42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 42:40–43

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ اسی قدر برائی ہے پھر بھی جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا بدلہ اللہ پر ہے کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی ظلم اٹھانے کے بعد بدلہ بھی لے لے تو ان پر کوئی الزام بھی نہیں

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

۔ الزام تو اس پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق زیادتی کرتے پھرتے ہیں یہی ہیں کہ جن کو عذاب الیم ہوگا

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔

ترکیب : وجزاء سیئۃ بالاضافۃ مبتداء سیئۃ مع صفتہا خبرہ، فمن شرطیۃ عفاواصلح شرط فاجرہ الجملۃ جواب الشرط، ویمکن ان یکون موصلۃ متضمنۃ لمعنی الشرط وقس علیھا، ولمن انتصرولمن شرطیۃ صبرو غفرفی محل الجزم بھا ان ذلک الجملۃ جواب الشرط وقد حذف الفاء۔ تفسیر : معاف کرنے اور بدلہ لینے کا تذکرہ آگیا تھا اس لیے اس کی تشریح کرنی مناسب ہوئی فقال و جزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا کہ ہم نے پہلے جو بیان فرمایا ہے کہ الذین اذا اصابہم البغی ھم ینتصرون اس بدلہ لینے سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کچھ یا ایک محدودتعدی کی ہو تو بدلہ اس سے ایسا لیا جاوے کہ جوش و طیش میں آکر اس کو برباد کردیا جاوے اور بیحد اس پر تعدی کی جاوے بلکہ بدلہ لیا جاوے تو اسی قدر کہ جس قدر اس نے تعدی کی ہے۔ اگرچہ رحمدلی اور فروگذاشت اور معافی دینا ایک عمدہ بات ہے ہر قوم و ہر ملت میں سلیم الطبع انسان اس کو اچھا جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی متعدد جگہ اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ انہیں آیات میں کئی جگہ اور پہلے بھی ادفع بالتیھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم عیسائیوں کی انجیل میں بھی حضرت عیٰسی ( علیہ السلام) کا ایک قول منقول ہے کہ جو تیرے دائیں گال پر طمانچہ مارے تو اس کی طرف دوسرا گال بھی کر دے مگر جب غور کیا جاتا ہے تو دنیا میں مختلف الطبائع لوگ پائے جاتے ہیں بعض ایسے ہیں کہ ایک دو بار جو کوئی ان پر زیادتی کرلیتا ہے تو برداشت کر جاتے ہیں مگر پھر جو کوئی قصد بھی کرتا ہے تو وہ حلم سابق غضب کی صورت میں ظہور کرتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ نہ کسی پر زیادتی کرتے ہیں نہ اور کی زیادتی کی ان کو مطلقاً برداشت ہے ذرا چھیڑا تو آگ ہوگئے اور ایسے بھی ہیں کہ کبھی ان سے بمقتضائے بشریت زیادتی ہوجاتی ہے تو اس پر خود ہی نادم ہوجاتے ہیں اور ان کے مقابلہ میں ر اگر دوسرا نرمی کرتا ہے تو ندامت کے دریا میں ڈوب جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی زیادتی پر معافی دینا اور نیکی اور نرمی سے پیش آنا بہت ہی مناسب ہے بلکہ ان کو عمر بھر کے لیے دوست بنالینا ہے اور بعض ایسے بھی کمینہ طبیعت ہوتے ہیں کہ زیادتی کر کے فخر کرتے ہیں اور ان سے بدلہ نہ لیا جاوے تو ان کو ہر کسی پر زیادتی کرنے کا حوصلہ ہوجاتا ہے پھر ان بدمعاشوں سے آبرو بچانا مشکل پڑجاتا ہے پھر جو علام الغیوب طبائعِ بشریہ سے واقف ہے اپنے فرمان میں سب کے لیے یکساں حکم کیونکر دے سکتا ہے اور طبائع بشریہ اس کے کیونکر پابند ہوسکتے ہیں ؟ اس لیے اول الذکرکے لیے عفو و درگزر کا حکم دیاثانی کے لیے بدلہ لینے کا حکم دیا مگر بدلہ بھی عدل و انصاف کے ساتھ کہ زیادتی نہ ہونے پاوے۔ یہ احکام فقیہہ کے لیے ایک بڑا اصل الاصول ہے۔ ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ کاٹنا ‘ کان کے بدلہ میں کان اور قتل کے بدلہ میں قتل اور مال کے نقصان کے بدلہ میں اس کا معاوضہ کتب فقہ میں اس پر بہت سے مسائل متفرع کئے ہیں۔ جن کا یہاں ذکر کرنا تفسیر کو فقہ کی کتاب بنا دینا ہے برائی کی جزاء کو جو دراصل برائی نہیں اس لیے برائی کہا گیا کہ ظالم کے حق میں تو یہ برائی ہے مگر اس کے بعد بھی طبائعِ حلیمہ کا لحاظ کر کے یہ فرما دیا فمن عفاء الخ کہ جو اس سے درگزر کرے گا اور جو دونوں میں صلح کرا دے گا تو اس کا اجر اللہ دے گا مگر بدلہ لینے والے کے لیے بھی یہ کہہ دیا ولمن انتصرالخ کہ اس پر کوئی الزام نہیں ہاں الزام ان پر ہے جو ظلم کرتے ہیں اور ملک میں فساد مچاتے پھرتے ہیں چوری ڈکیتی کرتے ہیں ان کو دنیا و آخرت میں عذاب الیم ہے دنیا میں سزا سخت آخرت میں جہنم مگر اس کے بعد بھی پھر عفو کے پہلو کو ترجیح دیتا ہے ولمن صبر و غفر کہ معاف کرنا صبر کرنا بڑی عمدہ بات ہے۔ ع صبر تلخ است و لیکن برشیریں دارد قانون معدلت اور باخدا حلیم لوگوں کی طبائع کے کلام کی کس طرح سے رعایت رکھی گئی ہے ؟ یہ کمال اعجاز اور منجانب اللہ ہونے کی بڑی دلیل ہے۔
Ayahs 42:44–46

