42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ جو زبردست حکمت والا ، نرالی شان والا ، آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ، اس کی عظمت وہیبت سے بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں ۔ تمام فرشتے اسی کی حمد وثناء کرتے ہیں اور زمین پر بسنے والے ( نیک اور متقی لوگوں کے لیے) دعائے مغفرت مانگتے رہتے ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی کتاب کی تبلیغ و اشاعت کے فرض کو ادا کرتے رہیے اور ہر شخص تک اس پیغام کو پہنچانے کی جدوجہد اور کوشش کرتے رہیے۔ اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے یا مذاق اڑاتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ ان کے انکار کرنے سے قیامت کا ہیبت ناک دن ٹل نہیں سکتا وہ دن آ کر رہے گا ۔ اس دن تمام اولین و آخرین کا زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ہر ایک کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا جائے گا جو بہتر جزا کے مستحق ہیں ان کو خیر عطاء کی جائے گی لیکن جو سزا کے مستحق ہوں گے ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ (اللہ نے سارا رزق اپنے ساتھ میں رکھا ہے وہ جس کے لیے چاہتا ہے ہر راستہ کھول دیتا ہے اور خوب رزق دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے راستے تنگ کردیتا ہے اور اس کا رزق باندھ دیا جاتا ہے۔ رزق کی فراخی اور تنگی سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ) فرمایا کہ جن لوگوں کا کام ہی یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے عادی ہیں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیجئے وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی کا کائنات میں ہر طرح کے اختیارات حاصل ہیں ۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اپنی مصلحت کے مطابق جس کے لیے چاہتا ہے روزق اور رزق کو باندھ دیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے۔ وہی کائنات کی ہر حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے۔ (سمندر میں جو جہاز اور کشتیاں چلتی ہیں وہ اللہ کے حکم سے چلتی ہیں جس کے لیے اس نے ہواؤں کو چلا رکھا ہے۔ اگر وہ چاہے تو ہواؤں کو ٹھہرا دے یا ان کو طوفانی ہوائیں بنا دے اور وہ اپنی ترقیات کے باوجود بالکل بےبس ہو کر رہ جائیں ۔ اگر اللہ ایسا کر دے تو وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لیے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اسی کا کرم ہے۔ ) فرمایا کہ یہ اختلاف لوگوں نے خود ہی پیدا کر رکھے ہیں ۔ اس لیے اہل ایمان ان باتوں کی پرواہ نہ کریں ، دین اسلام کی پیروی کریں ۔ اسی کی طرف لوگوں کو بلائیں ، دعوت دیں ۔ خود بھی اس پر قائم رہیں اور دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلائیں کسی باطل کی پیروی نہ کریں ۔ ایک دن سب کو اللہ کی بارگاہ میں جمع ہونا ہے جہاں ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا۔ ( آخرت میں گناہ کار ، کفار و مشرکین جب کھلی آنکھوں سے اس عذاب کو دیکھیں گے جس کے متعلق اللہ کے پیغمبروں نے بتایا تھا تو وہ سخت شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایک موقع دیا جائے تو ہم حسن عمل کا پیکر بن جائیں گے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اور وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ) فرمایا کہ جو لوگ ایمان والے ہیں جب ان کے سامنے قیامت کے ہیبت ناک دن کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ لرز اٹھتے ہیں کیونکہ انہیں اس دن کے واقع ہونے کا پوری طرح یقین ہوتا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو اس کا یقین نہیں ہے وہ اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو نجانے کب سے سنتے آ رہے ہیں ۔ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کو کھیتی کی مثال دے کر بتایا ہے کہ جو شخص اس دنیا کی کھیتی کو مانگتا ہے اللہ اس کی کھیتی میں ترقی عطا فرما دیتے ہیں ۔ لیکن جو لوگ آخرت کی کھیتی کے طلب گار ہیں ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خوب عطاء کرتے ہیں ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہوں گے اور ہر وہ چیز عطاء کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کفار کو اللہ دین پہنچاتے ہیں تو وہ اس سے بھڑک اٹھتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیتیں پہنچانے میں کسر نہیں چھوڑتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے کہہ دیجئے کہ میں یہ جتنی باتیں تمہیں بتا رہا ہوں اس میں صرف تمہاری خیر خواہی مقصود ہے اس سے نہ تو میں تم سے کسی طرح کی کوئی اجرت مانگ رہا ہوں اور نہ معاوضہ کہ جس کی وجہ سے تمہیں بہت بوجھ محسوس ہو رہا ہے ، البتہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم قرابت داری کا کچھ تو خیال کرو۔ میری باتیں غور سے سنو اور مجھے ناحق تکلیفیں نہ پہنچائو۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ باتیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قرآن کو خود ہی گھڑ لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کہنے دیں ، پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ خود اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ یہ میرا کلام ہے اگر ان لوگوں نے ایسی باتوں سے توبہ کرلی تو اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ لیکن اگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے اور اسی پر اصرار کرتے رہے اور ایمان نہیں لائے تو وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے اللہ نے ایک عذاب مقرر کردیا ہے ۔ اللہ کی ذات پر کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے۔ اللہ کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا بلکہ میں جو آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں وہ خود انسان کا کیا دھرا ہے وہ تو معاف کرتا اور نظر انداز کرتا رہتا ہے اگر وہ انسان کی ہر خطاء پر اس کو اسی وقت سزا دے دے تو پھر زمین پر کسی کا ٹھکانہ نہ رہے گا ۔ سمندر میں جہاز اور کشتیاں صرف اسی کے حکم سے چلتی ہیں ۔ اگر وہ ہوا کو ٹھہرا دے یا تیز کر دے تو وہ لوگ تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں ۔ لیکن اللہ کا یہ کرم ہے کہ وہ انسانوں کے بہت سے گناہوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے البتہ کبھی کبھی گرفت بھی کرلیتا ہے۔ فرمایا کہ آدمی کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے جب موت آتی ہے تو اس سے سب کچھ چھن جاتا ہے۔ اس بات کو ہر شخص یاد رکھے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ اہل ایمان وہ لوگ ہیں جو (١) اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ (٢) اس پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ (٣) وہ چھوٹے بڑے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ (٤) غصہ میں آجانے کے باوجود اس کو معاف بھی کردیتے ہیں۔ (٥) اللہ کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ (٦) نمازوں کی پورے آداب کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔ (٧) وہ آپس کے کاموں میں مشورہ کر کے طے کرتے ہیں۔ (٨) اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے وہ اللہ کی رضا خوشنودی کے لئے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں۔ (٩) جب ان پر کوئی ظلم کیا جاتا ہے تو وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ اگر بدلہ لیتے ہیں تو برابری کا بدلہ لیتے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر وہ معاف کردیں تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ عفو و در گزر کو بہت پسند کرتا ہے۔ (١٠) یہ زبردست حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات میں صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ جب قیامت قائم ہوگی تو وہ لوگ جنہوں نے ظلم و زیادتی کی ہوگی وہ اپنے کیے ہوئے اعمال پر شرمندہ ہو کر کہیں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو پھر ہم بہتر عمل کر کے دکھائیں گے۔ ان کی یہ خواہش رد کردی جائے گی جب وہ جہنم اور اس کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو ذلت و رسوائی اور شرمندگی سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے اور کن آنکھوں سے نظریں چرا چرا کر اس عذاب کو دیکھیں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ یہ کتنے بد نصیب لوگ ہیں جو خود بھی جہنم کا ایندھن بن گئے اور اپنے گھر والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا پیغام ان کفار تک پہنچا دیں اگر وہ مانتے ہیں تو ان کے حق میں بہتر ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتے تو اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قصور نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مانتے ہیں یا نہیں مانتے یہ ان کا معاملہ ہے لیکن کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ ساری طاقت و قوت صرف ایک اللہ کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ جس کو چاہتا ہے بیٹے دے دیتا ہے ، کسی کو بیٹیاں اور کسی کو اولاد ہی سے محروم کردیتا ہے۔ کفار کا یہ کہنا کہ اللہ خود آ کر یہ کہہ دے کر میں اللہ ہوں تو ہم اس کو مان لیں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کے سامنے آ کر اس سے باتیں کرے گا ۔ البتہ وہ اگر چاہے تو اپنے بندوں کی طرف الہام کردیتا ہے یا پردے کے باہر سے یا کسی فرشتے کے ذریعہ اپنا کلام پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی طرف اس نے اپنا کلام بھیجا ہے ۔ فرمایا کہ یہ ایک نور ہے جس سے اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت عطاء کردیتا ہے۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ خود بھی سیدھے راستے پر ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بھی صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں ۔ آخر کار ایک دن سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے جہاں پر ہر بات کا فیصلہ کردیا جائے گا ۔

