Ayahs 42:3–6ترکیب : اللہ فاعل لیوحی ومابعدہ لغت والکاف فی موضع نصب بیوحی والذین مبتدا اللہ حفیظ الجملۃ خبر۔
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے یہ ابن عباس ؓ و ابن الزبیر و حسن و عکرمہ و جابر کا قول ہے۔ اس سورة کا نام سورة شوریٰ اور سورة حم عسق ہے حم عسق سے جو کچھ خدا پاک نے اپنے کلام میں مراد لیا ہے اس کو وہی خوب جانتا ہے۔ مکہ میں قریش کو اس بات سے بڑا تعجب تھا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے محمد ﷺ پر وحی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک نئی تھی۔ ان کے اس تعجب کو چند حروف میں ایک سرِّنہانی کی طرف اشارہ کر کے دور کرتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کذالک یوحی الخ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انبیاء پر یوں ہی وحی کرتا چلا آیا ہے اور تیری طرف بھی وحی کرتا ہے۔ کذلک میں اشتراک نفس وحی کی طرف ہے اور یوحی جو مضارع کا صیغہ ہے حال ماضی کے لیے ہے اللہ کے بعد العزیز الحکیم دو وصف بیان فرمائے تاکہ یہ استعجاب بالکل دور ہوجائے۔ عزیز بمعنی زبردست غالب اس میں اس کی شاہنشاہی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شاہنشاہ اپنے بندوں پر فرمان بھیجتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں جب دنیا کے بادشاہ رعیت کے حال سے غافل نہیں اور ان کے تمرد کی پرواہ نہیں کرتے کسی کو فرمان دے کر احکام جاری کرنے کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ کیوں نہ بھیجے الحکیم میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کی حکمت بندوں کی اصلاح کے لیے انبیاء پر احکام وحی کرنا ضروری سمجھتی ہے اس کے بعد اور چند اوصاف بیان فرماتا ہے جو اس کی جلالت و عظمت پر دلالت کرتے ہیں (1) لہ مافی السماوات و مافی الارض آسمانوں اور زمین کی اسی کی بادشاہی ہے اور اس کی بادشاہی اور بادشاہوں کی طرح نہیں بلکہ وہ العلی ہے برتر اور عظیم ہے۔ (2) تکادالسمٰوت الخ اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کی ہیبت و عظمت سے آسمان پھٹے جاتے ہیں۔ من فوقھن کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب ان کے اوپر جو آسمان ہیں ان کا یہ حال ہے تو یہ بیچارے کیا چیز ہیں ؟ (3) والملائکۃ یسبحون اور ملائکہ جواہر نورانی اور بڑی قوت و طاقت والے ہیں اس کی تسبیح اور تحمید کیا کرتے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ کہتے ہیں اور اس کے سوا یستغفرون لمن فی الارض زمین والوں کے لیے خدا سے بخشش مانگتے ہیں ‘ اہل ایمان کے لیے بعض کہتے ہیں سب کے لیے کفار و مشرکین کے لیے بھی کہ الٰہی تو ان پر مہربانی کر راہ راست سمجھا کہ یہ اپنی بدی سے باز آویں اور بخشے جاویں۔ (4) الاان اللہ ھوالغفور الرحیم دیکھو اللہ جو ہے بڑا معاف کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔ اس نے بخشنے اور مہربانی کے لیے دنیا میں انبیاء بھیجے اور ان پر وحی کی۔ والذین اتخذو الخ مگر بندوں کو دیکھئے کہ اللہ کے سوا انہوں نے اور بھی حمایتی اور معبود بنا رکھے ہیں اللہ حفیظ علہیم اللہ ان کو دیکھ رہا ہے وہ کہاں جاسکتے ہیں وما انت علہیم بوکیل اے محمد آپ ان کے ذمہ دار نہیں اس میں ایک شان استغنائی ہے اور توحید کی طرف تہدید کے پیرائے میں ترغیب ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اس میں تیرا کوئی قصور نہیں۔ کیا لطائف آیات میں رکھے ہوئے ہیں۔
Ayahs 42:7–13ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔
تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک جماعت جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوگی۔ یعنی جس طرح اور انبیاء اپنی امتوں کے ڈرانے کے لیے آئے اسی طرح آپ اہل مکہ اور ان کے آس پاس والوں کے لیے۔ نبوت قائم کرنے کی وجہ لوگوں کا ڈرانا اکثر قرآن میں آیا ہے اور بشارت اس کے ساتھ میں آئی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب بنی آدم کی حالت خراب ہوجاتی ہے ‘ فلسفہ و علوم عقلیہ اس کی اصلاح سے عاجز آکر کسی گوشہ میں منہ چھپا کر بیٹھ جاتے ہیں اگر اس وقت خدا تعالیٰ کا داعی وہادی نہ آوے تو اس بدکاری وغیرہ امراض روحانیہ میں مبتلا ہو کر نہ صرف آخرت میں جہنم کے ایندھن بن جائیں بلکہ معاش بھی بگڑ جاوے جس سے کسی دنیاوی بلا کا بھی سخت اندیشہ ہوتا ہے ایسے وقت میں خدا رحیم و کریم اپنے کسی بندے کو نبی اور مؤیّد من اللہ بنا کر بھیجتا ہے اس کا پہلا کام ان لوگوں کو آنے والی بلا سے ڈرانا ہوتا ہے تاکہ افعالِ بد سے باز آویں اس لیے لتنذر فرمایا۔ اور منہیات ترک کرنے کے بعد اگر اچھے کام کرنے لگیں تو ان کو انعام و اکرامِ الٰہیہ کی بشارت دی جاتی ہے اور نبی کا مبعوث کرنا اتمام حجت کے لیے ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں تمام عالم ہر قسم کی گمراہی و بدکاری سے تاریک ہوگیا تھا اور آپ کو مصلحتِ الٰہی نے مکہ میں سے مبعوث کیا جس کو عرب ام القریٰ کہتے تھے اس لیے ام القریٰ اور اس کے آس پاس والوں کا زیادہ استحقاق تھا لہٰذا ان کی تخصیص کی گئی اور نیز سب سے پیشتر نبی اپنی قوم اور شہر اور وطن سے تبلیغ شروع کیا کرتا ہے پھر دور تک یا تمام عالم تک پہنچتا ہے اپنے نائبوں کے ذریعہ سے ام القرٰی و من حولہا کا ذکر کرنا تمام عالم کے نبی نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ لتنذر میں عام بلائوں سے ڈرانا بتایا ہے و تنذریوم الجمع میں اخروی بلائوں سے فریق فی الجنۃ الخ کے متعلق ایک حدیث ہے جس کو ترمذی و نسائی و احمد وابن جریروابن المنذر وابن مردویہ نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار دو کتابیں ہاتھ میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا ان کو تم جانتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا یہ خدا وند تعالیٰ کی دو کتابیں ہیں جو دائیں ہاتھ میں ہے اس میں تمام اہل جنت اور ان کے باپ دادا کے بالتفصیل نام درج ہیں اور بائیں ہاتھ میں اسی تفصیل سے دوزخ والوں کے نام ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا اب عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا کوشش کئے جاوے۔ اہل جنت کا خاتمہ نیک کاموں پر ہوتا ہے کچھ ہی کیوں نہ کرے اور دوزخی کا برے کاموں پر کچھ ہی کیوں نہ کرے۔ یہ تقدیری بات ہے کیونکہ ولوشاء اللہ الخ اگر اللہ چاہتا تو دو فریق نہ کرتا ایک ہی کردیتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں لیتا ہے والظالمون اور ازلی گمراہوں کو کوئی مددو حمایت کرکے راہ پر نہیں لاسکتا ہے ان کی گمراہی کی ایک یہ بات ہے اتتخذوامن دو نہ اولیاء اللہ کے سوا اور حمایتی فرض کر رکھے ہیں حالانکہ اصل حمایتی اللہ ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے نطفوں سے زندہ انسان پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر شے پر قادر ہے پس اس کو حمایتی بنانا چاہیے نہ اوروں کو۔ اس مسئلہ نبوت میں مسئلہ حشر بھی ثابت کردیا گیا۔
تفسیر : ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ کی بابت (جس میں ایمان و کفر تقدیری کی طرف اشارہ ہے) مخالفین جھگڑتے تھے بعض اس طور پر کہ کیوں اللہ نے بعض کو رحمت میں داخل کیا اوروں کو نہ کیا ؟ بعض اس طور پر کہ رحمت میں ہم داخل ہیں کفار اپنے جاہ و مال کے لحاظ سے اپنے تئیں رحمت میں داخل سمجھتے تھے ایماندار دولت آخرت کے لحاظ سے اپنے تئیں۔ اس لیے اس کے بعد یہ فرما دیا وما اختلفتم فیہ من شیئٍ فحکمہ الی اللہ کہ ان اختلافی باتوں میں فیصلہ اللہ کے سپرد ہے جو وہ کہہ دے برحق ہے ذلکم اللہ ربی یہ اللہ میرا رب ہے جس پر میرا توکل ہے اور اس کے پاس مجھے پھر کر جانا ہے یا ہر امر میں میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں نہ کسی اور کی طرف اس میں اشارہ ہے کہ اگر تمہارا بھی اللہ سے یہی حسن ظن ہے تو بہتر۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ جمیع امور میں خدا وندی فیصلہ کا پابند رہنا چاہیے اس کے بعد خداوند تعالیٰ اور چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے غیر اللہ کے ولی معبود بنانے پر ایک لطف کے ساتھ تعریض بھی ہے (1) فاطر السموات والارض وہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے نہ کوئی اور جو چاہے کرے۔ جس کو جس حال پر چاہے پیدا کرے کون پوچھ سکتا ہے۔ (2) جعل لکم الخ کہ تمہاری جنس کے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اسی طرح چارپایوں میں بھی اور اس نر و مادہ سے تم کو پھیلایا نسل کو بڑھایا۔ یہ بھی اسی کا کام ہے نہ تمہارے کسی معبود کا۔ پھر کوئی مادہ کہہ سکتی ہے کہ مجھے نر کیوں نہ بنایا اور چارپائے کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو انسان کیوں نہ بنایا ؟ پس وہ مختار ہے ازل میں جس کو چاہے رحمت میں شامل کیا جس کو نہ چاہا نہ شامل کیا۔ (3) لیس کمثلہ شیئٌ۔ عرب کے کلام میں مثل بول کر خاص شخص بطور کنایہ کے مراد لیا کرتے ہیں کہتے ہیں مثلک لایبخل آپ کی مثل یعنی آپ جیسے لوگ بخل نہیں کرتے مطلب یہ کہ آپ نہیں کرتے کیونکہ جب آپ کی مثل نہیں کرتے تو آپ بطریق اولیٰ نہیں کرتے۔ ہمارے محاورے میں بھی مثل اور جیسے کے لفظ سے وہی شخص مراد ہوا کرتا ہے مراد یہ کہ اللہ کا کوئی مثل نہیں نہ ذات میں نہ صفات میں جس پر ان کا قیاس کر کے اس کے فعل میں اس کو ظلم کی طرف منسوب کیا جاوے اور نیز جب اس کی مانند کوئی نہیں تو اور کسی کو حمایتی اور معبود بنانا عبث و بیکار ہے۔ یہ آیت تنزیہ باری تعالیٰ کے لیے ایک اصل اصول ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ اس کے مانند نہ آدم تھے نہ کوئی اور نہ وہ جسمانی ہے نہ اعضائِ جسمانی رکھتا ہے مکان و خیر ‘ موت و فنا وغیرہ جمیع نقائص سے پاک و مبرا ہے۔ (4) وھوالسمیع البصیر اور وہ سنتا دیکھتا ہے مگر نہ بندوں کی طرح جس کا سننا کان بغیر نہیں ہوسکتا دیکھنا آنکھ بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہر ایک بات اس کو معلوم ہے پس جو کچھ وہ فیصلہ کرے گا علم و بصیرت سے کرے گا (5) لہ مقالید السٰموت الخ اس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اور خزانے ہیں جس کو چاہتا ہے روزی بہت دیتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے نپی تلی یعنی کم۔ اس میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے ظلم کیا فلاں کو امیر کیا فلاں کو فقیر کیوں کیا ظلم کردیا۔ انہ بکل شیئٍ علیم۔ ہر ایک بات جانتا ہے مناسب اور غیر مناسب اس کو علم ہے اسی طرح سے کرتا ہے اسی کا فیصلہ ناطق ہے اس کے بعد مسئلہ نبوت شروع کرتا ہے شرع لکم من الدین الخ کہ اے لوگوں تمہارے لیے کوئی نئی بات نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہی قدیم دین کہ جس پر نوح و ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ مامور تھے اور اسی پر محمد ﷺ مامور کئے گئے 1 ؎ وہ کیا ہے ان اقیموالدین الخ کہ دین یعنی اصول شرائع توحید و اقرار رسالت و مکارم اخلاق و ترک منہیات پر قائم رہو اختلاف نہ کرو مگر مشرکوں پر اے محمد ﷺ ! تیرا توحید و مکارم اخلاق پر بلانا شاق گزرتا ہے کہ تجھ میں کیا خصوصیت تھی جو نبی کیا گیا حالانکہ اللہ مختار ہے جس کو چاہے نبوت کے لیے برگزیدہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔
ا ؎ اصول دین تمام انبیاء کے ایک ہیں نہ یہ منسوخ ہوا کرتے ہیں نہ مٹائے جاتے ہیں ہاں ہر امت کے لیے حسب زمانہ ان اصول کے قواعد جداگانہ ہوتے ہیں ان کو شریعت کہتے ہیں۔ اس میں ضرور اختلاف اور نسخ ہوتا ہے قال تعالیٰ لکل جعلنا منکم شرعۃ و منہاجاً اس طرح جزئیات مسائل میں اختلاف آراواجنہاد کے اختلاف سے ہوتا ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 42:14–16ترکیب : الامن استثناء متصل ای ماتفرقوافی وقت من ما الاوقت مجئی العلم بغیا موصوف بینہم صفۃ وانتصابہ علی انہ مفعول لاجلہ کمایقال قعدت عن الحرب جبناً ولولاشرط سبقت صفۃ لکلمۃ لقضی جواب الشرط لفی شک خبران فلذلک الاشارۃ الی الکتاب اوالعلم فاللام فی موضع الی وصلۃ ادع مذکورۃ صریحا۔
تفسیر : شبہ ہوتا تھا کہ جب تمام انبیاء کو اقامت دین کا متفق بنا کر حکم دیا گیا پھر ان اصول میں کیوں اختلاف پڑا ؟ یہودونصاریٰ مجوس وغیرہ مختلف فرقے پیدا ہوگئے اس کے جواب میں فرماتا ہے وماتفرقوا کہ یہ آپس کی ضد سے لوگوں نے جان بوجھ کر اختلاف ڈالا ہے یہود نے کہا ہم عیٰسی (علیہ السلام) کو کیوں مانیں اور عیسائیوں نے کہا ہم محمد ﷺ کو کیوں قبول کریں اسی طرح کتاب میں تحریف و تبدیل کر کے جھگڑے ڈال دیے اپنے رسم و رواج و تراشیدہ خیالات کے مطابق کرنے کے لیے کتاب اللہ میں تحریف و تبدیلی ہونے لگی اور عرصہ دراز سے یہ جھگڑے مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوئے یہاں تک کہ ان الذین اور ثوا الکتاب من بعدھم ان سابقین کے بعد جن لوگوں کو کتاب پہنچی توریت و انجیل وغیرہ محرف و مبدل ہو کر۔ لفی شک منہ مریب وہ اس سے خود شک میں پڑے ہیں یہ آنحضرت ﷺ کے ہمعصر لوگوں کا حال تھا۔ ان کا بھی اس کتاب پر کامل ایمان نہ تھا نہ اس کے پورے طور پر پابند تھے کوئی کسی بات کو مانتا تھا اور دوسرا منکر تھا گو ان کو اپنے ادعاء کے مطابق اپنی کتابوں پر ایمان کا دعویٰ تھا مگر ان کی حالت یہی کہہ رہی تھی کہ یہ اس سے شک میں ہیں اور آیت کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ اگلوں کے بعد جو آنحضرت ﷺ کے ہمعصروں کو کتاب یعنی قرآن پہنچا تو اس سے شک میں ہیں لیکن اول معنی قوی ہیں لفظ اور ثوا اسی کے مناسب ہے۔ جب لوگوں کا اصول دین میں یہ اختلاف ہے تو اے محمد ﷺ فلذلک اس لیے فادع لوگوں کو ہدایت و راہ راست کی طرف بلا اور خود بھی اس پر جمے رہو اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر نہ یہود کی نہ نصاریٰ کی نہ مشرکین کی اور صاف صاف کہہ دیجئے اے لوگو ! یہ تم کو شک ہو تو ہوا کرے۔ امنت الخ اللہ نے جو کوئی کتاب نازل کی ہے میں ہر ایک پر ایمان لایا اور امرت لاعدل بینکم مجھے تمہارے اختلافی مسئلوں میں عدل و انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہ اس لیے کہ اللہ ربنا و ربکم اللہ ہمارا اور تمہارا دونوں کا رب ہے۔ ہر ایک اس کی اطاعت پر مامور ہے بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل و عرب و عجم کی اس میں کچھ خصوصیت نہیں۔ لنا اعمالناو لکم اعمالکم ہمارے لیے اپنے اعمال تمہارے لیے اپنے جو کرے گابھرے گا۔ لاحجۃ بینناو بینکم ہمارے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ ان الفاظ میں آنحضرت ﷺ کو ان کی بیجا تقریروں سے اعراض کرنے کا حکم دیا گیا کہ اس جھک جھک میں کچھ فائدہ نہیں۔ کہہ دیجئے ہم سب کو اللہ کے پاس جانا ہے حق و باطل وہاں معلوم ہوجائے گا۔ والذین یجاجون اس کے بعد اطمینان بخش حکم سناتا ہے کہ جو کوئی اللہ کے بارے میں یعنی اس کے دین میں تسلیم ہوجانے کے بعد حجت و تکرار کرتا ہے اس کی حجت خدا کے نزدیک مردود ہے اور اس پر غضب الٰہی اور عذاب شدید ہے یعنی قرآن میں وہی اصول ہیں کہ جن کو اے اہل کتاب و مشرکین تم بھی تسلیم کرتے ہو پھر جو تکرار کرتے ہو اور سخن پروری اور نفسانیت کرتے ہو تو خدا کے ہاں یہ مردود ہے اس پر اس کی دنیا میں ناراضی اور آخرت میں عذاب شدید ہے۔
Ayahs 42:17–20ترکیب : قال الکسائی قریب نعت ینعت بھا المذکرو المونث کمافی قولہ ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ویمکن ان یکون فاعل قریب ایتانھالا الضمیر الراجع الی الساعۃ۔
تفسیر : اس تمام گفتگو کے بعد مسئلہ نبوت کو تمام کر کے دارآخرت کی طرف توجہ دلاتا ہے یا یوں کہو کہ پہلے جو فرمایا تھا کہ جس چیز میں تمہارا اختلاف ہو اس کا فیصلہ اللہ کی طرف مفوض ہے۔ اب اس کی ایک اور وجہ بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی طرف اس لیے کہ اس نے کتاب برحق اور عدل کی ترازو نازل کردی ہے اس میں ہر بات کو تول دیکھو۔ المیزان سے مراد کتاب آسمانی ہے اسی میں نیک و بد ‘ اچھا برا کام وزن ہوتا ہے اور اس کے اتارنے سے کیا غرض ہے وہ یہ کہ قیامت کے لیے ہر ایک اپنے اعمال اور ایمان کو تول رکھے وہاں وہ کام آوے گا۔ اس کے بعد فرما دیا ومایدریک لعل الساعۃ قریب کہ اے مخاطب تجھے کیا خبر ہے کہ وہ نزدیک ہے یعنی اس کو دور کیوں سمجھتے ہو ؟ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کی جلدی کرتے ہیں کہ جلد قیامت آجاوے یہ اس لیے کہ اس کے قائل نہیں محض تمسخر اور ہنسی کی راہ سے جلدی کرتے ہیں والذین آمنوا اور جو ایمان لائے ہیں قیامت پر یا اللہ اور اس کے رسول پر اور ان کے کہنے سے قیامت کا برپا ہونا حق جانتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں الاان الذین الخ کہ جو قیامت کے برپا ہونے میں شک کرتے ہیں بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔
منکرین قیامت کا انکار دنیا کے عیش و نشاط کی مستی سے کرتے تھے اور اسی عالم کو راحت ورنج کا اصلی مقام جانتے تھے اور اپنی دنیاوی کامیابی کو خدا کی خوشنودی کا باعث جانتے تھے اس لیے اس کے بعد یہ جملہ ارشاد فرمایا اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء کہ اللہ اپنے بندوں پر مہربانی کرتا ہے اس لیے دنیا میں ہر ایک نیک و بد کو روزی دیتا ہے۔ نہ یہ اس کی رضامندی کی دلیل ہے نہ اس بات کی کہ یہی عالم مقام اصلی ہے۔ دشمن کو باوجود ناراضی کے کھانا پینا قید میں دے دیا کرتے ہیں پھر کیا یہ رضامندی کی دلیل ہوسکتی ہے ؟ اور صرف وہ لطیف ہی نہیں کہ سرکشوں بدکاروں کو سزا دینے پر قادر نہ ہو بلکہ وہوالقوی العزیز قوت والا زبردست بھی ہے۔ اس تمام جملہ کو قیامت کے ساتھ یہ بھی تعلق ہے کہ اللہ کی صفت لطف و قوت کا یہی مقتضا ہے کہ وہ اپنی مہربانی سے دارآخرت میں نیکوں کو رزق و سرور ابدی عطا کرے اور بدکاروں ‘ شریروں ‘ ظالموں سے قوت جبروت کے ساتھ پیش آوے مگر دنیا اس کا مقام اصلی نہیں۔ بلکہ یہ نیکی اور بدی حاصل کرنے کا کھیت ہے پس من کان یرید حرث الآخرۃ نزدلہ فی حرثہ حرث کے معنی لغت میں کسب اور کمانے کے ہیں کہتے ہیں ھو یحرث لعیالہ و تحیرث ای یکتسب و منہ و سمی الرجل حارثا اور اس کے اصل معنی زمین میں تخم ریزی کرنا بطور استعارہ کے تشبیہ کے علاقہ سے اس کا اطلاق ثمرات اعمال پر ہونے لگا یعنی جو آخرت کے کمانے میں کوشش اور اس کا ارادہ کرے گا ہم اس کی نیکیاں دوچند کریں گے سات سو تک یا اس کو توفیق زیادہ دیں گے اور خیر کے رستے اس کے لیے آسان کردیں گے اور جو دنیا کا ارادہ کرے گا تو اس میں سے کس قدر دیں گے یہ نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا کی حرص کرے سب اس کو ملجاوے مگر مالہ فی الآخرۃ من نصیب آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ اس سے مراد اللہ سے غافل اور آخرت کا منکر ہو کر دنیا حاصل کرنا ہے جو آخرت سے بےنصیب کردیتا ہے نہ کسب معاش حلال طور پر اپنے نفس و اہل و عیال کی پرورش کے لیے کس لیے کہ یہ ضروری ہے بقدر ضرورت۔
Ayahs 42:21–23ترکیب : ام منقطقہ و قیل بمعنی ھمزۃ الاستفہام الظالمین مفعول اول لتری مشفقین مفعول ثان لہ وھوالضمیر راجع الی ماکسبوا بتقدیر مضاف علی قول الزجاج و الجملۃ حالیہ عندربہم ظرف لیشائون الذین امنوابدل من عبادہ الا المودۃ استثناء متصل ای لا اسئلکم شیئا الا اللمودۃ الثابتہ فی اھل القرابۃ وقیل منقطع۔
تفسیر : پہلی آیات میں یہ بتلایا گیا تھا کہ فیصلہ کرنے کا مستحق اللہ ہے اس نے دنیا میں دستور العمل و صراط مستقیم و میزان عدل قائم کر کے سب بندوں کو اصول حسنات پر چلنے کا حکم دیا اور یہ اصول حسنات تمام انبیائِ سابقین کا طریقہ قدیمہ ہے۔ مشرکین مکہ اس راہ راست کو چھوڑ کر نئے نئے دستورات کے پابند تھے اس لیے اب ان سے بطور استفہام انکاری کہا گیا ام لہم الخ کیا ان کے معبودوں نے اللہ کے خلاف طریقے بتلائے ہیں۔ یعنی ان کا کوئی حق نہیں کہ دنیا میں خلاف اللہ کے کوئی طریقہ ایجاد کریں اور نہ کسی کو ان شیاطین کی شہوانی ووہمانی طریقوں پر چلنا چاہیے مگر انہوں نے ان کی پابندی کی جس کی سزا میں ان کی بربادی میں کوئی دیر نہ تھی مگر فیصلہ کا وعدہ ہوچکا اور وہ دوسرے وقت پر محول کیا گیا اس لیے ہلاک نہ ہوئے اور آخرت میں ان ستمگاروں کو اس فعل پر عذاب ہوگا اور قیامت کو اپنے جرم کی سزا سے ڈریں گے لیکن وہ ان کو ضرور ملے گا ان کے مقابلہ میں راہ راست کے متبعین کا حال بیان فرماتا ہے والذین آمنوا الخ کہ ایمانداروں نیکوکاروں کے لیے جنت کے باغوں میں دلخواہ نعمتیں ملیں گی یہ بڑا فضل ہے اور اس کا اللہ ایمانداروں نیکوکاروں کو مژدہ دیتا ہے یہ ایک بڑی بشارت ہے اور عموماً بشارت پر لوگ کچھ صلہ طلب کیا کرتے ہیں خدا تعالیٰ اپنے رسول کو اس سے بھی منع فرماتا ہے تاکہ کسی کو شبہ نہ گزرے کہ آپ اس صلہ یا انعام کے لیے یہ بشارت دیتے ہیں کس لیے کہ بےغرض و بےتعلق و بےطمع کی بات دل میں زیادہ اثر کرتی ہے فقال قل لا اسئلکم علیہ اجرالا المودۃ فی القربٰی کہہ دو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا صرف محبت قرابت کا خواستگار ہوں جو ہر ایک اہل قرابت کے لیے لازم ہے سو یہ کوئی اجرت نہیں آیت کے معنی بہت صاف ہیں مگر مفسروں نے اس میں بہت کچھ قیل 1 ؎ و قال کی ہے اس آیت میں تین قول ہیں (1) شعبی کہتے ہیں لوگوں نے ہم سے اس کی بابت سوالات کئے تو ہم نے ابن عباس ؓ کو لکھا انہوں نے جواب میں لکھا کہ آنحضرت ﷺ کی ہر ایک بطن قریش سے قرابت تھی پس اللہ تعالیٰ نے حکم کیا کہ کہہ دو کہ تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر میری اپنی قرابت کے حق محبت کو قائم رکھو مجھ سے عداوت نہ کرو تکلیف تو نہ دو قربی بمعنی رحم ہے۔ (2) کلبی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مدینہ میں آنے کے بعد انصار نے حضرت کے لیے کچھ مال و اسباب سے مدد دینے کا ارادہ کیا اور آپ کے پاس لائے آپ نے قبول نہ فرمایا تب یہ آیت نازل ہوئی کہ میں کچھ نہیں چاہتا مگر میرے اقارب سے محبت رکھو اب قربیٰ کے معنی اقارب کے ہوگئے۔ (3) حسن کہتے ہیں یہ معنی ہیں کہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا لیکن تم اللہ سے محبت کرو ان اعمال کے کرنے سے جن میں قرب حاصل ہوتا ہے اس تقدیر پر قربیٰ بروزن فعلیٰ ہے قرب و تقرب سے تفسیر کبیر کلبی کی روایت میں ضعف ہے اور نیز آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور جس نے اس کو مدنی کہا ہے محض اسی روایت کے زور پر اس سے تطع نظر کی جاوے اور حضرت ﷺ کی اور اہل قرابت کی محبت و تعظیم کو بےاصل روایتوں اور غلط توجیہوں کا محتاج نہ کیا جاوے تو بھی ہر کلمہ گو پر اہل قرابت رسول پاک کی محبت و تعظیم خواہ وہ اہل بیت ہوں خواہ ان میں سے بھی حسنین و فاطمہ وعلی ؓ ہوں خواہ اور لوگ ہوں واجب فرض ہے اور یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اس کے بعد ترغیب کے لیے فرماتا ہے ومن یقترف الخ الاقتراف الاکتساب جو کوئی نیکی کرے گا ایمان و عمل صالح خواہ مودت اہل قرابت ہم اس کو جنت میں زیادہ اجر دیں گے یا اس نیکی میں دوبالا کر کے خوبی بڑھا دیں گے کس لیے کہ اللہ معاف کرنے والا قدردان ہے پہلے گناہوں کو معاف کرتا ہے نیکی کی قدردانی کرتا ہے۔
