Ayahs 42:1–3اللہ تعالیٰ عزیز ہے، حکیم ہے، اعلیٰ ہے، عظیم ہے، غفور ہے، رحیم ہے
یہ سورة الشوریٰ کے پہلے رکوع کا ترجمہ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائی ہیں پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا کہ جس طرح یہ سورة اپنے فوائد پر مشتمل ہوکر آپ کی طرف نازل کی جا رہی ہے اسی طرح آپ پر دوسری سورتوں کی بھی وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے جو حضرات انبیائے کرام تھے ان پر وحی کی گئی یہ وحی اللہ تعالیٰ نے بھیجی جو عزیز یعنی زبردست اور غالب ہے اور حکیم یعنی حکمت والا ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے اس کی مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے وہ برتر ہے اور عظیم الشان ہے ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ ﴾ کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اس میں مشرکین کی حرکت بد کی شناعت اور قباحت بیان فرمائی ہے کیونکہ آگے مشرکین کے شرک کا ذکر آ رہا ہے اس لیے پہلے ہی ان کی تردید فرما دی اور یہ ایسا ہی ہے جیسے سورة مریم میں فرمایا ﴿تَكَاد السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ0090 اَنْ دَعَوْا للرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ0091﴾ (اور کہتے ہیں کہ رحمن اولاد رکھتا ہے یہ تو تم ایسی بھاری بات لائے کہ عجب نہیں آسمان پھٹ پڑیں اس کے باعث اور زمین شق ہوجائے اور گرپڑیں پہاڑ ٹوٹ کر، کہ ثابت کیا رحمن کے لیے فرزند) آیت کی یہ تفسیر صاحب معالم التنزیل نے اختیار کی بعض دیگر مفسرین نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے بہت بڑی کثیر تعداد میں ہیں وہ آسمانوں میں سجدہ کیے ہوئے پڑے ہیں اور بہت سے فرشتے دوسرے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ان فرشتوں کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اس کی وجہ سے آسمانوں کا پھٹ پڑنا کوئی بعید نہیں، آیت کا یہ معنی لینا بھی بعید نہیں ہے چونکہ اس کے بعد فرشتوں کی تسبیح تحمید کا ذکر ہے اس لیے اس کا یہ معنی بھی مرتب ہوتا ہے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اطت السماء وحق لھا ان تاط والذی نفسی بیدہ ما فیھا موضع اربع اصابع الا وملک واضع جبھتہ ساجد اللّٰہ (آسمان چر چر بولتا ہے اور لازم ہے کہ وہ ایسی آوازیں نکالے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! آسمان میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کسی فرشتے نے سجدہ میں اپنی پیشانی نہ رکھی ہو)
(رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کما فی المشکوٰۃ ص 457)
Ayahs 42:4–5اور ﴿مِنْ فَوْقِهِنَّ ﴾ جو فرمایا اس کا یہ مطلب ہے کہ آسمان پھٹنا شروع ہوں تو اوپر سے پھٹیں گے پہلے سب سے اوپر والا آسمان پھر اس سے نیچے والا پھر اس سے نیچے والا۔
﴿وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ﴾ (اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں یعنی جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہیں ان سے اس کی تنزیہ اور پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کی صفات عالیہ بیان کرتے ہیں جن سے وہ متصف ہے۔ تفسیر قرطبی میں حضرت علی ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعجب سے سبحان اللہ کہتے ہیں کہ مشرکین کو کیا ہوگیا وحدہ لا شریک کے ساتھ غیروں کو شریک کرتے ہیں اور خالق جل مجدہ کی ناراضگی اپنے سر لیتے ہیں۔
﴿وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ۠ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ﴾ (اور زمین والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں) یعنی اہل ایمان جو دنیا میں بستے ہیں ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
﴿اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 005﴾ (خبر دار اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ غفور ہے رحیم ہے) اس کے بعد مشرکین کا تذکرہ فرمایا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے لیے کارساز بنالیے یعنی یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا نگران ہے یعنی ان کے اعمال سے باخبر ہے وہ ان کو سزا دے گا اور آپ کو ان پر کوئی اختیار نہیں دیا گیا اللہ تعالیٰ ہی جب چاہے گا سزا دیدے گا۔
Ayahs 42:6–7اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ کو یہ قرآن وحی کے ذریعہ دیا جو عربی میں ہے تاکہ آپ ام القریٰ یعنی مکہ والوں کو ڈرائیں (جو آپ کے اولین مخاطب ہیں) اور ان لوگوں کو بھی ڈرائیں جو مکہ کے چاروں طرف رہتے ہیں یعنی دیگر اہل عرب ان سب کو کفر کی سزا سے ڈرائیں اور بتادیں کہ اگر ایمان نہ لائیں تو اس کی سخت سزا ہے، اور آپ ان سب کو جمع ہونے کے دن سے بھی ڈرائیں اس سے قیامت کا دن مراد ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس دن بندوں کے درمیان فیصلے کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا اس کے فیصلے کو کوئی رد کرنے والا نہیں، پہلے سے اس کا فیصلہ ہے ﴿ فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ 007﴾ (ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں ہوگا) یہ اجمالی فیصلہ دنیا میں سنا دیا ہے اور قیامت کے دن ہر فریق کو الگ الگ کردیا جائے گا اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں چلے جائیں گے۔
Ayah 42:8اس کے بعد فرمایا ﴿وَ لَوْ شَآء اللّٰهُ ﴾ (الآیۃ) یعنی ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اگر وہ چاہتا تو سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا یعنی سب اہل ایمان ہی ہوتے، وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرما دیتا ہے اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس دنیا میں اہل ایمان بھی رہیں اور اہل کفر بھی۔ سورة الم سجدۃ میں فرمایا ﴿وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا ﴾ اور اگر ہم چاہتے ہر نفس کو اس کی ہدیات دے دیتے۔
﴿وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ 008﴾ (اور ظالموں کے لیے کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا) اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت اپنی جگہ ہے لیکن انسانوں کو ہوش اور گوش اختیار دیا ہے اور ایمان و کفر کا فرق بتادیا ہے اور دونوں کی جز و سزا بھی بتادی ہے اس لیے قیامت کے دن اپنے اختیار کو غلط استعمال کرنے کی وجہ سے پکڑے جائیں گے کفر شرک ظلم ہے جب ظلم کی سزا ملے گی تو کوئی بھی حمایتی اور مددگار نہ ملے گا۔
