Az-Zukhruf 43:8

Az-Zukhruf · from ayah 8

43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ۟فَاَهۡلَـكۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ بَطۡشًا وَّمَضٰى مَثَلُ الۡاَوَّلِيۡنَ

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We destroyed greater than them in [striking] power, and the example of the former peoples has preceded.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:8

پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلے لوگوں کی حالت گزر گئی

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جو لوگ ان (مکہ والوں) سے کہیں زیادہ زور آور تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان پچھلے لوگوں کا حال پیچھے گزر چکا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اِن (کفّارِ مکہ) سے زیادہ زور آور لوگوں کو ہلاک کر دیا اور اگلے لوگوں کا حال (کئی جگہ پہلے) گزر چکا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے ان سے زیادہ سخت پکڑ والوں کو ہلاک کردیا اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا (حالانکہ) وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے اور پہلے لوگوں میں ایسی کئی مثالیں گزر چکی ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو ہم نے ان سے زیادہ زور آوروں کو ہلاک کر چھوڑا اور اگلوں کی مثالیں گزر چکی ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آخرکار ہم نے ہلاک کر ڈالا ان کو جو طاقت میں (موجودہ دور کے منکرین حق سے) کہیں بڑھ کر سخت تھے اور گزر چکیں مثالیں پہلوں کی

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان (موجودہ مخاطبین) سے بھی زیادہ زور آور تھے غارت کرڈالا اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نے انہیں ہلاک کردیا جو ان سے بہت زیادہ بڑھ کر تھے قوت میں اور پہلے لوگوں کی مثالیں گزر چکی ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو جو ان میں سخت زور والے تھے ان کو ہم نے ہلاک کردیا اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We utterly destroyed them although they were greater in might than these. The examples of ancient peoples have gone before.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So We have destroyed those who were stronger than these (people of Makkah) in power, and the example of the earlier people has already passed.

— Muhammad Taqi Usmani

So We have destroyed those who were stronger than these (people of Makkah) in power, and the example of the earlier people has already passed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We destroyed men stronger (in power) than these and the example of the ancients has passed away.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We destroyed men mightier than these in prowess; and the example of the men of old hath gone (before them).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We destroyed greater than them in [striking] power, and the example of the former peoples has preceded.

— Saheeh International

We destroyed the strongest among them in power. The stories of the ancient people have already been mentioned.

— Muhammad Sarwar

Then We destroyed those who were stronger than these in prowess, and the case of the ancients has gone before,

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore We destroyed peoples mightier than these in prowess; and there hath gone forth the example of the ancients.

— Abdul Majid Daryabadi

So We destroyed (them)- stronger in power than these;- and (thus) has passed on the Parable of the peoples of old.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–8

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے، اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کرلیں۔ فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے (لدینا) سے مراد ہمارے پاس (لعلی) سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ (حکیم) سے مراد (محکم) مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہوجانے سے پاک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 6 یعنی خاص لوگوں کی بیہودگی کا نتیجہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ پوری نوع انسانی کو نبوت اور کتاب کی رہنمائی سے محروم کردیا جاتا، بلکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جو لوگ باطل پرستی کے نشے اور اپنی قوت کے گھمنڈ میں بد مست ہو کر انبیاء کا مذاق اڑانے سے باز نہ آئے انہیں آخر کار تباہ کردیا گیا۔ پھر جب اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا تو جس قوت کے بل پر یہ قریش کے چھوٹے چھوٹے سردار اکڑ رہے ہیں اس سے ہزاروں گنی زیادہ طاقت رکھنے والے بھی مچھر اور پسو کی طرح مسل کر رکھ دیئے گئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–8

مبلغ کو مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے (کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو ؟) مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی میں خواہ کتنے ہی حد سے گزر جاؤ لیکن ہم تمہیں قرآن کے ذریعہ نصیحت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہو اسے ہر شخص کے پاس پیغام حق لے کر جانا چاہئے اور کسی گروہ یا جماعت کو تبلیغ کرنا محض اس بنا پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ تو انتہا درجے کے ملحد بےدین یا فاسق و فاجر ہیں انہیں کیا تبلیغ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

وکم ارسلنا من نبی فی الاولین، وما یا تیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزون فا ھلکنا اشد منھم بطثا و مضی مثل الاولین (8-6) مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی ﷺ سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ساتھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لئے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کردیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–8

8۔ 1 یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً) 40۔ غافر :82) ' وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–12

