوں، سڑکوں میں تقسیم یہ بھی اسی حکیم مطلق کا فعل ہے کہ تم بآسانی چل پھر سکو، آسمان کی طرف سے پانی برسانا ایک خاص مقدار میں، ایک معین وقت پر، حسب ضرورت ومصلحت، یہ سب بھی بس اسی کا کام ہے پھر اس بارش سے زمین خشک کو سبزہ زار بنادینا اسی کی حکمت وصنعت ہے جو بعث وحشر پر بھی اسی طرح قادر ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →والذین خلق الازواج کلھا وجعل لکم من الفلک والانعام ما ترکبون اور جس نے مخلوق
کی تمام قسمیں پیدا کیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
الْاَزْوَاج اصناف خلائق ‘ قسم قسم کی مخلوق۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(12۔ 14) اور جس نے نر و مادہ سے تمام اصناف بنائیں اور تمہارے لیے سمندروں میں چلنے کے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جیسا کہ اونٹ بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم ان جانوروں کی پیٹھ پر جم کر بیٹھ جاؤ اور جب تم ان جانروں پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے پروردگار کی اس نعمت کو یاد کرو کہ اس نے ان کو تمہارے لیے مسخر کردیا اور زبان سے کہو کہ وہ ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا۔
اور ہم تو ایسے طاقتور نہ تھے جو ان کو اپنے بس میں کرلیتے اور مرنے کے بعد ہم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Read the full tafseer →(1) والذی خلق الازواج کلھا : تفسیر کے لئے دیکھیے سورة یٰسین کی آیت (36) کی تفسیر۔
(2) وجعل لکم من الفلک و الانعام ما ترکبون : اس سے پہلے زمین میں راستے بنانے کا ذکر فرمایا ہے جن کے ذریعے سے لوگ مختلف جگہوں کی طرف اپنی ضروریات کے لئے سفرک رتے ہیں، اب یہ نعمت یاد دلائیک ہ شہروں، میدانوں ، صحراؤں اور پہاڑوں میں سفر کے لئے اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا فرمائے اور سمندروں میں قریب و دور سفروں کیلئے کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز بنائے۔ بقاعی نے ”خلق الازواج کلھا“ کے ساتھ چوپاؤں اور کشتیوں کے ذکر کی بھی ایک مناسبت ذکر فرمائی ہے کہ ”الازواج“ سے ذہن مختلف جوڑوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
والذی خلق الا زواج کلھا و جعل لکم من الفلک والا نعام ماترکبون۔ لتستواعلی ظھورہ ثم تذکروا نعمتہ ربکم اذا اس تو یتم علیہ و تقولو اسنحن الذی مخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین۔ وانا الی ربنا لمنقلیبون۔ ” اور جس نے ہر قسم کی مخلوق پیدا فرمائی اور بنادیں تمہارے لیے کشتیاں اور مویشی جن پر تم سوار ہوتے ہو تاکہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر (دلوں میں) یاد کرو اپنے رب کی نعمت کو جب تم خوب کم کر بیٹھ جائو ان پر اور (زبان سے) یہ کہو : پاک ہے وہ ذات جس نے فرمانبردار بنا دیا ہے اسے ہمارے لیے اور ہم اس پر قابو پانے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والی ہیں “۔
اس میں پانچ مسائل…
Read the full tafseer →7:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” وجعل لکم من الفلک والانعام ماترکبون (12) لتستوا علی ظھورہ ثم تذکروا نعمۃ ربکم اذا استویتم علیہ “ (اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر بیٹھ چکو) اور تم یوں کہو سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہم پر (اپنے بندے اور اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ احسان فرمایا پھر تم یوں کہو (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین “ (پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا اور ہم تم ایسے نہ تھے کہ خود…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ [ اور جس نے بنائے جوڑے ] كُلَّهَا [ ان سے سب کے ] وَجَعَلَ لَكُمْ [ اور اس نے بنایا تمہارے لئے ] مِّنَ الْفُلْكِ [ کشتیوں میں سے ] وَالْاَنْعَامِ [ اور چوپایوں میں سے ] مَا [ اس کو جس پر ] تَرْكَبُوْنَ [تم لوگ سوار ہوتے ہو ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 12 ۔ میں جوڑوں سے مراد صرف نوع انسانی کے زن ومرد اور حیوانات و نباتات کے نرومادہ ہی نہیں ہیں بلکہ دوسری بیشمار چیزیں بھی ہیں جن کو خالق نے ایک دوسرے کا جوڑ بنایا ہے اور جن کے اختلاط یا امتزاج سے دنیا میں نئی نئی چیزیں وجود میں آتی ہیں ۔ مثلابجلی میں منفی اور مثبت بجلیاں ایک دوسرے کا جوڑ ہیں اور ان کی باہمی کشش ہی دنیا میں…
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا ﴾ (اور وہی ذات ہے جس نے مخلوق میں طرح طرح کے انواع و اقسام پیدا فرما دئیے) مذکر بھی ہیں مونث بھی ہیں میٹھی چیزیں بھی ہیں اور کھٹی بھی، سفید بھی ہیں اور سیاہ بھی، اوپر بھی ہیں اور نیچے بھی، دائیں جانب بھی ہیں اور بائیں جانب بھی وغیرہ وغیرہ۔