Ayah 42:9مشرکین کی تردید
اس کے بعد شرک کا ابطال کیا اور اس کی قباحت بیان فرمائی اور فرمایا ﴿اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ 1ۚ ﴾ (کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنالیے) یہ انہوں نے برا کیا ﴿فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِيُّ ﴾ (کارساز اللہ ہی ہے) ﴿وَ هُوَ يُحْيِ الْمَوْتٰى﴾ (اور وہ مردوں کو زندہ فرماتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو قادر مطلق ہے اسے چھوڑ کر کسی دوسرے کو کار ساز بنانا حماقت کی بات ہے۔
Ayah 42:10تم جس چیز میں اختلاف کرو اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے اس نے تمہارے جوڑے پیدا فرمائے
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ کی صفات جلیلہ عظیمہ بیان فرمائی ہیں، پہلے تو یہ فرمایا کہ تم جن چیزوں میں اختلاف کرتے ہو انہیں اللہ کی طرف لوٹا دو یعنی اس کی کتاب جو فیصلہ دے اسے مان لو اور اسی کے مطابق عمل کرو، پھر رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ فرما دیں کہ اللہ ہی میرا رب ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، توحید کی دعوت دینے میں تمہاری طرف سے کسی تکلیف کے پہنچ جانے سے میں نہیں ڈرتا۔
Ayah 42:11مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے اس کی تخلیق میں کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اس نے تم کو بھی پیدا فرمایا ہے تمہاری جانوں سے تمہارے جوڑے بنائے ہیں یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا [ سے لے کر آج تک جو نسلاً بعد نسل بنی آدم پیدا ہو رہے ہیں اور جو پیدا ہوں گے ان میں یہ سلسلہ رکھا ہے کہ مرد بھی پیدا فرمائے ہیں اور عورتیں بھی، مرد عورتوں کے جوڑے ہیں اور عورتیں مردوں کے، اسی طرح اس نے مویشیوں میں بھی کئی قسمیں پیدا فرمائیں اور ان میں بھی نر و مادہ پیدا کیے جن سے ان کی نسلیں چل رہی ہیں۔
﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ﴾ (وہ اس تخلیق کے ذریعے تمہاری تکثیر فرماتا ہے) اور اس کی قدرت سے تمہاری نسلیں چلتی ہیں۔
قال القرطبی ؓ ای یخلقکم وینشئكم ﴿فِيْهِ﴾ ای فی الرحم، وقیل فی البطن، وقال الفراء وابن کیسان ﴿فِيْهِ﴾ بمعنی بہ وکذلک قال الزجاج معنی ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ﴾ یکثرکم بہ، ای یکثرکم یجعلکم ازواجا، ای حلائل، لانھن سبب النسل، وقیل ان الھآء فی ﴿فِيْهِ﴾ للجعل ودل علیہ جعل فکانہ قال یخلقکم ویکثرکم فی الجعل۔
(علامہ قرطبی ؓ کہتے ہیں یعنی تمہیں پیدا کرتا ہے اور ماں کے رحم میں پرورش دیتا ہے اور بعض نے کہا ﴿فِيْهِ﴾ سے مراد ہے پیٹ میں، فراء اور ابن کیسان نے کہا ہے ﴿فِيْهِ﴾ بہ کے معنی میں ہے اور اسی طرح زجاج کہتے ہیں ﴿يَذْرَؤُكُمْ فِيْهِ﴾ کا معنی ہے تمہیں اس کے ذریعہ بڑھاتا ہے یعنی تمہیں خاوند بیوی جوڑے بنا کر بڑھاتا ہے کیونکہ بیویاں نسل کا سبب ہیں بعض نے کہا ﴿فِيْهِ﴾میں ” ھاء “ جعل کے لیے ہے اور جعل اس پر دلالت کرتا ہے گویا کہ فرمایا وہ تمہیں پیدا کرتا ہے اور بنانے میں تمہیں زیادہ کرتا ہے۔ )
لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ﴾ (اللہ کی طرح کوئی بھی چیز نہیں ہے) خالق تعالیٰ شانہٗ کا وجود حقیقی ہے وہ ہمیشہ سے ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں وہ ہمیشہ رہے گا جس کی کوئی انتہا نہیں وہ اپنی ذات اور صفات میں تنہا ہے بےمثال ہے اس کی ذات کی طرح کوئی ذات نہیں اس کی صفات کی طرح کسی کی صفات نہیں صفات کے اعتبار سے اگر کوئی لفظ کسی کے لیے بول دیا گیا ہے تو وہ محض اشتراک لفظی کے اعتبار سے ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں بھی متوحد اور یکتا ہے اور اپنی صفات میں بھی متفرد ہے اور اپنے اسماء میں بھی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف تجسیم کی نسبت کرتے ہیں یا اس کے لیے مکان اور زمان اور جہت تجویز کرتے ہیں اور جو اسے تشبیہ اور تعطیل سے متصف کرتے ہیں وہ سب گمراہ ہیں خالق شانہٗ کی توحید کے منکر ہیں خالق اور مخلوق کی صفات میں کوئی مشابہت نہیں۔
قال القرطبی ؓ والذی یعتقد فی ھذا الباب ان اللّٰہ جل اسمہ فی عظمتہ وکبریاہٴ وملکوتہ وحسنی اسماہٴ وعلی صفاتہ لا یشبہ شیئا من مخلوقاتہ ولا یشبہ بہ فلا تشابہ بینھما فی المعنی الحقیقی، اذ صفات القدیم جل وعز بخلاف صفات المخلوق اذ صفاتھم لا تنفک عن الاعراض والاغراض، ھو تعالیٰ منزہ عن ذلك، بل لم یزل باسمائہ وبصفاتہ علی ما بیناہ فی (الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللّٰہ الحسنیٰ ) وکفی فی ھذا قولہ الحق : لیس کمثلہ شَیْءٌ وقد قال بعض العلماء المحققین : التوحید اثبات ذات غیر مشبھة للذوات ولا معطلة من الصفات، وزاد السیوطی رحمہ اللّٰہ بیانا فقال : لیس کذاتہ ذات، لا کا سمہ اسم، ولا کفعلہ فعل، ولا کصفتہ صفة الامن جھة موافقة اللفظ، وجلت الذات القدیمة ان یکون لھا صفة حدیثة، كما استحال ان یکون للذات المحدثة صفة قدیمة، وھذا کلہ مذھب اھل الحق والسنة والجماعة رضی اللّٰہ عنھم۔
(علامہ قرطبی ؓ فرماتے ہیں اس بات میں جو اعتقاد رکھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام بزرگی والا ہے اپنی عظمت وکبریائی اور مالکیت میں اور اپنے اسماء حسنیٰ میں اور اپنی صفات میں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوقات کے بالکل مشابہ نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مشابہ ہے لہٰذا حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی مشابہت نہیں ہے کہ قدیم ذات کی صفات بلند ہیں اور بزرگی والی ہیں بخلاف مخلوق کی صفات کے کیونکہ مخلوق کی صفات تو اعراض ہیں اور اغراض جدا نہیں ہوسکتیں اور اللہ تعالیٰ اعراض و اغراض سے منزہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات تو قدیم ہے جیسا کہ ہم نے الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں بیان کیا ہے اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی حق ذات کا یہ ارشاد کافی ہے کہ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ1ۚ﴾ بعض محققین علماء نے کہا ہے توحید ایسی ذات کو یقین سے مان لینے کا نام ہے کہ جو ذات کسی اور ذات کے مشابہ نہیں ہے اور کسی صفت سے معطل ہے۔ علامہ سیوطی ؓ نے ایک اور بیان کا اضافہ کیا ہے کہتے ہیں اللہ کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں ہے نہ اس کے نام جیسا کوئی نام ہے اور نہ اس کے فعل جیسا کوئی فعل ہے اور نہ اس کی صفت جیسی کوئی صفت ہے مگر صرف لفظی موافقت۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند ہے کہ اس میں کوئی صفت نئی پیدا شدہ ہو جیسا کہ یہ محال ہے کہ کسی فانی ذات کی کوئی قدیم صفت ہو یہ اہل حق اہل السنۃ والجماعۃ کا مذہب ہے۔ )
