وَالْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟ۙۛوَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
کتاب روشن کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the clear Book,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
وَالْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟ۙۛوَالۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
کتاب روشن کی قسم
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the clear Book,
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf
قسم ہے اِس واضح کتاب کی
کتاب روشن کی قسم
قسم ہے اس واضح کتاب کی
قسم ہے اس واضح کتاب کی۔
روشن کتاب کی قسم
قسم ہے روشن کتاب کی،
اس کتاب کی قسم جو کھول کر بیان کرنے والی ہے !
اس واضح کتاب کی قسم
شاہد ہے یہ واضح کتاب۔
قسم ہے اس کتاب کی جو کہ کھول کھول کر بیان والی ہے
قسم ہے (اس) کتاب واضح کی
قسم ہے اس کتاب کی جو بالکل واضح ہے
روشن کتاب کی قسم۔
By the Clear Book;
By the manifest Book,
By the manifest Book,
By the manifest Book.
By the Scripture which maketh plain,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the clear Book,
I swear by the illustrious Book.
I swear by the Book that makes things clear:
By this luminous Book.
By the Book that makes things clear,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–3
سورة الزُّخْرُف 1 قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف " ہم " ہیں نہ کہ محمد ﷺ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ " کتاب مبین " ہے۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین، اس کی زبان، اس کا ادب، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا۔ پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
معارف و مسائل یہ سورت مکی ہے، البتہ حضرت مقاتل کا قول ہے کہ (آیت) واسئل من ارسلنا الخ مدنی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سورت معراج کے وقت آسمان پر نازل ہوئی۔ (روح المعانی) واللہ اعلم (آیت) وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ (قسم ہے کتاب واضح کی) اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کی قسم کھاتے ہیں تو عموماً وہ چیز بعد کے دعوے کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھا کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے۔ قرآن بذات خود اپنے اعجاز کی وجہ سے اپنی حقانیت کی دلیل ہے اور قرآن کو واضح کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وعظ و نصیحت پر مشتمل مضامین با آسانی سمجھ میں آجاتے ہیں لیکن جہاں تک اس سے احکام…
Read the full tafseer →والکتب المبین (2) قرآن اپنے ہر دعوے پر خود حجت ہے یہ قران کی قسم کھائی ہے اور اس کی صفت یہاں مبین وارد ہوئی ہے جس کے معنی ہیں واضح کردینے والی کتاب، یعنی اپنے ہر دعوے پر یہ خود حجت ہے، کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کے لئے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں وہ آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ جہاں قرینہ بالکل واضح اور قسم خود مقسم علیہ کو واضح کر رہی ہو، وہاں مقسم علیہ کو حذف کردیتے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ سورة ق میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ یہاں لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود تھا، پھر وہاں سے آسمان دنیا پر، اور اس کے بعد حسب موقع حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
9 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے اور تمہارے ذریعہ سے دنیا کی قومیں اس کتاب کو سیکھیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 2 { وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ } ”قسم ہے اس کتاب کی جو بالکل واضح ہے۔“ یہاں پر چونکہ قرآن کی قسم کا ”جوابِ قسم“ یا مقسم علیہ محذوف ہے ‘ اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی سورة یٰسٓ کی آیت میں وارد الفاظ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ ہی کو مانا جائے گا۔ یہ نکتہ قبل ازیں سورة یٰسٓکی آیت 3 کے ضمن میں واضح کیا جا چکا ہے کہ سورة یٰسٓ کے آغاز میں قرآن کی قسم چونکہ حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی کے طور پر کھائی گئی ہے ‘ اس لیے قرآن کے ان تمام مقامات پر جہاں قرآن کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے وہاں اس قسم کا مقسم علیہ منطقی طور پر ان ہی الفاظ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ کو ہونا چاہیے۔ چناچہ آیت زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 واضح کتاب کا لفظ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کیونکہ یہ کتاب بہت سی باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔ مثلاً یہ کتاب شرک کی جملہ اقسام کی وضاحت کرتی ہے۔ دین حق اور شریعت کے امور کی وضاحت کرتی ہے۔ احوال آخرت اور جنت و دوزخ کی وضاحت کرتی ہے۔ الغرض حق اور باطل کی ایک ایک چیز کو پوری وضاحت سے پیش کر رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ (اہل عرب بطور مخاطب اول کے) (آیت) ” والکتب المبین “۔ قرآں ایک بالکل واضح کتاب بلحاظ اپنے پیش کئے ہوئے مہمات عقائد کے بھی ہے اور بلحاظ اپنے احکام اساسی واولی کے۔ و۔ کلام عرب میں تاکید وزور کلام کے موقع پر قسم لانے کا دستور عام ہے، اور استشہاد کا پہلو جو قسم میں ہوتا ہے، وہ اس خاص موقع پر عیاں وظاہر ہے۔ یعنی قرآن پر غور کرنے سے خود اس کے مضامین کا اعجاز ظاہر ہوا جارہا ہے۔ عربی اسلوب بیان ہی سے کہ مثلا جب عرب ادیب، خطبی، شاعر کو اپنی شجاعت ودلیری کا اظہار مقصود ہوگا تو بجائے اس کے کہ اردومح اور ہ کے مطابق وہ یہ کہے کہ میرے کارناموں پر میری تلوار گواہ ہے، وہ یہ کہے گا کہ مجھے تلوار کی قسم ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…
Read the full tafseer →والکتب المبین حٰمٓ۔ قسم اس کتاب واضح کی۔ کتاب مبین سے مراد ہے قرآن مجید۔ قرآن پاک راہ ہدایت بتاتا اور ظاہر کرتا ہے۔ قرآن کے اعجاز کا تقاضا ہے کہ قرآن کی صداقت کو مانا جائے اور قرآن کی صداقت پر ایمان رکھنے سے ان تمام احکام و ضوابط کا علم ہوجانا ضروری ہے جس سے انسان کی دنیوی بہبودی اور اخروی فلاح وابستہ ہے۔ وَالْکِتٰبِ میں واؤ قسمیہ ہے اور اگر حٰآ کو مقسم بہ کہا جائے تو والکتاب کا واؤ عاطفہ ہوگا اور آئندہ جملہ جواب قسم قرار پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) حم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا اور واضھ کردیا اور قسم ہے اس کتاب کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے کہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کا فیصلہ کردیا حکیم کا شعر ہے۔ اے میری قوم جو کہ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا پرندے پرواز کرتے رہیں اور ستارے نکلتے ہیں یا یہ کہ حم قسمیہ الفاظ ہیں کہ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن کریم بنایا کہ جن حلال و حرام اوامرو نواہی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان کو سمجھ لو۔ اور یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بڑے رتبہ کی اور حلال و حرام کے بیان میں محکم ہے۔
Read the full tafseer →والکتب المبین : قسم اس بات کا یقین دلانے کے لئے اٹھائی جاتی ہے جو اس کے جواب میں کہی جاتی ہے پھر بعض اوقات کسی چیز کی قسم اس کی عظمت کے پیش نظر کھائی جاتی ہے، تاکہ مخاطب کو بات کا یقین آجائے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی قسم اور بعض اوقات قسم جواب قسم کی دلیل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی اکثر قسمیں ایسی ہی ہیں۔ ”الکتب“ پر الف لام عہد کے لئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”اس کتاب کی قسم“ کیا گیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی صفت ”المبین“ کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے والے ہم ہیں۔ اس کا ہر بات کو اتنے عمدہ طریقے سے کھول کر بیان کرنا شاہد ہے کہ یہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیات نمبر ا، 2، 3 حم۔ والکتب المبین۔ اس کے بارے میں گفتگو گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حم قسم ہے والکتب المبین دوسری قسم ہے، اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس کی چاہے قسم اٹھائے اس کا جواب قسم انا جعلنہ ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے والکتب کا جواب حم کو نبایا جس طرح تو کہتا ہے نزل واللہ، وجب واللہ تو اس نے الکتب المبین پر وقف کیا ہے، جس نے جواب قسم انا جعلنہ کو نبایا ہے اس نے والکتب المبین پر وقف نہیں کیا۔ جعلنہ کا معنی ہے ہم نے اس کا نام رکھا اور ہم نے اس کی صفت بیان کی۔ اسی وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے ماجعل اللہ من بحیرۃ (المائدہ : 103) سدی نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة ” حم الزخرف “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرموت سے ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس ؓ مجھے قرآن کے بارے میں بتائیے کیا وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے یا مخلوق ہے اللہ کی مخلوق میں سے ؟ انہوں نے فرمایا بلکہ وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے، کہا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا (آیت ) ” وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ (التوبہ آیت 6) اس آدمی نے کہا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں دیکھا انا جعلنہ قرء نا عربیا “ (ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا)…
Read the full tafseer →وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ [ قسم ہے اس واضح کردینے والی کتاب کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
قرآن کتاب مبین ہے، عربی میں ہے، نصیحت ہے، انبیائے سابقین ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اولاً قرآن ہی کی قسم کھا کر قرآن کی تعریف فرمائی کہ کتاب مبین کی قسم ہے ہم نے اپنی اسی کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا یعنی یہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کے اولین مخاطبین عرب ہیں یہ لوگ قرآن کو پڑھیں اور سمجھیں، سمجھنا چاہیں گے تو سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے۔ اس کے بعد قرآن کی برتری بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وہ ہمارے پاس ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں محفوظ ہے وہ بلند بھی ہے اور حکمتوں سے پر ہے اور بعض حضرات نے حکیم کا ترجمہ ” محکم “ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ لفظی اور معنوی اعتبار سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
2:۔ ” والکتب المبین “ یہ تمہید مع ترغیب ہے اور قرآن کی عظمت شان کا بیان ہے۔ واؤ قسمیہ ہے ور جواب محذوف ہے ای انک لمن المرسلین او انک لرسول صادق، اور، انا جعلناہ الخ، استیناف ہے یعنی یہ واضح اور روشن کتاب اس پر شاہد ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ قالہ الشیخ (رح) یا انا جعلناہ الخ۔ جواب قسم مذکور ہے۔ یعنی یہ کتاب جو واضح اور فسیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بذات خود اس پر شاہد ہے کہ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اسے اپنی مادری زبان میں اچھی طرح سمجھ سکو۔ (روح) ۔ گویا یہ قرآن خود ہی اپنا شاہد ہے۔ (ع) آفتا بآمد دلیل آفتاب۔ تائید : ” لکن اللہ یشہد بما انزل الیک انزلہ بعلمہ “ قسم کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ 1 ۚ ۛوَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ 2 ۙ ۛ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
ترکیب : والکتاب من جعل حم قسمافالواوللعطف و من لم یجعل فالواوللقسم و الکتاب مجروربھا وانہ عطف علی انافی متعلقہ بعلی واللام لایمنع ذلک لدینا بدل من الجاروالمجرور افنضرب الہمزۃ للاستفہام الانکاری والفاء للعطف علی محذوف ای نمھلکم فنضرب عنکم الذکر و الضرب ہذا بمعنی الترک یقال ضربت عنہ اذا ترکتہ قالہ الزجاج و الفراء، و انتصاب صفحاً علی المصدریہ من معنی نضرب لان للصفح و الضرب معنی واحدا وھوا الترک والاعراض یقال صفحت عنہ اذا اعرضت عنہ۔ اوعلی الحال ای صافحین، وکم منصوب بارسلنا و بطشا تمیزوقیل مصدر فی موضع المال من الفاعل۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة زخرف ہے۔ یہ بھی باتفاق علمائِ صحابہ ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حٰـمٓ۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الزخرف : 1، 2) (حٰ مٓ۔ قسم ہے واضح کتاب کی۔ ) قرآن کریم خود اپنی حقانیت پر دلیل ہے اس آیت میں وائو قسمیہ ہے۔ اس واضح کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ قسم کے بعد عام طور پر جوابِ قسم آتا ہے یا مقسم علیہ آتا ہے، لیکن وہ یہاں محذوف ہے۔ قسم خود مقسم علیہ کو واضح کررہی ہے۔ اور قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جہاں مقسم علیہ قسم کی وجہ سے واضح ہورہا ہو یا اس کے وجود پر کوئی قرینہ دلالت کرتا ہو تو وہاں مقسم علیہ کو محذوف کردیا جاتا ہے۔ سورة ق میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ کتاب مبین کی قسم خود اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ مخالفین اسے اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھنے کی بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن الشوریٰ کا اختتام اس ارشاد پر ہوا کہ ہم نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور ایمان کیا ہے۔ الزّخرف کی ابتدا اس بات سے ہو رہی ہے کہ وحی کی صورت میں جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے اس کا نام قرآن ہے جو عربی میں نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ حٰمٓ حروف مقطعات میں سے تین حروف ہیں۔ اب تک یہ چار سورتوں کی ابتدا میں آچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کا مختلف الفاظ میں تعارف کروایا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی قسم اٹھا کر ارشار فرمایا کہ یہ کتاب مبین ہے۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا تاکہ تم عقل و فکر سے کام لو۔ یہ ہمارے ہاں لوح محفوظ میں ثبت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1: حٰمٓ (2) وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی ہے اور کتاب مبین سے قرآن مجید مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
تفسیر (1۔ 2) ۔۔۔۔۔۔ ، حم، والکتاب المبین، اس کتاب کی قسم کھائی ہے جس نے ہدایت کے راستوں کو گمراہی کے راستوں سے واضح کیا اور امت جس شریعت کی محتاج ہے اس کو واضح کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیت 1 یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 یہ کتاب مبین اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی اس عظیم الشان کتاب کی "۔ جو کھول کر بیان کرتی ہے حق و باطل کو، درست اور نا درست کو، جائز و ناجائز کو، حلال و حرام کو، اَسباب سعادت اور موجبات شقاوت کو۔ اور ہر اس چیز کو جس کی انسان کو سعادت دارین سے سرفرازی کے لئے ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ پیش اور بیان بھی فرمایا جا رہا ہے اس ہستی کے ذریعے جو امی محض ہے اور جس نے نہ کبھی کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے اور نہ کسی انسان سے کبھی کوئی حرف تک سیکھا پڑھا۔ مگر اس کے باوجود علوم و معارف کے وہ خزانے پیش فرمائے جن کے مقابلے سے ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 10 یعنی اپنے مدعا کو صاف صاف بیان کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →(43:2) والکتب المبین واؤ قسمیہ ہے الکتب المبین ۔ موصوف و صفت مل کر مقسم بہٖ ۔ اور اگلی آیت میں قرانا عربیا مقسم علیہ۔ قسم ہے قرآن مبین کی۔ الکتب سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ اگلی آیت سے واضح ہے۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر ابانۃ باب افعال سے مصدر ۔ یہ لفظ لازم و متعدی دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے بمعنی ظاہر یا ظاہر کرنے والا۔ پہلی صورت میں مطلب ہوگا :۔ اس کتاب کی قسم جو بالکل واضح ظاہر اور روشن ہے یعنی اس کے مطالب و معارف بالکل عیاں اور شک و شبہ سے بالا تر ہیں۔ اور متعدی ہونے کی صورت میں اس کا مطلب ہوگا : اس کتاب کی قسم جو حق و باطل کو اواضح کرنے والی ہے یہاں یہ دونوں صفات اس کتاب میں پائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–8