Ayahs 42:1–9

حٰمٓۚ Open ayah 42:1 in the Quran reader

حا ۔ میم ۔

عٓسٓقٓ Open ayah 42:2 in the Quran reader

عین ۔ سین ۔ قال ( ان حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے)

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ اللہ نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح آپ سے پہلے ( رسولوں پر) وحی بھیجتا رہا ہے جو زبردست اور حکمت والا ہے۔

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اسی کی ملکیت ہے اور وہی برتر و اعلیٰ ہے۔

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

آسمان قریب ہیں کہ وہ اوپر کی طرف سے پھٹ پڑیں۔ اور فرشتے اپنے رب کی حمد وثناء بیان کر رہے ہیں اور ( زمین میں رہنے والے اہل ایمان) کے لئے اللہ سے بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ سنو ! کہ اللہ ہی گناہوں کو معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا دوست ( مشکل کشا) بنا رکھا ہے۔ اللہ ان کے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور آپ ان پر کوئی نگراں مقرر نہیں کئے گئے ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تا کہ آپ اس کے ذریعہ مکہ والوں اور اس کے آس پاس رہنے والوں کو آگاہ اور خبردار کریں ۔ اور اس دن کا خوف دلائیں جو سب کے جمع ہونے کا دن ہے اور جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ ( اس دن) ایک گروہ جنت میں اور دوسرا گروہ جہنم میں ( داخل کیا جائے گا)

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت ( جماعت) بنا دیتا ۔ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور جو ظالم ( نافرمان) ہیں ( اس قیامت کے دن) ان کا کوئی یاد و مددگار نہ ہوگا ۔