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے پھر اس کے بعد کوئی چارہ ساز نہیں (اے مخاطب ! ) اور تو ظالموں کو دیکھے گا جبکہ وہ عذاب دیکھ کر کہیں گے (دنیا میں) پھر کر جانے کا بھی کوئی رستہ ہے

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو انہیں دیکھے گا کہ وہ آگ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے ڈرتے ہوئے ‘ کن اکھیوں سے دیکھتے ہوں گے اور ایمان والے کہیں گے کہ گھاٹے میں تو وہی ہیں کہ جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بھی تباہ کیا۔ دیکھو ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہیں

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور ان کا اللہ کے سوا کوئی بھی حمایتی نہ ہوگا کہ ان کو بچاوے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کے لیے کوئی بھی رستہ نہیں۔

ترکیب : وتری من الرویۃ البصیریۃ الظالمین مفعول بہ لما شرطیۃ یقولون جواب والجملۃ حالیۃ خاشعین حال من الضمیر المفعول فی تراھم من الذل ای من اجلہ من طرف خفی من لابتداء الفایۃ ای یتبدی نظرھم الی النار و الطرف الخفی النظر بالمسارقۃ لجہۃ الخوف۔ تفسیر : معاف وصبر کرنے کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ بڑے کاموں میں سے ہے۔ ہدایت پانے والوں کو یہ باتیں نصیب ہوتی ہیں اس موقعہ پر ازلی گمراہوں کا اور ان پر جو کچھ وہاں پیش آوے گا اس کا ذکر کرنا بھی مناسب ہوا۔ فقال و من یضلل اللہ الخ کہ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو اس کو پھر کون حمایت کر کے راہ پر لاسکتا ہے۔ بدنصیبوں کی نہ صرف عفو وانتقام میں ناراستی و کجروی ہوتی ہے بلکہ ان کے ہر کام بےڈھنگے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اخروی نتائج کا ذکر فرماتا ہے وتری الظالمین الخ کہ تو حشر میں ظالموں کو بری حالت میں دیکھے گا وہاں دنیا میں واپس آنے کا رستہ ڈھونڈیں گے مگر پھر وہاں سے کون آسکتا ہے ؟ آج ہی کچھ کرنا تھا تو کرلیتے۔ وتریٰ اور آپ ان کو دیکھیں گے مجرموں کی طرح سے بڑی ذلت و خواری کے ساتھ آتش جہنم کے سامنے لائے جاویں گے ‘ آگ کو کن اکھیوں سے دیکھیں گے ‘ آنکھ سامنے کر کے دیکھنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اور ایماندار ان کو یہ سنائیں گے (جیسا کہ دنیا میں مجرم کو جیل خانے جاتے ہوئے ملامت کیا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بدنصیب تھا) کہ خسارہ میں یعنی بدبختی اور محرومی میں وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے آپ کو اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو برباد کردیا۔ آپ تو جہنم میں گئے ہی تھے اپنے ساتھ گمراہ کر کے ان کو بھی لے گئے۔ اور اگر ان کے گھر والے دولت ایمان سے بہرہ مند تھے جنت کے مستحق ہیں تو بھی ان کی طرف سے خسارہ میں پڑنا ہے کس لیے کہ وہ جنت میں اور یہ جہنم میں ابدی جدائی نصیب ہوئی ‘ دیکھو ظالموں کو دائمی عذاب ہے۔ وماکان لہم من اولیاء ینصرونہم من دون اللہ اور وہاں ان کا کوئی معبود ان کے کام نہ آوے گا کہ ان کو اس مصیبت سے بچا سکے یہ تمام مصائبِ اخروی سن کر اور کس سے ؟ اس سے کہ جس نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا اور صدہا امارات اس کے صدق کے دیکھ چکے یہ بھی خیال نہ آیا کہ (شاید اس کا کہنا سچ ہو) کچھ تو بندوبست و فکر کرنی چاہیے اور جن باتوں سے وہ منع کرتا ہے ان کو عقل سے نہ دیکھنا کہ دراصل وہ برے ہیں یہ بھی نہ سوچا کہ ہم محض تقلید آبائی و رسم رواج قوم سے اور نیز ان حمقاء کے ڈھکوسلوں سے جو خواہ مخواہ سردار اور پیشوا بن بیٹھے ہیں عمل میں لاتے ہیں یا کچھ ان کی اصل بھی ہے اور یہ بھی خیال نہ کر ناکہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے آخر مر کر کہیں جانا ہے اور وہاں جاکر یہاں کے اعمال کی جزاء وسزا پانا ہے یا مر کر مٹی میں مل جانا اور نیست و نابود ہوجانا ہے نہ جزاء اور سزا ہے نہ داروگیر ہے اور اگر یوں ہی ہے تو بھی اس رسول کی بات مان لینے میں کیا حرج ہے ؟ یہ ازلی گمراہی ہے تقدیر ازلی نے ان کی قسمت میں بہتری نہیں لکھی۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل اور جس کو اللہ گمراہ کرے تو اس کے ہدایت پر آنے کا کیا رستہ ہے ؟ فائدہ : یہاں آیا ہے ینظرون کہ وہ دیکھیں گے حالانکہ ایک جگہ یہ آیا ہے ونحشرھم الٰی عمیا کہ وہ اندھے اٹھیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب قبروں سے اٹھیں گے تو کفار اندھے اٹھیں گے پھر دیکھنے لگیں گے اور یہ بھی ہے کہ اس جہاں کی راحت دیکھنے سے اندھے ہوں گے ان کو وہاں کے عیش و عشرت کے سامان کا دیکھنا بھی نصیب نہ ہوگا۔
Ayahs 42:47–50

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اس دن کے آنے سے پہلے اس کا کہا مان لو جو اللہ کی طرف سے ٹلنے والا نہیں۔ اس دن تمہارے لیے نہ کوئی بچاؤ کی جگہ ہوگی اور نہ تم انکار کرسکو گے۔

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر بھی اگر نہ مانیں تو ہم نے آپ کو ان پر محافظ بنا کر بھی نہیں بھیجا ہے۔ آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی کوئی رحمت چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر اس پر اس کے اعمال سے کوئی مصیبت پڑجاتی ہے تو انسان بڑا ہی ناشکر ہے۔

