Explained with ayahs 4–8
قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں
جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے، اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کرلیں۔ فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے (لدینا) سے مراد ہمارے پاس (لعلی) سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ (حکیم) سے مراد (محکم) مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہوجانے سے پاک…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 4
اس ایک فقرے میں وہ پوری داستان سمیٹ دی گئی ہے جو محمد ﷺ کے اعلان نبوت کے وقت سے لے کر ان آیات کے نزول تک پچھلے چند برس میں ہو گزری تھی۔ یہ فقرہ ہمارے سامنے یہ تصویر کھینچتا ہے کہ ایک قوم صدیوں سے سخت جہالت، پستی اور بدحالی میں مبتلا ہے۔ یکایک اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت اس پر ہوتی ہے۔ وہ اس کے اندر ایک بہترین رہنما اٹھاتا ہے اور اسے جہالت کی تاریکیوں سے نکالنے کے لیے خود اپنا کلام نازل کرتا ہے، تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہو، جاہلانہ اوہام کے چکر سے نکلے اور حقیقت سے آگاہ ہو کر زندگی کا صحیح راستہ اختیار کرلے۔ مگر اس قوم کے نادان لوگ اور اس کے خود غرض قبائلی سردار اس رہنما کے پیچھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
مبلغ کو مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے
(کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس بات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد سے گزرنے والے ہو ؟) مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سرکشی اور نافرمانی میں خواہ کتنے ہی حد سے گزر جاؤ لیکن ہم تمہیں قرآن کے ذریعہ نصیحت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دعوت و تبلیغ کا کام کرتا ہو اسے ہر شخص کے پاس پیغام حق لے کر جانا چاہئے اور کسی گروہ یا جماعت کو تبلیغ کرنا محض اس بنا پر نہیں چھوڑنا چاہئے کہ وہ تو انتہا درجے کے ملحد بےدین یا فاسق و فاجر ہیں انہیں کیا تبلیغ کی جائے۔
Read the full tafseer →افتضرب عنکم الذکر صفحاً ان کنتم قوماً مسرفین 5
تمہاری ناقدری کے باوجود تم پر اتمام حجت ضروری ہے
یعنی ہرچند تم ہو تو ناشکرے اور ناقدرے کہ اس کلام بلندو برتر کی توہین و تکذیب کر رہے ہو اور شرک و کفر میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر جو ظلم تم نے ڈھائے ہیں ان کصلاح پر تمہاری طبیعتیں آمادہ نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جاتا یا اب چھوڑ دیا جائے، تمہاری بیماریوں اور ان کے مہلک نتائج سے تم کو اچھی طرح آگاہ نہ کیا جائے۔ تمہاری یہ حالت اغماض کے بجائے اس بات کے متقضی ہے کہ تمہارا علاج کیا جائے چناچہ اللہ نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ تم اس کی…
Read the full tafseer →5۔ 1 اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں مثلاً 1۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت بڑھ چکے ہو اور ان پر مصر ہو، اس لئے کہ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے ؟ 2۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کرلیں گے 3۔ یا تمہیں ہلاک کردیں گے اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں، 4۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو۔
Read the full tafseer →2: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ جو لوگ نافرمانی میں حد سے گذر گئے ہوں، ان کو بھی ہدایت کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم پسند کرو یا ناپسند، ہم تمہیں ہدایت کا راستہ بتا کر نصیحت کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…
Read the full tafseer →11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس سبب سے کہ تم نہیں مانتے کیا ہم حکم کا بھیجنا موقوف کریں گے۔ " یعنی ایسی توقع مت رکھو اللہ کی حکمت و رحمت اسی کو مقتضی ہے کہ باوجود تمہاری زیادتیوں اور شرارتوں کے کتاب الٰہی کا نزول اور دعوت و نصیحت کا سلسلہ بند نہ کیا جائے۔ کیونکہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہوتی ہیں۔ اور منکرین پر کامل طور سے اتمام حجت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5 { اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ } ”کیا ہم اس ذکر کا رخ تمہاری طرف سے اس لیے پھیر دیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو !“