﴿وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 0011﴾ (اور وہ سننے والا ہے دیکھنے والا ہے) وہ ہر بات کو سنتا ہے ہر چیز کو دیکھتا ہے۔
Ayah 42:12اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں
آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں یعنی سارے خزانوں کا وہی مالک ہے ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ يَقْدِرُ 1ؕ﴾ وہ پھیلا دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہے ﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ0012﴾ بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
Ayah 42:13اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین مشروع فرمایا ہے جس کی وصیت فرمائی نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ ۔ کو :
اللہ تعالیٰ کی توحید اور فرمانبرداری اور اس کے رسولوں اور کتابوں اور فرشتوں اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر ایمان لانا یہ اصل دین ہے اور یہی تمام انبیائے کرام کا دین ہے اور ان امور پر متفق ہوتے ہوئے مسائل فرعیہ متعلقہ عبادات اور معاشرت وغیرہ میں اختلاف رہا ہے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے اسی دین کو مشروع یعنی مقرر فرمایا جس کی نوح کو وصیت کی اور ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی اور یہی دین آپ ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجا اسی دین پر قائم رہو اسی دین کی انبیائے کرام دعوت دیتے رہے حتیٰ کہ آخر الانبیاء محمد الرسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری ہوئی اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کامل عطا فرما دیا ہے جو عقائد کے اعتبار سے ان بنیادی عقائد پر مشتمل ہے جو انبیائے سابقین کے تھے انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے احکام و اخلاق و آداب پر مشتمل ہے۔
﴿اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ ﴾ کے ساتھ ﴿وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ 1ؕ﴾ بھی فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ دین کو قائم رکھو اس کو ترک مت کرو اس میں تبدیلی نہ کرو ایسا نہ کرو کہ کسی بات پر ایمان لائے کسی پر نہ لائے اور کسی بات کو مانا کسی کو نہ مانا اور بنی اسرائیل ایسا کیا کرتے تھے جنہیں تنبیہ فرمائی تھی ﴿اَفَتُؤْمِنُوْنَ۠ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ﴾
مشرکین کو آپ کی دعوت ناگوار ہے
﴿كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ﴾ مشرکوں کو یہ بات گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ان کو ناگوار گزرنا دو طرح سے تھا اول اس طرح کہ مشرکین نے توحید کو چھوڑ دیا تھا اور اللہ کے سوا دوسرے معبود بنالیے تھے رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں توحید کی دعوت دی تو انہیں بڑی ناگوار گزری اور بری لگی اور دوسری بات یہ تھی کہ وہ لوگ یوں کہتے تھے کہ اللہ نے آپ ہی کو نبی کیوں بنایا ہم میں سے کسی مالدار کو نبی بنانا چاہیے تھا ان کے جواب میں فرما دیا۔
اللہ جسے چاہتا ہے اپنا بنالیتا ہے
﴿اَللّٰهُ يَجْتَبِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ﴾ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے یعنی اپنا بنالیتا ہے اور جو کوئی فضیلت کسی کو دینا ہو اس کے لیے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے ﴿وَ يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ 0013﴾ اور جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے اپنا راستہ بتادیتا ہے یعنی اسے ہدایت دے دیتا ہے اِرَائَۃُ الطریق کے بعد ایصال الی المطلوب بھی فرما دیتا ہے یعنی قبول ہدایت کی توفیق دے دیتا ہے۔
Ayah 42:14علم آنے کے بعد لوگ متفرق ہوئے
﴿وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ ﴾ اور لوگ ضدا ضدی کے باعث اس کے بعد متفرق ہوئے جبکہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ قریش مکہ کے بارے میں فرمایا ہے یہ لوگ آرزو کرتے تھے کہ ان کی طرف کوئی نبی بھیجا جائے اور قسمیں کھاتے تھے کہ ہمارے پاس کوئی نبی آگیا تو ہم پرانی امتوں سے بڑھ کر ہدایت والے ہوں گے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوگئی تو منکر ہوگئے آپس کی ضدا ضدی نے ان کے فرقے بنا دئیے کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کچھ لوگ کفر و شرک پر جمے رہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے اہل کتاب مراد ہیں یہودیوں کو حسد کھا گیا اور جانتے بوجھتے ایمان نہ لائے اور نصاریٰ بھی انہیں کی راہ پر چل پڑے ان لوگوں کا متفرق ہونا اور رسول اللہ ﷺ سے اختلاف کرنا اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ کے بیان میں اور اظہار حجت میں کوئی کمی تھی حب ّدنیا اور مال و جاہ کی طلب نے انہیں ایمان سے روکا۔ ھذا ما ذکرہ القرطبی ص 12 ج 22 وذکر قولا ثالثا قال قیل امم الانبیاء المتقدمین فانھم فی بینھم اختلفوا لما طال بھم المدی فامن قوم فکفر قوم۔ اھ (یہ وہ ہے جو علامہ قرطبی نے ذکر کیا ہے اور تیسرا قول بھی ذکر کیا ہے کہ بعض نے کہا ہے سابقہ انبیاء کی امتوں میں اختلاف ہوا جب لمبا عرصہ گزرا تو ایک گروہ ایمان والا رہا اور ایک کافر ہوگیا۔ )
