اصلی زاد راہ تقویٰ ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی ﷺ اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
سورة الزُّخْرُف 7
دوسرے مقامات پر تو زمین کو فرش سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں اس کے لیے گہوارے کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی جس طرح ایک بچہ اپنے پنگھوڑے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے، ایسے آرام کی جگہ تمہارے لیے اس عظیم الشان کرے کو بنادیا جو فضا میں معلق ہے۔ جو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اپنے محور پر گھوم رہا ہے۔ جو 66600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے۔ جسکے پیٹ میں وہ آگ بھری ہے کہ پتھروں کو پگھلا دیتی ہے اور آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر کبھی کبھی تمہیں بھی اپنی شان دکھا دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود تمہارے خالق نے اسے اتنا پر سکون بنادیا ہے کہ تم آرام سے اس پر سوتے ہو اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ ان کو زبردست جاننے والے (خدا) نے پیدا کیا ہے (اور ظاہر ہے کہ جس ذات نے تنہا یہ عظیم مخلوقات پیدا کی ہوں عبادت بھی تنہا اسی کی کرنی چاہئے، لہٰذا توحید خود ان کے اعتراف سے ثابت ہوگئی۔ آگے اللہ تعالیٰ توحید کو مزید مدلل کرنے کے لئے اپنے وہ افعال بیان فرماتے ہیں جو توحید پر دلالت کرنیوالے ہیں یعنی یہ زمین و آسمان اس نے پیدا کیے ہے) جس نے تمہارے (آرام کے) لئے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا (کہ اس پر آرام کرتے ہو) اور اس (زمین) میں اس نے تمہارے (منزل مقصود تک پہنچنے کے) لئے رستے بنائے تاکہ (ان راستوں پر…
Read the full tafseer →مشرکین کے تضاد فکر کی وضاحت
ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیفولن خلقھن العزیز العلیم 9
یہ قریش کے کفر و شرک اور ان کی اس ضد و مکایرت کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر آیت 5 میں ان کنتم قوما مسرفین کے الفاظ سے گزر چکا ہے۔ یہ بیان آگے دور تک جائے گا فرمایا کہ یہ یوں تو اپنے دین شرک کی حمایت میں تم سے لڑنے کے لئے آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک شدید قسم کے تضاد فکر میں مبتلا ہیں جس کی طرف ان کا جوش مخالفت ان کو متوجہ ہونے نہیں دے رہا ہے۔ اگر تم ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب لازماً وہ یہی دیں گے کہ ان کا خالق خدائے عزیز وعلیم ہے لیکن دوسری طرف ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
10۔ 1 ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔
10۔ 2 یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
2 یعنی جہاں تک انسان بستے ہیں آپس میں مل سکیں، ایک دوسرے تک راہ پائیں اور چل پھر کر دنیاوی و آخروی مقاصد میں کامیابی کا راستہ معلوم کرلیں۔
Read the full tafseer →آیت 9{ وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ } ”اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ لازماً یہی کہیں گے کہ انہیں بنایا ہے اس ہستی نے جو العزیز اور العلیم ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
8 زمین گہوارہ کیسے ہے ؟ گہوارہ میں بچہ بڑے آرام سے جھولے لیتا ہے، آرام کرتا اور سوتا ہے۔ اس لیے کہ جھولے کی رفتار میں یکسانیت ہوتی ہے۔ بالکل یہی صورت زمین کی ہے جو ایک بہت بڑا عظیم الجثہ کرہ ہے۔ اور فضائے بسیط میں معلق ہزارہا میل فی منٹ کی تیز رفتاری سے محو گردش ہے۔ مگر اس کی اس تیز رفتاری میں بھی یکسانیت ہے۔ جس کی وجہ سے تمہیں اس کی یہ حرکت محسوس تک نہیں ہوتی اگر اس کے اندر سے کوئی آتش فشاں پہاڑ یا آتش گیر مادہ پھٹ پڑے اور اس میں زلزلہ پیدا ہوجائے تو اسی وقت تمہاری جان پر بن جاتی ہے۔ اور پروردگار یاد آنے لگتا ہے اور اگر خدانخواستہ اس کی رفتار میں بےترتیبی واقع ہوجائے تو تمہاری تباہی یقینی…
Read the full tafseer →6۔ جہاں تک نفس تخلیق کا سوال ہے۔ مشرکین بھی اکثر اور عموما توحیت ذات ہی کے قائل ہیں اور صفت خالقیت میں بہت کم کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ سارا زور شرک کا صفات ربوبیت وغیرہ میں اچھل پڑتا ہے۔ مشرکین عرب بھی خالق کو واحد ہی تسلیم کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم اور اگر آپ ان (کفار
مکہ) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ لامحالہ یہی کہیں گے کہ ان کو ایک غالب دانا ہستی نے پیدا کیا۔
