42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں

اور جو اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد پورا پورا بدلہ لے لے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا

گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو کسی بدلہ کے بغیر ظلم کی شروعات کرتے ہیں اور ناحق دنیا میں زیادتی کرتے اور تکبر کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

اور جو شخص دوسرے کے ظلم پر صبر کرے اور معاف کردے اور اس سے کسی قسم کا بدلہ نہ لے تو یہ صبر اور معاف کردیتا بہترین کاموں میں سے ہے یا یہ کہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ والذین یجتنبون الفواحش سے لمن عزم الامور۔ تک یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی عمرو بن غزیہ انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے دونوں کے درمیان کچھ تیز کلامی اور جھگڑا ہوا تھا تو انصاری نے حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں گستاخی کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟

اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردے اس کو اللہ کے علاوہ اور کوئی راہ پر لانے والا نہیں اور آپ قیامت کے دن مشرکین یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو دیکھیں گے کہ جس وقت وہ عذاب کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے کہ دنیا میں واپس جانے کی کوئی تدبیر ہوسکتی ہے۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا دیکھو ! کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے

اور دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت اور غم کی وجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے سست نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ اور ایمان والے کہیں گے کہ پورے خسارہ والے وہ لوگ ہیں جو جنت میں اپنی جانوں اور اپنے خادموں کی وجہ سے خسارہ میں رہے یقینا یہ مشرک دائمی عذاب میں ہوں گے۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں

اور وہاں ان کے مددگار نہ ہوں گے جو عذاب خداوندی کے مقابلہ میں ان کی مدد کریں اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کردے اس کے لیے کوئی رستہ اور حجت نہیں۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

(ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آموجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

قیامت کا دن آنے سے پہلے جس میں عذاب الہی ہٹایا نہیں جائے گا تم اپنے پروردگار کا توحید کے بارے میں حکم مانور اور اس روز تمہیں عذاب خداوندی سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ملے گی اور نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے

پھر بھی اگر یہ لوگ ایمان سے منہ پھیریں تو آپ کو ان کا محافظ کر کے نہیں بھیجا گیا ہے آپ کے ذمہ تو صرف احکام خداوندی کا پہنچا دینا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ قتال کا حکم دیتا ہے کہ جب ہم کافر کو اپنی عنایت کا کچھ مزہ چکھا دیتے ہیں تو ناشکرا بن کر اس پر خوش ہونے لگتا ہے اور اگر ان کو ان کے اعمال شرکیہ کی وجہ سے فقرو فاقہ اور سختیوں میں گرفتار کردیتے ہیں تو ایسا آدمی یعنی ابو جہل اللہ تعالیٰ اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے لگتا ہے۔
Ayah 42:49

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے

آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں جس طرح وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جیسا کہ حضرت لوط کہ ان کے کوئی بھی لڑکا نہیں تھا اور جسکو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کے کوئی لڑکی نہیں تھی۔
Ayah 42:50

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

اور جس کے لیے چاہے جمع کردیتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں دونوں دیتا ہے جیسا کہ رسول اکرم کی ذات اقدس کو آپ کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں دونوں تھیں اور جسے چاہے بےاولاد رکھتا ہے جیسے حضرت یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

اور کسی آدمی کی یہ شان نہیں کہ روبرو ہو کر اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر یہ تو الہام سے خواہ خواب میں ہو یا پردے کے باہر سے جیسے موسیٰ سے کلام فرمایا تھا یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ کو امر و نہی منظور ہوتا ہے وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جیسا کہ رسول اکرم کے پاس جبریل امین کو بھیجا وہ بڑا عالی شان اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Ayah 42:52

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو

اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس جبریل امین کے ذریعہ قرآن کریم بھیجا جبریل کے آنے سے پہلے آپ کو تو یہ خبر نہ تھی کہ قرآن کریم کیا ہے اور نہ آپ قرآن کریم اچھی طرح پڑھنا جانتے تھے اور نہ آپ توحید کی دعوت کا طریقہ جانتے تھے۔ لیکن ہم نے اس قرآن حکیم کو اوامرو نواہی حلال و حرام حق و باطل کے اظہار کے لیے ایک بیان بنایا ہم اس قرآن حکیم کے ذریعے سے جو اس کا اہل ہوتا ہے اس کو ہدایت نصیب کرتے ہیں اور آپ ایک سیدھے رستہ کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں۔
Ayah 42:53

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

(یعنی) خدا کا راستہ جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے دیکھو سب کام خدا کی طرف رجوع ہوں گے (اور وہی ان میں فیصلہ کرے گا)

یعنی اس اللہ کے دین کی طرف کہ تمام مخلوق اسی کی ملکیت ہے اور تمام کاموں کا انجام آخرت میں اسی زبردست حکمت والے کی طرف رجوع کرے گا۔