41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 41:1
حم۔ یعنی جو امور ہونے والے ہیں ان سب کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے یا یہ کہ یہ ایک قسم ہے۔
Ayah 41:2

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ رحمن و رحیم کی طرف سے رسول اکرم پر نازل کیا جاتا ہے۔
Ayah 41:3

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

یہ ایک کتاب ہے جس میں اوامرو نواہی اور حلال و حرام صاف صاف بیان کیے گئے ہیں اور ایسا قرآن ہے جو عربی زبان میں جبریل امین کے ذریعے رسول اکرم پر نازل کیا گیا ہے ایسے لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 41:4

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

جنت کی خوشخبری دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا ہے یعنی قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری دیتا ہے اور اس کا انکار کرنے والوں کو دوزخ سے ڈراتا ہے۔ مگر مکہ والوں نے رسول اکرم پر ایمان لانے اور قرآن کریم کے ماننے سے اعراض کیا اور وہ نہ حضور اکرم اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Ayah 41:5

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

اور کفار مکہ یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور توحید کے بارے میں ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں اور ہمارے کانوں میں بہرہ پن ہے آپ جو ہم سے کہتے ہیں ہم اسے نہیں سنتے اور کفار اپنے سروں پر بطور مذاق کے کپڑا ڈال لیا کرتے تھے پھر کہتے تھے کہ محإد آپ کے اور ہمارے درمیان ایک پردہ حائل ہے ہم آپ کی باتوں کو نہیں سنتے۔
Ayahs 41:6–7

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

(6۔ 7) سو آپ اپنے دین پر اپنے اللہ سے ہماری ہلاکت کی تدبیر کیجیے ہم اپنے طریقہ پر اپنے معبودوں سے درخواست کر رہے ہیں۔ محمد آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں بھی تم ہی جیسا انسان ہوں میرے پاس بذریعہ قرآن کریم جبریل امین یہ وحی لائے تاکہ میں تمہیں باخبر کردوں کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تو شرک سے توبہ کر کے اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی توحید کا اقرار کرلو سو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ جو کلمہ لا الہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے اور موت کے بعد جی اٹھنے اور جنت و دوزخ کے منکر ہیں ان کے لیے جہنم میں خون اور پیپ کی ایک وادی ہے اسے ویل بھی کہا جاتا ہے۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے ان کے لیے ایسا ثواب ہے جو کہ کم ہونے والا یا یہ کہ ختم ہونے والا نہیں اور کہا گیا ہے کہ بڑھاپے یا مرنے کے بعد بھی قیامت تک ان کے اعمال کا ثواب لکھا جاتا رہے گا جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 41:9

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ کیا تم لوگ ایسے اللہ کی توحید کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو اتوار اور پیر کے دن میں پیدا کیا اور تم بتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ ہر ایک جاندار کا پروردگار ہے۔
Ayahs 41:10–11

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

(10۔ 11) اور اس نے زمین کے اوپر مضبوط پہاڑ بنا دیے جو اس کے لیے میخیں ہیں اور زمین میں پانی درخت سبزیاں اور پھل پیدا کیے اور اس نے زمین میں معیشت اور غذا کی چیزیں پیدا کردیں جو اس زمین کے علاوہ اور مقام پر نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے روحوں کو جسموں سے دنیاوی سالوں کے اعتبار سے چار ہزار سال پہلے پیدا کیا جسموں سے چار ہزار سال پہلے ان کی روزیاں مقرر کردیں۔ یہ تمام چیزیں پوری ہیں خواہ کوئی پوچھے یا نہ پوچھے یا یہ کہ سوال کرنے والوں کے لیے جنہوں نے ان چیزوں کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال کیا تھا یہ جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا۔ پھر آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا وہ پانی کے بخارات کی طرح تھا پھر آسمان زمین کے بنانے سے فارغ ہونے کے بعد ان دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں جو تمہارے اندر پانی اور سبزیاں رکھی ہیں خواہ خوشی سے لے کر آؤ یا زبردستی سے لے آؤ وہ دونوں کہنے لگے ہم بخوشی لارہے ہیں مخلوق کو ہم تکلیف پہنچانا ناگوارا نہیں کرتے۔
Ayah 41:12

