42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 42:1–4

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے اللہ جو عزیز ہے حکیم ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ برتر ہے بڑا ہے

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں جعفر بن محمد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور اس کو باربار پڑھا، اور فرمایا اے میمونہ ! کیا تیرے پاس (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ ہے (یعنی تجھے یاد ہے) عرض کیا جی ہاں ! فرمایا اس کو پڑھو میں اس کے اول وآخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں۔ 4:۔ طبرانی (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور فرمایا اے میمونہ کیا تو (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ کو پہچانتی ہے (یعنی تجھے یاد ہے) میں اس کے اول اور آخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں میمونہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو پڑھا تو (پھر) رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھا۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ونعیم (رح) بن حماد والخطیب نے ارطاۃ بن منذر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان کے پاس حذیفہ بن یمان بھی بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا مجھے (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ کی تفسیر کے بارے میں بتائیے ؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا۔ اس نے پھر گزارش کی آپ نے پھر اس سے اعراض فرمایا پھر اس نے تیسری مرتبہ گزارش کی، انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حذیفہ ؓ نے آپ سے کہا میں آپ کو اس بارے میں بتارہا ہوں کہ میں نے کیوں بار بار کہا ان کے گھروالوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی جس کو عبدالہ یا عبداللہ کہا جاتا تھا، وہ مشرق کے نہروں میں سے ایک نہر پر آیا اس پر دو شہروں کو بنایا اور ان کے درمیان نہر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جس میں ہر قسم کے سرکش اور جابر لوگ جمع ہوگئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے ملک کے تباہ ہونے اور ان کی حکومت اور ان کی مدت کے ختم ہونے کا فیصلہ فرما دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شہر پر رات کو آگ بھیج دیا تو (وہ شہر) صبح کو سیاہ اور تاریک ہوگیا اور وہ ایسا جل چکا تھا گویا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ تھا اور اس شہر کے رہنے والے تعجب میں پڑگئے ” کیف افلتت وہ تو سوائے دن کی سفیدی کے اور کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ اس میں جبار سرکش جمع ہوئے توا للہ تعالیٰ نے ان کو بھی اور ان کے ساتھ لوگوں کو زمین میں دھنسایا اور اس میں سے ” سین “ کو لیا گیا جو اصل میں ” سیکون “ تھا اور ” ق “ سے مراد ہے واقع ہونے والا (اللہ کا عذاب) ان دوشہروں پر۔ 6:۔ ابویعلی اور ابن عساکر (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابومعاویہ ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے منبر پر چڑھے اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کو (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھتے ہوئے سنا تو ابن عباس ؓ تیزی سے اٹھے اور فرمایا کہ حم اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے پوچھا ” عین “ کیا ہے ؟ فرمایا وہ اپنے بدر کے دن عذاب کا معائنہ کیا پوچھا ” سین “ کیا ہے :؟ فرمایا (آیت ) ” وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون “ (الشعراء آیت 277) (اور ظالموں کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ پر پڑتے ہیں (پوچھا ” قاف “ سے کیا مراد ہے ؟ تو وہ خاموش رہے ابوذر ؓ کھڑے ہوئے اور تفسیر بیان کی جیسے ابن عباس ؓ نے تفسیر فرمائی اور فرمایا ” قاف “ سے مراد ہے آسمان سے ایک مصیبت جو لوگوں کو پہنچے گی۔
Ayahs 42:5–6

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت طلب کرتے ہیں خبردار اللہ ہی مغفرت کرنے والا ہے

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کار ساز تجویز رکھے ہیں وہ اللہ کی نگاہ میں ہیں آپ ان کے ذمہ دار نہیں

1:۔ طبرانی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہم اس آیت کو یوں پڑھتے ہیں (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں ) ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ سے مراد ہے (آیت ) ” من فوقھن “ اور خفیف نے اس کو تاء مشدد کے ساتھ پڑھا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ (یعنی کچھ بعید نہیں کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی وجہ سے پھٹ جائیں گے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابوالشیخ (رح) والحاکم (رح) (وصححۃ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تکاد السموت یتفطرن من فوقھن “ یعنی بوجھ کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں گے۔ 5:۔ عبد الرزاق عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویستغفرون لمن فی الارض “ یعنی فرشتے ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ 6:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کے ساتھی کہتے تھے کہ فرشتے ابن الکواء سے بہتر جو اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہیں اور زمین میں رہنے والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں جبکہ ابن الکواء ان پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر ہیں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وتنذر یوم الجمع “ اور ان کو ڈرائیں جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کا دن سے۔
Ayahs 42:7–9

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف قرآن عربی کی وحی بھیجی تاکہ آپ ام القری اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا، اور وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے اور ظالموں کے لئے کوئی دوست ہے اور نہ ہی مددگار

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا کارساز بنارکھے ہیں سو اللہ ہی کارساز ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قاد رہے

