Az-Zukhruf 43:7

Az-Zukhruf · from ayah 7

43:7

وَمَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ ۟وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But there would not come to them a prophet except that they used to ridicule him.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:7

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کوئی پیغمبر ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کا وہ مذاق نہ اڑاتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کوئی نبی اُن کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کا مذاق اڑایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے پاس کوئی نبی نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب بھی ان کے پاس کوئی نبی آیا تو انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو نبی بھی ان کے پاس آتا تو وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر ان کے پاس جو بھی کوئی پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان (لوگوں) کے پاس کوئی نبی (ایسا) نہیں آیا جس سے انہوں نے تمسخر نہ کیا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں آیا کوئی بھی نبی ان کے پاس مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کوئی بنی ان کے پاس نہیں آتا تھا مگر وہ اس سے تمسخر کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Yet never did a Prophet come to them but they mocked him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No messenger came to them, but they used to mock at him.

— Muhammad Taqi Usmani

No messenger came to them, but they used to mock at him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And never came there a Prophet to them but they used to mock at him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And never came there unto them a prophet but they used to mock him.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But there would not come to them a prophet except that they used to ridicule him.

— Saheeh International

No Prophet came to them whom they did not mock.

— Muhammad Sarwar

And there came not to them a prophet but they mocked at him.

— Muhammad Habib Shakir

And not a prophet came Unto them but him they were wont to mock.

— Abdul Majid Daryabadi

And never came there a prophet to them but they mocked him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–8

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے، اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کرلیں۔ فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے (لدینا) سے مراد ہمارے پاس (لعلی) سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ (حکیم) سے مراد (محکم) مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہوجانے سے پاک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الزُّخْرُف 5 یعنی یہ بیہودگی اگر نبی اور کتاب کے بھیجنے میں مانع ہوتی تو کسی قوم میں بھی کوئی نبی نہ آتا، نہ کوئی کتاب بھیجی جاتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–8

مبلغ کو مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے (کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو ؟) مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی میں خواہ کتنے ہی حد سے گزر جاؤ لیکن ہم تمہیں قرآن کے ذریعہ نصیحت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہو اسے ہر شخص کے پاس پیغام حق لے کر جانا چاہئے اور کسی گروہ یا جماعت کو تبلیغ کرنا محض اس بنا پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ تو انتہا درجے کے ملحد بےدین یا فاسق و فاجر ہیں انہیں کیا تبلیغ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–8

وکم ارسلنا من نبی فی الاولین، وما یا تیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزون فا ھلکنا اشد منھم بطثا و مضی مثل الاولین (8-6) مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی ﷺ سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ساتھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لئے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کردیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–8

8۔ 1 یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً) 40۔ غافر :82) ' وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–12

3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–9

درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

12 یعنی پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا۔ مگر اس کی وجہ سے پیغامبری کا سلسلہ مسدود نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 { وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور نہیں آیا کوئی بھی نبی ان کے پاس مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

6 جس طرح تم اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دے رہے ہو اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے پہلی قوموں کے پاس اللہ کے نبی اللہ کی کتاب لے کر گئے تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا اور اپنے نبی کا مذاق اڑایا تھا۔ تم بھی انہی لوگوں کی ڈگر پر چل کر اس کتاب کا مذاق اڑانے لگے ہو اور اپنے نبی کو استہزاء اور دوسری شرارتوں سے تنگ کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

4۔ (لیکن اس تکذیب و استہزاء کے باوجود سلسلہ ارشاد وہدایت برابر ہی جاری رہا) یہاں دو تاریخی حقیقتوں کا اعلان ہے۔ ایک یہ کہ زمانہ ماضی میں انبیاء کثرت سے آتے رہے، دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ منکرین کی طرف سے تمسخر و استہزاء کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما یاتیھم من نبی الاکانوا بہ یستھزؤن۔ اور ان لوگوں کے پاس (کبھی) کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایاہو ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(5۔ 7) اے مکہ والو کیا ہم تم سے وحی اور رسول کو محض اس بات پر اٹھا لیں گے یا تمہیں یوں ہی بغیر کسی امر و نہی کے رہنے دیں گے کہ تم مشرک ہو اور کسی بات کو نہیں مانتے اور ہم پچھلی قوموں میں آپ سے پہلے انبیاء کرام بھیجتے رہے ہیں۔ حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر پھر بھی ہم نے ان میں کتاب اور رسول کے بھیجنے کو موقوف نہیں کیا اور ان لوگوں کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–7