1 ؎ شیعہ مفسرین نے تو اس کو خاص حضرت حسنین و علی و فاطمہ زہرا ؓ کے لیے قرار دیا ہے اور عجب تاویلیں کی ہیں اور قرآن میں ہر جگہ ایسا ہی کرتے ہیں گویا تمام قرآن اسی بات کے لیے نازل ہوا ہے اور حضرت رسول کریم ﷺ کو بخیر اس کے اور کوئی کام ہی نہ تھا گویا اس کے لیے دنیا میں مبعوث کئے گئے تھے اسی طرح اور لوگوں نے بھی اس کے متعلق خارج از تفسیر سینکڑوں افسانے لکھ ڈالے قرآن شریف کے اصل مطلب سے کوسوں ددور پڑگئے۔ 12 منہ
Ayahs 42:24–28ترکیب : ام بمعنی بل فان یشاء اللہ خذلانک شرط یختم جو ابہ ولذاصارالفعل مخبروما، ویمح اللہ جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھامن نفی الافتراء غیر داخلۃ الجزاء لقبل التوابۃ مفعول اول عن عبادہ مفعول ثان لان المقبول یعدی الی مفعول ثان بمن وعن لتضمۃ معنی الاخذوالانابۃ ویستجیب الذین مفعول فیستجیب بمعنی یجیب وقیل حذف اللام کمافی قولہ و اذا کالو ھم اے کالو الھم وقیل الذین فاعل یستجیب ای ینقادون
تفسیر : اس کے بعد بھی کہ آپ کسی سے اس تبلیغ کی اجرت نہیں مانگتے شبہ باقی رہنا یہ گمان کرنا ہے کہ آپ اپنی طرف سے بنا کر کہتے ہیں اللہ نے وحی نہیں کی اس لیے اس بدگمانی کو دفع کرتا ہے فقال ام یقولون افتری الخ اور یہ بھی ہے کہ شروع سے کلام مسئلہ نبوت میں تھا کہ وحی بھیجتے ہیں جس پر مخالفوں کے شبہات اور وجوہ انکار واستبعاد کو یہاں تک دفع کرتا آیا اب پھر اس میں کلام کرتا ہے اور اس شبہ کو عادت اللہ سے رد کرتا ہے فقال یختم علی قلبک عادت اللہ یوں جاری ہے کہ وہ انتظام معاش و معاد میں خلل انداز کو رسوا کرتا ہے اور نبوت کے جھوٹے دعویٰ کرنے سے بڑھ کر معاد ومعاش میں کیا خلل اندازی ہوگی ؟ فرماتا ہے اگر محمد ﷺ یہ جھوٹا دعویٰ کرتے تو اللہ ان کے دل پر مہر کردیتا کبھی ایسے دلچسپ کلام کرنے پر قادر نہ ہونے دیتا۔ توریت سفر پیدائش میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اگر کوئی نبی بن کر جھوٹا دعویٰ کرے گا تو قتل کیا جائے گا اور قرآن مجید میں بھی ایک جگہ یوں آیا ہے ولوتقول علینا بعض الاقاویل الخ اور اس لیے یہ کہ ویمح اللہ الباطل الخ کہ اللہ کی عادت یوں ہے کہ وہ حق کو غلبہ دیا کرتا ہے اور باطل اور غلط کو مٹایا کرتا ہے کوئی جھوٹا مدعی نبوت دنیا میں سر سبز نہیں ہوا انہ علیم الخ کیونکہ وہ دلوں کی باتیں بھی جانتا ہے کسی مکار کا مکروزور اس سے مخفی نہیں پھر باایں ہمہ اسلام دن بدن ترقی کرتا جاتا ہے یہ اس کی منجانب اللہ ہونے کی کامل دلیل ہے۔
مخالفوں کا نبوت حقہ سے انکار کرنا بڑا گناہ ہے اور اس کے بندے اور بھی گناہ کرتے ہیں جس پر وہ ہلاکی کے مستحق تھے مگر ھوالذی یقبل التوبہ عن عبادہ اللہ وہ ہے جو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے دیعفو اعن الخ اور بہت سے درگزر کرتا ہے ہاں کبھی بعض پر سزا دیتا ہے اگر ہر ایک پر مؤاخذہ کرے تو کیا ٹھکانا لگے ویعلم ماتفعلون اور وہ بندوں کے اعمال نیک و بد کو جانتا ہے اس لیے توبہ کی تعلیم اور گناہوں کی معافی کے لیے اور افعال کی اصلاح کے لیے نبی برپا کیا اور جو اس کا انکار کرچکے ہیں ان کے لیے بھی دروازہ توبہ کا کشادہ ہے توبہ گناہ پر ندامت کرنا اور اس سے باز آنا آیندہ اس کے نہ کرنے کا ارادہ کرنا۔ ویستیجب الذین الخ اور وہ ایماندروں کی عبادت و دعا قبول کرتا ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ ایماندار اس کی بات مانتے ہیں ویزیدھم الخ اور ان کی طلب سے زیادہ دیتا ہے عبادت سے دوگنا بلکہ سو گنا زیادہ بدلہ دیتا ہے والکافرون الخ اور منکروں کو آخرت میں سخت عذاب ہے۔ یہاں تک مسئلہ نبوت کے متعلق کلام تھا ویستجیب الخ پر ایک شبہ ہوتا تھا کہ بہت سے مومن اور دیگر بندے دعا فراخی رزق کے لیے کرتے ہیں اسی طرح اور باتوں کے لیے پھر قبول نہیں ہوتی تنگدست ہی رہتے ہیں۔ اس کا جواب دیتا ہے ولوبسط اللہ الرزق الخ کہ اگر اللہ بندوں کی روزی زیادہ کر دے تو زمین میں فساد کریں یعنی یہ ان کی مصلحت کے موافق نہیں اس لیے نہیں دیتا مگر باایں ہمہ دعا کے ظہور میں دیر ہونے سے ناامید نہ ہونا چاہیے کیونکہ ھوالذی الخ اللہ ناامیدی کے بعد بارش نازل کرتا ہے ناامیدوں کی امیدیں پوری کرتا ہے اور اس کی رحمت وقدرت و فیضان کی یہ نشانی ہے خلق السٰموت کہ اس نے آسمان و زمین پیدا کر کے ان میں ان کے رہنے والے پھیلائے یہ کیسا فیض عام ہے ؟ اور جب چاہے گا ان کو جمع کرلے گا یعنی حشر میں۔