جنت اور جہنم کے باشندے متعین ہیں : قولہ تعالیٰ : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ 8:۔ احمد (رح) و ترمذی (رح) (وصححہ) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو نہیں بتائیں گے (کہ یہ کتابیں کیا ہیں) آپ نے فرمایا جو کتاب میرے داہنے ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جنت والوں اور ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخرتک اجمالی طور پر خبردی کہ اب اس میں کبھی بھی زیادتی کمی نہیں ہوگی، پھر فرمایا جو کتاب میرے بائیں ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اس میں دوزخ والوں ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک اجمالی طور پر ذکر کیا کہ اب اس میں کبھی بھی نہ زیادتی ہوگی اور نہ کمی (یہ سن کر) آپ کے اصحاب ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ پھر کس لئے عمل کریں جب اس مسئلے سے فراغت ہوچکی ؟ آپ نے فرمای : میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کی نزدیکی چاہو جو جنتی ہے اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوگا خواہ اگر وہ پہلے عمل کرتا رہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ان کو جھاڑ دیا پھر فرمایا تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا (اسی کو فرمایا) (آیت ) ” فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس میں آپ دیکھ رہے تھے (پھر) آپ نے فرمایا اس کی طرف دیکھو لیکن کس طرح ہے کیونکہ آپ امی تھے پڑھ نہیں سکتے تھے راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اسکو جانتے تھے فرمایا کتاب رب العالمین کی طرف سے جس میں جنت والوں ان کے آباؤ اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اب ان میں نہ زیادتی ہوگی اور نہ کمی اور فرمایا (آیت ) ” فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ (ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دہکتی ہوئی آگ میں ہوگا) تمہارے رب بندوں کے اعمال سے فارغ ہوگیا۔
Ayahs 42:10–11

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس کسی چیز میں تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے، وہ اللہ میرا رب ہے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے اس نے تمہارے نفسوں میں سے جوڑے بنائے اور مویشیوں میں سے جوڑے بنائے وہ تمہیں مادر رحم میں پیدا فرماتا ہے اس جیسی کوئی چیز بھی نہیں ہے اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے .

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ “ (اور جو کچھ تم اختلاف کرتے ہو کسی چیز کے بارے میں تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے یعنی وہی ذات اس بارے میں فیصلہ کرے گی ، 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جعل لکم من انفسکم ازواجا ومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ “ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اس طرح) چوپائیوں کے جوڑے بنائے اور اس (تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے یعنی یہ زندگی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں زندہ رکھتا ہے۔ 3:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یذرؤکم فیہ “ یعنی تم کو پھیلاتا ہے) ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں لوگوں میں سے اور چوپایوں میں سے (تم کو پیدا کرتا ہے ) ۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یذرؤکم “ سے مراد ہے کہ وہ تم کو پیدا کرتا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان عبداللہ ؓ اپنے رب کی تعریف فرما رہے تھے اچانک فرمایا وہ بلند شان رکھنے والا ہے کیا ہی اچھا پالنے والا ہے اس کا ذکر کیا جاتا ہے پھر عبد اللہ ؓ نے فرمایا میں اس لئے کہتا ہوں (آیت ) ” لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر “ (کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے ) ۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہیں آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں، وہ رزق بڑھا دیتا ہے جس کے لئے چاہے اور کم کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابوالشیخ (رح) فی العظمۃ وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے رب کے پاس نہ رات ہے نہ دن ہے، آسمانوں کا نور اس کی ذات کے نور سے ہے اور تمہارے دن کی مقدار اس کے نزدیک بارہ گھنٹے ہے اس پر تمہارے کل اور آج کے اعمال دن کے پہلے حصے میں پیش کئے جاتے ہیں پھر اس میں (اللہ تعالیٰ ) تین ساعات نظر فرماتے ہیں اور اس میں سے ان چیزوں پر مطلع ہوتے ہیں جن کو وہ ناپسند فرماتے ہیں اور اس سے وہ غصہ ہوتے ہیں اور انکے غصہ کو سب سے پہلے وہ فرشتے جو عرش کو اٹھانے والے ہیں پھر وہ فرشتے جو عرش کا احاطہ کرنے والے ہیں پھر مقرب فرشتے اور (پھر) سارے فرشتے جانتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) قرآن پاک پھونکتے ہیں تو کوئی چیز باقی نہیں رہتی مگر کہ میں اس کو سن لیتی ہے سوائے جنوں اور انسانوں کے تو (سارے فرشتے) تین ساعات اس کو تسبیح بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ رحمن رحمت سے بھردیتا ہے، یہ چھ ساعات ہوئیں پھر ان چیزوں کو لایا جاتا جو ارحام میں ہیں (اللہ تعالیٰ ) ان میں تین ساعات نظر فرماتے ہیں فرمایا (آیت ) ” ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشآء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم (6) “ (آل عمران آیت 6) (وہی ذات ہے جو تمہاری تصویریں بناتا ہے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ (آیت ) ” یخلق ما یشآء یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور (49) “ پیدا کرنا جس طرح چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے یہاں تک کہ علیم تک پہنچے تو یہ نو ساعتیں ہوئیں پھر اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے رزقوں کو ساعتوں میں نظر فرماتے ہیں فرمایا (آیت) ” یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر انہ بکل شیء علیم (12) “ (رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے، تو کل بارہ ساعتیں ہیں پھر فرمایا (آیت ) ” کل یوم ھوفی شان “ (29) (الرحمن آیت 29) (ہر روز وہ ایک کام میں ہے) یعنی ہر روز تمہارے رب کی یہ شان ہے۔
Ayahs 42:13–14

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مشروع فرمایا ہے جس کی اس نے نوح کو وصیت فرمائی اور جس کو ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجا اور ہم نے جس کی وصیت کی ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو تم دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ! مشرکین کو وہ بات گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں اور اللہ جسے چاہتا ہے اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو شخص رجوع کرتا ہے اسے اپنی طرف ہدایت دے دیتا ہے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

