42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 42:1–9

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اللہ غالب (و) دانا اسی طرح آپ پر وحی بھیجتے ہیں جس طرح آپ سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتے رہے ہیں

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی مرتبہ (اور) گرامی قدر ہے

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

ہوسکتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین میں بسنے والوں کے لئے معافی طلب کرتے ہیں ۔ خوب جان لو ! کہ بیشک اللہ ہی معاف کرنے والے رحمت کرنے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس (اللہ) کے سوا دوسرے کارساز بنارکھے ہیں ، اللہ ان کو دیکھ بھال رہے ہیں اور آپ کو ان پر داروغہ نہیں بنایا گیا

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح آپ پر (یہ) قرآن عربی (زبان میں) وحی فرمایا ہے تاکہ آپ (پہلے پہل) بڑے شہر (مکہ مکرمہ کے رہنے) والوں کو اور ان کے اردگرد والوں کو ڈرائیں اور قیامت کے دن سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ جنت میں داخل ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتے تو ان کو ایک ہی جماعت بنادیتے و لیکن وہ جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت میں داخل فرمالیتے ہیں۔ اور ظالموں کا کوئی حامی اور مددگار نہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں۔ سو کار ساز تو اللہ ہی ہیں اور وہی مردوں کو زندہ کریں گے اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں

آیات 1 تا 9۔ اسرار ومعارف۔ حروف مقطعات کے معنی علم الٰہی میں ہیں ، اسی طرح دلائل کے ساتھ حقائق بیان کرنے کے لیے اور حق کو ثابت کرنے کے لیے آپ سے پہلے انبیاء پر بھی وحی نازل کی گئی جس طرح آپ پر نازل ہوئی ہے کہ اللہ زبردست اور غالب اور بڑی حکمتوں والا ہے سب اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے جو کچھ زمین میں ہے اور سب پر اسی کی حکمرانی ہے وہی عظیم ہے ساری کائنات میں جس طرح اس کا حکم جاری ہے اور خود انسان کے تقدیری امور میں بھی اگر چاہتا تو سب سے حکما منوالیتا مگر اس کی حکمت کہ انسان کو اختیار دیا اور راہنمائی کے لیے انبیاء (علیہم السلام) اور وحی کا سلسلہ جاری فرمایا ورنہ اس کی عبادت وتسبیح کرنے کو تو اس قدر فرشتے شب روز لگے ہوئے ہیں کہ ان کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑنے کو ہیں اور وہی فرشتے اہل زمین کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں جس کا فائدہ کفار کو بھی ایک خاص وقت تک ملتا ہے یعنی دنیا کی زندگی گزرانے میں موت اور بعد موت کافر کو نصیب نہ ہوگامگر یہ سن لیجئے کہ اگر کوئی مان لے تو اللہ بہت بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے یعنی اس کی بخشش بہت وسیع ہے اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں ان کے اعمال بد بھی اللہ کے پاس جمع ہو رہے ہیں آپ اس وجہ سے کہ آپ کے ذمہ ان سے منوانا نہیں بلکہ بات پہنچانا ہے آپ پر قرآن حکیم جو عربی زبان میں نازل فرمایا گیا ہے کہ آپ اس قوم کو ڈرائیں جو ام القری یعنی سب سے بہتر شہر میں بستی ہے۔ ام القری۔ مکہ مکرمہ اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک سب سے پیارا شہر بھی ہے اور اس لیے بھی عظیم ہے کہ زمین کی ابتداء اسی مقام سے ہوئی اور آبادیوں کی بنیاد یہی جگہ ہے اور اس کے ساتھ سب اردگرد والوں کو بھی یا سب اہل زمین کو بھی اور اس عظیم دن کے نتائج سے انہیں بروقت خبردار کریں جس دن ساری مخلوق کو جمع ہوکرجواب دینا ہے کہ اس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور اس روز لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک فریق کو جنت نصیب ہوگی جب کہ دوسرے کو دوزخ میں رہنا پڑے گا اگر حکما سب کو ایمان عطا کرنا ہوتاتو اللہ کریم سب کو ایک ہی قوم بنادیتا کوئی اختلاف نہ کرتا اور سب اللہ کی اطاعت کرتے مگر اس کی حکمت کہ اس نے فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا اب جوا س کے کرم کا طالب ہوتا یعنی جسے وہ چاہتا اپنی رحمت میں داخل فرماتا ہے توفیق ایمان وعمل عطا کرتا ہے اور جو لوگ ایمان نہ لاکر ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں آخر کو انہیں کوئی دوست نصیب ہوگا نہ کوئی مدد کرنے والا۔ بھلا ان کا یہ عمل اللہ کے علاوہ دوسروں سے اپنے خیال فاسد میں اپنی مدد کارسازی کی امید وابستہ کررکھی ہے جبکہ ایسا ہے نہیں بلکہ یہ شان صرف اللہ کو حاصل ہے کہ وہ سب کی ضروریات پوری فرماتا ہے اور سب کے کام بناتا ہے اس لیے کہ بنیادی طور پر کائنات کا ہر ذرہ مردہ ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے اسے زندگی یا اس کا ہونا وہی عطا کرتا ہے لہذا جس چیز سے بھی کسی انسان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ہے اللہ ہی سب کے کام بناتا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔
Ayahs 42:10–19

