Explained with ayahs 10–14
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 10
یعنی ہر علاقے کے لیے بارش کی ایک اوسط مقدار مقرر کی جو مدت ہائے دراز تک سال بہ سال ایک ہی ہموار طریقے سے چلتی رہتی ہے۔ اس میں ایسی بےقاعدگی نہیں رکھی کہ کبھی سال میں دو انچ بارش ہو اور کبھی دو سو انچ ہوجائے۔ پھر وہ اس کو مختلف زمانوں میں اور مختلف اوقات میں جگہ جگہ پھیلا کر اس طرح برساتا ہے کہ بالعموم وہ وسیع پیمانے پر زمین کی بار آوری کے لیے نافع ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اسکی حکمت ہی ہے کہ زمین کے بعض حصوں کو اس نے بارش سے قریب قریب بالکل محروم کر کے بےآب وگیاہ صحرا بنا دیے ہیں، اور بعض دوسرے حصوں میں وہ کبھی قحط ڈال دیتا ہے اور کبھی طوفانی بارش کردیتا ہے تاکہ آدمی یہ جان سکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
معارف و مسائل
(آیت) جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا (تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) مطلب یہ ہے کہ زمین کی ظاہری صورت اور اس کا آرام فرش کا سا ہے، لہٰذا یہ زمین کے گول ہونے کے منافی نہیں۔
Read the full tafseer →والذی نزل من السمآء مآء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتاً کذلک تخرجون 11
اللہ تعالیٰ کا کرشمہ ربوبیت
اور اسی خدائے عزیز وعلیم کا یہ کرشمہ ربوبیت بھی ہے کہ اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی کا ایک خاص اندازے کے ساتھ اترنا اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ یہ محض ابرو ہوا کے تصرف سے نہیں بلکہ ایک عزیز وعلیم کی تقدیر سے اترتا ہے جو اپنی حکمت کے تحت صرف اتنا ہی پانی اتارتا ہے جس کا زمین تحمل کرسکتی ہے۔ پھر اس سے یہ بات بھی نکلی کہ آسمان و زمین دونوں کے اندر ایک ہی خدائے عزیز وعلیم کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ آسمان اور زمین میں ایسا تو افق ہوتا کہ…
Read the full tafseer →11۔ 1 جس سے تمہاری ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ قدرت حاجت سے کم بارش ہوتی وہ تمہارے لئے مفید ثابت نہ ہوتی اور زیادہ ہوتی تو وہ طوفان بن جاتی، جس سے تمہارے ڈوبنے اور ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا۔
11۔ 2 یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین شاداب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمہیں بھی زندہ کر کے قبروں سے نکال لیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
آیت نمبر 9 تا 14
عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور…
Read the full tafseer →3 یعنی ایک خاص مقدار میں جو اس کی حکمت کے مناسب اور اس کے علم میں مقدور تھی۔
4 یعنی جس طرح مردہ زمین کو بذریعہ بارش زندہ اور آباد کردیتا ہے۔ ایسے ہی تمہارے مردہ جسموں میں جان ڈال کر قبروں سے نکال کھڑا کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 11{ وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً م بِقَدَرٍ } ”اور وہ جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک اندازے کے مطابق۔“
{ فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا } ”تو اس سے ہم نے ُ مردہ زمین کو اٹھا کھڑا کیا۔“
اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے بنجر زمین میں زندگی کے آثار پھیلا دیے ‘ اسے حیات تازہ بخش دی۔
{ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ } ”اسی طرح ایک روز تمہیں بھی نکال لیا جائے گا۔“
تمہیں بھی روز محشر اسی طرح زندہ کر کے تمہاری قبروں سے نکال کھڑا کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →10 دنیا میں نازل ہونے والی بارش کی مجموعی مقدار یکساں رہتی ہے :۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ سمندر، جس سے آبی بخارات بن کر اوپر اٹھتے ہیں، کا رقبہ خشکی کے رقبہ سے تین گناہ زیادہ ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس کا ایک کثیر حصہ آبی بخارات میں تبدیل ہوجاتا، پھر بارش کی صورت اختیار کرلیتا جس سے زمین کا کثیر حصہ زیرآب آجاتا اور مخلوق تباہ ہوجاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہونے دیتا اور آبی بخارات اتنے ہی بنتے ہیں یا اتنی ہی بارش ہوتی ہے جو مخلوق کے لیے فائدہ بخش ہو۔ دوسرا پہلو یہ ہے زمین کے ہر علاقہ میں بارش کی سالانہ اوسط مقدار دوسرے علاقوں سے الگ ہوتی ہے۔ پھر اس اوسط مقدار میں کمی بیشی بھی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
