Az-Zukhruf 43:1

43. Az-Zukhrufالزخرف

Ornaments of gold · Meccan · 89 ayahs · 7 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

43:1

حٰمٓ ۟ۚۛحٰمٓ

حٰم

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ha, Meem.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:1

حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حٰـم) حروف مقطعات میں سے ایک ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Ha. Mim.

— Muhammad Sarwar

Tafseer of 43:1

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الزُّخْرُف 1 قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے مصنف " ہم " ہیں نہ کہ محمد ﷺ۔ اور قسم کھانے کے لیے قرآن کی جس صفت کا انتخاب کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ " کتاب مبین " ہے۔ اس صفت کے ساتھ قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر خود قرآن کی قسم کھانا آپ سے آپ یہ معنی دے رہا ہے کہ لوگو، یہ کھلی کتاب تمہارے سامنے موجود ہے، اسے آنکھیں کھول کر دیکھو، اس کے صاف صاف غیر مبہم مضامین، اس کی زبان، اس کا ادب، اس کی حق و باطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم، یہ ساری چیزیں اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہیں کہ اس کا مصنف خداوند عالم کے سوا کوئی دوسرا ہو نہیں سکتا۔ پھر یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر حم (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم (ہے) اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی سے) سمجھ لو اور وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں پڑے رتبہ کی اور حکمت بھری کتاب ہے (پس جب وہ سمجھنے میں آسان اور خاص ہماری زیر حفاظت اور اعجاز کی وجہ سے بڑے رتبے والی اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل ہے تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے لیکن اگر تم نہ مانو تو تب بھی ہم اپنی حکمت کے مقتضا سے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے چناچہ ارشاد ہے کہ) کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو (محض) اس بات پر ہٹا دیں گے کہ تم حد (اطاعت) سے گزرنے والے ہو (اور اس کو نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم (1) پہلی سورتوں کی طرح اس کا قرآنی نام بھی حم ہی ہے سورتوں کے ناموں کا اشتراک، ہم اشارہ کرچکے ہیں، ان کے مطالبت کے اشتراک پر دلیل ہے۔ چناچہ تمام حوامیم جو آپ پڑھتے آ رہے ہیں، ایک ہی قدر مشترک کی حامل ہیں۔ اختلاف اگر ہم تو اسلوب بیان، نہج استدلال اور اجمال و تفصیل کا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: قرآن کریم ازل سے لوح محفوظ میں موجود تھا، پھر وہاں سے آسمان دنیا پر، اور اس کے بعد حسب موقع حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–9

درس نمبر 231 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 25 آیت نمبر 1 تا 8 سورت کا آغاز دو حروف حا اور میم سے ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد۔ والکتب المبین (43 : 2) کا عطف ہے۔ اللہ حا اور میم کی بھی قسم اٹھاتا ہے اور کتاب مبین کی بھی۔ حا اور میم بھی اسی کتاب کے حروف ہیں۔ یا کتاب مبین ان دو حروف کے جنس سے ہے۔ غرض یہ کتاب مبین حروف تہجی کے اعتبار سے ایسے ہی حروف تہجی سے مرکب ہے۔ یہ دو حروف اسی طرح کے حروف ہیں جس طرح کے حروف انسانی زبانوں میں ہوتے ہیں۔ یہ خالق کائنات کی نشانیاں ہیں جس نے انسان کو اس انداز سے پید کیا اور اس کو اس قسم کی آوازیں دیں۔ قرآن کے ساتھ ان حروف کا جب ذکر آتا ہے کہ تو اس کے بیشمار معانی اور بیشمار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

