Ayahs 41:1–8ترکیب : حم ان جعلۃ مبتداء فخبرہ تنزیل الکتابالخ وان جعلت تعدید الحروف فتنزیل خبر محذوف او مبتداء التحضیصہ بالصفۃ و خبرہ کتاب وھو علی الاولین بدل منہ او خبرا خراو خبر محذوف۔ قرانًا نصب علی المدح اوحال من فصلت ‘ لقوم یعلمون صفۃ اخریٰ لقرانًا اوصلۃ لتنزیل او بفصلت بشیراً و نذیراً صفتان اخریان لقرانا اوحالان من کتاب و قرء بالرفع علی انھما صفتہ لکتاب اوخبر محذوف وھم بالآخرۃ الخ معطوف علی لایؤتون الزکوٰۃ داخل معہ فی خیر الصلۃ والمجئی بضمیر الفصل لقصد الحصر۔
تفسیر : اس سورة کو سورة سجدہ بھی کہتے ہیں اور سورة فصلت بھی اس کا نام ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن ابی شیبہ و عبد بن حمید و ابویعلی و بیہقی وغیرہ محدثین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے کہ قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو جو عرب میں بڑا گویا تھا۔ نبی ﷺ کے پاس بھیجا اس نے کہا اگر آپ کو مال منظور ہو تو وہ لیجئے اور اگر عورتوں سے رغبت ہے تو قریش میں سے جو عورت پسند ہو وہ آپ کی نذر ہے، آنحضرت ﷺ نے اس سورة کی کچھ آیات پڑھ کر اس کو سنائیں، اس نے کہا بس بس پھر قریش کے پاس آکر کہا کہ واللہ عمر بھر ایسا کلام میں نے نہیں سنا اور اس کا کوئی جواب میرے پاس نہ تھا۔
حم سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ کرکے قرآن مجید کا کتاب الٰہی ہونا بیان فرماتا ہے کہ بندوں کی حاجت روائی کے لیے اس رحمان رحیم نے یہ کتاب نازل کی ہے جس میں یہ صفتیں ہیں کہ یہ ایسی کتاب ہے، جس کی آیات میں تفصیل ہے۔ ابہام نہیں کہیں وعظ و پند ہے، کہیں مسائلِ حلت و حرمت وغیرہا ہیں، کہیں آخرت کا ذکر ہے۔ کہیں پہلوں کا عبرت انگیز نصیحت خیز حال ہے۔ عربی زبان میں عرب کی سہولت کے لیے بشیر و نذ یر ہے۔ کتاب کی خوبی اور اس کی ضرورت کے بعد کفار کی اس سے نفرت و اعراض بیان کرکے ان کی بدبختی و حماقت ثابت کرتا ہے۔ فاعرض سے عاملون تک پھر قل انما انا بشر مثلکم سے یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ نفرت فضول ہے۔ میں بھی تو تمہاری مانند ایک آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں جن نہیں جس سے غیر جنس ہونے کے سبب تمہیں نفرت ہو صرف یہ ہے کہ مجھ کو خدا نے وحی سے مشرف کیا ہے اور یہ ضروری باتیں جو تمام حسنات کا اصل اصول ہیں، میری طرف لوگوں کے بتانے کو وحی کی گئی ہیں۔ حسنات میں سے توحید انما الہکم سو اس پر قائم ہو۔ اس کے بعد واستغفروہ اپنے مالک سے معافی مانگو، اعتقادی و عملی دونوں باتیں آگئیں اور اس کے برخلاف کرنے والے مشرک ہیں۔ توحید کے مقابلہ میں شرک کرتے ہیں۔ لوگوں سے نیکی کرنے کے بدلہ میں زکوٰۃ تک نہیں دیتے، حبّ دنیا کی وجہ سے آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتے کہ اس کی امید پر نیکی و خیرات کرتے پس ان کے لیے خرابی ہے اور جو ایمان لاتے اور اچھے کام کرتے ہیں، ان کے لیے بےانتہا اجر ہے۔
Ayahs 41:9–10ترکیب : قرء الجمہور بھمزتین للاستفہام بالھمزۃ وان واللام بعدھا لتا کید الانکار والتشنیع و تجعلون لہ اندادًا الجملۃ معطوفۃ علی تکفرون داخلۃ تحت الاستفہام وجعل فیہا معطوف علی خلق وقیل مستانف لوقوع الفصل بینھما بالاجنبی فی اربعۃ ایام ای فی تتمۃ اربعۃ ایام۔ سوائً منصوب علی انہ مصدر موکد لفعل محذوف ھو صفۃ لایام ای استوت الاربعۃ سواء للسائلین متعلق بہ محذوف تقدیرہ اے قدر فیھا الاقوات للطالبین طوعا اوکرھا مصدران فی موضع الحال اتینا بالقصر بمعنی جئینا و بالمد بمعنی اعطینا الطائعۃ طالُعین حال و حفظا مصدر۔
تفسیر : پہلے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا تھا کہ کہہ دو ویوحیٰ الی انما الہکم الٰہ واحد کہ میری طرف یہ وحی کیا گیا ہے کہ تمہارا اللہ واحد ہے، مگر مشرکین اوروں کو بھی اس کے ساتھ خدائی میں شریک کرتے تھے اور یہ اس کی کمال قدرت کا کفر و انکار تھا، اس لیے اسی جگہ اپنی قدرت و استقلال الوہیت کا بیان کرکے ان کے کفر پر تعجب و انکار ظاہر فرماتا ہے۔ فقال قل انکم لتکفرون کہ ان سے کہہ دو کیا تم اس کا انکار کرتے ہو کہ جس نے دو روز میں زمین بنائی اور اس کے لیے شریک بناتے ہو ؟ تمہارے معبود خدا نہیں خدا تو رب العالمین ہے کہ جس نے ایسا کردیا اور زمین پیدا کرنے کے بعد اس کے اوپر پہاڑ قائم کئے اور اس میں برکت اور منافع رکھے اور اس کی پیداوار کا اندازہ کیا اور ان کو قائم کیا، دو روز میں جو سب مل کر چار روز میں یہ کام تمام ہوا، یہ سب کچھ سائلوں کے لیے برابر کیا جو کچھ بندے مانگتے ہیں انہیں پیدا کیا اور باندازہ دیتا ہے۔ ثم استویٰ الی السماء پھر آسمان بنانے کی طرف متوجہ ہوا اور یہ ایک دھواں یعنی ابخرات تھے، تب ان کو اور زمین کو حکم دیا کہ تیار ہوجائو۔ وہ تیار ہوگئے، پس ان دھوؤں کو سات آسمان بنادیا۔ دو روز میں اور ہر ایک آسمان میں اس کے مناسب احکام جاری کئے اور نیچے کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور ان کو شیاطین سے محفوظ کیا، یہ تدبیر ہے۔ خدا زبردست دانا کی یہ مطلب آیات کا صاف صاف ہے، غرض اس سے یہ ہے کہ خدائی کے لائق یہ ہے کہ جس نے چھ روز میں آسمانوں اور زمین اور ان کے متعلق چیزوں کو بنایا نہ وہ جن کو اس کی خدائی میں تم شریک اور حصہ دار بناتے ہو، وہ تمہارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے بت یا خیالی ڈھکوسلے ہیں یا ان کو عالم کے پیدائش و انتظام میں کچھ بھی نہ دخل ہے نہ اختیار ہے۔
فوائد : (1) دن تو آفتاب کی یا زمین کی حرکت مخصوصہ تمام کرنے سے ہوتا ہے۔ پھر زمین و آسمان پیدا کرنے سے پہلے دو دن میں بنانا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دن سے مراد اس کی مقدار ہے، یعنی دو دن کا جس قدر وقت یا زمانہ ہے، اتنی دیر میں بنایا گیا۔ گرچہ وہ دفعۃً بناسکتا تھا، اس قدر عرصہ میں بنانے سے یہ بات دکھائی گئی ہے کہ یہ حادث ہیں اور ان کے بننے میں اس قدر زمانہ لگا ہے۔ پس قدم باطل ہے اور نیز اس میں یہ بھی تعلیم ہے کہ بڑے کاموں کے کرنے میں جلدی نہ کرنا۔
(2) توریت سفر الخلیقۃ کے پہلے باب میں بھی آسمانوں اور زمین کی پیدائش کا بیان کسی قدر تغیر کے ساتھ مندرج ہے، اس میں یوں آیا ہے کہ ابتداء میں خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور زمین ویران و سنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی اور خدا نے کہا اجالا ہو اور اجالا ہوگیا اور خدا نے اجالے کو دیکھا کہ اچھا ہے اور خدا نے اجالے کو اندھیرے سے جدا کیا اور خدا نے اجالے کو دن کہا اور اندھیرے کو رات کہا۔ سو صبح و شام پہلا دن ہوا اور خدا نے کہا کہ پانیوں کے بیچ فضاء ہو وے اور پانیوں کو پانی سے جدا کرے، تب خدا نے فضا کو بنایا اور فضا کے نیچے کے پانیوں کو فضا کے اوپر کے پانیوں سے جدا کیا اور ایسا ہی ہوگیا اور خدا نے فضا کو آسمان کہا، سو شام اور صبح دوسرا دن ہوا۔ پھر تیسرے دن پانی کو جدا کرکے زمین بنانا اور اس میں نباتات کا پیدا ہونا بیان کیا ہے اور چوتھے دن میں ستارے اور چاند اور سورج بنانا لکھا ہے اور پانچویں دن میں زمین کے حیوانات پرند چرند پیدا کرنا بیان ہوا ہے اور چھٹے دن آدم کا پیدا ہونا بیان کیا ہے اور ساتویں دن آرام کرنا۔
توریت اور قرآن مجید دونوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آسمان سے پیشتر زمین بنائی گئی اور آسمان اس کے بعد بنایا مگر قرآن مجید میں ایک جگہ آیا ہے۔ والارض بعد ذلک دحاھا کہ اس کے بعد زمین کو درست کیا، اس سے معلوم ہوا کہ زمین آسمانوں کے بعد بنی مگر اس کا جواب یہ ہے کہ زمین کا بنانا اور چیز ہے اور اس کا درست کرنا نباتات اور پہاڑ اور دریائوں کو موقع بہ موقع قائم کرنا اور بات ہے۔ زمین آسمانوں سے پہلے بنی اور آسمانوں کے بعد پھر اس کو ٹھیک کیا، اب کچھ بھی تعارض نہیں۔
اب جو کچھ مخالفت قرآن مجید اور اس توریت کی عبارت میں پائی جاتی ہے یا تو اس کی توجہ کردی جائے، ورنہ توریت کی تحریف گنی جاوے گی۔
(3) حکماء کے تکوین عالم کے باب میں مختلف اقوال ہیں جن کی کسی قدر تشریح ہم جلد دوم میں کر آئے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض کا قول یہ ہے کہ تمام عالم کی اصل آگ ہے۔ بعض ہوا کو کہتے ہیں، مگر قوی تر جو توریت سے سمجھا جاتا ہے اور شریعت مصطفویہ سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ وکان عرشہ علی الماء کہ وہ یہ ہے سب سے اول خداوند عالم نے پانیوں کو پیدا کیا، وہی اس کی حکومت کی کرسی تھی، پانیوں کو جنبش ہوئی تو حرکت سے حرارت پیدا ہوئی۔ اجزائِ لطیفہ بن کر ہوا بن گئی اور ابخرات اٹھ کر اوپر کو گئے اور جھاگ جو تھے وہ منجمد ہو کر زمین بنے اور پھر خدا نے آسمانوں کو بنانا چاہا۔ سو وہ تو ابخرات ہی تھے، وہی دخان۔ تو اسن کو آسمان کردیا اور اس منجمد مادہ کو کسی قدر ہٹایا، اس کا نام زمین رکھا، سو زمین بھی بن گئی اور آسمان بھی اور یہی معنی ہیں اس کے فقال لہا وللارض ائتیا طوعًا اوکرھا قالتا اتینا طائعین پھر ان ادخنہ کو سات آسمان بنایا۔ کہا قال فقضھن سبع سماوات اور پھر آسمان میں نیرین اور دیگر ستارے بنائے۔ باقی اس کی کیفیت وہی خوب جانتا ہے۔ فلسفہ قدیم و جدید اپنی وہمی روشنی سے اس پر کچھ بھی حملہ نہیں کرسکتا۔ یہ حقیقت حقہّ یوں ہی رہے گی۔ فلسفہ بدلتا رہے گا۔ پچھلا فلسفہ پہلے فلسفہ کے رد کو کافی ہے اور آیندہ آنے والا موجود کے غلط کرنے کو بس ہے۔
