42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 42:1
حٰمٓ۔
Ayah 42:2
عٓسٓقٓ۔
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

بغوی نے لکھا ہے کہ حسن بن فضل سے دریافت کیا گیا کہ حٰمٓ - عٓسٓقٓ کے دو ٹکڑے کیوں کئے گئے (یعنی حٰمٓ کو عٓسٓقٓ سے جدا کیوں کیا گیا) اور کٓھٰیٰعٓصٓ کے دو ٹکڑے کیوں نہیں کئے گئے ؟ حسن نے جواب دیا : جن سورتوں کو حٰمٓ سے شروع کیا گیا ‘ ان میں سے یہ بھی ایک سورت ہے ‘ اس جیسی دوسری سورتوں کی طرح اس کا آغاز بھی (مستقل طور پر) حٰمٓ سے کیا گیا اور (کٓہٰ سے کسی سورت کا آغاز نہیں کیا گیا ‘ اسلئے آہٰ کو یٰعٓصٓ سے ملا کر آھٰیٰعٓصٓ کردیا گیا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ مبتدا ہے ‘ عٓسٓقٓ اسکی خبر ہے (اور مبتدا کو خبر سے الگ لکھا جاتا ہے ‘ خبر کا جزء نہیں بنایا جاتا) یا یوں کہا جائے کہ حٰمٓ عٓسٓقٓ دو آیات ہیں اور کٓھٰیٰعٓصٓ ایک آیت ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کٓھٰیٰعٓصٓ اور ان جیسے دوسرے مقطعات کو وہ علماء بھی حروف ہجا قرار دیتے ہیں ‘ جو مقطعات قرآن کی مختلف تشریحات کرتے ہیں اور حٰمٓ کو حروف ہجا قرار دینے پر اہل تاویل کا اتفاق نہیں ہے۔ بعض نے حٰمٓ کو فعل کے معنی میں بیان کیا ‘ یعنی حُمَّ الْاَمْرُ (جو چیز ہونے والی ہے اس کا فیصلہ کردیا گیا) ۔ عکرمہ راوی ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ح اللہ کا حکم ہے اور م اللہ کی مجد اور ع اللہ کا علم اور س اللہ کی سناء (بزرگی یا نور) اور ق اللہ کی قدرت ‘ اللہ نے ان کی قسم کھائی ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کا قول کہا جاسکتا ہے کہ ہر صاحب کتاب نبی کے پاس حٰآ آآآ وحی کے ذریعہ سے بھیجا گیا ‘ اگلے جملہ سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم اسی طرح آپ پر اور آپ سے پہلے جو (پیغمبر) گذرے ہیں ‘ ان پر اللہ جو زبردست (اور) حکمت والا ہے ‘ وحی بھیجتا رہا ہے۔ الْعَزِیْزُ سب پر قوت کے ساتھ غالب۔ الْحَکِیْمُ اپنے حکم میں غلطی نہ کرنے والا ‘ یعنی جو معانی اس سورت میں اللہ نے وحی کئے ہیں ‘ ان کی طرح یا جس طرح اللہ نے یہ سورت وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے ‘ اس کی طرح اللہ نے آپ پر بھی (دوسری آیات اور سورتوں کی) وحی بھیجی اور آپ سے پہلے پیغمبروں پر بھی۔ یوحی مضارع کا صیغہ ہے جس میں حال ماضی کو بغرض استمرار بیان کیا ہے ‘ یعنی وحی بھیجنے کا اللہ کا دستور ہی رہا ہے۔
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

لہ ما فی السموت وما فی الارض وھو العلی العظیم اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے بالا اور عظیم الشان ہے۔ الْعَلِیُّ یعنی مخلوق سے بالا۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

