Explained with ayahs 1–3
سورة الزُّخْرُف 1
قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف " ہم " ہیں نہ کہ محمد ﷺ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ " کتاب مبین " ہے۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین، اس کی زبان، اس کا ادب، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا۔
پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
معارف و مسائل
یہ سورت مکی ہے، البتہ حضرت مقاتل کا قول ہے کہ (آیت) واسئل من ارسلنا الخ مدنی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سورت معراج کے وقت آسمان پر نازل ہوئی۔ (روح المعانی) واللہ اعلم
(آیت) وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ (قسم ہے کتاب واضح کی) اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو عموماً وہ چیز بعد کے دعوے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ قرآن بذات خود اپنے اعجاز کی وجہ سے اپنی حقانیت کی دلیل ہے اور قرآن کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مضامین با آسانی سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن جہاں تک اس سے احکام…
Read the full tafseer →انا جلنہ قراناً عربیا تعلکم تعقلون 3
قرآن کے مبین ہونے کا ایک خالص پہلو
یہ قرآن کے مبین ہونے کے ایک خاص پہلو کی اشارہ فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو عربی قرآن کی صورت میں اتارا ہے تاکہ تم سمجھو۔ یہ مضمون اس گروہپ کی پچھلی سورتوں میں بھی مختلف اسلوبوں سے گزر چکا ہے اور ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ قرآن کا عربی میں اتارا جانا اہل عرب پر ایک عظیم احسان بھی تھا اور ایک فیصلہ کن اتمام حجت بھی۔ احسان کا پہلو تو بالکل واضح ہے کہ خدا نے اپنی آخری اور کامل ہدایت ان کی زبان میں اتاری کہ وہ بلاواسطہ غیر اس سے کسب فیض کرسکیں، دوسروں کی تعلیم و تبلیغ کا انہیں رہین احسان نہ ہونا پڑے بلکہ دوسرے ان کے ممنون احسان بنیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود تھا، پھر وہاں سے آسمان دنیا پر، اور اس کے بعد حسب موقع حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
درس نمبر 231 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25
آیت نمبر 1 تا 8
سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔
والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
9 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے اور تمہارے ذریعہ سے دنیا کی قومیں اس کتاب کو سیکھیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 3 { اِنَّا جَعَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّـعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ } ”ہم نے اس کو بنا یا ہے قرآن عربی تاکہ تم سمجھ سکو۔“
Read the full tafseer →2 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ تمہیں اس کے مضامین و مطالب سمجھنے میں آسانی ہو۔ تم عربی زبان بولتے ہو اور قرآن عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا کہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم تھوڑی سی بھی عقل و فکر سے کام لو اس کے شیریں انداز بیان اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی تاثیر، اس کے احکام کی حکمت میں غور کرو تو تمہیں از خود معلوم ہوجائے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (اہل عرب بطور مخاطب اول کے) (آیت) ” والکتب المبین “۔ قرآں ایک بالکل واضح کتاب بلحاظ اپنے پیش کئے ہوئے مہمات عقائد کے بھی ہے اور بلحاظ اپنے احکام اساسی واولی کے۔ و۔ کلام عرب میں تاکید وزور کلام کے موقع پر قسم لانے کا دستور عام ہے، اور استشہاد کا پہلو جو قسم میں ہوتا ہے، وہ اس خاص موقع پر عیاں وظاہر ہے۔ یعنی قرآن پر غور کرنے سے خود اس کے مضامین کا اعجاز ظاہر ہوا جارہا ہے۔ عربی اسلوب بیان ہی سے کہ مثلا جب عرب ادیب، خطبی، شاعر کو اپنی شجاعت ودلیری کا اظہار مقصود ہوگا تو بجائے اس کے کہ اردومح اور ہ کے مطابق وہ یہ کہے کہ میرے کارناموں پر میری تلوار گواہ ہے، وہ یہ کہے گا کہ مجھے تلوار کی قسم ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →انا جعلنہ قرء نا عربیا لعلکم تعقلون کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب ! ) آسانی
کے ساتھ) تم سمجھ لو۔
اِنَّا جَعَلْنٰہُ ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔ قرآن حقیقت میں اللہ کی صفت کلامیہ ہے جو مخلوق (یعنی مجعول) نہیں ہے (بنایا ہوا نہیں ہے) اسلئے آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کتاب کو عربی الفاظ کا جامہ پہنایا ہے تاکہ تم پڑھ سکو اور اس کے معانی کو سمجھو۔