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ( ان ظالموں ، مشرکوں نے) اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مشکل کشا بنا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ ہی سب ( نیک لوگوں) کا حامی و مدد گار ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سورت بھی ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” حم “ سات ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے ہیں جو آدمی ان کو پڑھنے کا عادی ہوگا تو یہ سورتیں جہنم کے ہر دروازے پر موجود ہوں گی اور اللہ سے انکے پڑھنے والے کے لئے فریاد کرتے ہوئے کہیں گی کہ الٰہی ! جس نے مجھے پڑھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کو اس دروازے سے داخل نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ نبی مکرم ﷺ جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہیں ان کو اسی طرح بیان فرما رہے ہیں۔ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف جو بھی وحی کی جاتی تھی تو وہ اپنی امت کے سامنے بیان فرماتے تھے۔ اور اپنی قوم کو راہ ہدایت پر لانے کی جدوجہدفرماتے تھے۔ فرمایا کہ یہ وحی اس برتر و اعلیٰ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے جس کی ذات وصفات ، اختیارات اور حقوق میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ اس کی ہیبت اور جلال کا یہ عالم ہے کہ اس کے ڈر سے گویا آسمان پھٹے جا رہے ہیں یا اس کی حمد وثناء جو ہر وقت فرشتے کر رہے ہیں ان کے بوجھ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں ، چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ آسمان میں ایک ایسی آواز پیدا ہونے لگی ہے جیسے کسی چیز پر زیادہ بوجھ پڑنے سے پیدا ہوا کرتی ہے۔ فرمایا اس کی آواز ایسی ہی ہونی چاہیے کیونکہ پورے آسمان میں چار انگلیوں کے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ نہ کر رہا ہو ( ترمذی ، ابن ماجہ) ۔ یہ فرشتے ہر وقت اللہ کی حمد وثناء کرتے اور اہل زمین میں جو مومن ہیں ان کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہتے ہیں کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان اور ان کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ وہی اللہ اس لائق ہے جس کی عظمت و رحمت پر بھر پور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ وہی عذاب سے بچانے والا اور دنیا کی ہر رفت و مصیبت سے بندے کی حفاظت کرنے والا ہے لیکن جو لوگ اللہ کو اپنا ولی اور حمایتی بنانے کے بجائے دوسروں کو اس کا شریک کرتے ہیں ۔ ان سے اپنی لو لگاتے ہیں اور اپنی تمناؤں کے پورا ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ نبی مکرم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ اس پیغام حق کو اللہ کے بندوں تک پہنچا دیجئے بیشک آپ لوگوں کی قسمت کے مالک و مختار بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں کیونکہ کسی کو اس کے اعمال پر جزا یا سزا دینا یہ اللہ رب العالمین کا کام ہے۔ البتہ حق و صداقت کو پہنچا دینا یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اس ابدی پیغام کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ اس قرآن کے پہلے مخاطب ( اہل مکہ) یہ عذر پیش نہ کردیں کہ ہم تو اس پیغام کو سمجھے ہی نہیں ایمان کیسے لائیں ؟ دوسری بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کریم کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے کیونکہ دنیا کی کسی اور زبان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ قرآن کریم کے عظیم تر مضامین کو سنبھال سکتی حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے معافی کے بوجھ کو صرف عربی زبان ہی اٹھا سکتی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ ” ام القری “ ( بستیوں کی اصل جڑ اور بنیادی شہر مکہ مکرمہ) اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو پیغام حق سے آگاہ کردیا جائے۔ ” ام القری “ سے مراد مکہ مکرمہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کی بستیوں اور شہروں میں اور ساری دنیا کی زمین میں سب سے افضل و بہتر سر زمین صرف مکہ مکرمہ ہی کی ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو مکہ کی سرزمین سے بےانتہاء محبت تھی ۔ حضرت عدی ؓ ابن حمراء زبری نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے تو میں نے سنا کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ”( اے مکہ کی سر زمین) تو میرے نزدیک ساری دنیا کی زمین سے بہتر اور محبوب ہے۔ اگر مجھے اس سر زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس سر زمین کو نہ چھوڑتا “۔ ( مسند احمد) اس آیت سے مکہ مکرمہ کی عظمت اور شان بھی واضح ہے اور یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ مکہ مکرمہ جو دنیا کے تمام ملکوں اور شہروں کے درمیان میں ہے دنیا کے کسی کنارے پر نہیں ہے بلکہ اس کی مرکزی حیثیت ہے۔ جب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ” ام القری “ اور اس کے آس پاس کے تمام علاقے والوں تک پیغام حق کو پہنچا دیجئے تو اس کا صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کریم کا پیغام کسی خاص سر زمین ، خطے ، علاقے اور کسی خاص قوم اور نسل کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانیت کے لئے مینارہ نور اور مشعل راہ ہے۔ فرمایا کہ آپ ساری دنیا کے لوگوں کو یہ بتا دیجئے کہ قیامت وہ دن ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے وہ بہت جلد آنے والا ہے اور اس دن میں دو ہی گروہ ہوں گے ایک اللہ کا فرماں بردار اور دوسرا نافرمان ۔ جو لوگ قرآن کریم کے پیغام حق کو مان لیں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہوگی وہ ایک ایسی آگ میں جھونکے جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہر شخص کو ہدایت دے کر دنیا کے تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ کسی کو مجبور نہیں کرتا بلکہ اس کو اختیار دے کر آزماتا ہے کہ وہ راہ حق کو قبول کرتا ہے یا ظلم اور کفر و شرک کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اختیار کریں گے وہ ظالم ہیں اور قیامت کے دن ظالموں کا کوئی حمایتی اور مدد گار نہ ہوگا ۔ لیکن اللہ وہ ہے جو فرماں برداروں کا حمایتی اور مدد گار ہے زندگی اور موت پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کو قیامت کے دن نجات عطاء فرمائے گا ۔
Ayahs 42:10–12