﴿وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَيْنَهُمْ 1ؕ﴾ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے بات طے نہ کی جاتی (یعنی یہ فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا کہ انہیں قیامت کے دن عذاب دینا ہے دنیا) میں عذاب نہیں دینا تو اب تک فیصلہ ہوچکا ہوتا یعنی عذاب آچکا ہوتا اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اَجَلٍ مُّسَمًّى سے دنیا میں عذاب بھی آگیا کما کان فی بدر ﴿ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيْبٍ 0014﴾ (اور بلاشبہ جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں جو تردد میں ڈالنے والا ہے۔ ) علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ اس سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہیں ان لوگوں کے بعد کتاب دی گئی جو حق میں ان سے پہلے اختلاف کرچکے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ ﴿ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ ﴾ سے قریش مراد ہیں جن کے پاس قرآن مجید آیا اور ﴿ مِنْۢ بَعْدِهِمْ﴾ سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں اور ” منہ “ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف یا محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 42:15استقامت اور عدل کا حكم، کافروں سے برات کا اعلان
اوپر جس دین کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کی نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو وصیت کی اور آپ کی طرف اس کی وحی بھیجی اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ آپ اسی کی طرف دعوت دیتے رہیں اور آپ کو جس طرح حکم دیا گیا ہے اسی طرح مستقیم رہیں اور مشرکین کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں انہیں آپ کا دین ناگوار ہے اور یہ بھی ناگوار ہے کہ آپ انہیں دین توحید کی دعوت دیں اگر آپ کی دعوت میں ذرا سی بھی لچک آگئی اور ان کی کسی بات کو مان لیا تو استقامت ہاتھ سے جاتی رہے گی۔
مزید فرمایا کہ آپ ان کو بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی کتابیں نازل فرمائی ہیں سب پر ایمان لاتا ہوں جن میں قرآن مجید بھی ہے اور ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ تم سے کوئی بات کہوں اور خود عمل نہ کروں اور تمہیں تکلیف میں ڈالوں اور خود آزاد رہوں لہٰذا تم میری بات مانو، اسے ﴿وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ 1ؕ﴾ میں بیان فرمایا : ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ ﴾ اللہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے جب سب اسی کے بندے ہیں تو لازم ہے کہ یہ سب ایمان لائیں اور اس کے بھیجے ہوئے دین کا اتباع کریں گے اگر تم نہیں مانتے تو دیکھ لو سامنے آخرت کا دن بھی ہے سب اپنے اپنے اعمال لے کر حاضر ہوں گے، ہمیں جو کچھ پیغام پہنچانا تھا پہنچا دیا ہمارا کام پورا ہوگیا اب ہمارے تمہارے درمیان کوئی حجت بازی نہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع فرمائے گا اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے وہ اصحاب توحید کو جزا دے گا اور اصحاب شرک کو سزا دے گا ہم اظہار حق اور دعوت توحید کے سوا کیا کرسکتے ہیں نہ ماننے کا وبال تمہیں پڑے گا۔
Ayah 42:16معاندین کی دلیل باطل ہے
﴿وَ الَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ فِي اللّٰهِ﴾ (الآیۃ) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑتے ہیں یعنی اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کرنے میں حجت بازی کر رہے ہیں حالانکہ بہت سے عقل و فہم والے لوگوں نے اسے مان لیا ہے ان جھگڑا کرنے والوں کی دلیلیں باطل ہیں ان کی کوئی دلیل ایسی نہیں جو توحید کے خلاف عقیدہ رکھنے کو ثابت کردے اگرچہ اپنی جہالت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری دلیل کام دینے والی ہے لیکن جب بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوں گے تو اس وقت پتہ چل جائے گا کہ ان کی دلیل باطل تھی اس پر باطل بھروسہ کیے رہے اور دنیا میں کفر و شرک پر جمے رہے اللہ تعالیٰ کا ان پر بڑا غصہ ہے اور قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
﴿مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِيْبَ لَهٗ﴾ میں یہ بتایا کہ اللہ کے نبی نے جو توحید کی دعوت دی بہت سے لوگوں نے اسے قبول کیا آپ کے معجزات دیکھ کر دین اسلام میں داخل ہوگئے معاندین کو بھی غور کرنا چاہیے کہ جن لوگوں نے توحید کی دعوت قبول کرلی ہے کوئی دیوانے تو نہیں ہیں یہ بھی تو سمجھدار ہیں ہم ہی کو ضد کرنے کی کیا ضرورت ہے، قال فی معالم التنزیل ای استجاب لہ الناس فاسلموا ودخلوا فی دینہٖ لظھور معجزتہ
Ayah 42:17اللہ تعالیٰ نے کتاب کو اور میزان کو نازل فرمایا
﴿اَللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ وَ الْمِيْزَانَ 1ؕ﴾ اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتابیں نازل فرمائیں اور میزان کو نازل فرمایا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اور کثر مفسرین نے فرمایا کہ میزان سے عدل و انصاف مراد ہے کیونکہ میزان یعنی ترازو عدل و انصاف کا آلہ ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے جزا و سزا مراد ہے یعنی طاعت پر جو ثواب ملے گا اور معصیت پر جو عذاب ہوگا اسے میزان سے تعبیر فرمایا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ میزان سے ترازو ہی مراد ہے کیونکہ اس کے ذریعے وزن کیا جاتا ہے اور کمی بیشی کا پتہ چلایا جاتا ہے۔
عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو
﴿وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ0017﴾ (اور آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو) اس میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے لیکن واقعی طور پر ہر مکلف اس کا مخاطب ہے ہر شخص فکر مند ہو کہ قیامت آنے پر میرا کیا بنے گا عقائد اور اعمال کا حساب ہوگا تو میں کن لوگوں میں ہوں گا قیامت کی تاریخ نہیں بتائی گئی ہوسکتا ہے کہ عنقریب ہی واقع ہوجائے لہٰذا ہر وقت فکر مند ہونا چاہیے۔
Ayah 42:18﴿يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا 1ۚ﴾ (جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے وہ قیامت آنے کی جلدی مچاتے ہیں) چونکہ اس کے آنے کا یقین نہیں ہے اس لیے بار بار یوں کہتے ہیں کہ کیوں نہیں آجاتی جلدی آجانی چاہیے ﴿وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا 1ۙ وَ يَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ 1ؕ﴾ (اور جو لوگ ایمان لائے وہ وقوع قیامت سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے) ﴿اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ 0018﴾ (خبردار جو لوگ شک کرتے ہیں قیامت کے بارے میں وہ دور کی گمراہی میں ہیں) دلائل کے قائم ہوجانے کے باوجود بھی انکار پر اصرار کرتے ہیں۔
