Az-Zukhruf 43:10

Az-Zukhruf · from ayah 10

43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّجَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۟ۚالَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ مَهۡدًا وَّ جَعَلَ لَكُمۡ فِيۡهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‌ۚ

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[The one] who has made for you the earth a bed and made for you upon it roads that you might be guided

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:10

وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا۔ اور اس میں تمہارے لئے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا، اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزلِ مقصود تک پہنچ سکو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم راہ پاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے تاکہ تم (اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے) راہ پاسکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے رکھے کہ تم راہ پائو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے بنادیا تمہارے لئے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اس زمین کو ایک عظیم الشان بچھونا اور کھول دئیے اس میں طرح طرح کے راستے تاکہ تم لوگ راہ پا سکو (اپنی منزل مقصود تک رسائی کی)

— مولانا اسحاق مدنی

وہی جس نے تمہارے زمین کو فرش کا بنادیا اور اس میں اس نے تمہارے لیے راستے بنادیئے تاکہ تم راہ پاتے رہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور پھر اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھو نا بنایا اور اس میں تمہارے لیے رستے بنائے تاکہ تم راہ معلوم کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who made this earth for you a cradle and made in it pathways for you that you may find the way to your destination;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the One who has made the earth a cradle for you, and has made for you pathways therein, so that you may be guided,

— Muhammad Taqi Usmani

the One who has made the earth a cradle for you, and has made for you pathways therein, so that you may be guided,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who has made for you the earth like a bed, and has made for you roads therein, in order that you may find your way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who made the earth a resting-place for you, and placed roads for you therein, that haply ye may find your way;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[The one] who has made for you the earth a bed and made for you upon it roads that you might be guided

— Saheeh International

It is He who has made the earth for you as a cradle and has made roads therein so that you will perhaps seek guidance.

— Muhammad Sarwar

He Who made the earth a resting-place for you, and made in it ways for you that you may go aright;

— Muhammad Habib Shakir

Who hath made for you the earth a bed, and hath made for you paths therein that haply ye may be directed.

— Abdul Majid Daryabadi

(Yea, the same that) has made for you the earth (like a carpet) spread out, and has made for you roads (and channels) therein, in order that ye may find guidance (on the way);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–14

اصلی زاد راہ تقویٰ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة الزُّخْرُف 7 دوسرے مقامات پر تو زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ایک بچہ اپنے پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے، ایسے آرام کی جگہ تمہارے لیے اس عظیم الشان کرے کو بنادیا جو فضا میں معلق ہے۔ جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے۔ جسکے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پر سکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

معارف و مسائل (آیت) جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا (تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) مطلب یہ ہے کہ زمین کی ظاہری صورت اور اس کا آرام فرش کا سا ہے، لہٰذا یہ زمین کے گول ہونے کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

الذی جعل لکم الارض مھداً وجعل لکم فیھا بلا لعلکم تھتدون 10 چار آیتیں بطور تضمین یہ آیت اور بعد کی تین آیات مشرکین کے جواب کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تضمین اس حقیقت کے اظہار کے لئے ہیں کہ جو شخص اس کائنات کی خلقت پر تدبر کی نگاہ ڈالے گا وہ اس میں خالق کی قدرت، ربوبیت اور حکمت کے ایسے آثار ائے گا کہ لازماً وہ اس کی توحید کا بھی اقرار کرے گا اور ایک روز جزاء و سزا کا بھی۔ مقصد اس تفصیل سے یہ دکھانا ہے کہ مسترکین کا یہ اعتراف کہ آسمان و زمین کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہی ہے، اگر اپنی صحیح سمت میں آگے بڑھے تو اس کے تضمنات یہ بھی ہیں جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ لیکن مشرکین پہلا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

10۔ 1 ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔ 10۔ 2 یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–12

3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–14

آیت نمبر 9 تا 14 عربوں کے اندر خدا پر یقین تھا ، وہ ملت ابراہیمی پر تھے۔ لیکن عربوں کے اندر ملت ابراہیمی کی بگڑی ہوئی شکل رہ گئی تھی۔ اس میں بہت سی تبدیلیاں ہوگئی تھیں۔ توحید کی جگہ شرف اور دوسرے افسانے اس میں داخل ہوگئے تھے۔ بہرحال وجود باری کے وہ قائل تھے کیونکہ فطرت انسانی بہرحال اس کا انکار نہیں کرسکتی کہ ایک خالق ہے ، جو اللہ ہے۔ کیونکہ کسی خالق کا انکار کوئی سلیم الفطرت انسان نہیں کرسکتا۔ اور کوئی معقول انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ عظیم اور ہولناک کائنات خالق کے بغیر پیدا ہوگئی۔ اس کائنات کو اللہ کے سوا کوئی اور پیدا بھی نہیں کرسکتا کیونکہ اس عظیم کائنات کا خالق تو اس سے بھی عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

