Ash-Shura 42:53

Ash-Shura · from ayah 53

42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ؕ— اَلَاۤ اِلَی اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ ۟۠صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِىۡ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيۡرُ الۡاُمُوۡرُ

(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

The path of Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Unquestionably, to Allah do [all] matters evolve.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Ash-Shura

All translations of 42:53

اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) خدا کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس اللہ کی راه کی جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین کی ہر چیز ہے۔ آگاه رہو سب کام اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو اللہ کا راستہ ہے، وہ اللہ جس کی ملکیت میں وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ جو زمین میں ہے۔ یاد رکھو کہ سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کی راہ کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، سنتے ہو سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ صراطِ مستقیم) اسی اللہ ہی کا راستہ ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ جان لو! کہ سارے کام اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس اللہ کے راستے کی طرف کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے، سن لو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس اللہ کی راہ کی طرف جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کا مالک ہے۔ یاد رکھو ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس اللہ کے راستہ کی طرف جس کا ہی وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ آگاہ ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی اس اللہ کے راستے کی طرف جس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے آگاہ رہو کہ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی راہ اسی اللہ کی کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اسی کا ہے یاد رکھو سب امور اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس اللہ کے راستے کی طرف جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے آگاہ ہو جائو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی اللہ کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے۔ دیکھو سب کام اللہ کی طرف رجوع ہوں گے اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

the Way of Allah, to Whom belongs the dominion of all that is in the heavens and the earth. Lo, it is to Allah that all things ultimately revert.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the path of Allah, the One to whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. Be aware that towards Allah all matters shall finally return.

— Muhammad Taqi Usmani

the path of Allah, the One to whom belongs all that is in the heavens and all that is in the earth. Be aware that towards Allah all matters shall finally return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The path of Allah to Whom belongs all that is in the heavens and all that is on the earth. Verily, all matters at the end go to Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The path of Allah, unto Whom belongeth whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. Do not all things reach Allah at last?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The path of Allah, to whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Unquestionably, to Allah do [all] matters evolve.

— Saheeh International

the path of God who is the owner of all that is in the heavens and the earth. To God certainly do all matters return.

— Muhammad Sarwar

The path of Allah, Whose is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth; now surely to Allah do all affairs eventually come.

— Muhammad Habib Shakir

The path of Allah, Whose is whatsoever is in the heavens and whatsoever is in the earth. Lo! Unto Allah trend all affairs.

— Abdul Majid Daryabadi

The Way of Allah, to Whom belongs whatever is in the heavens and whatever is on earth. Behold (how) all affairs tend towards Allah!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 42:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–53

قرآن حکیم شفا ہے مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّوْرٰی 85 یہ آخری تنبیہ ہے جو کفار کو دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی نے کہا اور تم نے سن کر رد کردیا، اس پر بات ختم نہیں ہوجانی ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ کے حضور پیش ہونا ہے اور آخر کار اسی کے دربار سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کا کیا انجام ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–53

(آیت) مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ الآیة۔ یہ آیت پہلی ہی آیت کے مضمون کا تکملہ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بالمشافہ کلام تو کسی کا نہ ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں پر اپنی وحی بھیجتے ہیں جس کے تین طریقے پہلی آیت میں بیان ہوئے۔ اسی سنت الٰہیہ کے مطابق آپ پر بھی وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہودیوں کا یہ مطالبہ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ کیوں مخاطب نہیں ہوتے محض جاہلانہ اور معاندانہ ہے۔ اس لئے یہ فرمایا کہ کسی انسان کو یہاں تک کہ کسی رسول کو جو کچھ بھی علم ملتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی ان کو یہ نہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 52–53

وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا ط ماکنت تدری مالکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نوراً انھدی بہ من نشآء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم، صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیراً الامور (53-52) وحی کی تعبیر روح سے یہ خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے کہ اسی معروف طریقہ وحی کے مطابق ہم نے تمہاری طرف بھی ایک روح اتاری ہے۔ روح سے مراد وحی ہے۔ وحی کو روح سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ تمہارے لئے بھی حقیقی زندگی کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو اس کو اپنا لیں۔ تمام آسمانی صحیفوں میں اللہ کے کلام والہام کے لئے یہ تعبیر موجود ہے اس لئے کہ بندوں کو حقیقی زندگی،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یہ صراط مستقیم، اسلام ہے۔ اس کی اضافت اللہ نے اپنی طرف فرمائی ہے جس سے اس راستے کی عظمت و شان واضح ہوتی ہے اور اس کے واحد راہ نجات ہونے کی طرف اشارہ بھی۔ 53۔ 2 یعنی قیامت والے دن تمام معاملات کا فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا، اس میں سخت وعید ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–53

11: روح سے مراد قرآن کریم اور اس کے احکام ہیں، کیونکہ وہ انسان کے لئے روحانی زندگی کا باعث ہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہوں جنہیں روح القدس بھی کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے نزول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہی کو واسطہ بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–53

اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔ وخر موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی سیدھی راہ وہ جس پر چل کر آدمی خدائے واحد تک پہنچتا ہے۔ جو اس راہ سے بھٹکا خدا سے الگ ہوا۔ 8 یعنی جب سب کاموں کا انجام اسی کی طرف ہے تو چاہیے کہ آدمی شروع سے اس انجام کو سوچ لے اور اپنے اختیار سے ایسے راستہ پر چلے جو سیدھا اس کی بارگاہ تک پہنچنے والا ہو۔ اللہم اہدنا الصراط المستقیم وثبتنا علیہ۔ تم سورة الشوریٰ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53{ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”اس اللہ کے راستے کی طرف جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔“ { اَلَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ } ”آگاہ ہو جائو ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 یعنی جو رستہ یہ قرآن دکھاتا ہے اور رسول اللہ اس کی رہنمائی کرتے ہیں وہی اس اللہ کا راستہ ہے جو فرمانروائے کائنات ہے۔ اسی راہ پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے اور جو اس راہ سے بھٹکا تو وہ اللہ کی راہ نہیں، سب شیطان کی راہیں ہیں۔ 78 یعنی صرف انسان ہی نہیں، ان کے اعمال و افعال اور دوسرے سب امور کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہذا انسان کو اس دنیا میں بقائمی ہوش و حواس وہ راہ اختیار کرنا چاہئے جو سیدھی اللہ کی بارگاہ تک پہنچتی ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

62۔ (اور کسی مخلوق کو نہ کوئی اختیار ان تصرفات کا ہے، نہ کوئی شرکت آسمان و زمین میں ہے) یہاں صفات باری میں سے دو صفات کمال کا اثبات ہے۔ ایک حق تعالیٰ کی ملکیت کاملہ کا، دوسرے اس کی طرف مرجعیت مطلقہ کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–53

آیت نمبر 44 تا 53 ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیر الامور یعنی اللہ کے راستہ کی طرف کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ے۔ سن لو کہ اللہ ہی طرف (براہ راست) تمام امور جائیں گے۔ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ ہی کی مملوک اور اسی کی مخلوق ہے۔ الْاُمُوْرُ یعنی مخلوق کے تمام امور براہ راست ‘ بلاواسطہ قیامت کے دن اللہ ہی کے پاس منتقل ہوں گے ‘ تمام درمیانی تعلقات اور وسائط ختم ہوجائیں گے۔ اس آیت میں اطاعت گذاروں کیلئے (اچھے انجام کا) وعدہ اور مجرموں کیلئے (عذاب کی) وعید ہے۔ وا اللہ اعلم بحمد اللہ تفسیر سورة الشوریٰ شنبہ کے دن 13/ربیع الاوّل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یعنی اس اللہ کے دین کی طرف کہ تمام مخلوق اسی کی ملکیت ہے اور تمام کاموں کا انجام آخرت میں اسی زبردست حکمت والے کی طرف رجوع کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت و ما فی الارض : یعنی سیدھا راستہ وہ ہے جس پر چل کر انسان زمین و آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور وہ صرف وحی الٰہی کے ذریعے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے ہیں سب شیطان کے راستے ہیں، جو اللہ تعالیٰ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ (دیکھیے سورة نحل (9)۔ (2) الا الی اللہ تصیر الامور : یعنی دنیا اور آخرت کے تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے، بظاہر کسی کام کی تدبیر کوئی کر رہا ہو، ظاہر میں لوگ اسے کسی کا کارنامہ سمجھیں، مگر حقیقت میں تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کا کام ہے۔ دیکھیے سورة یونس (3، 31) ، رعد (2) اور سجدہ (5)۔ ”تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