9 کیونکہ عربی تمہاری مادری زبان ہے اور تمہارے ذریعہ سے دنیا کی قومیں اس کتاب کو سیکھیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 واضح کتاب کا لفظ بڑا وسیع مفہوم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کیونکہ یہ کتاب بہت سی باتوں کی وضاحت کرتی ہے۔ مثلاً یہ کتاب شرک کی جملہ اقسام کی وضاحت کرتی ہے۔ دین حق اور شریعت کے امور کی وضاحت کرتی ہے۔ احوال آخرت اور جنت و دوزخ کی وضاحت کرتی ہے۔ الغرض حق اور باطل کی ایک ایک چیز کو پوری وضاحت سے پیش کر رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ (اہل عرب بطور مخاطب اول کے) (آیت) ” والکتب المبین “۔ قرآں ایک بالکل واضح کتاب بلحاظ اپنے پیش کئے ہوئے مہمات عقائد کے بھی ہے اور بلحاظ اپنے احکام اساسی واولی کے۔ و۔ کلام عرب میں تاکید وزور کلام کے موقع پر قسم لانے کا دستور عام ہے، اور استشہاد کا پہلو جو قسم میں ہوتا ہے، وہ اس خاص موقع پر عیاں وظاہر ہے۔ یعنی قرآن پر غور کرنے سے خود اس کے مضامین کا اعجاز ظاہر ہوا جارہا ہے۔ عربی اسلوب بیان ہی سے کہ مثلا جب عرب ادیب، خطبی، شاعر کو اپنی شجاعت ودلیری کا اظہار مقصود ہوگا تو بجائے اس کے کہ اردومح اور ہ کے مطابق وہ یہ کہے کہ میرے کارناموں پر میری تلوار گواہ ہے، وہ یہ کہے گا کہ مجھے تلوار کی قسم ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–15

آیت نمبر 1 تا 15 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے قسم ہے اس کتاب کی جو ہدایت کے راستہ کو اور ضروری (قوانین) شریعت کو واضح کرنے والی ہے، اور ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اے مکہ والو ! اس کے معانی کو سمجھ لو اور وہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے ہمارے نزدیک سابقہ کتابوں کے مقابلہ میں عالی مرتبت بڑی حکمت والی (کتاب) ہے، لَدَیْنَا (فی ام الکتاب) سے بدل ہے (لَدَیْنَا) معنی میں عندنا کے ہے (صاوی) کیا ہم اس نصیحت نامہ (یعنی) قرآن کو تم سے روک لیں کہ تم کو نہ حکم کیا جائے اور نہ منع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) حم۔ یعنی جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ فرما دیا اور واضھ کردیا اور قسم ہے اس کتاب کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہے کہ جو کچھ ہونے والا تھا اس کا فیصلہ کردیا حکیم کا شعر ہے۔ اے میری قوم جو کہ ہونے والا ہے وہ ہو کر رہے گا پرندے پرواز کرتے رہیں اور ستارے نکلتے ہیں یا یہ کہ حم قسمیہ الفاظ ہیں کہ قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن کریم بنایا کہ جن حلال و حرام اوامرو نواہی کا ذکر کیا گیا ہے تم ان کو سمجھ لو۔ اور یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بڑے رتبہ کی اور حلال و حرام کے بیان میں محکم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

آیات نمبر ا، 2، 3 حم۔ والکتب المبین۔ اس کے بارے میں گفتگو گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حم قسم ہے والکتب المبین دوسری قسم ہے، اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جس کی چاہے قسم اٹھائے اس کا جواب قسم انا جعلنہ ہے۔ ابن انباری نے کہا : جس نے والکتب کا جواب حم کو نبایا جس طرح تو کہتا ہے نزل واللہ، وجب واللہ تو اس نے الکتب المبین پر وقف کیا ہے، جس نے جواب قسم انا جعلنہ کو نبایا ہے اس نے والکتب المبین پر وقف نہیں کیا۔ جعلنہ کا معنی ہے ہم نے اس کا نام رکھا اور ہم نے اس کی صفت بیان کی۔ اسی وجہ سے یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جس طرح اس ارشاد میں ہے ماجعل اللہ من بحیرۃ (المائدہ : 103) سدی نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ سورة ” حم الزخرف “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی حضرموت سے ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس ؓ مجھے قرآن کے بارے میں بتائیے کیا وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے یا مخلوق ہے اللہ کی مخلوق میں سے ؟ انہوں نے فرمایا بلکہ وہ کلام ہے اللہ کے کلام میں سے، کہا تو نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا (آیت ) ” وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ “ (التوبہ آیت 6) اس آدمی نے کہا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں دیکھا انا جعلنہ قرء نا عربیا “ (ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