7۔ مشرکین کو قائل کرنے کے لئے اب ذات خالق واحد کی دوسری صفات کا بیان ہورہا ہے۔ یعنی جس خالق کو یکتا تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کے صفات و کمالات یہ بھی تو ہیں۔ کائنات کے سارے انتظامات میں بھی تو وہی لاشریک لہ ہے۔ زمین کی یہ خاص ہئیت اسی کی حکمت کاملہ نے بنائی ہے کہ اس پر انسان کا رہنا ممکن ہو۔ سطح زمین کے راستوں، سڑکوں میں تقسیم یہ بھی اسی حکیم مطلق کا فعل ہے کہ تم بآسانی چل پھر سکو، آسمان کی طرف سے پانی برسانا ایک خاص مقدار میں، ایک معین وقت پر، حسب ضرورت ومصلحت، یہ سب بھی بس اسی کا کام ہے پھر اس بارش سے زمین خشک کو سبزہ زار بنادینا اسی کی حکمت وصنعت ہے جو بعث وحشر پر بھی اسی طرح قادر ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →والذی نزل من السماء ماء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون اور جس نے آسمان
سے پانی ایک اندازہ کے موافق برسایا ‘ پھر ہم نے اس سے خشک زمین کو (اس کے حال کے مناسب) زندہ کیا ‘ اسی طرح تم کبھی (اپنی قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔
بِقَدَرٍ ایک اندازہ کے ساتھ ‘ یعنی اتنی مقدار میں جو مفید ہو ‘ ضرر رساں نہ ہو۔
فَاَنْشَرْنَا پھر ہم نے زندہ کیا ‘ یعنی جس طرح ہم نے پانی سے زمین کو زندہ کیا ‘ اسی طرح تم کو بھی قبروں سے نکالا جائے گا ‘ یعنی تم کو زندہ کیا جائے گا۔
شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پہلی مرتبہ صور پھونکنے اور دوسری بار صور پھونکنے کے درمیان…
Read the full tafseer →اور جس نے ایک خاص اندز سے بارش برسائی اور پھر اس بارش سے خشک زمین کو زندہ کیا یعنی آباد کیا اسی طرح تم لوگ زندہ کر کے قبروں سے نکالے جاؤ گے۔
Read the full tafseer →(1) والذین نزل من السمآء مآء بقدر، اس کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة مومنون کی آیت (18) کی تفسیر۔
(2) فانشرنا بہ بلدۃ میتاً : ”والذی نزل من السمآء مآء بقدر“ میں اپنا ذکر غائب کے صیغے سے کیا اور ”فانشرنا بہ“ میں جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا، اس سے مقصود اپنی شنہشاہی اور عظمت کا اظہار ہے کہ ہم ہیں جو بارش کے ساتھ مردہ شہر کو زندہ کردیتے ہیں، کسی دوسرے میں نہ یہ طاقت ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس میں شریک ہے۔
(3) کذلک تحرجون : بارش کیساتھ مردہ زمین زندہ کردینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا کہ جس طرح ہم مردہ زمین کو بارش کے ساتھ زندہ اور آباد کردیتے ہیں ایسے ہی تمہیں زندہ کر کے قبروں سے…
Read the full tafseer →والذی نزل من السماء ماء بقدر فانشر نابہ بلدۃ میتا کذلک تخرجون۔ ” اور جس نے اتارا آمان سے پانی اندازہ کے مطابق پس ہم نے زندہ کردیا اس سے ایک مردہ شہر کو یونہی تمہیں بھی قبروں سے بکالا جائے گا “۔
والذی نزل من السما ماء بقدر حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس طرح نہیں جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر بغیر اندازہ کے نازل کیا گیا یہاں تک کہ انہیں غرق کردیا بلکہ وہ اندازے سے نازل کیا گیا غرق کرنے والے طوفان کی صورت میں نہیں اور نہ ہی ضرورت سے کم یہاں تک کہ وہ تمہارے لیے اور تمہارے چوپائوں کے لیے زندگی کا سبب بن گیا (4) ۔
فانشر نابہ بلدۃ میتا یعنی ہم نے پانی کے ذریعے چنیل بستی کو زندہ کردیا۔
کذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” صفحا ان کتنم “ کو الف کے نصب کے ساتھ (آیت ) ’ جعل لکم الارض مھدا “ (جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) میں ’ مھدا “ کو میم کے نصب کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ [ اور جس نے اتارا آسمان سے ] مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ ۚ [ کچھ پانی ایک اندازے سے ] فَاَنْشَرْنَا بِهٖ [ پھر ہم نے زندہ کیا اس سے ] بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ [ ایک مردہ بستی کو ] كَذٰلِكَ تُخْـرَجُوْنَ [ اسی طرح تم لوگ نکالے جاؤگے ]