وکم ارسلنا من نبی فی الاولین …: اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ۔ یعنی آپ پہلے نبی نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور جس کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ یہ پہلے مذاق اڑانے والے ہیں ، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں میں ہم کتنے ہی نبی بھیجے، ان کا حال بھی یہی تھا کہا ن کے پاس جو نبی آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر نہ ہم نے نصیحت کا سلسلہ ترک کیا اور نہ پیغمبروں کا سلسلہ بند کیا، تو ان کے مسرف و منکر ہونے کی وجہ سے ہم انہیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑیں گے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

ومایا تیھم من نبی یعنی ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر وہ لوگ اس کے ساتھ مذاق اڑایا کرتے تھے جس طرح آپ کی قوم آپ کا مذاق اڑاتی ہے نبی کریم ﷺ کو تسلی دینا مقصود ہے۔ فاھلکنا اشد منھم بطشا یعنی ایسی قوم کو ہلاک کیا جو قوت میں ان سے گڑھ کر تھی منھم میں ضمیر مشرکین کر طرف لوٹ رہی ہے جو افنضرب عنکم الذکر صفحا کے مخاطب ہے پہلے خطاب کیا اس کے بعد ضمیر ذکر کی اشدیہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے ؛ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مفعول ہے یعنی وہ لوگ جو بدن اور پیروکاروں کے اعتبار سے ان سے قوی تھے انہیں ہلاک کردیا و مضی مثل الاولین۔ یہاں مثل سے مراد عقوبت ہے ؛ یہ قتادہ سے مروی ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–7

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ (کیا ہم اس نصیحت نامے کو ہٹالیں گے) یعنی کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے درگزر کریں گے اور وہ تم نے نہیں کیا ان کاموں کو جن کا تم کو حکم دیا گیا تھا ؟ 2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ سے مراد ہے کہ تم قرآن کو جھٹلاؤ پھر تم کو اس پر سزا بھی نہ دی جائے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ یعنی اللہ کی قسم اس امت کے لوگوں نے اس قرآن کو رد کیا اگر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا يَاْتِيْهِمْ [ اور نہیں پہنچا ان کے پاس ] مِّنْ نَّبِيٍّ [ کوئی بھی نبی ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ وہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–9

آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–8

4:۔ ” وکم ارسلنا “ تا ” مثل الاولین “۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور اس سے مقصود ترغیب ہے۔ مشرکین مکہ کا انکار کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے بھی ہم نے گذشتہ امتوں میں پیغمبر بھیجے۔ ان کے پاس جو پیغمبر بھی آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا تمسخر اڑایا تو ہم نے شرک کے ان متمرد اور سرکش سرغنوں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین قریش سے زیادہ سخت گیر، ان سے زیادہ طاقتور اور ان سے کہیں بڑے اور مضبوط جتھے والے تھے امم سابقہ کی مثال گذر چکی ہے اس لیے مشرکین قریش کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر نازل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 7 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–8

وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ فَاَھْلَـکْنَـآ اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الزخرف : 6 تا 8) (پہلی گزری ہوئی قوموں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے۔ اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ تو پھر ہم نے ہلاک کردیا ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو اور پچھلی قوموں میں مثالیں گزر چکی ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی تائید تاریخ سے اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور مخالفین کو اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–8

فہم القرآن ربط کلام : اگر لوگوں کا ایک طبقہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو کیا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی راہنمائی نہ کرے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ مہربان ہے اور اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے جس کے لیے اس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کا ترجمان، ان کے مضامین کا محافظ، پُر حکمت، عالی مرتبت اور عربی زبان میں ہے۔ اس کے باوجود اہل مکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ ہر صورت قرآن مجید کی آوازکو دبا دیا جائے۔ اسی بنیاد پر وہ نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ وہ کسی طرح بھی گوارہ نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7: وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ (اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو) یہ زمانہ ماضیہ مستمرہ کی حکایت حال ہے۔ یعنی وہ اسی بات پر تھے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی اس سلسلہ میں کہ آپ کی قوم کا آپ سے استہزاء نئی بات نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 6–7