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں کچھ اختلاف کرتے ہو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ یہی اللہ میرا پروردگار ہے ، میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا ، اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے ہیں اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے) اسی طرح تمہاری نسل چلاتا ہے۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہ سنتا (اور) دیکھتا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی جس کو چاہے زیادہ روزی عطا کرے اور (جس کو چاہے) کم کردے۔ بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے وہی دین مقرر فرمایا ہے جس کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعے بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو حکم فرمایا تھا کہ اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ جس بات کی طرف آپ مشرکین کو بلاتے ہیں وہ ان کو بڑی گراں گزرتی ہے ، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھادیتا ہے

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم آچکنے کے بعد صرف آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقررہ تک بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے وہ اس سے ایسے شک میں پڑے ہیں جس نے (ان کو) تردد میں ڈال دیا ہے

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو اس لئے آپ اسی (دین) کی طرف (لوگوں کو) بلاتے رہیے اور جس طرح آپ کو حکم ہوا ہے اس پر قائم رہیے۔ اور ان کی خواہشات پر نہ چلئے اور فرما دیجئے کہ اللہ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تم میں انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارے اور تمہارے پروردگار ہیں۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ، ہماری اور تمہاری کوئی بحث نہیں۔ اللہ ہم سب کو جمع فرمائیں گے اور ان ہی کے پاس جانا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی بات میں جب کہ یہ تسلیم کرلیا گیا ہے کہ ان کی دلیل ان کے پروردگار کے ہاں جھوٹی ہے اور ان پر (اللہ کا) غصہ ہے اور ان کے لئے بہت سخت عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور ترازو (انصاف کے لئے) اور آپ کو کیا خبر کہ شاید قیامت قریب ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں۔ اور جو ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے ۔ یاد رکھو ! کہ یقینا جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں بڑی دور کی گمراہی میں (مبتلا) ہیں

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہیں ، جس کو چاہتے ہیں رزق عطا کرتے ہیں اور وہ قوت والے ، زبردست ہیں

