42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 42:1–3

عٓسٓقٓ Open ayah 42:2 in the Quran reader

عین۔ سین۔ قاف۔

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح اللہ غلبہ والا، حکمت والا وحی بھیجتا رہا ہے آپ پر اور آپ سے قبل والوں پر،1۔

1۔ (اصول دین کی تحقیق وتعیین کے لئے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح یہ سورت نازل کی اسی طرح اس نے دوسری سورتوں اور آیتوں کی وحی آپ ﷺ پر کی ہے۔ اے مثل ذلک الوحی (کشاف) اے یوحی مثل مافی ھذہ السورۃ من المعانی (روح) (آیت) ” حم۔ عسق “۔ حضرت ابن عباس ؓ کی جانب یہ قول منسوب ہوا ہے۔ کہ (آیت) ” حم “ ایک اسم الہی ہے اور ع سے اشارہ عذاب بدر کی جانب ہے اور س سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے۔ (آیت) ” سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون “۔ اب رہا ” ق “ تو حضرت ابوذر ؓ صحابی کی جانب یہ قول منسوب ہے کہ اس سے صور قیامت مراد ہے۔ لیکن محققین کے نزدیک نہ یہ دونوں روایتیں ثابت شدہ ہیں نہ اور کوئی روایت، ذکر المفسرون فی ” حم عسق “۔ اقوالا مضطربا لایصح منھا شیء (بحر) والذی یغلب علی الظن عدم ثبوت شیء من الروایتین (روح)
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی (اللہ) کا ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور وہی برتر ہے، عظیم الشان ہے،2۔

2۔ تو اس کا اور کسی مخلوق کا مقابلہ ہی کیا ؟ ..... برتری اور عظمت صرف اسی کا حق ہے۔ دنیا جہان کی بڑی بڑی اونچی، ہستیاں اس کے آگے بساط ہی کیا رکھتی ہیں۔ آیت سے مقصود حق تعالیٰ کی ملکیت کاملہ اور اس کی عظمت کا اثبات ہے اور اس سے مشرکین جاہلین کے عقائد کا ابطال بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” السموت “۔ امام رازی (رح) نے اس آیت کے تحت میں پھر ایک بار یاد دلادیا ہے کہ انسان سے اوپر کی طرف جو کچھ بھی واقع ہے سب پر اطلاق سماء ہی کا ہوتا ہے۔ کلماسماک فھم سماء (کبیر) (آیت) ” العلی “۔ حق تعالیٰ کی بلندی جہت ومکان کے لحاظ سے تو مراد ہو ہی نہیں سکتی، لامحالہ مراد یہ ہے کہ وہ ذات پاک ممکنات و مخلوقات کی مشابہت سے بالاتر ہے۔ لایجوز ان یکون المراد بکونہ علی العلو فی الجھۃ والمکان لما ثبتت الدلالۃ علی فسادہ (کبیر) وجب ان یکون المراد من العلی المتعالی من مشابھۃ الممکنات ومناسبۃ المحدثات (کبیر) (آیت) ” العظیم “۔ حق تعالیٰ کی عظمت بلحاظ جسم وجثہ تو مراد ہو ہی نہیں سکتی، لامحالہ عظمت بلحاظ قدرت و کمالات مراد ہوگی، لایجوز ان یکون المراد من العظیم العظمۃ بالجثۃ وکبر الجسم (کبیر) وجب ان یکون المراد من العظیم العظمۃ بالقدرۃ القھر بالاستعلاء و کمال الالھیۃ (کبیر)
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں،3۔ اور فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح وحمد کرتے رہتے ہیں اور اہل زمین کے لئے طلب مغفرت کرتے رہتے ہیں،4۔ یاد رکھو اللہ ہی بڑا مغفرت کرنے والا ہے، بڑا رحیم ہے،5۔

3۔ (ہیبت حق سے، یا کثرت ملائکہ کے ثقل سے) مفسرین نے یہ دونوں قول نقل کئے ہیں۔ :۔ اے یتشققن من عظمۃ اللہ تعالیٰ (روح۔ عن قتاد ہ) یتفطرن من الثقل (روح۔ عن ابن عباس ؓ پیرایۂ بیان دونوں صورتوں میں دنیا والوں کی سمجھ کے لائق اختیار کیا گیا ہے۔ (آیت) ” من فوقھن “۔ عربی اسلوب بلاغت کے مطابق یہ زور بیان اور تاکید معنی کے لئے لایا گیا، ورنہ عام قاعدہ کے لحاظ سے تو من تحتھن ہوتا۔ بولغ فی ذلک فجعلت موثرۃ فی جھۃ التی تحتھن (کشاف) 4۔ (اور نظام عالم انہیں معصوموں کی دعاء و استغفار سے تھما ہوا ہے) (آیت) ” لمن فی الارض “۔ کے عموم میں مومن و کافر دونوں داخل ہیں۔ مومنوں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ انکی لغزشوں اور خطاؤں کو نظر انداز کرے، کافروں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ ان کے دل میں توفیق ایمان ڈال دے۔ امافی حق الکفار فبواسطۃ طلب الایمان لھم واما فی حق ال مومنین فبالتجاوز عن سیئاتھم (کبیر) (آیت) ” والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم “۔ ملائکہ کوئی خود مختارا نہ یا معبودانہ حیثیت نہیں رکھتے۔ وہ تو خود ہی دوسرے بندوں کی طرح اپنے پروردگار کی حمد وتسبیح میں لگے رہتے ہیں۔ 5۔ یعنی مغفرت و رحمت صرف اسی کے اختیار کی چیز ہے۔ فرشتوں کے بس کی نہیں، فرشتے تو صرف طلب مغفرت ودعائے مغفرت (استغفار) کرسکتے ہیں۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا (دوسرے) کا رساز (خدا) ٹھہرا رکھے ہیں، اللہ انہیں دیکھ بھال رہا ہے اور آپ ان کے کوئی ذمہ دار نہیں ہیں،6۔