تکاد السموت یتفطرن من فوقھن کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے (کہ ادھر ہی سے بوجھ پڑتا ہے) پھٹ پڑیں ‘ یعنی اللہ کی عظمت و بزرگی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں ‘ کچھ بعید نہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ مشرکین جو اللہ کو صاحب اولاد قرار دیتے اور کہتے ہیں : اتخذوا اللہ ولدًا ان کے اس قول سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں ‘ سورة مریم کی آیت لَقَدْ جِءْتُمْ شَیْءًا اِدًّا تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ اسی مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ کثرت ملائکہ سے اگر آسمان پھٹ جائیں تو بعید نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان چرچرایا اور چرچرانا اس کیلئے بےجا بھی نہیں ہے ‘ قسم نے اس کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! آسمان میں بالشت بھر جگہ بھی ایسی نہیں جہاں سجدہ کرنے والے کسی فرشتہ کی پیشانی سجدہ میں نہ ہو جو اللہ کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتا ہے ‘ رواہ ابن مردویہ عن انس۔ بغوی کی روایت میں آیا ہے کہ آسمان میں ایک قدم رکھنے کی کوئی جگہ نہیں جہاں کوئی فرشتہ قیام میں ‘ یا رکوع میں ‘ یا سجدہ میں نہ ہو۔ مِنْ فَوْقِھِنَّ اوپر کی جانب سے ‘ یعنی پھٹنے کی ابتداء اوپر ہی کی جہت سے ہوگی۔ اول مطلب پر فوق سے ہونے کی تخصیص اس وجہ سے ہوگی کہ یہ اللہ کی عظمت شان اور برتری کی سب سے بڑی نشانی ہے ‘ دوسرے مطلب پر فوقیت کا خصوصی ذکر اسلئے کیا کہ اس سے نیچے کی طرف پھٹنا بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوجائے گا اور تیسرے مطلب پر خصوصیت فوق کی وجہ یہ ہوگی کہ اوپر ہی ملائکہ کی کثرت ہوگی (اور اوپر سے ہی بار پڑے گا) بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہنّ کی ضمیر ارض کی طرف سے راجع ہے کیونکہ ارض سے مراد جنس ہے (اور جنس کی طرف جمع کی ضمیر بھی راجع ہوسکتی ہے) یہ قول دوسرے تفسیری مطلب پر درست ہوگا۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ یعنی کافر جو اللہ کی طرف صاحب اولاد ہونے کی نسبت کرتے ہیں اور ایسی باتیں اس کی ذات میں مانتے ہیں جو کسی طرح اسکی شان کے مناسب نہیں ‘ ان سب سے فرشتے اللہ کے پاک ہونے کا اظہار کرتے ہیں ‘ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ عظمت الٰہیہ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اور بھی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں۔ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلئے حمد الٰہی کرتے ہیں۔ ویستغفرون لمن فی الارض الا ان ھو الغفور الرحیم اور زمین والوں کیلئے معافی طلب کرتے ہیں۔ خوب سن لو کہ اللہ ہی بڑا معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔ وَیَسْتَغفِرُوْنَ یعنی مؤمنوں کیلئے معافی کے طلبگار ہوتے ہیں کیونکہ مؤمنوں کے ساتھ ان کو ایمان میں شرکت حاصل ہے اور اس شرکت ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ اہل ایمان کیلئے دعاء مغفرت کریں۔ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ یعنی اللہ اپنے دوستوں کو بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں۔ اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل اور جن لوگوں نے دوسروں کو اللہ کے سوا کارساز قرار دے رکھا ہے ‘ اللہ خود ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا۔ اَوْلِیَآء یعنی شرک اور مثل۔ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ یعنی ان کے احوال کا نگراں جو ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی اے محمد ! آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ ان کو اپنے مقصد کے مطابق (ہدایت پر) لے آئیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ‘ ان کا معاملہ آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وکذلک اوحینا الیک قرانا عربیا لتنذر ام القری ومن حولھا وتنذر یوم الجمع لاریب فیہ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر اور ہم نے اسی طرح آپ پر (یہ) عربی زبان میں قرآن وحی کے ذریعہ سے نازل کیا تاکہ آپ (سب سے پہلے) مکہ کے رہنے والوں کو اور ان لوگوں کو جو مکہ کے آس پاس رہنے والے ہیں (ا اللہ کی نافرمانی سے) ڈرائیں اور جمع ہونے والے دن (روز قیامت) کا خوف دلائیں جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ‘ ایک گروہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور ایک گروہ دہکتی آگ میں ہوگا۔ لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی تاکہ آپ ام القرٰی کے رہنے والوں کو ڈرائیں۔ عرب کی اکثر بستیاں مکہ سے ہی نکلی ہیں۔ عرب میں سب سے اول مکہ کی آبادی ہوئی ‘ اسلئے مکہ کو ام القرٰی (بستیوں کی ماں) کہا جاتا ہے۔ وَمَنْ حَوْلَھَا یعنی سارے عرب یا سار یزمین کی بستیاں خواہ مکہ سے مشرقی جانب ہوں یا مغربی ‘ شمالی سمت میں ہوں یا جنوبی ‘ پہلے مکہ والوں کو اور مکہ کے گردا گرد سارے عرب کو ڈرانے کا حکم دیا گیا تاکہ اللہ کا بول بالا کرنے میں سب مل کر مدد کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے پانچ چیزوں میں دوسرے انبیاء پر فضلیت عطا کی گئی : (1) سب لوگوں کیلئے مجھے بھیجا گیا (یعنی تمام لوگوں کو میری امت دعوت بنایا گیا) ۔ (2) میری امت کیلئے میری شفاعت جمع رکھی گئی (یعنی قیامت کے دن امت کی شفاعت کا مجھے اختیار دیا گیا) ۔ (3) ایک ماہ کی راہ تک آگے کی طرف اور ای کماہ کی راہ تک پیچھے کی طرف میرا رعب (دشمنوں کے دلوں میں) ڈال دیا گیا اور اس طرح میری مدد کی گئی۔ (4) زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک بنا دیا گیا (یعنی سوائے نجس مقامات کے ہر جگہ مجھے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی گئی) ۔ (5) میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا ‘ مجھ سے پہلے کسی کیلئے حلال نہیں کیا گیا (رواہ الطبرانی بسند صحیح عن السائب بن یزید) ۔ مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چھ چیزوں کی وجہ سے مجھے انبیاء پر فضیلت عطا کی گئی : (1) مجھے کلام جامع عطا کیا گیا (یعنی ایسے مختصر الفاظ جو کثیر مضامین کو حاوی ہوں ‘ بولنے کو مجھے ملکہ عطا کیا گیا) ۔ (2) دشمنوں پر رعب ڈال کر میری مدد کی گئی (یعنی مجھے فتح یاب کیا گیا) ۔ (3) میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ (4) میرے لئے (ساری) زمین کو مسجد اور پاک بنا دیا گیا۔ (5) مجھے تمام مخلوق (یعنی انسانوں) کی ہدایت کیلئے بھیجا گیا۔ (6) مجھ پر (سلسلۂ ) انبیاء کو ختم کردیا گیا۔ یَوْمَ الْجَمْعَِ تاکہ آپ ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیں جبکہ اگلے پچھلے سب لوگ جمع ہوں گے۔ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ الخ یعنی جمع ہونے والوں میں سے ایک فریق جنتی اور دوسرا دوزخی ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنی مٹھیوں میں دو تحریریں دبائے برآمد ہوئے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ دونوں تحریریں کیا ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم واقف نہیں۔ حضور ﷺ نے دائیں ہاتھ والی تحریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : رب العالمین کی (طرف سے) تحریر ہے ‘ اس میں تمام اہل جنت کے ‘ ان کے باپوں کے ‘ ان کے قبائل کے نام ہیں اور ان کی گنتی ہے (رب العالمین کی یہ تحریر) اس وقت سے بھی پہلے کی ہے جب نطفے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے رحموں میں ٹھہرے تھے ‘ جب لوگ (یعنی ان کے خمیر) کیچڑ میں پڑے ہوئے تھے ‘ ان میں نہ زیادتی ہوسکتی ہے نہ کمی۔ قیامت تک ہونے والے (جنتی) لوگوں کی اللہ کی طرف سے یہ مجمل تحریر ہے۔ پھر بائیں ہاتھ والی تحریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ رب العالمین کی طرف سے دوزخیوں کے ‘ ان کے باپوں کے اور ان کے قبائل کے ناموں کی تحریر ہے ‘ ان کی گنتی ہے۔ یہ اس وقت سے بھی پہلے کی ہے جب نطفے باپوں کی پشتوں میں اور ماؤں کے رحموں میں ٹھہرے تھے ‘ جب لوگ (یعنی ان کے خمیر) کیچڑ میں پڑے ہوئے تھے ‘ ان میں نہ زیادتی ہوسکتی ہے نہ کمی۔ قیامت تک ہونے والے (دوزخی) لوگوں کی اللہ کی طرف سے یہ مجمل تحریر ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر نے عرض کیا : تو اسی حالت میں عمل کی کیا ضرورت ؟ فرمایا : کئے جاؤ ‘ سیدھی چال رکھو اور لگے لگے چلو۔ جو جنتی ہے اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوگا خواہ (زندگی بھر) اس نے کیسے ہی عمل کئے ہوں اور دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوگا خواہ (عمر بھر) اس نے کچھ بھی کیا ہو۔ پھر فرمایا : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر اللہ کی طرف سے انصاف ہوگا ‘ رواہ البغوی والترمذی۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے اور نہ مددگار