ہم نے اپنی یہ کتاب ہدایت ایک عظیم الشان نعمت کے طور پر تمہاری طرف نازل کی ‘ جو نصیحت و یاد دہانی پر مشتمل ہے ‘ مگر تم نے اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کی طرف سے روگردانی کی ہے۔ تو کیا ہم تمہارے اس رویے ّکی وجہ سے اپنی اس نعمت کو ہی اٹھا لیں ؟ نہیں ! ابھی ہم تم لوگوں کو مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ابھی یہ کتاب تمہیں پڑھ کر سنائی جاتی رہے گی۔
Read the full tafseer →5 یعنی اے کفار مکہ ! اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو، کبھی اسے پہلوں کی کہانیاں قرار دیتے ہو، کبھی اسے بندوں کا کلام کہتے ہو۔ تو کیا ہم تمہاری ایسی شرارتوں کی وجہ سے خلقت کی رہنمائی کا کام چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا بند کردیں گے ؟ اس کے نزول کے دو فائدے تو بہرحال ہو ہی رہے ہیں ایک یہ کہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ تم لوگوں پر حجت پوری ہو رہی ہے۔
Read the full tafseer →3۔ یعنی کیا قرآن کا نزول اور اس کی تبلیغ اس لئے موقوف کردی جائے گی کی تم اس پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ عین حکمت و رحمت دونوں کا تقاضا ہے کہ یہ فیض کامل برابر جاری رہے۔ ھذا الکلام یحتمل وجھین الاول الرحمۃ والثانی المبالغۃ فی التغلیظ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو اس بات
پر ہٹا لیں گے کہ تم (کفر میں) حد سے آگے بڑھنے والے لوگ ہو ؟
اَفَنَضْرِبُ ہمزۂ استفہامیہ انکاری ہے۔ ضَربْتُ عنہ اور اَضَربْتُ عنہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ میں اس سے رک گیا۔
صَفْحًا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ پہلو پھیرنے کا معنی ہے دور ہوجانا ‘ روگرداں ہوجانا۔ صفحٌ کا لغوی معنی ہے گردن کا ایک پہلو کسی کی طرف کردینا (یعنی گردن پھیرلینا) ۔
اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ کافروں کا حد سے تجاوز کرنا۔ حقیقت میں ترک اعراض کا مقتضی ہے ‘ لیکن اس جگہ اسراف کفار کو موجب اعراض قرار دے کر اس پر ہمزۂ انکاریہ داخل کردی گئی ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(5۔ 7) اے مکہ والو کیا ہم تم سے وحی اور رسول کو محض اس بات پر اٹھا لیں گے یا تمہیں یوں ہی بغیر کسی امر و نہی کے رہنے دیں گے کہ تم مشرک ہو اور کسی بات کو نہیں مانتے اور ہم پچھلی قوموں میں آپ سے پہلے انبیاء کرام بھیجتے رہے ہیں۔
حالانکہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے مگر پھر بھی ہم نے ان میں کتاب اور رسول کے بھیجنے کو موقوف نہیں کیا اور ان لوگوں کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا۔
Read the full tafseer →(1) افنضرب عنکم الذکر صفحاً :”ضرب“ کا صلہ جب ”عن“ آئے تو اس کا معنی ”صرف عنہ“ عنکم الذکر صفحاً“ کی کئی ترکیبیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ مصدر مفعول مطلق ہے تاکید کے لئے، کیونکہ ”افنضرب عنکم“ کا معنی بھی اعراض کرنا ہے اور ”صفحاً“ کا بھی یہی معنی ہے۔ گویا یہ مصدر مفعول مطلق فعل کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہے، جیسے ”فعدث جلوساً) ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ ”کیا ہم یہ نصیحت تم سے ہٹا لیں، بالکل ہٹا لینا ؟“ اور ایک یہ کہ ”صفحاً“ مفعول لہ یا حال ہے، یعنی ”کیا ہم تم سے یہ نصیحت اپنے اعراض کی وجہ سے یا اعراض کرتے ہوئے ہٹالیں ؟“
(2) ان کنتم قوماً مسرفین :”ان“ سے پہلے لام جارہ محذوف ہے اور ”کنتم“ میں استمرار ہے :”ای…
Read the full tafseer →افنضرب عنکم الذکر صفحا ان کنتم قوما مسرفین۔ ” کیا ہم روک لیں گے تم سے اس ذکر کو ناراض ہو کر اس وجہ سے کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو “۔
