Az-Zukhruf 43:4

Az-Zukhruf · from ayah 4

43:4

وَاِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ ۟ؕوَاِنَّهٗ فِىۡۤ اُمِّ الۡكِتٰبِ لَدَيۡنَا لَعَلِىٌّ حَكِيۡمٌؕ

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed it is, in the Mother of the Book with Us, exalted and full of wisdom.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:4

اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ بڑی کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں ہمارے پاس (لکھی ہوئی اور) بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے اونچے درجے کی حکمت سے بھری ہوئی کتاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک وہ ہمارے پاس سب کتابوں کی اصل (لوحِ محفوظ) میں ثَبت ہے یقیناً (یہ سب کتابوں پر) بلند مرتبہ بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بہت بلند، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ یہ قرآن ام الکتاب (لوح محفوظ) میں درج ہے جو ہمارے پاس بڑی بلند مرتبہ اور حکمت والی کتاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے نہایت بلند اور پر حکمت

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ یہ اصل کتاب میں ثبت ہے ہمارے یہاں بڑے ہی مرتبے والی حکمت بھری کتاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور بیشک وہ لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے بڑے مرتبہ کا حکمت سے بھرا ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا بہت حکمت والی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ بڑی کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے یہ بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed it is transcribed in the Original Book with Us; sublime and full of wisdom.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And it is, in the Mother of the Book (the Preserved Tablet) with us, surely sublime, full of wisdom.

— Muhammad Taqi Usmani

And it is, in the Mother of the Book (the Preserved Tablet) with us, surely sublime, full of wisdom.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And verily, it is in the Mother of the Book with Us, indeed exalted, full of wisdom.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Lo! in the Source of Decrees, which We possess, it is indeed sublime, decisive.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed it is, in the Mother of the Book with Us, exalted and full of wisdom.

— Saheeh International

It (the Quran) exists in the original Book with Us which is certainly Most Exalted, full of wisdom and (beyond linguistic structures).

— Muhammad Sarwar

And surely it is in the original of the Book with Us, truly elevated, full of wisdom.

— Muhammad Habib Shakir

And verily it is, in the Original Book before Us, indeed exalted.

— Abdul Majid Daryabadi

And verily, it is in the Mother of the Book, in Our Presence, high (in dignity), full of wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–8

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح وبلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے، اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کرلیں۔ فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے (لدینا) سے مراد ہمارے پاس (لعلی) سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ (حکیم) سے مراد (محکم) مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہوجانے سے پاک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 2 " امّ الکتاب " سے مراد ہے " اصل الکتاب " یعنی وہ کتاب جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں ماخوذ ہیں۔ اسی کو سورة واقعہ میں کِتَابٌ مَّکْنُوْنٌ (پوشیدہ اور محفوظ کتاب) کہا گیا ہے، اور سورة بروج میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی ایسی لوح جس کا لکھا مٹ نہیں سکتا اور جو ہر قسم کی در اندازی سے محفوظ ہے۔ قرآن کے متعلق یہ فرما کر کہ یہ " امّ الکتاب " میں ہے ایک اہم حقیقت پر متنبہ فرمایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانوں میں مختلف ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف انبیاء پر مختلف زبانوں میں کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں، مگر ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–4

معارف و مسائل یہ سورت مکی ہے، البتہ حضرت مقاتل کا قول ہے کہ (آیت) واسئل من ارسلنا الخ مدنی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سورت معراج کے وقت آسمان پر نازل ہوئی۔ (روح المعانی) واللہ اعلم (آیت) وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ (قسم ہے کتاب واضح کی) اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو عموماً وہ چیز بعد کے دعوے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ قرآن بذات خود اپنے اعجاز کی وجہ سے اپنی حقانیت کی دلیل ہے اور قرآن کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مضامین با آسانی سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن جہاں تک اس سے احکام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وانہ فی آمر الکتب لدینا لعلی حکیم 4 قرآن کی عالی نسبی اس قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ کوئی ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے بلکہ نہایت ہی عالی نسب اور عالمی مقام چیز ہے۔ اس کی عالی نسبی کی وضاحت یوں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو ام الکتب یعنی لوح محفوظ ہے یہ اس میں ہے اور اسی میں یہ تمہاری ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کو جنتا کا القاء کاہنوں کی کہانت، شاعروں کی شاعری اور خطیبوں کی لفاظی گمان کر کے، اس کا مذاق اڑانے کی کوشش نہ کیر بلکہ یہ روشنی اس منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ بدقسمت ہوں گے وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 اس میں قرآن کریم کی اس عظمت اور شرف کا بیان ہے جو ملاء اعلٰی میں اسے حاصل ہے تاکہ اہل زمین بھی اس کے شرف و عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو قرار واقعی اہمیت دیں اور اس سے ہدایت کا وہ مقصد حاصل کریں جس کے لئے اسے دنیا میں اتارا گیا ہے اُمْ الْکِتَابِ سے مراد لوح محفوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود تھا، پھر وہاں سے آسمان دنیا پر، اور اس کے بعد حسب موقع حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–9

درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی وجوہ اعجاز اور اسرار عظیمہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نہایت بلند اور تبدیل و تحریف سے محفوظ رہنے کی وجہ سے نہایت مستحکم ہے۔ اس کے دلائل وبراہین نہایت مضبوط اور اس کے احکام غیر منسوخ ہیں۔ کوئی حکم سے خالی نہیں اور تمام مضامین اصلاح معاش و معاد کی اعلیٰ ترین ہدایات پر مشتمل اور حکیمانہ خوبیوں سے مملو ہیں۔ اور قرآن کے ان تمام محاسن پر جو خود قرآن ہی شاہد ہے۔ آفتاب کی آمد دلیل آفتاب۔ (تنبیہ) قرآن اور تمام کتب سماویہ نزول سے پہلے لوح محفوظ میں لکھی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَـعَلِیٌّ حَکِیْمٌ} ”اور یہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند وبالا ‘ بہت حکمت والی !“ یعنی اصل قرآن تو ”اُمّ الکتاب“ میں ہے۔ دنیا کو اس کی عربی زبان میں مصدقہ نقول فراہم کی گئی ہیں۔ اسی ”اُمّ الکتاب“ کو سورة الواقعہ کی آیت 78 میں کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ اور سورة البروج کی آخری آیت میں لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ بھی کہا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 یعنی اس کے مضامین اور اصول دین چونکہ ایک ہی جیسے رہے ہیں۔ اور پہلی آسمانی کتابوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس لیے یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہمارے پاس اصل کتاب میں لکھا ہوا موجود ہے۔ جسے ہم مختلف ادوار میں، مختلف انبیاء پر انہی کی اپنی اپنی زبانوں میں نازل کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہم نے قرآن کو لوح محفوظ سے عربی زبان میں رسول اللہ پر نازل کیا ہے۔ 4 قرآن کے مخلوق ہونے سے متعلق معتزلہ کا استدلال اور اس کا جواب :۔ اس سے مراد ام الکتاب بھی ہوسکتی ہے۔ اور قرآن کریم بھی۔ یعنی تم لوگ اگر اس کی قدرو منزلت نہیں کرتے تو اس سے حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑ سکتا۔ واضح رہے کہ عقل پرست فرقہ معتزلہ نے قرآن کے متعلق إنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (اپنے نازل کرنے والے کے ہم صفت) (آیت) ” لعلی حکیم “۔ سورة ماقبل کے ختم کے قریب حق تعالیٰ کی شان انہیں صفات کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔ (آیت) ” انہ علی حکیم “۔ اب ذکر اس کا ہے کہ کلام بھی متکلم ہی کی شان کے مطابق بڑے رتبہ والا ہے، خاک کو پاک بنادینے والا ہے اور حکمتوں اور دانائیوں سے لبریز ہے .... جس کتاب پر دارومدار سارے عالم کی ہدایت و رہنمائی کا ہو، بیشک اسے ہونا بھی ایسا ہی تھا۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے یہاں مراد لوح محفوظ ہے (ابن جریر) (آیت) ” لدینا “۔ باعتبار شرف واختصاص کے ہے۔ یہ قرب رتبہ ہے، قرب مکان نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم اور کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے۔ اُمِّ الْکِتٰبِ (تمام کتابوں کی اصل) یعنی لوح محفوظ۔ دوسری آیت سے اسکی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا ہے : بل ھو قراٰن مجید فی لوح محفوظ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور جس مخلوق کو آئندہ پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ اس کو لکھ دینے کا قلم کو حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا : وانّہ فی امّ الکتٰب۔ لَدَیْنَا ہمارے پاس۔ اللہ کے پاس ہونا بےکیف اور تصور مکانیت سے پاک ہے (قرب الٰہی نہ مکانی ہے ‘ نہ کسی جسمانی کیفیت کا حامل) بعض علماء نے لدینا سے پہلے محفوظًا کا لفظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) حم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا اور واضھ کردیا اور قسم ہے اس کتاب کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے کہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کا فیصلہ کردیا حکیم کا شعر ہے۔ اے میری قوم جو کہ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا پرندے پرواز کرتے رہیں اور ستارے نکلتے ہیں یا یہ کہ حم قسمیہ الفاظ ہیں کہ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن کریم بنایا کہ جن حلال و حرام اوامرو نواہی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان کو سمجھ لو۔ اور یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بڑے رتبہ کی اور حلال و حرام کے بیان میں محکم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وانہ فی ام الکتب :”ام الکتب“ کا معنی ہے ”کتاب کا اصل۔“ اکثر مفسرین نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے، جہاں سے تمام آسانی کتابیں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ فرمایا (بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ) (البروح :22, 21)”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تخی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“ اور فرمایا :(انہ لقرآن کریم فی کتب مکنون لایمسہ الا المطھرون تنزیل من رب العلمین) (الواقعہ :88 تا 80)”کہ بلاشبہ یہ یقیناً ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے۔ ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کئے ہوئے ہیں۔ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ بعض مفسرین نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم۔ ” اور بیشک یہ قرآن ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت ہے اونچی شان والا حکمت سے لبریز “۔ وانہ فی ام الکتب ضمیر سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن لوح محفوظ میں ہے لدینا یعنی ہمارے پاس لعلی حکیم۔ یعنی بلند اور محکم۔ اس میں اختلاف اور تناقض نہیں پایا جاتا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انہ لقران کریم۔ فی کتب مکنون۔ (الواقعہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بل ھو قران مجید۔ فی لوح محفوظ۔ (البروج) ابن جریج نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان و انہ سے مراد مخلوق کے اعمال یعنی ایمان، کفر، اطاعت اور معصیت لعلی وہ اس سے بلند ہے کہ اسے پایا جاسکے اور اس میں تبدیلی کی سکے حکیم وہ نقص اور تغیر سے پاک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا پھر اس کو حکم فرمایا کہ لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے جبکہ کتاب اس کے پاس ہے پھر یہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب لدینا لعلی حکیم “ (اور کوئی شبہ نہیں کہ وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے) 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب “ میں ام الکتاب سے مراد کتاب کی اصل ہے اور اس کا مجموعہ ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانہ فی ام الکتب “ یعنی قرآن اللہ کے پاس ہے۔ 4:۔ ابن المنذر (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک وہ (قرآن ) ] فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ [ کتاب کی ماں (ماسٹر کاپی ) میں ہے ] لَدَيْنَا [ ہمارے پاس ] لَعَلِيٌّ [ یقینا (وہ قرآن ) بلند رتبہ ہے ] حَكِيْمٌ [ پر حکمت ہے ] نوٹ ۔ 1: ام الکتب سے مراد وہ اصل کتاب ہے جس سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی کتابیں ماخوذ ہیں ۔ اسی کو سورة واقعہ میں کتاب مکنون (پوشیدہ اور محفوظ کتاب ) کہا گیا ہے اور سورة بروج میں اس کے لئے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یعنی ایسی لوح جس کا لکھا مٹ نہیں سکتا اور جو ہر قسم کی دراندازی سے محفوظ ہے ۔ (تفہیم القرآن ) یہاں قرآن کو علی حکیم کہا گیا ہے ۔ پچھلی سورة میں یہی صفت آیت ۔ 51 ۔ میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–9

آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 2–4

2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے اور قرآن کی عظمت شان کا بیان ہے۔ واؤ قسمیہ ہے ور جواب محذوف ہے ای انک لمن المرسلین او انک لرسول صادق، اور، انا جعلناہ الخ، استیناف ہے یعنی یہ واضح اور روشن کتاب اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) یا انا جعلناہ الخ۔ جواب قسم مذکور ہے۔ یعنی یہ کتاب جو واضح اور فسیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بذات خود اس پر شاہد ہے کہ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اپنی مادری زبان میں اچھی طرح سمجھ سکو۔ (روح) ۔ گویا یہ قرآن خود ہی اپنا شاہد ہے۔ (ع) آفتا بآمد دلیل آفتاب۔ تائید : ” لکن اللہ یشہد بما انزل الیک انزلہ بعلمہ “ قسم کی دو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنَّہٗ فِيْٓ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ۝ 4 ۭ أمّ الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته . ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي : (أنّ الدنیا دحیت من تحتها) وقال تعالی: لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَها [ الأنعام/ 92] ، وأمّ النجوم :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 2–8

ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِنَّـہٗ فِیْٓ اُمِّ الْـکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ (الزخرف : 4) (بےشک یہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ہے، بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز۔ ) قرآن کریم کے مقام کی بلندی اُمُّ الْـکِتٰبِسے مراد وہ ہے جسے سورة الواقعہ میں کِتَابُ مُّکْنُوْنَ فرمایا گیا، یعنی پوشیدہ اور محفوظ کتاب۔ اور سورة البروج میں اس کے لیے لوح محفوظ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یعنی یہ پوشیدہ اور محفوظ کتاب ہے اور ایسی لوح میں محفوظ ہے جس کا لکھا ہوا مٹ نہیں سکتا۔ اور جو ہر قسم کی دست اندازی سے محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف زمانوں میں، مختلف ملکوں اور قوموں کی ہدایت کے لیے مختلف انبیاء پر مختلف زبانوں پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–4

فہم القرآن الشوریٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ ہم نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور ایمان کیا ہے۔ الزّخرف کی ابتدا اس بات سے ہو رہی ہے کہ وحی کی صورت میں جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کا نام قرآن ہے جو عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں سے تین حروف ہیں۔ اب تک یہ چار سورتوں کی ابتدا میں آچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا مختلف الفاظ میں تعارف کروایا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی قسم اٹھا کر ارشار فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ یہ ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

صفات ِقرآن : آیت 4: وَاِنَّہٗ فِیْ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا (قرآن مجید لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے) ۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ البروج۔ 21۔ 22۔ لوح محفوظ کو ام الکتاب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام کتابوں کی اصل ہے۔ تمام کتابیں اسی میں مندرج اور اسی سے نقل کی جاتی اور نسخ کی جاتی ہیں۔ قراءت : ام الکتاب۔ الف کے کسرہ سے علی و حمزہ نے پڑھا ہے۔ لَعَلِیٌّ نمبر 1۔ وہ بلاغت کے اعلی ترین درجہ میں ہے۔ یا کتابوں میں وہ رفیع الشان ہے۔ کیونکہ ان تمام کتابوں کے مابین یہ معجز ہے۔ حَکِیْمٌ (کامل حکمت والی ہے) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3، انا جعلناہ قرآنا عربیا لعلکم تعقلون، باری تعالیٰ کا قول ، جعلناہ، یعنی ہم نے اس کتاب کو عربی بنایا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کو بیان کیا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کا نام رکھا اور کہا گیا ہے کہ ہم نے اس کی صفت بیان کی ہے۔ کہا جاتا ہے ، جعل فلان زیدا اعلم الناس، یعنی اس نے زید کی یہ صفت بیان کی ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان، وجعلو ا الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمن اناثا، میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان، جعلوا القرآن عضین، میں اور اللہ تعالیٰ کے قول ، اجعلتم سقایۃ الحاج، ان تمام میں جعل وصف اور تسمیہ کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

آیت 1 یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ ثبت و مندرج ہے اصل کتاب میں "۔ یعنی ہمارے اس علم ازلی و قدیم میں جس کو لوح محفوظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (ابن کثیر، صفوۃ اور مدارک وغیرہ) ۔ سو یہ کوئی معمولی کلام یا ہنسی مذاق کی چیز نہیں۔ بلکہ ایک نہایت ہی عالی نسب کلام اور بلند مرتبہ چیز ہے۔ سو اس کی ناقدری کرنا بڑا ظلم ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ کتاب حکیم اسی سرچشمہ فیض اور منبع نور سے نازل ہوئی ہے جس کے نور ہی سے آسمان و زمین میں روشنی ہے اور جو تمام علوم کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ سو بڑے بدبخت ہوں گے وہ لوگ جو اس کی قدر نہ پہچانیں۔ اور اس طرح کے ناقدرے لوگ دراصل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 گو تم اس کی قدر و منزلت نہ کرو غظ حکیم کے دوسرے معنی محکم بھی ہوسکتے ہیں۔ یعنی اس کے دلائل نہیں مضبوط اور احکام غیر منسوخ ہیں اور اس کے مضامین میں کسی قسم کا تضاد یا اختلاف بیان نہیں پایا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:4) انہ فی ام الکتب۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الکتب (آیت نمبر 2) ام الکتب مضاف مضاف الیہ۔ بمعنی تمام کتابوں کی ماں۔ یا اصل۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جیسا کہ اور جگہ فرمایا بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ (85:21-23) بلکہ یہ قرآن مجید ہے لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ۔ لدینا : لدی مضاف نا ضمیر جمع متکلم مضاف الیہ۔ ہمارے پاس ، ہمارے نزدیک اللہ کے پاس ہونا بےکیف اور تصور مکانیت سے پاک پے (قرب الٰہی نہ مکانی ہے نہ کسی جسمانی کیفیت کا حامل) بعض کے نزدیک لدینا سے پہلے محفوظا کا لفظ محذوف ہے یعنی قرآن ہمارے پاس تغیر سے محفوظ ہے۔ لعلی حکیم : لام تحقیق کے لئے ہے ۔ علی حکیم قرآن مجید کی صفات ہیں۔ علی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–8