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ ! جو لوگ آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ) تم جس چیز میں اختلاف رکھتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ وہی اللہ تو میرا رب ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور ( ہر بات میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہی تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے تمہارے جوڑے بنائے ہیں ۔ اور اسی نے چوپایوں میں ( نر اور مادہ) جوڑے بنائے ہیں ۔ وہ تمہیں ان کے ذریعہ پھیلاتا ہے اور بڑھاتا ہے اور کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے وہی سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی ساری کنجیاں اس کے اختیار میں ہیں ۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور ( جس کا رزق چاہتا ہے) گھٹا دیتا ہے۔ بیشک وہی ہر بات کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں) تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ٭ہر حال میں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور توکل اختیار کرنا اور اس کی طرف رجوع کرنا انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ ٭زمین و آسمان ہوں یا کائنات کی مخلوقات ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ ٭اسی نے انسانوں اور تمام جانداروں کی نسل میں نر اور مادہ کو پیدا کیا جو زمین میں مخلوق کے پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ ہیں۔ ٭اللہ وہ ہے کہ اس کے جیسا اور کوئی نہیں ہے وہ اپنی ذات میں یکتا ، بےنیاز اور بےمثل و بےمثال ہے۔ ٭اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن کائنات میں ہر ایک کی سن رہا ہے اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے کوئی چیز یا اس کی کیفیت اور خبر چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ٭آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ مخلوقات کی جیسی ضرورتیں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ ان خزانوں کو زمین سے نکالتا چلا جاتا ہے۔ کروڑوں سال سے تیل اور گیس اور مع دنیات زمین کے اندر موجود تھے لیکن جب انسانوں کو ان کی ضرورت ہوئی تو اللہ کے حکم سے زمین نے ان کو اگلنا شروع کردیا اور آئندہ انسان کی جو بھی ضروریات ہوں گی اللہ نے ان کے خزانے پہلے ہی سے تیار کر رکھے ہیں ۔ ضرورتیں پیدا ہوتی رہیں گی اور زمین اپنے خزانے نکالتی چلی جائے گی۔ ٭ تمام جان داروں کو وہی رزق عطاء کرتا ہے۔ رزق زیادہ ہونا چاہیے یا کم یہ سب وہ اپنی حکمت اور مصلحت سے متعین کرتا ہے۔ کون کتنی عطاء کا مستحق ہے اور اس کے لئے کس قدر دینا مصلحت کے مطابق ہے وہی جانتا ہے اور وہی عطاء فرما دیتا ہے وہ ہر چیز کی مصلحت اور حکمت سے اچھی طرح واقف ہے۔
Ayahs 42:13–15