6۔ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعلان کہ معاملات تکوینی میں قادر و متصرف صرف ذات حق تعالیٰ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ذمہ صرف پیام و احکام کی تبلیغ وتلقین ہے، کسی کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری ان کے اوپر ذرا سی بھی نہیں۔ اللہ خود ہی وقت مناسب پر سب سے نپٹ لے گا۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور آپ پر اسی طرح یہ قرآن عربی میں وحی کیا گیا ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور ان کو جو اس کے آس پاس رہتے ہیں،7۔ جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں جس میں ذرا شک نہیں،8۔ ایک گروہ جنت میں (داخل) اور ایک گروہ دوزخ میں

7۔ (آیت) ” ام القری “۔ ام۔ عربی میں ہر وہ چیز ہے جو دوسری چیزوں کا مبداء مرکز ومصدر ہو، والعرب تسمی اصل کل شیء امہ (کبیر) یقال لکل ما کان اصلا لوجود شیء او تربیتہ اواصلاحہ اومبدۂ (راغب) تو ام القری کے لفظی معنی بستیوں کی ماں یا آبادیوں کے مرکز کے ہوئے۔ مراد شہر مکہ سے ہے قیل لمکۃ ام القری وذلک لما روی ان الدنیا دحیت من تحتھا (راغب) وھی مکۃ وسمیت بھذا الاسم اجلا لالھا (کبیر) لفظ سورة الانعام پ 7 میں قریب ختم پارہ کے آیا ہے۔ وہاں کا حاشیہ ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” ومن حولھا “۔ صرف آس پاس ہی کی بستیاں اور آبادیاں مراد نہیں، بلکہ سارا عالم مراد ہے۔ مرکز سے قطر نزدیک ہو یا دور۔ بہرحال اس مرکز ہی سے اس کا تعلق قائم رہے گا۔ اے الارض کلھا (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ الی المشرق والمغرب (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ دخل فیہ سائر البلدان والقری (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ اس اسم اشارہ کا مشار الیہ آیت ماقبل کا مفہوم ہے۔ ذلک اشارۃ الی معنی الایۃ قبلھا من ان اللہ تعالیٰ ھو الرقیب علیھم وما انت برقیب علیھم ولکن نذیرا لھم (کشاف) 8۔ یعنی قیامت کے دن سے روز حشر یا یوم احتساب کا ڈر اور اصلاح عقائد واخلاق میں فطرت بشری کے لیے خاص طور پر مؤثر ہے۔ (آیت) ” لاریب فیہ “۔ یہ صفت یوم الجمع کی ہے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ ان سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا لیکن جس کے لئے اس کی مشیت ہوتی ہے اسی کو وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ان ظالموں کا کوئی نہ حمایتی نکلے گا نہ مددگار،9۔

9۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر مشیت تکوینی یوں ہی ہوتی تو سب ایک ہی دینی طریق پر خلق کئے جاتے لیکن بیشمار حکمتوں اور مصلتحوں سے یہ منظور نہ ہوا۔ اب سب کے سب اضطرار ہدایت یاب نہ ہوں گے، بلکہ صرف وہی مخصوص گروہ ہدایت یاب ہوگا، جس پر مخصوص رحمت الہی بھی ہوگی اور منکرین وکافرین قیامت کے دن بالکل بےسہارے کے ہوں گے۔ (آیت) ” والظلمون “۔ ظالمون سے یہاں بھی مراد اہل کفر وشرک ہیں۔ اے الکافرون (معالم)
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اللہ) کے سوا کارساز ٹھہرا رکھے ہیں ؟ سو کارساز تو بس اللہ ہی ہے اور بس وہی مردوں کو زندہ کردے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے،10۔

10۔ (تو اس کے سوا تو کسی میں کارساز بننے کی صلاحیت ہی نہیں) مقصود مشرکوں اور اہل کتاب دونوں کے عقائد شرکیہ کی تردید ہے۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے،11۔ یہی اللہ میرا مددگار ہے میں اسی پر توکل رکھتا ہوں، اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں،12۔

11۔ (دنیا میں دلیل صحیح سے اور آخرت میں فیصلہ کے عملی نفاذ سے) (آیت) ” فحکمہ الی اللہ “۔ حکم الی اللہ۔ کے تحت میں منصوص وحکم مستنبط دونوں آگئے اور حکم نص واستنباط دونوں پر حاوی ہے۔ اس حقیقت کے سمجھ لینے سے خوارج اور منکرین فقہ دونوں کے بہت سے مغالطوں کا جواب نکل آتا ہے۔ 12۔ (اور ظاہر ہے کہ جو دنیا وآخرت کے ہر امر میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے گا اور اسی پر بھروسہ رکھے گا اسے کسی مخلوق سے خوف ہی کیا ہوسکتا ہے) قرآن نے بار بار زور اس حقیقت پر دیا ہے کہ اللہ کو ایک فلسفیانہ نظریہ کے ماتحت محض مسبب الاسباب یا خالق کل سمجھے رہنا ہرگز کافی نہیں۔ ضرورت اس کی ہے کہ اس کے ساتھ انسان تعلق اپنی ہر ضرورت کا جوڑے رہے، اور اسی کو مدبر عالم و کارساز کائنات سمجھتا رہے۔ مشرک قوموں کی اصل گمراہیاں اسی باب میں تھیں ، (آیت) ” ذلکم “۔ یعنی وہی جو میرے تمہارے درمیان حاکم ہے۔ اے ذالکم الحاکم بینکم ھو ربی (کبیر)
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

) وہی) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا (اسی نے) تمہارے لئے تمہارے جنس کے جوڑے بنائے اور مویشیوں کے جوڑے بنائے، اور اس کے ذریعہ سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے، کوئی چیز اس کے مثل نہیں اور وہی (ہر بات کا) سننے والا ہے (ہرچیز کا) دیکھنے والا ہے،13۔