Read the full tafseer →مزید فرمایا ﴿وَ الَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ 1ۚ﴾ (اور وہ ذات پاک ہے جس نے آسمان سے ایک خاص مقدار کے ساتھ پانی نازل فرمایا) ﴿فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا 1ۚ﴾ (پھر ہم نے اس کے ذریعے زمین کے مردہ حصہ کو زندہ کردیا) ﴿كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ 0011﴾ جیسے اس نے مردہ زمین کو زندگی بخشی خشک ہونے کے بعد سرسبز اور شاداب ہوگئی اسی طرح سے تم قبروں سے نکالے جاؤ گے یعنی قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھائے جاؤ گے اس کا نمونہ تمہارے سامنے ہے زمین کی موت اور حیات کو دیکھ لو اور اس سے سمجھ لو کہ تمہارا زندہ فرمانا کوئی مشکل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6:۔ ” الذی جعل لکم “ تا ” ماترکبون “ یہ پہلی عقلی دلیل پر تنویر ہے۔ یعنی یہ تمام اوصاف اسی خالق کائنات کے ساتھ مختص ہیں اور یہ سب کام وہی کرسکتا ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الذی جعل لکم الرض مہدا الخ “ اس نے زمین کو ہمارے لیے آرام و راحت کی جگہ بنادیا جس سے ہمیں ہر ضرورت اور ہر آسائش آسانی سے میسر ہوسکتی ہے۔ اس پر چلنا پھرنا، مکانات عمیر کرنا، کھیتی باڑی کرنا، نہریں کھودنا سب کچھ آسان ہے اور پھر زمین میں راستے بنا دئیے جن کے ذریعے سے ہم بآسانی سفر طے کرسکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ ” والذی نزل من السماء ماء الخ “ وہی آسمان سے باران رحمت نازل فرم اکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات
گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءًۢ بِقَدَرٍ 0 ۚ فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّيْتًا 0 ۚ كَذٰلِكَ تُخْـرَجُوْنَ 11
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً م بِقَدَرٍ ج فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا ج کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ۔ (الزخرف : 11)
(اور وہی ہے جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے اس کے ذریعے سے مردہ زمین کو زندہ کردیا، اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جاؤ گے۔ )
کرشمہ ربوبیت کا بیان
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کرشمہ ٔ ربوبیت کو بیان فرمایا ہے۔ اس کی ربوبیت کا فیضان تو بہت وسیع سطح پر پھیلا ہوا ہے۔ اسی میں سے ایک آسمانوں سے پانی کا نزول بھی ہے۔ پانی کے نزول کی ایک صورت تو بارش ہے اور دوسری زمین سے چشموں کا ابلنا، اور تیسری صورت ندی نالوں اور دریائوں کا سطح زمین پر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس ذات کبریا نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا اور زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں راستے بنائے وہی آسمان سے بارش نازل کرتا ہے۔
قرآن مجید نے درجنوں مقامات پر بارش کو اللہ تعالیٰ کی قد رت کی نشانی کے طور پر پیش فرمایا ہے۔ بارش کے فوائد بتلانے کے ساتھ یہ استدلال بھی لوگوں کے سامنے رکھا کہ بارش پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اسے ایک خاص مقدار اور انداز میں نازل کرتا ہے۔ سورة الشوریٰ کی تفسیر میں یہ بات عرض کی ہے کہ کبھی نہیں ہوا کہ بادل پورے کا پورا پانی پرنالے کی طرح ایک ہی جگہ انڈیل دے۔ اللہ تعالیٰ ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو نہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ چلاتا ہے بلکہ پہاڑوں کی…
Read the full tafseer →آیت 11: وَالَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئًم بِقَدَرٍ (اور وہ جس نے آسمان سے پانی ایک اندازہ سے برسایا) اتنی مقدار جس سے انسان صحیح سالم رہ سکیں اور ملکوں کو جتنی ضرورت ہو وہ پوری ہوجائے۔ فَاَنْشَرْنَا بِہٖ بَلْدَۃً مَّیْتًا (پھر اس سے ہم نے خشک زمین کو زندہ کیا) انشرنا۔ زندہ کرنے کے معنی میں ہے۔ غائب سے مخاطب کی طرف عدول کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ یہ خطاب سے مراد کو پالیں۔ قراءت : یزید نے میتًا کو میّتًا پڑھا ہے۔ کَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ (اسی طرح تم نکالے جائو گے) اپنی قبور سے زندہ کر کے۔