صراط اللہ یہ پہلے صراط سے بدل ہے جس طرح معرفہ نکرہ سے بدل ہوتا ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے فرمایا : اس سے مراد قرآن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد اسلام ہے۔ حضرت نواس بن سمعان نے یہ نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ الذی لہ ما فی السموت و ما فی الارض یعنی ملک، بندہ اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے الا الی اللہ تصیر الا مور۔ دو بار اٹھانے اور جزا دینے کی وعید ہے۔ سہیل بن ابی جعد نے کہا : ایک مصحف جل گیا اس میں سے صرف الا الی اللہ تصیر الا مور۔ باقی بچا۔ ایک مصحف غرق ہوا اس میں سے سب مٹ گیا صرف الا الی اللہ تصیر الا مور۔ باقی بچا۔ والحمدللہ وحدہ۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–53

1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “ (اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی یعنی اپنے حکم میں سے) میں روحا سے مراد ہے قرآن مجید۔ 2:۔ ابونعیم (رح) (نے دلائل میں) وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کی آپ نے کبھی بتوں کی عبادت کی ؟ فرمایا نہیں پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ؟ فرمایا نہیں میں لگاتار ان چیزوں کے بارے میں پوچھتا رہا جن پر کافر پابند تھے (آیت ) ” ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان “ (یعنی میں نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے) اور اسی بارے میں قرآن نازل ہوا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے راستے کی طرف ] لَهٗ [ جس کا ہی ہے ] مَا فِي السَّمٰوٰتِ [ اور جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ ۭ [ اور وہ جو زمین میں ہے ] اَلَآ [ سن لو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ ہی کی طرف ] تَصِيْرُ [ لوٹتے ہیں ] الْاُمُوْرُ [ سارے معاملات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿صِرَاط اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ 1ؕ﴾ (جو اللہ کا راستہ ہے جس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) یہ راستہ اسی کا تجویز کیا ہوا ہے اور وہ اس پر چلنے والوں سے راضی ہے لہٰذا اسی پر چلیں ﴿اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ (رح) 0053﴾ (خبر دار تمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے) وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔ ولقد تم تفسیر سورة الشوریٰ بحمد اللّٰہ تعالیٰ وحسن توفیقہ والحمد للّٰہ تعالیٰ علی التمام وحسن الختام والصلوٰة والسلام علی سید الانام وعلیٰ اٰلہ وصحبہ البررة الکرام

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–53

اثبات رسالت نبی کریم ﷺ وتحقیق اقسام وحی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ ...... الی ........ تصیرالامور “۔ (ربط) اس سورت کا آغاز وحی کے مضمون سے تھا درمیان میں دلائل نبوت و توحید بعث ونشر قیامت جزاء وسزا اور مجرمین ومطیعین کے احوال کا بیان فرمایا گیا اب سورت کا اختتام پھر مضمون وحی سے فرمایا جارہا ہے تاکہ سورت کے مضمون کا آغاز اور اس کی انتہاباہم مربوط ہوجائے اور ربط کی یہ خصوصیت اکثر سورتوں کے مضامین میں پائی جاتی ہے، اور بلغاء کے نزدیک کلام اللہ کی یہ بھی ایک معجزہ شان ہے، ان آیات میں مسئلہ نبوت کی تحقیق اور وحی کے اقسام کی تفصیل بیان کرکے مخالفین اور بالخصوص یہود کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ ” صراط اللہ الخ “ اس میں دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے یعنی صراط مستقیم (سیدھی راہ) اس اللہ کی راہ ہے جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا ملک اور اس میں متصرف و مختار ہے۔ اس کائنات میں ہر معاملہ اسی کے علم وقدرت سے وابستہ ہے اور یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے اسی کے اختیار و تصرف سے ہوتا ہے۔ وہی متصرف و کارساز ہے اور وہی دعا اور پکار کا مستحق۔ سورة شوری میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” لہ ما فی السموات وما فی الارض۔ وھو العلی العظیم “ (رکوع 1) ۔ نفی شرک فی التصرف۔ 2 ۔ ” فاطر السموات والارض “ تا ” انہ بکل شیء علیم “ (رکوع 2) ۔ نفی شرک فی التصرف و نفی شرک فی العلم۔ 3 ۔ ” شرع لکم من الدین “ تا ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–53