13۔ (اور وہ خود ہی ہر طرح ناقص و محدود تسلیم کرتے ہیں) (آیت) ” فیہ “۔ فی یہاں ب۔ کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ یہ اصل اصول ہے صفات تنزیہ کی۔ کوئی شے بھی پیش کی جائے اللہ کی ہم جنس، ہم نوع، ہمسر، ہم صف، غرض کسی طرح بھی ” مثل “ نہیں ہوسکتی۔ (آیت) ” کمثلہ “۔ ک۔ زائد تاکید معنی کیلئے ہے۔ الکاف الزائدۃ للتاکید (روح۔ عن الزجاج وابن جنی والا کثرین) والمعنی لیس کھو شیء علی سبیل المبالغۃ (کبیر)
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں وہ جسے چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور (جسے چاہے) کم دیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے،14۔

14۔ ابھی ابھی ذکر آچکا ہے کہ زمین و آسمان، ساری کائنات کا خالق حق تعالیٰ ہے۔ اب ارشاد ہورہا ہے کہ محض خالق وفاطر ہی نہیں بلکہ رازق قادر، حاکم و متصرف بھی وہی ہے، اور وہ بھی یوں ہی اٹکل پچو نہیں، بلکہ رتی ماشہ پورے پورے حساب کے ساتھ ..... اور اس کا علم کلیات تک محدود نہیں، کلیات وجزئیات، ظواہر وخفایا سب پر یکساں حاوی۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کیا ہے، اور جس کا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی حکم دیا تھا یعنی یہ کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا،15۔ مشرکین پر وہ بات بہت گراں ہے جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں، اللہ اپنی طرف جس کو چاہے کھینچ لیتا ہے، اور اپنی طرف رسائی دیتا ہے، ہر اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے،16۔

15۔ آیت میں ایک بڑے اہم مسئلہ وحدت دین کا بیان ہے۔ دین اصلا شروع سے بالکل ایک رہا ہے، تفصیلات شریعت (یعنی احکام و اعمال) ہر دور کی مناسبت سے بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن نفس دین (یعنی عقیدۂ اساسی) شروع ہی سے دین توحید ہے، اور اسی کا ایک لازمی جزء مسئلہ نبوت ہے۔ (آیت) ” نوحا “۔ نوح (علیہ السلام) وہ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جن سے باقاعدہ سلسلہ نبوت حضرت خاتم النبیین ﷺ کے وقت تک برابر قائم رہا۔ (آیت) ” نوح۔ موسیٰ ۔ عیسیٰ “۔ سب پر حاشیے گذرچکے۔ (آیت) ” کبر ..... الیہ “۔ یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ توحید کی دعوت (مع اس کے مضمرات ومتضمنات کے) اہل جاہلیت کو ہمیشہ اور ہر جگہ بہت گراں گزری ہے۔ 16۔ یعنی جس سے اس کی مشیت متعلق ہوجاتی ہے، اسے وہ دین حق کی توفیق دے دیتا ہے اور جو اس کی طرف جھکتا ہے، اسے وہ اپنا تقرب دے کر رہتا ہے۔” یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الہی وثواب غیر متناہی مرتب ہوتا ہے۔ “ (تھانوی (رح) روح المعانی میں ہے کہ آیت میں اشارہ ہے جذب و سلوک کی طرف۔ مرشد تھانوی (رح) نے اس اجمال کی تفصیل یہ کی کہ جبی (مادۂ اجتباء) کے معنی ہیں جذب کے اور ہدایت کے معنی ہیں سالک کو راہ دکھانے کے۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور تفرقے تو اس وقت سے ان لوگوں نے پیدا کئے جب ان کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا تھا (وہ بھی) آپس کی ضدا ضدی سے،17۔ اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات ایک وقت معین تک کے لئے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا،18۔ اور جن لوگوں کو کتاب (الہی) ان کے بعد دی گئی وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے متردد ہورہے ہیں،19۔

17۔ یہاں ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ دین اصلی اور دین قدیم تو دین توحید ہی ہے۔ اور شرک مبتدع ومخترع ادیان کی ایجاد تو بہت بعد کی چیز ہے اور اس کی بنیاد بھی کسی اجتہادی غلطی پر نہیں بلکہ تمامتر نفسانیت پر ہے۔ 18۔ (عملا اور عیانا اسی دنیا میں) (آیت) ” کلمۃ سبقت من ربک “۔ وہ طے شدہ بات یہی کہ پورا عذاب آخرت میں ہوگا۔ آیت مومنین کی تسکین و تسلی کے لئے کہ یہ مجرم جواب تک بچے ہوئے ہیں، یہ اپنے کسی ذاتی استحقاق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس لئے کہ اللہ نے اپنی تکوینی حکمتوں اور مصلحتوں سے انکی سزا کو دارالعمل میں نہیں بلکہ دارالجزاء کے لئے ملتوی رکھا ہے۔ 19۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے معاصر اہل کتاب۔ اھل الکتاب الذین کانوا فی عہد رسول اللہ ﷺ (کبیر) قال الاکثرون ھم الیھود والنصاری (کبیر) (آیت) ” من بعد ھم “۔ ضمیر ھم منکرین سابقین اہل کتاب کی جانب ہے۔ اے من بعد انبیاء ھم وقیل من بعد الامم الخالیۃ (معالم) لفی شک منہ مریب “۔ یعنی اپنے ہی دین اور اپنی ہی کتابوں کی حقیقت کی طرف سے شک وشبہ، تردد و تذبذب میں مبتلا ہیں اور ان پر اس طرح ایمان نہیں رکھتے جو ایمان کا حق ہے۔ ضمیرہ کتاب کی طرف ہے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

آپ اسی بناء پر (انہیں) بلائے جائیے ، (دین حق کی طرف) اور قائم رہئے جس طرح آپ کو حکم ملا ہے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلئے، اور آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے جو بھی کتابیں نازل کی ہیں میں ان پر ایمان لاتا ہوں، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ (اپنے اور) تمہارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے، ہمارے لئے ہمارے عمل اور تمہارے لئے تمہارے عمل ہماری تمہاری کوئی بحث نہیں اللہ ہی ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کے پاس جانا ہے،20۔