ا اللہ نے مختلف چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ‘ یعنی ان کو اپنی ہستی (اور وحدانیت اور دوسری صفات) کی دلیل بنایا ہے اور یہ سب چیزیں اللہ کی توحید وغیرہ پر شہادت دے رہی ہے۔ اللہ نے اس کتاب کے عربی زبان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) حم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا اور واضھ کردیا اور قسم ہے اس کتاب کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے کہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کا فیصلہ کردیا حکیم کا شعر ہے۔
اے میری قوم جو کہ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا پرندے پرواز کرتے رہیں اور ستارے نکلتے ہیں یا یہ کہ حم قسمیہ الفاظ ہیں کہ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن کریم بنایا کہ جن حلال و حرام اوامرو نواہی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان کو سمجھ لو۔
اور یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بڑے رتبہ کی اور حلال و حرام کے بیان میں محکم ہے۔
Read the full tafseer →انا جعلنہ قرانا عربینا…: اس آیت میں یہ یقین دلانے کے ساتھ کہ اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے، اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (2) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیات نمبر ا، 2، 3
حم۔ والکتب المبین۔ اس کے بارے میں گفتگو گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حم قسم ہے والکتب المبین دوسری قسم ہے، اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس کی چاہے قسم اٹھائے اس کا جواب قسم انا جعلنہ ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے والکتب کا جواب حم کو نبایا جس طرح تو کہتا ہے نزل واللہ، وجب واللہ تو اس نے الکتب المبین پر وقف کیا ہے، جس نے جواب قسم انا جعلنہ کو نبایا ہے اس نے والکتب المبین پر وقف نہیں کیا۔ جعلنہ کا معنی ہے ہم نے اس کا نام رکھا اور ہم نے اس کی صفت بیان کی۔ اسی وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے ماجعل اللہ من بحیرۃ (المائدہ : 103) سدی نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة ” حم الزخرف “ مکہ میں نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرموت سے ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس ؓ مجھے قرآن کے بارے میں بتائیے کیا وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے یا مخلوق ہے اللہ کی مخلوق میں سے ؟ انہوں نے فرمایا بلکہ وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے، کہا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا (آیت ) ” وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ (التوبہ آیت 6) اس آدمی نے کہا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں دیکھا انا جعلنہ قرء نا عربیا “ (ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا)…
Read the full tafseer →اِنَّا جَعَلْنٰهُ [ بیشک ہم نے بنایا اس (کتاب مبین ) کو ] قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا [ عربی قرآن ] لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ [ شاید کہ تم لوگ عقل سے کام لو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کو بچھونا بنانا، کشتیوں اور چوپایوں کی نعمت عطا فرمانا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور مالکیت بیان فرمائی اور بندوں کے لیے جو نفع کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ فرمایا ان سب چیزوں کو وجود بخشنے اور بندوں کے لیے مسخر کرنے میں توحید کے دلائل ہیں، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ ان سے یہ دریافت کریں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا فرمایا تو یہ لوگ خود ہی اقراری ہوں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جو عزیز بھی ہے یعنی غالب اور زبردست ہے اور علیم بھی ہے جو سب کچھ جانتا ہے پھر فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین :
قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین :
(ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔
حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے اور قرآن کی عظمت شان کا بیان ہے۔ واؤ قسمیہ ہے ور جواب محذوف ہے ای انک لمن المرسلین او انک لرسول صادق، اور، انا جعلناہ الخ، استیناف ہے یعنی یہ واضح اور روشن کتاب اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) یا انا جعلناہ الخ۔ جواب قسم مذکور ہے۔ یعنی یہ کتاب جو واضح اور فسیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بذات خود اس پر شاہد ہے کہ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اپنی مادری زبان میں اچھی طرح سمجھ سکو۔ (روح) ۔ گویا یہ قرآن خود ہی اپنا شاہد ہے۔ (ع) آفتا بآمد دلیل آفتاب۔ تائید : ” لکن اللہ یشہد بما انزل الیک انزلہ بعلمہ “ قسم کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…