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

غرض کہ اللہ تعالیٰ نے دو روز میں اوپر نیچے سات آسمان بنا دیے کہ ہر ایک دن کی مقدار ہزار سال کے برابر تھی اور ہر ایک آسمان پر اس کے رہنے والے پیدا کردیے اور اس کے لیے مناسب حکم بھیج دیا اور سب سے پہلے آسمان کو ستاروں سے سجا دیا اور ستاروں کے ذریعے شیاطین سے اس کی حفاظت کی چناچہ بعض ستارے تو آسمان کی زینت ہیں کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے اور بعض خشکی سمندری اور تاریک راستوں میں مسافروں کو راستہ بتاتے ہیں اور بعض شیاطین کے مارنے کے لیے مقرر ہیں۔ یہ اس ذات کی طرف سے تدبیر ہے جو کافر کو سزا دینے پر غالب اور مومن و کافر کو اور اس تدبیر کو جاننے والا ہے۔
Ayah 41:13

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

اگر یہ کفار مکہ ایمان لانے سے انکار کریں جیسا کہ عتبہ اور اس کے ساتھی تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہیں بذریعہ قرآن کریم ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا کہ عاد اور ثمود پر نازل ہوا تھا۔
Ayahs 41:14–15

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

(14۔ 15) جبکہ عاد وثمود سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ان کی قوم کی طرف رسول آئے اور انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے سوا اور کسی کی توحید کا اقرار مت کرو تو ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو یہی جواب دیا کہ اگر اللہ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجنا منظور ہوتا تو اپنے پاس سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا تو جو چیز تم لے کر آئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ تم تو ہمارے ہی جیسے ایک انسان ہو اور قوم ہود ایمان لانے سے ناحق تکبر کرنے لگی اور کہنے لگی کہ جسمانی اور مالی طاقت میں کون ہم سے بڑھ کر ہے جو ہمیں ہلاک کرے گا کیا ان کو یہ نظر نہ آیا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ ہے۔ اور ان کے ہلاک کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ غرضیکہ یہ ہماری کتاب اور ہمارے رسول ہود کا انکار کرتے رہے۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

تو ہم نے ان پر ایک سخت ٹھنڈی ہوا ایسے دنوں میں بھیجی جو نزول عذاب الہی ہونے کی وجہ سے ان کے حق میں سخت تھی تاکہ اس دنیوی زندگی میں سخت عذاب چکھائیں۔ اور آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت ہے اور عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کی کچھ مدد نہ کی جائے گی۔
Ayahs 41:17–18

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

(17۔ 18) اور قوم صالح کی طرف ہم نے صالح کو بھیجا اور انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کفر و ایمان اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کیا تو انہوں نے کفر کو ایمان کے مقابلے میں پسند کیا تو ان کو سخت ترین عذاب نے گھیر لیا ان کے کفریہ اقوال و افعال اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے اور ان لوگوں کو نجات دی جو حضرت صالح پر ایمان لائے تھے اور کفر و شرک اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرتے تھے۔
Ayah 41:19

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

قیامت کے دن جبکہ صفوان بن امیہ اور اس کے دونوں داماد ربیعہ بن عمرو اور تمام کفار کو دوزخ کی طرف لایا جائے گا اور پھر ترتیب وار روکے جائیں گے۔
Ayah 41:20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب آجائیں گے تو ان کے کان ان کی سنی ہوئی باتوں اور آنکھیں ان کی دیکھی ہوئی اور ان کے اعضاء ان کے اعمال بد کے بارے میں گواہی دیں گے۔
Ayah 41:21

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

تو وہ لوگ اپنے اعضاء یا یہ کہ اپنی شرمگاہوں سے کہیں گے کہ تم نے ہماری خلاف کیوں گواہی دی جبکہ ہم تمہارے ذریعے لڑائی جھگڑے روکا کرتے تھے وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس قادر مطلق نے بولنے کی طاقت دی تھی اور اسی کے پاس مرنے کے بعد تم لائے گئے ہو۔
Ayah 41:22