ربط آیات گزشتہ درس میں معاد کا ذکر تھا کہ قیامت والے دن جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دنیا میں واپسی کا کوئی راستہ تلاش کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا بلکہ وہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب مقیم کا شکار بن جائیں گے۔ پھر رسالت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ آپ حق تبلیغ ادا کرتے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لے آنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے ، آپ صرف اپنا کام کرتے جائیں ۔ پھر اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ جب انہیں آسودگی حاصل ہوتی ہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان ناشکر گزاری کا اظہار کرتا ہے ، پھر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

صِرَاطِ اللہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۝ 0 ۭ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۝ 53 ۧ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–53

ترکیب : لبشر خبرکان ان مصدریۃ یکلمہ اللہ الجملۃ تباویل المصدر اسم کان۔ الاوحیاء استثناء منقطع لان الوحی لیس بتکلیم اومن وراء حجاب الجار متعلق بمحذوف تقدیرہ اویکلمہ و ھذا المحذوف معطوف علی وحی فتقدیر الکلام ان یوحی الیہ اویکلمہ اویرسل منصوب عطفاعلی موضع وحیاوقیل فی موضع جرای بان یرسل ماکنت الجملۃ حال من الکاف فی الیک صراط اللہ بدل من صراط مستقیم المعرقہ من المنکرۃ۔ تفسیر … وحی والہام کی بحث : یہب لمن یشاء میں مسئلہ نبوت کی طرف بھی اشارہ تھا کہ وہ جس کو چاہتا ہے یہ مرتبہ عطا کرتا ہے۔ انبیائِ سابقین کا نام اہل مکہ سن کر اس بات کو تو تسلیم کرتے تھے۔ مگر نبی کا مرتبہ بشریت کے جامہ سے باہر تصور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ط مَاکُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْـکِتٰبُ وَلاَالْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنٰـہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَاِنَّـکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَـہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُالْاُمُوْرُ ۔ (الشوری : 52، 53) (اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اسے ایک نور بنادیا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، بیشک آپ ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

” یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اسے لے کر امانت دارفرشتہ آیا اور اس نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ تاکہ آپ ان لوگوں میں شامل ہوں جو ڈرانے والے ہیں۔ یہ قرآن واضح عربی زبان میں ہے اور پہلی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ “ اسی فرمان کی بنیاد پر امت کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید القاء، خواب یا کسی اور ذریعے سے نہیں بلکہ سارے کا سارا قرآن جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے نازل ہوا۔ نزول قرآن سے پہلے آپ ﷺ نہیں جانتے تھے کہ قرآن اور اس کی دعوت یعنی ایمان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نور قرار دیا ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: صِرَاطِ اللّٰہِ (یعنی اس اللہ تعالیٰ کے راستہ کی) ۔ نحو : یہ بدل ہے۔ الَّذِیْ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ (کہ اس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے) ملکیت وملوکیت کے لحاظ سے اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ (خبردار سب امور اسی ہی کی طرف لوٹیں گے) اس میں جہنم کی وعید اور جنت کا وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52، وکذلک، یعنی جیسے ہم نے اپنے سارے رسولوں کی طرف وحی کی۔ ، او حینا الیک روحامن امرنا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبوت اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ رحمت اور سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وحی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کتاب اور ربیع (رح) فرماتے ہیں جبریل اور مالک بن دینا (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن ، ماکنت تدری ، وحی سے پہلے ۔ ، ماالکتاب ولاالایمان، یعنی ایمان کے شرائع اور بڑی علامات ۔ محمد بن اسحاق بن خزیمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان سے اس جگہ نماز مراد ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وماکان اللہ لیضیع ایمانکم، ہے اور اہل اصول اس بات پر ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) وحی سے پہلے مؤمن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–53