ولو شاء اللہ لجعلھم امۃ واحدۃ اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا۔ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کی تفسیر میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : سب کو ایک دین پر کردیتا۔ مقاتل نے کہا : سب کو دین اسلام پر کردیتا۔ اللہ نے دوسری روایت میں فرمایا ہے : ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی (اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ اس سے مقاتل کے قول کی تائید ہوتی ہے) ۔ ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کردیتا ہے۔ یعنی دین اسلام کی ہدایت کردیتا ہے۔ والظلمون ما لھم من ولی ولا نصیر اور ان ظالموں کا (قیامت کے دن) نہ کوئی حامی ہوگا ‘ نہ مددگار۔ الظَّلِمُوْنَ یعنی کافر۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل نہیں کرے گا ‘ اسلئے ان کا کوئی حامی نہ ہوگا کہ عذاب کو دفع کرسکے ‘ نہ مددگار ہوگا کہ دوزخ سے بچا سکے۔ وعید میں زور پیدا کرنے کیلئے طرز کلام کو بدلا گیا۔ مقاتل کا تقاضا تھا کہ یوں کہا جاتا کہ اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل نہیں کرے گا ‘ لیکن مبالغہ کے طور پر فرمایا : ان کا کوئی حامی ہوگا ‘ نہ مددگار۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

ام اتخذوا من دونہ اولیاء فا اللہ ھو الولی وھو یحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں ؟ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اَمِ اتَّخَذُوْا۔ اَمْ (منقطعہ) بمعنی بَلْ ہے اور ہمزہ انکاری ہے ‘ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی اور کارساز نہیں قرار دیا بلکہ اسکے سوا دوسروں کو (یعنی بتوں اور شیطانوں وغیرہ کو) کارساز قرار دیا اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا ‘ یا یہ معنی ہے کہ جن کارساز ہے وہ ان کے حامی نہیں ہوں گے ‘ کارساز تو اللہ ہی ہے ‘ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو کارساز قرار دیا جائے ‘ وہی ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کیلئے مردوں کو زندہ کرے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ آپ کا بھی ولی ‘ یعنی مددگار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو آپ کے پیرو ہیں۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف (سے ہوگا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ اور جس جس بات میں تم (اہل حق سے) اختلاف کرتے ہو ‘ سو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یعنی اے لوگو ! امر دین میں تم جو اختلاف کرتے ہو ‘ اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے ‘ قیامت کے دن وہی حق پرستوں اور باطل پرستوں کو الگ الگ کر دے گا۔ بعض علماء نے آیت کا یہ مطلب بیان کیا کہ جن متشابہات (کے مطلب) میں تم اختلاف کرتے ہو اس کو محکمات کی طرف لوٹا دو (یعنی ایسا مطلب مت بیان کرو جو آیات محکمات کے خلاف ہو ‘ مترجم) ۔ ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے :) یہی اللہ میرا رب ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسکی طرف رجوع کرتا ہوں۔ یعنی دشمنوں کی شرارتوں کو دفع کرنے میں اور تمام امور میں میں اسی پر اعتماد کرتا ہوں اور سخت مشکلات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) ۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے

فاطر السموت والارض جعل لکم من انفسکم ازواجاومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ وہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) چارپایوں کے جوڑے بنائے (اور) اس (جوڑے لگانے کی تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے۔ مَنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا تمہاری جنس (یعنی جنس انس) سے تمہارے جوڑے یعنی عورتیں پیدا کیں۔ وَمِنَ الْاَنْعَامَ اَزْوَاجًا اور چوپایوں کیلئے چوپایوں کی جنس کے جوڑے پیدا کئے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے لئے چوپایوں کی مختلف اصناف پیدا کیں ‘ یا تمہارے لئے چوپایوں کے نر اور مادہ پیدا کئے۔ یَذْرَؤکُمُ- ذَرْءٌ کا معنی ہے بکھیرنا ‘ پھیلانا ‘ مراد ہے کثیر کردینا۔ فِیْہِ یعنی (جوڑا بنانے کی) اس تدبیر میں اللہ تم کو پھیلا رہا ہے ‘ نسل کثیر کر رہا ہے۔ بعض نے فیہ کا مطلب بیان کیا رحم میں یا پیٹ میں ‘ یا فِی بمعنی بَ ہے ‘ یعنی اس طریقہ سے اللہ تم کو پھیلا رہا ہے۔ بعض نے کہا : جوڑے بنا بنا کر اللہ تم کو کثیر کر رہا ہے۔ لیس کمثلہ شیء کوئی چیز اس کی مثل نہیں۔ مثل کا لفظ زائد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے۔ مثل کے لفظ کی زیادتی مفید تاکید ہے ‘ جس طرح ایک اور آیت میں آیا ہے : فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ بعض کے نزدیک کمثلہٖ میں کاف زائد ہے ‘ یعنی اس کی مثل کوئی شے نہیں جو اس کی ہم پلہ اور اس سے جوڑ کھانے والی ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ بعض نے کہا : مثل کا لفظ مبالغہ مقصود ہو تو کہا جاتا ہے : تجھ جیسا آدمی یہ کام نہیں کرتا ‘ یعنی تو یہ کام نہیں کرتا۔ جب مخاطب کی مثل جو مخاطب کا ہم پلہ اور برابر کو ہو ‘ یہ کام نہیں کرتا تو مخاطب کا نہ کرنا بدرجۂ اولیٰ ثابت ہوجائے گا اور کنایہ کیلئے حقیقت کا وجود یا امکان ضروری نہیں ‘ جیسے کسی دراز قامت آدمی کو بطور کنایہ کہتے ہیں : فلاں طویل النجاد ہے ‘ یعنی فلاں شخص کا پرتلہ لمبا ہے یعنی وہ دراز قد ہے۔ اس کلام کی صداقت کیلئے ضروری نہیں کہ اس کا پرتلہ بھی ہو۔ اسی طرح آیت بل یداہ مبسوطتان سے بطور کنایہ سخی ہونا مراد ہے ‘ واقع میں ہاتھوں کا لمبا ہونا ضروری نہیں ‘ نہ ممکن ہے۔ بعض نے کہا : مثل کا معنی ہے صفت ‘ یعنی اس کی صفات کی طرف کسی کی صفات نہیں ہیں۔ وھو السمیع البصیر اور وہی ہے سننے والا (اور) دیکھنے والا۔ جو چیز سننے کے قابل ہے اس کو سنتا ہے اور جو چیز دیکھنے کے قابل ہے اس کو دیکھتا ہے ‘ یعنی حقیقت میں سننے اور دیکھنے ولا وہی ہے ‘ دوسرے سننے اور دیکھنے والے تو سماعت و بصارت اسی سے مانگتے ہیں۔ لیس کمثلہ شیء میں نفی مثل کی صراحت ہے ‘ اس سے یہ شبہ یا تو ہم ہوسکتا تھا کہ جب اسکی مثل نہیں تو اس کے اندر کوئی بھی صفت نہیں ہوگی ‘ اس شبہ کو آیت مذکورہ میں زائل کردیا۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ بےشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

لہ مقالید السموت والارض اسی کیلئے ہیں آسمان کے اور زمین کے خزانے۔ یعنی آسمانوں اور زمین میں رزق کے خزانے۔ کلبی نے کہا : (آسمان میں) بارش اور (زمین میں) سبزہ کے خزانے۔ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہے کم دیتا ہے (ترجمہ تھانوی) یعنی اپنی مشیت کے موافق رزق کی وسعت بھی وہی کرتا ہے اور تنگی بھی وہی کرتا ہے اور یہ سب کچھ امتحان و آزمائش کیلئے کرتا ہے۔ انہ بکل شیء علیم بلاشبہ وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی جیسا مناسب ہوتا ہے ‘ ویسا کرتا ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اسی نے تمہارے لئے دین کا وہی رستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے کا) نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمدﷺ) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے۔ الله جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگزیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف رستہ دکھا دیتا ہے

شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحیناالیک وماوصینا بہ ابرھیم وموسی و عیسیٰ ان اقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ (اے امت محمدی ! ) اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس نے اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے (اے رسول ! ) آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو (اور ان کی امتوں کو) دیا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ یعنی دین اسلام جو امت محمدیہ کیلئے مقرر کیا ہے ‘ وہ کوئی نیا دین نہیں ہے ‘ تمام انبیاء کا دین یہی رہا ہے۔ حق (ہر زمانہ میں) ایک ہی ہوتا ہے اور حق کے سوائے گمراہی کے اور کیا رہ جاتا ہے ( پس دین اسلام کے علاوہ ہر مذہب گمراہی ہے) اہل کتاب نے جو اسلام کا انکار کیا ‘ وہ محض دشمنی اور ضد کے زیراثر کیا۔ حضرت ابن مسعود راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے (سمجھانے کے) لئے ایک (سیدھی) لکیر کھینچی ‘ پھر فرمایا : یہ اللہ کا راستہ ہے۔ اس کے بعد اس لکیر سے دائیں بائیں کچھ لکیریں اور کھینچیں اور فرمایا : یہ (مختلف) راستے ہیں ‘ ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان بیٹھا اپنی طرف بلا رہا ہے۔ اس کے بعد آپ نے پڑھا : وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْا الخ ‘ رواہ احمد والدارمی والنسائی۔ یہ دین اسلام نام ہے ایک اللہ کی ذات اور صفات کو اور اس کے انبیاء کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے ملائکہ اور مرنے کے بعد (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھائے جانے کو اور جو کچھ انبیاء لے کر آئے ‘ سب کو ماننے کا اور اللہ کے حکم پر چلنے اور ممنوع باتوں سے باز رہنے کا۔ یہ ایمان و عمل تمام شریعتوں میں مشترک ہے ‘ سب شریعتیں اسی پر متفق ہیں۔ بعض علمی احکام کا منسوخ ہوجانا دین میں اختلاف پر دلالت نہیں کرتا (یعنی بعض شرائع کے بعض عملی احکام اگر شریعت اسلامیہ یا شریعت عیسویہ میں منسوخ کر دئیے گئے تو اس سے دینی وحدت میں کوئی فرق نہیں آتا) ایسا نسخ تو ایک ہی نبی کے احکام میں (مختلف اوقات میں) ہوا ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے سولہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ‘ پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور کعبہ کی طرف رخ کر کے آپ نماز پڑھنے لگے ‘ اس اختلاف حکم سے دین اسلام کی وحدت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسی طرح مختلف انبیاء کی شریعتوں میں اگر بعض فروع احکام میں اختلاف ہے تو اس سے ادیان کا اختلاف لازم نہیں آتا ‘ سب کا مآل ایک ہی ہے ‘ یعنی اللہ کے اوامر کا امتثال اور ممنوعات سے اجتناب۔ اَنْ اَقِیْمُوْ الدِّیْن ... اَوْحَیْنَا اور وَصَّیْنَا میں قول کا معنی مضمر ہے ‘ اس کی تفسیر اس آیت میں کردی ‘ اس صورت میں اَنْ مفسرہ ہوگا ‘ اَنْکو مصدری قرار دینا بھی صحیح ہے۔ اقامت دین کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو احکام تم کو دیں ‘ بغیر کسی انحراف اور کجروی کے اس پر عمل کرو۔ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ اور اپنی خواہشات و خیالات کی پیروی کر کے محض تعصب و ضد کے زیر اثر دین میں تفرقہ نہ ڈالو ‘ افکار و خیالات اور میلانات نے ہی امت محمدیہ کے تہتر ٹکڑے کر دئیے۔ رسول اللہ ﷺ کی مذکورۂ بالا حدیث مبارک میں ایک لکیر سیدھی اور دائیں باتیں متعدد مختلف لکیریں کھینچ کر اول لکیر کو راہ خدا اور دوسری لکیروں کو شیطانی راہیں قرار دینے کا بھی یہی مطلب ہے۔ رہا یہودیوں اور عیسائیوں کا ایمان نہ لانا تو اس کا سبب صرف تعصب وعناد تھا۔ حضرت علی نے فرمایا : تفرقہ پیدا نہ کرو ‘ جماعت رحمت ہے اور جماعت کا پھٹنا عذاب۔ حضرت ابوذر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جماعت کو ایک بالشت ترک کیا ‘ اس نے اسلام کی رسی اپنے گلے سے نکال دی ‘ رواہ احمد و ابوداؤد۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جماعت پر اللہ کا ہاتھ (ہوتا) ہے ‘ رواہ الترمذی بسند صحیح۔ حضرت معاذ بن جبل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شیطان ‘ انسان کیلئے بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا گلہ سے بچھڑی ہوئی اور دور جانے والی اور الگ چلنے والی بکری کو پکڑلیتا ہے (اسی طرح جماعت سے پھٹ جانے والے آدمی پر شیطان قبضہ کرلیتا ہے ‘ شاہراہ سے الگ) گھاٹیوں (پگڈنڈیوں) سے بچو ‘ جماعت اور جمہور کے ساتھ رہو۔ کبرعلی المشرکین ماتدعوھم الیہ اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینب مشرکین کو وہ بات بڑی گراں گذرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔ اللہ اپنی طرف جس کو چاہے کھینچ لیتا ہے اور جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اللہ اس کو اپنی جانب پہنچنے کی توفیق دیتا ہے۔ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ یعنی جس دین مستقیم کی آپ کافروں کو دعوت دے رہے ہیں اور جو توحید کا داعی ہے اور بت پرستی کو ترک کرنے کا حکم دے رہا ہے ‘ وہ مشرکوں پر بڑا شاق گذرتا ہے۔ اَﷲُ یُجْتَبِیْٓ اللہ چن لیتا ہے (کھینچ لیتا ہے) ۔ اِلَیْہِ اپنے دین کی طرف ‘ یا اپنی طرف ‘ یا اس شئ کی طرف جس کی آپ دعوت دے رہے ہیں۔ مَنْ یَشَآءُ جس کو چاہے ‘ خواہ چنا جانے والا شخص کوشش اور ارادہ کرے یا نہ کرے۔ مَنْ یُّنِیْبُ جو اس کی طرف متوجہ ہو۔ صوفیہ کہتے ہیں : جس کو اللہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ‘ وہ آدمی بےاختیار اس کی طرف کھنچ جاتا ہے تو ایسا آدمی مراد خداوندی ہوتا ہے ‘ یہ گروہ انبیاء اور صدیقین کا ہوتا ہے اور جو شخص اپنے ارادہ سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ‘ پھر اللہ اس کو اپنی ذات تک رسائی کی توفیق دیتا ہے تو ایسا شخص مرید ہوتا ہے ‘ یہ گروہ اولیاء اور اللہ کے نیک بندوں کا ہوتا ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

وما تفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیا بینھم اور بعد اسکے کہ ان کے پاس حکم پہنچ چکا تھا ‘ وہ لوگ محض آپس کی ضداضدی سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ وَمَا تَفَرَّقُوْا حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اہل کتاب کے فرقے فرقے نہیں بنے۔ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَھُمُ الْعِلْمُ مگر اس امر کے بعد کہ آسمانی کتابیں بھیجی جا چکی تھیں جن میں صراحت تھی کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے اور محمد ﷺ کے پاس اللہ نے جو وحی بھیجی ‘ وہ وہی وحی تھی جو حضرت ابراہیم ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے پاس بھیجی تھی۔ بَغْیًام بَیْنَھُمْ آپس کی ضدا ضدی سے۔ عطاء نے کہا : یعنی رسول اللہ ﷺ کے خلاف وہ مغرور ہوگئے اور تکبر کی وجہ سے انہوں نے ایسا کیا۔ قاموس میں ہے : بَغٰی علیہ بغیًا اونچا ہوگیا ‘ ظلم کیا ‘ انصاف نہ کیا ‘ بڑھ چڑھ گیا۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی لقضی بینھم اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک مقرر مدت تک ان کو مہلت دینے کا پہلے سے فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا تو (دنیا میں ہی) ان کا باہمی فیصلہ (ا اللہ کی طرف سے) ہوچکا ہوتا۔ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی روز جزاء تک عذاب کو مؤخر کر رکھنے کا حکم۔ لَّقُضِیَ بَیْنَھُمْ تو دنیا میں ہی انکے درمیان مؤمن و کافر کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ باطل پرستوں کی جڑ اکھاڑ دی جاتی اور حق پرستوں کو غلبہ عنایت کردیا جاتا۔ وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے (یعنی مشرکین مکہ) وہ اس کی طرف سے (ایسے قوی) شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے ان کو تردد میں ڈال رکھا ہے۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْکِتٰبِ یعنی یہودی اور عیسائی۔ مِنْم بَعْدِھِمْ یعنی اپنے انبیاء کے بعد یا گذشتہ امتوں کے بعد۔ بعض کے نزدیک مکہ کے مشرک مراد ہیں جن کو کتاب یعنی قرآن ‘ ان کے یعنی اہل کتاب کے بعد دیا گیا۔ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ اپنی کتاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘ کتاب پر جیسا ایمان رکھنا چاہئے ویسا ایمان نہیں رکھتے ‘ یا قرآن کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں جو ان کو تردد میں ڈالے ہوئے ہے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمدﷺ) اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا۔ اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا۔ اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں۔ خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے۔ ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا۔ ہم میں اور تم میں کچھ بحث وتکرار نہیں۔ خدا ہم (سب) کو اکھٹا کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

