42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 42:1–2
(1۔ 2) حم عسق۔ ان الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد و ثنا فرمائی ہے۔ چناچہ حا سے اس کا حلم اور میم سے اس کا ملک اور عین سے علم اور سین سے اس کی عزت قاف سے اپنی مخلوق پر قدرت مراد ہے یا یہ کہ حا تمام ہونے والی لڑائیاں اور میم سے سلطنتوں کی تبدیلیاں اور عین سے ہر ایک وہ وعدہ جو ہوگا اور سین سے یوسف کے زمانہ کی طرح قحط سالی کے سال اور قافل سے ہر ایک ہونے والی تہمت مراد ہے یا یہ کہ ان لفاظ کے ذریعے قسم کھائی ہے کہ جو شخص خلوص کے ساتھ کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے گا اور اسی حالت میں اپنے پروردگار سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخل نہ کرے گا۔
Ayahs 42:3–4

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

(3۔ 4) اب فرماتے ہیں جیسا کہ اس سورت کو آپ پر وحی کے ذریعے بھیجا ہے اسی طرح ان رسولوں پر جو کہ آپ سے پہلے ہوئے وحی بھیجتا رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ جو کہ کافر کو سزا دینے میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے اس نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں زبردست اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے جتنی بھی مخلوقات ہیں سب اسی کے بندے ہیں وہ ہی سب سے بڑا اور بلند ہے۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے یا یہ کہ یہودیوں کی باتوں سے ایک دوسرے کے اوپر سے پھٹ پڑیں اور آسمانوں میں فرشتے اپنے رب کی تسبیح و تمہید کرتے رہتے ہیں اور جو زمین پر بااخلاص مومن ہیں ان کے لیے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں اچھی طرح سن لو کہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت پر مرنے والے پر رحمت کرنے والا ہے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

اور جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ بتوں کو کارساز ٹھہرا رکھا ہے اور وہ ان کو پوجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ ان کے بجائے آپ کی پکڑ کی جائے اور اسی طرح ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر قرآن عربی نازل کیا ہے تاکہ آپ قرآن کریم کے ذریعے سے سب سے پہلے مکہ والوں اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن کی آفتوں سے بھی ڈرائیں جس میں تمام آسمان و زمین والے جمع ہوں گے جس دن میں کوئی شک نہیں ان جمع ہونے والوں میں سے مسلمانوں کا گروہ جنت میں اور ایک گروہ کافروں کا دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہود و نصاری اور مشرکین سب کو ایک طریقہ کا یعنی دین اسلام کو قبول کرنے والا بنا دیتا۔ باقی وہ جس کو چاہتا ہے دین اسلام کی دولت نصیب کرتا ہے اور یہود و نصاری اور مشرکین کا نہ کوئی فائدہ پہنچانے والا دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار کہ ان کو اس عذاب سے بچا سکے۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

کیا ان لوگوں نے اللہ کے علاوہ دوسروں کارسازوں کو معبود قرار دے رکھا ہے اللہ ہی ان سب کا کارساز ہے وہ ہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی مارنے اور جلانے ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

اور دین کی جس جس بات میں تم اختلاف کرتے ہو تو اس کا حکم قرآن پاک میں تلاش کرو میرے پروردگار نے تمہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے میں اسی پر توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہارے ہی جیسے آدمی پیدا کر کے تمہارے جوڑے بنائے تمہیں رحموں میں پیدا کرتا رہتا ہے یا یہ کہ اسی کے ذریعے سے تمہاری نسل چلاتا ہے صفت وقدرت علم و تدبیر کوئی چیز بھی اس جیسی نہیں وہ تمہاری باتوں کا سننے والا اور تمہارے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

اسی کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کے خزانے یعنی بارش و نباتات جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم دیتا ہے اور وہ فراخی و کمی سب کو جاننے والا ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

اے امت محمدیہ تمہارے لیے وہی دین اسلام پسند کیا جس کا ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں اور خود بھی اسی پر ثابت قدم رہیں اور جس کو اے نبی کریم ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، یعنی قرآن کریم آپ کو بھی ہم نے دین اسلام کی طرف مخلوق کو بلانے اور خود بھی اسی پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے اور جس دین اسلام کو ہم نے حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے منتخب کیا تھا ان کو بھی اسی پر قائم رہنے اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو حکم دیا تھا کہ متفق ہو کر اسی دین پر قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ مت ڈالنا۔ قرآن حکیم اور توحید کی طرف جو آپ لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو یہ بات بڑی ناگوار گزرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اپنے دین کی طرف جسے چاہے کھینچ لیتا ہے اور وہ ایسا شخص ہے جو اسلام ہی کی حالت میں پیدا ہوا اور اسی پر مرتا ہے اور ایسے ہی کافروں میں سے جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنے دین کی توفیق عطا کردیتا ہے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