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

اللہ ہی کا راج ہے آسمان اور زمین میں جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔ بیشک وہ تو خبردار ‘ قدرت والا ہے۔

ترکیب : من اللہ صلۃ لامرد وقبل صلۃ یاتی ای یاتی یوم من اللہ لایمکن ردہ۔ اذا شرطیہ فرح بہا جواب وان شرطیہ والجواب ینسی النعمۃ راساو اقیم مقامہ فان الانسان کفورلانہ علۃ الجزاء عقیما الخ بدل من یخلق بدل البعض۔ تفسیر : کفار کی حالت مذکورہ کو ازلی تقدیر کا باعث بنا کر اطاعت و فرمانبرداری کا ارشاد فرماتا ہے فقال استجیبوالربکم کہ اپنے رب کا کہا مانو جو تم کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے من قبل الخ اس دن سے پہلے کہ تم پر اللہ کی طرف سے کوئی دن آوے اور وہ کسی کے ٹالے سے نہ ٹلے۔ اس دن سے مراد موت کا دن ہے یا قیامت کا دن اس دن تمہارے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہ ہوگی اور نہ انکار کی گنجائش ہوگی۔ نکیر کے معنی اوپری کے بھی ہیں جو پہچانا نہ جاوے یعنی اس دن کوئی ہیئت بدل کر بےپہچان ہو کر بھی نہ بچ سکے گا۔ فان اعرضوا الخ پھر اگر اب بھی نہ مانیں تو اے محمد ﷺ تم کو ان کے اعمال کا محافظ بھی بنا کر نہیں بھیجا ہے کہ آپ سے بازپرس کی جائے ان علیک الا البلاغ تم پر تو صرف حکم پہنچا دینا ہے اب آیندہ اپنے کئے کا یہ پھل پاویں گے۔ اس میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اس کے بعد ان کے تمردواصرار کا باعث بیان فرماتا ہے وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بہا کہ انسان کی جبلی بات ہے جب اس کو اپنی کوئی نعمت چکھا دیتے ہیں تو اس کے سبب وہ اترا جاتا ہے۔ واقعی بات ہے کہ جہاں اس نے فراخدستی اور کامیابی پائی تو آپے سے باہر ہوگیا۔ پھر یہ کس کی سنتا ہے پھر تو یہ ہے اور اس کی ملحدانہ چپڑی چکنی باتیں اور گردن ہلا ہلا کر اور ہنسا ہنسا کر لمبی چوڑی تقریریں اور بڑے بڑے لکچر۔ پھر کیسا رسول اور کہاں کی قیامت اور خدا بھی ایک برائے نام (معاذ اللہ) ۔ حوصلہ بھی یہ ہے کہ اذقنا یعنی چکھانا فرمایا تھوڑا سا دیا جانا جو نعمائِ اخرویہ کے مقابلہ میں ہیچ ہے اگر کھلائی جاویں یعنی نعماء ابدیہ عطا ہوں تو جانے کیا کرے مگر ناصبری اور بودے بھی ایسے ہیں وان تصبہم سیئۃ اگر اس پر کوئی مصیبت آپڑے وہ بھی بماقدمت ایدیہم اس کے اعمال بد سے فان الانسان کفور تو حضرت ناشکر ہوجاتے ہیں کہنے لگتے ہیں کہ ہم پر کبھی کوئی انعامِ الٰہی ہوا ہی نہیں۔ اس کے بعد اس پیٹ بھرے متکبر کو بتایا ہے للہ ملک السماوات والارض آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کو ہے تو اس کے آگے کیا چیز ہے اور تیری دولت و حشمت ‘ اسباب تکبر کیا ہیں ؟ اسی نے تجھ کو یہ چیزیں دیں ہیں وہی چھین بھی سکتا ہے وہ رب الافواج ہے اس کی آسمانی فوجوں اور زمین کے لشکروں کا کون مقابلہ کرسکتا ہے 1 ؎ ؟ تیرا غرور توڑنے کو اس کے پاس بہت چیزیں ہیں۔ 1 ؎ آسمانی فوجیں ملائکہ اور آسمانی بلائیں بجلی اور اولے اور دیگر احجاز جو قوموں پر برسے اور زمین کے لشکر مخالفوں کی فوجیں جو خدا چڑھا لاتا ہے اور تند ہوائیں اور زلزلے اور طغیانی ابجار ٹڈی و دیگر حشرات الارض و امراض صعبہ ہیضہ و طاعون بخار و ذات الحبب و افلاس ومرگ احباب وغیرہ وغیرہ۔ 12 منہ حقانی اس کے بعد عالم میں اپنے مختلف تصرفات بتا کر یہ جتلاتا ہے کہ جو کچھ دیتے ہیں فقال یخلق مایشاء ہم جو چاہتے ہیں پیدا کرتے ہیں یہب لمن یشاء اناثا الخ کہ جس کو ہم چاہتے ہیں لڑکیاں دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں لڑکے بخشتے ہیں کسی کو ہم دیتے ہیں دونوں کسی کو دونوں سے محروم رکھتے ہیں انہ علیم ہر ایک کی مصلحت و اسباب ذکورت و انوثت ہم ہی خوب جانتے ہیں باایں ہمہ قدیر قدرت بھی رکھتے ہیں۔
Ayahs 42:51–53