Ayah 42:291 ؎ مابث فیھا من وآبۃ پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ آسمانوں میں تو ملائکہ ہیں ان کے حق میں دبیب نہیں پایا جاتا ہے نہ ان کو دابۃ کہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ تغلیبافیہما کا لفظ بولا گیا جیسا کہ چاند اور سورج کو قمرین کہتے ہیں ماں باپ کو ابوین اور دبیب کے معنی خاص طور پر چلنا ہی نہیں بلکہ جس کے لیے جیسا چلنا مناسب ہو پس فرشتے بھی آسمانوں میں چلتے پھرتے ہیں یا وہاں بھی حیوانات ہوں۔ 12 منہ
Ayahs 42:30–35ترکیب : ما اصابکم شرط فی موضع رفع بالابتد افبماکسبت جو ابہ والمراد بالفعلین الاستقبال ویعفو الخ جملۃ مستانفۃ من ولی اسم مالکم خبر ھا الجواربحذف الیاء من الحظ لانھا من الزوائد دباثبا تھا جمع جارتہ ای سائرۃ والمراد بھا الفلک مبتداء و من آیاۃ خبر ھا فی البحر یتعلق بالجواری ویمکن ان یکون حالامنہ والعامل فیہ الاستقرار۔ کالا علام جمع علم وھوالجبل اوکل شیئٍ مرتفع حال ثابۃ اومن الضمیر فی الجواری یسکن جواب الشرط فیظللن معطوف علیہ و کذلک اویوبقہن ویعف۔ رواکد جمع الراکدوھوالساکن ویقال اوبقہ ای اھل کہ ویعلم بالنصب علی الصرف ای صرف العطف علی للفظ الی العطف علی المعنی قالہ الزجاج ویقرء بالکسر علی ان یکون مخبروماحرک لالتقاء الساکنین ویقرء بالرفع علی الاستیناف مالہم من محیص الجملۃ المنفیۃ تسدمسد مفعولی علمت یعنی ھذہ الجملۃ مفعول الیعلم المحیص مھرب علی قول قطرب و قال السدی ملجاء من قولھم حاص بہ البعیر حیصۃ اذارمٰی بہ منہ قولھم فلایحیص عن الحق ای یمیل عنہ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا بعض دعائیں مصلحت کی وجہ سے قبول نہیں ہوتیں ورنہ وہ تو الولی الحمید ہے مبدئِ فیاض ہے۔ اس پر شبہ ہوتا تھا کہ جب وہ حمید یعنی خیر محض ہے تو بندوں کو دنیا میں مبتلائے مصائب کیوں کرتا ہے ؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ وما اصابکم من مصیبۃ الخ کہ یہ جو کچھ تکلیفیں تم کو پہنچتی ہیں تمہارے اعمال بد کا ثمرہ ہے اور وہ بھی کسی قدر ورنہ بہت سے تو وہ درگزر کرتا ہے نیکوں پر جو دنیا میں مصائب آتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں وہ صرف ان کی آزمائش یا رفع درجات کے لیے ہوتے ہیں دنیا کی بھٹی میں یہ ان کے جوہر نورانی چمکانے کے لیے آنچیں یاتاؤ دیے جاتے ہیں ہاں انسان کے اعمالِ بد بھی مصائب بن کر اس کے متنبہ کرنے کو اس پر گرتے ہیں اور بلائوں کے تازیانوں سے ادب و اصلاح سکھائی جاتی ہے۔ افسوس اس پر بھی یہ غافل کروٹ تک نہیں بدلتا اور بعض تکالیف جسم طبعی پر عناصر و دیگر اسباب کے نمودار ہونے اور اثر کرنے سے ہوتی ہیں جیسا کہ برسات میں گھاس کا سبز ہونا ‘ خریف میں خشک ہوجانا سردی گرمی کا اثر ‘ حیوانات و اطفال پر بھی پیش آتا ہے پس اس کو کسی اگلے جنم کا خمیازہ سمجھ کر تناسخ کا قائل ہونا اقسام مصائب سے بیخبر ی اور باہم تمیز نہ کرنے کی دلیل ہے۔ اس کے بعد ان سرکشوں کو جو تازیانہ الٰہی سے محفوظ رہنا اپنے زور و شوکت و حشمت و مال وجاہ کی وجہ سے خیال کرتے ہیں متنبہ کرتا ہے وما انتم الخ کہ زمین پر تم ہم کو ہرا سکو گے نہ ہمارے بس میں سے باہر ہو سکو گے اور جو تم کو اپنے خیالی معبودوں کا گھمنڈ ہے تو ومالکم من دون اللہ من ولی ولانصیر اس کے سوا تمہارا کوئی حمایتی و مددگار نہیں یہ محض توہمات باطلہ ہیں کہ ہمارے فلاں دیوتا یا دیوی یا فلاں بزرگ ان کی نذر ونیاز کرنے سے ہم کو مصائب سے بچا لیں گے۔
اس کے بعد اپنی قدرت کاملہ و فیض عامہ کا نقشہ بندوں کی آنکھوں میں اپنی ایک روزمرہ کی کبریائی سے کھینچتا ہے جس کا مواجہہ و معائنہ ہر دریائی سفر میں ہوتا ہے فقال و من آیۃ الجوارفی البحرکالاعلام کہ دیکھو اس کی قدرت کاملہ کی نشانیوں میں سے جہاز ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح بلند کھڑے ہیں اور پانی پر ایسے اجسام ثقیلہ اس طرح سے چلتے پھرتے ہیں کہ جس طرح مویشی زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں ہوا اور پانی کو ان سے کس طرح مسخر کردیا اور اس نے تم کو علوم سکھادیے باایں ہمہ اگر ہوا کو (اس میں دھواں اور بھاپ بھی شامل ہے کہ جس کے زور سے آگبوٹ انجن کے ذریعہ سے چلتا ہے) تھام دے تو کھڑے رہ جاویں چلنے نہ پاویں البتہ اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں سفر دریا میں تکالیف بھی پہنچتی ہیں اور اخیر راحت و کامیابی بھی اس لیے صباروشکور فرمایا اور چاہے تو ان کے گناہوں سے ان کو غرق کر دے سارے علم و فن دھرے رہ جاویں پر وہ بہت سے درگزر کرتا ہے اور ہماری آیتوں میں جھگڑنے والے دل میں اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ان کو عتاب الٰہی اور اس کی بلائوں سے کوئی پناہ نہیں مگر پھر بھی اپنی بدکرداری سے باز نہیں آتے۔