Ayah 41:11(4) ثم استوٰی الی السماء وھی دخان یہ استویٰ بمعنی توجہ و قصد ہے، بولتے ہیں استویٰ الی مکان کذا اذا توجہ الیہ توجھا لا یلتفت معہ الیٰ عمل آخر وھومن الاستوی الذی ھو ضد الاعوجاج دمنہ قولہ تعالیٰ فاستقیموا الیہ (من الکبیر للرازی رحمۃ اللہ) مطلب یہ کہ زمین بنانے کے بعد آسمان بنانے کا قصد کیا اور یہ ایک دھواں تھا۔ اجزائِ لایتجزّٰی تھے جن میں ضو نہیں پیدا کی گئی تھی۔
(5) ہیئتِ جدیدہ جو آسمانوں کو فضاء محض قرار دیتی ہے اور نیرین اور دیگر ثوابت وسیارات کو اپنے مدار خاص پر متحرک مانتی ہے اور زمین کو بھی ایک سیارہ بلکہ چھوٹا سا تارا کہتی ہے، اس کے نزدیک بھی کتب سماویہ کے بیان سے کچھ محال لازم نہیں آتا، کیونکہ سبع سمٰوٰت کے بنانے کی تو وہ یہ تاویل کرلیں گے کہ سات فضائیں بنائیں جو سات مشہور ستاروں کے بعد ارتفاعی کے لحاظ سے سات گنی جاتی ہیں۔ باقی زمین کی تکوین کا مادہ پانی ہونا اور اس میں سے حرکت عنیفہ پیدا ہونا اور جھاگ اٹھنا اور ابخرات کا مرتفع ہونا ‘ جھاگ کا منجمد ہو کر زمین بن جانا اور ابخرات مرتفعہ سے دیگر ستارے و نیرین بننا، اگر وہ اس تمام موجودات کا کوئی خالق بااختیار وقدرت مانتے ہیں تو کچھ بھی محال نہیں نہ اس کو کوئی آلہ رصدیہ باطل کرسکتا ہے، نہ کوئی دوربین خوردبین غلط بتاسکتی ہے، نہ کوئی مشاہدہ رد کرسکتا ہے، لیکن کاتب الحروف کا وہ ایمان کہ جو نبی ہاشمی ﷺ کے ذریعہ سے حقائق موجودات کے ساتھ متعلق ہے۔ نبی ( علیہ السلام) کے فرمودہ کے مقابلہ میں سب کو توہمات باطلہ اور دماغ کی تبخیر اور حواس کا قصور اور طبیعت دہریت پسند کا قارورہ سمجھتا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذلک۔
(6) ائتیا۔ واتینا سے کیا مراد ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موافق مراد کے ہونا جیسا کہ کہتے ہیں۔ اتی عملہ مرضیاء و جاء مقبولا۔ اب یہ سوال ہوسکتا ہے کہ آسمان و زمین ذوی العقول نہیں۔ طائعین مذکور ذوی العقول کا صیغہ ان کے لیے کیوں آیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے ان کے وجود علمی کو مخاطب کیا تو اس جل و علیٰ کے خطاب سے ان کی عزت و منزلت بڑھ گئی تو ان کو ذوی العقول اور مذکرون میں شمار کرکے ان کے امتثال امر کو انہی الفاظ سے تعبیر کیا جو ذوی العقول کے لیے الفاظ رکھے گئے ہیں۔ فصحاء و بلغا کے کلام میں کبھی غیر ذی روح و غیر ذوی العقول کی طرف خطاب اور ان کی زبان حال سے سوال و جواب کیا جاتا ہے اور ممکن ہے کہ ان کی گفتگو اور حیات جو ان کو عطاء کی گئی ہے۔ باری عزاسمہ سے خطاب اور جواب کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ولایخفی ھذا علی من لہ ذوق صحیح بادراک اسرار الموجودات و تجلت علی روحہ حقائق الکائنات فسبحانہ من خلق الموجودات علی ما ینبغی۔
Ayah 41:12(7) آیت میں زمین کا پیدا کرنا دو روز میں فرمایا اور اس کے اقوات و ازراق کی تدبیر و درستی کرنا چار روز میں فرمایا۔ یہ چھ روز ہوئے پھر آسمانوں کا بنانا دو روز میں ذکر ہوا، فقضاھن سبع سمٰوٰت فی یومین اس حساب سے یہ آٹھ روز ہوتے ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اکثر جائے ان سب کا چھ روز میں پیدا ہونا بیان کیا ہے۔ ستۃ ایام کا لفظ آیا ہے۔ پس ان دونوں کلاموں میں تعارض پایا گیا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اربعۃ ایام جداگانہ نہیں جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ پہلے دو روز مل کر کہ جن میں زمین کا پیدا ہونا بیان ہوا ہے اور محاورئہ عرب میں پہلے کام کی مدت کو اس کے بعد کے دوسرے کام کی مدت میں جو اسی جنس کی شامل کرکے مجموعی مدت بیان کردیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس مثال میں سرت من البصرۃ الیٰ بغداد فی عشرۃ ایام و سرت الی الکوفۃ فی خمسۃ عشریوماً کہ میں نے بصرہ سے بغداد تک کی منزل کو دس روز میں تمام کیا اور کوفہ تک پندرہ روز میں پہنچا، یعنی کل پندرہ روز میں پہنچا، یعنی کل پندرہ روز میں جو بصرہ کے سفر سے شمار کئے جاتے ہیں نہ یہ کہ بغداد سے کوفہ کی منزل کو پندرہ دن میں تمام کیا، چونکہ متصل ایک ہی قسم کا سفر تھا، اس لیے مجموعی مدت لگائی گئی زبان نہ جاننے سے ایسے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(8) سواء للسائلین اس کے معنی یہ ہیں کہ مدت مذکورہ میں ان چیزوں کو پوچھنے والوں کے لیے برابر اور ٹھیک جواب دینے کے لیے بنایا، ان اشیاء کی مدت پیدائش سے اکثر سوال کیا کرتے ہیں۔ اس بیان سے ان کا برابر اور پورا جواب ملے یا یہ معنی کہ انسان خواہ زبان مقال سے خواہ زبان حال سے معاش کے متعلق خدا سے سوال کرتا رہتا ہے۔ اس نے اپنی نعمت کا دستر خوان ایسا وسیع اور عام کردیا ہے کہ مانگنے والوں اور غیر مانگنے والوں سب کے لیے برابر ہے۔
Ayah 41:13ترکیب : اذ جاء تہم یجوزان یکون ظرفا لا نذرتکم و یجوزان یکون صفۃ لصاعقۃ او مالامنہ نحسات بکسر الحاء فھی اما اسم فاعل مثل نصب و نصبات او مصدر مثل الکلمۃ و یقرء بالسکون فھی بمعنی المکسورۃ وسکن لعارض او اسم فاعل و سکن تخفیفاً ثمود مبتدء و ھدینا خبرہ۔
تفسیر : ابتدائِ کلام اس بات سے تھی کہ الہکم الہ واحد پھر اس پر دلیل پیش کی گئی۔ قل ائنکم لتکفرون الخ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب مخالف دلیل سے بھی نہیں مانتا تو اس کو اور دوسری طرح سے سمجھایا جاتا ہے، یعنی کسی سزا سے ڈرایا جاتا ہے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ فان
اعرضوا فقل اندر تکم صاعقۃ کہ اگر وہ نہ مانیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو ایک عذاب اور مصیبت کی خبر دیتا ہوں، وہ عذاب قوم عاد وثمود کے عذاب جیسا ہوگا، یعنی ہلاکت اور بربادی کے لیے تیار رہو، جیسا کہ عاد وثمود برباد ہوئے۔ جمہور نے صاعقہ بالالف پڑھا ہے، اس کے معنی بجلی کے ہیں جو آواز کے ساتھ اوپر سے گرتی ہے۔ کڑک اور اس کے ساتھ جلانے والی آگ یعنی وہ ہلاکت بجلی کی طرح سے تم پر آوے گی۔ کلام عرب میں سخت حوادث کو جو ناگہاں آپڑتے ہیں۔ صاعقہ سے تعبیر کرتے ہیں، جیسا کہ ہماری زبان میں بجلی پڑنا کہتے ہیں اور بعض قرأت میں صعقہ آیا ہے۔ بغیر الف کے اس کے معنی کڑک کے ہیں۔ وصعق کسمع بمعنی بےہوشی۔ اس سے بھی آنے والی مصیبت مراد ہے۔ پھر عاد وثمود کا اجمالی حال بیان فرماتا ہے۔ اذ جاء تہم الرسل کہ ان کے پاس ہر طرف سے ان کے رسول آئے اور ان سے کہا کہ اللہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے یہ حجت پیش کی کہ اگر خدا کو رسول ہی بھیجنے تھے تو فرشتوں کو کیوں نہ بھیج دیا، معلوم ہوا کہ تم رسول نہیں۔ انا بما ارسلتم بہ کافرون، ہم تمہاری بات نہیں مانتے۔ یہ تو دونوں قوموں کی مشترک حالت تھی، پھر ہر ایک کی جداگانہ بیان فرماتا ہے۔ فاماعاد الخ کہ قوم عاد نے تکبر کیا اور اپنی قوت پر گھمنڈ کیا اور یہ نہ جانا کہ وہ اللہ کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے، ان سے بھی بڑھ کر قوت والا ہے، ان کو اپنی قد آوری اور بہادری پر ناز تھا۔ یہ گناہ تو ان کا خلق خدا پر احسان نہ کرنے کے بدلہ تھا۔ وکانوا بآیتنا یجحدون اور خدا سے بھی اچھے نہ تھے کہ اس کی آیتوں کا سخت انکار کرتے تھے۔ فارسلنا پس ان کو ہم نے سخت آندھی سے غارت کیا، جو نحس دنوں میں ان پر چلی دنوں کی نحوست نجومی طور پر نہ تھی۔ ایام مصیبت کو نحس ہی کہا کرتے ہیں۔
واما ثمود الخ ثمود کو رسولوں کے ذریعہ سے ہم نے ہدایت کا رستہ دکھایا، مگر اس کو اختیار نہ کیا گمراہی پر رہنا پسند کیا، پس ان پر عذاب آیا اور ایمانداروں، پرہیزگاروں کو بچالیا۔ عاد وثمود کا حال قریش کو یمن و شام جانے سے بہت پہلے معلوم تھا، اس لیے ان کا قصہ سنایا اور قریش کے کفار پر بھی بلا آئی۔ جیسا کہ کتب سیرت میں مذکور ہے۔
Ayahs 41:14–18ا ؎ یعنی کثرت سے رسول آئے۔ 12 منہ
Ayahs 41:19–24ترکیب : یوم ظرف لما دل علیہ مابعدہ وھو قولہ فہم یوزعون ان یشہد ای من ان یشھد لان یستتر لایتعدی بنفسہ و ذلکم مبتداء و ظنکم خبرہ الذی لغت للخبر او خبر بعد خبر واردکم خبر آخر ویجوزان یکون الجمیع صفت او بدلاء و ارادکم الخبر و یجوزان یکون حالا یستعتبوایطلب العتبیٰ ۔