افنضرب عنکم الذکر ذکر سے مراد قرآن ہے ؛ یہ ضحاک اور دیگر سے مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذکر سے مراد عذاب ہو یعنی کیا ہم تم سے عذاب کو روک لیں گے اور تمہارے اسراف اور کفر پر تمہیں سزا نہ دیں گے ؛ یہ مجاہد، ابو صالح اور سدی کا قول ہے (3) ۔ عوفی نے یہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ؛ معنی ہے کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے عذاب کو روک لیں گے جبکہ تم نے وہ کچھ نہیں کیا جس کا تمہیں حکم دیا گیا تھا۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ معنی ہے کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ (کیا ہم اس نصیحت نامے کو ہٹالیں گے) یعنی کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم تم سے درگزر کریں گے اور وہ تم نے نہیں کیا ان کاموں کو جن کا تم کو حکم دیا گیا تھا ؟
2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ سے مراد ہے کہ تم قرآن کو جھٹلاؤ پھر تم کو اس پر سزا بھی نہ دی جائے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افنضرب عنکم الذکر صفحا “ یعنی اللہ کی قسم اس امت کے لوگوں نے اس قرآن کو رد کیا اگر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →اَفَنَضْرِبُ [ تو کیا ہم روک لیں گے ] عَنْكُمُ [ تم لوگوں سے ] الذِّكْرَ [ اس نصیحت کو ] صَفْحًا [ دیکھی ان دیکھی کرتے ہوئے ] اَنْ كُنْتُمْ [ (محض اس لئے ) کہ تم لوگ ] قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ [ ایک حد سے تجاوز کرنے والی قوم ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →3:۔ ” افنضرب عنکم۔ الایۃ “ یہ زجر ہے اور الذکر سے یا قرآن مراد ہے یا دعوت توحید یا تذکرہ و تخویف (کبیر، بحر) اور صفحا، نضرب کا مفعول مطلق ہے من غیر لفظہ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ وکذا فی الروایۃ کنتم سے پہلے لام اجلیہ مقدر ہے ای لان کنتم (بیضاوی) ۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ہم قرآن کا نازل کرنا بند کردیں اور تمہیں توحید کی دعوت دینا چھوڑ دیں محض اس وجہ سے کہ تم انصاف کی حدوں کو پھاند چکے ہو اور ضد وعناد پر اتر آئے ہو اور خداوندِ قادر وقیوم کے لیے نائب تجویز کرنے لگے ہو ؟ یا ” صفحا “ مفعول لہ ہے۔ مفعول لہ علی معنی افنعزل عنکم انزال القران والزام الحجۃ بہ اعراضا عنکم (بحر ج 8 ص 6) اور استفہام انکار ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…
Read the full tafseer →اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ 5
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →اَفَنَضْرِبُ عَنْـکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا اَنْ کُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ ۔ (الزخرف : 5)
(کیا ہم تمہیں درس نصیحت دینے سے اس لیے صرف نظر کرلیں کہ تم حدود سے تجاوز کر جانے والے لوگ ہو۔ )
صَفْحًا، مفعول لَـہٗکے مفہوم میں ہے۔ اس کا معنی ہے روک دینا، چشم پوشی کرنا۔ ضَرَبَ عَنْـہُکے معنی ہوں گے اس سے اس چیز کو ہٹا دیا۔
آیت کا پس منظر
اس ایک فقرے سے وہ صورتحال کھل کر سامنے آجاتی ہے جس میں اس آیت کا نزول ہوا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب قوم صدیوں سے سخت جہالت، پستی اور بدحالی میں مبتلا تھی۔ وہ ایسی دھات کی مانند تھی جو کسی کان میں مٹی یا پتھر کی طرح اپنی ابتدائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
فہم القرآن
ربط کلام : اگر لوگوں کا ایک طبقہ قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو کیا ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی راہنمائی نہ کرے ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ مہربان ہے اور اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کی راہنمائی کرے جس کے لیے اس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔
قرآن مجید پہلی کتب آسمانی کا ترجمان، ان کے مضامین کا محافظ، پُر حکمت، عالی مرتبت اور عربی زبان میں ہے۔ اس کے باوجود اہل مکہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ ہر صورت قرآن مجید کی آوازکو دبا دیا جائے۔ اسی بنیاد پر وہ نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن ہوچکے تھے۔ وہ کسی طرح بھی گوارہ نہیں…