آیات 10 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ ان لوگوں سے کہیے کہ اگر انہیں توحید باری تعالیٰ میں اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ اللہ کریم کے حوالے ہے جس نے دنیا میں دلائل معجزات سے واضح کردیا ہے اور آخرت میں ایمان والوں کو جنت میں اور کفار کو دوزخ میں داخل کردے گا اور جس کی یہ عظمت وشان ہے وہی میرا پروردگار ہے اور کفار سے جس بھی تکلیف کے پہنچنے کا اندیشہ ہوسکتا ہے اس کے لیے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی ہر ضرورت کے لیے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں وہ کائنات کا رب ہے تمہارا بھی وہی ہے کہ زمین و آسمان کو بنانے والا وہی ہے اور تمہیں پیدا کیا اور پھر جوڑے بنایا کہ تمہاری نسل چلے۔ اسی طرح جانوروں کو پیدا کرکے جوڑے بنادیئے کہ ان کی بقائے نسل کا باعث ہو اور یوں وہ تمہاری نسلوں کے کام آتے رہے کتنے احسانات ہیں اس کے یوں تمہیں دنیا میں بساتا ہے اور اس کی مثل کوئی دوسری ہستی نہیں وہ سب کچھ سننے والا اور ہر شے کو دیکھنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جس طرح اس نے خزانے پیدا فرمائے اسی طرح ان پر حکم بھی اسی کا چلتا ہے سب کی کنجیاں اسی کے دست قدرت میں ہیں جسے چاہتا ہے بیشمار نعمتیں عطا کردیتا ہے کسی کو دولت میں کسی کو اقتدار کی صورت میں کسی کو علم اور وقار کسی کو صحت و طاقت کسی کو جسمانی تو کسی کو روحانی انعامات سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے کم کردیتا ہے کہ ان سب امور سے وہ خوب واقف ہے ہر کسی کو اپنی حکمت سے اس کی مصلحت کے مطابق عطا کرتا ہے اس کریم نے تمہارے لیے وہی دین مقرر فرمایا ہے جو نوح (علیہ السلام) کو عطا ہوا ہے اسی کا حکم آپ کی طرف بھی نازل ہوا ہے کہ اصول اور بنیاد یعنی توحید و رسالت آخرت جنت دوزخ فرشتوں کا وجود اور اصول عبادات نماز روزہ وغیرہ یاچوری ڈاکے زنا اور اس طرح کی برائیوں کی حرمت میں تو سب متفق ہیں اور اسی دین کا حکم ابراہیم (علیہ السلام) کو موسیٰ وعلیہما السلام کو ہوا۔ اصول دین تمام ادیان میں ایک تھے اور نوح (علیہ السلام) سے تذکرہ۔ اب اس میں اختلاف ڈالنے کی کوشش نہ کرو جیسا کہ لکھاجاچکا اصول دین تو تمام ادیان میں ایک تھے احکام میں ضرورت کے مطابق تبدیلی فرمائی گئی اللہ کریم نے ہر قوم کی آسانی کے لیے احکام میں اس کی رعایت فرمائی اور نوح (علیہ السلام) سے بات شروع فرمائی گئی اگرچہ پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے مگر مفسرین کرام کے مطابق شرک نوح (علیہ السلام) کے عہد سے شروع ہوا پھر یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت مانتے تھے اور خود کو ان کے طریقہ پر کہتے تھے نیز موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے بھی تھے تو سب سے ارشاد ہوا کہ اب اس حقیقت میں اختلاف مت ڈالو بلکہ دین کو قائم رکھو۔ اقامت دین فرض ہے اور تفرقہ حرام ہے۔ اور دین حق پہلے انبیاء کا بھی وہی تھا جو آپ نے واضح فرمادیا اور اب اس کی اقامت کی دو صورتیں ہیں کہ اس صدق دل سے قبول کرکے اس پر عمل کیا جائے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا کام کیا جائے اور تفرقہ انہیں قطعی احکام و عقائد میں جن میں تمام انبیاء کا دین ہے اختلاف کرنے کو کہا گیا جو حرام ہے جس طرح مشرکین نے ذات باری تک یا یہودی ونصاری نے انبیاء کے ساتھ عقیدے میں اختلاف کررکھا تھا قطعی احکام کو بدل کر رسومات جاری کررکھی تھیں اس میں فروعی مسائل جو نص قرآن سے یاسنت سے ثابت نہ ہوں ان میں مجتہدین کا اجتہاد سے رائے قائم کرنا اور اس میں اختلاف کا ہونا مذکور نہیں بلکہ یہ تو صحابہ میں بھی تھا اور اس کو حدیث شریف میں باعث برکت کہا گیا ہے آپ کی دعوت الی اللہ مشرکین کو بہت گراں گزرتی ہے توحید کی بات تک سننا گوارا نہیں مگر اللہ اپنے لیے چن لیتا ہے بندوں کو اور جس کے دل میں رجوع الی اللہ پیدا ہوا اسے بھی اپنی راہ بجھادیتا ہے۔ ہدایت کے دو انداز۔ صراط مستقیم پرچلنے کے دوہی طریقے ہیں اول یہ کہ اللہ کریم خود کسی کو اس کام کے لیے چن لے اور یہ بنی آدم کی راہنمائی کے لیے ہوتا ہے جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور خاص خاص اولیائے کرام جن کے بارے میں ارشاد ہے۔ انااخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار۔ یعنی ان لوگوں کو ہم نے فکر آخرت کے لیے خاص کردیا ہے یہ طریقہ محدود ہے اور دوسرا اور عام طریقہ یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں اللہ کے دین پرچلنے کا ارادہ پیدا ہو اسے ہدایت تک پہنچادیتا ہے۔ اور جن لوگوں نے بھی قطعی اور حق باتوں میں اختلاف کیا خواہ وہ پہلی امتوں میں سے تھے یا اس امت کے تو انہوں نے حقیقت کا علم ہوجانے کے بعد کیا اور سب کچھ آپس کی ضد میں اور اپنے اپنے مفادات کے لالچ میں کرگزرے حصول اقتدار یاحصول زر کی خواہشات سے مغلوب ہوکراختلافات کو ہوا دی اور الگ الگ راہ اپنائی اور اگر اللہ کریم کی طرف سے فیصلہ کا دن طے نہ ہوچکا ہوتویہ اتنابڑاجرم ہے کہ انہیں ابھی سے فیصلہ سنادیاجاتا اور اب جب ان لوگوں کو آپ کے ذریعہ ان کے بعد کتاب نصیب ہوئی تو یہ انہی کی طرح شک اور تردد میں گرفتار ہیں جو انہیں چین نہیں لینے دیتا مگر آپ ان کی باتوں کی پر اوہ نہ کیجئے کہ یہ تو چاہتے ہیں کہ آپ دین بیان کرنا چھوڑ دیں مگر آب اپنے طرز عمل پر جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے جمے رہیں ، اور دعوت الی اللہ کا کام کیے جائیں اور ان کی اس خواہش کو کبھی پورا نہ ہونے دیں اور انہیں فرمادیجئے کہ میں اسی پر ایمان لایا ہوں جو کچھ اللہ رب العزت نے قرآن میں نازل فرمایا ہے اور مجھے اللہ نے تمہارے درمیان عدل کا حکم فرمایا ہے کہ تمام قطعی امور کو یاتوحید کے ساتھ سب انبیاء کو برابر مانوں یا جو تمہیں کرنے کا حکم دوں خود بھی اس پر عمل کروں یا تمہارے جھگڑے میرے پاس آئیں تو انصاف سے طے کروں ۔ اس لیے اللہ ہی ہمارا پروردگار بھی ہے اور تم سب کا بھی ہم اپنے کردار عمل کا نتیجہ پائیں گے جبکہ تمہارا عمل تمہارے لیے ہے اس میں بےکار بحث کی ضرورت نہیں جبکہ دلائل واضح ہوچکے تو پھر بحث برائے بحث کا کچھ فائدہ نہیں اب تو اللہ کے حضور فیصلہ ہوگا جو ہم سب کو میدان حشر میں جمع فرمائے گا اور سب نے پھر کر اسی کی طرف جانا ہے جو لوگ اللہ کی توحید اور اس کی ذات وصفات میں خواہ مخواہ حجت بازی کرتے ہیں حالانکہ سمجھدار اور انصاف پسند لوگ اسلام کو قبول کرچکے ہیں اور اس پر عمل کے خوبصورت نتائج دنیا میں بھی ان کی زندگی میں حسین تبدیلی سے واضح ہو رہے ہیں تو ان کی حجت بازی کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں بلکہ ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور بہت سخت عذاب ہوگا اور اللہ وہ کریم ہے جس نے کتاب نازل فرمائی اور ہر کام میں انصاف کا حکم دیا المیزان ، ترازو ، یعنی ہر کام میں ہر ایک حق میں انصاف پھر قیامت سرپرکھڑی ہے اور کون جانے کہ وہ بہت ہی قریب ہو ۔ کفار جو اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ مذاق کرتے ہیں کہ اگر قیامت ہے تو پھر ہوجائے مگر جنہیں دولت ایمان نصیب ہے وہ اس روز کے محاسبے سے لرزاں وترساں رہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حق ہے اور ضرور واقع ہوگا جان لو جن لوگوں کو قیامت پہ اعتبار نہیں اور اس کے وقوع میں بھی بحث کرتے ہیں یہ بہت بڑی گمراہی کا شکار ہوچکے ہیں اللہ کریم اپنے بندوں پہ بہت مہربان ہے اور اس کا لطف وکرم عام ہے اور سب کو روزی پہنچاتا ہے ہر ایک کو ہر جگہ رزق دیتا ہے اور وہ زبردست ہے اور غالب کہ جو چاہے کرسکتا ہے۔
Ayahs 42:20–29