5، افنضرب عنکم الذکر صفحا، کہاجاتا ہے ، ضربت عنہ واضربت عنہ، جب تو اس کو چھوڑدے اور اس سے رک جائے اور صفح مصد رہے ان کے وقول صفحت عنہ کا یہ بولاجاتا ہے جب تو اس سے اعراض کرے اور یہ اس کے پھر نے اور تیرے چہرے اور گردن کے پھیر نے کے وقت ہے اور ذکر سے مراد قرآن ہے اس کا معنی یہ ہے کہ کیا ہم تم سے وحی کو چھوڑدیں اور قرآن اتارناروک دیں، نہ تمہیں حکم دیں اور نہ تمہیں منع کریں۔ اس وجہ سے کہ تم اپنے کفر میں حد سے بڑھ گئے ہو اور ایمان کو چھوڑدیا ہے ؟ یہ استفہمام بمعنی انکار ہے یعنی ہم ایسانہ کریں گے اور یہ قتادہ (رح) اور ایک جماعت کا قول ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر یہ قرآن اس وقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

آیت 1 یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

8 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ گزر چکی ہیں عبرتناک مثالیں پہلے لوگوں کی۔ اسی قرآن حکیم کے دوسرے مختلف مقامات پر۔ (محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ پس اس میں بڑا درس عبرت ہے دور حاضر کے اور اس کے بعد کے جملہ کفار و منکرین کے لئے کہ جس انجام سے گزشتہ دور کی یہ مختلف اقوام دوچار ہوئیں وہ ان دور حاضر کے منکرین کو بھی پیش آسکتا ہے کہ اللہ پاک کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے یکساں ہے ۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ (الاحزاب : 62) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَجَعَلْنَاہُمْ سَلَفًا وَّمَثَلاً للآخِرِیْنَ } ۔ (الزخرف : 56) سو ان عبرتناک مثالوں میں بڑا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–8

ف 2 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” پہلے لوگوں کی مثال چلی آئی “۔ یعنی ان کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا اور لوگ عبرت کے لئے اسے بیان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:7) وما یاتیہم من نبی۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے۔ یاتی مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع الاولین ہے (مضارع کو استعمال کرکے ماضی کا حال بیان ہوا ہے) الا حرف استثناء کانوا یستھزء ون ماضی استمراری جمع مذکر غائب استھزاء (استفعال) مصدر سے بہ میں ہ ضمیر کا مرجع نبی ہے ان لوگوں کے پاس (کبھی) کوئی ایسا نبی نہیں آتا تھا جس کا انہوں نے مذاق نہ اڑایا ہو

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–8

(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–8

[5] یعنی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عادوثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

آیت 4 ۔ 7: حل لغات :۔ بطشا ۔ سخت گرفت ۔ پکڑ ۔ 2: یعنی بعض اس وجہ سے کہ تم لوگ حداعتدال سے آگے بڑھ چکے ہو ہم تم سے تعرض کرنا چھوڑ دیں ۔ عذاب نہ بھیجیں اور تم کو ہلاک نہ کریں یاد رکھو ۔ تم سے پہلے بھی قوموں میں انبیاء آئے ہیں ۔ اور ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کی پوری پوری مہلت دی گئی ہے ۔ پھر جب انہوں نے ان کو استہزا بنایا ۔ تو اللہ کی گرفت نے ان کو آلیا ؟ تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ سو سن رکھو ۔ کہ یہ بات بھی دور نہیں ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور کبھی کوئی نبی ان کے پاس نہیں مگر یہ کہ وہ اس کے ساتھ ہنسی کرتے تھے اور اس کا مذاق ہی اڑایا کرتے تھے۔ یعنی اے پیغمبر جو سلوک یہ لوگ آپ کے ساتھ کررہے ہیں سابقہ کفار کا بھی یہی دستور رہا ہے کہ کوئی نبی ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء اور مذاق نہ کیا ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 6۔ پس نہ آپ گم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے، چناچہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر نبی و رسول کا اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور استہزاء کیا 7 ؎ جب بھی اور جہاں بھی کسی قوم کی طرف نبی و رسول بھیجا گیا تو اس کی قوم نے اس کا مذاق اڑایا کہ اچھا آپ ہی کو اللہ نے نبوت و رسالت کے لیے پسند کیا ہے ؟ آپ کو کیا سرخاب کے پَر لگے ہیں اور ہم کو نہیں کہ آپ کے ساتھ تو اللہ باتیں کرتا ہے اور ہماری طرف دیکھتا بھی نہیں۔ کبھی انسان کو بھی اللہ نبی و رسول بنا کر بھیجتا ہے جو تم کو نبوت و رسالت کے لیے چن لیا ؟ یہ اور اسی طرح کے سارے اعتراضات جو آپ ﷺ پر آپ ﷺ کی قوم نے کیے وہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے کیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–10

Commentary جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

5 That is, if such absurdity and senselessness had barred the sending of a Prophet or a Book, no Prophet would ever have come to any nation nor a Book sent to it.

Read the full tafseer →