2 یعنی جہاں تک انسان بستے ہیں آپس میں مل سکیں، ایک دوسرے تک راہ پائیں اور چل پھر کر دنیاوی و آخروی مقاصد میں کامیابی کا راستہ معلوم کرلیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّجَعَلَ لَکُمْ فِیْہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْن } ”جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور پھر اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو۔“ تاکہ تم ان قدرتی راستوں کی مدد سے اپنی منزلوں تک پہنچ سکو۔ مزید یہ کہ اللہ کی ان نعمتوں پر غور کر کے ہدایت کی منزل مقصود پانے میں کامیاب ہو جائو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 9–10

8 زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ گہوارہ میں بچہ بڑے آرام سے جھولے لیتا ہے، آرام کرتا اور سوتا ہے۔ اس لیے کہ جھولے کی رفتار میں یکسانیت ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت زمین کی ہے جو ایک بہت بڑا عظیم الجثہ کرہ ہے۔ اور فضائے بسیط میں معلق ہزارہا میل فی منٹ کی تیز رفتاری سے محو گردش ہے۔ مگر اس کی اس تیز رفتاری میں بھی یکسانیت ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں اس کی یہ حرکت محسوس تک نہیں ہوتی اگر اس کے اندر سے کوئی آتش فشاں پہاڑ یا آتش گیر مادہ پھٹ پڑے اور اس میں زلزلہ پیدا ہوجائے تو اسی وقت تمہاری جان پر بن جاتی ہے۔ اور پروردگار یاد آنے لگتا ہے اور اگر خدانخواستہ اس کی رفتار میں بےترتیبی واقع ہوجائے تو تمہاری تباہی یقینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–12

7۔ مشرکین کو قائل کرنے کے لئے اب ذات خالق واحد کی دوسری صفات کا بیان ہورہا ہے۔ یعنی جس خالق کو یکتا تم خود تسلیم کرتے ہو، اسی کے صفات و کمالات یہ بھی تو ہیں۔ کائنات کے سارے انتظامات میں بھی تو وہی لاشریک لہ ہے۔ زمین کی یہ خاص ہئیت اسی کی حکمت کاملہ نے بنائی ہے کہ اس پر انسان کا رہنا ممکن ہو۔ سطح زمین کے راستوں، سڑکوں میں تقسیم یہ بھی اسی حکیم مطلق کا فعل ہے کہ تم بآسانی چل پھر سکو، آسمان کی طرف سے پانی برسانا ایک خاص مقدار میں، ایک معین وقت پر، حسب ضرورت ومصلحت، یہ سب بھی بس اسی کا کام ہے پھر اس بارش سے زمین خشک کو سبزہ زار بنادینا اسی کی حکمت وصنعت ہے جو بعث وحشر پر بھی اسی طرح قادر ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی جعل لکم الارض مھدا وجعل لکم فیھا سبلا لعلکم تھتدون جس نے تمہارے (آرام کے) لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ یعنی کفار مکہ سے اگر آپ دریافت کریں۔ مَھْدًا یعنی فرش ‘ جیسے بچہ کا بستر ہوتا ہے۔ سُبُلاً یعنی چلنے کیلئے اس نے زمین میں راستے بنا دئیے۔ لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ تاکہ ان راستوں پر چل کر تم اپنے مقصد تک پہنچ جاؤ ‘ یا یہ مطلب ہے کہ زمین میں پیدا کی ہوئی راہوں پر غور کر کے حکمت صانع کو سمجھنے تک تمہاری ذہنی رسائی ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ فرماتے ہے بیشک یہ اس ذات نے پیدا کیا ہے جس نے زمین کو تمہارے آرام کے لیے فرش بنایا اور اس میں رستے بنائے تاکہ تم ان رستوں کے ذریعے سے اپنی مطلوبہ جگہوں تک پہنچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ الذی جعل لکم الارض مہدا : یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے اپنے احسانات گنوانے شروع فرمائے۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان کا قول نہیں، ورنہ الفاظ یہ ہوتے : الذی جعل لنا الارض مہدا۔ وہ جس نے ہمارے لیے زمین کو بچھونا بنادیا۔ (2) ”مھداً“ کا معنی بچھونا بھی ہے اور بچے کا گہوارہ بھی، یعنی جس طرح آدمی بچھونے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے ایسے ہی تمہارے لئے اس عظیم الشان کرے کو آرام کی جگہ بنادیا، جو فضا میں معلق ہے، جو ایک طرف اپنے محور پر ایک ہزار (1000) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور دوسری طرف چھیاسٹھ ہزار چھ سو (666000) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے، جس کے پیٹ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