Ayahs 42:36–39ترکیب : موصولہ متضمنۃ المعنی الشرط لان اتیاء ما اوتواسبب للتمتع بہ فی الدنیا فجاءت الفاء فی الجواب فمتاع ای فھو متاع و ماعنداللہ ماموصولۃ مع صل تھا فی محل الرفع لکونہ مبتداء خبر وابقی خبرہ والذین فی موضع خبر بدلامن الذین امنوا کبائر جمع کبیرۃ ھم مبتداء یغفرون خبرہ و الجملۃ جواب اذا و الشورٰی مصدر شاورۃ مثل البشرٰی والقربیٰ والجمل کلھا من الذین استجابواوالذین اذا اصابہم الخ بدل من الذین آمنوا۔
تفسیر : دنیا حسب مراد حاصل نہ ہونے اور مصائب نازل ہونے کی وجہ بیان فرما کر اب دنیا کی کچھ کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جس کے غرور میں انسان خدا سے سرکشی کرتا ہے اور تلف ہونے اور نہ ملنے پر کیا بےچین ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ پر کیسی کیسی بدگمانیاں کرتا ہے فقال فما اوتتیم من شیئٍ الخ کہ جو کچھ دنیا کی نعمتیں تم کو دی گئیں وہ بےحقیقت چیزیں ہیں متاع یعنی چند روز برتنے کا اسباب ہے وماعنداللہ الخ اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے ثواب اطاعت اور اس کی جزاء جنت اور وہاں نعمتیں اور سرور ابدی وہ بہتر ہے کیونکہ ان سے جو کچھ راحت حاصل ہے وہ بےمشقت ہے اور دنیا کے اسباب سے راحت بھی کلفت پر مبنی ہے اور نیز کجا عالم قدس کی چیزیں کجا عالم خسیس کی چیزیں دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور نیز وہ باقی ہیں کبھی فنا نہ ہوں گی یہ فانی ہیں اور وہاں کی جوانی و حسن دائمی ہے وہاں کے اسباب معیشت بھی ابدی ہیں۔ مگر یہ نعمتیں کس کے لیے ہیں ؟ للذین آمنوا وعلی ربہم یتوکلون ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں یہ اول صفت ہے۔ ایمان کے بعد توکل جمیع حسنات کا اصل اصول ہے خیرات و نماز و روزہ جہاد وغیرہ حسنات سب توکل ہی پر مبنی ہیں کیونکہ ان سب میں اللہ ہی پر بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ ان کی جزاء خیر دے گا۔ (2) والذین یحتنبون کبائر الاثم والفواحش وہ جو کبیرہ گناہوں اور پھر ان میں سے بھی فواحش سے بچتے ہیں کہ کبائر کی تفصیل صحیح حدیث میں آچکی ہے کہ وہ سات ہیں شرک باللہ و سحر وقتل ناجائز ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ جہاد میں سے بھاگنا ‘ پاکدامنوں پر تہمت لگانا (متفق علیہ) اور بھی کبائر احادیث صحیحہ میں بیان ہوئے ہیں جیسا کہ چوری ‘ زنا ‘ جھوٹ بولنا۔ خلاصہ یہ ہے کہ فرائض کا ترک کرنا اور محرمات کا عمل میں لانا کبیرہ ہے اور فواحش سے مراد زنا ولواطت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ انسان کی تین قوتیں ہیں اول نفسانی اس کے متعلق یہ گناہ ہیں چوری ‘ جھوٹ بولنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی وغیرہ اس کو اس جملہ میں بیان فرمایا واذاماغضبواھم یغفرون کہ غصہ ہوتے ہیں تو معاف کرتے ہیں مگر یہ تینوں اقسام کبائر میں داخل ہیں عام کے بعد خاص کا ذکر ہوتا آیا ہے۔ ان میں ایمان کے بعد عملی حصہ پورے طور پر آگیا مگر ان میں سے بعض بعض کی پھر تخصیص کی جاتی ہے۔ فقال والذین استجابوالربہم کہ وہ اپنے رب کا کہا کرتے ہیں جو حکم آتا ہے بسپروحشم قبول کرتے ہیں یہ (3) صفت ہے (4) اقاموا الصلوۃ نماز قائم کرتے ہیں (5) امرھم شوریٰ بینہم اپنے دنیاوی امور کو مشورہ سے کرتے ہیں۔ مشورہ میں دینی و دنیاوی برکتیں رکھی ہوئی ہیں اسلامی سلطنت خلفائِ راشدین کے عہد میں مشورہ ہی پر مبنی تھی اس میں قطع نظر بیشمار فوائد کے ایک باہمی اخوت محبت کا زیادہ ہونا ہے جس کے سبب سینکڑوں راحتیں اور نیکیاں نصیب ہوتی ہیں۔ (6) ممارزقنہم خیرات کرتے ہیں (7) والذین اذا اصابہم البغی الخ جب کوئی ان پر سرکشی کرتا ہے تو بدلہ بھی لیتے ہیں۔ یعنی غیرت و حمیت دینی بھی رکھتے ہیں۔ اس پر بھی صدہا مصلحتوں کا دارومدار ہے عفو کے مقابلہ میں بدلہ لینا یہ بھی صفات حمیدہ میں گنا۔ یہ تعارض نہیں کیونکہ عفو اس کے حق میں ہے کہ جس سے آیندہ جرأت کرنے کی امید نہ ہو اور بدلہ لینا اس سے جس سے آیندہ جرأت و بیباکی کا خطرہ ہو۔