اور یہود و نصاری نے قرآن کریم اور رسول اکرم اوردین اسلام کے بارے میں جو اختلاف اور رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کیا اس کے باوجود کہ ان کی کتابوں میں آپ کی نعت و صفت آچکی تھی یہ حسد اور باہمی ضد کی وجہ سے کیا ہے۔ اور اس امت سے ایک معین وقت تک عذاب کے موخر ہونے کی بات پہلے سے قرار نہ پاچکتی تو ابھی تک یہود و نصاری کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو رسولوں یا یہ کہ پچھلی امتوں کے بعد توریت دی گئی وہ اس توریت یا یہ کہ قرآن کریم کی طرف سے بالکل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

سو آپ اپنے پروردگار کی توحید اور اس کی کتاب کی طرف ان کو برابر بلاتے رہیے اور جس طرح قرآن حکیم میں آپ کو حکم ہوا ہے اسی کی توحید پر قائم رہیے اور یہودیوں کے قبلہ اور ان کے دین پر نہ چلیے۔ اور کہیے اللہ نے جتنی کتابیں انبیاء کرام پر نازل کی ہیں ان پر ایمان لاتا ہوں اور مجھے قرآن کریم میں یہ بھی حکم ہوا کہ توحید کے ساتھ تمہارے درمیان انصاف رکھوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے وہ قیامت کے دن ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا ہمارے لیے اللہ کی عبادت اور دین اسلام ہے اور تم پر تمہارے اعمال ہیں یعنی بتوں کی پرستش اور شیطانی دین ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی دینی خصومت نہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کردے گا اور مومنوں اور کافروں سب کو اسی کے پاس جانا ہے۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

اور یہود و نصاری جو دین خداوندی میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ کتاب میں مان لیا گیا یا یہ کہ وہ مشرکین ہیں جو کہ اس میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ میثاق کے دن تسلیم کرلیا گیا سو ان کی دشمنی غلط ہے ان پر اللہ کا غصہ اور سخت عذاب ہوگا۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو مشرکین نے مکہ مکرمہ میں ان مسلمانوں سے کہا جو وہاں متیم تھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جماعتوں کی شکل میں داخل ہورہے ہیں تو ہمارے دمیان سے نکلو پھر کیوں یہاں ٹھہرے ہوئے ہو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی عینی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ اور عبدالرزاق نے قتادہ سے آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ لوگ یہود و نصاری ہیں جو مسلمانوں سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے اور ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہم تم سے بہتر ہیں۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

اللہ ہی ہے جس نے بذریعہ جبریل امین قرآن حکیم نازل کیا ہے جس میں حق و باطل کو اور عدل و انصاف کو بیان کردیا گیا ہے اور محمد آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

ابوجہل وغیرہ جو اس کا یقین نہیں کرتے وہ قیامت کے قائم ہونے کی جلدی مچاتے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی جو رسول اکرم اور قرآن کریم اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قیامت کے قیام اور اس کی سختیوں سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ قیامت ضرور قائم ہوگی۔ یاد رکھو جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے اور شک کرتے ہیں، وہ حق و ہدایت سے بڑی دور گمراہی میں ہیں۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خواہ نیک ہوں یا بد مہربان ہے، یا یہ کہ ان کو علم کی دولت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے مال کی وسعت عطا کرتا ہے، وہ بندوں کو رزق دینے میں قوت والا اور کافر کو سزا دینے میں زبردست ہے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے نیک اعمال کر کے آخرت میں ثواب چاہتا ہو تو ہم اس کے ثواب یا یہ کہ اس کی قوت و نشاط اور اعمال کی خوبی میں ترقی کرتے ہیں جو اپنے اعمال کے ذریعے سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں دنیاوی ترقی کا طالب ہو تو ہم اسے کچھ دنیا دے دیں گے اور جنت میں اسے کچھ ثواب نہ ملے گا کیونکہ اس نے غیر اللہ کے لیے کام کیے ہیں۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

کیا ان کفار مکہ کے کچھ ایسے معبود ہیں جنہوں نے ان کافروں یعنی ابوجہل وغیرہ کے لیے ایسا دین پسند کیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب کا فیصلہ نہ ہوگیا ہوتا تو ان کا خاتمہ ہوچکا ہوتا اور ان کافروں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو دردناک عذاب ہوگا۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے

آپ قیامت کے دن ان کافروں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال و اقوال کفریہ کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے اور جس سے ڈر رہے ہیں وہ ان پر ضرور ہوگا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے یعنی حضرت ابوبکر صدیق وہ جنت کے باغوں میں ہوں گے اور وہ جنت میں جس چیز کی خواہش و تمنا کریں گے وہ ان کو ملے گی یہی جنت بہت بڑا احسان ہے۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے

یہی فضیلت ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے ان بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے۔ اے محمد آپ اپنے اصحاب یا مکہ والوں سے یوں کہیے کہ میں توحید و قرآن پر تم سے اور کوئی مطلب نہیں چاہتا سوائے اس بات کے کہ میرے بعد رشتہ داری کا پاس رکھو اور حسن بصری نے یہ تفسیر فرمائی کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ توحید اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو اور فراء نے فرمایا یہ مطلب ہے کہ سوائے اس کے کہ تم بذریعہ مورت اللہ کا قرب حاصل کرو اور جو شخص ایک نیکی کرے گا تو ہم اس میں نو نیکیوں کا اضافہ کردیں گے اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور بڑا قدردان ہے کہ معمولی چیز کو قبول فرماتا اور اس پر اجر عظیم عطا کرتا ہے۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے

اور یہ تو یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد نے اللہ پر بہتان لگایا ہے ان کفار کی یہ بات سن کر رسول اکرم غمگین ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے یا یہ کہ آپ کے قلب مبارک کو محفوظ رکھے۔ اور اللہ تعالیٰ تو شرک اور اس کے ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے دین اسلام کو اپنی تائید سے غلبہ دیا کرتا ہے اور وہ دلوں میں بھی جو نیکی اور برائی ہے سب کو جانتا ہے اور وہ تو ایسا ہے جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔ شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا (الخ) امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ انصار کہنے لگے کاش ہم رسول اکرم کے لیے مال جمع کردیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قل ما اسئلکم علیہ من اجر (الخ) یعنی آپ یوں کہیے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا سوائے اس رشتہ داری کی محبت کے تو اس پر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ اس واسطے فرمایا تاکہ آپ کے گھر والوں کی طرف سے لڑا جائے اور ان کی مدد کی جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

(25۔ 25) اور ان لوگوں کی مغفرت کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے فضل سے جنت میں ان کو ثواب و اعزاز میں ترقی دیتا ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنا دیدار نصیب فرماتا ہے اور ابوجہل وغیرہ کے لیے تو سخت عذاب ہے۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کو مال کی وسعت عطا کردیتا ہے تو وہ دنیا میں سرکشی کرنے لگتے لیکن جس پر چاہتا ہے فراخی کرتا ہے وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں اور ان کے اعمال سے باخبر ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

اور وہ ایسا ہے جو بارش سے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتا ہے اور بارش کے ذریعے اپنی رحمت نازل کرتا ہے اور وہ کارساز ہے کہ ہر سال بارش برساتا ہے اور سب کاموں میں قابل تعریف ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

اور اس کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو کہ اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں یہ سب تمہارے لیے نشانیاں ہیں اور وہ ان سب کے زندہ کرنے پر بھی جب چاہے قدر ہے۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے

یعنی تمہیں جو بھی کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی خود کے اعمال سے ہی پہنچتی ہے اور وہ تمہارے بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے کہ ان پر وہ تم سے کچھ باز پرس نہیں کرتا ہے۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

اور تم عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے اور عذاب الہی کے سامنے کوئی رشتہ دار تمہارے کام نہیں آسکتا اور نہ کوئی مددگار تم سے اس عذاب کو دور کرسکتا ہے۔
Ayahs 42:32–33

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

(32۔ 33) اور منجملہ اس کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیوں میں سے پہاڑوں کی طرح اونچے جہاز ہیں اگر وہ چاہے تو اس ہوا کو ٹھہرا دے جس سے وہ جہاز چلتے ہیں تو پھر وہ سمندر کی سطح پر کھڑے ہی رہ جائیں۔ ان مذکورہ باتوں میں اطاعت خداوندی پر ثابت قدم رہنے والے اور نعمت خداوندی کا شکر کرنے والے کے لیے نشانیاں ہیں۔
Ayah 42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے اور بہت سے قصور معاف کر دے

یا اگر وہ چاہے تو ان جہازوں کو سمندر میں ان کے سواروں کے اعمال بد کی وجہ سے تباہ کردے مگر وہ تو انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتا۔
Ayah 42:35

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور (انتقام اس لئے لیا جائے کہ) جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ جان لیں کہ ان کے لئے خلاصی نہیں

تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوجائے جو کہ رسول اکرم کی تکذیب کرتے ہیں کہ عذاب خداوندی کے مقابلہ میں کہیں جائے پناہ نہیں۔
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

(لوگو !) جو (مال و متاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

اور جو کچھ تمہیں مال و متاع دیا گیا ہے وہ عارضی ہے باقی نہیں رہ سکتا ہے یعنی کہ وہ فانی ہے اور اجر وثواب بدرجہا اس متاع دنیوی سے بہتر اور دیرپا ہے اور یہ اجر وثواب ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لے آئے یعنی حضرت ابوبکر صدیق وغیرہ اور اپنے رب پر توکل اور بھروسا کرتے ہیں۔ دنیاوی مال پر کسی قسم کا بھروسا نہیں کرتے۔
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں

اور جو شرک اور زنا اور گناہوں سے بچتے ہیں اور جب ان کو ظلم اور زیادتی پر غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور اپنے کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے انکو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

اور جو لوگ توحید و اطاعت کی تعمیل میں اپنے رب کا کہنا مانتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو باہم مشورہ کر کے پھر اس پر عمل کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں

اور جو ان پر کسی کی طرف سے ظلم ہوتا ہے تو پورا پورا بدلہ لیتے ہیں کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسے ہی جو شخص ظالم کے ظلم کو معاف کردے اور اس کا بدلہ نہ لے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے حقیقت میں اللہ تعالیٰ سے ابتدا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