قرآن کتاب مبین ہے، عربی میں ہے، نصیحت ہے، انبیائے سابقین ( علیہ السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اولاً قرآن ہی کی قسم کھا کر قرآن کی تعریف فرمائی کہ کتاب مبین کی قسم ہے ہم نے اپنی اسی کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنایا یعنی یہ قرآن عربی زبان میں ہے اس کے اولین مخاطبین عرب ہیں یہ لوگ قرآن کو پڑھیں اور سمجھیں، سمجھنا چاہیں گے تو سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے۔ اس کے بعد قرآن کی برتری بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وہ ہمارے پاس ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں محفوظ ہے وہ بلند بھی ہے اور حکمتوں سے پر ہے اور بعض حضرات نے حکیم کا ترجمہ ” محکم “ کیا ہے مطلب یہ ہے کہ لفظی اور معنوی اعتبار سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–15

بیان عظمت وحقانیت کلام ربانی ووعید برروش مجرمین وملحدین : قال اللہ تعالیٰ : حم والکتب المبین ....... الی ....... ان الانسان لکفور مبین : (ربط) گذشتہ “۔ سورة کا اختتامی مضمون وحی الہی کی تحقیق اور نزول وحی کی صورتوں پر تھا، اب اس سورت کی ابتداء وحی الہی اور ربانی کی عظمت اور اوصاف عالیہ کے بیان سے کی جارہی ہے، فرمایا۔ حآ : خدا تعالیٰ ہی اس کی مراد خوب جانتا ہے، قسم ہے اس کتاب کی جو واضح ہے جس کی روشنی اور وضاحت جہل اور گمراہوں کی تاریکی بھی دور بھی دور کرنے والی ہے، جس کتاب کو بنایا ہے، ہم نے قرآن عربی امید ہے کہ اے مخاطبو ! تم اس کے عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے سمجھو کہ وہ حق ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–8

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الزخرف ہے جو کہ اس کی آیت 35 میں آمدہ لفظ زخرف سے مآخوذ ہے زخرف اور اصا ہونے کی ملمع سازی Glid کو کہتے ہیں ۔ اگر پیتل یا کسی دوسری دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا گیا ہو تو وہ چیز زخرف یا سنہری کہلائے گی ۔ یہ لفظ قرآن پاک میں بات چیت میں ملمع سازی کے ضمن میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة الانعام میں ہے کہ ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرور ( آیت : 12) جو اپنے حواریوں کو ملمع شدہ یا دھوکے والی بات القاء کرتے ہیں۔ یہ سورة باقی حوامیم سبعہ کی طرح مکی سور ۃ ہے اور گزشتہ سورة الشوریٰ کے بعد نازل ہوئی ، اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 1–2

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ حٰـمۗ۝ 1 ۚ ۛوَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۝ 2 ۙ ۛ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–2

حٰـمٓ۔ وَالْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الزخرف : 1، 2) (حٰ مٓ۔ قسم ہے واضح کتاب کی۔ ) قرآن کریم خود اپنی حقانیت پر دلیل ہے اس آیت میں وائو قسمیہ ہے۔ اس واضح کتاب کی قسم کھائی گئی ہے۔ قسم کے بعد عام طور پر جوابِ قسم آتا ہے یا مقسم علیہ آتا ہے، لیکن وہ یہاں محذوف ہے۔ قسم خود مقسم علیہ کو واضح کررہی ہے۔ اور قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جہاں مقسم علیہ قسم کی وجہ سے واضح ہورہا ہو یا اس کے وجود پر کوئی قرینہ دلالت کرتا ہو تو وہاں مقسم علیہ کو محذوف کردیا جاتا ہے۔ سورة ق میں بھی اس کی نہایت واضح مثال موجود ہے۔ کتاب مبین کی قسم خود اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ مخالفین اسے اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھنے کی بجائے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–2