Ayah 42:19اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے
﴿اَللّٰهُ لَطِيْفٌۢ بِعِبَادِهٖ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ 1ۚ﴾ (اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ رزق دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ قوی ہے عزیز ہے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے نیک بندوں کو بھی کھلاتا ہے اور کفار و فجار کو بھی کھانے کی چیزیں دیتا ہے، کفار کی معصیت کی وجہ سے وہ اپنا رزق نہیں روکتا مہربانی کی یہ ایک صورت ہے اور اس کے علاوہ اس کی بہت سی مہربانیاں ہیں دنیا میں بھی ان کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی مہربانی کا مظاہرہ ہوگا، علامہ قرطبی (رح) نے لطیف کی تشریح کرتے ہوئے آٹھ دس معانی لکھے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تھوڑے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور ایک یہ ہے کہ اس نے طاقت سے زیادہ اعمال کا مکلف نہیں بنایا اور ایک یہ ہے کہ وہ سوال رد نہیں فرماتا اور امید وار کو ناامید نہیں کرتا۔
﴿وَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيْزُ (رح) 0019﴾ (وہ قوی ہے اور عزیز ہے) اس کی مہربانی اور دادو دہش کو کوئی نہیں روک سکتا۔
Ayah 42:20طالب آخرت کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اضافہ ہوگا اور طالب دنیا کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا
اس آیت کریمہ میں آخرت کے طلب گاروں اور دنیا داروں کی نیتوں کا اور اعمال کا اور ان کا جو بدلہ ملے گا اس کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے یعنی دنیا میں ایمان سے متصف ہے اور اعمال صالحہ میں لگا رہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میرے اعمال کا آخرت میں ثواب دیا جائے اللہ تعالیٰ اسے بہت زیادہ ثواب دے گا ایک نیکی کی کم از کم دس نیکیاں تو لکھی ہی جاتی ہیں اور ایک نیکی کا عوض سات سو گناہ دینے کا قرآن مجید میں ذکر ہے ﴿كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ﴾ سات سو گناہ ثواب بتانے کے بعد ﴿وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ﴾ بھی فرما دیا حضرت علماء کرام نے اس سے یہ ثابت کیا ہے کہ نیکیوں میں اضافہ ہونا اور بڑھا چڑھا کر ان کا ثواب ملنا کوئی سات سو پر منحصر نہیں ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ دے گا جس کی تفصیلات احادیث شریف میں وارد ہوئی ہیں علم و عمل پھیلانے والوں اور دین کا چرچا کرنے والوں اور اعمال صالحہ کو آگے بڑھانے والوں کا ثواب تو بہت ہی زیادہ ہے، جب تک معلمین و مبلغین کے بتائے ہوئے اعمال اور پڑھائے ہوئے امور کے مطابق لوگ عمل کرتے رہیں گے ان حضرات کو ان کے عمل کا بھی ثواب ملتا رہے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہوگی جس طرح دانہ ڈالنے کے بعد کھیتی بڑھتی ہے اور ایک دانہ بونے سے بہت سے دانے حاصل ہوجاتے ہیں اسی طرح آخرت کے اعمال میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی لیے آخرت کے لیے عمل کرنے والوں کے عمل کو آخرت کی کھیتی سے تعبیر فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کے طالب ہیں دنیا ہی کو چاہتے ہیں اسی کے لیے عمل کرتے ہیں ہم انہیں دنیا میں سے کچھ دے دیں گے جتنا وہ چاہتے ہیں اتنا دیں یا اس سے کم و بیش دیں بہرحال جو کچھ ملے گا تھوڑا ہی ہوگا آخرت کے اجر وثواب کے مقابلے میں تو کسی دنیا دار کا بڑے سے بڑا حصہ پاسنگ کے درجہ میں بھی نہیں آسکتا جتنی بھی دنیا مل جائے تھوڑی ہی ہوگی اور یہ بھی ضروری نہیں کہ طالب دنیا کو دنیا مل ہی جائے جو کچھ ملے گا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے اور چونکہ اصلی دنیا دار مومن نہیں ہوئے اس لیے آخرت میں انہیں کچھ بھی نہیں ملنا۔ سورة الاسراء کی آیت کی تصریح اور تشریح دوبارہ پڑھ لیں ارشاد فرمایا : ﴿مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ 1ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا 0018 وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا 0019﴾ (جو شخص دنیا کی نیت رکھے گا ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے لیے چاہیں گے دے دیں گے پھر ہم اس کے لیے جہنم تجویز کریں گے وہ اس میں بدحال راندہ ہوا داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کی نیت رکھے گا اور اس کے لیے کوشش کرے گا جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے اور وہ مومن بھی ہوگا سو یہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر دانی کی جائے گی۔ )
Ayah 42:21قیامت کے دن ظالم لوگ اپنے اعمال بد کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے اور اہل ایمان اعمال صالحہ والے جنتوں کے باغیچوں میں ہوں گے
اوپر چار آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ جنہوں نے اللہ کے لیے شریک تجویز کر رکھے ہیں کیا انہوں نے ان آیات کے لیے ایسے دینی احکام مشروع و مقرر کیے ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہ دی ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو مخلوق کے لیے کوئی دین مشروع و مقرر کردے نہ کوئی ایسا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو اس کا حق ہے اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا حق ہے کہ اپنی مخلوق کے لیے دین مشروع فرمائے جب ان بنائے ہوئے شریکوں میں سے کسی نے ان کے لیے دین مشروع نہیں کیا تو ان کی عبادت کرنا حماقت نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ مشرکین پر لازم ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ عبادت کریں اور اسے وحدہ لا شریک جانیں۔
ان لوگوں نے شرک اختیار کرکے اپنی جانوں کو عذاب کا مستحق بنا دیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا ہے کہ عذاب دنیا میں فلاں وقت ہوگا اور آخرت میں ضرور ہوگا اگر یہ فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو ان کو دنیا میں ابھی عذاب دے دیا جاتا، عذاب کی تاخیر سے خوش نہ ہوں سمجھ لیں کہ ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے جس میں ضرور ہی مبتلا ہوں گے۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ ایک وہ وقت بھی آنے والا ہے (یعنی قیامت کا دن) جب ظالمین یعنی مشرکین اور کافرین اپنے کرتوتوں کی وجہ سے عذاب سے ڈر رہے ہوں گے لیکن یہ ڈرنا کچھ مفید نہیں ہوگا ان پر عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا اور اہل ایمان اعمال صالحہ والے بہشتوں کے باغوں میں نعمتوں میں مشغول ہوں گے وہاں جو کچھ چاہیں گے ان کے پاس ان کے لیے موجود ہوگا یہ جنتوں کا دخلہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے (یہ دنیا کی چہل پہل اس کے سامنے کچھ بھی نہیں)