یہ لوگ متفرق نہیں ہوئے مگر ضداضدی میں اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا اور اگر آپ کے رب کی طرف سے وقت معین تک ایک بات پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بلاشبہ ان کے بعد جنہیں کتاب دی گئی وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہیں جو تردد میں ڈالنے والا ہے

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نوح کو حکم دیا تھا) یعنی اے محمد ! ہم نے آپ کو اور اپنے پیارے انبیاء کو ایک ہی دین کا حکم دیا تھا۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ (جس کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا یعنی حلال اور حرام کا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت سے کیا کہ نوح (علیہ السلام) کو حلال کو حلال قرار دینے اور حرام کو حرام قرار دینے کے ساتھ بھیجا جب ان کو رسول بناکر بھیجا۔ انبیاء کے پیروکاروں نے ان کے مذہب کو مسخ کردیا : 4:۔ ابن المنذر (رح) نے زید بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ جو اہل جزیرہ کے باقی ماندہ افراد میں سے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کیلئے دین مقرر فرمایا لوگ نوح (علیہ السلام) کی شریعت کے تابع رہے جب تک وہ رہے یہاں تک کہ بےدینوں نے اس کو مسخ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کے لئے دین مقرر کیا لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے تابع رہے جب تک وہ اپنے دین پر رہے، پھر بےدینوں نے اسے مسخ کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا اور ان کے لئے دین مقرر فرمایا لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے تابع رہے جب تک وہ رہے بےدینوں نے ان کی شریعت کو مسخ کردیا پھر فرمایا اس دین کو ہلاکت کا کوئی خوف نہیں مگر بےدینوں سے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ یعنی نوح (علیہ السلام) شریعت لے کر آئے ماؤں بہنوں اور بیٹوں کی تحریم کے ساتھ۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان اقیموا الدین “ (کہ اس دین کو قائم رکھنا یعنی اس پر عمل کرتے رہنا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان اقیموا الدین ولاتتفرقوا فیہ “ (کہ اس دین قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا) یعنی تم جان لو کہ افتراق ہلاکت ہے اور جماعت میں اعتماد ہے۔ (آیت ) ” کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ “ (مشرکین کو وہ بات بڑی بھاری گزرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں یعنی مشرکین تکبر کرتے ہیں (یعنی نہیں مانتے) جو ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ابلیس اور اس کے لشکروں نے ان کو گمراہ کردیا تاکہ ان کو جہنم میں اتار دے تو اللہ تعالیٰ نے انکار کیا مگر وہ اس کو نافذ کرے اور ان کی مدد کرے اور اس پر اسے غلبہ دے جو اس کا مقابلہ کرے اور یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس نے اس کی مدد کے ساتھ جھگڑا کیا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے مدد طلب کی اس کے ذریعہ اس کی مدد کی گئی۔ 8:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اللہ یجتبی الیہ من یشآء “ (اللہ اپنی طرف جس کو چاہے کھینچ لیتا ہے یعنی اپنے ذات کے لئے خاص کرلیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بغیا بینہم “ (آپس کی ضداضدی سے) یعنی ان کے مال زیادہ ہوگئے تو ان کے بعض نے بعض پر بغاوت کردی۔ 10:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویھدی الیہ من ینیب “ (اور جو شخص خدا کی طرف سے رجوع کرتا ہے، اللہ اس کو اپنی جانب پہنچنے کی توفیق دیتا ہے) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف رجوع کرتا ہے (آیت ) ” وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم “ (اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی) یعنی اس سے مراد ہیں یہود اور نصاری۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ وما تفرقوا الا من بعد ماجآء ھم العلم بغیا بینہم “ (اور بعد اس کے کہ ان کے پاس حکم پہنچ چکا تھا وہ لوگ محض آپس کی ضدا ضدی سے مختلف فرقوں میں بٹ گئے) یعنی دنیا میں۔
Ayahs 42:15–16