(ف 1) جس بات پر قسم کھائی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے محمدرسول اللہ نے اپنی طرف سے نہیں بنایاکیون کہ یہ قرآن امی رسول پر اترا ہے اور باتیں اس میں ایسی غیب کی ہیں کہ کوئی شخص بھی وہ باتیں نہیں بتلاسکتا، اس واسطے اسی قرآن کی قسم کھا کر یہ بات منکرین قرآن کو جتلائی جاتی ہے کہ یہ قرآن بلاشک اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں ہدایت وضلالت کی راہیں جدا جدا اور واضح کردیں، اور امت کی تمام شرعی ضرورت کو بیان فرمادیا تاکہ تم اس کے معانی اور احکام کو سمجھو لوح محفوظ اونچی اور محفوظ جگہ ہے اور قرآن اسی میں لکھا ہوا ہے اس لیے قرآن کو کتاب بلند قدر اور حکمت والی فرمایا، آگے مشرکین کو مخاطب ٹھہراکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کو قسم ہے اس واضح کتاب کی جس کے نازل کرنے والے ہم ہیں جو حکمت سے لبریز کتاب ہے جس کی زبان، جس کا ادب اور جس کا حق وباطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہے کہ اس کا مصنف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
حل لغات :۔ ام الکلب ۔ لوح محفوظ مسرفین ۔ حد سے تجاوز کرجانیوالے ۔ آیت 2 ۔ 3 1: کتاب مبین کی قسم کھانا اور اس کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ عربی زبان میں وضوح مطلب کی استعداد دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ ہے ۔ یعنی قرآن کو عربی زبان میں خدا نے نازل کرکے تمام دنیا پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ اس وقت بھی جتنی زبانیں موجود ہیں ۔ ان میں چند ہی زبانیں ایسی ہیں ۔ جو دینیات کے اظہار کے لئے بوقت کارگر ہوسکتی ہیں ۔ ان میں دو بنیادی نقص ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ بوجہ قدامت کے زندہ نہیں ہیں ۔ اور ان کے اسالیب بیان کہنہ اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل فہم…
Read the full tafseer →(2) قسم ہے اس واضح اور صاف کتاب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ف 4۔ پس جب یہ سمجھنے میں آسان ہے اور خاص ہماری زیر حفاظت اور بوجہ اعجاز کے عظیم المرتبہ اور اپنی حقیقت پر دال۔ پھر منافع و مصالح پر مشتمل تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے، لیکن اگر تم نہ بھی مانو تب بھی ہم بوجہ اقتضائے حکمت کے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم ایک واضح اور روشن مضامین پر مشتمل کتاب ہے 2 ؎ واؤ ان حروف میں سے ہے جو عربوں کے ہاں بطورقسم بھی بولے جاتے تھے جیسے باء ، تاء اور لام کے حروف ہیں کہ یہ بھی کبھی بطور قسم بولے جاتے ہیں۔ قسم کے لیے یہ بات پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ غیر اللہ کی قسم مخلوق کے لیے جائز اور درست نہیں اور قسم جب بھی کھائی جائے صحیح اور سچی بات پر کھائی جاتی ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے نام ہی کی قسم اٹھانا جائز ہے اس لیے جہاں بھی کوئی حرف بطور قسم آیا ہے وہاں رب کا لفظ محذوف تسلیم کیا گیا ہے اور اسی طرح مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم کے رب کی قسم یہ قرآن کریم ایک نہایت ہی واضح اور روشن کتاب ہے جس میں کسی قسم کا ابہام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
Commentary This Surah is Makki, although Muqatil رحمۃ اللہ علیہ has said that the verse وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا (43:45) is Madam, and according to another view, this Surah was revealed in Heaven during Lailat-ul-Mi` raj (the Night of Ascention) (Ruh u1-Ma’ ani) - Allah knows best. Ha Meem- Only Allah knows its meaning. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (By the manifest Book - 43:2) The book in this verse refers to the Holy Qur'an. Whenever Allah swears by anything, it is usually an argument for the statement that follows. Swearing by the Qur'an in this verse is an indication that the Qur'an, by…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 The object of taking an oath by the Qur'an is to impress this fact: "We are the Author of this Book and not Muhammad (upon whom be Allah's peace)," and the attribute of the Qur'an chosen for the oath is that it is a "lucid Book". To swear by the Qur'an itself with its this attribute in order to impress that the Qur'an is Divine Word by itself implies this: "O people, this is an open Book before you. Read it intelligently. Its clear and un-ambiguous themes, its language and literary style, its teaching which distinguishes the truth from falsehood, all arc testifying to the fact that none but…
Read the full tafseer →