Read the full tafseer →یہ حد پھاندنے والے ہیں ہم قرآن کو آپ سے نہ ہٹائیں گے :
آیت 5: اَفَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحًا (کیا ہم اس نصیحت کو تم سے ہٹا لیں گے) نصیحت کو دور کردیں گے اور ہٹا لیں گے۔ مجاز کے طور پر یہ عرب کے قول : ضرب الغرائب عن الحوض۔ (اس نے حوض سے دوسروں کے اونٹوں کو ہٹا دیا) ۔ سے لیا گیا ہے۔ : فاء عاطفہ ہے۔ اور عطف فعل محذوف پر ہے۔ أنہملکم فنضرب عنکم الذکر۔ اس میں انکار اس بات سے ہے کہ جب وہ آپ پر پہلے کتاب اتار چکا تو اس کا الٹ نہیں ہوسکتا۔ اور قرآن مجید کو قرآن عربی اس لئے بنایا تاکہ وہ اس کو سمجھ سکیں۔ اور اس کے مطابق عمل پیرا ہوں۔ صَفْحًا (دور کرنا۔ ہٹانا) یہ مصدر ہے۔ صفح عنہ جبکہ وہ اعراض…
Read the full tafseer →4، وانہ، یعنی قرآن، فی ام الکتاب، لوح محفوظ میں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ام الکتاب بمعنی اصل الکتاب حکم دیا کہ تو لکھ جن چیزوں کے پیدا کرنے کا باری تعالیٰ کا ارادہ تھا۔ پس کتاب اس کے پاس ہے۔ پھر پڑھا، وانہ فی ام الکتاب ، لدینا، پس قرآن اللہ کے نزدیک لوح محفوظ میں ثابت ہے ۔ جیسا کہ کہا، بل ھوقرآن مجید فی لوح محفوظ،۔۔۔۔۔۔ ، لعلی حکیم ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے مرتبہ اور شرافت کی خبردے رہے ہیں۔ یعنی اے اہل مکہ ! کیا تم قرآن کو جھٹلا تے ہو۔ پس بیشک وہ ہمارے ہاں بہت بلند معززباطل سے محکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت 1
یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…
Read the full tafseer →5 قرآن حکیم حکمتوں بھری کتاب : سو " علی " کے بعد اس کی دوسری صفت " حکیم " بیان فرمائی گئی۔ پس یہ سراسر حکمتوں بھری کتاب ہے۔ کہ اس کا ہر بیان مستحکم اور اس کی ہر بات حکمت والی ہے۔ اس قدر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ پس محروم ہیں حق کے نور، حقیقت کی روشنی اور حکمت کی دولت سے وہ لوگ جو اس کتاب حکیم پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ اگرچہ وہ کتنے ہی بڑے بلند بانگ دعوے کیوں نہ کریں اور ان کو اپنی دنیاوی اور مادی ترقی پر کتنا ہی فخر و ناز کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ مِنْ ھٰذا الحرمان ومن ذالک الْخُسران ۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اس کو اتارا گیا ہے اس ذات اقدس و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے
تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →ف 1” اور قرآن اتارنا موفوف کردیں “ ؟ ایسا خیال مت کرو کیونکہ تمہاری شرارت اور گمراہی تو قرآن کے اتارے جانے کا اصل سبب ہے تم اگر نہیں مانو گے تو تمہاری نسلوں میں ایسے نیک بخت لوگ پیدا ہوں گے جو اس پر ایمان لائیں گے اور دنیا کے ہادی و رہنما بنیں گے۔ بعض علماء علمائے تفسیر (رح) نے اس کا یہ مفہوم بیان کیا ہے ” کیا تمہارا گمان ہے کہ تم سے در گزر کریں گے اور عذاب نہیں دینگے اور حال یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو اور ہمارے حکم کے مطابق نہیں چلتے ہو، اس صورت میں ” الذکر “ بمعنی عذاب ہوگا۔ ابن جریر (رح) نے انہی معنی کو ترجیح دی ہے ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(43:5) افنضرب عنکم الذکر صفحا : ہمزہ استفہام انکاری کا ہےعطف کے لئے۔ نضرب عن : جب کوئی شخص کسی چیز سے منہ پھیر لے اور اسے نظر انداز کر دے۔ تو عرب کہتے ہیں کہ ضربت عنہ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ میں اس سے رک گیا۔
صفحا : صفح کا معنی ہے گردن کا ایک پہلو کسی کی طرف کردینا۔ (یعنی گردن پھیرلینا) صفحا مفعول مطلق من غیر لفظہ ہے۔ پہلو پھیرنا۔ دور ہوجانا۔ روگردان ہونا۔ یا صفحا مفعول مطلق ہے نضرب کا۔ جیسے قعدت جلوسا ہے۔
راغب نے لکھا ہے کہ صفح باب فتح کے معنی ترک تثریب۔ یعنی الزام یا اولاہنا چھوڑ دینے کے ہیں اور یہ فعو سے زیادہ بلیغ ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے فاعفوا واصفحوا حتی یاتی اللّٰۃ بامرہ (2:109) سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…