تیسری آیت میں اول تو مومنین اعمال صالحہ والوں کی فضیلت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بشارت دیتا ہے کہ ان کو ایسی نعمتیں ملیں گی۔
Ayahs 42:22–23دعوت و تبلیغ کے عوض تم سے کچھ طلب نہیں کرتا
اس کے بعد فرمایا ﴿قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ﴾ (آپ فرما دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا بجز رشتہ داری کی محبت کے) اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جو کچھ تمہیں توحید کی دعوت دیتا ہوں اور ایمان لانے کی باتیں کرتا ہوں میری یہ محنت اور کوشش صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے میں تم سے کچھ بھی نہیں چاہتا ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میری تمہاری رشتہ داریاں ہیں رشتہ داری کے اصول پر جو تمہاری ذمہ داری ہے اسے پورا کرو، صلہ رحمی کو سامنے رکھ کر مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ تو یہ دوسری بات ہے : فھو استثناء منقطع ولیس بمتصل حتی تکون المودة فی القربی اجراً فی مقابلة اداء رسالةٍ ۔ رشتہ داری کے اصول پر تم میرے حق کو پہچانو اور ایذا رسانی سے باز آؤ تم اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان بھی نہیں لاتے اور رشتہ داری کا بھی خیال نہیں کرتے ایذا رسانی پر تلے ہوئے ہو یہ تو عربوں کی روایت کے بھی خلاف ہے۔
﴿اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى﴾ کا ایک مطلب معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ میرا تم سے بس یہی سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرو اور اس کی فرمانبرداری کرو، عمل صالح اختیار کرکے اس کی دوستی کی طرف بڑھتے رہو (جب ایسا کرو گے تو میرا اجر بھی چند در چند ہوکر مجھے ملے گا اور تم لوگ بھی اللہ کی رحمت کے مستحق ہوگے)
﴿وَ مَنْ يَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا 1ؕ﴾ (اور جو کوئی شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لیے اس میں خوبی کا اضافہ کردیں گے) یعنی اسے چند در چند کرکے اس کا ثواب بڑھا دیں گے۔
﴿اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ0023﴾ (بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے قدر دان ہے) لہٰذا گناہوں سے توبہ کرو اور نیکیوں میں لگ جاؤ اور خوب زیادہ ثواب پاؤ۔
Ayah 42:24قرآن کو افتراء علی اللہ بتانے والوں کی تردید
چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا ﴿اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا 1ۚ﴾ (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے) یہ استفہام تقریری ہے یعنی یہ لوگ ایسا کہتے ہیں، اس کے جواب میں فرمایا ﴿فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ يَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ 1ؕ﴾ (سو اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے) یعنی آپ کو قرآن بھلا دے۔ لیکن وہ آپ پر برابر قرآن نازل فرما رہا ہے جو رحمتیں ابتدائے نبوت سے جاری تھیں وہ اب بھی جاری ہیں لہٰذا ان لوگوں کے قول سے رنجیدہ نہ ہوں آپ پر برابر وحی آتی رہنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں کہ آپ نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے۔
﴿وَ يَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ ﴾ (اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹا دیتا ہے) لہٰذا وہ ان کی باتوں کو مٹا دے گا ﴿وَ يُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ 1ؕ﴾ اور وہ حق کو اپنے کلمات کے ذریعے غالب کردیتا ہے) لہٰذا وہ اپنے دین حق کو کلمات کے ذریعہ ثابت فرما دے گا۔
﴿اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 0024﴾ (بلاشبہ اللہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے) اگر کسی نے کوئی اچھی یا بری بات سینہ میں چھپا کر رکھی تو اللہ تعالیٰ اس کی جزا و سزا دیدے گا۔
Ayah 42:25اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے اور تمہارے اعمال کو جانتا ہے، اپنی مشیت کے مطابق روزی نازل فرماتا ہے اور جب ناامید ہوجائیں، بارش برساتا ہے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور نعمت ہائے عظیمہ بیان فرمائی ہے، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔ دوم یہ فرمایا کہ تم جو بھی کچھ عمل کرتے ہو وہ اسے جانتا ہے (اسے سچی توبہ کا بھی علم ہے اور صرف زبانی توبہ کو بھی جانتا ہے) سوم یہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے (نیک اعمال میں یہ بھی داخل ہے کہ دعا کرنے والا حرام روزی سے بچتا ہو) چہارم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اہل ایمان کے اعمال میں اضافہ فرماتا یعنی مختصر سے عمل کا بہت زیادہ ثواب عطا فرماتا ہے اور ایک عمل کئی گنا کرکے خوب بڑھا چڑھا کر ثواب عطا فرماتا ہے۔ پنجم یہ فرمایا کہ کافروں کے لیے سخت عذاب ہے وہ دنیا کی زندگی سے دھوکہ نہ کھائیں اور آخرت کے عذاب سے ڈریں۔ ششم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے خاص اندازہ کے مطابق رزق عطا فرماتا ہے اگر وہ بندوں کے لیے رزق کو پھیلا دے یعنی بہت زیادہ دے دے اور سبھی کو بہت زیادہ مال مل جائے تو زمین میں بغاوت کرنے لگیں لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کچھ لوگ زیادہ پیسے والے ہیں کچھ کم پیسے والے ہیں کچھ فقیر ہیں اور مسکین ہیں سب کو اس نے اپنی حکمت کے مطابق پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت کے مطابق موجودہ حال میں رکھا ہے وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ ہفتم یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے اس وقت بارش برساتا ہے جب وہ ناامید ہوچکے ہوتے ہیں وہ بارش بھی برساتا ہے رحمت بھی پھیلاتا ہے بارش میں دیر ہوتی ہے تو بندے ناامید ہوجاتے ہیں اور جب بارش ہوجاتی ہے تو خوش ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت پھیل جاتی ہے اس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہشتم دو عظیم صفات بتاتے ہوئے فرمایا ﴿وَ هُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ 0028﴾ (اللہ تعالیٰ ولی ہے کارساز ہے) مخلوق کی حاجتیں پوری فرماتا ہے اور اس کے سارے افعال لائق ستائش ہیں وہ بہرحال تعریف کا مستحق ہے۔
