42. Surah Ash-Shura
الشورىConsultation · 53 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جو زبردست حکمت والا ، نرالی شان والا ، آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ، اس کی عظمت وہیبت سے بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں ۔ تمام فرشتے اسی کی حمد وثناء کرتے ہیں اور زمین پر بسنے والے ( نیک اور متقی لوگوں کے لیے) دعائے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب کی تبلیغ و اشاعت کے فرض کو ادا کرتے رہیے اور ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچانے کی جدوجہد اور کوشش کرتے رہیے۔ اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے یا مذاق اڑاتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ ان کے انکار کرنے سے قیامت کا ہیبت ناک دن ٹل نہیں سکتا وہ دن آ کر رہے گا ۔ اس دن تمام اولین و آخرین کا زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا جو بہتر جزا کے مستحق ہیں ان کو خیر عطاء کی جائے گی لیکن جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ (اللہ نے سارا رزق اپنے ساتھ میں رکھا ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے ہر راستہ کھول دیتا ہے اور خوب رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے راستے تنگ کردیتا ہے اور اس کا رزق باندھ دیا جاتا ہے۔ رزق کی فراخی اور تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ) فرمایا کہ جن لوگوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے عادی ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجئے وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی کا کائنات میں ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزق اور رزق کو باندھ دیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ وہی کائنات کی ہر حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ (سمندر میں جو جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں وہ اللہ کے حکم سے چلتی ہیں جس کے لیے اس نے ہواؤں کو چلا رکھا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ہواؤں کو ٹھہرا دے یا ان کو طوفانی ہوائیں بنا دے اور وہ اپنی ترقیات کے باوجود بالکل بےبس ہو کر رہ جائیں ۔ اگر اللہ ایسا کر دے تو وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اسی کا کرم ہے۔ ) فرمایا کہ یہ اختلاف لوگوں نے خود ہی پیدا کر رکھے ہیں ۔ اس لیے اہل ایمان ان باتوں کی پرواہ نہ کریں ، دین اسلام کی پیروی کریں ۔ اسی کی طرف لوگوں کو بلائیں ، دعوت دیں ۔ خود بھی اس پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلائیں کسی باطل کی پیروی نہ کریں ۔ ایک دن سب کو اللہ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے جہاں ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ( آخرت میں گناہ کار ، کفار و مشرکین جب کھلی آنکھوں سے اس عذاب کو دیکھیں گے جس کے متعلق اللہ کے پیغمبروں نے بتایا تھا تو وہ سخت شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایک موقع دیا جائے تو ہم حسن عمل کا پیکر بن جائیں گے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اور وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ) فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کے ہیبت ناک دن کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتے ہیں کیونکہ انہیں اس دن کے واقع ہونے کا پوری طرح یقین ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو نجانے کب سے سنتے آ رہے ہیں ۔ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کو کھیتی کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جو شخص اس دنیا کی کھیتی کو مانگتا ہے اللہ اس کی کھیتی میں ترقی عطا فرما دیتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ آخرت کی کھیتی کے طلب گار ہیں ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خوب عطاء کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہوں گے اور ہر وہ چیز عطاء کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو اللہ دین پہنچاتے ہیں تو وہ اس سے بھڑک اٹھتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیتیں پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ جتنی باتیں تمہیں بتا رہا ہوں اس میں صرف تمہاری خیر خواہی مقصود ہے اس سے نہ تو میں تم سے کسی طرح کی کوئی اجرت مانگ رہا ہوں اور نہ معاوضہ کہ جس کی وجہ سے تمہیں بہت بوجھ محسوس ہو رہا ہے ، البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم قرابت داری کا کچھ تو خیال کرو۔ میری باتیں غور سے سنو اور مجھے ناحق تکلیفیں نہ پہنچائو۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ باتیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود ہی گھڑ لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کہنے دیں ، پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ خود اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ میرا کلام ہے اگر ان لوگوں نے ایسی باتوں سے توبہ کرلی تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ لیکن اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے اور اسی پر اصرار کرتے رہے اور ایمان نہیں لائے تو وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے اللہ نے ایک عذاب مقرر کردیا ہے ۔ اللہ کی ذات پر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے۔ اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ میں جو آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ خود انسان کا کیا دھرا ہے وہ تو معاف کرتا اور نظر انداز کرتا رہتا ہے اگر وہ انسان کی ہر خطاء پر اس کو اسی وقت سزا دے دے تو پھر زمین پر کسی کا ٹھکانہ نہ رہے گا ۔ سمندر میں جہاز اور کشتیاں صرف اسی کے حکم سے چلتی ہیں ۔ اگر وہ ہوا کو ٹھہرا دے یا تیز کر دے تو وہ لوگ تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں ۔ لیکن اللہ کا یہ کرم ہے کہ وہ انسانوں کے بہت سے گناہوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے البتہ کبھی کبھی گرفت بھی کرلیتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے جب موت آتی ہے تو اس سے سب کچھ چھن جاتا ہے۔ اس بات کو ہر شخص یاد رکھے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو (١) اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ (٢) اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ (٣) وہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ (٤) غصہ میں آجانے کے باوجود اس کو معاف بھی کردیتے ہیں۔ (٥) اللہ کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ (٦) نمازوں کی پورے آداب کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔ (٧) وہ آپس کے کاموں میں مشورہ کر کے طے کرتے ہیں۔ (٨) اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے وہ اللہ کی رضا خوشنودی کے لئے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔ (٩) جب ان پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ اگر بدلہ لیتے ہیں تو برابری کا بدلہ لیتے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر وہ معاف کردیں تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ عفو و در گزر کو بہت پسند کرتا ہے۔ (١٠) یہ زبردست حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ لوگ جنہوں نے ظلم و زیادتی کی ہوگی وہ اپنے کیے ہوئے اعمال پر شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو پھر ہم بہتر عمل کر کے دکھائیں گے۔ ان کی یہ خواہش رد کردی جائے گی جب وہ جہنم اور اس کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو ذلت و رسوائی اور شرمندگی سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور کن آنکھوں سے نظریں چرا چرا کر اس عذاب کو دیکھیں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ یہ کتنے بد نصیب لوگ ہیں جو خود بھی جہنم کا ایندھن بن گئے اور اپنے گھر والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا پیغام ان کفار تک پہنچا دیں اگر وہ مانتے ہیں تو ان کے حق میں بہتر ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتے تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قصور نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے یہ ان کا معاملہ ہے لیکن کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ ساری طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ جس کو چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے ، کسی کو بیٹیاں اور کسی کو اولاد ہی سے محروم کردیتا ہے۔ کفار کا یہ کہنا کہ اللہ خود آ کر یہ کہہ دے کر میں اللہ ہوں تو ہم اس کو مان لیں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے آ کر اس سے باتیں کرے گا ۔ البتہ وہ اگر چاہے تو اپنے بندوں کی طرف الہام کردیتا ہے یا پردے کے باہر سے یا کسی فرشتے کے ذریعہ اپنا کلام پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی طرف اس نے اپنا کلام بھیجا ہے ۔ فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطاء کردیتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بھی صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں ۔ آخر کار ایک دن سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے جہاں پر ہر بات کا فیصلہ کردیا جائے گا ۔
حٰمٓۚ Open ayah 42:1 in the Quran reader
حا ۔ میم ۔
عٓسٓقٓ Open ayah 42:2 in the Quran reader
عین ۔ سین ۔ قال ( ان حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے)
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ اللہ نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح آپ سے پہلے ( رسولوں پر) وحی بھیجتا رہا ہے جو زبردست اور حکمت والا ہے۔
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اسی کی ملکیت ہے اور وہی برتر و اعلیٰ ہے۔
تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader
آسمان قریب ہیں کہ وہ اوپر کی طرف سے پھٹ پڑیں۔ اور فرشتے اپنے رب کی حمد وثناء بیان کر رہے ہیں اور ( زمین میں رہنے والے اہل ایمان) کے لئے اللہ سے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ سنو ! کہ اللہ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader
اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا دوست ( مشکل کشا) بنا رکھا ہے۔ اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور آپ ان پر کوئی نگراں مقرر نہیں کئے گئے ہیں
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تا کہ آپ اس کے ذریعہ مکہ والوں اور اس کے آس پاس رہنے والوں کو آگاہ اور خبردار کریں ۔ اور اس دن کا خوف دلائیں جو سب کے جمع ہونے کا دن ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ( اس دن) ایک گروہ جنت میں اور دوسرا گروہ جہنم میں ( داخل کیا جائے گا)
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader
اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت ( جماعت) بنا دیتا ۔ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو ظالم ( نافرمان) ہیں ( اس قیامت کے دن) ان کا کوئی یاد و مددگار نہ ہوگا ۔
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader
کیا ( ان ظالموں ، مشرکوں نے) اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مشکل کشا بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ ہی سب ( نیک لوگوں) کا حامی و مدد گار ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ ! جو لوگ آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ) تم جس چیز میں اختلاف رکھتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ وہی اللہ تو میرا رب ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور ( ہر بات میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader
وہی تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے بنائے ہیں ۔ اور اسی نے چوپایوں میں ( نر اور مادہ) جوڑے بنائے ہیں ۔ وہ تمہیں ان کے ذریعہ پھیلاتا ہے اور بڑھاتا ہے اور کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے وہی سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین کی ساری کنجیاں اس کے اختیار میں ہیں ۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور ( جس کا رزق چاہتا ہے) گھٹا دیتا ہے۔ بیشک وہی ہر بات کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے۔
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader
( اے مومنو ! ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس دین کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا۔ ( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کے پاس جو وحی بھیجی ہے اور جن باتوں کا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا ( اس میں ان کی امتوں) سے کہا گیا تھا کہ تم سب اسی دین پر قائم رہنا اور اس میں اختلاف (پھوٹ) پیدا مت کرنا ۔ اور ( اے نبی ﷺ ان مشرکوں کو ہر بات گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلاتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے لئے منتخب کرلیتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader
اور ( ان اہل کتاب نے) صحیح علم آجانے کے باوجود محض آپس کی ضد بندی کی وجہ سے اختلاف پیدا کیا ہے ( اور اے نبی ﷺ اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی جو پہلے سے ( اللہ نے) طے کردی ہے تو ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب الٰہی کے ذمے بنائے گئے وہ اس ( کتاب) کی طرف سے ایک سخت تر دو اور شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader
تو ( اے نبی ﷺ آپ ان کو اسی دین کی طرف بلاتے رہیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ بھی اسی پر قائم رہے۔ اور ان ( مشرکین و کفار) کی خواہشات پر نہ چلئے اور ( اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل کی ہے میں اسی پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں ۔ اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا ( بحث مباحثہ) نہیں ہے۔ اللہ ہی ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader
وہ لوگ جو اللہ کے دین میں اس کے بعد کہ وہ لوگوں میں مقبول ہوچکا ( مان لیا گیا) پھر بھی جھگڑتے نکالتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader
اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اور ( عدل و انصاف کے لئے) ترازو کا حکم نازل کیا ۔ اور ( اے نبی ﷺ آپ کو کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو ۔
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader
قیامت کے جلدی وہی مچاتے ہیں جو اس کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ بیشک ( قائم ہونا) بر حق ہے۔ سنو ! جو لوگ قیامت کے قائم ہونے میں جھگڑتے ہیں وہ گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔
اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ وہ جس کو جتنا دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ وہی زبردست قوت والا ہے۔
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader
اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا آرزو مند ہے تو ہم اس کو اسی دنیا میں ( بہت کچھ) دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader
کیا (ان کافروں کے) کچھ ایسے خود سے بنائے گئے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے کوئی ایسا دین مقرر کردیا ہے کہ جس دین کی اللہ نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ اور ایک فیصلے والی بات مقرر نہ ہوتی تو ان ( کافروں کے) درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور بیشک ان ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ( تیار ) ہے۔
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ یہ اپنے اعمال کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے حالانکہ ( ان کے گناہوں کا) وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے۔ ان کے رب کے پاس ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ یہی تو اس کا بڑا فضل و کرم ہوگا ۔
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader
یہی وہ ( نعمت ہے) جس کی اللہ نے اپنے بندوں کی بشارت و خوش خبری دی ہے۔ وہ بندے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے۔ ( اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے ( اس تبلیغ دین پر) سوائے قرابت داری کی محبت کے کوئی صلہ یا بدلہ تو نہیں مانگ رہا ہوں ۔ اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس شخص کے لئے اس کی نیکی میں ایک اور نیکی کو بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا اور ( نیک کاموں کا) بڑا قدر دان ہے۔
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اے محمد ﷺ ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بیشک وہ دلوں تک کی باتوں سے واقف ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ( ان کے ) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو ( سب ) جانتا ہے۔
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader
اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے جو کافر ہیں۔
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader
اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا ہے اور وہ دیکھتا ہے
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کی برکت) کو پھیلاتا ہے اور وہ کام بنانے والا ( اور) تعریف کے لائق ہے۔
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader
اور آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کی نشانیوں میں سے ہے اور ان جانوروں کا پیدا کرنا جو اس نے ان میں ( زمین و آسمان میں) پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قدرت رکھنے والا ہے۔