42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 42:1–9

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کئے، نیز یہ کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں، آپ کا طریقہ وہی ہے جوپ ہلے انبیاء ومرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچے ہے اور یہ کتابیں اس ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں جو الوہیت، غلبہ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ (العلی) وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہر و غلبہ کے ساتھ بلند ہے (العظیم) ” وہ عظمت والا ہے۔ “ جس کی عظمت شان سے (تکاد السموت یتفطرن من فوقھن) ” قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔ “ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے (والمآئکۃ) اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ (یسبحون بحمد ربھم) ” وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ (ویستغفرون لمن فی الارض) ” اور جو زمین میں ہیں ان کے لئے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔ “ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لئے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ (ھو الغفور الرحیم) ” اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ “ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فوراً عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء ومرسلین کی طرف عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل وبراہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سیاپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سربنانا جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سرو معبود محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ بنا بریں اس کے بعد فرمایا : (والذین اتخذوا من دونہ اولیآء) ” اور جنہوں نے اس کے سوا کار ساز بنا رکھے ہیں۔ “ وہ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں، ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ (اللہ حفیظ علیھم) ” اللہ ان پر نگران ہے۔ “ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامہ اعمال میں) محفوظ کرتا ہے، سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ (وما انت علیھم بوکیل) ” اور آپ انکے ذمہ دار نہیں۔ “ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کردیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے۔ (قرانا عریباً ) ” عربی قرآن۔ “ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ (لتنذر ام القریٰ ) ” تاکہ آپ اہل مکہ کو ڈرائیں۔ “ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ (ومن حولھا) اور جو مکہ مکرمہ کے اردگرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ (وتنذر) تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں (یوم الجمع) اس دن سے جس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا اور انہیں آگاہ کیجیے کہ (لا ریب فیہ) اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہوگی۔ (فریق فی الجنۃ) ” ایک گروہ جنت میں ہوگا۔ “ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے انباء ومرسلین کی تصدیق کی (وفریق فی السعیر) ” اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔ “ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔ (و) ” اور “ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو (امۃ واحدۃ) ” ایک امت “ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ (مالھم) ” نہیں ہے ان کے لئے۔ “ اللہ کے سوا (من ولی) ” کوئی کار ساز۔ “ جو ان کی مدد کرسکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہوسکے۔ (ولا نصیر) ” اور نہ کوئی مددگار ہوگا۔ “ جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کرسکے۔ (ام اتخذوا من دونہ اولیآء) ” کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا رکھا ہے ؟ “ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والیو مددگار ہے، اس کے بندے اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلہ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بالعموم تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بالعموم تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ (وھو یحی الموتی وھو علی کل شی قدیر) ” اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ “ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت وقدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
Ayahs 42:10–12

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

آیت 10 ’ وما اختلفتم فیہ من شیء) ” اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔ “ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ (فحکمہ الی اللہ) تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ (ذلکم اللہ ربی) ’ دیہی اللہ میرا رب ہے۔ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاق امت حجت قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق اس کے حق ہونے کی دلیل کے لئے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے، اس لئے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق کتاب و سنت کے موافق ہو۔ (علیہ توکل) ” میں نے اسی پر بھروسا کیا۔ “ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں (والیہ انیب) اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندہ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندہ مومن کمال سے محروم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ایاک نعبد وایاک نستعین) (الفاتحۃ 3/1) ” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں۔ “ اور فرمایا : (فاعبدہ و توکل علیہ) (ھود :123/11) ” اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسا کیجیے۔ “ (فاطر السموت ولارض) یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ (جعل لکم من انفسکم ازواجاً ) ” اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔ “ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرسکو، تمہاری نسل بڑھ سکے اور تمہیں فائدہ حاصل ہو۔ (ومن الانعام ازواجاً ) ” اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے۔ “ یعنی تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمہاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لئے اس کو ” لام “ کے ذریعے متعدی بنایا ہے جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے یعنی اس نے یہ جوڑے تمہارے لئے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لئے بنائے ہیں، اس لئے فرمایا : (یذرؤکم فیہ) یعنی وہ تمہیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمہارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمہارے لئے تم میں سے تمہارے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے تمہارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ (لیس کمثلہ شیء) ” کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔ “ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سیاتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ (وھو السمیع) ” اور وہ خوب سننے والا ہے۔ “ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے۔ (البصیر) ” خوب دیکھنے والا ہے۔ “ وہ سیاہ رات میں ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد : (لیس کمثلہ شیء) میں مشبھۃ ” اہل تشبیہ “ کا رو ہے اور (وھو السمیع البصیر) میں معطلۃ ” صفات الٰہی کا انکار کرنے والوں “ کا رد ہے۔ (لہ مقالید السموت ولارض) ” اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں “ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہرحال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لئے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کرسکتی فرمایا : (آیت) اللہ لوگوں پر جس رحمت کو کھول دے، اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بندے کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔ “ (یبسط الرزق لمن یشآء) وہ اصناف رزق میں سے جس کے لئے چاہتا ہے جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے (ویقدر) جس کے لئے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کردیتا ہے یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے، اس لئے فرمایا : (انہ بکل شیء علیم) ” وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔ “ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