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو آپ اسی کی طرف بلائیے اور جیسا آپ کو حکم ہوا ہے مستقیم رہئے، اور ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کیجئے اور آپ فرمائیے کہ اللہ نے جو کتابیں نازل فرمائیں میں ان پر ایمان لایا اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل رکھوں، اللہ ہمارا رب ہے اور تمہارا رب ہے ہمارے لئے ہمارے اعمال اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی حجت بازی نہیں اللہ ہمیں اور تمہیں جمع فرمائے گا اور اسی کی طرف جانا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑے میں رہتے ہیں اس کے بعد کہ اس کی دعوت کو مان لیا گیا ہے ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وامرت لاعدل بینکم “ (اور میں حکم دیا گیا ہوں کہ تمہارے درمیان انصاف کروں) اللہ کے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ عدل کریں تو آپ نے (ہر معاملہ میں) عدل کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی اور عدل کرنا زمین میں اللہ کا ترازو ہے اس کے ذریعہ ظالم سے مظلوم کے لئے بدلہ لیا جاتا ہے اور طاقتور سے کمزور کیلئے اور اسی عدل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والے کی تصدیق فرماتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے کی تکذیب فرماتے ہیں اور اسی عدل کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والے کو غلط قرار دینا ہے اور جھڑکنا ہے۔ 2:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لاحجۃ بیننا وبینکم “ (ہماری تمہاری کچھ بحث نہیں) یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ قولہ تعالیٰ : والذین یجآ جون فی اللہ : 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ “ (اور جو لوگ اللہ کے دین کے معاملہ میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں بعداس کے کہ وہ رسول اللہ ﷺ مان لئے گئے) اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو مسلمانوں سے جھگڑتے تھے اور ان کو ہدایت سے روکتے تھے بعد اس کے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی اور یہ بھی کہا کہ وہ قوم ہے گمراہ لوگوں میں سے ان کی گمراہی کے بارے میں ان کی دعاقبول ہوئی اور وہ منتظر رہتے ہیں کہ ان پر دور جاہلیت آجائے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ “ یعنی کچھ لوگوں نے یہ لالچ کی کہ دورجاہلیت واپس آجائے۔ 5:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ “ سے یہود انصاری مراد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا اور کہتے تھے کہ ہماری کتاب سے پہلے نازل ہوئی اور ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے (آئے) ہم تم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قریب ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب (20) “ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس کو زیادہ کردیتے ہیں اس کی کھیتی میں اور جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی کھیتی کا تو ہم اس کو اس میں سے دے دیتے ہیں اور اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں) اور فرمایا (آیت ) ” من بعد ما استجیب لہ “ یعنی بعد اس کے کہ مسلمانوں نے اللہ کی دعوت کو قبول کیا اور اللہ کے لئے نماز پڑھی۔ اہل کتاب کی کٹ حجتی : 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ “ سے مراد ہے کہ اہل کتاب نے محمد ﷺ کے اصحاب ؓ سے کہا کہ ہم تم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قریب ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ داحضۃ عند ربھم “۔ (جو لوگ اللہ کے دین کے معاملہ میں مسلمانوں سے جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ رسول اللہ ﷺ مان لئے گئے ان کی محبت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اس میں (آیت ) ” والذین یحآ جون فی اللہ “ سے اہل کتاب مراد ہیں۔ 7:۔ ابن المنذر (رح) عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” اذا جآء نصر اللہ والفتح “ (جب آئی اللہ کی مدد اور فتح) نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ان ایمان والوں سے جو مکہ مکرمہ میں ان کے درمیان تھے کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوچکے ہیں اب تم ہمارے درمیان سے نکل جاؤ اب تم کیوں ہمارے درمیان رہتے ہو تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” والذین یحآ جون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب کو اور میزان کو نازل فرمایا اور آپ کو کیا پتہ ہے عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ (اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن) اور عدل کو نازل فرمایا۔ 2:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اور آپ مقام عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب ہونے لگا تو ڈھال کی طرح تھا پھر وہ روئے اور ان کا رونا سخت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول تلاوت کیا (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ سے لیکر ” العزیز “ تک۔ اس سے کہا گیا کہ آپ کیوں روئے ؟ تو انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ یاد آتے ہیں جبکہ آپ میری اس جگہ میں کھڑے ہوتے تھے آپ نے فرمایا اے لوگوں تمہاری اس دنیا میں سے جو گزر چکا ہے اس کے مقابلے میں جو باقی ہے وہ اسی طرح ہے جو وقت آج کے دن میں سے گزر چکا ہے اور جو باقی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم میں سے ایک آدمی بیت الخلا میں داخل ہوا اور اس نے پانی کا ایک برتن بھی اٹھایا ہوتا جب وہ باہر آتا اور وضو کرتا اس ڈر سے کہ قیامت قائم نہ ہوجائے اور اگر اس کے پاس بچا ہوا کھانا ہوتا تو وہ کہتا میں اس کو ابھی نہیں کھاؤں گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ 4:۔ احمد وہناد بن السری و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور الضیاء نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھیجا گیا (اس حال میں) کہ میں اور قیامت ان دوانگلیوں کی طرح (قریب) ہیں۔
Ayahs 42:18–19

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ اس کے جلدی آنے کا تقاضا کرتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے وہ اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے، خبردار اس میں شک نہیں کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ بندوں پر مہربان ہے وہ رزق دیتا ہے جسے چاہے اور وہ قوی ہے، عزیز ہے

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تمنا کریں گے اس کی تمنا کرنے والے ان سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا تو یہ فرمان ہے (آیت ) ” یستعجل بھا الذین لایؤمنون بھا، والذین امنوا مشفقون منھا “ (اس کے جلد آنے کے طلبگار وہی لوگ ہوتے ہیں جو اس کے آنے کا یقین نہیں رکھتے اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ اس سے ڈرتے ہیں) پھر فرمایا کہ وہ لوگ اپنے ایمان کے بارے میں ڈر کی وجہ سے تمنا کریں گے
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں اضافہ کردیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے ہم اس میں سے اسے دے دیں گے اور آخرت میں اس کے لئے کوئی بھی حصہ نہیں

1:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من کان یرید حرث الاخرۃ “ (جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرتا ہے) یعنی آخرت کی زندگی کا (آیت ) ” نزدلہ فی حرثہ “ (تو ہم اس میں سے دے دیتے ہیں فرمایا کہ جس نے ترجیح دی اپنی دنیا کو اپنی آخرت پر تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا سوائے آگ کے اور دنیا میں سے بھی کسی چیز کا اضافہ نہیں فرمائے گا سوائے اس رزق کے جس کا وہ فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کو تقسیم کردیا گیا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ من کان یرید حرث الاخرۃ “ یعنی جس شخص نے آخرت کی زندگی کا ارادہ کیا تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں۔ (آیت) ” ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب “۔ یعنی جس شخص نے اپنی دنیا کو اپنی آخرت پر ترجیح دی تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں فرماتے سوائے آگ کے اور دنیا میں سے بھی کوئی چیز کا اضافہ نہیں فرماتے مگر وہ رزق جس کا فیصلہ ہوچکا اور اس کے لئے تقسیم کردیا گیا۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) (آیت ) ” ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب “۔ یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ 4:۔ احمد وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) وابن جبان (رح) نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت کو خوشخبری دی گئی بلندی اور زمین میں حکومت کی اس وقت تک جب تک وہ طلب نہ کریں دنیا کو آخرت کے عمل کے ساتھ جو شخص ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا تو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ؛ 5:۔ الحاکم و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت ) ’ من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ “ تلاوت فرمائی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے ! تو میری عبادت کے فارغ ہوجا میں تیرے سینے کو غنا سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو روک دوں گا، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے سینے کو (دنیاوی) مصروفیات سے بھردوں گا اور تیرے فقر کو بند نہیں کروں گا۔ 6:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے تمام غموں کو ایک غم بنادیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیا کے غموں کے لئے کافی ہوجائے گا اور جس شخص کے غم بہت ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ دنیا کی جس وادی میں ہلاک ہوجائیں۔ 7:۔ ابن ابی الدنیا وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ کھیتیاں دو ہیں دنیا کی کھیتی مال اور بیٹے ہیں اور آخرت کی کھیتی باقی رہنے والی نیکیاں (یعنی نیک اعمال ہیں) اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے لڑنے والے شہید ہیں : 8:۔ ابن المبارک نے مرۃ (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس یہ بات ذکر کی گئی کہ ایک قوم اللہ کے راستے میں قتل، کی گئی تو انہوں نے فرمایا کی جس طرف تم جاتے ہو اور جو رائے راکھتے ہو ایسا نہیں ہے۔ جب دو لشکر آپس میں لڑتے ہیں تو فرشتے نازل ہوتے ہیں تو ہو لیتے ہیں جبکہ اپنی اپنی جگہ پر ہوتے ہیں کہ فلاں دنیا کے لئے لڑرہا ہے اور فلاں بادشاہ کیلئے لڑتا ہے اور فلاں شہرت کے لئے لڑرہا ہے اور اس طرح فلاں فلاں لڑرہا ہے اور فلاں اللہ کی رضا مندی کے لئے لڑرہا ہے پس جو شخص اللہ کی رضا کیلئے شہید ہو اوہ جنت میں ہے۔ 9:۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں رزین بن حصین (رح) سے روایت کیا کہ میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو اول سے آخر تک سارا قرآن سنایا جب میں حوامیم سورتوں پر پہنچا تو مجھ سے فرمایا تو قرآن کی دلہنوں تک پہنچ گیا اور جب میں (آیت ) ’ ’ حم ٓ (1) عسق “ کی بائیسویں آیت پر پہنچا تو رونے لگے اور فرمایا اللہ تعالیٰ میں آپ سے عاجرزی کرنے والوں کی عاجزی اور یقین کرنے والوں کے اخلاص اور نیک لوگوں کی اقامت اور ایمان کی حقیقتوں کے استحقاق اور ہر نیکی میں سے مالا مال ہونے اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری رحمت اور جنت کو پانے اور آگ سے نجات کی امید رکھتا ہوں پھر فرمایا اے رزین جب تو (قرآن کو) ختم کرلے تو یہ دعا کیا کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ختم قرآن کے وقت یہ دعا بھی کروں۔
Ayahs 42:21–22

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے لئے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کیلئے دنیا میں وہ چیزیں مشروع کردی ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی اگر فیصلہ کی بات طے شدہ نہ ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بلاشبہ ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے ڈر رہے ہوں گے حالانکہ وہ ان پر واقع ہو کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ جنتوں کے باغیچوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا یہ بڑا فضل ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولولا کلمۃ الفضل “ (اگر ایک قول فیصل نہ ہوتا) یعنی قیامت کا دن کہ اس وقت تک ان کو مہلت دی گئی (تو دنیا میں ان کا فیصلہ ہوجاتا ہے) اور (آیت ) ” فی روضت الجنت “ سے مراد ایسا مکان ہے جو ان کی شان کے مطابق ہوگا۔ 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابو ظبیہ (رح) سے روایت کیا کہ اہل جنت کی ایک جماعت کو بادل سایہ کرلے گا تو کہے گا میں تم پر بارش نہ کروں تو اس قوم میں سے کوئی بھی آدمی کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا مگر وہ اس پر بارش برسائے گا یہاں تک کہ ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ ہم پر اٹھے ہوئے پستانوں اور ہم عمر عورتوں جیسا بادل برسا۔ 3:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) و بخاری ومسلم و ترمذی وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا اس سے مراد آل محمد کے قریبی رشتہ دار ہیں ابن عباس ؓ نے فرمایا جلدی کی کہ قریش میں سے کوئی خاندان ایسا نہیں تھا جس کو نبی کریم ﷺ سے رشتہ داری نہ ہو پھر فرمایا مگر تم میرے اور اپنے درمیان رشتہ داری کو ملائے رکھو۔ رشتہ داری کو واسطہ بنا کر دعوت ایمان : 4:۔ ابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے (سعید بن جبیر کے طریق سے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا مگر مجھے جو تم سے رشتہ داری کا تعلق ہے اس وجہ سے تم مجھ سے محبت کرو، اور اس رشتہ داری کی تم حفاظت کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔
Ayahs 42:23–26