3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–9

درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی عبرت کے لیے ان مکذبین کی تباہی کی مثالیں پیش آچکیں اور پہلے مذکور ہو چکیں جو زور و قوت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ جب وہ اللہ کی پکڑ سے نہ بچ سکے تو تم کا ہے پر مغرور ہوتے ہو۔ آگے اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت اور کمال تصرف کا ذکر کرتے ہیں جو ایک حد تک ان کے نزدیک بھی مسلم تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { فَاَہْلَکْنَآ اَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشًا } ”پھر ہم نے انہیں ہلاک کردیا جو ان سے بہت زیادہ بڑھ کر تھے قوت میں“ ہم نے ماضی میں بہت سی ایسی قوموں کو بھی نیست و نابود کردیا جو قریش ِمکہ ّسے کہیں بڑھ کر زور آور تھیں اور ان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔ تو یہ کس کھیت کی مولی ہیں ؟ { وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ } ”اور پہلے لوگوں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔“ اقوامِ ماضی کے تفصیلی واقعات اور ان کے انجام کے بارے میں حقائق ان لوگوں کو بار بار بتائے جا چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 پہلی قومیں قدو قامت، ڈیل ڈول، طاقت و قوت غرض ہر لحاظ سے تم سے آگے تھیں۔ جب انہوں نے ہماری آیات اور ہمارے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں تباہ کرکے رکھ دیا تھا اور اب تم بھی وہی کام کر رہے ہو لہذا سمجھ لو کہ اب تمہاری تباہی کی باری آچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (اس لئے آپ فکرنہ کریں، ان کا بھی یہی انجام ہونا ہے، اور خود یہ بھی مطمئن نہ رہیں کہ آخر پرانے نمونے ان کے سامنے موجودہی ہیں)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاھلکنا اشد منھم بطشاء ومضی مثل الاولین نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ایسے لوگوں کو غارت کر ڈالا جو ان سے زیادہ زور آور تھے اور پہلے لوگوں کی یہ حالت (یعنی پیغمبروں کے انکار اور ان سے استہزاء کی وجہ سے تباہی) ہوچکی ہے۔ وَمَا یَأتِیْھِمْ گذشتہ حال کا بیان ہے ‘ یعنی ان کے پاس کوئی نبی ایسا نہ آتا تھا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو۔ مِنْ نَّبِیِّ- مِن زائد ہے ‘ یعنی کوئی نبی۔ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُونَ اس میں رسول اللہ ﷺ کیلئے پیام تسکین ہے (یعنی صرف آپ ہی کے ساتھ کافر یہ معاملہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ تمام انبیاء کے ساتھ ان کا سلوک یہی ہوتا رہا ہے) ۔ فَاَھْلَکْنَا یعنی ان مکہ والوں سے جو پہلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

نتیجہ یہ ہوا کہ اہل مکہ میں جو زور اور طاقت میں بڑھے ہوئے تھے ہم نے ان کو پکڑ لیا اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی ہے کہ انبیاء کرام کی تکذیب کے وقت ان پر عذاب نازل ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاھلکنا اشد منھم بطشاً : یعنی ان کفار کی کیا حیثیت ہے، جو لوگ قوت اور گرفتمیں ان سے کہیں زیادہ تھے ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انھیں بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔”ان کنتم قوماً مسرفین“ میں جن قریش مکہ کو مخاطب کیا تھا اب ”اشدمنھم بطشاً“ میں ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہے۔ یہ التفات ہے، مقصود ناراضی کا اظہار ہے۔ 2۔ ومضی مثل الاولین : یعنی قرآن میں ایسے پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی ہے۔ مثل کا معنی صفت اور حال بھی ہوتا ہے، یعنی پہلے لوگوں کا حال گزر چکا ہے، جیسے قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ۔ مضی یمضی کا معنی ہے جاری ہونا، یعنی پہلے لوگوں کی مثال چل پڑی اور ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

ومایا تیھم من نبی یعنی ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ لوگ اس کے ساتھ مذاق اڑایا کرتے تھے جس طرح آپ کی قوم آپ کا مذاق اڑاتی ہے نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔ فاھلکنا اشد منھم بطشا یعنی ایسی قوم کو ہلاک کیا جو قوت میں ان سے گڑھ کر تھی منھم میں ضمیر مشرکین کر طرف لوٹ رہی ہے جو افنضرب عنکم الذکر صفحا کے مخاطب ہے پہلے خطاب کیا اس کے بعد ضمیر ذکر کی اشدیہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے ؛ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مفعول ہے یعنی وہ لوگ جو بدن اور پیروکاروں کے اعتبار سے ان سے قوی تھے انہیں ہلاک کردیا و مضی مثل الاولین۔ یہاں مثل سے مراد عقوبت ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

5:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومضٰی مثل الاولین “ (اور پہلے لوگوں کی یہ حالت گزر چکی ہے) یعنی پہلے لوگوں کی سزا (گزر چکی ہے )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَهْلَكْنَآ [ تو ہم نے ہلاک کیا ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ ان میں سے زیادہ سخت کو ] بَطْشًا [ بلحاظ گرفت کرنے کے ] وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ [ اور گزر چکی اگلے لوگوں کی مثال ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–9

آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

4:۔ ” وکم ارسلنا “ تا ” مثل الاولین “۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور اس سے مقصود ترغیب ہے۔ مشرکین مکہ کا انکار کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے بھی ہم نے گذشتہ امتوں میں پیغمبر بھیجے۔ ان کے پاس جو پیغمبر بھی آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا تمسخر اڑایا تو ہم نے شرک کے ان متمرد اور سرکش سرغنوں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین قریش سے زیادہ سخت گیر، ان سے زیادہ طاقتور اور ان سے کہیں بڑے اور مضبوط جتھے والے تھے امم سابقہ کی مثال گذر چکی ہے اس لیے مشرکین قریش کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر نازل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَہْلَكْنَآ اَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشًا وَّمَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ۝ 8 هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ فَاَھْلَـکْنَـآ اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الزخرف : 6 تا 8) (پہلی گزری ہوئی قوموں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے۔ اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ تو پھر ہم نے ہلاک کردیا ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو اور پچھلی قوموں میں مثالیں گزر چکی ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی تائید تاریخ سے اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور مخالفین کو اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–8

فہم القرآن ربط کلام : اگر لوگوں کا ایک طبقہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو کیا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی راہنمائی نہ کرے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ مہربان ہے اور اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے جس کے لیے اس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کا ترجمان، ان کے مضامین کا محافظ، پُر حکمت، عالی مرتبت اور عربی زبان میں ہے۔ اس کے باوجود اہل مکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ ہر صورت قرآن مجید کی آوازکو دبا دیا جائے۔ اسی بنیاد پر وہ نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ وہ کسی طرح بھی گوارہ نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وعدئہ نصرت اور وعید : آیت 8: فَاَہْلَکْنَآ اَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشًا (پھر ہم نے ان لوگوں کو جو ان سے زیادہ طاقت ور تھے ہلاک کر ڈالا) بطشًا یہ تمیز ہے۔ اور ہم کی ضمیر مسرفین کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ خطاب کو ان سے پھیر کر رسول اللہ ﷺ کی طرف کردیا ان کے متعلق اطلاع دے رہے ہیں۔ وَّمَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ (اور پہلے لوگوں کی یہ حالت ہوچکی ہے) ان کے واقعات قرآن مجید میں کئی مرتبہ گزر چکے ہیں اور ان کی عجیب حالت اسی قابل ہے کہ بطور مثل مشہور ہو۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وعدہ (نصرت) اور ان کو وعید (عذاب) ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7، وما یاتیھم ، یعنی اور نہیں آتا تھا ان کے پاس ۔ ، من نبی الاکانوابہ یستھزؤن ، جیسا آپ (علیہ السلام) کی قوم آپ (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 8 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انہیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے، پس کتنے ہی (ارسلنا من نبی فی الاولین) ” نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔ “ جو انہیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ (وما یاتیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزء ون) ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ (فاھلکنا اشد) ” پس ہم نے انہیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔ “ ان لوگوں سے (بطشا) ” قوت میں۔ “ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے (ومصی مثل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ گزر چکی ہیں عبرتناک مثالیں پہلے لوگوں کی۔ اسی قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات پر۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ پس اس میں بڑا درس عبرت ہے دور حاضر کے اور اس کے بعد کے جملہ کفار و منکرین کے لئے کہ جس انجام سے گزشتہ دور کی یہ مختلف اقوام دوچار ہوئیں وہ ان دور حاضر کے منکرین کو بھی پیش آسکتا ہے کہ اللہ پاک کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے ۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ (الاحزاب : 62) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَجَعَلْنَاہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً للآخِرِیْنَ } ۔ (الزخرف : 56) سو ان عبرتناک مثالوں میں بڑا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–8