20۔ (اور وہی سب کا فیصلہ کردے گا۔ ابھی بحث بیکار ہے۔ البتہ تبلیغ کئے جائیں گے) (آیت) ” لاعدل “۔ ل مرادف ان کے ہے اے امرت ان اعدل (روح) (آیت) ” امرت لاعدل بینکم “۔ یعنی تمہارے حق میں انصاف کو ملوظ رکھو اور تمہارے اوپر اس سے زائد بار نہ ڈالوں جتنے کا شریعت نے تمہیں مکلف کیا ہے، اور ہر حال میں تمہارے معاملہ میں عدل سے کام لیتا رہوں۔ قال ابن عباس ؓ امرت ان لا احیف علیکم باکثرمما افترض اللہ علیکم من الاحکام وقیل لاعدل بینکم فی جمیع الاحوال والاشیاء (معالم) اے فی الحکم کما امرنی اللہ (ابن کثیر) (آیت) ” فلذلک “۔ یعنی ان کے اسی تفرق کی بناء پر۔ فلاجل ذلک التفرق اوالکتب اوالعلم الذی اوتیتہ (بیضاوی) (آیت) ” لنا اعمالنا “۔ الخ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ ہدایت ایسے موقع کے لئے ہے جب مناظرہ ختم ہوجائے، پھر بھی قبول حق کی توقع نہ ہو۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے باب میں جھگڑے نکالتے ہیں، بعد اس کے کہ اس کو مان لیا گیا، ان کی حجت ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب (نازل ہونے والا) ہے اور ان کے لئے عذاب سخت ہے،21۔

21۔ فی اللہ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں۔ (آیت) ” من بعد مااستجیب لہ “۔ لہ میں ضمیر اللہ یا اس کے دین کی طرف ہے۔ اے من بعد ما استجاب الناس للہ عزوجل اولدینہ ودخلوفیہ (روح) (آیت) ” حجتھم ...... ربھم “۔ اس بطلان حجت کا ظہور کامل حشر میں ہوگا۔ (آیت) ” یحآجون فی اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ کے دین حق کے باب میں جھگڑا مسلمانوں سے نکالتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یحآجون ..... لہ “۔ فقہاء نے باشارۃ النص اس سے یہ نکلا ہے کہ اجماع امت کا انکار ضلالت ہے۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ ہی تو ہے جس نے کتاب کو حق اور انصاف کے ساتھ نازل کیا اور آپ کو کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہی ہو،22۔

22۔ رسول کے علم غیب کلی کا اثبات جس کا دعوی اس زمانہ کے بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے، ایک بدیہی البطلان دعوی ہے، قرآن مجید نے جہاں اس کی اور بیسیوں طریقوں سے صراحت کی ہے وہاں آپ کی ذات سے وقت قیامت کے علم کی نفی بھی باربار کرکے کی ہے۔ (آیت) ” المیزان “۔ میزان کے معنی عدل کے بھی لئے گئے ہیں اور شریعت کے بھی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے۔ وھو العدل والانصاف قال مجاھد وقتادۃ (ابن کثیر) قال قتادۃ و مجاھد ومقاتل العدل (معالم) اے العدل کما قال ابن عباس ؓ و مجاھد و قتادۃ وغیرہ اوالشرع الذی یوزن بہ الحقوق (روح)
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

اس کے لئے جلدی وہی لوگ مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان رکھتے اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے،23۔ یاد رکھو کہ لوگ قیامت کے باب میں جھگڑے نکالتے ہیں دوردراز کی گمراہی میں مبتلا ہیں،

23۔ یعنی قیامت کو اگر آنا ہے تو آکیوں نہیں جاتی۔ تقاضا بطور استہزاء تو منکرین ہی کی طرف سے ہوتا رہتا ہے۔ باقی جو اہل ایمان ویقین ہیں وہ تو اس کے یقینی وقوع سے اور اپنے اعمال کی کوتاہیوں پر نظر کرکے ہمیشہ اس سے عقلا خائف ہی رہتے ہیں (گو کبھی حالا واضطرار اس کا شوق غالب بھی آجائے)
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں کے باریک امور سے خوب باخبر ہے جس کو چاہتا ہے روزی دیتا ہے، اور وہ بڑا قوت والا ہے بڑا زبردست ہے،24۔

24۔ (اور ان صفات کا پورا ظہور ان لوگوں کے حق میں آخرت میں ہوگا) اللہ ..... یشآء “۔ یعنی حق تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے مصالح خفی ومنافع بعید سے خوب واقف ہے۔ وہی حسب مصالح تکوینی جس کو جس قدر چاہتا ہے روزی دیتا ہے۔ رزق کی افراط یا تفریط، زرومال کی کثرت یا افلاس۔ یہ سب انتظامی امور ہیں۔ انہیں کسی کے حق و باطل ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے اس کی کھیتی میں ترقی دی گے، اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب ہے ہم اسے کچھ دنیا میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا،25۔

25۔ (اس لئے کہ آخرت میں حصہ ملنے کی پہلی شرط ایمان ہے اور وہی یہاں مفقود ہے) مطلب یہ ہوا کہ طلب کے قابل صرف آخرت ہے (دنیا اس میں ضمنا خود ہی آجائے گی) نہ کہ دنیا کہ وہ حسب تمنا نصیب نہیں ہوپاتی اور اس میں پڑنے سے آخرت سے بالکل حرمان ہی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “۔ یعنی اس کا مطمح نظر تمامتر دنیا ہی ہے۔ اس کی کسی سعی وتدبیر کا آخرت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ایسے شخص سے ظاہر ہے کہ ایمان تک مفقود ہوگا۔ اہل ایمان اس کے برعکس نہ دنیا کو سرے سے ترک کردیتے ہیں، نہ اسے اپنا مطمح نظر بنائے رکھتے ہیں بلکہ دنیا کو آخرت کا ذریعہ بناتے ہیں۔ (آیت) ” حرث الدنیا۔ حرث الاخرۃ “۔ خوب خیال کرلیاجائے کہ قرآن مجید تجارتی، مالی، کاروباری اصطلاحات کے ساتھ ساتھ زراعت وفلاحت کی اصطلاحیں بھی کثرت سے لاتا ہے۔ تو کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