الذی جعل لکم الارض مھداو جعل لکم فیھا سبلا لعلکم تھتدون۔ ” جس نے بنا دیا ہے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ اور بنا دیے ہیں تمہارے لیے اس میں راستے تاکہ تم منزل مقصور تک پہنچ سکو “۔ الذی جعل لکم الارض مھدا اللہ تعالیٰ نے کمال قدرت کے ساتھ اپنی صفت بیان کی یہ کلام نئی شروع ہو رہی ہے اپنے بارے میں خبر دی اگر یہ کفار کے قول کی خبر ہوتی تو کلام یوں ہوتی الذی جعل لنا الارض۔ مھدا یعنی بستر اور بچھونا۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ کو فیوں نے اسے مھدا پڑھا ہے وجعل لکم فیھا سملا یعنی زندگی کو اسباب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : سبلا کا معنی ہے راستے تاکہ جہاں تم جانا چاہتے ہو ان میں چلو۔ لعلکم تھتدون تاکہ تم اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–11

6:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” صفحا ان کتنم “ کو الف کے نصب کے ساتھ (آیت ) ’ جعل لکم الارض مھدا “ (جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) میں ’ مھدا “ کو میم کے نصب کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْ [ جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] لَكُمُ الْاَرْضَ [ تمہارے لئے زمین کو ] مَهْدًا [ ایک بچھونا ] وَّجَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا [ اور اس نے بنائے تمہارے لئے اس (زمین ) میں ] سُبُلًا [ کچھ راستے ] لَّعَلَّكُمْ [ شاید کہ تم لوگ ] تَهْتَدُوْنَ [ راہ پاؤ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا ﴾ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا جس پر آرام سے رہتے ہو اور بستے ہو ﴿وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا ﴾ (اور اس نے تمہارے لیے اس میں راستے بنائے) ﴿لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ0010﴾ (تاکہ تم ہدایت پاؤ) یعنی تم اپنے اسفار میں جاؤ تو ان راستوں سے گزرو اور اپنے مقاصد پورے کرو اور یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم فکر کرو اور ہدایت پاؤ اور توحید پر آؤ کہ جس ذات پاک نے یہ زمین پیدا فرمائی اور اس میں راستے بنائے وہ وحدہ لا شریک ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

6:۔ ” الذی جعل لکم “ تا ” ماترکبون “ یہ پہلی عقلی دلیل پر تنویر ہے۔ یعنی یہ تمام اوصاف اسی خالق کائنات کے ساتھ مختص ہیں اور یہ سب کام وہی کرسکتا ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا۔ ” الذی جعل لکم الرض مہدا الخ “ اس نے زمین کو ہمارے لیے آرام و راحت کی جگہ بنادیا جس سے ہمیں ہر ضرورت اور ہر آسائش آسانی سے میسر ہوسکتی ہے۔ اس پر چلنا پھرنا، مکانات عمیر کرنا، کھیتی باڑی کرنا، نہریں کھودنا سب کچھ آسان ہے اور پھر زمین میں راستے بنا دئیے جن کے ذریعے سے ہم بآسانی سفر طے کرسکتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے۔ ” والذی نزل من السماء ماء الخ “ وہی آسمان سے باران رحمت نازل فرم اکر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–14

ربط آیات گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا وَّجَعَلَ لَكُمْ فِيْہَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝ 10 ۚ مهد المَهْدُ : ما يُهَيَّأُ للصَّبيِّ. قال تعالی: كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] والمَهْد والمِهَاد : المکان المُمَهَّد الموطَّأ . قال تعالی: الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْداً [ طه/ 53] ، ومِهاداً [ النبأ/ 6] م ھ د ) المھد ۔ گہوارہ جو بچے کے لئے تیار کیا جائے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے ۔ کیونکہ بات کریں ۔ اور ۔ اور المھد والمھاد ہموار اور درست کی ہوئی زمین کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–14

تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ مَھْدًا وَّ جَعَلَ لَـکُمْ فِیْھَا سُبُلاً لَّعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 10) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنائے تاکہ تم راہ پا سکو۔ ) اللہ تعالیٰ کے چند ارشادات بطورتضمین گزشتہ آیت میں مشرکین کے جواب پر اللہ تعالیٰ نے بطور تضمین کچھ باتیں ارشاد فرمائی ہیں تاکہ انسان اپنے عقیدہ و عمل کے تضادات کی جن بھول بھلیوں میں الجھا ہوا ہے، شاید ان سے نکل سکے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین و آسمان کو پیدا ہی نہیں فرمایا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمین کو بچھونے کی طرف بچھایا اور یہ وہ چیز ہے جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–10

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اقوام کا بنیادی اختلاف اللہ کی توحید تھا اور یہی اختلاف اہل مکہ کو نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ حالانکہ وہ مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اور مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ مکہ والے یہ بھی اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے اور وہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو جانتا اور اس کا خالق اور مالک ہے۔ جب بھی ان سے یہ سوال کیا جاتا تو وہ ان باتوں کا اقرار اور اظہار کرتے تھے۔ اس لیے انہیں فرمایا گیا ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اسی نے تمہارے لیے زمین میں راستے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10: الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ مَہْدًا (جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا) قراءت : کو فی نے مہدًا اور دیگر نے مہادا پڑھا ہے۔ معنی ہر دو کا جائے قرار ہے۔ وَّجَعَلَ لَکُمْ فِیْہَا سُبُلاً (اور اس نے تمہارے لئے رستے بنا دیئے) سبلاً ۔ راستے۔ لَّعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ (تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو) تاکہ تم اپنے سفروں میں ان کے لئے راستہ منزل معلوم کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9، ولئن سالتھم، یعنی اپنی قوم سے سوال کرتے۔ ، من خلق السموات والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم ، اور اقرار کرتے ہیں کہ اللہ ان کا خالق ہے اور اللہ کی عزت وعلم کا اقرار کرتے ہیں ۔ پھر اس کے غیر کی پوجا کرتے ہیں اور بعث پر اس کی قدرت کا انکار کرتے ہیں اپنی انتہائی جہالت کی وجہ سے۔ یہاں تک کہ ان کی خبرختم ہوگئی پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کاریگری پر دلالت کرنے والی چیزوں کی ابتداء کی۔ اور فرمایا :

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 9–14

آیت 9 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 زمین کے عظیم الشان بچھونے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے زمین کو تمہارے لیے ایک عظیم الشان بچھونا بنایا "۔ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال قسم کا بچھونا جو اس کی بےحد و حساب اور گوناں گوں مخلوق اور اس مخلوق کی لاتعداد و بیشمار ضروریات کے لئے کفایت کرتا ہے۔ جبکہ تمہارے بنائے ہوئے بچھونے اے لوگو ! ہر طرح کے تکلفات کے باوجود بمشکل چند آدمیوں کے لئے کافی ہوسکتے ہیں اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں۔ پس " مہداً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے اور اس میں اس طرح کے عظیم الشان مطالب و مضامین کے دفتروں کے دفتر مخفی و مستور ہیں ۔ فسبحان اللہ والحمد للّٰہِ رَبِّ العالمین ۔ سو اس ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–14

اللہ کی نعمتیں تشریح : یہ آیات بظاہر بڑی سیدھی سادی ہیں مگر ان کے اندر بیشمار سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔ مثلاً : زمین کی ساخت اس کے اوپر کئے گئے تمام انتظامات یعنی راستوں کا بننا، پانی کا برسنا پھر نقل و حمل کے ذرائع اور پھر بالآخر مر کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کرجانا۔ یہ سب کچھ کیونکہ ہر روز ہوتا رہتا ہے اس لیے ہمارے لیے معمولی باتیں ہیں۔ لیکن جب ہم ان تمام چیزوں پر غور کرتے ہیں تو پھر ہمیں ان تمام باتوں کی تہہ میں بڑے بڑے عجیب و غریب راز دکھائی دیتے ہیں جو اللہ کی عظمت اور طاقت کا زندہ ثبوت ہیں سب سے پہلے ہم زمین کو لیتے ہیں زمین کے بارے میں بڑی تفصیلات بیان کی جا چکی ہیں۔ مختصراً یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 4 یعنی تمہاری ضرورت اور مصلحت کے مطابق آسمان سے بارش کا انتظام فرمایا تاکہ تمہاری اور تمہارے جانوروں کی معیشت کا سامان مہیا ہو۔ اگر بےاندازہ مینہ برساتا تو کھیتیاں تباہ ہوجاتیں اور مکانات ڈھے جاتے اور اگر اندازہ سے کم برساتا تو تمہاری ضرورت پوری نہ ہوتی اور قحط پڑجاتا۔ (کذا قال ابن عباس ؓ

