Explained with ayahs 4–8
قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں
جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے، اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کرلیں۔ فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے (لدینا) سے مراد ہمارے پاس (لعلی) سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ (حکیم) سے مراد (محکم) مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہوجانے سے پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة الزُّخْرُف 5
یعنی یہ بیہودگی اگر نبی اور کتاب کے بھیجنے میں مانع ہوتی تو کسی قوم میں بھی کوئی نبی نہ آتا، نہ کوئی کتاب بھیجی جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
مبلغ کو مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے
(کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو ؟) مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی میں خواہ کتنے ہی حد سے گزر جاؤ لیکن ہم تمہیں قرآن کے ذریعہ نصیحت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہو اسے ہر شخص کے پاس پیغام حق لے کر جانا چاہئے اور کسی گروہ یا جماعت کو تبلیغ کرنا محض اس بنا پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ تو انتہا درجے کے ملحد بےدین یا فاسق و فاجر ہیں انہیں کیا تبلیغ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
وکم ارسلنا من نبی فی الاولین، وما یا تیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزون فا ھلکنا اشد منھم بطثا و مضی مثل الاولین (8-6)
مذکورہ بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے
یہ اوپر کی بات کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے اور خطاب بغرض تسلی نبی ﷺ سے ہے۔ فرمایا کہ جو سلوک آج تمہارے مخالفین تمہارے ساتھ کر رہے ہیں یہی سلوک اس سے پہلے دوسرے نبیوں کے ساتھ ان کی قومیں کرچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے بھی کتنے رسول اسی مقصد تذکیر و اصلاح کے لئے بھیجے لیکن ہر قوم نے اپنے رسول کا مذاق اڑایا اور اس کی نصیحتوں کی تحقیر کی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ کردیا اور وہ قومیں کچھ کمزور نہ تھیں بلکہ وہ اپنی قوت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
8۔ 1 یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً) 40۔ غافر :82) ' وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
3: انسان جن سواریوں پر سواری کرتا ہے، وہ دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ سواریاں جن کے بنانے میں انسان کا کچھ نہ کچھ دخل ہوتا ہے۔ کشتیوں سے اس قسم کی سواریوں کی طرف اشارہ ہے، اور دوسری قسم کی سواریاں وہ ہیں جن کے بنانے میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں ہے، جیسے گھوڑے، اونٹ اور سواری کے دوسرے جانور، چوپایوں سے ان کی طرف اشارہ ہے۔ اور آیت کریمہ کا مقصد یہ ہے کہ دونوں قسم کی سواریاں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ سواری کے جانور اگرچہ انسان سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کے اس طرح قابو میں دے دیا ہے کہ ایک بچہ بھی ان کو لگام دے کر جہاں چاہے لیے پھرتا ہے۔ اور جن سواریوں کی صنعت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
12 یعنی پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزاء کیا گیا اور ان کی تعلیمات کو جھٹلایا گیا۔ مگر اس کی وجہ سے پیغامبری کا سلسلہ مسدود نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 6 { وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ } ”اور ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے پہلوں میں بھی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 جس طرح تم اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دے رہے ہو اس کی مثال بالکل وہی ہے جیسے پہلی قوموں کے پاس اللہ کے نبی اللہ کی کتاب لے کر گئے تو انہوں نے اللہ کی کتاب کا اور اپنے نبی کا مذاق اڑایا تھا۔ تم بھی انہی لوگوں کی ڈگر پر چل کر اس کتاب کا مذاق اڑانے لگے ہو اور اپنے نبی کو استہزاء اور دوسری شرارتوں سے تنگ کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4۔ (لیکن اس تکذیب و استہزاء کے باوجود سلسلہ ارشاد وہدایت برابر ہی جاری رہا) یہاں دو تاریخی حقیقتوں کا اعلان ہے۔ ایک یہ کہ زمانہ ماضی میں انبیاء کثرت سے آتے رہے، دوسرے یہ کہ ان کے ساتھ منکرین کی طرف سے تمسخر و استہزاء کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →وکم ارسلنا من نبی فی الاولین اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔ یعنی گذشتہ لوگوں میں ہم نے بکثرت انبیاء بھیجے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) اے مکہ والو کیا ہم تم سے وحی اور رسول کو محض اس بات پر اٹھا لیں گے یا تمہیں یوں ہی بغیر کسی امر و نہی کے رہنے دیں گے کہ تم مشرک ہو اور کسی بات کو نہیں مانتے اور ہم پچھلی قوموں میں آپ سے پہلے انبیاء کرام بھیجتے رہے ہیں۔
حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر پھر بھی ہم نے ان میں کتاب اور رسول کے بھیجنے کو موقوف نہیں کیا اور ان لوگوں کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