تو کیا ان کے (تجویز کئے ہوئے) کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کردیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ہے ؟ اور اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا تو ان کے درمیان (عملی) فیصلہ اب تک ہوچکا ہوتا اور کافروں کو ضرور عذاب دردناک ہوگا،26۔

26۔ (آخرت میں) (آیت) ” شرعوا ...... اللہ “۔ شرک کے ساتھ ساتھ آیت کے اس جزء میں بدعت یعنی دین میں اپنی طرف سے بات نکالنے کا بھی استیصال ہے۔ (آیت) ” ان الظلمین “۔ ظالمین۔ یہاں بھی قرآن مجید کے اکثر مقامات کی طرح کافروں کے معنی میں ہیں۔ اے المشرکین (معالم)
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

آپ کافروں کو دیکھیں گے ڈرتے ہوئے اپنے کرتوتوں سے اس حال میں کہ (وبال) ان پر پڑکر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے وہ بہشتوں کے میں ہوں گے (اور) جس چیز کو بھی چاہیں گے ان کے پروردگار کے پاس انہیں ملے گی، بس یہی تو بڑا انعام ہے،27۔

27۔ (نہ کہ وہ عیش و آرام جو اسی دنیا میں تک محمود ومخصوص رہے) (آیت) ” الظلمین “۔ یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں اے المشرکین۔ (معالم) دنیا میں ہیبت حق سے اہل ایمان ڈرتے رہتے ہیں اور منکرو کافر آخرت کی طرف سے بےفکر رہتے ہیں۔ آخرت میں جب مشاہدہ احوال ہونے لگے گا یہ ترتیب الٹ جائے گی۔ منومنین کے چہرہ پر اطمینان وبشاشت کے انوار ہوں گے اور کافروں منکروں کے منہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ (آیت) ” الجنت “۔ جنات کو صیغہ جمع میں اس لئے لائے کہ بہشت کے مختلف طبقہ اور درجہ ہیں۔ ہر ہر طبقہ خود ایک بہشت ہے، پھر ہر طبقہ کے اندر باغات متعدد ہیں۔ اپنے اپنے درجہ و مرتبہ کے مطابق کوئی کہیں ہوگا اور کوئی کہیں۔ (آیت) ” لھم ...... عندربھم “۔ ہو جو کچھ بھی چاہیں گے اپنے پروردگار کے ہاں حاصل کرلیں گے۔ “ ان چند الفاظ کے اندر ال جنت کے لئے جنت کے لیے ہر ممکن لذت و راحت وآسائش کی بشارت آگئی۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ انعامات جنت لامتناہی ہوں گے کیونکہ انسان کی خواہشیں تو کسی منزل ومقام پر بھی پہنچ کر رک نہیں جاتیں، وہ تو اور اس کے بعد کا بھی درجہ چاہا ہی کرتا ہے۔ یدخل فی باب غیرہ المتناھی لانہ لادرجۃ الا والانسان یرید ماھو اعلی منھا (کبیر) اور یہ بھی کہا ہے کہ اس درجہ کی کنہ وماہیت تک بجز حق تعالیٰ کے کسی کا ذہن نہیں پہنچ سکتا۔ وفی ذلک علی ان ذلک الجزاء قد بلغ الی حیث لا یعلم کنھہ الا اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” ذلک ھو الفضل الکبیر “۔ متکلمین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ آخرت میں جو کچھ بھی انعامات حاصل ہوں گے وہ اگرچہ عمل ہی پر مرتب ہوں گے تاہم بطریق استحقاق نہ ہوں صرف بطریق فضل ہوں گے۔ اللہ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ بطور فضل ولطف حاصل ہوجائے گا۔ واصحابنا استدلوا بھذہ الایۃ علی ان الثواب غیر واجب علی اللہ وانما یحصل بطریق الفضل من اللہ تعالیٰ (کبیر) وھذا تصریح بان الجزاء المرتب علی العمل انما حصل بطریق الفضل لا بطریق الاستحقاق (کبیر)
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ بشارت ہے جو اللہ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا، ہاں رشتہ داری کی محبت ہو،28۔ اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کی نیکی میں اور خوبی زیادہ کردیں گے، بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا قدردان ہے،29۔