آیت 13 یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا۔ اس نے ان کے لئے دین اسلام پسند کیا جو تمام ادیان میں سب سے افضل اور سب سے پاک دین ہے۔ دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے بندوں کے لئے مشروع کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے چنے ہوئے بندوں میں سے بھی خاص بندوں کے لئے اس دین کو مشروع کیا اور وہ اولوالعزم انبیاء و مرسلنی ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا جو ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں سب سے کامل اور جن کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان کے لئے مشروع فرمایا، ضروری ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے مناسب حال اور ان کے کمال کے موافق ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دین کو قائم کرنے کے سبب سے کمال سے سرفراز فرمایا اور اپنے لئے چن لیا۔ اگر دین اسلام نہ ہوتا تو تمام مخلوق میں کوئی بھی بلندی پر نہ پہنچ سکتا۔ اسلام سعادت کی روح اور کمال کی بنیاد ہے۔ اسلام وہی ہے جو اس کتاب کریم میں دیا گیا ہے اور جس کی طرف یہ کتاب دعوت دیتی ہے، یعنی توحید، اعمال صالحہ، مکارم اخلاق اور آداب وغیرہ۔ (ان اقیموا الدین) یعنی اس نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم دین کے تمام اصول و فروع کو قائم کرو۔ ان کو خود اپنی ذات پر نافذ کرو، پھر دوسروں پر نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کرو۔ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ (ولا تتفرقوا فیہ) ” اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ “ تاکہ تم دین کے اصول و فروغ پر متفق رہو، اس امر پر پوری توجہ رکھو کہ کہیں مسائل تم میں تفرقہ ڈال کر تمہیں گروہ درگروہ تقسیم نہ کردیں اور یوں تم ایک دوسرے کے دشمن بن جاؤ باوجود یکہ تمہارا دین ایک ہے۔ دین پر اجتماع اور عدم تفرقہ میں وہ اجتماعات عامہ بھی شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، مثلاً حج، عیدین، جمعہ، نماز پنجگانہ اور جہاد وغیرہ یہ ایسی عبادات ہیں جو اجتماع اور عدم تفرق کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ (کبر علی المشرکین ماتدعوھم الیہ) یعنی جب آپ ان کو اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بات ان پر بےانتہا شاق گزرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو کی کیا خوش ہوجاتے ہیں۔ “ جیسا کہ مشرکین کہتے تھے (آیت) ” کیا اس نے ان سارے معبودوں کی بجائے ایک ہی معبود بنادیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ “ (آیت) ” اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ بنا لیتا ہے۔ “ اللہ اپنی مخلوق میں ان لوگوں کو اپنے لئے منتخب کرتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت، اس کی ولایت اور اس کی نعمت کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ اس طرح اس نے اس امت کا انتخاب کیا اور اسے تمام امتوں پر فضیلت سے نوازا اور اس کے لئے بہترین دین چنا۔ (ویھدی الیہ من ینیب) ” اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اسے اپنی طرف راستہ دکھاتا ہے۔ “ بندے کی طرف سے یہ ایسا سبب ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت الٰہی کی منزل تک پہنچتا ہے، اپنے رب کی طرف انابت، دلی محرکات کا اس کی طرف کھینچنا اور اپنے رب کی رضا کو اپنا مقصد بنانا یہ تمام اسباب طلب ہدایت کے حصول کو آسان بناتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اس کتاب کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا چاہتے ہیں۔ “ اس آیت کریمہ میں فرمایا : (یھدی الیہ من ینیب) اور فرمایا : (واتبع سبیل من اناب الی) (لقمن :5/31) اور چلو اس شخص کے طریق پر جو ہماری طرف رجوع کئے ہوئے ہو۔ “ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صحابہ کرام کے حالات معلوم ہیں اور ان کی شدت انابت بھی جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا قول اور خاص طور پر خلفائے راشدین کا قول حجت ہے۔ ؓ
Ayahs 42:14–15