﴿وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ0012﴾ (اور اس نے کشتیاں اور سواریاں پیدا فرمائیں جن پر تم سوار ہوتے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →7:۔ ” والذی خلق الازواج۔ الایۃ “ اسی ہی نے مخلوق کی یہ تمام انواع و اقسام پیدا کی ہیں، جو رنگ میں، بو میں، ذائقے میں اور جنس میں مختلف اور گوناگوں ہیں۔ قال ابن عباس جانور پید اکیے تاکہ تم خشکی اور تری کا سفر آرام اور آسانی سے کرسکو۔ ان تمام افعال وصفات میں اللہ تعالیٰ یکتا اور منفرد ہے اور وہی تنہا متصرف و کارساز ہے، اس لیے کوئی اس کا نائب نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات
گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّہَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ 12 ۙ
زوج
يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
[ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
وَالّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا وَجَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَاتَرْکَبُوْنَ ۔ لِتَسْتَوٗا عَلٰی ظُہُوْرِہٖ ثُمَّ تَذْکُرُوْا نِعْمَۃَ رَبِّکُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْہِ وَتَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَـہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ ۔ (الزخرف : 12 تا 14)
(اور وہی ہے جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے اور تمہارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کا احسان یاد کرو جبکہ تم ان پر بیٹھو اور کہو کہ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات حق قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرے گی اسی نے ہی ساری مخلوق کے جوڑے پیدا فرمائے ہیں۔ جوڑوں کا ذکر فرما کر اشارہ دیا کہ جس طرح ہر چیز کے جوڑے ہیں اسی طرح زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد زندگی ہے۔ یعنی دنیا کے بعد آخرت ہے۔
قیامت کے دن زندہ ہونے کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جس ذات نے مردوں کو زندہ کرنا ہے اسی ذات نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر انسان سواری کرتے ہیں۔ اس کا حکم ہے کہ جب تم سواریوں پر سوار ہو تو اپنے رب کے اس انعام کو یاد کرو کہ اسی نے چوپاؤں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کیا ہے۔ جب تم ان پر اچھی طرح بیٹھ…
Read the full tafseer →آیت 12: وَالَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ (اور جس نے تمام اقسام بنائیں) الازواج۔ اصناف کے معنی میں ہے۔ کُلَّہَا وَجَعَلَ لَکُمْ مِّنَ الْفُلْکِ وَالْاَنْعَامِ مَا تَرْکَبُوْنَ (اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے۔ جن پر تم سوار ہوتے ہو) یعنی تم ان پر سوار ہوتے ہو۔ صرف کہا جاتا ہے۔ رکبوا فی الفلک ورکبوا الانعام۔ بلاواسطہ متعدی ہونا غالب آیا۔ کیونکہ وہ زیادہ قوی ہے۔ اسی لئے کہا گیا ترکبونہ۔
Read the full tafseer →11، والذی نزل من السماء ماء بقدر، یعنی تمہاری ضرورت کے مطابق ۔ اس طرح نہیں جیسے قوم نوح (علیہ السلام) پر بغیر اندازہ کے اتارا۔ یہاں تک کہ ان کو ہلاک کردیا۔ ، فانشرنا، ہم نے زندہ کیا ۔ ، بہ بلدۃ میتا کدلک ، یعنی جس طرح ہم نے اس مردہ شہر کو بارش کے ذریعہ زندہ کیا۔ اسی طرح ، تخرجون، اپنی قبروں سے زندہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ دنیا کی ضرورت کے موافق ہر برس موسم برات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے تو قحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ تعالیٰ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے۔ چناچہ موطا میں 2 ؎ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے اور مسند امام 3 ؎ احمد کی حضرت ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
16 نعمتوں کے حقِّ شکر اور سفر آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم ان سواریوں پر ٹھیک طرح سے بیٹھ جاؤ تو یوں کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے فضل و کرم سے اس سواری کو ہمارے تابع کردیا ورنہ ہم ایسے نہ تھے کہ از خود اور اپنے طور پر اس کو اپنے قابو میں لے آتے اور یقینا ہم سب کو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے "۔ سو اس طرح اس مختصر اور عارضی سفر سے تم اپنے ذہن کو آخرت کے اس حقیقی اور آخری و دائمی سفر کی طرف منتقل کرلو جو تمہیں مسلسل درپیش ہے۔ سو اس طرح ایک مومن کی دنیا بھی دین بن جاتی ہے۔ اور وہ ہر چیز سے درس عبرت و اصلاح لینے کا عادی بن جاتا ہے۔ اور وہ مخلوق کی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ کی نعمتیں
تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →ف 5” ازواج ‘ کے معنی جوڑے بھی ہوسکتے ہیں۔ جیسے آدمی اور جانوروں اور درختوں کے جوڑے یعنی نر اور مادہ اور صنفیں بھی جیسے رات اور دن سردی اور گرمی آسمان اور زمین جنت اور دوزخ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے انسان کے عمومی احوال مراد ہوں جیسے خیر و شر، ایمان و کفر نفع و نقصان فقر و غنی اور صحت و سقم وغیرہ