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہو اس کہ ہم اس میں سے کچھ دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے کچھ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ اور اگر ایک قول فیصل (یعنی قیامت کا وعدہ) نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور بیشک ظالموں کو دردناک عذاب ہوگا

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈرتے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے۔ وہ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا۔ یہی بہت بڑا انعام ہے

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی ہے جس کی خوشخبری اللہ اپنے (ان) بندوں کو دے رہے ہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کیے آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی صلہ نہیں چاہتا سوائے قرابت داری کی محبت کے۔ اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس کو اور بڑھادیں گے بیشک اللہ بڑے بخشنے والے بڑے قدردان ہیں

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں (پیغمبر) نے اللہ پر جھوٹ باندھ رکھا ہے سو اگر اللہ چاہتے تو آپ کے قلب پر مہر کردیتے اور اللہ باطل کو مٹایا کرتے ہیں اور حق کو اپنے ارشادات سے ثابت فرماتے ہیں۔ بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہیں جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور ان کے قصور معاف فرماتے ہیں اور جو تم کرتے ہو سب جانتے ہیں

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کی (عبادت) قبول فرماتے ہیں اور اپنی مہربانی سے ان کو زیادہ (ثواب) عطا فرماتے ہیں اور کفر کرنے والوں کے لئے سخت عذاب ہے

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتے تو وہ زمین میں فساد کرنے لگتے و لیکن وہ جو چاہتے ہیں اندازے کے ساتھ نازل فرماتے ہیں۔ بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتے (اور) دیکھتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی (اللہ) تو ہیں جو بندوں کے ناامید ہوجانے کے بعد بارش برساتے ہیں اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتے ہیں اور وہ کارساز ، تعریف کے سزاوار ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلارکھے ہیں۔ اور وہ جب چاہیں ان کے جمع کرنے پر (بھی) قدرت رکھتے ہیں