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

آیت 14 اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا، اس کے بعد انہیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا کیونکہ انہوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو ! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔ (ولولا کلمۃ سبقت من ربک) ” اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔ “ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کردینے کا فیصلہ (لقضی بینھم) ” تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ “ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ (وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم) ” اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔ “ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ (لفی شک منہ مریب) بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہوگیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سب سے ایک دوسرے کے ساتھ اتخلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔ (فلذلک فادع) یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کئے اور انہیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ (واستقم) ” اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے “ (کما امرت) ” جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ “ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لئے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لئی اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا، نیز یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیئے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ (ولا تتبع اھوآء ھم) یعنی دین سے منحرف لوگوں، یعنی کفار و منافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آجانے کے بعد بھی ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں ولا تتبع دینھم نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مشروع فرمایا ہے وہی دین ہے جو تمام انبیاء ومرسلین کا دین ہے مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور پانے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ (قل) ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے : (امنت بما انزل اللہ من کتب) ” جو کتاب اللہ نے نازل کی کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ “ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہنمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو، پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول ﷺ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے، ان کے بارے میں یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ (وامرت لاعدل بینکم) ” اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ “ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو۔ اے اہل کتاب ! تمہاری عداوت اور میرے خلاف تمہارا بغض مجھے تمہارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتا ہے۔ (اللہ ربنا و ربکم) ” اللہ ہی ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ “ یعنی وہ سب کا رب ہے تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ (لنا اعمالنا ولکم اعمالکم) ” ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اچھے برے اعمال تمہارے لئے ہیں۔ “ (لاحجۃ بیننا وبینکم) ” ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ “ حقائق کے عیاں ہوجانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہنمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہوجائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ولا تجاولوآ اھل الکتب الا بالتیھی احسن) (العنکبوت :63/29) ” اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔ “ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ (اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر) یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیں جمع کرے گا پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہوجائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون !
Ayahs 42:16–17

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

آیت 16 یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (لاحجۃ بیننا وبینکم) (الشوری :15/32) کا بیان ہے۔ چناچہ یہاں آگاہ فرمایا : (الذین یحآجون فی اللہ) ” جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے۔ (من عبدما استجیب لہ) ” اس (اللہ یک ذات) کے تسلیم کئے جانے کے بعد “ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کردیئے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہوجانے کے بعد حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں (حجتھم داحضۃ) ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ (عند ربھم) ” ان کے رب کے نزدیک۔ “ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ (وعلیھم غضب) ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل وبراہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ (ولھم عذاب شدید) ” اور ان کے لئے شدید عذاب ہے۔ “ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

(آیت 18) یہ واضح کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے دلائل واضح اور روشن ہیں، کیونکہ ہر وہ شخص ان کو قبول کرتا ہے جس میں کچھ بھی بھلائی ہے، ان دلائل کا قاعدہ اور اصول بیان کیا بلکہ تمام دلائل کا جو اس نے بندوں کو عطا کئے ہیں، لہٰذا فرمایا : (آیت) ” اللہ ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور میزان “ کتاب سے مراد قرآن عظیم ہے جو حق کے ساتھ نازل ہوا اور یہ حق، صدق اور یقین پر مشتمل ہے۔ تمام مطالب الٰہیہ اور قعئاد دینیہ کے بارے میں وہ روشن نشانیوں اور واضح دلائل پر مشتمل ہے یہ کتاب عظیم بہترین مسائل اور واضح ترین دلائل لے کر آئی ہے۔ میزان سے مراد قیاس صحیح اور عقل راجح کے ذریعے سے عدل و تعبیر ہے۔ چناچہ تمام عقلی دلائل، یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیاں، شرعی تعبیرات، مناسبات، علتیں، احکام اور حکمتیں، میزان میں داخل ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرما کر بندوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے ان امور کا وزن کریں جن کا اللہ تعالیٰ نے اثبات کیا ہے یا جن کی اس نے نفی کی ہے اور ان امور کو پہچانیں جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے خبر دی ہے اور ان امور کو پہنچانیں جو کتاب اور میزان پر پورے نہیں اترتے اور جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ حجت، برہان یا دلیل یا اس قسم کی کوئی تعبیر ہیں کیونکہ یہ سب باطل اور متناقض ہیں ان کے اصول فاسد اور ان یک بنیاد اور ان کے فروع منہدم ہوگئے۔ اس میزان کے ذریعے سے مسئال کی خبر اور اس کی ماخذ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دلائل راجحہ اور دلائل مرجوحہ کے درمیان امتیاز اور اس کے ذریعے سے دلائل اور شبہات کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو آرساتہ عبادرات، ملمع شدہ خوبصورت الفاظ کے فریب میں مبتلا ہو کر معنی مراد میں بصیرت حاصل نہیں کرتا تو وہ اس شان کے لوگوں میں شامل ہے نہ اس میدان کا شہسوار ہے، پس اس کی موافقت اور مخالفت برابر ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لئے جلدی مچانے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے فرمایا : (وما یدریک لعل الساعۃ قریب) ” اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ “ یعنی اس کے دور ہونے کا علم ہے نہ یہ معلوم ہے کہ وہ کب قائم ہوگی ؟ پس اس کا وقوع ہر وقت متوقع ہے اور اس کے واقع ہونے کی آواز بہت خوفناک ہوگی۔ (یستعجل بھا الذین لایومنون بھا) ’ د اس کی جلدی انہیں پڑی ہے جو اسے نہیں مانتے۔ “ یعنی منکرین حق عناد اور تکذیب کے طور پر اور اپنے رب کو قیامت قائم کرنے سے عاجز سمجھتے ہوئے قیامت کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ (والذین امنوا مشفقون منھا) ” اور اہل ایمان اس سے ڈرتے ہیں۔ “ یعنی ان کے ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ قیامت کے روز اعمال کی جزا و سزا دی جائے گی اور وہ اپنے رب کی معرفت کی بنا پر ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال نجات کے حصول میں مدد نہ کرسکیں، بنا بریں فرمایا : (ویعلمون انھا الحق) ” اور وہ جانتے ہیں کہ بلاشبہ یہ حق ہے۔ “ جس میں کوئی جھگڑا ہے نہ شک۔ (آیت) ” آگاہ رہو۔ ! بلاشبہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ “ یعنی قیامت میں شک کرنے کے علاوہ، قیامت کے بارے میں انبیاء اور ان کے پیروکاروں سے جھگڑا کرتے ہیں، پس وہ دور کی مخالفت میں ہیں، یعنی صواب و درستی کے قریب نہیں ہیں بلکہ حق سے انتہائی دور معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس شخص سے بڑھ کر حق سے کون دور ہوسکتا ہے جس نے آخرت کے گھر کو جھٹلایا جو حقیقی گھر ہے جو دائمی طور پر باقی رہنے اور خلود سرمدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ دارلجزا ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و عدل کو ظاہر کرے گا۔ دنیا کے گھر کی اس دائمی گھر سے بس اتنی سی نسبت ہے جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے تلے آرام کرے پھر اس سایہ دار درخت کو چھوڑ کر کوچ کر جائے، یہ تو عبوری گھر اور گزر گاہ ہے ہمیشہ رہنے کا ٹھکانہ نہیں۔ چونکہ انہوں نے اس دار فانی کو دیکھا اور اس کا مشاہدہ کیا ہے اس لئے انہوں نے اس کی تصدیق کی اور آخرت کے گھر کو جھٹلایا جس کے بارے میں کتب الٰہیہ میں تواتر کے ساتھ اخبار وارد ہوئی ہیں اور انبیائے کرام اور ان کے پیروکاروں نے آگاہ کیا جو عقل میں سب سے زیادہ کامل، علم میں سب زیادہ وسعت کے حامل اور سب سے زیادہ فہم و فطانت رکھنے والے نفوس قدسیہ ہیں۔
Ayahs 42:19–20