ف 2 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” پہلے لوگوں کی مثال چلی آئی “۔ یعنی ان کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا اور لوگ عبرت کے لئے اسے بیان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:8) فاہلکنا اشد منھم بطشاسببیہ ہے اہلکنا ماضی جمع متکلم۔ اہلاک (افعال) مصدر اشد افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ قوی تر۔ نہایت قوی منھم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب المسرفین المخاطبین کی طرف راجع ہے جس سے مراد مکہ کے مسرفین ہیں بطشا بوجہ تمیز منصوب ہے۔ بطش بمعنی قوت، سختی۔ پکڑ، گرفت، مصدر بدیں سبب ہم نے ان لوگوں کو جو ان (موجودہ مخاطبین) سے بھی زیادہ زور آور تھے غارت کر ڈالا۔ فاہلکنا قوما اشد بطشا من کفار مکۃ الذین کذبوا نبینا بسبب تکذیبھم رسلہم فلیحذر الذین کذبوک ان نھلکہم بسبب ذلک کما اہلکنا الذین کانوا اشد منھم بطشا ای اکثر منھم عددا وعددا وجلدا (اضواء البیان) پس ہم نے ان لوگوں کو جو ہمارے نبی کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–8

(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–8

[5] یعنی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عادوثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

آیت 4 ۔ 7: حل لغات :۔ بطشا ۔ سخت گرفت ۔ پکڑ ۔ 2: یعنی بعض اس وجہ سے کہ تم لوگ حداعتدال سے آگے بڑھ چکے ہو ہم تم سے تعرض کرنا چھوڑ دیں ۔ عذاب نہ بھیجیں اور تم کو ہلاک نہ کریں یاد رکھو ۔ تم سے پہلے بھی قوموں میں انبیاء آئے ہیں ۔ اور ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کی پوری پوری مہلت دی گئی ہے ۔ پھر جب انہوں نے ان کو استہزا بنایا ۔ تو اللہ کی گرفت نے ان کو آلیا ؟ تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ سو سن رکھو ۔ کہ یہ بات بھی دور نہیں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) پھر آخر کار ہم نے ان اگلے لوگوں کو جو ان کفار قریش سے زیادہ زور آور اور قوی تر تھے ہلاک کرڈالا اور تباہ و برباد کردیا اور پہلوں کی یہ حالت گزر چکی ہے۔ یعنی ہم نے ان کو باوجود زور آور ہونے کے تباہ کردیا اور کفار عرب تو اتنے زور آور ہیں بھی نہیں پھر ان کی ہلاکت اور ان کو تباہ کرنا کیا دشوار ہے اور پہلے لوگوں کی یہ حقیقت ہوتی چلی آئی ہے کہ حد سے گزر جانے پر ان کو ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ ان آیتوں میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور کفار کے لئے ترہیب ہے کہ وہ قرآن کی مخالفت سے باز آجائیں آگے توحید کے دلائل مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 6۔ پس نہ آپ گم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے، چناچہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بڑے بڑے طاقتوروں کو جب ہم نے پکڑا تو ہماری پکڑ سے ان کو کوئی نہ چھڑا سکا 8 ؎ انجام کار ان ساری قوموں کو ہم نے باری باری ہلاک کردیا اور اپنے نبی و رسول کی ہم نے مدد و نصرت کی اور مذاق اڑانے والے خواہ کتنے ہی طاقت ور تھے لیکن جب ہماری پکڑ کا وقت آیا تو ہم نے ان کی ساری شان و شوکت کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا اور تاریخ میں آج بھی ان کی داستانیں پڑھی جاتی ہیں اور اس قرآن کریم میں بھی ہم آپ ﷺ کو کتنے نبیوں اور رسولوں کے قصے سنا چکے ہیں اور ان کی قوموں کی تباہی و بربادی کی داستانیاں پیچھے پڑھتے ہی چلے آ رہے ہو۔ جب ساری قوموں کا مزاج ایک تھا تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی قوم کا مزاج بھی وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–10

Commentary جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 That is, the result of the senselessness of some particular people could not be that the entire mankind should be deprived of the guidance of the Prophethood and the Book, but its result always has been that the worshippers of falsehood who, being drunk with the pride of power, did not desist from mocking the Prophets, were ultimately destroyed. When Allah's wrath descended even the people, who possessed thousands of times greater power than that possessed by the puny chiefs of the Quraish, were crushed to annihilation like mosquitoes and fleas.

Read the full tafseer →