51۔ 53۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لئے اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ہم کلام ہوتے اگرچہ یہ آیت مکی ہے لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے جب آنحضرت کی نبوت کا شہرہ ہوا اس وقت یہود حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے ان کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے جس طرح سورة نسا کی مدنی آیت میں دیا ہے کہ انا اوحینا الیک کما او حینا الی نوح والنبیین من بعدہ الایۃ اسی طرح اس مکی آیت میں جواب دیا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ بلا پردہ کی آڑ کے تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–53

آیت 51 چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے : (لو لایکلمنا اللہ اوتاتینا ایۃ) (البقرۃ 118/2) ” ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ “ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں، یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔ (1) یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–53

انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟ قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔ سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

112 ایک اہم تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تنبیہ و تحضیض کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آگاہ رہو ۔ اے لوگو !۔ کہ اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں سب کام "۔ یعنی آخرت میں جہاں پر وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ پس تم دیکھ لو کہ وہاں کے لئے کیا لے کر جا رہے ہو کہ خواہی نخواہی تم سب کو لوٹ کر جانا بہرحال اسی کی طرف ہے۔ نیز اس سے پہلے اس دنیا میں بھی سب کاموں کا رجوع اسی کی طرف ہوتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اسباب کے درجے میں تم لوگ محنت و مشقت اور دوڑ دھوپ تو بیشک کرو لیکن دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 51–53

وحی الٰہی کا طریقہ تشریح : ان آیات میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ 1۔ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلادینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جیسے ام موسیٰ کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ انہیں ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دیں۔ 2۔ پردے کے پیچھے سے کلام کرنا جیسے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا تھا۔ 3۔ فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا جیسے جبرئیل امین (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے۔ ڈاکٹرمحمد حمید اللہ بڑی خوبصورت وضاحت کرتے ہیں۔ ” ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 44–53

آیات 44 تا 53۔ اسرار ومعارف۔ اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 وہی اچھے برے کاموں کا فیصلہ کرے گا اور پھر نیکیوں کا ثواب اور بدوں کو عذاب دے گا۔ اللھم اجعلنا فی زمرۃ الصالحین وبہ تحت سورة الشوری والحمد للہ علی ذلک

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(42:53) صراط اللہ۔ مضاف مضاف الیہ یہ بدل ہے صراط مستقیم سے اتحاد اعراب بھی اسی وجہ سے ہے۔ الذی لہ ما فی السموت والارض یہ اللہ کی صفت ہے۔ لہ ای خلقا وملکا ازروئے پیدائش و ملکیت اسی کی ہیں یعنی وہی خالق ومالک ہے ما موصولہ ہے اور فی السموت اور فی الارض صلہ ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا خالق اور مالک وہی ہے۔ الا بطور حرف استفتاح استعمال ہوا ہے (یعنی کلام کے شروع کرنے کے لئے) جان لو یاد رکھو۔ نیز ملاحظہ ہو 42:18 متذکرۃ الصدر تصیر : مضارع واحد مؤنث غائب : صیر (باب ضرب) مصدر بمعنی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنا یا پھرنا۔ جب اس کا صلہ الی آتا ہے (جیسا کہ آیت ہذا میں ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–53

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 53 یکلم (وہ کلام کرتا ہے) وراء حجاب (پردے کے پیچھے) روح ( جان ( فرشتہ) ماتدری (تو نہیں جانتا) تصیر الامور (کاموں کو لوٹنا) تشریح : آیت نمبر 51 تا 53 : قرآن کریم میں متعد مقامات پر کفار و مشرکین کے وہ بہت سے اعتراضات نقل کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے ان ہی میں سے یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کر رہے ہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے۔ کفار کہتے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کلام کو خود سے گھڑ لیا ہے کیونکہ نہ تو آپ نے اللہ کو دیکھا نہ وہ آپ کے پاس آتا ہے نہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) یعنی سیدھی راہ وہ ہے جس پر چل کر آدمی خدائے واحد تک پہنچتا ہے جو اس راہ سے بھٹکا خدا سے الگ ہوا۔ (ف 3) یعنی جب سب کاموں کے انجام اسی کی طرف لوٹتے ہیں تو چاہیے کہ آدمی شروع سے اس انجام کو سوچ لے اور اپنے اختیار سے ایسے راستہ پر چلے جو سیدھا اسی کی بارگاہ تک پہنچنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یعنی دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہونا ہے اور اسی کی بارگاہ سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کا کیا انجام ہونا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–53