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ وہی ہے جس کی بشارت اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، آپ فرما دیجئے کہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا سوال نہیں کرتا بجز رشتہ داری کی محبت کے اور جو کوئی شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں زیادہ خوبی کردیں گے اور بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے قدردان ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کہ کیا وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے سو اگر اللہ چاہے آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعہ ثابت کرتا ہے بلاشبہ وہ سینوں کی چیزوں کو جاننے والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جو بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور برائیوں کو معاف فرماتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے وہ ان کی دعا قبول فرماتا ہے اور اپنے فضل سے ان کے اعمال میں اضافہ فرماتا ہے، اور جو کافر ہیں ان کیلئے سخت عذاب ہے

5:۔ سعید بن منصور وابن سعد بن عبد بن حمید (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اکثر لوگ ہمارے پاس اس آیت (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں پوچھنے کیلئے آئے میں نے ابن عباس کو دیکھا کہ ہم آپ سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ابن عباس ؓ نے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش میں نسب کے اعتبار سے درمیان میں تھے قریش کا کوئی خاندان ایسا نہیں تھا مگر اس کا آپ کی ذات سے والادت کا تعلق تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “ آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا ینی اس دعوت پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ (مگر رشتہ داری کی دوستی) یعنی تم سے محبت کرو میری قرابت کی وجہ سے اور تم اس کے ذریعہ میری حفاظت کرو۔ 6:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) نے علی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی رشتہ داری سارے قریش سے تھی، جب انہوں نے آپ کو جھٹلادیا اور آپ سے بیعت کرنے پر انکار کردیا تو فرمایا اے (میری) قوم جب تم نے مجھ سے بیعت کرنے پر انکار کردیا تو تم اپنے اندر میری رشتہ داری کی حفاظت کرو، اور تمہارے علاوہ عرب میں سے ایسا کوئی بھی نہیں جو تمہاری نسبت میری حفاظت اور میری مدد کا حق رکھتا ہوں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ضحاک کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور مشرکین رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” قل “ یعنی ان سے فرمادیجئے اے محمد ﷺ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ “ یعنی میں تم سے سوال نہیں کرتا اس دعوت پر جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں (آیت ) ” اجرا “ یعنی دنیا کے کسی عوض کا (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ مگر یہ کہ مجھے تم سے رشتہ داری ہے اس کی تم حفاظت کرو، فرمایا موت یعنی دوسری یہ آپ کے رشتے داری میں آپ کے لئے خاص ہے جب آپ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اس بات کو آپ محبوب رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو انبیاء کے ساتھ ملادے۔ تو فرمایا (آیت ) ” لا اسئلکم علیہ اجرا (میں تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا) وہ (سب کچھ) تمہارے لئے ہے (آیت ) ” ان اجری الا علی اللہ “ (میرا معاوضہ اللہ کے ذمہ ہے) میرا اجر یعنی آخرت کا ثواب اور کرامت اللہ کے ذمہ ہے۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” وما اسئلکم علیہ اجرا ان اجری الا علی رب العلمین (180) (سورۃ الشعراء) (میں تم سے کسی معاوضہ کا سوال نہیں کرتا میرا معاوضہ رب العالمین کے ذمہ ہے) اور جیسے کہا ھود نے صالح (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) نے انہوں نے اجر کو استثنی نہیں کیا۔ جیسے نبی کریم ﷺ نے استثنی فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو قبول نہ کیا تو وہ منسوخ ہیں۔ 8:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت نقل کی کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم “ سے مراد ہے (فرمادیجئے میں تم سے سوال نہیں کرتا) یعنی ان باتوں پر جو میں تمہارے پاس لاتا ہوں دلائل اور ہدایت میں سے (آیت ) ” اجرا “ (کسی معاوضے کا) مگر یہ کہ تم اللہ سے محبت کرو اور تم اس کی طرف تقرب حاصل کرو اس کی اطاعت کے ذریعہ۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ (تم میری تابعداری کرو اور تم میری تصدیق کرو اور میرے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے العوی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ نے قریش سے فرمایا میں تم سے تمہارے مالوں میں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرتا لیکن میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مجھ سے محبت کرو اس قرابت کی وجہ سے جو میرے اور تمہارے درمیان ہے کیونکہ تم میری قوم ہو اور میں زیادہ حقدار ہوں کہ تم میری اطاعت کرو اور میری دعوت قبول کرو۔ 11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن المبارک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے تم میری رشتہ داری کی حفاظت کرو۔ 12:۔ ابن مردویہ (رح) نے عکرمہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ قریش میں کوئی خاندان ایسا نہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے کے خاندان کی ماں نہ ہو، یہاں تک کہ قبیلہ بنو ھذیل میں سے آپ کی ماں تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (فرما دیجئے میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا) مگر یہ کہ تم میری حفاظت کرو میری رشتہ داری کی وجہ سے اگر تم مجھ کو نہ جھٹلاؤ تو مجھ کو تکلیف تو نہ دو ۔ 13:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے مقسم کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انصار نے کہا ہم نے یہ کیا ہم نے یہ کیا انہوں نے فخر کیا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا ہمارے لئے تم پر فضیلت حاصل ہے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ان کی مجالس میں تشریف لائے اور فرمایا اے انصار کی جماعت کیا تم ذلیل نہیں تھے تم کو اللہ نے عزت دی انہوں نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ فرمایا تم مجھ کو جواب نہیں دوگے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کی قوم نے آپ کو گھر سے نکالا تھا تو ہم نے آپ کو ٹھکانہ دیا کیا انہوں نے آپ کو نہیں جھٹلایا تھا ہم نے آپ کی تصدیق کی کیا انہوں نے آپ کو بےمددگار نہیں چھوڑا تھا ہم نے آپ کی مدد کی نبی کریم ﷺ لگاتار یہ باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ انصار گھٹنوں کے بل کھڑے ہوگئے اور عرض کیا ہمارے اموال اور جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں ہے اللہ اور اس لے رسول کیلئے ہے تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ 14:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط اور ابن مردویہ (رح) نے (ضعیف سند کے ساتھ) سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ انصار نے آپس میں کہا اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے لئے مال جمع کردیتے تو ہاتھ کشادہ ہوجاتا۔ اور آپ اور آپ کے مال کے درمیان کوئی حائل نہ ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے ارادہ کیا کہ ہم آپ کے لئے اپنے مالوں میں جمع کردیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ (اس آیت کے نازل ہونے کے بعد وہ لوگ ایک دوسرے کے پیچھے نکلے، اور انہوں نے کہا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ آپ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا بعض نے کہا کہ آپ نے یہ فرمایا تاکہ ہم اہل بیت کی حفاظت کریں اور ہم ان کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی ” ام یقولون افتری علی اللہ کذبا “ (کیا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں) سے لے کر (آیت) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ تک (اور وہی ذات اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتی ہے) تو اللہ کے ساتھ توبہ کا حکم دیا اللہ تعالیٰ نے اس قول تک (آیت ) ” ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ “ (اور اللہ تعالیٰ لوگوں کی عبادت یا دعا) قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے اور وہ لوگ تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کیطرف توبہ کریں اور اس سے استغفار کریں۔ 15:۔ ابو نعیم والدیلمی (رح) نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ (یعنی تم میری حفاظت کرو، میرے گھروالوں کے بارے میں اور ان سے میری وجہ سے محبت رکھو ، 16:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) بسند ضعیف نے سعید بن جبیر ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی قرابت کون سی ہے کہ جن سے محبت کرنا واجب ہے ؟: آپ نے فرمایا علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے ؓ ۔ 17:۔ سعید بن منصور (رح) نے سعید ؓ بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ میں قربی سے مراد رسول اللہ ﷺ کے قربی (رشتہ دار) 18:۔ ابن جریر (رح) نے ابوالدیلم (رح) سے روایت کیا کہ علی بن حسین ؓ کو قید کرکے لایا گیا اور دمشق کی سیڑھیوں پر کھڑا کیا گیا (پھر) اہل شام میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا ساری تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تم کو قتل کیا اور تم کو جڑ سے اکھاڑ دیا علی بن حسین ؓ نے اس سے فرمایا کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ پھر اس نے پوچھا تم وہی ہو فرمایا ہاں ! 19:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن یقترف حسنۃ “ (اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا) یعنی محمد ﷺ کی آل سے محبت کرے گا۔ 20:۔ احمد و ترمذی (وصححہ) و نسائی اور حاکم نے مطلب بن ربیعہ (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا ہم نکلتے ہیں ہیں تو ہم قریش کو باتیں کرتے ہوئے پاتے ہیں جب وہ ہم کو دیکھتے ہیں تو خاموش ہوجاتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ سخت غصہ ہوئے اور آپ کی آنکھوں کے درمیان پسینہ بہنے لگا پھر فرمایا اللہ کی قسم کہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ تم سے محبت نہ کرے اللہ اور میرے رشتہ کی وجہ سے۔ 21:۔ مسلم و ترمذی و نسائی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ دوچیزوں کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید : 22:۔ ترمذی (وحسنہ) وابن الانباری نے المصاحف میں زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے اندر وہ چیز چھوڑنے والا ہوں اگر تم اس کو (مضبوطی کے ساتھ) پکڑو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک بڑی ہے دوسری سے ایک اللہ کی کتاب ہے جو لمبی رسی ہے آسمان سے زمین تک اور میری اولاد اور میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں چیزیں ہرگز جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس مؤمن پر آئیں گے سودیکھو تم میرے بعد کس طرح ان کی نیابت کرتے ہو۔ 23:۔ ترمذی (وحسنہ) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) اور بیہقی (رح) نے الشعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے محبت کرو جب وہ تم کو غذا دیتا ہے اپنی نعمتوں میں سے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کی وجہ سے اور میرے گھروالوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ 24:۔ بخاری نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ محمد ﷺ کا خیال رکھو آپ کے اہل بیت کے بارے میں۔ 25:۔ ابن عدی نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ہم سے اہل بیت کے بارے میں بغض رکھتا ہے تو وہ منافق ہے۔ 26:۔ طبرانی (رح) نے حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ہم سے بغض نہیں رکھتا اور کوئی ہم سے حسد نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کے لئے آگ کے کوڑوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ 27:۔ احمد، ابن حبان (رح) اور حاکم (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی آدمی ہمارے اہل بیت سے بغض نہیں رکھتا مگر اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ 28:۔ طبرانی (رح) وخطیب (رح) نے ابوالضحی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عباس ؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بلاشبہ آپ نے ہمارے لئے کینہ کو چھوڑ دیا ہے جب سے آپ نے یہ کام کیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ خیر کو یا ایمان کو نہیں پہنچیں گے یہاں تک کہ تم سے محبت کریں گے۔ 29:۔ خطیب (رح) نے ابوالضحی کے طریق سے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ عباس بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! البتہ ہم اپنی قوم کے لوگوں میں کینہ کے آثار پاتے ہیں ان واقعات کی وجہ سے جو ہماری طرف سے ان کے ساتھ ہوئے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! بلاشبہ وہ ہرگز خیر کو نہ پہنچیں گے یہاں تک کہ تم سے محبت نہ کریں میری رشتہ داری کی وجہ سے بنو سلیم تو میری شفاعت کی امید رکھتی اور بنو عبدالمطلب اس کی امید نہ رکھیں۔ 30:۔ ابن نجار نے اپنی تاریخ میں حسن بن علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز کی بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کرام کی محبت اور آپ کے اہل بیت کی محبت ہے۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ لائق نہیں ہے کہ وہ ان سے اس قرآن پر کسی معاوضے کا سوال کریں لیکن ان کو حکم فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں، اس کی اطاعت اور اس کی کتاب کی محبت کے ساتھ۔ 32:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حسن بصری (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ہر وہ آدمی جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرکے اللہ کا قرب حاصل کیا تو اس بندے کی محبت اللہ پر واجب ہوگئی۔ 33:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ کے بارے میں روایت کیا اس سے مراد ہے کہ نیک عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا۔ 34:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اجداد میں سے دس عورتیں مشرکات میں سے تھیں، جب آپ ان کے پاس سے گزرتے تو وہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے (اس طرح پر) کہ ان کی خامیاں بیان کرتے اور ان کو برا بھلا کہتے تو فرمایا (آیت ) ” الا المودۃ فی القربی “ یعنی مجھ کو تکلیف نہ دو میرے رشتہ داروں کے معا ملہ میں۔ 35:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان اللہ غفور شکور “ میں غفور سے مراد ہے گناہوں کو بخشنے والا اور شکور سے مراد ہے نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا کہ اس پر ان کی کئی گنا اجر عطا فرماتا ہے۔ 36:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فان یشا اللہ یختم علی قلبک “ (اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دیتے) یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو آپ کو بھلا دیتے جو کچھ آپ کو دیا ہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم ) ۔ 37:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (اور وہ ذات ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے) کے بارے میں روایت کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو اپنے گمشدہ سامان کو پالیتا ہے اس جگہ میں جس میں وہ خوف کرتا تھا کہ وہ اس سے مرجائے گا۔ 38:۔ مسلم والتزمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس آدمی سے زیادہ خوش ہوتے ہوتے ہیں جو اپنا گمشدہ سامان پالیتا ہے۔ 39:۔ بخاری ومسلم اور ترمذی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کسی بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب وہ بندہ کسی ہلاکت کی جگہ میں اتر جائے اور اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا اور پینا لدا ہوا ہو۔ اس نے اپنا سر رکھا اور سوگیا جب وہ جاگا تو اس کی سواری جاچکی تھی اس نے سواری کو تلاش کیا (وہ نہ ملی) یہ ان تک کہ جب اس پر گرمی اور پیاس سخت ہوئی اس نے کہا کہ میں اپنی جگہ پر لوٹ جاؤں جہاں میں پہلے تھا اور وہاں سوجاؤں گا یہاں تک کہ مرجاؤں وہ لوٹا اور سوگیا پھر اس نے سراٹھایا تو اچانک اس کی سواری اس کے پاس کھڑی تھی جس پر اس کا کھانا اور پینا بھی لدا ہوا تھا اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ خوش ہوتے ہیں مؤمن بندے کی توبہ سے جتنا یہ شخص اپنی سواری اور زاد راہ کے ملنے سے خوش ہوا۔ 40:۔ عبدالرزاق (رح) و سعید بن منصور (رح) وابن سعد عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اسے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو ایک عورت سے بدکاری کرتا ہے پھر اس سے نکاح کرلیتا ہے انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں پھر یہ (آیت) پڑھی ” وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ “ 41:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں عتبہ بن الولید (رح) سے روایت کیا کہ مجھے بعض رہاویین نے بیان کیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رحمن کے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے یا کریم العفو جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا آپ جانتے ہیں کریم العفو کیا ہے ؟ فرمایا : اے جبرئیل (علیہ السلام) انہیں جانتا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ برائی کو مٹادیتے ہیں اور اس کے بدلے میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔ 42:۔ سعید بن منصور و طبرانی (رح) نے أخنس (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اس لفظ کی قرأت میں شک ہوا کہ ’ ویعلم ما تفعلون یایفعلون “ تو ہم ابن مسعود (رح) کے پاس آئے انہوں نے فرمایا (آیت) ” تفعلون “ ہے۔ 43:۔ عبد بن حمید (رح) نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ’ ’ حم عسق “ میں (آیت ) ” ویعلم ما تفعلون “ تاء کے ساتھ پڑھا۔ 44:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححۃ) نے سلمہ بن سبرہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو معاذ ؓ نے خطبہ دیا اور فرمایا تم ایمان والے ہو اور تم جنت والے ہو اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ فارس اور روم میں سے جن لوگوں کو تم پاتے ہو وہ جنتی ہیں کیونکہ انمیں سے کوئی خیر کا کم کرتا ہے تو دوسرا کہتا ہے تو نے بہت اچھا کیا اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے، تو نے اچھا کیا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” ویستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ویزیدھم من فضلہ “ (اور ان لوگوں (عبادت یا دعا قبول کرنا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کئے اور انکو اپنے فضل سے اور زیادہ ثواب دیتا ہے) 45:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے ابوابراہیم للخمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویزیدھم من فضلہ “ سے مراد ہے کہ وہ سفارش کرتے ہیں اپنے بھائیوں کے بھائیوں کے بارے میں۔