قراءت : حمزہ ٗ علی نے تَخْرُجون پڑھا۔ العلیم پر وقف نہیں۔ کیونکہ الذی اس کی صفت ہے۔ ابو حاتم نے اس پر وقف…
Read the full tafseer →10، الذی جعل لکم الارض مھداوجعل لکم فیھا سبلالعلکم تھتدون، سفر میں اپنے مقاصد کی طرف۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11۔ 12۔ دنیا کی ضرورت کے موافق ہر برس موسم برات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے تو قحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ تعالیٰ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے۔ چناچہ موطا میں 2 ؎ حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے اور مسند امام 3 ؎ احمد کی حضرت ابوہریرہ ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…
Read the full tafseer →12 پانی کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت و تحریک : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اس نے آسمان سے پانی اتارا ایک خاص اندازے کے ساتھ "۔ یعنی تمہاری ضروریات و حاجات کے عین مطابق۔ نہ اتنا کم کہ تمہاری ضرورتوں کے لئے کفایت نہ کرسکے اور نہ اتنا زیادہ کہ تمہیں غرق کر دے اور طوفان نوح کی طرح تمہاری ہلاکت و بربادی کا باعث بن جائے ۔ فالحمد للّٰہِ رَبِّ العالمین ۔ سو آسمان سے پانی کے اس جوہر حیات آفریں کا اس طرح اترنا اور ایک نہایت ہی معقول اور مناسب اندازے اور مقدار میں نازل ہونا کوئی بخت و اتفاق یا محض ہوا اور موسمی حالات کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک خدائے عزیز وعلیم اور قدیر و حکیم کی تقدیر اور اس کی نہایت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
اللہ کی نعمتیں
تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 4 یعنی تمہاری ضرورت اور مصلحت کے مطابق آسمان سے بارش کا انتظام فرمایا تاکہ تمہاری اور تمہارے جانوروں کی معیشت کا سامان مہیا ہو۔ اگر بےاندازہ مینہ برساتا تو کھیتیاں تباہ ہوجاتیں اور مکانات ڈھے جاتے اور اگر اندازہ سے کم برساتا تو تمہاری ضرورت پوری نہ ہوتی اور قحط پڑجاتا۔ (کذا قال ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →(43:11) بقدر۔ بقدر حاجت۔ مقررہ مقدار میں۔ اندازہ کے مطابق : ق د ر مادہ۔ اس مادہ سے مختلف مصادر سے مختلف معانی آتے ہیں۔ نیز قدر بمعنی کسی پر تنگی کردینے کے معنی میں آتا ہے۔ جیسے اللّٰہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (13:26) خدا جس پر چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔
فانشرنا بہ :تعقیب کا ہے انشرنا ماضی جمع متکلم۔ انساء (افعال) مصدر سے جس کے معنی زندہ کرنے اور اٹھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ ہم نے زندہ کردیا۔ ہم نے کھڑا کردیا۔ بہ میں باء سببیہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب ماء کی طرف راجع ہے۔ بوجہ اس پانی کے ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ام اتخذوا الھۃ من الارض ہم ینشرون (21:21) بھلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
پریشانیاں احکام الٰہی سے روگردانی کے باعث آتی ہیں۔
(ف 2) دنیا کی ضرورت کے موافق ہر سال موسم برسات میں اللہ تعالیٰ مینہ برساتا ہے جب کبھی ضرورت سے کم مینہ برستا ہے توقحط پڑجاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ برستا ہے تو اس سے بھی ہر طرح کی پیداوار کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا کہ اندازہ کے موافق اللہ ہمیشہ مینہ برساتا ہے حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مینہ کے معمولی اندازہ میں فرق پڑ کر دنیا میں رزق کی تنگی لوگوں کے گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے چناچہ موطا میں حضرت عبداللہ بن عباس عنہما سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ بدکاری کے وبال سے عام وبا آتی ہے اور کم تولنے کے وبال سے قحط پڑتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