آیت 52 ۔ 53: کتابِ زندگی 2: یعنی آپ کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ۔ بلکہ نہیں ذرائع الہام کو استعمال کیا گیا ہے ۔ اور سابقہ پیغمبروں کی طرح آپ کو بھی یہ شرف حاصل ہوا ہے ۔ کہ اللہ نے آپ سے گفتگو فرمائی ہے ۔ اور اس چیز کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے ۔ جو انسانیت کے لئے بمنزلہ روح کے ہے ۔ جس کی وجہ سے انسانی ہیئت اجتماعیہ میں زندگی اور تازگی ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرت اور تہذیب و تمدن کا بقا ہے ۔ آپ اس سے قبل کتاب وصحیفہ کے نام سے آگاہ نہیں تھے ۔ اور نہ آپ یہ جانتے تھے ۔ کہ ایمان کی حقیقت مفصلہ کیا ہے ؟ ہم نے آپ کو ایک کتاب عنایت کی ہے جو نور اور روشنی ہے ۔ اور اس سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) جو اس اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے آگاہ رہو تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹیں گے اور اللہ تک پہنچ ہے کاموں کی۔ یعنی جس طرح ہم نے جس طرح اور رسولوں پر اپنے احکام بذریعہ کتب اور صحف نازل کئے ہیں اسی طرح اس قرآن کو جو ہمارا حکم ہے یا ہمارے کلام سے ہے اس کو ہم نے آپ کی جانب بھیجا ہے آپ کو اس کے نزول سے پہلے معلوم نہ تھا کہ کتاب اللہ کیا ہے اور اسی طرح آپ یہ بھی نہ جانتے کہ منتہائے ایمان کیا ہے گو نفس ایمان تھا جیسا کہ ہر نبی کو نبوت سے پہلے ایمان ہوتا ہے لیکن منتہائے ایمان اور تفصیلی ایمان نبوت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے آپ ایمان کے انتہائی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہ صراط مستقیم ہے جو آسمان و زمین کے مالک کی دی ہوئی راہ ہے 53 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کی اختیار کردہ راہ وہی راہ ہے جو صراط مستقیم سے تعبیر ہے اور یہ راہ کسی ایرے غیر نتھو خیرے کی دی ہوئی راہ نہیں بلکہ اس راہ کو متعین کرنے والا وہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ، مالک ہے اور منتظم ہے کہ اس کے قائم کرنے سے یہ سب کچھ قائم ہے اور ہر کام اور ہر حکم کا اس ذات الٰہ کی طرف پھر کر جانا لازم و ضروری ہے۔ قرآن کریم اس کی دی ہوئی کتاب ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اسی کے بھیجے ہوئے رسول اور رسالت اسی کے دیئے گئے پیغام کا نام ہے۔ جو اس پیغام کے مطابق زندگی بسر کرے گا وہ اللہ تعالیٰ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

مَا كُنتَ تَدْرِ‌ي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن (You did not know earlier what is the Book or what is "Iman', but We have made it a light with which We guide whomsoever we will from among Our slaves - 42:52). This verse is a complement of the subject of the first verse. The gist is that in this world, nobody has ever seen, nor can ever see and converse face to face with Allah Ta’ ala. However, Allah Ta’ ala does send ` wahy' to His chosen bondsmen in three ways described in the first verse. And in accordance with Allah Ta’ ala's practice, ` wahy' is sent to the Holy Prophet ﷺ as…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

85. This is the final warning that has been given to the disbelievers. It means: The Prophet (peace be upon him) said something and you heard and rejected it. The matter would not end there. Whatever is happening in the world, will be presented before Allah, and ultimately He Himself will decide what should be the end of every person.

Read the full tafseer →