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

( اے مومنو ! ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس دین کا حکم اس نے نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا۔ ( اے نبی ﷺ ہم نے آپ کے پاس جو وحی بھیجی ہے اور جن باتوں کا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا ( اس میں ان کی امتوں) سے کہا گیا تھا کہ تم سب اسی دین پر قائم رہنا اور اس میں اختلاف (پھوٹ) پیدا مت کرنا ۔ اور ( اے نبی ﷺ ان مشرکوں کو ہر بات گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلاتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے لئے منتخب کرلیتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے وہ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور ( ان اہل کتاب نے) صحیح علم آجانے کے باوجود محض آپس کی ضد بندی کی وجہ سے اختلاف پیدا کیا ہے ( اور اے نبی ﷺ اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی جو پہلے سے ( اللہ نے) طے کردی ہے تو ان کے درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور وہ لوگ جو ان کے بعد کتاب الٰہی کے ذمے بنائے گئے وہ اس ( کتاب) کی طرف سے ایک سخت تر دو اور شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو ( اے نبی ﷺ آپ ان کو اسی دین کی طرف بلاتے رہیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ بھی اسی پر قائم رہے۔ اور ان ( مشرکین و کفار) کی خواہشات پر نہ چلئے اور ( اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل کی ہے میں اسی پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں ۔ اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں ۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا ( بحث مباحثہ) نہیں ہے۔ اللہ ہی ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 15 : شرع (اس نے مقرر کیا) کبر ( گراں گزرا ، ناگوار لگا) وصی ( وصیت کی) یجتبی ( وہ چن لیتا ہے) بغیا ( ضد ، ہٹ دھرمی) سبقت (گزر گئی ( جو پہلے ہوچکا) اور ثوا ( وارث بنائے گئے) مریب (شک میں ڈالنے والا) اعدل ( میں انصاف کرتا ہوں) حجۃ ( دلیل ، وجہ) تشریح : آیت نمبر 13 تا 15 : اس پوری کائنات اور اس کے ذرے ذرے کا خالق ومالک اللہ ہے جس نے اپنے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کے ذریعہ دنیا میں زندگی گزارنے کے تمام طریقے ، قاعدے ، قانون اور ضابطے بھیجے ہیں تا کہ ہر ایک کی دنیا اور آخرت دونوں بہتر ہوجائیں ۔ چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ہر زمانے کے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اس نے اپناکلام بھیجا ۔ جن لوگوں نے ان پیغمبروں کی اطاعت اور ان کے کلام کی تصدیق کی وہ کامیاب و بامراد ہوئے لیکن جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات ، ضد ، ہٹ دھرمی اور نافرمانی کی روش کو اختیار کیا وہ نہ صرف دنیا و آخرت میں ناکام ہوئے بلکہ سخت انتشار اور اختلاف کا شکار ہوگئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ تک تو کوئی بڑا اختلاف نہ تھا لیکن بعد میں آنے والی نسلوں نے دنیاوی مفادات کی وجہ سے نافرمانی اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت کا طریقہ اختیار کیا اور انہوں نے راہ ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کو اپنے اوپر مسلط کرلیا جس کے نتیجے میں نافرمان قوموں کو مٹا دیا گیا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال تک نسل در نسل اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن بہت تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے ان کی نافرمانی کی اور مذاق اڑایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشتی نوح میں سوار آدمیوں اور سوار جانوروں کے سوا زبردست طوفان سے کوئی بچ نہ سکا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کا دین پہنچانے کی جدوجہد میں زندگی بھر تکلیفیں اٹھائیں اللہ نے ان کو ساری دنیا کے انسانوں کا پیشوا اور رہنماء بنا دیا اور نعمت کے طور پر ان کی اولاد میں ہزاروں پیغمبروں پیدا کئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے آخری نبی و رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی آپ ہی کی اولاد میں سے ہیں ۔ جنہوں نے زندگی بھر اللہ کے اس دین کو پہنچانے کی جدوجہد کی جس کے اصولی عقائد ایک ہی تھے توحید و رسالت ، آخرت ، قیامت ، مرنے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ، کی عظمت اور اخلاقیات میں جھوٹ ، بد کاری ، زنا ، دوسروں کو اذیت پہنچانا ، بدسلوکی اور وعدہ خلافی وغیرہ کی مذمت اور برائی یہ انبیاء کرام (علیہ السلام) بیان فرماتے رہے۔ ان باتوں کو صرف ان لوگوں نے ہی قبول کیا جن کے حصے میں دنیا اور آخرت کی سعادت لکھ دی گئی تھے۔ ان ہی باتوں کو اللہ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے۔ کفار مکہ کو بتایا گیا ہے کہ آج جو باتیں نبی مکرم ﷺ ارشاد فرما رہے ہیں وہ کوئی ایسی انوکھی ، نئی اور اجنبی باتیں نہیں ہیں جن کو سن کر حیرت یا بحث کی جائے بلکہ یہ وہی باتیں ہیں وہی احکامات ہیں جنہیں ان سے پہلے انبیاء کرام پیش کرتے رہے ہیں ۔ یہ اسی دین کی طرف دعوت ہے جس کی دعوت حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دیتے چلے آئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! ہم نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس دین کا حکم اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ سب ہمیشہ اسی دین پر قائم رہیں اور اسی میں کسی طرح کا اختلاف پیدا کر کے پھوٹ نہ ڈالیں ۔ چونکہ اللہ کا دین ایک ہی ہے اس لئے اسی بات کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی اپنی امتوں تک پہنچایا اور نبی مکرم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی اسی دین پر ہیں اور اسی دین کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! ہمیں معلوم ہے کہ ان مشرکوں کو آپ کی باتیں نا گوار گزرتی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کی دعوت و اصلاح میں کوئی کمی ہے بلکہ نسل پرست یہو اور کفار و مشرکین اس لئے مخالفت کر رہے ہیں کہ آپ ان کے فرقے اور جماعت میں کیوں نہیں ہیں ۔ یہ اختلاف محض ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ہے ورنہ علم و حقیقت آنے کے بعد ان کو مخالفت کرنے کا کوئی حق نہیں تھا ۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! اللہ جس کو چاہے اپنے دین کی دعوت دینے کے لئے منتخب کرلے وہ اس سلسلہ میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اللہ کی طرف رجوع رکھنے والے ہی اس سچائی کو جان سکتے ہیں ۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے اگر اللہ چاہتا تو ان کو سخت عذاب میں مبتلا کردیتا لیکن اس نے یہ طے کر رکھا ہے کہ ہر شخص کو مہلت اور ڈھیل دی جائے ۔ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو پھر اس دنیا میں یا آخرت میں وہ سخت سزا سے بچ نہیں سکتے۔ فرمایا کہ اے نبی ! جن لوگوں کو آپ سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں وہ لوگ شک اور سخت کشمکش میں ہیں ۔ ان کے دل تو آپ کی لائی ہوئی سچائی کو مانتے ہیں مگر وہ اپنی فرقہ پرست ذہنیت کے خول سے وہ باہر نکلنا نہیں چاہتے لیکن آپ ان کو اس دین کی طرف بلاتے رہیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ اسی پر آپ قائم رہیے اور ان ( کفار و مشرکین) کی خواہشات کی پرواہ نہ کیجئے۔ آپ صاف صاف اعلان کر دیجئے کہ میں تو اسی پر ایمان و یقین رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اور اگر تمہارا کوئی معاملہ میرے پاس آیا تو مجھے اللہ نے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل و انصاف کروں گا کیونکہ اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی ۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے اعمال ہیں ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا ( بحث و مباحثہ) نہیں ہے۔ وہ دن دور نہیں ہے جب اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یعنی پھر وہی ہمارے درمیان فیصلہ فرماے دے گا حق پر کون تھا اور کون اپنی ذاتی غرض اور لالچ میں پھنسا ہوتا تھا۔
Ayahs 42:16–19

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

وہ لوگ جو اللہ کے دین میں اس کے بعد کہ وہ لوگوں میں مقبول ہوچکا ( مان لیا گیا) پھر بھی جھگڑتے نکالتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اور ( عدل و انصاف کے لئے) ترازو کا حکم نازل کیا ۔ اور ( اے نبی ﷺ آپ کو کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو ۔