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:10) فائدہ : آگے آیات 10-11-12 ۔ میں اس ذات العزیز العلیم کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ مھدا مصدر ہے (باب فتح) بستر بچھانا۔ ٹھکانا بنانا۔ مھاد جمع امھدۃ و مھد : بستر، ہموار زمین۔ فرش، جیسا کہ فرمایا : وجعل لکم الارض فراشا (2:22) جس نے زمین کو تمہارے لئے بچھونا بنایا۔ لکم میں ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مفعول لہ جعل کا۔ الارض مفعول ثانی۔ سبلا۔ راستے سبیل کی جمع جعل کا مفعول ثالث۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب مفعول فیہ الارض کی طرف راجع ہے۔ لعلکم تھتدون : تاکہ ان راستوں پر چل کر اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ فائدہ : (2) زمین کے سارے جغرافیائی تغیرات جن سے انسان کو مدد مل سکتی ہے اس کے تحت میں آگئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–10

توحید کا بیان اور عجائبات قدرت۔ (ف 1) اس آیت میں فرمایا اگر تم ان مشرکین سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائی تو یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ صاحب قدرت اور صاحب علم نے پیدا کیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ زمین کو اس نے اونچا نیچا نہیں بنایا، تاکہ لوگوں کو چلنے پھرنے میں تکلیف نہ ہو، بلکہ اس کو فرش کی طرح برابر بنایا، اسی طرح زمین کاہلنا بند کرنے کے لیے اس میں پہاڑ جو ٹھونکے تو اس حکمت سے کہ ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھیں تاکہ لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو جانے میں کچھ دشواری اور مشکل نہ پیش آوے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[6] یعنی پہاڑوں کے درمیان درے اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جن کے ذریعے انسان آپس میں مل سکیں اور اپنے دنیوی و اخروی مقاصد کے حصول کے لئے راستہ معلوم کرلیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–12

آیت 8 ۔ 11 یعنی یہ لوگ جہاں تک ان کی فطرت صالحہ کا تعلق ہے خدا کی توحید کے مقر اور معترف ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ۔ تو صاف کہہ دیتے ہیں ۔ کہ خدائے عزیز وعلیم نے جس نے زمین کو فرش کی طرح پاؤں تلے بچھا رکھا ہے اور اس میں مختلف راہیں پیدا کی ہیں ۔ جس نے آسمان سے انداز کے ساتھ پانی اتارا ہے ۔ اور مردہ زمینوں کو اس سے زندگی بخشی ہے ؟ فرمایا ۔ اگر یہ حقیقت درست ہے ۔ تو پھر تمہیں حشر ونشر میں کیا شبہ ہے ؟ کیا وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور بچھونا بنایا اور اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ زمین کو پھیلانا اور بچھانا پھر اس میں راستے اور بٹیا میں قائم کرنا یہ اس کا کام ہے تاکہ تم راہ پائو اور منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ یہ ہر مسافر جانتا ہے کہ سفر طے کرنے اور منزل پر پہنچنے کے لئے شاہراہ سڑک اور بٹیا کس قدر ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–13

ف 1۔ کیونکہ جانور سے زیادہ زور نہیں، اور بےالہام حق کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر تعلیم فرمادی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ نے تمہارے انسانوں کے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا 10 ؎ جہاں بھی مشرکین کے شرک کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی توحید الٰہی کا بیان بھی کردیا جاتا ہے اور یہی طریقہ اس جگہ اختیار کیا گیا۔ گزشتہ آیت میں مشرکین کے شرک کا ذکر کیا گیا تھا اس لیے اب توحید الٰہی کا بیان کا آگیا ہے اور توحید کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہی ذات ہے جس نے انسانوں کے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا ہے اگر انسان اپنی ذات میں ذرا غور کرے اور اس کائنات کی کسی چیز پر بھی غورو فکر شروع کر دے تو وہ ہر ایک جگہ قدرت الٰہی کے نشانات پائے گا کہ لازماً اس کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرنا پڑے گا جیسا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–10

Commentary جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

7 At other places the earth has been described as a bed, but here as a cradle. That is, just as a child lies resting in its cradle, so is this great globe meant to be a place of rest for you, which is suspended in space, which is spinning on its axis at a speed of 1,000 miles an hour, which is revolving around the sun at a speed of 66,000 miles an hour. Its interior is so intensely hot that it can melt the stones and it manifests its power sometimes in the form of volcano eruptions. But, in spite of that, the Creator has made it so tranquil that one sleeps on it. in fill peace and there is no…

Read the full tafseer →