تفسیر : دنیا کی سزا بیان کرکے آخرت کی سزا اور اس عالم کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ بیان کامل ہوجاوے فقال و یوم یحشر کہ جس روز دشمنان خدا آتش جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے، ان کو ٹھہراویں گے۔ یہاں تک کہ سب جمع ہوجاویں گے، پھر ان کے اعمال قبیحہ پر ان کی آنکھیں اور کان جلدیں گواہی دیں گے۔ حواس گو پانچ ہیں، مگر قوت شامہ سے کوئی تعلق نہیں اور ذائقہ بھی لامسہ کے متعلق ہے، اس لیے تین حواس کی گواہی دلائی جائے گی جو اعمال کا ذریعہ ہیں۔ سماعت بصارت لمس چھونا، بعض کہتے ہیں جیسا کہ سدی و عبیداللہ بن ابی جعفر و فراء کہ جلود سے بطور کنایہ کے فروج مراد ہیں، یعنی شرمگاہ کہ جس سے وہ زنا کرتے تھے اور وہ زبان کہ جس سے بری باتیں بکتے تھے۔ وہ کان کہ جن سے بری باتیں یا مزامیر سنتے تھے، وہ آنکھیں کہ جن سے ناجائز چیزیں دیکھتے تھے۔ سب گواہی دیں گے۔ وقالوا لجلودھم تب وہ اپنی چمڑی سے کہیں گے۔ مراد تمام اعضاء ہیں یا شرم گاہ سے کہ تم نے کس لیے ہم پر گواہی دی، کیونکہ تم ہی تو دنیا میں گناہ صادر ہونے کا ذریعہ تھے، وہ کہیں گے انطقنا اللہ ہم کو اس اللہ نے گویا کردیا جو مخلوقات میں سے ہر گویا کو گویائی دیتا ہے اور دے چکا ہے۔ عقلا یہ کچھ بھی محال نہیں۔ کس لیے کہ جس نے زبان کے مضغہ گوشت میں یہ گویائی کی طاقت رکھ دی ہے، وہ اس کو اور عضو میں بھی رکھ سکتا ہے یا وہ گویائی جو ان کے مناسب ہے اور جس سے وہ شہادت ادا ہوسکے۔ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون یہ بھی اعضاء کا کلام ہے اور ممکن ہے کہ یہ جملہ اللہ کی طرف سے ہو اور اس طرح مابعد کا کلام سمجھنا چاہیے۔ وما کنتم کہ تم ان اعضاء کے گواہ ہونے سے کچھ پردہ نہ کرتے تھے اور لوگوں سے پردہ میں گناہ کرتے تھے، کیونکہ تمہارا خیال تھا کہ اللہ پردہ کی باتیں نہیں جانتا۔ بخاری و مسلم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ میں کعبہ کے پردے میں چھپا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے۔ ثقفی اور ایک قریشی تھا۔ کچھ باتیں کرنے لگے، مخفی طور پر ایک نے کہا کہ کیا اللہ ہماری یہ باتیں بھی سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا، اگر بلند آواز سے بولیں گے تو سنے گا، ورنہ نہیں تیسرے نے کہا اگر کچھ بھی سنتا ہے تو سب سنتا ہے، اس کا میں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی فرماتا ہے۔ وذلکم ظنک مکہ تمہارے اسی خیال نے تو تم کو برباد کیا ہے، اب صبر کرو تو یہی جہنم تمہارا ٹھکانا ہے، نہ کرو تو بھی تمہارا کوئی عذر مسموع نہیں، یہ بھی اس حشر کی گفتگو کا بقیہ ہے جو ان سے ان کے اعضاء کریں گے۔ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سنایا جائے گا۔ خدا سے بدگمانی کرنا بری بات ہے۔
Ayahs 41:25–29ترکیب : النار عطفا بیان للجزاء اوخبر محذوف جزاء یجزون جزاء مفعول مطلق۔ الذین تثنیۃ فی حالۃ النصب لکونہ مفعولا ثانیاً لارنا من الجن والانس بیان لہ نجعلھما بالسکون لکونہ جواب الامر و ہوا رنا بکسر الراء عند الجمہور۔
تفسیر : کفار کے کفر پر جہنم کی سخت سزا بیان فرما کر ان کے کفر میں مبتلا ہونے کا سبب بیان فرماتا ہے۔ فقال و قیضنا لہم قرناء الخ تقیض کے معنی ہیں آسان کرنا اور آمادہ کرنا، صاحب صحاح کہتے ہیں یقال قاضیت الرجل مقایضۃ ای عاوضۃ بمتاع و بماقیضان، قرنا جمع قرین ساتھی۔ یعنی ہم نے ان کفار کا شیاطین کو یارو مددگار بنادیا تھا، پس شیاطین نے ان کی نظروں میں ان کے سامنے یا آگے جو باتیں ہیں امور دنیا اور اس کی شہوات و لذات مرغوب کردکھائیں انہی پر ریجھ گئے۔ زجاج کہتے ہیں مابین ایدیہموہ اعمال جو کرچکے ہیں۔ وما خلفہم وہ اعمال کہ جن کے کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں۔ مابین ایدیہم سے مراد دنیا و ماخلفہم سے مراد آخرت بعض کہتے ہیں برعکس … کیونکہ آخرت سامنے ہے اور دنیا پیچھے چھوٹی جارہی ہے، یعنی ان کے رفیقوں نے ان کے دل میں بری باتیں رجھا اور کھبادیں، پس حق علیہم القول ان پر نوشتہ ازلی پورا ہوگیا۔ فی امم ان پر وہی بات پوری ہوئی، جیسا کہ ان سے اگلوں پر ہوئی تھی۔ فی امم ای کائنین فی جملۃ امم سابقہ یعنی یہ بھی ان پہلے گروہوں کے غول میں شامل ہوگئے، کس لیے کہ یہ زیاں کار تھے۔