وکم ارسلنا من نبی فی الاولین …: اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لئے تنبیہ۔ یعنی آپ پہلے نبی نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور جس کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ یہ پہلے مذاق اڑانے والے ہیں ، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں میں ہم کتنے ہی نبی بھیجے، ان کا حال بھی یہی تھا کہا ن کے پاس جو نبی آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر نہ ہم نے نصیحت کا سلسلہ ترک کیا اور نہ پیغمبروں کا سلسلہ بند کیا، تو ان کے مسرف و منکر ہونے کی وجہ سے ہم انہیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑیں گے ؟
Read the full tafseer →وکم ارسلنا من بنی فی الاولین۔ وما یاتیھم من نبی الا کانوا بہ یستھزء ون۔ فاھلکنا اشد منھم بطشاو مضی مثل الاولین۔ ” اور ہم نے بکثرت بھیجے ہیں بنی پہلے لوگوں میں اور نہیں آیا ان کے پاس کوئی نبی مگر وہ (کفار) اس کا مذاق اٹایا کرتے پس ہم نے ہلاک کر ڈالا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور گزر چکا ہے حال پہلے لوگوں کا “۔
وکم ارسلنا من نبی فی الاولین۔ یہاں کم خبر یہ ہے، یہاں کثرت معنی پایا جاتا ہے معنی ہے ہم نے جو انبیاء بھیجے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہے جس طرح فرمایا : کم تر کو امن جنت و عیون۔ (الدخان) انہوں نے کتنے ہی زیادہ باغات اور چشمے چھوڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ (کیا ہم اس نصیحت نامے کو ہٹالیں گے) یعنی کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے درگزر کریں گے اور وہ تم نے نہیں کیا ان کاموں کو جن کا تم کو حکم دیا گیا تھا ؟
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ سے مراد ہے کہ تم قرآن کو جھٹلاؤ پھر تم کو اس پر سزا بھی نہ دی جائے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ یعنی اللہ کی قسم اس امت کے لوگوں نے اس قرآن کو رد کیا اگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِيٍّ [ اور ہم نے بھیجے کتنے ہی نبی ] فِي الْاَوَّلِيْنَ [ پہلوں میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
4:۔ ” وکم ارسلنا “ تا ” مثل الاولین “۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور اس سے مقصود ترغیب ہے۔ مشرکین مکہ کا انکار کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلے بھی ہم نے گذشتہ امتوں میں پیغمبر بھیجے۔ ان کے پاس جو پیغمبر بھی آیا انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کا تمسخر اڑایا تو ہم نے شرک کے ان متمرد اور سرکش سرغنوں کو تباہ و برباد کردیا جو ان مشرکین قریش سے زیادہ سخت گیر، ان سے زیادہ طاقتور اور ان سے کہیں بڑے اور مضبوط جتھے والے تھے امم سابقہ کی مثال گذر چکی ہے اس لیے مشرکین قریش کو ڈرنا چاہئے کہ کہیں ان پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر عذاب نازل نہ ہوجائے جیسا کہ گذشتہ سرکش قوموں پر نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِيٍّ فِي الْاَوَّلِيْنَ 6
كم
كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو :
كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال :
وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما يغطّي الرأس کالقلنسوة .
کم یہ عدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ ۔ وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ فَاَھْلَـکْنَـآ اَشَدَّ مِنْھُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ (الزخرف : 6 تا 8)
(پہلی گزری ہوئی قوموں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے۔ اور کوئی نبی ان کے پاس نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ تو پھر ہم نے ہلاک کردیا ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو اور پچھلی قوموں میں مثالیں گزر چکی ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کی تائید تاریخ سے
اوپر کی آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی تائید ماضی کی تاریخ سے پیش کی گئی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی تسلی بھی ہے اور مخالفین کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فہم القرآن
ربط کلام : اگر لوگوں کا ایک طبقہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو کیا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی راہنمائی نہ کرے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ مہربان ہے اور اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے جس کے لیے اس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔
قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کا ترجمان، ان کے مضامین کا محافظ، پُر حکمت، عالی مرتبت اور عربی زبان میں ہے۔ اس کے باوجود اہل مکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ ہر صورت قرآن مجید کی آوازکو دبا دیا جائے۔ اسی بنیاد پر وہ نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ وہ کسی طرح بھی گوارہ نہیں…