Read the full tafseer →اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 3 ۚ
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →اِنَّا جَعَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّـکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الزخرف : 3)
(ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ )
قرآن کریم کا عربی میں آنا اللہ تعالیٰ کا احسان ہے
یہ کتاب مبین کے ایک پہلو کی وضاحت ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو ایک واضح کتاب بنا کر اتارا ہے۔ لیکن اس میں اس بات کا امکان موجود تھا کہ ہم اسے کسی اور فصیح وبلیغ زبان میں اتار دیتے جس سے دنیا کی دوسری قومیں فائدہ اٹھاتیں لیکن تم عربی کے سوا دوسری زبانوں سے نابلد ہونے کی وجہ سے یہ عذر کرسکتے تھے کہ اس کتاب کے مبین اور عظیم ہونے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن ہم عربی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں جانتے، ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن
الشوریٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ ہم نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور ایمان کیا ہے۔ الزّخرف کی ابتدا اس بات سے ہو رہی ہے کہ وحی کی صورت میں جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کا نام قرآن ہے جو عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
حٰمٓ حروف مقطعات میں سے تین حروف ہیں۔ اب تک یہ چار سورتوں کی ابتدا میں آچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا مختلف الفاظ میں تعارف کروایا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی قسم اٹھا کر ارشار فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ یہ ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت…
Read the full tafseer →آیت 3: اِنَّا جَعَلْنٰـہُ یہاں جعل صیر کے معنی میں ہے۔ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا یہ جواب قسم ہے۔ یہ بڑی خوبصورت اور شاندار قسم ہے کیونکہ قسم اور مقسم علیہ میں مناسبت پائی جاتی ہے۔ المبین نمبر 1۔ ان کے لئے واضح ہے جن پر اتاری گئی۔ کیونکہ یہ کتاب ان کی لغت و اسلوب کے مطابق ہے۔ نمبر 2۔ یا مدبرین کے لئے واضح ہے۔ نمبر 3۔ یا اس کتاب نے ہدایت کی راہ کو گمراہی سے بالکل الگ کردیا دین کے سلسلہ میں جن چیزوں کی ضرورت تھی وہ سب واضح کردیں۔ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ (تاکہ تم اسکے معانی کو سمجھو) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔ ، حم، والکتاب المبین، اس کتاب کی قسم کھائی ہے جس نے ہدایت کے راستوں کو گمراہی کے راستوں سے واضح کیا اور امت جس شریعت کی محتاج ہے اس کو واضح کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت 1
یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…
Read the full tafseer →2 قرآن حکیم کا عربی زبان میں اتارا جانا عربوں پر ایک مستقل احسان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اس کو عربی زبان کا ایک عظیم الشان قرآن بنایا ہے "۔ تاکہ تم لوگ ۔ اے عرب۔ جو کہ اس کے اولین مخاطب ہو اور تمہیں اپنی زبان وبیان پر بھی دنیا ساری کے مقابلے میں ایک غرہ اور ناز تھا اور ہے، تم اس کتاب حکیم کو سمجھ سکو۔ اور پھر اس کے پیغام حق و ہدایت کو تم سارے عالم میں پہنچا سکو۔ اور یوں بھی عربی زبان کے علاوہ دوسری کوئی زبان ایسی تھی ہی نہیں اور ہے ہی نہیں جو قرآنی علوم و معارف کو اپنے دامن میں سمیٹ سکے کہ جن نزاکتوں اور باریکیوں پر یہ زبان حاوی و مشتمل ہے اور جو گہرائی، گیرائی اور وسعت و جامعیت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے
تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔
قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔
مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔
یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →ف 11 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے۔ پھر دوسری قومیں تمہارے ذریعہ میں قرآن کو سمجھیں۔
Read the full tafseer →(43:3) جعلنہ : جعلنا ماضی کا سیغہ جمع متکلم جعل باب فتح مصدر۔ بمعنی کرنا ۔ بنانا۔ ٹھہرانا وغیرہ۔
یہ لفظ مندرجہ ذیل پانچ طرح پر استعمال ہوتا ہے :۔
(1) بمعنی صار ، طفق : اس صورت میں یہ بطور فعل لازم کے آتا ہے مثلا جعل زید یقول کذا زید یوں کہنے لگا۔
(2) بمعنی اوجد (یعنی ایجاد یا پیدا کرنا۔ اس صورت میں یہ فعل متعدی بیک مفعول استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً وجعل الظلمت والنور (6:1) اور اس نے اندھیرے اور روشنی بنائی۔