28۔ (اے اہل قریش) عزیزوں، قریبوں کی محبت اور ایک دوسرے کی خیر خواہی ضرب المثل کی حد تک شہرت رکھتی ہے۔ عرب میں حقوق قرابت کی پاسداری اور زیادہ بڑھی ہوئی تھی، یہ انہیں کے جذبات شرافت سے اپیل ہے۔ گویا رسول اللہ ﷺ ان سے یہ کہہ رہے ہیں۔ اور کچھ نہ سہی، تو عزیز داری ہی کا خیال کرکے میرے اوپر ظلم و زیادتی سے باز رہو۔ صحیح بخاری و، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایسے ہی معنی بیان ہوئے ہیں۔ قال ابن عباس ؓ و مجاھد وقتادۃ والضحاک والسدی معناہ الا ان لا تؤذونی لقرابتی منکم (جصاص) وبہ قال مجاھد وعکرمۃ وقتادۃ والسدی وابو مالک وعبد الرحمن بن زید بن اسلم وغیرھم (ابن کثیر) (آیت) ” فی القربی “۔ فی سببیہ ہے ل کے مرادف۔ اے لقرابتی منکم ففی للسببیۃ بمعنی اللام لتقارب السبب والعلۃ والی ھذا ذھب مجاھد وقتادۃ وجماعۃ (روح) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ جب مودۃ بین المسلمین اور افراد امت کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت، متعدد آیات و احادیث کی بنا پر واجب ہے تو پھر امت کے اشرف ترین کے ساتھ کیوں واجب نہ ہوگی۔ والایات والاخبار فی ھذا الباب کثیرۃ واذا کان حصول المودۃ بین جمھور المسلمین واجبافحصولھا فی حق اشرف المسلمین اکابرھم اولی (کبیر) آیت سے اصحاب رسول کے ساتھ بھی محبت کا حکم نکلتا ہے۔ فیہ منصب عظیم للصحابۃ لانہ تعالیٰ قالہ والسابقون السابقون اولئک المقربون فکان کل من اطاع اللہ کان مقربا عند اللہ تعالیٰ فدخل تحت قولہ الاالمودۃ فی القربی (کبیر) امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ آیت رسول کے آل واصحاب دونوں کی محبت کو جمع کرتی ہے اور یہی مسلک اہل سنت کا ہے۔ والحاصل ان ھذہ الایۃ تدل علی وجوب حب ال رسول اللہ ﷺ وحب اصحابہ وھذا المنصب لایسلم الاعلی قول اصحابنا اھل السنت والجماعۃ الذین جمعوا بین حب العترۃ والصحابۃ (کبیر) (آیت) ” القربی “۔ مراد اھل القربی ہے۔ المراد فی اھل القربی (کشاف) مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ مودۃ فی القربی کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے بعد ایمان ہی نہیں۔ بلکہ یہ تو ایمان ہی کا تدریج ولطافت کے ساتھ طریق موصل بتایا ہے۔ 29۔ (مطیعوں کے حق میں) چناچہ مسلم مطیع سے جب لغزش ہوجاتی ہے تو وہ رب غفور اسے معاف آسانی سے کردیتا ہے اور جب وہ نیکی کرتا ہے تو رب شکور اسے اجر بھی استحقاق سے کہیں زائد دے دیتا ہے۔ (آیت) ” نزد ..... حسنا “۔ یعنی جس قدراجر اس نیکی کا حق ہے، ہم اس سے کہیں زائد دے دیں گے)
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسی (شخص) نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے،30۔ تو اللہ اگر چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے، اور اللہ باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق کو اپنے احکام سے ثابت کیا کرتا ہے وہ دلوں تک کی باتیں خوب جانتا ہے،31۔

30۔ (اور نعوذ باللہ وحی ونبوت کا دعوی خلاف واقع کردیا ہے) 31۔ (چہ جائیکہ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ واقوال) مطلب یہ ہوا کہ اگر اس احتمال میں شائبہ بھی صداقت کا ہوتا، تو اللہ ایسے مدعی کاذب کو پھلنے پھولنے، کامیاب ہونے ہی کیوں دیتا۔ اس کی زبان سے ادا ہونے والے خارق عادت پیام کو پھیلنے کا موقع ہی نہ دیتا اور مدعی کاذب کی زبان ہی خاموش کردیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، بلکہ وہ تو اس کے برعکس ان رسول کے ہاتھ تائیدی معجزات سے اور زیادہ قوی کرتا جاتا ہے۔ اسی سے معلوم ہوا کہ یہ سرتا سر حق و صداقت پر ہیں۔ اور جو دلوں کے اندر تک کے بھید جانتا ہو۔ اس کے لئے الفاظ ظاہر پر گرفت کرنا کیا مشکل تھا۔ (آیت) ” بکلمتہ “۔ کلمات سے یہاں مراد احکام تکوینی وتنزیلی دونوں ہیں۔
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ گناہوں کو معاف کردیتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس سب کو جانتا ہے،

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی عبادت قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور بڑھاتا رہتا ہے،32۔ اور کافروں کے لئے تو سخت عذاب (مقرر)

32۔ یعنی جو عمل نیک ہیں وہ مقبول تو ہوتے ہی ہیں اور ان پر اجر ان کے استحقاق اصلی سے اور زیادہ ملتا رہتا ہے۔ (آیت) ” یقبل .... السیات “۔ چناچہ کوئی کافر اگر کفر سے توبہ کرلے تو اس کی وہ توبہ بھی قبول ہوجائے گی اور جو گناہ اس نے حالت کفر میں کئے ہیں وہ بھی سب معاف ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ویعلم ماتفعلون “۔ اور اسی علم کل کا ایک مظہر یہ ہے کہ توبہ کا اخلاص وعدم اخلاص بھی اس سے مخفی نہیں رہتا۔ (آیت) ” ویعفوا عن السیات “۔ یہ گناہ کہیں تو توبہ کے واسطہ سے معاف ہوتے ہیں اور کہیں بلاواسطہ توبہ یوں ہی معاف ہوجاتے ہیں۔ تارۃ یعفوا بواسطۃ قبول التوبۃ وتارۃ یعفوا ابتداء من غیر توبۃ (کبیر)
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اللہ اگر اپنے بندوں کے لئے رزق فراخ کردیتا تو وہ روئے زمین پر سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ جتنا چاہتا ہے انداز (مناسب) سے اتارتا ہے وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ہے اور خوب دیکھنے والا ہے،33۔

33۔ یعنی اللہ سے بڑھ کر اپنے بندوں کی مصلحتوں، صلاحیتوں، استعدادوں کا جاننے والا اور ان کے احوال و اعمال پر نظر رکھنے والا اور کون ہوگا، وہ ہر بندہ کو اس کے ظرف، ضرورت ومصلحت کے لائق ہی روزی دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ بےتحاشا سب کو خوشحال ہی بنا دے تو انسان کے عام طبائع ایسے ہیں کہ بجائے امن وآشتی کے فتنہ و فساد برپا ہوجائے اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو کر کفر ونافرمانی میں مبتلا ہوجائیں۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح بسط باطنی بھی بعض طالب حق کے حق میں مضر ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے نہ ہونے سے مغموم نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہ وہی جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے اور وہ بڑا کارساز ہے (ہر طرح) قابل حمد ہے،34۔