فلذلک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواء ھم سو آپ ان کو برابر دعوت دئیے جائیے اور خود بھی راہ مستقیم پر قائم رہئے جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے ‘ اور ان کی (نفسانی) خواہشوں پر نہ چلئے۔ فَلِذٰلِکَ یعنی اہل کتاب کے اس تفرقہ کی وجہ سے۔ فَادْعُ آپ لوگوں کو اقامت دین کی طرف بلاتے رہئے اور دین میں تفرقہ نہ کرنے اور قرآن پر چلنے کی دعوت دئیے جائیے۔ وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآءَھُمْ اور ان کی کج رفتار خواہشات پر نہ چلئے۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب وامرت لاعدل بینکم اللہ ربنا وربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالم لا حجۃ بیننا وبینکم اللہ یجمع بیننا والیہ المصیر اور آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میرا اس پر ایمان ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (اپنے اور) تمہارے درمیان عدل رکھوں۔ اللہ ہی ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ‘ ہماری تمہاری کچھ بحث نہیں۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اس میں شک نہیں کہ اسی کے پاس (سب کو) جانا ہے۔ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ مِنْ کِتٰبٍ یعنی اللہ کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں پر ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح میرا ایمان نہیں۔ یہ لوگ تو کہتے ہیں : ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے ‘ درمیان راہ نکالنا چاہتے ہیں۔ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ یعنی باہم بحث کرنے والوں کا فیصلہ کر دوں اور شرعی احکام پہنچا دوں۔ ایمان بما انزل سے قوت نظریہ کا استکمال ہوجاتا ہے اور عدل کرنے سے قوت عملیہ کی تکمیل۔ آمنت سے امر اول کی طرف اشارہ ہے اور اُمِرْت لِاَعْدِلَ سے دوسرے امر کی طرف اشارہ ہے۔ اَ اللہ رَبَّنَا وَرَبُّکُمْ یعنی اللہ سب کا خالق ہے اور تمام امور کا ذمہ دار ہے۔ لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ یعنی ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق بدلہ دے گا۔ لاَ حُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ہمارا تمہارا کوئی جھگڑا نہیں ‘ کوئی بحث نہیں۔ ہمارے اعمال سے تم کو ضرر نہیں پہنچے گا اور تمہارے اعمال سے ہمارا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ ہم محض خیرخواہی کے زیراثر تم کو اسلام کی دعوت دے رہے ہیں ‘ خصومت اور عداوت کی کوئی وجہ نہیں۔ حکم جہاد سے پہلے مکہ میں (قبل از ہجرت) اس آیت کا نزول ہوا تھا ‘ پھر (مدینہ میں) آیت جہاد نازل ہوئی جس سے آیت مذکورہ کا حکم منسوخ ہوگیا اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدْوِّیْ وَعَدْوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ ... الی قولہ ... بَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِ اللہ ِ وَحْدَہٗ میں کافروں سے موالات کی بھی ممانعت کردی۔ اَﷲُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا یعنی قیامت کے دن اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور ہمارا فیصلہ کر دے گا (کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر) ۔ ابن المنذر نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب سورت اذا جاء نصر اللہ والفتح ورأیت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا نازل ہوئی تو مشروں نے مکہ میں ان مؤمنوں سے جو ان کے پاس موجود تھے ‘ کہا : خدا کے دین میں گروہ گروہ داخل ہوگئے ‘ تم بھی یہاں سے چلے جاؤ ‘ کب تک ہمارے ہاں رہو گے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا (کے بارے) میں بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے۔ اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

والذین یحاجون فی اللہ من بعدما استجیب لہ حجتھم داحضۃ عندربھم وعلیھم غضب ولھم عذاب شدید اور جو لوگ اللہ کے (دین کے) معاملہ میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں بعد اسکے کہ وہ (رسول اللہ ﷺ مان لئے گئے ‘ ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر (ا اللہ کا) غضب (آنے والا) ہے ‘ اور ان کیلئے سخت عذاب ہے۔ وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللہ یعنی اللہ کے دین میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ عبدالرزاق نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جھگڑا نکالنے والوں سے مراد ہیں یہودی اور عیسائی (یعنی اہل کتاب) انہوں نے کہا تھا : ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے اور ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے ہے ‘ اسلئے ہم تم سے بہتر ہیں۔ یہی اہل کتاب کا جھگڑا تھا۔ مِنْم بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَہٗ بعد اس کے کہ لوگوں نے اس کی دعوت قبول کرلی اور مسلمان ہوگئے اور معجزات نیز حسن دعوت کی وجہ سے دین خداوندی میں داخل ہوگئے۔ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ ان کا جھگڑا اور بحث کرنا باطل ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس بات کو وہ دلیل و حجت خیال کرتے ہیں ‘ حقیقت میں وہ ایک لغو ‘ بےبنیاد شبہ ہے (وہ وہم کو فہم سمجھ بیٹھے ہیں) ۔ وَعَلَیْھِمْ غَضَبٌ اور چونکہ وہ خواہ مخواہ عناد رکھتے ہیں ‘ اسلئے ان پر اللہ کا غضب (آنے والا) ہے۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ اور کفر کی وجہ سے ان پر سخت عذاب ہوگا۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل وانصاف کی) ترازو۔ اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آ پہنچی ہو

اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن ‘ ترجمہ مولانا تھانوی) اور انصاف کو نازل فرمایا۔ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ یعنی اللہ ہی نے تو کتاب نازل کی جو برحق ہے ‘ یعنی باطل سے بہت دور ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ عقائد حقہ اور صحیح احکام کی تعلیم دیتی ہے۔ الکتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔ وَالْمِیْزَان قتادہ ‘ مجاہد اور مقاتل نے کہا : میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو ‘ انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے (اور عدل کا بھی معنی انصاف ہے) اسلئے عدل کو میزان کہا گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے پورا پورا تولنے کا حکم دیا اور تول میں کمی کرنے کی ممانعت فرمائی۔ بعض علماء کے نزدیک میزان سے مراد شریعت ہے ‘ شریعت سے حقوق کا صحیح توازن ہوتا اور انسانوں کے باہمی معاملات میں انصاف ہوتا ہے۔ ومایدریک لعل الساعۃ قریب۔ اور آپ کو (اس کی) کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی ہو ؟
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے۔ دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

یستعجل بھا الذین لایومنون بھاوالذین امنوا مشفقون منھا ویعلمون انھا الحق الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے ‘ اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ‘ وہ تو اس سے ڈرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ قیامت برحق ہے۔ یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں وہ بڑی گمراہی میں ہیں۔ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ یعنی ممکن ہے کہ قیامت کا آنا قریب ہو ‘ اسلئے آپ اس کتاب پر چلئے ‘ شریعت پر عمل کیجئے ‘ عدل کی پابندی کیجئے ‘ اس سے پہلے کہ قیامت کی گھڑی اچانک آجائے (اور عمل کرنے کا وقت ختم ہوجائے) اس وقت تمہارے اعمال تو لے جائیں گے اور اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا (ہکذا فسرہا الکسائی) الساعۃ مؤنث ہے اور قریب مذکر ہے ‘ دونوں میں توافق نہیں ہے ‘ اسلئے کسائی نے قریب کا فاعل محذوف قرار دیا ‘ یعنی قیامت کا آنا قریب ہے۔ بعض نے کہا : قریبکا لفظ اگرچہ مذکر ہے ‘ لیکن قرب والی (یعنی مؤنث) مراد ہے (گویا اس قائل کے نزدیک وزن فعیل مؤنث کیلئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : ساعت بمعنی بعث ہے (اور بعث مذکر ہے) اسلئے قریببصیغۂ مذکر ذکر کیا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کا تذکرہ کیا ‘ اس وقت آپ کے پاس کچھ مشرک بیٹھے ہوئے تھے ‘ انہوں نے بطور تکذیب کہا : بتاؤ ‘ قیامت کب آئے گی ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔ یَسْتَعْجِلُ بِھَا یعنی جن کا ایمان قیامت پر نہیں ‘ وہ بطور استہزاء قیامت کے جلد آجانے کے خواستگار ہوتے ہیں۔ مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا اہل ایمان کو چونکہ عذاب کا ڈر ہوتا ہے ‘ اسلئے وہ قیامت کے آنے سے ڈرتے ہیں۔ یُمَارُوْنَ جھگڑتے ہیں اور وقوع قیامت میں شک کرتے ہیں۔ قاموس میں ہے : مِرْیَۃٌ اور مُرْیَۃٌ شک ‘ جھگڑا کرنا۔ مَا راہ مما راۃً اس میں شک کیا۔ اسکا اصل لغوی معنی ہے : اونٹنی کے تھن کو دودھ دوہنے کیلئے سختی کے ساتھ دبانا۔ جھگڑا کرنے والے دونوں فریق بھی سخت کلامی کے ساتھ باہم جواب کے خواستگار ہوتے ہیں ‘ اسلئے اس جھگڑے کو مِرْیۃ کہا جاتا ہے۔ لَفِیْ ضَلٰلٍ یعنی حق سے بہت ہی بھٹکے ہوئے ہیں۔ قیامت اگرچہ بالفعل محسوس نہیں ہے لیکن قرآن ‘ حدیث اور صحیح عقل کی شہادت ہے کہ دارالجزاء کا ہونا ضروری ہے ‘ اسلئے کہا جاسکتا ہے کہ قیامت اس وقت ہماری نظروں سے غائب ہے اور محسوس نہیں ہے مگر محسوس سے بہت زیادہ مشابہ ہے (گویا نظروں کے سامنے ہی ہے) اب جو شخص قیامت کو نہیں جانتا اور اللہ کی ہمہ گیر قدرت کے باوجود وقوع قیامت کو قدرت کے احاطہ سے خارج سمجھتا ہے ‘ وہ بہت ہی گمراہ ہے اور مابعد کی زندگی کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