(3) ایک شے کو دوسری شے سے پیدا کرنا اور بنانا۔ مثلا وجعل لکم من انفسکم ازواجا (42:11) اس نے تمہارے لئے تمہار ہی جنس سے جوڑے بنائے ۔
(4) بمعنی تصییر۔ یعنی کسی شے کو ایک حالت سے دوسری حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…
Read the full tafseer →[2] کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے اور تمہارے ذریعے سے دنیا کی قومیں اس کتاب کو سیکھیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
حل لغات :۔ ام الکلب ۔ لوح محفوظ مسرفین ۔ حد سے تجاوز کرجانیوالے ۔
آیت 2 ۔ 3
1: کتاب مبین کی قسم کھانا اور اس کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ عربی زبان میں وضوح مطلب کی استعداد دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔ یعنی قرآن کو عربی زبان میں خدا نے نازل کرکے تمام دنیا پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ اس وقت بھی جتنی زبانیں موجود ہیں ۔ ان میں چند ہی زبانیں ایسی ہیں ۔ جو دینیات کے اظہار کے لئے بوقت کارگر ہوسکتی ہیں ۔ ان میں دو بنیادی نقص ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ بوجہ قدامت کے زندہ نہیں ہیں ۔ اور ان کے اسالیب بیان کہنہ اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم…
Read the full tafseer →(3) ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ یعنی یہ کتاب اپنے معنی اور مطالب میں واضح اور کھلی ہوئی ہے جس نے حق و باطل کی راہیں واضح اور جدا جدا کردی ہیں اور ہدایت و گمراہی کی راہوں کو الگ الگ کردیا ہے یا یہ کہ اس کتاب نے ان تمام چیزوں کو واضح کردیا ہے اور کھول کر بیان کردیا ہے جن چیزوں کی دین کے بارے میں امت کو احتیاج اور ضرورت ہے اور ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن رکھا ہے یعنی اس کا وصف یہ ہے کہ عربی زبان کا قرآن ہے یا یہ کہ اس کا نام رکھا قرآن عربی زبان کا تاکہ اے اہل عرب تم سمجھ سکو اور سمجھ کر دوسروں کو سمجھا سکو کیونکہ اول خطاب اہل عرب کو ہے۔
یہاں جعل بمعنی خلق نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ پس جب یہ سمجھنے میں آسان ہے اور خاص ہماری زیر حفاظت اور بوجہ اعجاز کے عظیم المرتبہ اور اپنی حقیقت پر دال۔ پھر منافع و مصالح پر مشتمل تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے، لیکن اگر تم نہ بھی مانو تب بھی ہم بوجہ اقتضائے حکمت کے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے جو محض ان لوگوں کیلئے ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں
3 ؎ اس میں مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم محمد ﷺ کی کتاب نہیں اور نہ ہی آپ ﷺ نے ان نظریات اور عقائد کو گھڑا اور بنایا ہے بلکہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس کا نازل کرنے والا ہے اور اس کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو کیونکہ دنیا میں جتنی زبانیں بولی گئی ہیں اور بولی جا رہی ہیں اور بولی جائیں گی ان سب میں سے واضح اور کھل کر بیان اس زبان میں دیا جاسکتا ہے اور یہی زبان محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مخاطبین اول جو آپ ﷺ ہی کی قوم کے لوگ تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
A Preacher must not give up his preaching due to disappointment
أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ (Shall we remove the advice away from you because you are a transgressing people? - 43:5) The meaning is that We will not give up advising you through the Qur'an, no matter how rebellious and disobedient you may become. This tells us that the person who is engaged in preaching and inviting others towards Islam should carry the message to everybody; he must not give up preaching to some people or any group simply because they are non-believers, highly…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 The object of taking an oath by the Qur'an is to impress this fact: "We are the Author of this Book and not Muhammad (upon whom be Allah's peace)," and the attribute of the Qur'an chosen for the oath is that it is a "lucid Book". To swear by the Qur'an itself with its this attribute in order to impress that the Qur'an is Divine Word by itself implies this: "O people, this is an open Book before you. Read it intelligently. Its clear and un-ambiguous themes, its language and literary style, its teaching which distinguishes the truth from falsehood, all arc testifying to the fact that none but…
Read the full tafseer →