Ayahs 42:26–29آسمان و زمین اور چوپایوں کی تخلیق میں اللہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی شان تخلیق اور شان ربوبیت بیان فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانا اور ان کے اندر جو جاندار چیزیں پیدا فرمائی اور پھیلائی ہیں ان کو وجود بخشنا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ مخلوق جو آسمانوں میں اور زمین میں پھیلی ہوئی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ان کو جمع کرنا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان ہے اسے اس پر قدرت ہے کہ ان سب کو جمع فرما دے اور قیامت کے دن ایسا ہوگا۔
Ayah 42:30جو بھی کوئی مصیبت تمہیں پہنچتی ہے تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے
پھر فرمایا کہ تم سے جس کسی کو جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے پہنچ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر گناہ پر تکلیف نہیں بھیجتا اگر ہر گناہ کی وجہ سے مصیبت بھیجی جائے تو ہوسکتا ہے کہ آرام و راحت کا نمبر ہی نہ آئے بہت سے گناہوں سے اللہ تعالیٰ در گزر فرماتا ہے لہٰذا ان کی وجہ سے کوئی مصیبت نہیں آتی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی بندہ کو کوئی ذرا سی تکلیف یا بڑی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ جن گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے وہ ان گناہوں سے زیادہ ہوتے ہیں جن پر مواخذہ ہوتا ہے۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مومن مرد اور مومن عورت کو جان و مال اور اولاد میں تکلیف پہنچتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب وہ (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو اس کا کوئی گناہ بھی باقی نہ ہوگا۔ (رواہ الترمذی) معلوم ہوا کہ اہل ایمان پر جو تکلیفیں آتی ہیں ہیں ان سے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں اور یہ بہت بڑا فائدہ ہے کیونکہ آخرت میں گناہوں پر جو عذاب ہے وہ بہت سخت ہے دنیا میں جو تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں وہ معمولی چیزیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے لیے کوئی بلند مرتبہ دینے کا فیصلہ فرما دیتا ہے لیکن وہ اپنے عمل سے اس مرتبہ تک پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تکلیف میں مبتلا فرما دیتا ہے یہ تکلیف اس کے مال جان اور اولاد میں پہنچ جاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ اس پر صبر عطا فرما دیتا ہے یہاں تک کہ اس مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے پہلے سے مقرر کردیا گیا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح 128 از احمد و ابو داؤد)
یاد رہے کہ ﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ﴾ میں جو خطاب ہے یہ عام مومنین سے ہے لہٰذا یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ حضرات انبیاء کرام تو معصوم تھے ان پر تکلیفیں کیوں آئیں ان حضرات کو جو تکلیفیں پہنچیں گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ رفع درجات کی وجہ سے پہنچیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم زمین میں عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں جس حال میں رکھے اس میں رہو گے اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے، اور غیر اللہ سے امیدیں باندھنا بھی فائدہ مند نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ولی (یعنی کارساز) نصیر (یعنی مددگار) نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کشتیاں بھی ہیں، پہاڑوں کے برابر بڑی بڑی کشتیاں سمندر میں چلتی ہیں جنہیں آج کل باخرہ اور بحری جہاز کہتے ہیں ان کشتیوں میں خود بھی سوار ہوکر سفر کرتے ہیں اور ان پر مال بھی لے جاتے ہیں بھاری بھاری کشتیاں سامان سے لدی ہوئی سمندر میں جا رہی ہیں کشتیاں ہوا کے ذریعہ ان کو چلاتے ہیں یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے چلتی ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے اور یہ کشتیاں سمندر میں کھڑی کھڑی رہ جائیں اس میں صبر اور شکر کرنے والے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
شاید کسی کے دل میں وسوسہ آئے کہ اب تو بڑے بڑے جہاز پٹرول سے چلتے ہیں، ہواؤں کا ان کے چلنے میں دخل نہیں ہے اس وسوسہ کا جواب یہ ہے کہ مقصود اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور بندوں کو احتیاج بیان کرنا ہے پٹرول بھی تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا اور مشینوں اور انجنوں کی سمجھ اور ان کے چلانے کے طریقہ بھی تو اللہ تعالیٰ نے الہام فرمائے ہیں۔
Ayahs 42:31–34﴿اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍٞ0034﴾ میں یہ فرمایا ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ کو یہ قدرت ہے کہ ہوا کو روک دے جس کی وجہ سے کشتیاں سمندر میں کھڑی رہ جائیں تو اسے یہ بھی قدرت ہے کہ جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے کشتیوں کو تباہ کر دے جس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہوائیں خوب تیز چلنے لگیں اور اس کی وجہ سے کشتیوں میں بھونچال آجائے اور جو لوگ کشتیوں میں سوار ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بہت سوں کو معاف فرما دے یعنی غرق نہ فرمائے دنیا میں مواخذہ نہ فرمائے پھر اپنے قانون کے مطابق جسے چاہے آخرت میں سزا دے۔
Ayah 42:35﴿وَّ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا 1ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ 0035﴾ (اور جب کشتی والوں کی ہلاکت ہونے لگے تو وہ لوگ جان لیں جو ہماری آیتوں میں جھگڑے کرتے ہیں کہ ان کے لیے بچاؤ کی کوئی جگہ نہیں ہے جو لوگ قرآن کو اللہ کی کتاب نہیں مانتے مشرک ہیں بتوں کی دہائی دیتے ہیں ان کے سامنے جب کشتیوں اور کشتیوں میں سوار ہونے والوں کی تباہی کا منظر سامنے آجائے تو وہ سمجھ لیں کہ اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں اور غیر اللہ کو پکارنے کا کوئی نفع نہیں۔