اللہ لطیف بعبادہ یرزق من یشاء وھو القوی العزیز اللہ (دنیا میں) اپنے بندوں پر مہربان ہے ‘ جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے ‘ اور وہی قوت والا (اور) زبردست ہے۔ اَﷲُ لَطِیْفٌ۔ لطیف کا ترجمہ ابن عباس نے کیا : بڑا مہربان۔ عکرمہ نے کہا : بندوں سے بھلائی کرنے والا۔ سدی نے کہا : نرمی کرنے ولا۔ مقاتل نے کہا : نیکوں اور بدوں پر ‘ سب پر مہربانی کرنے والا کہ بدکاروں کی خطاکاریوں کی وجہ سے کسی کو ہلاک نہ کرتا۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ نفع پہنچانے والا ‘ اور مصائب کا رخ پھیر دینے کی تدبیر وہ اپنے مخفی علی سے کرنے والا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا علم دقیقہ رس ہے ‘ اس کا حلم عظیم ہے۔ وہ بندے کی اچھائیاں پھیلاتا اور عیوب پر پردہ ڈالتا ہے ‘ بندے کی ضرورت سے زیادہ عطا کرتا اور بقدر برداشت طاعت کا حکم دیتا ہے۔ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآء یعنی جس کو جتنی چاہتا ہے ‘ روزی دیتا ہے۔ جیسا اسکی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے ‘ ویسا ہی اپنے احسان سے نوازتا ہے ‘ ہر مؤمن و کافر اور ہر جاندار کو رزق عطا فرماتا ہے۔ امام جعفر صادق نے فرمایا : اللہ نے رزق پہنچانے کی دو تدبیریں کی ہیں : (ا) اس نے تم کو پاکیزہ رزق عطا کیا۔ (2) کل رزق کسی کو یکدم اٹھا کر نہیں دے دیا۔ الْقَوِیُّ ایسا قدرت والا کہ اس کی قدرت ظاہر ہے۔ الْعَزِیْزُ ایسا غالب طاقتور کہ اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دیں گے۔ اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو تو ہم اس کو دنیا (اگر ہم چاہیں) تو دے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا۔ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ ۔ حرث اصل میں زمین میں دانہ بکھیرنے کو کہتے ہیں ‘ لیکن جو کھیتی تخم پاشی سے پیدا ہوتی ہے اس کو بھی حرث کہہ لیا جاتا ہے۔ قاموس میں ہے : حرثکمائی ‘ مال جمع کرنا ‘ کھیتی ‘ اس جگہ ثواب آخرت مراد ہے۔ ثواب آخرت کو زرع سے تشبیہ دی کیونکہ آخرت میں ملنے والا ثواب دنیوی اعمال کا پھل ہے ‘ اسی لئے دنیا کو آخرت کا کھیت کہا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں جو کام کیا جاتا ہے اس کا حاصل آخرت میں ملے گا تو گویا ثواب آخرت کمائی ہے۔ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرْثِہٖ یعنی اس کی کمائی یا کھیتی میں ہم ترقی دیں گے ‘ ایک کے بدلے دس اور دس سے بھی زیادہ سات سو گنا تک عطا کریں گے ‘ جیسے ایک دانہ سے ایک پودا پیدا ہو اور پودے میں سات بالیاں ہوں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا یعنی جو شخص اپنے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی چاہتا ہے۔ نُؤْتِہٖ مِنْھَا تو ہم دنیا میں ہی اس کو کچھ دے دیتے ہیں اور اتنا دیتے ہیں جتنا اس کیلئے ہم نے تقسیم کردیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اعمال صرف نیبوں کے ساتھ ہیں۔ ہر شخص کیلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ‘ پس جس کا ترک وطن اللہ اور رسول کی طرف آنے کیلئے ہو ‘ اس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہوگی اور جس کا ترک وطن دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کیلئے ہو ‘ اس کی ہجرت اسی کیلئے ہوگی جس کیلئے اس نے ہجرت کی ہوگی ‘ متفق علیہ۔ حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس امت کو خوشخبری دے دو (نام) روشن ہونے کی ‘ اونچی ہونے کی ‘ فتحیابی کی اور زمین پر اقتدار حاصل ہونے کی۔ امت میں سے جو شخص آخرت کا کام دنیا کیلئے کرے گا ‘ اس کیلئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ‘ رواہ البغوی۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یاذن بہ اللہ ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم کیا انکے کچھ شریک (خدائی میں) ایسے ہیں جنہوں نے ان کیلئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ اور اگر (ا اللہ کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھیرایا ہوا) نہ ہوتا تو (دنیا میں ہی) ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ ۔ ام منقطعہ بمعنی بَلْ اور ہمزہ انکاری ہے۔ لَھُمْ شُرَکَآء یعنی ان کے مفروضہ اور خودساختہ شرکاء۔ مَا لَمْ یَاْذَنَم بِہِ اللہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اسلام کے سوا دوسرا دین جس میں شرک ‘ انکار قیامت اور صرف دنیا کیلئے عمل کرنے کی تعلیم دی گئی ہو۔ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ یعنی پہلے کا طے شدہ قول فیصل کہ قیامت آنے سے پہلے ان کو (پوری) سزا نہیں دی جائے گی۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی کافروں اور مؤمنوں کے اختلاف کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا اور تکذیب کرنے والوں پر عذاب آچکا ہوتا ‘ مگر اللہ نے فرما دیا ہے : بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ ۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم اور بلاشہ ظالموں یعنی مشرکوں کیلئے (آخرت میں) دردناک عذاب ہے۔ ضمیر غائب کی جگہ اسم ظاہر (الظالمین) کی صراحت یہ بتانے کیلئے کی کہ وہ ظلم یعنی شرک کی وجہ سے عذاب الیم کے مستحق ہیں۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بڑا فضل ہے

تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (قیامت کے دن) آپ ظالموں (یعنی مشرکوں) کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے کئے ہوئے کاموں (یعنی شرک و معاصی) کی سزا سے ڈر رہے ہوں گے ‘ لیکن وہ (اعمال کا بدلہ اور عذاب) تو ان پر پڑ کر رہے گا ‘ یعنی ڈرنے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ والذین امنوا وعملوا الصلحت فی روضت الجنت لھم ما یشاؤن عند ربھم ذلک ھو الفضل الکبیر اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ‘ وہ جنتوں کے باغوں میں ہوں گے ‘ ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ملے گا جس کے وہ خواہش مند ہوں گے۔ یعنی اللہ کا بڑا فضل ہوگا۔ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ یعنی جنت کے اندر سب سے عمدہ اور تفریح کے مقامات۔ ذٰلِکَ یعنی جنت کی یہ نعمت جس کا ذکر کیا گیا۔ الْفَضْلَ الْکَبِیْرُ یعنی دنیوی نعمتیں جنت کے مقابلہ میں سب ہیچ ہیں۔