(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–4

حل لغات :۔ ام الکلب ۔ لوح محفوظ مسرفین ۔ حد سے تجاوز کرجانیوالے ۔ آیت 2 ۔ 3 1: کتاب مبین کی قسم کھانا اور اس کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ عربی زبان میں وضوح مطلب کی استعداد دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔ یعنی قرآن کو عربی زبان میں خدا نے نازل کرکے تمام دنیا پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ اس وقت بھی جتنی زبانیں موجود ہیں ۔ ان میں چند ہی زبانیں ایسی ہیں ۔ جو دینیات کے اظہار کے لئے بوقت کارگر ہوسکتی ہیں ۔ ان میں دو بنیادی نقص ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ بوجہ قدامت کے زندہ نہیں ہیں ۔ اور ان کے اسالیب بیان کہنہ اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اور وہ یقینا ہمارے پاس ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں بڑی بلند قدر اور حکمت سے لبریز کتاب ہے۔ دو باتیں فرمائیں اول اس کی حفاظت کا یہ حال ہے کہ وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے جیسا کہ تمام کتب سماویہ لوح محفوظ میں ثبت ہیں بل ھو قرآن مجید فی لوح محفوظ گویا ہماری خاص نگرانی میں ہے اور ہماری زیر حفاظت ہے۔ دوسری بات یہ کہ اپنے اعجاز اور کلام الٰہی ہونے کے اعتبار سے بڑی عظیم المرتبت اپنے منافع اور اپنے مصالح کے اعتبار سے پراز حکمت ہے اور یہ جو فرمایا ہمارے پاس یہ باعتبار شرف اور باعتبار اختصاص فرمایا یعنی قرب مکافی نہیں بلکہ قرب مرتبہ کے اعتبار سے لدینا ارشاد فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 4۔ پس جب یہ سمجھنے میں آسان ہے اور خاص ہماری زیر حفاظت اور بوجہ اعجاز کے عظیم المرتبہ اور اپنی حقیقت پر دال۔ پھر منافع و مصالح پر مشتمل تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے، لیکن اگر تم نہ بھی مانو تب بھی ہم بوجہ اقتضائے حکمت کے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ قرآن کریم اُم الکتب میں موجود ہے جو بہت بلند اور حکمت والا ہے 4 ؎ { ام الکتب } کیا ہے ؟ { ام } کے معنی ماں کے ہیں اور ہر اس چیز کو بھی { أم } کہتے ہیں جو کسی چیز کے وجود یا اس کی تربیت ، اس کی اصلاح یا اس کی ابتداء کے لیے اصل ہو۔ (راغب) اس لحاظ سے { أم } وہ چیز یا اصل ہے جس سے دوسری چیز پیدا ہوتی ہے یا جس سے دوسری چیزیں متفرع ہوتی ہیں اس لیے ہمارے خیال میں اس جگہ { أم الکتب } سے اصول ہی مراد ہو سکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ کوئی نئی طرز کی کتاب نہیں بلکہ اس کے اصول وہی اصول ہیں جو گزشتہ آسمانی کتابوں کے تھے اور اس کا نازل کرنے والا اللہ وہی ہے جو گزشتہ کتابوں کا نازل کرنے والا تھا اس لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–5

A Preacher must not give up his preaching due to disappointment أَفَنَضْرِ‌بُ عَنكُمُ الذِّكْرَ‌ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِ‌فِينَ (Shall we remove the advice away from you because you are a transgressing people? - 43:5) The meaning is that We will not give up advising you through the Qur'an, no matter how rebellious and disobedient you may become. This tells us that the person who is engaged in preaching and inviting others towards Islam should carry the message to everybody; he must not give up preaching to some people or any group simply because they are non-believers, highly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 "Umm al-Kitab": the "Original Book": the Book from which alI the Books sent down to the Prophets have been derived. In Surah AI-Waqi`ah the same thing has been described as Kitab-um-Maknun (the hidden and preserved Book) and in Surah AI-Buruj 22 as Lauh-i Mahfuz (the Preserved Tablet), that is, the Tablet whose writing cannot be effaced, which is secure from every kind of interference. By saying that the Qur'an is inscribed in Umm al-Kitab, attention has been drawn to an important truth. Different Books had been revealed by Allah in different ages to different Prophets for the guidance of…

Read the full tafseer →