آیت 1: حٰمٓ (2) وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی ہے اور کتاب مبین سے قرآن مجید مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ حم۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا حال سورة بقر میں گزر چکا ہے یہ بھی اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ اور جس بات پر قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں یہاں مقسم بہ وہ قرآن ہے جو عربی زبان میں سارا کا سارا پہلے لوح محفوظ سے اول آسمان پر اور پھر حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا وہاں سے اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوا تاکہ لوگ اس کے موافق عمل کرکے اپنی عقبیٰ درست کریں۔ نسائی مستدرک 3 ؎ حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایتیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف لوح محفوظ سے اول آسمان پر اترا اور پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–7

آیت 1 یہ قرآن عظیم کی قرآن عظیم پر قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین کی علی الاطلاق قسم کھائی اور متعلق کو ذکر نہیں فرمایا تاکہ یہ اس حقیت پر دلالت کرے کہ یہ دین، دنیا اور آخرت کی ہر اس چیز کو بیان کر کے واضح کرتی ہے جس کی بندوں کو حاجت ہے۔ (انا جعلنہ قرء ناً عریباً ) ” بیشک ہم نے اس کو قرآن عربی بنایا ہے۔ “ یہ وہ چیز ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے سب سے فصیح، سب سے واضح اور سب سے زیادہ زور بیان والی زبان میں نازل فرمایا اور یہ اس کا بیان ہے اور اس میں پنہاں حکمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (لعلمکم تعقلون) ” شاید کہ تم اس کے الفاظ و معانی کو انکے آسان اور اذہان کے قریب ہونے کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 یہ کتاب مبین اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی اس عظیم الشان کتاب کی "۔ جو کھول کر بیان کرتی ہے حق و باطل کو، درست اور نا درست کو، جائز و ناجائز کو، حلال و حرام کو، اَسباب سعادت اور موجبات شقاوت کو۔ اور ہر اس چیز کو جس کی انسان کو سعادت دارین سے سرفرازی کے لئے ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اور یہ سب کچھ پیش اور بیان بھی فرمایا جا رہا ہے اس ہستی کے ذریعے جو امی محض ہے اور جس نے نہ کبھی کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے اور نہ کسی انسان سے کبھی کوئی حرف تک سیکھا پڑھا۔ مگر اس کے باوجود علوم و معارف کے وہ خزانے پیش فرمائے جن کے مقابلے سے ساری…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–9

قرآن زبردست اور بہترین کتاب ہے تشریح : کسی چیز یا بات میں زور پیدا کرنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے۔ سو یہاں قرآن پاک کی سچائی کے لیے اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی ہی قسم کھا کر فرمارہا ہے کہ یہ کتاب بڑی فضیلت اور بڑی حکمت والی ہے اسی کی قسم کھا کر ہم اس کی معقولیت، جامعیت اور کتاب الٰہی ہونے کا یقین دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ کوئی معمولی کتاب نہیں اس کو ام الکتاب یعنی تمام کتابوں حکمتوں ہدایتوں اور برکتوں کی جڑ، بنیاد اور مجموعہ کہا گیا ہے۔ کیوں نہ ہو اس کا مرتب کرنے والا اور بھیجنے والا اتنا بڑا، سب سے بڑا علیم و حکیم ہے کہ اس کے برابر کا کوئی بھی ہو نہیں سکتا دنیا میں بہت سی کتابیں بھیجی گئی ہیں مگر وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