یہ کافروں کا مقولہ اللہ نے نقل کیا ہے ‘ یا یہ کہ ان کے قول کو اللہ کا غالب اور علیم ہونا لازم تھا ‘ اسلئے اس کو ان کا مقولہ قرار دیا۔
Read the full tafseer →اور اگر آپ ان مکہ والوں سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے تو یقینا یہ لوگ یہی کہیں گے کہ اس اللہ نے پیدا کیا ہے جو اپنی سلطنت اور بادشاہت میں زبردست اور خلق و تدبیر سے بخوبی واقف ہے۔
Read the full tafseer →1۔ ولئن سالتہم من خلق السموات والارض : یہاں سے کفار کے قول و فعل کا تضاد واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کو ناممکن قرار دیتے ہیں، حالانکہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقیناً کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر یہ کیا ستم ہے کہ یہ لوگ اس ذات کے ساتھ جس نے آسمان و زمین اور پوری کائنات کو پیدا کیا، ایسی ہستیوں کو شریک کر رہے ہیں جنہوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ پھر ظاہر ہے کہ یہ بات کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، پہلے…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقو لن خلقھن العزیز العلیم۔ ” اور آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو ضرور کہیں گے : پیدا کیا ہے انہیں بڑے زبردست سب کچھ جاننے والے نے “۔
ولئن سالتھم ضمیر سے مراد مشفکین ہیں من خلق السموت والارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم۔ خلق اور ایجاد کا اس کے لیے اقرار کیا پھر اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی یہ ان کی طرف سے جہالت ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
5:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومضٰی مثل الاولین “ (اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے) یعنی پہلے لوگوں کی سزا (گزر چکی ہے )
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ [ اور اگر آپ پوچھیں ان سے ] مَّنْ خَلَقَ [ کس نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [ آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [ تو وہ سب لازما کہیں گے ] خَلَقَهُنَّ [ پیدا کیا ان سب کو ] الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ [ اس بالا دست باخبر نے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →5:۔ ” ولئن سالتہم۔ الایۃ “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی اللہ کی توحید اور اس کے شریک اور نائب متصرف سے منزہ ہونے پر ایک ایسی حقیقت سے استدلال کیا گیا ہے جسے مشرکین قریش تسلیم کرتے اور اس کا اعتراف کرتے تھے۔ یعنی ان سے پوچھو تو سہی کہ زمین و آسمان کا خالق اور موجد کون ہے ؟ تو صاف اقرار کریں گے کہ اللہ تعالیٰ جو سب پر غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے وہی زمین و آسمان کا خالق ہے۔ جب تم نے تسلیم کرلیا کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا خالق اور موجد اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ساری کائنات کی ایجاد میں اس کا کوئی شریک اور معاون و مشیر نہیں ہے، تو معبودانِ باطلہ کو اس کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
ربط آیات
گزشتہ درس میں سورة الرخرف کا آغاز تھا ۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کے متعلق فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے ، یہ کتاب اللہ نے عربی زبان میں نازل فرمائی ہے اور یہ اس کے نزدیک لوح محفوظ میں محفوظ ہے اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے منکرین کی قبیح حرکات کی وجہ سے ہم اس کے نزول کو موقوف نہیں کرنے دیں گے بلکہ اس نصیحت کی تکمیل ضرور کریں گے تا کہ کسی شخص کو بعد میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ ملے کہ اسے سمجھایا نہیں کیا ۔ بعض لوگ سلیمہ الفطرت بھی ہوتے ہیں جو حق بات کو فوراً قبول کرلیتے ہیں ، لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ نصیحت کو روکا نہیں جائے گا ۔ اور اس سے مستفید ہونے کا پورا پورا…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ 9 ۙ
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
تفسیر : اب اور جواب دیتا ہے اور اس کے ضمن میں اپنے انعام بیحد بھی یاد دلاتا ہے اور اپنی قدرت کاملہ کا ثبوت دے کر توحید ثابت کرتا ہے اور ان انعام پر بندے کی اوروں کو شریک بنانے پر اس کی شکایت کرتا ہے۔ واللہ کیا بحرذخارکلام ہے جس کے اندر سینکڑوں گوشوں میں ہزاروں دُرِّشہوار رکھے ہوئے ہیں اور کس طرح سے مسلسل کلام چلا آتا ہے فقال ولئن سالتہم الخ اگر ان سے اے محمد ﷺ پوچھو گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ؟ تو کہیں گے اللہ نے جو زبردست ‘ حکمت والا ہے۔ پس جس نے تمہارے لیے آسمان اور زمین بنائے اور جعل لکم الارض مہدا اور زمین کو تمہارا بچھونا بنایا کہ اس پر چلتے پھرتے ہو وجعل لکم فیھا سبلا اور…