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

قیامت کے جلدی وہی مچاتے ہیں جو اس کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ بیشک ( قائم ہونا) بر حق ہے۔ سنو ! جو لوگ قیامت کے قائم ہونے میں جھگڑتے ہیں وہ گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ وہ جس کو جتنا دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ وہی زبردست قوت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں ۔ اس کے بعد فضول بحث و مباحثہ اور جھگڑا پیدا کرنے اور اپنی زبان اور طرز عمل سے لوگوں کو گمراہی کرنا بد نصیبی اور اللہ کے نزدیک غلط ، بےبنیاد اور باطل حرکت ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ یہ کہتے نہ تھکتے تھے کہ ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے آئی ہے۔ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جن کی پیروی کی وجہ سے ہمیں ہر طرح کی برتری اور فضلتیں حاصل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بےبنیاد خیالات کو ان کی خوش گمان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اب قیامت تک کے لئے وہ دین جسے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہی مقبول محبوب دین ہے اس دین کے آجانے کے بعد طرح طرح کی باتیں بنانا ، لڑائی جھگڑے کرنا اور فخر و غرور کی باتیں کرنا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب اسی دین کے قبول کرنے میں نجات ہے ۔ فرمایا کہ اگر اس سچے دین کے آنے کے بعد بھی وہ لوگ اپنی گمراہی اور جہالت پر قائم رہے تو پھر ان کے برے اعمال ان کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکیں گے۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ایک ایسی کتاب عطاء فرما دی ہے جو ہر اعتبار سے حق و صداقت کی روشنی اور حق و باطل کو چھانٹ کر رکھ دینے والی میزان ہے۔ جس کے ذریعہ زندگی کا سچا راستہ اور معاملات میں عدل و انصاف مل سکے گا ۔ یہ کتاب اس ترازو یا ماپنے کے کاٹنے اور ترازو کی طرح ہے جو ہلکی اور بھاری چیز کو ماپ کر بتا دیتی ہے کہ کس چیز کا کتنا وزن ہے کون سی چیز ہلکی اور کون سی چیز بھاری ہے۔ جس طرح مادی چیزوں کو تولنے کے لئے ترازو ہوتی ہے اسی طرح معنوی اور روحانی حقیقتوں کو تولنے کے لئے اللہ نے اپنی کتاب کو نازل کردیا ہے جو خالق اور مخلوق کے تمام حقوق کو ٹھیک ٹھیک متعین اور مقرر کردیتی ہے۔ اسی لئے بعض علماء و مفسرین نے حق سے مراد حقوق اللہ اور میزان سے مراد حقوق العباد کو لیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ اب لوگوں کی ہدایت کے لئے آخری نبی پر یہ آخری کتاب نازل کی جا رہی ہے اسکے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی۔ اس کے بعد صرف قیامت ہی آئے گی جو لوگوں سے زیادہ نہیں ہے بلکہ قریب ہی ہے۔ جس کے آنے میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ قیامت کے متعلق جلدی مچانے والے ہیں انہیں تو اس ہولناک دن سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہاں انسان کے نیک اعمال ہی کام آئیں گے۔ فرمایا کہ قیامت کے آنے میں شک کرنے والے گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔ اگر وہ دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کرلیں اور جس طرح اہل ایمان قیامت کے آنے پر پورا یقین رکھتے ہیں وہ بھی اس کا یقین کرلیں تو وہ اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں گے۔ وہ اللہ جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور شفیق ہے اور انسانوں کی تمام ضروریات سے با خبر ہے اور وہ کائنات میں ہر طرح کی قوتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہی سب کو رزق دیتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس کو کب اور کتنا سمجھ دینا چاہیے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اسی ذات سے تعلق انسان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
Ayahs 42:20–23

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا آرزو مند ہے تو ہم اس کو اسی دنیا میں ( بہت کچھ) دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا (ان کافروں کے) کچھ ایسے خود سے بنائے گئے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے کوئی ایسا دین مقرر کردیا ہے کہ جس دین کی اللہ نے انہیں اجازت نہیں دی ۔ اور ایک فیصلے والی بات مقرر نہ ہوتی تو ان ( کافروں کے) درمیان کبھی کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ اور بیشک ان ظالموں کے لئے درد ناک عذاب ( تیار ) ہے۔

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ یہ اپنے اعمال کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے حالانکہ ( ان کے گناہوں کا) وبال ان پر ضرور پڑ کر رہے گا ۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے تو وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے۔ ان کے رب کے پاس ان کے لئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے۔ یہی تو اس کا بڑا فضل و کرم ہوگا ۔