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

آیت 19 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے لطف و کرم سے آگاہ فرماتا ہے تاکہ وہ اسے پہچانیں، اس سے محبت کریں اور اس کے فضل و کرم کے حصول کے در پے رہیں۔ لطف اللہ تعالیٰ کے اوصاف میں سے ایک وصف ہے جس سے مراد وہ ہستی ہے جو دل کی باتوں اور چھپے ہوئے بھیدوں کو بھی جانتی ہے جو اپنے بندوں کو، خاص طور پر اہل ایمان کو، اس مقام تک پہنچاتی ہے جس کے بارے میں انہیں کوئی علم ہوتا ہے نہ گمان۔ یہ بندہ مومن پر اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے بھلائی کے اسباب مہیا کر کے اسے بھلائی کی راہ دکھائی، جس کا اس کے دل میں خیال تک نہیں آتا، اس کی فطرت میں موجود یہ اسباب محبت حق اور اس کی اطاعت کی طرف بلاتے ہیں، نیز یہ کہ اس نے اپنے مکرم فرشتوں کو الہام کیا کہ وہ اس کے مومن بندوں کو ثابت قدم رکھیں، انہیں بھلائی کی ترغیب دیں، ان کے دلوں میں حق کو مزین کریں تاکہ یہ تزیین حق اتباع حق کی دعوت دے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اہل ایمان کو اجتماعی عبادات کا حکم دیا جن کے ذریعے سے ان کے عزائم میں قوت آتی ہے، ان کی ہمتیں بیدار ہوتی ہیں، بھلائی میں رغبت پیدا ہوتی ہے، بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور ایک دوسرے کی پیروی کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے اپنے بندے کو ہر سبب مہیا کیا جو اسے معاصی سے باز رکھتا ہے اور اس کے اور معاصی کے درمیان حائل ہوجاتا ہے حتی کہ اگر اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ دنیا، مال و متاع اور ریاست وغیرہ جس کی خاطر دنیا دار ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بندے کو اس کی اطاعت سے دور کردیں گی یا اس میں غفلت پیدا کردیں گی یا اسے معصیت پر ابھاریں گی تو وہ اس دنیا کو اس سے دور ہٹا دیتا ہے، اس لئے فرمایا : (یرزق من یشآء) اپنی حکمت کے تقاضے اور اپنے لطف و کرم کے مطابق جسے چاہتا ہے رزق سے بہرہ مند کرتا ہے (وھو القوی العزیز) ” اور وہ بہت قوت والا، نہایت غالب ہے۔ “ وہ تمام قوت کا مالک ہے اس کی مدد کے بغیر مخلوق میں کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں اسی کے سامنے کائنات سرنگوں ہے۔ پھر فرمایا : (من کان یرید حرث الاخرۃ) ” جو آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو۔ “ یعنی جو کوئی آخرت کا اجر وثواب چاہتے ہوئے اس پر ایمان لاتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے حصول کے لئے پوری طرح کوشاں رہتا ہے (نزدلہ فی حرثہ) ” ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔ “ یعنی ہم اس کے عمل اور اس کے جزا کو کئی گنا کردیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” اور جو کوئی آخرت کا گھر چاہے اور اس کے لئے کوشش کرے جیسا کہ کوشش کا حق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ “ اس کے باوجود دنیا میں سے اس کے لئے مقرر کیا گیا حصہ اسے ضرور ملے گا۔ (ومن کان یرید حرث الدنیا) ” اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے۔ “ یعنی دنیا ہی اس کا مطلوب و مقصود ہو، آخرت کے لئے کچھ بھی آگے نہ بھیجے، اسے آخرت کے ثواب کی امید ہے نہ اس کے عذاب کا ڈر (نوتہ منھا) تو ہم اسے دنیا میں سے اس کا حصہ عطا کرتے ہیں جو اس کے لئے مقرر ہے۔ (وما لہ فی الاخرۃ من نصیب) ” اور اس کے لئے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ “ اس پر جنت حرام کردی گء اور وہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کا مستحق ٹھہرا۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی نظیر ہے (آیت) ” جو لوگ اس دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کے طلب گار ہیں ہم انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اسی دنیا میں عطا کردیتے ہیں اور اس میں ان کو کوئی گھاٹا نہیں دیا جاتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آپ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا وہ سب اکارت ہے اور جو کچھ وہ کرتے تھے، سب برباد ہونے والا ہے۔ “
Ayahs 42:21–23