Read the full tafseer →آیت 6: وَکَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ (اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں) آپ سے پہلے لوگ گزرے ہم نے ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5، افنضرب عنکم الذکر صفحا، کہاجاتا ہے ، ضربت عنہ واضربت عنہ، جب تو اس کو چھوڑدے اور اس سے رک جائے اور صفح مصد رہے ان کے وقول صفحت عنہ کا یہ بولاجاتا ہے جب تو اس سے اعراض کرے اور یہ اس کے پھر نے اور تیرے چہرے اور گردن کے پھیر نے کے وقت ہے اور ذکر سے مراد قرآن ہے اس کا معنی یہ ہے کہ کیا ہم تم سے وحی کو چھوڑدیں اور قرآن اتارناروک دیں، نہ تمہیں حکم دیں اور نہ تمہیں منع کریں۔ اس وجہ سے کہ تم اپنے کفر میں حد سے بڑھ گئے ہو اور ایمان کو چھوڑدیا ہے ؟ یہ استفہمام بمعنی انکار ہے یعنی ہم ایسانہ کریں گے اور یہ قتادہ (رح) اور ایک جماعت کا قول ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اگر یہ قرآن اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت 1
یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…
Read the full tafseer →7 پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے کتنے ہی پیغمبر بھیجے ان سے پہلے لوگوں کے اندر مگر ان کے پاس جو بھی کوئی پیغمبر آیا انہوں نے اس کا مذاق ہی اڑایا "۔ پس آپ ﷺ کے ساتھ جو کچھ۔ اے پیغمبر !۔ آج ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ اس لئے آپ صبر و برداشت ہی سے کام لیں۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ الاَّ مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبلِکَ } ۔ (حمٓ السجدہ : 43) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ یُّکَذِّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبِلِکَ } ۔ (فاطر : 4) یعنی اگر یہ لوگ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے
تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 2 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” پہلے لوگوں کی مثال چلی آئی “۔ یعنی ان کا قصہ زبان زد خلائق ہوگیا اور لوگ عبرت کے لئے اسے بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →(43:6) کم : دو طرح استعمال ہوتا ہے۔
(1) سوالیہ استفہام کے لئے۔ مقدار یا تعداد کو ظاہر کرنے کے لئے جیسے کم درھما عندک۔ تیرے پاس کتنے درہم ہیں ؟
(2) خبریہ :۔ جو مقدار کی پیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ من کے صلہ کے ساتھ بھی اور اس کے بغیر بھی آتا ہے۔ اس جملہ میں کم خبر یہ ہے۔ کم من نبی بہت سے نبی۔
فی الاولین۔ پہلے لوگوں کی طرف۔ ہم پہلے لوگوں کی طرف بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
[5] یعنی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ یہ اشارہ عادوثمود اور ان قوموں کی طرف ہے جن کی تباہی کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
آیت 4 ۔ 7:
حل لغات :۔ بطشا ۔ سخت گرفت ۔ پکڑ ۔
2: یعنی بعض اس وجہ سے کہ تم لوگ حداعتدال سے آگے بڑھ چکے ہو ہم تم سے تعرض کرنا چھوڑ دیں ۔ عذاب نہ بھیجیں اور تم کو ہلاک نہ کریں یاد رکھو ۔ تم سے پہلے بھی قوموں میں انبیاء آئے ہیں ۔
اور ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کی پوری پوری مہلت دی گئی ہے ۔ پھر جب انہوں نے ان کو استہزا بنایا ۔ تو اللہ کی گرفت نے ان کو آلیا ؟ تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ سو سن رکھو ۔ کہ یہ بات بھی دور نہیں ہے ۔
Read the full tafseer →(6) اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیج چکے ہیں یعنی باوجود لوگوں کی مخالفت اور تکذیب کے ہم نے نبیوں کا سلسلہ منقطع نہیں کیا اسی طرح ان لوگوں کی مخالفت کے باوجود قرآن جو ایک نصیحت اور ذکر کی کتاب ہے اس کے نزول کا سلسلہ بند نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 6۔ پس نہ آپ گم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے، چناچہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے۔
Read the full tafseer →نبی اعظم و آخر ﷺ سے قبل کتنے ہی رسول بھیجے گئے تھے
6 ؎ درس توحید دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جب سے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نسل کو بڑھایا تو ساتھ ہی اس کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ شروع کردیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ سے پہلے اَن گنت نبی و رسول اپنی اپنی امتوں اور بستیوں کی طرف بھیجے گئے اس طرح زیر نظر آیت نے گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کردی اور ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی فرما دی گئی کہ جتنے نبی و رسول آپ ﷺ سے پہلے آئے ان سب کی امتوں نے ان کے ساتھ یہی سلوک کیا جو آپ ﷺ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ آپ ﷺ دل برداشتہ نہ ہوں اپنے سے پہلے نبیوں اور رسولوں کے حالات کو اپنے سامنے رکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
Commentary
جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا (has made the earth a cradle for you - 10) meaning that the comfort provided by the earth is that of a cradle; its apparent look of being a plain floor does not negate its being spherical.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5 That is, if such absurdity and senselessness had barred the sending of a Prophet or a Book, no Prophet would ever have come to any nation nor a Book sent to it.
Read the full tafseer →