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

اور تم اپنے اعضاء کو اس بات سے روکنے پر قادر نہ تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان تمہارے خلاف گواہی دیں یا یہ کہ تم دنیا میں اپنے اعضاء سے کسی طرح بھی ان کے اعمال کو چھپا نہیں سکتے تھے تاکہ تمہارے خلاف گواہی نہ دیں یا یہ کہ تم اس چیز پر تو بالکل یقین ہی نہ کرسکتے تھے کہ قیامت کے دن تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں۔ شان نزول : وَمَا كُنْتُمْ تَسْـتَتِرُوْنَ (الخ) امام بخاری و مسلم اور ترمذی اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ بیت اللہ کے قریب تین افراد نے آپس میں بحث کی جن میں دو قریشی اور ایک ثقفی یا یہ کہ ایک قریشی اور دو ثقفی تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا تمہاری کیا رائے ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں کو سنتا ہے، دوسرا کہنے لگا اگر زور سے باتیں کریں تو سنتا ہے اور اگر آہستہ گفتگو کریں تب نہیں سنتا، تیسرا کہنے لگا اگر وہ زور سے کی ہوئی باتوں کو سنتا ہے تو آہستہ کی ہوئی باتوں کو بھی سنتا ہے، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی اور تم اس بار تو خود کو چھپا ہی نہیں سکتے۔
Ayahs 41:23–24

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

(23۔ 24) مگر تم اس گمان اور دعوے میں رہے کہ ہم خاموشی کے ساتھ کام کرتے اور باتیں کرتے ہیں اس کی اللہ کو خبر نہیں اور تمہارے اسی جھوٹے گمان نے جو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تمہیں ہلاک کردیا۔ کہ تم سزا کی وجہ سے خسارہ میں پڑگئے اب خواہ تم دوزخ میں صبر کرو یا نہ کرو دوزخ تمہارا ٹھکانا ہے۔ اور اگر دنیا میں پھر واپس جانے کی درخواست کرو تو تمہیں دنیا میں اب ہرگز واپس نہیں بھیجا جائے گا۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

اور ہم نے ان کفار کے لیے کچھ مددگار اور شرکاء شیاطین میں سے مقرر کردیے تھے سو انہوں نے ان کی نظروں میں یہ چیز پسندیدہ بنا دی تھی کہ آخرت کے امور میں سے جنت دوزخ اور بعث کچھ نہیں اور امور دنیا میں سے کچھ نہیں یعنی کچھ خرچ مت کرو اور یہ کہ دنیا باقی ہے فانی نہیں ان لوگوں کے حق میں بھی ان لوگوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ عذاب پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے جن و انس میں سے کفار گزرے ہیں۔ یقینا وہ سب بھی سزا کی وجہ سے خسارہ میں رہے۔
Ayah 41:26

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

اور ابو جہل اور اس کے ساتھی سب ملکر یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو جو محمد تمہارے سامنے پڑھتے ہیں اور اس کے بیچ میں شور و غل مچا دیا کرو شاید تم ہی محمد پر غالب رہو اور آپ خاموش ہوجائیں۔
Ayah 41:27

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

ہم ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو دنیا میں بدر کے دن سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اور ان کو ان کے برے اعمال کی سزا دیں گے جو وہ دنیا میں کرتے تھے۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

ان کی دنیا میں یہی سزا ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی سزا دوزخ ہے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اس بات کے بدلے میں کہ وہ رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کیا کرتے تھے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

اور دوزخ میں یہ کفار کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں وہ دونوں دکھلا دیجیے جنہوں نے ہمیں حق و ہدایت سے گمراہ کیا ہے یعنی جنوں میں سے ابلیس کو اور انسانوں میں سے قابیل کو جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا ہے یا یہ کہ جنوں میں سے ابلیس اور شیاطین کو اور انسانوں میں سے ہمارے سرداروں کو تاکہ ہم اس عذاب میں ان کو پیروں تلے روند ڈالیں تاکہ وہ عذاب کے ذریعے خوب ذلیل ہوں۔
Ayah 41:30

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

اس کے بجائے جو حضرات توحید خداوندی کے قائل ہوگئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے اور اس کے بعد کوئی کفریہ کام نہیں کیا یا یہ کہ فرائض کی ادائیگی پر ثابت قدم رہے اور لومڑی کی طرح مکاری اور چالاکی نہیں کی تو ان لوگوں کی روحوں کے قبض کے وقت فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ آئندہ آنے والے ہیولوں سے اندیشہ نہ کرو اور نہ دنیا کے چھوڑنے پر افسوس کرو اور جنت کے ملنے پر خوش رہو جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا تھا۔
Ayahs 41:31–32