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ ( نعمت ہے) جس کی اللہ نے اپنے بندوں کی بشارت و خوش خبری دی ہے۔ وہ بندے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کئے۔ ( اے نبی ﷺ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تم سے ( اس تبلیغ دین پر) سوائے قرابت داری کی محبت کے کوئی صلہ یا بدلہ تو نہیں مانگ رہا ہوں ۔ اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس شخص کے لئے اس کی نیکی میں ایک اور نیکی کو بڑھا دیں گے۔ بیشک اللہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا اور ( نیک کاموں کا) بڑا قدر دان ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے) تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے اور اس میں فکر آخرت شامل نہیں ہے تو اس کی کوشش کے مطابق یا زیادہ اس کو دنیاوی عیش و آرام دے دیا جاتا ہے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوتا کیونکہ نہ تو اس کو آخرت کا یقین تھا اور نہ اس نے آخرت کو سامنے رکھ کر کوئی کام کیا اس لئے وہ جنت کی راحتوں سے محروم رہے گا ۔ اس کے بر خلاف ایک صاحب ایمان اور اعمال صالحہ کے پیکر شخص کو جنت کی وہ راحتیں عطاء کی جائیں گی جن کا وہ اس دنیا میں رہ کر تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس کی زندگی اور جدوجہدآخرت کے لئے تھی اس لئے اس کی دنیا اگرچہ محدود تھی لیکن آخرت میں اس کو لا محدود جنتیں اور اس کی راحتیں عطاء کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک مومن کے اعمال صالحہ کو کھیتی اور اس پر ملنے والے ثواب کو اس کا پھل قرار دیا ہے جس میں اسے ترقی بھی ملتی رہے گی ۔ ایک نیکی کا صلہ اور بدلہ دس گنا یا اس سے بھی زیادہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص آخرت کی راحتوں کا طلب گار ہوگا ہم اس کو کھیتی کو بڑھاتے چلے جائیں گے اور جو دنیا ہی کی کھیتی اور اس کے پھل کا آرزو مند ہوگا اسے دنیاوی زندگی کا تھوڑا یا زیادہ سامان تو ضرور دیا جائے گا لیکن وہ آخرت کے بہتر نتائج اور راحتوں سے محروم رہے گا ۔ فرمایا دنیا پرستوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسے معبود گھڑ لئے جنہیں وہ اپنا سب سے بڑا سہارا سمجھتے ہیں ۔ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ انکے یہ معبود دنیا اور آخرت میں ان کی نجات اور کامیابی کا ذریعہ بنیں گے حالانکہ اللہ نے ایسے ظالموں کے لئے شدید سزا اور عذاب مقرر کر رکھا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کی بد عملیوں کی سزا اسی دنیا میں دے سکتا تھا لیکن اس نے اس بات کا فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ ایسے ظالموں کو دنیا میں ڈھیل اور مہلت ضرور دے گا لیکن آخرت میں وہ سخت ترین سزا سے نہ بچ سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ قیامت کے دن ان ظالموں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ وہ عذاب الٰہی کو دیکھ کر لرز رہے ہوں گے۔ ہر طرح اس عذاب سے بچنے کی کوشش کے باوجود اپنے برے انجام سے نہ بچ سکیں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد زندگی بھر نیک عمل کرتے رہے ان کو جنت کے ایسے ہرے بھرے باغات عطاء کئے جائیں گے جہاں ان کی خواہش کی ہر چیز موجود ہوگی اور وہ جس چیز کی تمنا کریں گے وہ ان کو دی جائے گی ۔ اللہ کے اس فضل و کرم سے دنیا پرست لوگ محروم رہیں گے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ بھی تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح یہ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں آخرت کی جو بھی فلاح و کامیابی کی باتیں بتا کر سیدھا راستہ دکھا رہا ہوں اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے تم سے کسی معاوضے یا بدلے کی خواہش ہے۔ میرا اجر وثواب تو اللہ کے ذمے ہے میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ جن لوگوں سے میرا خاندانی یا برادری کا تعلق ہے وہ میرے خلوص اور خیر خواہی کے جذبے کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ میں تمہیں سیدھی بےداغ راہ دکھا رہا ہوں تمہیں رشتہ داری کا کچھ تو پاس اور لحاظ ہونا چاہیے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بات اس وقت فرمائی جب قبیلہ قریش کے لوگ دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں روڑے اٹکا رہے تھے اور آپ کی ہر بات کی مخالفت میں یہود و نصاریٰ سے بھی نکل گئے تھے آپ نے ان سے فرمایا کہ میں جس دین اسلام کی بات کر رہا ہوں وہ ایک سچا دین اور نجات کا راستہ ہے کہ اس کو قبول کرنے ہی میں کامیابی ہے لیکن اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں میرے لائے ہوئے پیغام کو سننا ہی نہیں چاہتے تو یہ تمہاری مرضی ہے لیکن کم از کم اس قرابت داری اور رشتوں کا تو لحاظ کرو جو مجھے حاصل ہے اخلاق اور شرافت کی سطح سے اس حد تک تو نہ گر جائو کہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق ہی نہ کرو۔ اہل بیت رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور امت کے تمام مفسرین نے اس آیت کا یہی مفہوم بیان فرمایا ہے چناچہ حضرت امام شعبی ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس آیت کی تفسیر کے متعلق پوچھا تو ہم نے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کو خط لکھ کر اس کی صحیح تفسیر و تعبیر پوچھی۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ ان کے ہر چھوٹے بڑے قبیلے سے رشتہ داری کے تعلقات قائم تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان مشرکین قریش سے کہہ دیجئے کہ میں جو بھی اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہوں میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ یا بدلہ اس کے سوا نہیں مانگتا کہ تم مجھ سے قرابت داری کی مروت ولحاظ کا معاملہ کر کے بغیر کسی تکلیف کے اپنے درمیان رہنے دو اور میری حفاظت کرو۔ ( بیہقی) ۔ رافضیوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو قریش سے کہہ رہے ہیں کہ میں اس تبلیغ دین پر کوئی معاوضہ تو نہیں چاہتا صرف اس کا صلہ یہ مانگتا ہوں کہ علی ؓ اور فاطمہ ؓ سے محبت کی جائے۔ اس آیت کی یہ تفسیر کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیات مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی شادی تک نہیں ہوئی تھی ۔ یہ دونوں تو بچے تھے عرب معاشرہ میں ان سے کوئی نفرت تھی نہ مخالفت ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات تو تقریباً ہر نبی نے کہی ہے کہ ہم دین کا جو بھی پیغام پہنچا رہے ہیں اس پر ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہے ہم تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ نبی کریم ﷺ جن کی شان تمام انبیاء کرام سے افضل و اعلیٰ ہے کیا آپ ایسی بات فرما سکتے تھے۔ لوگو ! مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے صرف علی ؓ و فاطمہ ؓ سے محبت کی جائے۔ یہ کہنا نبی کریم ﷺ کے بےلوث اور بےغرض جذبے کی توہین ہے اور تفسیر میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پورے عرب میں صرف حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ ہی آپ کے قرابت دار نہ تھے بلکہ اور سیکڑوں رشتہ دار تھے۔
Ayahs 42:24–29