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے

آیت 21 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے شریک بنا لئے جن کے ساتھ وہ دوستی رکھتے ہیں اور وہ کفر کے داعی انسانی شیاطین کے ساتھ کفر اور اعمال کفر میں شریک ہیں (شرعوا لھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ) ” انہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ نے انہیں حکم نہیں دیا۔ “ یعنی شرک اور بدعات کو رواج دیا، اپنی خواہشات نفس کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا اور اس کی محرمات کو حلال قرار دیا، حالانکہ دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ دین قرار دے تاکہ لوگ اسے دین بنائیں اور اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کریں۔ اس بارے میں اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لئے کسی ایسی چیز کو شریعت قرار دینا ممنوع ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے نہ آئی ہو، تب ان فساق کو شریعت سازی کا کیوں کر اختیار دیا جاسکتا ہے جو کفار کے کفر میں شریک ہیں ! (ولولا کلمۃ الفضل لقضی بینھم) ” اور اگر پہلے سے طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان ضرور فیصلہ کیا جا چکا ہوتا۔ “ یعنی اگر مدت مقرر نہ کردی گئی ہو تو جسے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والے تمام گروہوں کے درمیان فیصلہ کن قرار دیا ہے، نیز یہ کہ وہ ان تمام لوگوں کو اس مدت تک مہلت دے گا تو اللہ تعالیٰ اسی وقت حق پرست کی سعادت اور باطل پرست کی ہلاکت کا فیصلہ کردیتا کیونکہ ہلاکت کا تقاضا موجود ہے مگر ان لوگوں کو اور ہر ظالم کو آخرت میں درد ناک عذاب کا سامنا کرنا ہے۔ اس روز (تری الظلمین) ” تم ظالموں کو دیکھو گے۔ “ جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ (مشفقین) یعنی ڈر رہے ہوں گے (مما کسبوا) ” اس (انجام) سے جو انہوں نے (اپنے اعمال سے) کمایا۔ “ کہ انہیں اپنی بد اعمالیوں کی سزا ملے گی۔ چونکہ ڈرنے والے کے ساتھ کبھی تو وہ چیز پیش آجاتی ہے جس سے ڈرتا ہے اور کبھی وہ چیز پیش نہیں آتی اس لئے آگاہ فرمایا کہ وہ (واقع بھم) عذبا ان پر ضرور واقع ہوگا جس سے وہ ڈرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس کامل سبب کو اختیار کیا ہے جو عذاب کا موجب ہے اور اس موجب عذاب کا کوئی معارض بھی نہیں، مثلاً ، توبہ وغیرہ، مزید برآں وہ ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں مہلت کا وقت گزر گیا ہے۔ (والذین امنوا) اور وہ لوگ جو اپنے دل سے اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کا اظہار کیا (وعملو الصلحت) ” اور عمل کئے نیک “ اس میں اعمال قلوب، اعمال جوارح، اعمال واجبہ اور اعمال مستحبہ سب شامل ہیں لہٰذا یہ لوگ (فی روضت الجنت) ” بہشتوں کے باغات میں ہوں گے۔ “ یعنی وہ ان باغات میں ہوں گے جو جنت کی طرف مضاف (منسوب) ہیں اور مضاف، مضاف الیہ کے مطابق ہوتا ہے۔ مت پوچھئے ! ان خوبصورت باغات کی خوبصورتی، ان میں اچھل اچھل کر بہتی ہوئی ندیاں، بیلوں سے ڈھکے ہوئے درختوں کے جھنڈ، حسین مناظر، پھلوں سے لدے ہوئے درخت، چہچہاتے ہوئے پرندے، طرب انگیز آوازیں، تمام دوستوں سے ملاقاتیں اور اس ہم نشینی سے حاصل ہونے والا بہرہ کامل کیسا ہوگا ؟ وہ ایسے باغات ہوں گے کہ دور دور تک حسن ہی حسن ہوگا، ان باغات کے رہنے والوں میں ان باغات کی لذتوں کی چاہت اور اشتیاق میں اضافہ ہوگا۔ (لھم ما یشآء ون) یعنی ان باغات میں وہ جس چیز کا ارادہ کریں گے و فوراً انہیں حاصل ہوگی اور جب بھی طلب کریں گے حاضر کردی جائے گی جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے طائر خیال میں اس کا گزر ہوا ہے۔ (ذلک ھو الفضل الکبیر) ” یہی ہے بہت بڑا فضل۔ “ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کامیابی اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر میں اس کے تقریب کی نعمت سے بہرہ مند ہونے سے بڑھ کر بھی کوئی فضل ہے ؟ (آیت) ” یہی وہ ہے جس کی اللہ اپنے بندوں کو، جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں، بشارت دیتا ہے۔ “ یہ عظیم خوخوشخبری جو بلاشبہ علی الاطلاق سب سے بڑی خوشخبری ہے، جس سے رحمان و رحیم نے مخلوق میں سے بہترین ہستی کے ذریعے سے، ایمان اور عمل صالح کے حاملین کو سرفراز فرمایا ہے۔ یہ جلیل ترین غایت مقصود ہے اور اس مقصد تک پہنچانے والا سیلہ افضل ترین وسیلہ ہے۔ (قل لا اسئلکم علیہ) ” آپ کہہ دیجیے ! میں اس پر تم سے کوئی سوال نہیں کرتا۔ “ یعنی تمہیں یہ قرآن پہنچانے اور تمہیں اس کے احکام کی طرف دعوت دینے پر (اجرا) ” اجرکا “ میں تم سے تمہارا مال لینا چاہتا ہوں نہ تمہارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ میری کوئی اور ہی غرض ہے (الا المودۃ فی القربی) ” مگر قرابت داری کی محبت “ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد ہو کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے ایک اجر کے، وہ تمہارے ہی لئے ہے، اس کا فائدہ بھی تمہیں ہی پہنچتا ہے، یعنی تم مجھ سے رشتہ داری کی وجہ سے محبت کرو اور یہ مودت، ایمان کی مودت سے زائد چیز ہے کیونکہ رسول ﷺ پر ایمان کی مودت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے بعد رسول کی محبت کو تمام محبتوں پر مقدم رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کی محبت سے زائد قرابت داری کی بنا پر اس سے محبت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے قریب ترین رشتہ داروں تک اپنی دعوت پہنچائی حتی کہ کہا جاتا ہے کہ قریش کے گھرانوں میں کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچی مودت و محبت ہو اور یہ ایسی محبت ہے جس کی مصابحت میں تقرب الٰہی اور توسل ہوتے ہیں جن کی بنیاد اطاعت ہے جو اس مودت و محبت کی صحت و صداقت کی دلیل ہے، اسی لئے فرمایا : (الا المودۃ فی القربی) یعنی اللہ تعالیٰ کی تقریب حاصل کرنے کے لئے۔ دونوں اقوال کے مطابق، یہ استثناء اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اکرم ﷺ تم سے اس پر کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتے، سوائے اس چیز کے کہ جس کا فائدہ خود تمہی کی طرف لوٹتا ہے۔ یہ کسی بھی طرح کوئی اجر نہیں بلکہ یہ تو ان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اجر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (وما نقموا منھم الا ان یومنوا باللہ اعلزیز الحمید) (البروح :8/85) ” اور وہ اہل ایمان سے صرف اس وجہ سے ناراض ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لائے جو زبردست، نہایت قابل تعریف ہے “ اور جیسے کسی کا یہ کہنا : تمہارے نزدیک فلاں شخص کا بس یہی گناہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنے والا ہے۔ (ومن یقترف حسنۃ) ” اور جو کوئی نیکی کا کام کرے گا۔ “ یعنی نماز، روزہ اور حج پر کار بند رہتا ہے اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہے۔ (نزدلہ فیھا حسناً ) ” ہم اس کے لئے اس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔ “ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو کھول دیتا ہے، اس کے معاملے کو آسان کردیتا ہے اور یہ نیکی کسی دوسرے نیک عمل کی توفیق کا ذریعہ بن جاتی ہے اور اس ذریعے سے مومن کے اعمال صالحہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے نزدیک اس کا متربہ بلند ہوجاتا ہے اور وہ دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ (ان اللہ غفور شکور) ” بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بہت قدر دان ہے “ وہ توبہ کرنے پر تمام بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ وہ تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ اجر عطا کر کے اس عمل کی قدر دانی کرتا ہے، پس وہ اپنی مغفرت کے ذریعے سے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور عیبوں کو چھپاتا ہے اور اپنی قدر دانی کی بنا پر نیکیوں کو قبول کر کے ان میں کئی گنا اضافہ کرتا ہے۔
Ayahs 42:24–25