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

(31۔ 32) اور ہم تمہارے ساتھی تھے دنیوزی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے یہ حفظہ فرشتے ہوں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز اس میں تمہارے لیے جو مانگو گے موجود ہے۔ یہ تمہارے لیے ثواب اور کھانا و پینا بطور مہمانی کے ہوگا اس ذات کی طرف سے جو تائب کی مغفرت فرمانے والا اور اس حالت میں مرنے والے پر رحیم ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

اور اس سے زیادہ محکم یا یہ کہ بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے جو لوگوں کو توحید کی طرف بلائے یعنی رسول اکرم کی ذات اقدس اور فرائض کو ادا کرے نیز کہا گیا ہے کہ یہ آیت موذنوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی جو اذان کے ذریعہ سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے اس سے بہتر کس کی بات ہوسکتی ہے اور خود بھی مغرب کی اذان کے علاوہ اور اذانوں کے بعد دو رکعتیں پڑھے اور اسلام کا اقرار کرے اور کہے کہ میں بیشک مومن ہوں ان اوصاف کے مالک رسول اکرم کی ذات بابرکت اور آپ کے اصحاب ہیں۔ اور رسول اکرم کا توحید کی طرف دعوت دینا اور ابو جہل کا شرک کی طرف بلانا یہ دونوں باتیں برابر نہیں ہوسکتیں یا یہ کلمہ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

اے محمد آپ کلمہ لا الہ الا اللہ کے ذریعے ابو جہل کے شرک کو ٹال دیا کیجیئے یا یہ کہ آپ ابوجہل کی برائی کو اپنے اوپر نیک برتاؤ اور حسن خوبی و نرمی کلامی سے ٹال دیا کیجیے۔ جب آپ اس طریقے پر عمل کریں گے تو مثلا ابو جہل جس کو آپ سے دینی دشمنی تھی وہ ایسا ہوجائے گا جیسا کوئی قریبی رشتہ دار ہوتا ہے۔
Ayah 41:35

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

اور آخرت میں جنت ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشقتوں اور دشمن کی تکلیفوں پر دنیا میں صبر کرتے ہیں اور یہ بدی کو نیکی سے ٹال دینے کی توفیق ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو جنت میں ثواب کامل کے اعتبار سے بڑے نصیب والے ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اکرم اور آپ کے صحابہ کرام۔
Ayah 41:36

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

اگر ابو جہل کی سختیوں کی وجہ سے شیطان کی طرف سے غصہ کا کچھ خیال آنے لگے تو اس شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ لیا کیجیے وہ ابو جہل کی باتوں کو سننے والا اور اس کی سزا سے باخبر ہے یا یہ کہ آپ کے استفادہ کو سننے والا اور وسوسہ شیطان کو جاننے والا ہے۔
Ayah 41:37

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے رات ہے اور دن ہے سورج ہے اور چاند ہے یہ سب قدرت الہیہ کی نشانیاں ہیں لہٰذا نہ سورج کی عبادت کرو اور نہ چاند کی اور اسی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے چاند سورج رات اور دن کو پیدا کیا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے یا یہ کہ اگر تم چاند و سورج کی پوجا کو عبادت خداوندی سمجھتے ہو تو پھر ان کی پوجا نہ کرو اللہ کی عبادت ان کی عبادت کے چھوڑنے میں ہے۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

پھر یہ لوگ ایمان لانے اور عبادت خداوندی سے تکبر کریں تو جو فرشتے آپ کے رب کے مقرب ہیں وہ رات دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور عبادت خداوندی سے ذرا نہیں بیزار ہوتے اور تھکتے۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

اور اس کی قدرت اور توحید کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو بنجر دیکھتا ہے پھر جب ہم اس بارش برساتے ہیں تو وہ اس سے پھولتی اور سبزیوں کے ساتھ ابھرتی اور اس میں کثرت کے ساتھ پیداوار ہوتی ہے یا یہ کہ وہ سبزیوں کے ساتھ پھولتی ہے۔ تو جس ذات نے زمین کے بنجر ہوجانے کے بعد پھر اس کو تروتازہ کردیا وہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کردے گا وہ مارنے اور جلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
Ayah 41:40

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

بیشک جو لوگ ہماری نشانیوں یعنی رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ تکذیب کرتے ہیں، ان کی باتوں میں سے کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔ شان نزول : اَفَمَنْ يُّلْقٰى (الخ) ابن منذر نے بشیر بن فتح سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ ابو جہل اور حضرت عمار بن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