Read the full tafseer →(43:12) والذی خلق الازواج کلہا۔ ازواج ، جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ زوج کی جمع۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک زوج کہتے ہیں اور اسی طرح غیر حوانات میں ہر اس شے کو جو کہ دوسری شے کے قرین ہو خواہ مماثل ہو یا متضاد زوج کہتے ہیں۔
زوج کے معنی یہاں صنف اور نوع کے ہیں۔
الزوج تطلقہ العرب علی الصنف (اضواء البیان) عرب زوج کا اطلاق صنف پر کرتے ہیں۔ الازواج میں اصناف نباتات، نبی آدم اور دیگر مخلوق جس کا علم صرف خدا تعالیٰ ہی کو ہے۔ سب شامل ہیں۔ اور جگہ فرمایا :۔
سبحان الذی خلق الازواج کلہا مما تنبت الارض ومن انفسھم ومما لا یعلمون (36:26) وہ خدا پاک ہے جس نے بنائے جوڑے سب چیز کے اس قسم سے جسے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
پریشانیاں احکام الٰہی سے روگردانی کے باعث آتی ہیں۔
(ف 2) دنیا کی ضرورت کے موافق ہر سال موسم برسات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے توقحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے چناچہ موطا میں حضرت عبداللہ بن عباس عنہما سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
[7] یعنی ذات یا صفات میں اللہ کا شریک قرار دے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 8 ۔ 11
یعنی یہ لوگ جہاں تک ان کی فطرت صالحہ کا تعلق ہے خدا کی توحید کے مقر اور معترف ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ۔ تو صاف کہہ دیتے ہیں ۔ کہ خدائے عزیز وعلیم نے جس نے زمین کو فرش کی طرح پاؤں تلے بچھا رکھا ہے اور اس میں مختلف راہیں پیدا کی ہیں ۔ جس نے آسمان سے انداز کے ساتھ پانی اتارا ہے ۔
اور مردہ زمینوں کو اس سے زندگی بخشی ہے ؟ فرمایا ۔ اگر یہ حقیقت درست ہے ۔ تو پھر تمہیں حشر ونشر میں کیا شبہ ہے ؟ کیا وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟
Read the full tafseer →(12) اور جس نے تمام چیزوں کی مختلف قسمیں بنائیں اور ہر چیز کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔ یعنی حیوانات میں اور نباتات میں جوڑے یعنی اصناف اور ایک دوسرے کا جواب اور کشتی اور بڑے چوپائے جو سواری کے کام آتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 1۔ کیونکہ جانور سے زیادہ زور نہیں، اور بےالہام حق کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر تعلیم فرمادی۔
Read the full tafseer →انعامات الٰہی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ شاید تم بات کو سمجھنے کی کوشش کرو
12 ؎ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا تو ان میں ازدواج کا سلسلہ شروع کیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور پھر ان کے فائدہ کے لیے طرح طرح کی مخلوق پیدا کردی اور کسی مخلوق کو پیدا ہونے کا اس کی ذات کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ ہر ایک چیز کے پیدا کرنے اور مختلف اجناس بنانے کا فائدہ انسان ہی کو ہے اور وہی ہر ایک چیز سے مستفید ہو رہا ہے اور ایک ایک چیز میں کتنی انواع اس حکیم مطلق نے پیدا کردی ہے کہ اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ذرا اجناس پر غورو کرو ، سبزیات پر غور کرو اور ترکاریوں کو دیکھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ (and has made for you the boats and the cattle that you ride, - 12). There are two kinds of means of transport employed by man - one those vehicles which are made by man himself, and two the animals in whose creation human effort is not involved at all. 'Boats' include all kinds of man-made vehicles, and 'cattle' include all the animals used for riding. Both these means of transport are great blessings of Allah Ta’ ala. That cattle are Allah's great blessings is obvious, because despite their being many times stronger than man,…
Read the full tafseer →12 Pairs here does not imply only pairs of men and women among human beings and of males and females among animals and vegetation, but there are countless other things which the Creator has made as matching partners of each other and by whose coming together and combination new and ever new things come into being in the world. For example, among the elements, some can be combined with others and some cannot be. The combination of these which can combine is resulting into various compositions, e.g. the negative and positive charges in electricity are the matching partners of each other and…
Read the full tafseer →