Read the full tafseer →[4] یعنی اس سبب سے کہ تم نہیں مانتے کیا ہم اس قرآن کا بھیجنا موقوف کردیں ؟ ایسی توقع مت رکھو۔ اللہ کی حکمت و رحمت اس کی متقضی ہے کہ باوجود تمہاری زیادیتوں اور شرارتوں کے کتاب الہٰی کا نزول اور دعوت و نصیحت کا سلسلہ بند نہ کیا جائے کیونکہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہوں گی اور منکرین پر کامل طور پر اتمام حجت ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
آیت 4 ۔ 7:
حل لغات :۔ بطشا ۔ سخت گرفت ۔ پکڑ ۔
2: یعنی بعض اس وجہ سے کہ تم لوگ حداعتدال سے آگے بڑھ چکے ہو ہم تم سے تعرض کرنا چھوڑ دیں ۔ عذاب نہ بھیجیں اور تم کو ہلاک نہ کریں یاد رکھو ۔ تم سے پہلے بھی قوموں میں انبیاء آئے ہیں ۔
اور ان کو بھی سمجھنے اور سوچنے کی پوری پوری مہلت دی گئی ہے ۔ پھر جب انہوں نے ان کو استہزا بنایا ۔ تو اللہ کی گرفت نے ان کو آلیا ؟ تم بھی یہی چاہتے ہو ؟ سو سن رکھو ۔ کہ یہ بات بھی دور نہیں ہے ۔
Read the full tafseer →(5) پھر بھلا کیا اس وجہ سے کہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو ہم اس قرآن کا رخ تم سے پھیر دیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اسی سبب سے کہ تم نہیں مانتے کیا بھیجنا موقوف رکھیں گے حکم کا۔
خلاصہ : یہ کہ تم لوگ چونکہ اطاعت اور فرمانبرداری کی حدود سے نکل جانے والے ہو ہم قرآن کے نزول کو بند کردیں گے اور ایک حق بات کو کہنا چھوڑ دیں گے اگر ایک خاص طبقہ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث نہ مانے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دوسرے بھی عام فیض سے محروم رکھے جائیں تمہاری مخالفت سے قرآن کا نزول بند نہیں ہوگا چونکہ اس میں تمام مخلوق کے لئے رشد و ہدایت ہے اس لئے یہ نازل ہوکر رہے گا اور چند سر پھروں کی وجہ سے ہم…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی خواہ تم مانو یا نہ مانو، مگر نصیحت تو برابر کی جائے گی، اور یہ فیض کامل ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →کیا اب تم لوگوں سے بیزار ہو کر ہم اس ذکر کو اتارنا روک دیں ؟
5 ؎ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے لے کرتا نزول آیات جو کچھ ہوا وہ سب کا سب بند کر کے رکھ دیا گیا گویا چھ سات سال کی تاریخ کو کو زے میں بند کردیا گیا۔ نضرب عنکم۔ الضرب یقع علی جمیع الاعمال الا قلیلا۔ ضرب کا لفظ بہت کاموں پر بیان ہوتا ہے۔ اضربت عن الشی کے معنی ہیں اس سے روک دیا گیا یا اس سے رُک گیا اور اعراض کیا اور ضرب عنہ الذکر اور اضرب عنہدونوں کے معنی ہیں صرفہ اس سے پھیر دیا۔ سوار جب اپنی سواری کے جانور کو دوسری طرف پھیرنا چاہتا ہے تو اس کو مارتا ہے تاکہ اس کو دوسری طرف پھیر دے اس لیے ضرب صرف ہوگیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ ضربت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
A Preacher must not give up his preaching due to disappointment
أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ (Shall we remove the advice away from you because you are a transgressing people? - 43:5) The meaning is that We will not give up advising you through the Qur'an, no matter how rebellious and disobedient you may become. This tells us that the person who is engaged in preaching and inviting others towards Islam should carry the message to everybody; he must not give up preaching to some people or any group simply because they are non-believers, highly…
Read the full tafseer →4 In this one sentence the whole history that had taken place since the time the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) had proclaimed to be a Prophet till the revelation of these verses during the past few years has been compressed. This sentence depicts the following picture: A nation has been involved in ignorance, backwardness and depravity for centuries. Suddenly, Allah looks at it with favour. He raises in it an illustrious guide and sends down His own Word to take it out of the darkness of ignorance so that it is aroused from slumber, it gives up superstitions of ignorance…
Read the full tafseer →