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

آیت 24 کیا رسول ﷺ کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں : (افتری علی اللہ کذباً ) ” اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ “ پس انہوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانت یہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لئے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے موجب زمین کے اندر سب سے بڑے فساد کو متضمن ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا اختیار بخشا، مزید برآں، وہ ظاہری معجزات، بڑے بڑے دلائل، فتح مبین اور آپ کی مخالفت کرنے والوں پر غلبہ عطا کر کے آپ کی تائید کرتا ہے۔ درآں حالیہ اللہ تعالیٰ اس دعوت کو اس کی جڑ اور بنیاد سے ختم کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کے قلب پر مہر لگا دے تاکہ اس کے اندر کوئی بھلائی داخل نہ ہو، جب آپ کے قلب پر مہر لگا دی جائے گی تو تمام معاملہ ختم ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کی صحت پر یہ قطعی دلیل اور آپ کے نبوت کے دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوی ترین شہادت ہے، اس سے عظیم اور اس سے بڑی کوئی اور شہادت نہیں مل سکتی۔ بنا بریں یہ اس کی حکمت، رحمت اور سنت جاریہ ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اسے غلبہ حاصل ہوتا ہے مگر انجام کار باطل نیست و نابود ہوتا ہے۔ (ویحق الحق بکلمتہ) وہ اپنے سچے وعدہ اور احکام تکوینی کے ذریعے سے حق کو حق کر دکھاتا ہے جس میں کوئی تغبیر و تبدیل نہیں، نیز اپنے ان کلمات دینیہ کے ذریعے سے بھی حق کو حق کر دکھاتا ہے جو ان احکام حق کو ثابت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کئے ہیں اور انہیں قلوب میں جاگزیں کرتے ہیں اور خرد مندوں کو بصیرت سے بہرہ مند کرتے ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ کا حق کو حق ثابت کرنا یہ ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لئے باطل کو مقرر کردیتا ہے۔ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق اپنے دلائل وبراہین کے ساتھ باطل پر حملہ آور ہوتا ہے، تب نور حق اور اس کی ہدایت ظاہر ہوتے ہیں جس سے باطل مضحمل ہو کر نیست و نابود ہوجاتا ہے اور ہر ایک پر باطل کا بطلان واضح اور ہر ایک کے لئے حق پوری طرح ظاہر ہوجاتا ہے۔ (انہ علیم بذات الصدور) یعنی جو کچھ دلوں میں ہے اور جن اچھے برے اوصاف سے دل متصف ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔
Ayahs 42:26–29