Read the full tafseer →وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُالْعَلِیْمُ ۔ (الزخرف : 9)
(اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ لازماً کہیں گے کہ ان کو پیدا کیا ہے اس ذات نے جو زبردست بھی ہے اور علم والی بھی ہے۔ )
مشرکین کے تضادفکر کی مثال
اس سے پہلے قریش کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی حدود سے تجاوز کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے ذہنی تضاد کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اقوام کا بنیادی اختلاف اللہ کی توحید تھا اور یہی اختلاف اہل مکہ کو نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ حالانکہ وہ مانتے تھے کہ کائنات کا خالق اور مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ مکہ والے یہ بھی اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے اور وہ کائنات کے ذرہ ذرہ کو جانتا اور اس کا خالق اور مالک ہے۔ جب بھی ان سے یہ سوال کیا جاتا تو وہ ان باتوں کا اقرار اور اظہار کرتے تھے۔ اس لیے انہیں فرمایا گیا ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اسی نے تمہارے لیے زمین میں راستے…
Read the full tafseer →آیت 9: وَلَپنْ سَاَلْتَہُمْ (اور اگر آپ ان سے پوچھیں) یعنی مشرکین سے۔ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ (کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ ان کو زبردست جاننے والے نے پیدا کیا ہے)
Read the full tafseer →8، فاھلکنا اشد منھم بطشا، یعنی آپ (علیہ السلام) کی قوم سے بھ زیادہ طاقت ور وہ پہلے لوگ جن کو رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ، ومضی مثل الاولین، یعنی ان کی صفت اور ان کا طریقہ اور ان کی سزا۔ پس ان لوگوں کا انجام اسی طرح ہلاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
آیت 9
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے : (ولئن سالتھم من خلق المسوت والارض لیقولن) ”(اگر) آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً وہ کہیں گے۔ “ ان کو اللہ وحدہ لاشریک نے پیدا کیا جو غلاب ہے جس کے غلبہ کے سامنے اولین و آخرین تمام مخلوقات اپنے ظاہر و باطن کے ساتھ سرنگوں ہے۔ جب وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ اللہ کا بیٹا، اس کی بیوی اور اس کے شریک کیسے ٹھہراتے ہیں ؟ اور ان ہستیوں کو اس کا شریک کیوں کر قرار دیتے ہیں جو پیدا کرسکتی ہیں نہ رزق عطا کرسکتی ہیں اور نہ زندگی اور موت ان کے اختیار میں ہے ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان دلائل کا بھی ذکر کیا جو اس کی…
Read the full tafseer →9 مشرکین کا اقرار کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین ۔ کی اس عظیم الشان کائنات ۔ کو ؟ تو اس کے جواب میں یہ لوگ یقینا یہی کہیں گے کہ ان کو اسی نے پیدا فرمایا ہے جو بڑا ہی زبردست سب کچھ جاننے والا ہے "۔ سو جب انہیں یہ تسلیم ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر استحقاق عبودیت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ عجیب مت ماری گئی ان لوگوں کی کہ مقدمات تو سب کے سب پوری طرح تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے نتائج سے انکار کرتے ہیں ۔ { فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ؟ } ۔ یہاں سے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے
تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اسے زبردست علم والا بھی مانتے ہیں لیکن عبادت دوسروں کی کرتے ہیں۔ یہ ان کے انتہائی بدبخت اور مستحق عذاب ہونے کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →(43؛9) ولئن واؤ عاطفہ ہے لام تاکید کے لئے ہے ان حرف شرط۔
سألتہم صیغہ واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ مراد ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل مکہ کے مسرفین المشرکین مراد ہیں سارا جملہ شرط ہے اور اگلا جملہ لیقولن ۔۔ العلم جواب شرط ہے۔
لیقولن لام جواب شرط کے لئے ہے۔ لیقولن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور کہیں گے۔