34۔ یہ کارساز، ستودوہ صفات اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کوئی پانی برسانے والا دیوتا، اندر وغیرہ نہیں۔ (آیت) ” رحمتہ “۔ رحمت سے یہاں مراد بارش ہے۔ بعض نے تقدیر کلام اثار رحمۃ سمجھی ہے۔ یہ ترکیب مان کر مراد نباتات وثمرات سے ہوگی۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے پیدا کرنا ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان جانداروں کا جو اسی نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں، اور وہ ان کے جمع کرلینے پر جب وہ چاہے قادر ہے،35۔

35۔ (چنانچہ قیامت کے دن سب کو دوبارہ زندہ کرکے اکٹھا کرے گا) (آیت) ” فیھما من دآبۃ “۔ سے یہ لازم نہیں آتا کہ دو جگہیں فردا فردا مراد ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ صرف دونوں کا مجموعہ مراد ہو۔ اور وجود حیوانات کا مستقر مانا ہے جائے تو جنت میں تو آخر حیوانات ہیں ہی۔” اور اگر (آیت) ” دآبۃ “۔ مجازا بمعنی مطلق ذی روح لیاجائے تب تو آسمان پر ملائکہ کا ذی روح ہونا ظاہر ہے “۔ (تھانوی (رح) ستاروں میں حیوانی آبادی اگر کسی دلیل قوی سے ثابت ہوجائے تو آیت کے معنی پر مزید روشنی پڑجائے گی۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت بھی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے سے پہنچتی ہے، اور (اللہ) بہت سے تو درگزر کردیتا ہے،36۔

36۔ خطاب عاقل بالغ اہل ذنوب سے ہے۔ بچے، مجنون وغیرہ اس سے خارج ہیں خطاب مع من یفھم ویعقل فلا یدخل فیہ البھائم والاطفال (کبیر) (آیت) ” ما ..... من مصیبۃ “۔ سے یہاں واقعہ و حقیقی مصیبت مراد ہے۔ بعض نعمتیں جو صرف صورۃ ہی مصیبتیں ہیں وہ درحقیقت عیش کے زینہ ہیں، ان پر مصیبت کا اطلاق ہی نہ ہوگا۔ (آیت) ” یعفوا عن کثیر “۔ کثیر سے مراد کثیر من الذنوب بھی ہوسکتی ہے یعنی بہت سے گناہ بےگرفت ومؤاخذہ کے بھی چھودیتا ہے اور کثیر من الناس بھی مراد ہوسکتی ہے، یعنی گرفت ہر بندہ پر نہیں کرتا۔ بہت سے بندوں کو بےگرفت ومواخذہ بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اے من الذنوب اوعن کثیر من الناس (مدارک) اے عن الذنوب وجوز کون المراد بالکثیر کثیر من الناس (روح)
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین (کے کسی حصہ میں بھی) ہرا نہیں سکتے اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کارساز ہے نہ مددگار،37۔

37۔ یہ سب مشرک، جاہلی قوموں کے رد میں ہے۔ جو سمجھتے تھے کہ فلاں جگہ پناہ لے لینے سے خدائی گرفت کی دسترس سے باہر ہوجائیں گے یا بعد موت فلاں فلاں دیوی دیوتا گاڑھے وقت کام آجائیں گے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے سمندر میں پہاڑ جیسے جہاز ہیں،38۔

38۔ یعنی ایسے اونچے اونچے جہاز کہ گویا پہاڑ تیرنے لگے۔ ان عظیم الشان جسامت والوں کا پانی پر رواں دواں ہونا حق تعالیٰ کی کمال صناعی کی دلیل ہے جس محل ترغیب پر اور جس سیاق میں ان اونچے اونچے جہازوں کا ذکر آیا ہے اس سے اس پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ جہاز رانی اور جہاز سازی اسلام کی نظر میں مبغوض وناپسندیدہ نہیں، بلکہ گو نہ پسندیدہ ہے۔
Ayah 42:33

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے کھڑے رہ جائیں بیشک اس میں نشانیاں ہر صابر شاکر کیلئے ہیں،39۔

39۔ یعنی اس کی قدرت وصناعت پر دلالت کرنے والی نشانیاں کہ وہی ہوا کو چلاتا ہے۔ اور ہوا جہاز کو حرکت میں لاتی ہے۔ (آیت) ” الریح “۔ ریح (ہوا) کا مفہوم بہت وسیع ہے دخانی جہازوں کی اسٹیم بھی ہوا ہی کی ایک شکل ہے۔ (آیت) ” صبار شکور “۔ بندہ کے لئے زندگی بھر دو ہی حالتیں ممکن ہیں۔ یا غم و حرمان کی اور یا مسرت و راحت کی۔ مومن پہلی صورت میں صبر و تسلیم سے کام لیتا رہتا ہے۔ اور دوسری صورت میں شکر گزاری سے اور یہ دونوں صورتیں حق تعالیٰ سے جڑے رہنے ہی کی ہیں۔ حق تعالیٰ سے غفلت کا مجرم وہ بہرحال کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا۔ وان یکون اما فی البلاء واما فی الالاء فان کان فی البلاء کان من الصابرین وان کان فی النعماء کان من الشاکرین فانہ لایکون البتۃ من الغافلین (کبیر)
Ayah 42:34

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

(چاہے تو) تباہ کردے ان جہازوں کو بسبب ان لوگوں کے کرتوتوں کے اور بہت لوگوں سے درگزر بھی کرجائے،40۔