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

آیت 26 یہ اللہ تعالیٰ کے کمال فضل و کرم، اس کی وسعت جود اور اس کے لطف کامل کا بیان ہے کہ وہ اپنے بندوں سے صادر ہونے والی توبہ کو قبول کرتا ہے جب وہ گناہوں کو ترک کر کے ان پر نادم ہوتے ہیں اور ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم کرلیتے ہیں۔ جب وہ اس توبہ میں خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس توبہ کو قبول کرتا ہے جبکہ یہ گناہ ہلاکت اور دنیاوی و آخروی عذاب کا سبب بن چکے تھے۔ (ویعفوا عن السیات) اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دیتا ہے، ان کے برے اثرات اور عقوبات کو بھی ختم کردیتا ہے جن کا تقاضا یہ برائیاں کرتی ہیں اور توبہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوبارہ اچھے لوگوں کے زمرے میں شمار ہونے لگتا ہے، گویا کہ اس نے کبھی کوئی برا کام کیا ہی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے اور اسے ایسے اعمال کی توفیق بخشا ہے جو اس کا قرب عطا کرتے ہیں۔ چونکہ توبہ عظیم اعمال میں شمار ہوتی ہے جو کبھی تو کامل صدق و اخلاص کی بنا پر کامل ہوتی ہے اور کبھی صدق و اخلاق میں کمی کے سبب سے ناقص ہوتی ہے اور کبھی توبہ فاسد ہوتی ہے جب توبہ کا مقصد کوئی دنیاوی غرض ہو اور توبہ کا محل قلب ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ کو اس ارشاد پر ختم فرمایا : (ویعلم ماتفعلون) ” اور تم جو عمل کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام بندوں کو اپنی طرف انابت کی اور تقصیر پر توبہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ پس بندے اس دعوت کو قبول کرنے کے لحاظ سے دو اقسام میں منقسم ہیں : (1) پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس دعوت کو قبول کیا، اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ان کا وصف بیان فرمایا ہے : (ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت) یعنی ان کا رب انہیں جس چیز کی طرف بلاتا ہے وہ اس کی پکار کا جواب دیتے ہیں، اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں کیونکہ ان کے اعمال اور عمل صالح انہیں ایسا کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرتا ہے، وہ بہت بخشنے والا اور نہایت قدر دان ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے عمل کے لئے ان کی توفیق و نشاط میں اضافہ کرتا ہے، ان کے اعمال جس ثواب اور فوز عظیم کے مستحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ (2) رہے وہ جو اللہ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے اور روہ معاندین حق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والے ہیں۔ (لھم عذاب شدید) ان کے لئے دنیا و آخرت میں سخت عذاب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنے لطف و کرم کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں پر دنیا کو اتنی زیادہ فراخ نہیں کرتا جس سے ان کے دین کو نقصان پہنچے، چناچہ فرمایا : (ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض) ” اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے غافل ہو کر شہوات دنیا سے تمتع میں مصروف ہوجاتے اور دنیا انہیں ان کی خواہشات نفس میں مغشول کردیتی، خواہ وہ معصیت اور ظلم ہی کیوں نہ ہوتے۔ (ولکن ینزل بقدر مایشآء) ” لیکن وہ اپنے اندازے سے جو چیز چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ “ یعنی اپنے لطف و کرم اور حکمت کے تقاضے کے مطابق (انہ بعبادہ خبیرً بصیرٌ) ” یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔ “ جیسا کہ ایک اثر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف غناہی کرتا ہے اگر میں انہیں فقر و فاقہ میں مبتلا کر دوں تو یہ فقر و فاقہ انہیں فاسد کر کے رکھ دے گا اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح فقر کے سوا کوئی اور چیز نہیں کرتی اگر میں انہیں غنا عطا کر دوں تو وہ ان کے ایمان کو خراب کر دے اور میرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح، صحت کے سوا کسی چیز سے نہیں ہوتی اگر میں انہیں بیمار کر دوں تو وہ انہیں فاسد کر کے رکھ دے اور میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کے ایمان کی اصلاح صرف مرض سے ہوتی ہے اگر میں انہیں عافیت سے نواز دوں تو یہ عافیت ان کے ایمان کو فاسد کر دے۔ بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے، میں اس کے بارے میں اپنے علم کے مطابق بندوں کے امور کی تدبیر کرتا ہوں۔ بیشک میں خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہوں۔ “ (1) (وھو الذی ینزل الغیث) یعنی وہی موسلادھار بارش برساتا ہے جس کے ذریعے سے وہ زمین اور بندوں کی مدد کرتا ہے (من بعد ماقنطوا) ” اس کے بعد کہ وہ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ “ ایک مدت سے ان سے بارش منقطع ہوچکی ہوتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اب بارش نہیں ہوگی اور یوں وہ مایوس ہو کر قحط سالی کے لئے کوئی کام کرتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ بارش برسا دیتا ہے (ینشر) وہ اس بارش کے ذریعے سے پھیلاتا ہے (رحمتہ) ” اپنی رحمت کو “ انسانوں اور چوپایوں کی خوراک کا سامان پیدا کر کے اور انسانوں کے نزدیک یہ بارش بہت اچھے موقع پر برستی ہے، اس موقع پر وہ خوش ہوتے اور فرحت کا اظہار کرتے ہیں۔ (وھو الولی) ” اور ویہ کار ساز ہے۔ “ جو مختلف تدابیر کے ساتھ اپنے بندوں کی سرپرستی اور ان کے دینی اور دنیاوی مصالح کا اتنظام کرتا ہے۔ (الحمید) وہ سرپرستی اور تدبیر و انتظام میں قابل ستائش ہے اور کمال کا مالک ہونے اور مخلوق کو جو مختلف نعمتیں اس نے بہم پہنچائی ہیں اس پر وہ قابل ستائش ہے۔ (1) العلل المناھیۃ فی الاحادیث الواھیۃ، الایمان، باب تدبیر الخلق بما یصلح الایمان، حدیث :27 اس حدیث کی سند ضعیف ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے کہا ہے لیکن اس کا معنی و مفہوم درست ہے۔ (فتح الباری، 415/11) (ومن ایتہ) ” اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ “ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ہے (خلق) ” پیدائش “ ان (السموت ولارض) ” آسمانوں اور زمین کی۔ “ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں جو مہارت اور مضبوطی ہے وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔ (من دآبۃ) یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لئے منافع اور مصالح قرار دیا۔ (وھو علی جمععھم) یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے لئے جمع کرنے پر (اذا یشآء قدیر) ” جب وہ چاہے خوب قادر ہے۔ “ پس ای کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء ومرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کی وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