خلقھن : ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب السموت والارض کی طرف راجع ہے۔
العزیز : عزۃ سے فعیلن کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ زبردست، غالب، گرامی قدر۔
العلیم : فعلین کے وزن پر علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے، بہت بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
توحید کا بیان اور عجائبات قدرت۔
(ف 1) اس آیت میں فرمایا اگر تم ان مشرکین سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائی تو یہی جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ صاحب قدرت اور صاحب علم نے پیدا کیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ زمین کو اس نے اونچا نیچا نہیں بنایا، تاکہ لوگوں کو چلنے پھرنے میں تکلیف نہ ہو، بلکہ اس کو فرش کی طرح برابر بنایا، اسی طرح زمین کاہلنا بند کرنے کے لیے اس میں پہاڑ جو ٹھونکے تو اس حکمت سے کہ ان پہاڑوں میں گھاٹیاں رکھیں تاکہ لوگوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر کو جانے میں کچھ دشواری اور مشکل نہ پیش آوے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
[6] یعنی پہاڑوں کے درمیان درے اور میدانی علاقوں میں دریا وہ قدرتی راستے ہیں جن کے ذریعے انسان آپس میں مل سکیں اور اپنے دنیوی و اخروی مقاصد کے حصول کے لئے راستہ معلوم کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
آیت 8 ۔ 11
یعنی یہ لوگ جہاں تک ان کی فطرت صالحہ کا تعلق ہے خدا کی توحید کے مقر اور معترف ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ۔ تو صاف کہہ دیتے ہیں ۔ کہ خدائے عزیز وعلیم نے جس نے زمین کو فرش کی طرح پاؤں تلے بچھا رکھا ہے اور اس میں مختلف راہیں پیدا کی ہیں ۔ جس نے آسمان سے انداز کے ساتھ پانی اتارا ہے ۔
اور مردہ زمینوں کو اس سے زندگی بخشی ہے ؟ فرمایا ۔ اگر یہ حقیقت درست ہے ۔ تو پھر تمہیں حشر ونشر میں کیا شبہ ہے ؟ کیا وہ اسی طرح تمہیں دوبارہ زندہ کردینے پر قادر نہیں ؟
Read the full tafseer →(9) اور اے پیغمبر اگر آپ ان منکرین سے دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقینا یہی جواب دیں گے کہ ان کو اس کمال قوت اور کمال علم کے مالک نے پیدا کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی خالقیت کے منفرد ہونے کے یہ بھی قائل ہیں مگر اپنی ضد میں اتنی بات نہیں سمجھتے کہ انفرادفی الخالقیت مستلزم ہے انفرادنی الدلوہیت کو یہ لوگ اس کو خالقیت میں تو یکتا مانتے ہیں لیکن پھر اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا اور کس نے پیدا کیا تو یہ ضرور جواب دیں گے ک ان کو اس نے پیدا کیا جو اپنی قوت و طاقت اور اپنے غلبہ میں بڑا زبردست ہے اور اسی طرح اپنے علم…
Read the full tafseer →ف 7۔ اور انفراد فی الخلق مستلزم ہے انفراد فی الالوہیت کو پس توحید ان کے اعتراف سے ثابت ہوگئی۔
Read the full tafseer →مشرکین کی تضاد بیانی آج سے نہیں شروع سے چلی آرہی ہے
9 ؎ کسی مشرک قوم کے حالات کا گہرائی میں اتر کر آپ مطالعہ کریں تو ہر قوم کے لوگ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کو ماننے والے ملیں گے ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا اقرار کریں گے اور دوسری طرف شرک کے مرتکب بھی ہوں گے جیسا کہ آپ ﷺ کی قوم کا حال ہے کہ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو فوراً دو ٹوک جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات آسمانوں کی خالق اور زمین کو پیدا کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی غالب آنے والا اور جاننے والا ہے۔ اور دوسری طرف زور دے کر کہیں گے کہ جن کو ہم پکارتے اور سورتے ہیں وہ محض اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
Commentary
جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7 At other places the earth has been described as a bed, but here as a cradle. That is, just as a child lies resting in its cradle, so is this great globe meant to be a place of rest for you, which is suspended in space, which is spinning on its axis at a speed of 1,000 miles an hour, which is revolving around the sun at a speed of 66,000 miles an hour. Its interior is so intensely hot that it can melt the stones and it manifests its power sometimes in the form of volcano eruptions. But, in spite of that, the Creator has made it so tranquil that one sleeps on it. in fill peace and there is no…
Read the full tafseer →