قال البغوی فی معالم التنزیل ﴿وَ يَعْلَمَ﴾ قرأ اھل المدینة والشام ﴿وَیَعْلَمُ﴾ برفع المیم علی الاستئناف کقولہ عزوجل فی سورة برأة ﴿وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ﴾ وَقرَأ الاٰخرون بالنصب علی الصرف والجزم اذا صرف عنہ معطوفہ نصب، وھو کقولہ تعالیٰ ﴿وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ صرف من حال اجزم الی النصب استخفافًا وکراھیة لتوالی الجزم۔ (علامہ بغوی ؓ نے معالم التنزیل میں کہا ہے ﴿وَ يَعْلَمَ﴾ کو مدینہ اور شام کے قراء نے ﴿وَیَعْلَمُ﴾ میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے یہ نیا جملہ ہے جیسا کہ سورة براءۃ میں ہے ﴿وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ﴾ اور دوسروں نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے صرف کی بنیاد پر کیونکہ جب جزم سے اس کا معطوف پھیرا جاتا ہے تو نصب دی جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ ہے۔ جزم سے نصب کی طرف اس لیے پھیرا گیا ہے تاکہ تخفیف بھی ہوجائے اور مسلسل دو جز میں بھی نہ آئیں۔
Ayah 42:36جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اہل ایمان اور اہل توکل کے لیے بہتر ہے
ان آیات میں دنیا کے بےثباتی بتائی ہے اور آخرت کے اجور اور ثمرات کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ بہتر ہیں اور زیادہ باقی رہنے والے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ اجور وثمرات اہل ایمان کو ملیں گے پھر اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمائے (1) یہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (2) کبیرہ گناہوں سے اور فحش باتوں اور فحش کاموں سے پرہیز کرتے ہیں (3) اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں (4) اور یہ لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں یعنی دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں (5) اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے امور آپس میں باہمی مشورہ سے طے ہوتے ہیں (6) انہیں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (7) اور جب ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیں (ظلم نہیں کرتے جتنا ہوا اسی قدر بدلہ لیتے ہیں) یہ ایسے امور ہیں جن کا پابند ہونا اور زندگی بھر نباہتے چلے جانا اہم کام ہے ان میں توکل کرنا بھی اور گناہوں اور فحش کاموں سے بچنا بھی، اور غصہ آجائے تو معاف کرنا بھی اور مشورے سے کاموں کو انجام دینا بھی ہے صحیح طریقے پر نماز ادا کرنا ﴿وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ 1۪﴾ اور مالی فرائض اور واجبات ادا کرنا ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَۚ0038﴾ میں بیان فرما دیا ایسے جامع الاوصاف اہل ایمان کے لیے آخرت کے اجر وثواب کا خیر ہونا اور باقی ہونا ظاہر ہے۔
دنیا کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ تمہیں جو کوئی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی میں کام آنے والی ہے اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا اول یہ کہ جو لوگ دنیا میں جیتے اور بستے ہیں ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں دنیا سے فائدہ حاصل کرنے میں مومن یا کافر اور نیک و بد کی کوئی تخصیص نہیں سب اس سے متمتع اور مستفید ہوتے ہیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ دنیا میں جسے جو کچھ ملا ہو وہ دنیا کی حد تک ہے جب دنیا سے چلے جائیں گے سب یہیں دھرا رہ جائے گا ہاں جو کچھ اللہ کے لیے خرچ کیا اس کا ثواب وہاں مل جائے گا جسے ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَۚ0038﴾ میں بتادیا۔
Ayahs 42:37–39آخر میں فرمایا ﴿وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنْتَصِرُوْنَ 0039﴾ (جب ان کو ظلم پہنچتا ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں) اس میں مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینے کی اجازت دی ہے سیاق کلام سے یہ مفہوم ہو رہا ہے کہ جتنا ظلم ہوا ہے اسی قدر بدلہ لیا جاسکتا ہے مزید تفصیل آئندہ آیات کی تفسیر کے ذیل میں پڑھئے۔
Ayah 42:40برائی کا بدلہ برائی کے برابر لے سکتے ہیں، معاف کرنے اور صلح کرنے کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے
پہلے جو آیات مذکور ہوئیں ان میں سے آخری آیت میں نیک بندوں کی صفات میں یہ بتایا تھا کہ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو بدلہ لے لیتے ہیں اس میں چونکہ کمی و بیشی کا ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں ہے کہ معاف کردینا اور بدلہ نہ لینا افضل ہے اس لیے بطور استدراک ان آیات میں اولاً تو یہ بتایا کہ برائی کا بدلہ بس اسی قدر لینا جائز ہے جتنی زیادتی دوسرے فریق نے کی ہو، اگر کسی نے اس سے زیادہ بدلہ لے لیا جو اس پر زیادتی کی گئی تھی تو اب وہ اسی قدر ظلم کرنے والا ہوجائے گا۔ ثانیاً یہ فرمایا کہ بدلہ لینا جائز تو ہے لیکن افضل یہ ہے کہ بدلہ نہ لیا جائے معاف کردیا جائے، جو شخص معاف کردے گا اس کا یہ معاف کردینا ضائع نہ جائے گا اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے اس کا اجر عطا فرمائے گا معاف نہ کرے تو زیادتی بھی نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ ثالثاً یہ فرمایا کہ جس شخص پر کوئی ظلم کیا گیا اور اس نے اسی قدر بدلہ لے لیا جتنا اس پر ظلم ہوا تھا تو اب اس کا مواخذہ کرنا جائز نہیں کیونکہ اس نے اپنا حق لیا ہے ظالم یا ظالم کی مدد کرنے والا دوست احباب کنبہ و قبیلہ کے لوگ اب اگر اس سے بدلہ کا بدلہ لیں گے تو یہ لوگ ظالم ہوجائیں گے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ دنیا میں یا آخرت میں یا دونوں جگہ ان کی گرفت ہوگی یہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ رابعاً ایک عام اعلان فرما دیا کہ صبر کرنا اور معاف کرنا بڑی ہمت اور صبر کے کاموں میں سے ہے، ہر شخص اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا حالانکہ اس کا اجر وثواب بہت بڑا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے میرے رب آپ کے بندوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص (بدلہ لینے کی) قدرت رکھتے ہوئے معاف کردے۔ (مشکوٰۃ المصابیح 434)