[7] یعنی ذات یا صفات میں اللہ کا شریک قرار دے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 8 ۔ 11
یعنی یہ لوگ جہاں تک ان کی فطرت صالحہ کا تعلق ہے خدا کی توحید کے مقر اور معترف ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ۔ تو صاف کہہ دیتے ہیں ۔ کہ خدائے عزیز وعلیم نے جس نے زمین کو فرش کی طرح پاؤں تلے بچھا رکھا ہے اور اس میں مختلف راہیں پیدا کی ہیں ۔ جس نے آسمان سے انداز کے ساتھ پانی اتارا ہے ۔
اور مردہ زمینوں کو اس سے زندگی بخشی ہے ؟ فرمایا ۔ اگر یہ حقیقت درست ہے ۔ تو پھر تمہیں حشر ونشر میں کیا شبہ ہے ؟ کیا وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟
Read the full tafseer →(11) اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے کے ساتھ پانی اتارا پھر ہم نے اسی پانی سے ایک مرے ہوئے شہر اور مردہ دیس کو زندہ کردیا یعنی آبادی کی زرعی زمین جو خشک پڑ ی تھی اس کو زندہ کردیا اور اسی طرح تم بھی قبروں سے نکالے جائو گے۔ آسمان سے پانی برساتا ہے ایک خاص اندازے کے ساتھ یعنی حسب ضرورت تاکہ لوگ کھیتی باڑی کرسکیں اور پانی پینے کے لئے بھی کام میں لائیں۔
مری ہوئی زمین سے مراد خشک زمین جو بارش کے بعد کھیتی باڑی کے قابل ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے اسی طرح تم بھی نکالے جائو گے۔ یعنی جس طرح مری ہوئی زمین زندہ ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی نباتات اس سے پیدا ہونے لگتی ہے اسی طرح تم بھی مرنے کے بعد اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 1۔ کیونکہ جانور سے زیادہ زور نہیں، اور بےالہام حق کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر تعلیم فرمادی۔
Read the full tafseer →اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے آسمانوں سے پانی نازل کیا اور مردہ زمین کو زندہ کر دیا
11 ؎ مخاطبین کو کہا جا رہا ہے کہ تم نے اپنی زندگی میں بارہا یہ بات دیکھی ہوگی کہ زمین سڑی پڑی ہے اور سبزہ زار کا اس پر نام و نشان بھی باقی نہیں رہا جس طرف نظر اٹھاتے ہو تم کو صاف چٹیل میدان ہی میدان نظر آتا ہے لیکن پھر کیا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس زمین پر بارش برسا دیتا ہے کہ متہارے دیکھتے ہی دیکھتے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اور ابھی چار دن بھی نہیں گزرتے کہ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگتا ہے اور وہ زمین جو کل تک مردہ نظر آتی تھی آج بحمد اللہ زندگی سے بھری پڑی ہے کیا اس طرح کی مثالوں سے تم نہیں سمجھ سکتے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ (and has made for you the boats and the cattle that you ride, - 12). There are two kinds of means of transport employed by man - one those vehicles which are made by man himself, and two the animals in whose creation human effort is not involved at all. 'Boats' include all kinds of man-made vehicles, and 'cattle' include all the animals used for riding. Both these means of transport are great blessings of Allah Ta’ ala. That cattle are Allah's great blessings is obvious, because despite their being many times stronger than man,…
Read the full tafseer →10 That is, "For each region He has ordained an average measure of the rain, which falls year after year for long ages regularly. It does not happen that an area may have two inches of the rainfall one year and 200 inches of it the next year. Then He spreads the rainfall over different places in different times in such a way that it becomes beneficial on the whole for the products of the earth. And this is also His wisdom that He has deprived some parts of the earth of the rainfall almost wholly and turned them into dry, barren deserts, and in some other parts, He sometimes causes famines w…
Read the full tafseer →