آیات 20 تا 29۔ جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب آخرت میں کرتا ہے لہذا اطاعت کی حدود میں رہتا ہے جبکہ کافر سب کچھ جھپٹ لیناچاہتا ہے جبکہ نہ دنیا میں سب کچھ پاسکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں اسے کچھ بھی ملے گا۔ تو کیا انہیں اللہ کے برابر یا اس کا کوئی شریک ہاتھ آگیا ہے جس نے ان کے لیے الگ دین کی راہ نکال دی ایسی جو اللہ کے دین سے بالکل جدا ہے یعنی جب اللہ کے علاوہ کوئی معبود یا اس کا شریک ہے ہی نہیں تو انہیں اسلام کے علاوہ کوئی دین کہاں سے مل گیا یہ اتنابڑا جرم کر رہے ہیں کہ اگر روز قیامت مقرر نہ ہوچکا ہوتاتو ان کا فیصلہ ابھی کردیاجاتا اور یقینا ایسے ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے اور اے مخاطب تو دیکھے گا کہ ظالم اپنی کرتوتوں کی سزا کے خوف سے میدان حشر میں کھڑے لرز رہے ہوں گے مگر اس سے بچ نہ پائیں گے بلکہ وہ ان پر ضرور لاگوہوگی اور اسی میدان میں مومن خوش ہو رہے ہوں گے کہ جو ایمان لائے اور اپنے عمل اور کردار سے اپنا ایمان ثابت کیا وہ جنت کے باغوں میں جائیں گے نیز اللہ انہیں ہر وہ نعمت دے گا جس کی خواہش کریں گے اور یہ بہت بڑا اور بلند مرتبہ ہے جو انہیں نصیب ہوگا اور خوب سن لو کہ ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اسی بات کی خوش خبری سنا رہے ہیں آپ ان سے کہیے کہ میں اس تمام محنت پر جو دین کے لیے کررہا ہوں اور جو سب انسانیت کے اور تمہارے بھی بھلے کے لیے ہے تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر یہ ضرور کرو کہ کم ازکم قرابت داری کا لحاظ کرو مجھے ایذادینے کی کوشش نہ کرو میری بات اطمینان سے سنو اور اس پر غور کرو پھر تمہیں اختیار ہے مانویانہ مانو کوئی تم سے زبردستی منوانا نہیں چاہتا۔ مودۃ فی القربی۔ عرب کا معاشرہ قبائلی زندگی پر استوار تھا اور ہر شخص کو اس کے قبیلے کا تحفظ حاصل ہوتا تھا اس کے بغیر وہاں زندگی محال تھی اور حضرت ابن عباس کے مطابق نبی (علیہ السلام) قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ اس کے ہر ذیلی خاندان میں آپ کا رشتہ ولادت قائم تھا چناچہ ارشاد ہوا کہ ان سے کہیے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی معاوضہ ہرگز نہیں مانگتا مگر تم مجھ سے قرابت داری کا معاملہ اور مروت ومودت کا معاملہ کرو مجھے آرام سے رہنے دو اور میری حفاظت کرو (روح) اور ابن جریر اور دوسری تفاسیر میں یہ الفاظ بھی ہیں جو اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اے قوم اگر میرے اتباع سے انکار کرتے ہوتوقرابت کے رشتے کے باعث میری حفاظت کرو ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ جن سے قرابت نہیں ایمان لاکر میری نصرت و حفاظت میں تم پر بازی لے جائیں۔ ایک اور ضعیف روایت حضرت ابن عباس ہی سے ملتی ہے کہ لوگوں نے اس آیت کے بارے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت علی ، حضڑت فاطمہ ، اور ان کی اولاد کی محبت مگر اس کو درمنثور میں علامہ سیوطی نے تخریج احادیث میں حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے کہ اجر رسالت تو کسی نبی نے طلب نہیں فرمایا چہ جائیکہ شان رسالت ماب سے یہ توقع کی جائے لہذا جمہورامت کے نزدیک وہی تفسیر جو اوپر بیان کی گئی مگر شیعہ حضرات نے اس پر عقائد کی بنیاد استواری کردی ہے جو سراسر باطل ہے اور جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل بیت رسول سے محبت کی کوئی اہمیت نہ ہو بلکہ اہل بیت رسول اور آل رسول کی محبت جزو ایمان ہے اور آل رسول میں ساری امت داخل ہے جو کوئی جتنا قریب ہے اتنا ہی سب کے لیے محبوب ہے اور اہل بیت میں آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد شامل ہے سب اپنے اپنے درجے کے مطابق محبوب ہیں اور ان کی محبت ہی ایمان ہے بھلا کیسے نہ ہو جب کہ نبی (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے بلکہ آج کے دور میں بھی اگر کوئی ایسافرد ملے جسے آپ سے نسبی تعلق ہو تو وہ محبت اور احترام کا مستحق ہے بجز اس کے کہ وہ اسلام چھوڑ نہ چکا ہو (معاذ اللہ) ۔ اور جو کوئی بھی نیکی کرے اسے اس کا اجرزیادہ کرکے ملے گا اس لیے کہ اللہ کریم معاف کرنے والا ہے اور نیک اعمال کا قدر دان ہے یا پھر ان ماننے والوں کا کہنا یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ پر بہتان باندھا ہے (نعوذ باللہ) اور آپ پر وحی نہیں آتی۔ مگر یہ ایسے اندھے ہیں کہ وحی کس طرح حقائق کی نقاب کشائی کرتی چلی جاتی ہے اور کتنے خوبصورت دلائل کے انبار ہیں یہ آپ کے قلب اطہر سے کیسے بیان تک پہنچتے کہ اگر اللہ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر کردیتا جیسا کہ جھوٹے دعویدار کے دل پر کردیاجاتا ہے تو وہ اول فول بکتا ہے یوں حق و باطل واضح ہوجاتا ہے اور اللہ ہمیشہ باطل کو مٹاتا ہے وہ کبھی بامراد نہیں ہوتا ، اور حق کو دلائل کے ساتھ ثابت فرماتا ہے اور وہ ذات دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے ۔ آپ کے دل کا حال کہ کائنات کے لیے رحمت کا باعث ہے اسے معلوم اور ان کے دلوں کے کھوٹ کو بھی جانتا ہے مگر وہ ایسا کریم ہے کہ توبہ کو قبول کرتا ہے کوئی سچے دل سے کفر اور نافرمانی سے باز آجائے تو منظور فرماتا ہے اور اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اور محض زبانی توبہ سے دھوکا بھی نہیں دیاجاسکتا کہ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ اس کی حقیقت جانتا ہے جو بھی ایمان قبول کرے اور اپنا کردار درست کرلے کہ یہی توبہ ہے تو اللہ کریم اس کے اعمال قبول فرماتا ہے اور اپنی عطا سے اس کا اجر بہت زیادہ کردیتا ہے اور انکار کرنے والوں کو عذاب بھی بہت سخت ہوگا ، اگر اللہ کریم دنیا کا رزق ہر کسی پر عام کردیتے تو زمین میں فساد پیدا ہوجاتا پھر لالچ میں آکر دوسروں سے چھیننے کی کوشش کرتے اور فساد برپا کردیتے اس لیے وہ ایک اندازے سے رزق تقسیم فرماتا ہے کسی کو مال اور دوسرے کو محنت کی قوت کسی کو علم اور کسی کو کوئی اور نعمت عطا کرتا ہے اور یوں باہمی ربط کی ضرورت انسانی معاشرہ تشکیل کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور دیکھ رہا ہے جس طرح وہی ذات ایک ایک تنکے اور شے کے لیے بارش نازل فرماتی ہے اور اکثر اوقات انسان اپنی تدابیر سے مایوس ہوچکے ہوتے مگر پھر وہ بارش برسا کر کھیتیاں ہری بھری کردیتا ہے۔ اور وہی سب کا کارساز ہے اور وہ ہی تعریف کے لائق ہے اس کی عظمت کے دلائل میں اس کی اتنی بڑی صنعت زمین و آسمان کی صورت میں موجود ہیں اور اس میں جس قدر جاندار پیدا فرمائے ان کا نظام ان کی بقا کے لیے خوراک اور موسم ہر ایک اپنے اندر الگ الگ دلائل کا جہان سمائے ہوئے ہیں اور جس نے انہیں پھیلایا ہے وہ جب چاہے انہیں واپس جمع بھی کرسکتا ہے۔