اس کے بعد خدا تعالیٰ ان کفار کی ایک اور حرکت ناشائستہ نقل کرتا ہے جو وہ دین حق کے مٹانے اور چراغ ہدایت کے بجھانے کے لیے کرتے تھے۔ فقال وقال الذین کہ کفار کہتے ہیں، اس قرآن کو سنو ہی نہیں اور جب پڑھا جایا کرے تو غل مچادیا کرو، اس سبب سے ہم غالب رہیں گے، لوگ اس طرف آنے نہ پائیں گے۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ میں قرآن مجید کی منادی کرتے تھے اور لوگ سننے کے لیے جمع ہوتے تو کفار کہتے تھے، مت سنو اور غل مچادو، چناچہ لوگ ایسا کرتے تھے۔ الغوا جمہور نے بفتح غین پڑھا ہے، لغا سے ہے جس کے معنی ہیں بےہودہ گوئی کے اور بعض نے بضمہ غین پڑھا ہے۔ لغایلغو دعا یدعو سے اور اسی سے ہے لغوت ان کے اس فعلِ بد کی سزا بیان فرماتا ہے۔ فلنذیقن کہ ہم ان کو دنیا میں بھی سخت عذاب چکھادیں گے اور ان کے برے کاموں کی آخرت میں بھی سزا دیں گے۔ ذلک الخ فرماتا ہے، خدا کے دشمنوں کی سزا یہ جہنم ہے۔ گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے، اس میں ہمیشہ رہا کریں گے۔ یہ ان کے انکار کی سزا ہے اور جہنم میں پڑ کر کفار یہ کہیں گے کہ ہمارے شیاطینِ جن و انس کو کہ جنہوں نے ہم کو دنیا میں گمراہ کیا تھا۔ یارب انہیں دکھا کہ ہم ان کو جہنم میں اپنے پائوں تلے روندیں اور ذلیل کریں کہ کیوں تم نے گمراہ کیا تھا۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ شیطان دو قسم کے ہیں، ایک جن دوسرے انسان، شیطان جنی ابلیس اور اس کی ذریت جو دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور شیاطین انسی بہت سے دکھائی دیتے ہیں۔ خصوصاً اس زمانہ میں جو طرح طرح کے لباس میں آکر کام کرجاتے ہیں۔ اسی مضمون کی اور بھی آیات ہیں۔ وکذلک جعلنا لکل بنی عدوا شیاطین الانس والجن الآیۃ۔
Ayahs 41:30–32ترکیب : الذین اسم ان تتنزل خبرھا الا اصلہ ان لا وان مفسرۃ ای قائلین لاتخافوا۔ او مصدریۃ او مخففۃ مقدرۃ بالباء ماتشتہی موصولۃ ھی مع صل تھا مبتداء لکم خبرھا فیہا متعلق بتشتھی او بالمحذوف، نزلا حال من الموصول اومن عائدہ۔
تفسیر : وعید کے بعد وعدہ ذکر کرتا ہے اور یہ عمدہ ترتیب ہے۔ واضح ہو کہ کمالات تین قسم پر ہیں۔ نفسانیہ بدنیہ، خارجیہ ان میں سب سے بڑھ کر نفسانیہ ہیں اور اوسط بدنیہ اور کمتر مرتبہ میں خارجیہ۔ پھر کمالات نفسانیہ کی دو قسم ہیں۔ ایک علم یقینی دوسرا عمل صالح، علم یقینی میں کمالات کی بات اللہ جل جلالہ کی معرفت اور اس کی توحید کا اقرار کرنا ہے، اس کی طرف اس جملے میں اشارہ ہے۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ اور اعمال صالحہ میں سب سے بڑھ کر وسط پر استقامت ہے۔ افراط وتفریط کی طرف میلان نہ ہو جیسا کہ سورة فاتحہ میں آیا ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم اور ایک جگہ آیا ہے۔ وکذلک جعلنا کم اُمۃ وسطا اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ ہے۔ ثم استقا موا ترمذی نسائی و ابویعلی وغیرہ نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے جو کلمہ توحید پر مرتے دم تک ثابت رہا ہے، اس نے اس پر استقامت حاصل کرلی۔ احمد و دارمی و مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبّان اور بخاری نے اپنی تاریخ میں سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ سے نقل کیا ہے کہ کسی نے نبی ﷺ سے آکر عرض کیا کہ یا حضرت مجھے اسلام میں ایسی بات بتلائے کہ آپ کے بعد کسی اور سے پوچھنے کی حاجت نہ پڑے۔ آپ نے فرمایا کہہ ایمان لایا، میں اللہ پر پھر قائم رہ پھر عرض کیا کس چیز سے بچوں آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا۔ اس استقامت میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ استقامت سے دین و توحید و معرفت پر قائم رہنا مراد ہے۔ دوم یہ کہ عبادات و اعمال صالحہ پر قائم رہنا مراد ہے اور یہ زیادہ مناسب ہے۔ ایمانداروں پر ملائکہ مژدہ لے کر اترتے ہیں۔ پھر اس کے بدلہ میں جو کچھ مرحمت ہوگا اس کا ذکر فرماتا ہے۔ تتنزل علیہم الملائکۃ الاتخا فوا کہ ان پر ملائکہ اترتے ہیں۔ یہ مژدہ دیتے ہوئے کہ تم خوف و غم نہ کرو اور ہم تمہارے دنیا و آخرت میں رفیق ہیں اور تمہارے لیے جنت کا مژدہ ہے، وہاں تم کو ہر چیز ملے گی، یہ کفار کا مقابلہ ہے کہ ان کے پاس شیاطین آتے ہیں، گمراہی میں پھنسا لیتے ہیں۔ برخلاف اس کے اللہ پر ایمان لانے والے نیک بختوں کو فرشتے آکر تسلی دیتے ہیں۔ یہ ملائکہ موت کے وقت اترتے ہیں اور قبر میں بھی آویں گے اور حشر کے دن بھی، بلکہ آیت عام ہے دنیا میں بھی بوقت مصیبت و ضرورت ملائکہ ایمانداروں کے دل کو سرور جاودانی کا بطور الہام کے مژدہ دیتے ہیں۔ کس لیے کہ ملائکہ کی ارواح بشریہ پر الہامات و مکاشفات یقینیہ و مقامات حقیقہ کے بارے میں تاثیرات ہیں، جیسا کہ شیاطین کو وسواس و تخیلات باطلہ دل میں ڈالنے کے لیے تاثیرات ہیں۔ حاصل کلام ارواح طیبہ کو ملائکہ کی طرف سے طرح طرح سے ولایت و حمایت ہے۔ اہل مکاشفہ اور مشاہدہ کو بخوبی معلوم ہے اور یہ دنیا میں حاصل ہے، مرنے کے بعد باقی رہے گی بلکہ اور بڑھ جائے گی۔ کس لیے کہ حجاب جسمانی دور ہوجاتا ہے، پس یہ معنی ہیں۔ اس قول ملائکہ کے نحن اولیائوکم فی الحیٰوۃ الدنیا و فی الآخرۃ ولکم فیہا تشتہی انفسکم میں جنت جسمانی کی طرف اشارہ ہے، ولکم فیہا ماتدعون میں جنت روحانی کی طرف اشارہ ہے اور یہ سب کچھ جلب منفعت کے متعلق ہے جو دفع مضرت کے بعد رعایت مصالح میں شمار ہوتا ہے اور دفع مضرت مقدم ہے، اس لیے سب سے پہلے دفع مضرت کا مژدہ دیا اور مضرت میں بھی بڑی مضرت آنے والی چیز سے ہوتی ہے جس کے فکر کو خوف کہتے ہیں، اس لیے الاتخافوا کو مقدم کیا۔ اس کے بعد گزشتہ باتوں کا رنج ہوتا ہے، جس کو حزن کہتے ہیں۔ جیسا کہ اولاد کی مفارقت ‘ مال کی جدائی ‘ احبا کا فراق وغیرہ ان سب باتوں کی بابت تسلی کریں گے۔
فائدہ : احادیث میں آیا ہے کہ بوقت مرگ جب ادھر سے پردہ پڑجاتا ہے تو دوسرا عالم منکشف ہوتا ہے، اس وقت فرشتے آکر یہ کہتے ہیں اور یہ مژدہ دیتے ہیں جس سے مرنے والے کو بےحد سرور ہوتا ہے اور دنیا کی مفارقت کا رنج و غم مٹ جاتا ہے۔
Ayahs 41:33–36ترکیب : ومن استفہامیۃ و محلہا الرفع بالا بتداء والخبر احسن قولا تمیز لاحسن ممن متعلق باحسن ولا السیئۃ لا زائدۃ جاءت لتا کید النفی ادفع بالتی ای ادفع السیئۃ حیث اصابتک من احد بالتیھی احسن ای بالحسنۃ۔
تفسیر : کمال احسانی دو قسم پر ہیں، ایک تام دوسرا اس سے بھی بڑھ کر کمال تام۔ اپنے تئیں صفات حمیدہ سے مزین کرنا اس کا ذکر ان الذین قالوا ربنا اللہ میں آچکا، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد ناقصوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہونا، اس کی طرف ان آیات میں اشارہ کرتا ہے۔ فقال و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ اور نیز اس میں مخاطبین پر ایک ملائم طور پر حجت قائم کی جاتی ہے کہ تم کس لیے قرآن میں غل مچاتے ‘ سننے سے منع کرتے ہو، اصل بات کو تو دیکھو کہ نبی کیا کہتا ہے اور بذات خود کیسا ہے اور اس کا کیا دعویٰ ہے ؟ کہہ سکتے تھے کہ نبی کوئی بری بات نہیں کہتا، برے کام کے لیے نہیں بلاتا اور خود را فضیحت دیگرے را نصیحت کا بھی مصداق نہیں، بلکہ نیکو کار ہے اور کسی سلطنت یا حکومت یا شیخی کی بات کا بھی دعویٰ نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو خداوند کا فرمانبردار کہتا ہے۔ اسی کا دعویٰ ہے مگر یوں نہ کہا۔ کس لیے کہ ان بدبختوں کو نبی ﷺ سے سخت نفرت تھی، بلکہ عام طور پر فرمایا کہ اس سے بات کہنے میں کون بہتر ہے کہ جو اللہ کی طرف بلاوے اور خود بھی نیک ہو اور فرماں برداری کا اظہار کرے، اس سے اشارہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے مگر ایک عجیب لطف سے اشارہ کیا۔
مکارم اخلاق کی تعلیم : مگر اللہ کی طرف بلانے میں جو تکمیل ناقصاں ہے اور یہ خاص حضرات انبیاء کا پیشہ ہے یا ان کے نائبوں کا جو علماء اور امراء ہیں، مخالفوں کی طرف سے ایذائیں بھی پہنچا کرتی ہیں، دنیا میں کون سا نبی آیا ہے کہ لوگوں نے اس کی راہ میں کانٹوں کی جگہ پھول بچھائے ہوں۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ادفع بالتیھی احسن کہ بدی کو نیکی کے ساتھ دفعہ کرو کیونکہ نیکی جو ہے نیکی ہے اور بدی جو ہے تو بدی ہے۔ اس لیے اس جملہ سے پیشتر بطور تمہید کے یہ فرماتا ہے، ولا تستوی الحسنۃ ولا السئیۃ کہ نیکی اور بدی برابر نہیں، نیکی کا مرتبہ بدی سے بڑھ کر ہے، پس واعظ حق کے مقابلہ میں جو کوئی بدی کرے، اس کو لازم ہے کہ اس کے در جواب نیکی کرے، اگر وہ سخت کلامی کرے تو یہ نرمی کرے۔ اگر وہ بددعا دیوے تو یہ دعا دیوے، اگر وہ گالی دے تو یہ اللہ سے دعا کرے کہ اس کی اصلاح کرے۔ واعظان دین کے لیے یہ عمدہ قانون ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوا اور جہاد و سیف کا حکم اور موقع پر ہے۔ یہ کمال مکارم اخلاق کی تعلیم ہے، پھر اس کا فائدہ بیان فرماتا ہے۔ فاذا الذی الخ کہ پھر تیرا دشمن دوست خالص ہوجائے گا، کس لیے کہ طبیعت انسانیہ کا بشرطیکہ سلیمہ ہو، خاصہ ہے کہ بدی کے مقابلہ میں جو اس سے نیکی کی جاتی ہے تو بدی کرنے والا خود شرمندہ ہو کر اس کو اچھا اور عمدہ شخص جاننے لگتا ہے اور دل میں محبت ہوجاتی ہے، مگر مایلقاھا الا الذین صبروا یہ بڑے بڑوں کا کام ہے، وہی اس کو حاصل کرسکتے ہیں اور بڑے خوش نصیبوں کو یہ بات حاصل ہوتی ہے، کیونکہ ان کے نفوس قدسیہ ہوتے ہیں۔ دوسرے کی برائی سے متغیر اور متاثر نہیں ہوتے، ان کی ہمدردی و خوبی کے پہاڑ کو اس برائی کی ہوا ہلا نہیں سکتی۔ ؎
شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمناں ہم نکردند تنگ
رسول اللہ ﷺ و صحابہ کبار و اہل بیت اطہار نے کچھ ایذائیں پاکر مخالفوں سے نیکیاں کی ہیں، کتب سیرت میں مشرحاً مذکور ہیں۔ واما ینزغنک اور جو بشریت سے اور شیطانی تحریک سے دل میں ولولہ آجاوے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہنا چاہیے، اس کی مدد سے وہ شیطانی خیال دور ہوجاتا ہے، کس لیے کہ اللہ سنتا ہے۔ فریاد رسی کو موجود ہے خبردار ہے، دلی حالات پر واقف ہے۔
Ayahs 41:37–39تفسیر : جبکہ پہلی آیات میں یہ بیان فرمایا کہ احسن اعمال و اقوال اللہ کی طرف بلانا ہے تو اس کے بعد چند دلائل بیان فرماتا ہے جو اس کے وجود وقدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ اس بات پر متنبہ کرنے کے لیے کہ اللہ کی طرف بلانا دلائل بیان کرنا ہے اور یہ کہ اللہ کی طرف بلانا کسی مجہول چیز کی طرف بلانا نہیں بلکہ وہ ایسا متجلی ہے کہ ہر چیز میں اس کے پر توے نظر آرہے ہیں۔ کما قال ومن آیاتہ الیل والنہار والشمس و القمر کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ چار چیزیں تمہارے سامنے ہیں، رات، دن، سورج، چاند رات عدمی چیز ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ یہ چاروں چیزیں اپنے انقلابات کی نیرنگیوں میں ثابت کررہی ہیں کہ کوئی قادر مختار ہے جو ان کو یوں الٹتا پلٹتا ہے، اس کی تشریح متعدد مقامات پر ہم کر آئے ہیں۔ رات سے چاند کا اور دن سے سورج کا تعلق خاص ہے۔ جب یہ ثابت کردیا گیا کہ چاند اور سورج اس کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اس کی دو مشعلیں روشن کی ہوئی ہیں تو یہ حکم دینا مناسب ہوا کہ لاتسجدوا للشمس ولا للقمر تم نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو جیسا کہ کواکب پرست قومیں ان کو نورانی پیکر جان کر پوجتی تھیں۔ مجوس و ہنود و بعض عرب بلکہ اب بھی پوجتے ہیں، ان مخلوق کو کیا سجدہ کرتے ہو، ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو یعنی اللہ کو اگر تم کو اللہ کا پوجنا منظور ہے۔ اس جملہ ان کنتم ایاہ تعبدون میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ جو کواکب پرست ان کے سجدہ کو خدا تعالیٰ کی عبادت اور سجدہ سمجھتے ہیں، غلط بات ہے۔ عاقل و نادان میں بھی تو فرق ہے کہ نادان تصویر پر شیدا ہوتا ہے۔ دانا تصویر دیکھ کر اس پر مفتون ہوتا ہے کہ جس کی یہ تصویر ہے۔
پھر فرماتا ہے فان استکبروا اگر یہ منکرین اے محمد ﷺ ! تیرا کہنا نہ مانیں اور خدا کی طرف نہ آئیں، تکبر سے اڑے رہیں تو اللہ کو بھی کچھ پروا نہیں کس لیے کہ جو اللہ کے پاس ہیں یعنی اس کی بارگاہ عزت میں حاضر ہیں۔ ملائکہ مقربین رات دن اس کو سجدہ کرتے ہیں اور تھکتے نہیں کس لیے کہ وہ انوار مجردہ ہیں، خدا کی عبادت و تسبیح و تقدیس ان کی روزی ہے اور بمنزلہ نفس انسانی کے جو ان کو اور کسی تدبیر اور تصرف سے مانع نہیں آتا۔
یہ تو بالاتفاق ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے مگر امام شافعی کے نزدیک تعبدون پر سجدہ ہے، کیونکہ و اسجدوا لِلّٰہِ سے متعلق ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک لا یسئمون پر کس لیے کہ کلام یہاں تمام ہوتا ہے۔ آیات فلکیہ کے بعد آیات ارضیہ بیان فرماتا ہے، ومن آیاتہ انک تری الارض خاشعۃ کہ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تو زمین کو خشک دیکھتا ہے۔ الخشوع التصاغر والتذلل واستعیر لحال الارض حال خلوہاعن المطر و النبات، پھر جب اس پر پانی خدا برساتا ہے تو اہتزت حرکت کرتی ہے۔ یعنی اگنے کی طرف آتی ہے، وربت اور پھول جاتی ہے تر ہونے سے اور خصوصاً جبکہ اگنے کو کوئی چیز ہوتی ہے، ابھر جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ترو تازہ اور زندہ ہوجاتی ہے، پھر جو اس کے زندہ کرنے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کرسکتا ہے، کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ ایک دوسرا مطلب ہے جو دعوۃ الی اللہ کے لیے اصل اصول ہے۔