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اے محمد ﷺ ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بیشک وہ دلوں تک کی باتوں سے واقف ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ( ان کے ) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو ( سب ) جانتا ہے۔

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے جو کافر ہیں۔

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا ہے اور وہ دیکھتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کی برکت) کو پھیلاتا ہے اور وہ کام بنانے والا ( اور) تعریف کے لائق ہے۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اسی کی نشانیوں میں سے ہے اور ان جانوروں کا پیدا کرنا جو اس نے ان میں ( زمین و آسمان میں) پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا) تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لئے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہوئے طرح طرح کے بےت کے اعتراضات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ قرآن آپ نے ( نعوذ باللہ) خود ہی گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام کہنا شروع کردیا ہے۔ کفار و مشرکین کے اس اعتراض کو قرآن کریم کے کئی مقامات پر نقل کر کے اللہ نے اس کا ایک ہی جواب دیا ہے کہ یہ کلام صرف اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس جگہ ان کی بےتکی باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی کا مقام اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اس سے اس بات کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کلام کو خود گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام قرار دیدے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ آپ ایسا کرتے تو اس وقت اللہ کی مشیت آپ کے دل پر ایک ایسی مہر لگا دیتی کہ آپ کی زبان پر وہ کلام جاری ہی نہ ہوتا کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کو مٹا کر رہتا ہے۔ اگر آپ نے اس کلام کو خود گھڑ لیا ہوتا تو اللہ اس کلام کو مٹا کر چھوڑتا کیونکہ وہ ہر بات کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔ وہ ہر شخص کی دلی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے اس سے کوئی بات اور کوئی دلی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ یہ کفار و مشرکین آپ پر چھوٹے اور بےبنیاد الزامات کیوں لگا رہے ہیں ۔ در حقیقت یہ مخالفانہ آواز ان کے دل کی آواز نہیں ہے بلکہ محض ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن کریم کے مخالف بن کر ایسی حرکتیں کر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ اس سے پہلے کا اللہ کا فیصلہ آجائے وہ تمام منکرین و مشرکین اللہ سے سچی توبہ کرلیں ۔ موت کے فرشتے سامنے آنے سے پہلے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اگر انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ نہ صرف ان کی توبہ کو قبول کرلے گا بلکہ ان کو دنیا اور آخرت میں وہ بہت کچھ دے گا جس کا وہ اس دنیا کی زندگی میں تصور بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس کائنات میں بھی ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے جس کو جتنا رزق دینا چاہتا ہے وہ دیتا ہے ۔ سخت مایوسی کے بعد جتنی بارش برسانا چاہتا ہے برساتا ہے وہ ہر شخص کو اس کے ظرف کے مطابق دیتا ہے۔ اگر وہ کم ظرفوں کو خوب رزق دیتا چلا جائے تو ظالم اور کم ظرف لوگ دنیا میں دوسروں کا جینا حرام کردیں گے اور ہر طرف فساد اور تباہی مچا کر رکھ دیں گے لہٰذا وہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو ایک اندازے کے مطابق عطاء کرتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ ہوس اور دولت کا لالچ تو لگا ہوا ہے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے چاروں طرف دولت کے ڈھیر اور راحت و آرام کے سارے وسائل جمع ہوجائیں لیکن اللہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو کم یا زیادہ عطاء کرتا ہے۔ حضرت خباب ابن الارت ؓ سے روایت ہے کہ جب ہم نے بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع کے مال و دولت کو دیکھا تو ہمارے دلوں میں بھی مال و دولت کی تمنا پیدا ہوئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( امام بغوی) حضرت عمرو ابن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ ( جو انتہائی فقر و فاقہ اور غربت کی زندگی گزار رہے تھے) انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی مال و دولت عطاء کر دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( روح المعانی) جس میں صحابہ کرام ؓ کے ذہنوں کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ہر شخص کو اللہ اپنے فضل و کرم سے جتنا دینا چاہتا ہے دیتا ہے ، مایوسی کے بعد وہ جتنا پانی برسانا چاہتا ہے برساتا ہے۔ اس نے اپنی لاکھوں مخلوقات کو کائنات میں پھیلا رکھا ہے جن کی ہر ضرورت کو وہ پورا کرتا ہے وہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن وہ جب بھی چاہے گا ان کو جمع کرلے گا یہ اس کی قدرت سے باہر نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان میں اس کے خالق میں فرق یہ ہے کہ ہر انسان اپنی معلومات اور ضروریات کے محدود دائرے میں رہ کر فیصلے کرتا ہے لیکن اللہ کے سامنے ساری مخلوقات کی مصلحتیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر آدمی کائنات کے انقلابات کی مصلحتوں تک کو نہیں سمجھتا لیکن اللہ ہر بات اور ہر چیز کی مصلحت سے واقف ہے اور فیصلے کرتا ہے۔