1 تا 15۔ قسم ہے اس کتاب مبین کی یعنی ہر بات کو واضح کرنے والی کتاب اپنی عظمت وصداقت پہ خود ایک بہت بڑا گواہ ہے اور ہم نے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ اس کے اول مخاطب عرب اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور دانش کی راہ اختیار کریں۔ اور یہ بھی جان لو کہ یہ کتاب بطور خاص ہماری حفاظت میں اور لوح محفوظ میں اپنے اعجاز اور حکیمانہ مضامین پر مشتمل بڑے رتبے والی ہے اس کی عظمت کا تقاضا کہ اسے حرف حرف ماناجائے گا لیکن اگر اپنی بدنصیبی سے تم نہ بھی مانو تو اس کے ذریعہ سے نصیحت کرنا ہم نہ چھوڑیں گے اور نہ قرآن کا نزول بند ہوگا۔ مبلغ کا کام بات پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 15 : ام الکتاب ( اصلی کتاب ( کتاب کی جڑ) صفحا (موڑ دینا ، پھیر دینا ( جسم کا چوڑا حصہ) مسرفین ( حد سے بڑھنے والے) بطش ( زور ، گرفت ، پکڑ) مضی (گزر گیا) مھد ( بچھونا) انشرنا ( ہم نے اٹھایا) ترکبون ( تم سواری کرتے ہو) لتستوا ( تا کہ تم سیدھے رہو) ظھور (ظھر) (پیٹھیں) مقرنین (مقرن) (قابو میں لانے والے) منقلبون (لوٹنے والے) تشریح : آیت نمبر 1 تا 15 : سورة زخرف کا آغاز ” حم “ حروف مقطعات سے کیا گیا ہے جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلی والی سورتوں میں تفصیل سے عرض کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں ” حم “ سے شروع کی جانے والی سات سورتیں ہیں جن میں سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] قرآن مجید کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کو قسم ہے اس واضح کتاب کی جس کے نازل کرنے والے ہم ہیں جو حکمت سے لبریز کتاب ہے جس کی زبان، جس کا ادب اور جس کا حق وباطل کے درمیان ایک واضح خط امتیاز کھینچ دینے والی تعلیم اس حقیقت کی صریح شہادت دے رہی ہے کہ اس کا مصنف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

ف 4۔ پس جب یہ سمجھنے میں آسان ہے اور خاص ہماری زیر حفاظت اور بوجہ اعجاز کے عظیم المرتبہ اور اپنی حقیقت پر دال۔ پھر منافع و مصالح پر مشتمل تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے، لیکن اگر تم نہ بھی مانو تب بھی ہم بوجہ اقتضائے حکمت کے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حا… می… م حروف مقطعات میں سے ہے 1 ؎ ” حوا میم “ میں سے یہ سورت چوتھی سورت ہے اور سات سورتیں اس نام سے قرآن کریم میں شروع ہوئی ہیں۔ سورة المؤمن سے سورة الاحقاف تک ان کا سلسلہ چلا گیا ہے۔ یہ سب سورتیں مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی ہیں اور ان کے مضامین بھی آپس میں کافی حد تک ملتے جلتے ہیں اور سب کا اصل موضوع توحید الٰہی ہے۔ { حم } حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی مفصل بحث سورة البقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے اگر ضرورت ہو تو وہیں سے اس کو دوبارہ دیکھ لیاجائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–2

Commentary This Surah is Makki, although Muqatil رحمۃ اللہ علیہ has said that the verse وَاسْأَلْ مَنْ أَرْ‌سَلْنَا (43:45) is Madam, and according to another view, this Surah was revealed in Heaven during Lailat-ul-Mi` raj (the Night of Ascention) (Ruh u1-Ma’ ani) - Allah knows best. Ha Meem- Only Allah knows its meaning. وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (By the manifest Book - 43:2) The book in this verse refers to the Holy Qur'an. Whenever Allah swears by anything, it is usually an argument for the statement that follows. Swearing by the Qur'an in this verse is an indication that the Qur'an, by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 The object of taking an oath by the Qur'an is to impress this fact: "We are the Author of this Book and not Muhammad (upon whom be Allah's peace)," and the attribute of the Qur'an chosen for the oath is that it is a "lucid Book". To swear by the Qur'an itself with its this attribute in order to impress that the Qur'an is Divine Word by itself implies this: "O people, this is an open Book before you. Read it intelligently. Its clear and un-ambiguous themes, its language and literary style, its teaching which distinguishes the truth from falsehood, all arc testifying to the fact that none but…

Read the full tafseer →