40۔ یعنی جس طرح جہازوں اور عظیم الشان جہازوں کو چلتے چلاتے، متحرک رکھنا اس کی قدرت عظمت، صنعت کی ایک دلیل ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس کی مشیت وقدرت میں داخل ہے کہ جب چاہے ان جہاز والوں کی بداعمالی کی پاداش میں ان جہازوں کو طوفان لاکر تندوتیز ہوا چلا چلا کر تباہ بھی کردے۔ (آیت) ” یوبقھن “۔ ھن کا مضاف اھل مقدر ہے۔ اصل ترکیب کلام یوں ہے۔ اویوبق اھلھن والمراد علی ماقال غیر واحد اھلاک اھلھا (روح)
Ayahs 42:35–36

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو معلوم ہوجائے جو ہماری آیتوں میں جھگڑے نکالتے رہتے ہیں کہ اب ان کی بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ،

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ہے،41۔ اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہتر ہی ہے اور پائدار تر بھی، وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان والے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

41۔ (کہ خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا) اور اسی سے ظاہر ہے کہ مطلوب ومقصود بنانے کے قابل دنیا نہیں صرف آخرت ہے۔ (آیت) ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “۔ حیات دنیا کے ساتھ متاع کا لفظ اس کی ذلت و حقارت کے لئے ہے۔ سماہ متاع تنبیھا علی قلتہ وحقارتہ (کبیر)
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو کبیرہ گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے رہتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں،42

42۔ آیت کے الفاظ قابل غور ہیں۔ (آیت) ” یجتنبون کبئر الاثم “۔ بڑے چھوڑے سارے گناہوں سے ہمیشہ بچے رہنا صالحین غیر معصوم کے لئے بھی ممکن نہیں۔ اس لئے بشریت کی اس کمزوری کی رعایت سے ممدوحین تک کیلئے یہ قید لگا دی کہ وہ وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ (آیت) ” واذا ما غضبوا ھم یغفرون “۔ اسی طرح موقع مدح وتحسین پر ہی یہ ارشاد نہیں ہوتا کہ صالحین و ابرار کو غصہ سرے سے آتا ہی نہیں۔ غصہ کا اپنے موقع ومحل پر نہ آنا دلیل حلم نہیں، دلیل جبن وبے حمیتی ہے۔ کمال نہیں، نقص ہے، ہنر نہیں عیب ہے، کمال اور ہنر صرف یہ ہے کہ بندہ کہ جب بےمحل وبیجا غصہ آجائے تو اس کے مقتضا پر عمل نہ کرے، بلکہ اپنی طبیعت کو قابو میں رکھے۔ (آیت) ” کبئر الاثم “۔ مراد غالبا اعتقادی گناہوں سے ہے۔ قیل المراد بکبائر الاثم ما یتعلق بالبدع واستخراج الشبھات (کبیر) (آیت) ” والفواحش “۔ مراد غالبا ان گناہوں سے ہے جن کا تعلق بےحیائی اور شہوانیت سے ہے۔ قیل المراد بالفواحش مایتعلق بالقوۃ الشھوانیۃ (کبیر)
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم مانا اور نماز کی پابندی کی اور ان کا یہ اہم) کام باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں،43۔

43۔ یہ سارے اوصاف مومنین صادقین کے بیان ہورہے ہیں۔ انفرادی واجتماعی دونوں قسم کی نیکیاں ان میں آگئیں۔ (آیت) ” وامرھم شوری بینھم “۔ باہمی مشورہ کی اہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ شوری کا ذکر نماز وزکوۃ کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔.... اجتماعی صورت میں اس حکم کی تعمیل کی صورت یہ ہے کہ حکومت، حکومت شوری ہو، جیسی کہ خفاء راشدین کی تھی، فقہاء مفسرین نے شوری کی اہمیت کو خوب سمجھا ہے۔ یدل علی جلالۃ موقع المشورۃ لذکرہ لھا مع الایمان واقامۃ الصلوۃ ویدل علی انا ما مورون بھا (جصاص) البتہ شوری کے سلسلہ میں یہ یاد رہے کہ مشورہ صرف انہیں امور میں پسندیدہ ہے، جو بجائے خود قابل مشورہ ہوں گے، اور جو چیزیں احکام قطعی میں داخل کہیں مثلا نماز پنجگانہ، رمضان کے روزے وغیرہا، سو ان میں مشورہ نہیں۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا) بدلہ لے لیتے ہیں،44۔

44۔ (اور ظلم و زیادتی کے جواب وانتقام میں خود بھی ظلم و زیادتی نہیں کرنے لگتے) آیت کے یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ معاف کرنا نہیں جانتے۔ والمعنی ان یقتصروا فی الانتصار علی ما یجعلہ اللہ لھم ولا یتعدونہ (کبیر) انھم الاخصاء بالانتصار وغیرھم یعدوا ویتجاوز (روح) وقال السدی معناہ ممن بغی علیھم من غیر ان یتعدو اعلیھم (جصاص)
Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ برائی ہے ویسی ہی لیکن جو کوئی معاف کردے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ رہا بیشک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا،45۔

45۔ (خواہ وہ ظالم، ظلم کی ابتداء کرنے والے ہوں یا جواب وانتقام میں حدود سے تجاوز کرجانے والے ہوں) (آیت) ” جزؤا ..... مثلھا “۔ جزائے سیۂ کو سئیہ کہنا ظاہر ہے کہ مجازا ہے۔ ورنہ درحقیقت یہ تو برائی کی سزا ہوئی نہ کہ خود کوئی برائی۔ (آیت) ” واصلح “ یعنی اپنے باہمی معاملات کو درست کرلیا۔ اے بینہ وبین خصمہ بالعفو والاغضاء (مدارک) (آیت) ” مثلھا “۔ یعنی سزائے جرم بھی درجہ جرم کی مناسبت ہی سے دی جائے۔ اس سے تجاوز نہ کیا جائے۔ والمعنی انہ یجب اذا قوبلت الاساء ۃ ان تقابل بمثلھا من غیر زیادہ (مدارک) ھذہ الایۃ اصل کبیر فی علم الفقہ فان مقتضاھا ان تقابل کل جنایۃ بمثلھا (کبیر)