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی بشر کا بھی مقدور نہیں کہ اللہ اس سے (دوبدو) کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردہ کے پیچھے سے یا اللہ اپنے حکم سے فرشتہ بھیج کر جو چاہے حکم پہنچا دیتا ہے۔ 1 ؎ وہ جو ہے تو عالیشان حکمت والا ہے

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح سے ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے قرآن نازل کیا۔ آپ کیا جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے لیکن ہم نے قرآن کو ایسا نور بنایا ہے کہ اس کے سبب ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور البتہ آپ جو ہیں تو سیدھا رستہ بتلاتے ہیں۔

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اس اللہ کا رستہ کہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی سب چیزیں ہیں۔ دیکھو اللہ ہی کی طرف سب باتیں رجوع کرتی ہیں۔

ترکیب : لبشر خبرکان ان مصدریۃ یکلمہ اللہ الجملۃ تباویل المصدر اسم کان۔ الاوحیاء استثناء منقطع لان الوحی لیس بتکلیم اومن وراء حجاب الجار متعلق بمحذوف تقدیرہ اویکلمہ و ھذا المحذوف معطوف علی وحی فتقدیر الکلام ان یوحی الیہ اویکلمہ اویرسل منصوب عطفاعلی موضع وحیاوقیل فی موضع جرای بان یرسل ماکنت الجملۃ حال من الکاف فی الیک صراط اللہ بدل من صراط مستقیم المعرقہ من المنکرۃ۔ تفسیر … وحی والہام کی بحث : یہب لمن یشاء میں مسئلہ نبوت کی طرف بھی اشارہ تھا کہ وہ جس کو چاہتا ہے یہ مرتبہ عطا کرتا ہے۔ انبیائِ سابقین کا نام اہل مکہ سن کر اس بات کو تو تسلیم کرتے تھے۔ مگر نبی کا مرتبہ بشریت کے جامہ سے باہر تصور کرتے تھے اس خیال باطل کو جابجا قرآن مجید میں رد کیا ہے اور یہاں بھی اس کو رد کرتا ہے اور اس کے ضمن میں مسئلہ نبوت کی تشریح فرماتا ہے فقال وماکان لبشران یکلمہ اللہ الخ کہ کسی آدمی کا خدا سے باتیں کرنے کا دنیا میں آمنے سامنے ہو کر مقدور نہیں الاوحیًا مگر ان تین طریقوں سے : اول یہ کہ کسی مبلغ کے واسطے سے نہ ہو مگر عین کلام الٰہی نہ سنا جاوے بلکہ مطالب و مضامین ‘ عام ہے کہ خاص الفاظ میں سے مقرر ہو کر یا اس کے الفاظ میں اس کو وحی کہتے ہیں اول قسم کو وحی متلو دوسرے کو وحی غیر متلو اور یاعین کلام بھی سنے۔ اومن وراء حجاب سے یہ مراد ہے یہ دوسری قسم ہے اور یا یہ کسی مبلغ کے واسطے سے ہو اور اویرسل رسولافیوحی باذنہ مایشاء سے یہ تیسری قسم مراد ہے۔ گو تینوں وحی کے اقسام ہیں مگر ان میں سے اول کو القاء فی القلب کے معنی لحاظ کرکے وحی کہا گیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے جو کوہ طور پر کلام کیا تھا جیسا کہ خود فرماتا ہے وکلم اللہ موسیٰ تکلیما تو وہ بھی عیانا نہ تھا کہ جس کی یہاں نفی کی گئی بلکہ وہ کلام کرنا ان تینوں قسموں سے ایک قسم پر تھا اول قسم سے ہو یا دوم سے ہر ایک قسم کی پھر کئی صورتیں ہیں مثلاً اول قسم خواب میں بھی واقع ہوتی ہے اور بیداری میں بھی مع الفاظ مقررہ یا بغیرالفاظ مقررہ الفاظ مقررہ کے ساتھ قرآن جو نازل ہوتا تھا تو بیشتر قسم اول پر تھا پھر دوسری قسم جس کو پس پردہ کلام سننا کہتے ہیں اس قسم پر بھی کلام اللہ نازل ہوا ہے مگر پس پردہ کے یہ معنی نہیں کہ خدا پاک کسی کوٹھری یا مکان میں پردہ ڈال کر باتیں کیا کرتا ہے بلکہ حجابات نورانی اس کے اور بندے کے درمیان ہوتے ہیں اور ان حجابوں میں جو بندہ کو تجردوانکشاف کامل اور روح پر تجلی کامل ہوتی ہے تو بوجہ نورانیت کے یہ شخص خدا تعالیٰ کی باتیں سننے لگتا ہے اور خدا تعالیٰ کی باتیں ان الفاظ و اصوات سے مبرا ہوتی ہیں کہ جن میں جسمانیات کلام کرتے ہیں۔ عالم اجسام میں بھی تار برقی و آئینوں کے ذریعہ سے خوب باتیں کرسکتے ہیں جہاں کوئی خاص زبان اور اصوات ضروری نہیں ہوتے ہاں بعد میں ان کو مصطلح الفاظ میں لاسکتے ہیں اور نقوش مصطلحہ میں مقید کرسکتے ہیں۔ رہا یہ احتمال کہ ممکن ہے کہ پس پردہ کلام کرنے والا شیطان یا کوئی خبیث روح ہو محض بےاصل ہے برگزیدہ خصوصاً انبیاء کے حواس و مدرکات باطنیہ حقائق الاشیاء میں اس سے زیادہ تمیز کرتے ہیں کہ جیسا عالم حسی میں ہمارے حواس خوشبو اور بدبو ‘ خوشرنگ اور بدرنگ ‘ خوش الحان و بدصورت نرم و سخت یا سرد و گرم میں کرتے ہیں اور جب تک یہ ہمارے حواس سلامت ہیں ان میں کوئی فتور نہیں کبھی دھوکا نہیں کھاتے عالم حسی کے حواس و مدرکات کا جب یہ حال ہے تو عالم روحانی کے مدرکات کا کیا کہنا ہے۔ اس لیے سورة نجم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ مازاغ البصروما طغٰی کہ پیغمبر کی چشم باطنی نے غلطی نہیں کی اور تیسری قسم میں کبھی فرشتہ جس کو ناموس اکبر یا جبرئیل کہتے ہیں بارگاہ قدس سے مطالب نفسیہ لاتا ہے اور پیغمبر کے دل میں آکر اترتا ہے کماقال نزل بہ الروح الامین علی قلبک اور اسی قسم کی بابت ہے علمہ شدید القوٰی اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ جبرئیل کسی آدمی کی شکل میں متشکل ہو کر آتے اور کچھ بتا جاتے تھے مگر متشکل ہو کر قرآن مجید کا لانا کسی صحیح اور قوی روایت سے ثابت نہیں ہوتا اور ہونا بھی نہ چاہیے نہ اس لیے کہ اس میں احتمال ہوسکتا ہے کہ شاید کوئی شیطان شکل بدل کر آیا ہو کس لیے کہ یہ التباس ہم کو ہوسکتا ہے نہ کہ آنحضرت ﷺ کو جن کی چشم باطن حقائق الاشیاء میں امتیاز کرنے پر بوجہ اکمل قادر تھی بلکہ اس لیے کہ کسی شکل میں ظاہر ہو کر آنا حواس ظاہر یہ سے یہ زیادہ تعلق رکھتا ہے نہ کہ قلب سے جو ادراکات روحانیہ کا منبع ہے۔ اب یہ احتمال نکالنا کہ جبرئیل کو کسی درخت یا پتھر میں سے آواز آتی تھی کہ جس کو خدا تعالیٰ اپنے مطالب ادا کرنے کے لیے اس میں پیدا کردیتا تھا محض فضول بات ہے جو اسرار روحانیہ کے نہ سمجھنے سے پیدا کی گئی ہے اور ہمارے بیان سے یہ جھگڑا بھی اٹھ گیا کہ کلام الٰہی حروف و اصوات سے مرکب ہے یا صفت قائم بذاتہ تعالیٰ ہے اور پھر قرآن مجید جو قدیم کہا جاتا ہے کیا اس کے یہ الفاظ و حروف اور یہ اقوام گزشتہ کے قصص بھی قدیم ہیں یا کیا ؟ جیسا کہ علم کلام میں مذکور ہے۔ فائدہ : انبیاء کا الہام اور وحی قطعی ہے بایں معنی کہ خدا کے ساتھ باتیں کرنے میں خواہ تینوں صورتوں میں سے کسی طور پر ہو ان کو حجاب ہیولانی دامنگیر نہیں ہوتے اور القاء ہونے کے بعد قوت و ہم یہ اس میں خلل اندازی نہیں کرنے پاتی اس لیے کہ ان کے جواہر نفوس اعلی درجہ کے مجلی ہوتے ہیں برخلاف ان سے کمتر درجوں کے لوگوں کے جو انہیں کے انوار سے منور ہوتے ہیں جن کو اولیاء اللہ یا محدث یا ملہم کہا جاتا ہے اس لیے ان کے الہامات ظنی گنے جاتے ہیں۔ اور ان کے الہامات میں یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ خود اس کے معنی کماینبغی نہیں سمجھتے قوت وہمیہ جو ان کو اپنے مناسب قوالب میں ڈھال دیتی ہے اس سے انتزاع کرنے میں کہیں خود ان سے غلطی ہوجاتی ہے۔ ھذا وقد اطبننا الکلام فی ھذا المقام لانہ من مزال اقدام الفحول الاعلام۔ ولنرجع الی تفسیر باقی الاٰیات الشریفۃ۔ ان سب صورتوں کے بعد فرماتا ہے انہ علی حکیم کہ وہ نہایت برتر ہے کسی کے ادراک اور کسی کا فہم اس کی پوشیدہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا اور نیز عالم حسی میں کوئی آنکھ اور کوئی کان نہ اس کو دیکھ سکتا ہے نہ بالمقابل ہو کر بات سن سکتا ہے مگر حکیم ہے اپنی حکمت کاملہ سے بندوں کو اپنے سے اطوار مخصوصہ میں کلام کرنے کا شرف عطا کر کے اس کو اپنے بندوں کے لیے پیغامبر بناکر بھیجتا ہے اور ہمیشہ سے یوں ہی کرتا آیا ہے وکذلک اوحینا الیک روحامن امرنا اور اسی طرح سے اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف اپنے حکم سے روح یعنی قرآن مجید وحی کیا۔ روح چونکہ حیات جسم کا باعث ہے اسی طرح کتاب اللہ عالم کی حیات ابدیہ کا باعث ہے اس لیے لفظ روح کا اس پر اطلاق ہوا (یہ قول ابن عباس ؓ کا ہے) بعض کہتے ہیں روح سے مراد جبرئیل ہے اس کی حکمت کا مقتضٰی تھا ورنہ ماکنت تدری ما الکتاب لا الایمان آپ تو اس سے پہلے نہ کتاب جانتے تھے نہ ایمان۔ یہ تو ظاہر ہے کہ وحی سے پہلے آپ کتاب یعنی قرآن کو نہ جانتے تھے مگر ایمان کے نہ جاننے میں کلام ہے کس لیے کہ بعثت اور وحی سے پہلے بھی انبیاء مومن تھے کبھی کسی نے شرک نہیں کیا نہ زنا کیا نہ کوئی بدکاری اس کی علمائِ تفسیر نے مختلف توجیہیں کی ہیں۔ بعض نے کہا ایمان سے مراد نماز ہے اور ایمان کا اطلاق نماز پر بھی ہوا کرتا ہے جیسا کہ اس آیت میں وماکان اللہ لیضیع ایمانکم ای صلاتکم یعنی وحی سے پہلے آپ نماز اور اس کے ارکان و شروط سے واقف نہ تھے نہ شرائع معلوم تھے۔ بعض کہتے ہیں لفظ اہل محذوف ہے یعنی اہل ایمان کون کون ہوں گے آپ نہ جانتے تھے اور سہل توجیہ یہ ہے کہ ایمان سے مراد جمیع وہ امور ہیں کہ جن پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے بہت باتیں وحی سے پہلے معلوم نہ تھیں۔ فقیر کہتا ہے کہ گو ایمان کو جانتے تھے مگر وہ جاننا اس جاننے کے مقابلہ میں جو وحی کے بعد ہوا کالعدم ہے۔ دیکھو کوئی کامل استاد جب کسی طالب علم کو جو پہلے بھی کچھ پڑھا تھا تکمیل کے بعد یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ پہلے جانتے بھی تھے کہ علم کیا ہے ؟ ولکن جعلناہ نورًا نہدی بہ من نشاء من عبادنا لیکن ہم نے اس قرآن کو نور بنایا ہے اس سے ہم جس کو چاہتے ہیں صراط مستقیم یعنی سیدھی راہ بتا دیتے ہیں اور اے محمد ﷺ تو بھی خود نور ہے سیدھی راہ بتاتا ہے اور وہ سیدھی راہ کیا ہے صراط اللہ کا رستہ جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور سب اختیارات اسی کو حاصل ہیں جو اس رستہ پر جو قرآن سے ثابت ہے (نہ کہ کسی اور رستہ پر) چلے گا اللہ کے پاس دارالخلد میں پہنچے گا۔ 1 ؎ مسئلہ نبوت اور الہام کی حقیقت بیان فرماتا ہے کہ عیاناً دوبدو کوئی بشر بھی خدا سے کلام نہیں کرسکتا مگر ان تین صورتوں سے اول یہ کہ دل میں کلام القاء بالالفاظ یا صرف بمعنی اول وحی متلو دوسری غیر متلو ہے۔ دوم یہ کہ حجاب نورانی کے پیچھے سے کلام کرسکتا ہو اور بشر جب ملکیت کے بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے تو خدا کا مقرب ہوجاتا ہے مگر پھر بھی نورانی حجاب درمیان حائل ہوتے ہیں جیسا کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ کا خدا سے کلام ہوا اور دیگر اوقات میں بھی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا کوہ طور پر کلام ہوا۔ تیسرے یہ کہ فرشتہ یعنی جبرئیل کے ذریعہ سے جو چاہے پیغام پہنچائے جبرئیل جو ناموس اکبر ہیں ان سے تجرد میں نبی کو مناسبت ہوتی ہے اس لیے ان کو نظرآتے اور دکھائی دیتے ہیں اوروں کو نہیں مگر ان سب صورتوں میں بہیمیت اور شیطان کا گزر بھی نہیں ہوتا جو مصری اور گڑ کے مزے میں امتیاز کرسکتا ہے ہو وہ ادراک معنوی سے ان باتوں میں بھی امتیاز کرسکتا ہے اور خدا کا سلسلہ فیض ابتداء سے جاری ہے۔ حضرت ﷺ کو بھی اس کی وحی کی کہ لوگوں کی رہنمائی کریں ورنہ اس سے پہلے نہ آیت کتاب کو جانتے تھے نہ احکام دین کو ایمان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ماکان اللہ لیضیع ایمانکم ای صلواتکم۔ 12 منہ حقانی