42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsانوار البیان

Ayah 42:1
(42:1) حم۔ حرف مقطعات ہیں ملاحظ ہو 2:1 ۔
Ayah 42:2
(42:2) حمعسق۔ حرف مقطعات ہیں ملاحظہ ہو 2:1 ۔
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے

(42:3) کذلک۔ ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ہے۔ مشار الیہ سورة ہذا۔ تشبیہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) معانی کے لحاظ سے یعنی جو مطلب و معانی اس صورت میں مذکور ہیں انہیں مطالب و معانی پر مبنی کلام آپ کی طرف بھی وحی ہوتے ہیں اور آپ سے قبل دیگر رسولوں پر بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ ای یوحی مثل ما فی ھذہ السورۃ من المعانی۔ (2) تشبیہ فی المعنی المصدری الذی ھو الایحائ۔ یعنی جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اسی طرح دوسری سورتیں بھی آپ پر نازل ہوئی ہیں اور یہی وحی آپ سے قبل رسل پر بھی نازل ہوتی رہی ہے مطلب یہ کہ جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اس طرح وہ تجھ پر اور تجھ سے پہلے پیغمبروں پر بذریعہ وحی اپنا کلام نازل کرتا آیا ہے۔ کذلک مثل ذلک الایحاء (بیضاوی ، کشاف) یوحی : وہ وحی کرتا ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں مضارع کا صیغہ بمعنی حکایت حال ماضی۔ وحی کے استمرار کی دلیل کے لیے لایا گیا ہے ۔ یعنی یہ دستور الٰہیہ (وحی کے ذریعہ اپنے رسولوں کو کلام نازل فرمانا) کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے۔ اللّٰہ : فاعل یوحی کا اور العزیز الحکیم اس کے صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی طرف وحی کرنے کے بعد اور جگہ بھی ان دو اسماء سے اپنی ثناء کی ہے۔ مثلا آیت 4:165 ۔ یہاں آیت 4:164 سے ارشاد ہوتا ہے کہ انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ ۔۔ اور آیت 165 کے اختتام پر اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

(42:4) لہ ما فی السموت لام ملک (مالک ہونے کے معنی میں آیا ہے ما اسم موصول ، جو کچھ آسمانوں میں ہے ۔۔ اسی کی ملکیت ہے العلی العظیم : العلی علاء سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بلند مرتبہ۔ سب سے اوپر۔ عالی شان ۔ اور العظیم عظمۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بزرگ ، بڑا۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہتے اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

(42:5) تکاد السموت یتفطرون من فوقھن : تکاد افعال مقارب میں سے ہے جن کا عمل افعال ناقصہ کی مانند ہے کود (باب فتح) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے۔ قریب ہے۔ یتفطرون مضارع جمع مؤنث غائب۔ تفطر (تفعیل) مصدر سے۔ پھٹ جائیں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ الفطر (باب نصر و ضرب) کے اصل معنی کسی چیز کو طول میں (پہلی مرتبہ) پھاڑنے کے ہیں۔ مختلف ابواب میں مستعمل ہے۔ مثلا افطر ھو فطورا بمعنی روزہ افطار کرنا۔ فطور بمعنی خلل یا شگاف جیسے ہل تری من فطور (37:3) بھلا تجھ کو کوئی شگاف نظر آتا ہے۔ انفطار (انفعال) پھٹ جانا۔ قرآن مجید میں ہے السماء منفطر بہ (73:11) جس سے آسمان پھٹ جائے گا۔ فطرت العجین۔ آٹا گوندھ کر فورا روٹی پکانا۔ اسی سے فطرۃ ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور الفاطر تخلیق کرنے والا۔ من فوقھن من حرف جار، فوقھن مضاف مضاف الیہ۔ ان کے اوپر سے ھن ضمیر جمع مؤنث۔ السموت کی طرف راجع ہے یعنی ان کے اوپر سے (نیچے تک) ۔ ای یبتدأ الانفطار من جھتھن الفوقانیۃ۔ یعنی ان کا پھٹنا ان کی اوپر کی طرف سے شروع ہو۔ تکاد فعل مقاربہ۔ السموت مبتداء یتفطرن خبر من فوقھن متعلق خبر۔ فائدہ : آسمانوں کے پھٹنے کی وجوہات یہ ہوسکتی ہیں :۔ (1) اللہ کی عظمت اور بزرگی کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں۔ (2) مشرکین جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد قرار دیتے اور کہتے ہیں اتخذاللّٰہ ولدا ان کے اس قول سے آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں۔ سورة مریم کی آیت لقد جئتم شیئا ادا : تکاد السموت یتفطرن منہ (19:90) اس مطلب پر دلالت کر رہی ہے۔ (ترجمہ آیت :۔ قریب ہے کہ اس افتراء سے آسمان پھٹ پڑیں) (3) کثرت ملائکہ سے اگر آسمان پھٹ پڑیں تو بعید نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ آسمان چرچرایا اور یہ چرچرانا اس کے لئے بےجا نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میں محمد ﷺ کی جان ہے آسمان میں بالشت بھر بھی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں سجدہ کرنے والے کسی فرشتہ کی پیشانی سجدہ میں نہ ہو جو اللہ کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہتا ہے۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض۔ دونوں جملے حالیہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب کہ بنی نوع انسان زمین پر خدائے ذوالجلال کی شان میں ایسے کلمات کہتا ہے اور ایسے اعمال کا مرتکب ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ اس کی شامت میں آسمان پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور اس کے انعام و اکرام کی بےانتہاء عطائگی پر اس کی حمد وثناء میں مشغول رہتے ہیں اور زمین پر بسنے والوں کے لئے دعا مغفرت کرتے رہتے ہیں (اس دعا میں مومن و کافر سب شامل ہیں مؤمنوں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں اور خطاؤں کو نظر انداز کر دے اور کافروں کے حق میں استغفار یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں توفیق ایمان ڈال دے۔ اما فی خق الکفار فبواسطۃ طلب الایمان لہم واما فی حق المؤمنین فبالتجاوز عن سیئاتھم (تفسیر کبیر) الا۔ یاد رکھو۔ آگاہ رہو۔ ھو الغفور الرحیم : ھو ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے اسے تخصیص اور تائید کے لئے لایا گیا ہے یعنی صرف وہی غفور اور رحیم ہے۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو

(42:6) والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللّٰۃ حفیظ علیہم۔ واؤ عاطفہ۔ الذین اسم موصول۔ مبتداء اتخذوا من دونہ اولیاء صلی اپنے موصول کا۔ اور جملہ اللّٰہ حفیظ علیہم خبر ہے۔ اور وہ لوگ کہ جنہوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں وہ اللہ کی نظر میں ہیں۔ دونہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔ وکیل۔ صفت مشبہ کا صیغہ ۔ مجرور وکل (باب ضرب) مصدر۔ ذمہ دار۔ وکیل بمعنی کارساز۔ نگران ، گواہ بھی قرآن میں مستعمل ہے۔
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

(42:7) وکذلک : واؤ عاطفہ ہے ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر۔ مشار الیہ۔ ای معنی الایۃ التی قبلہا۔ ماقبل آیت کے معنی میں جو کلام آپ پر بذریعہ وحی نازل کیا گیا ہے یا آپ سے قبل دیگر رسولوں پر نازل کیا گیا تھا ۔ اسی طرح ہم یہ عربی زبان میں قرآن وحی کر رہے ہیں۔ (ملاحظہ ہو 42:3) متذکرۃ الصدر) وکذلک اوحینا الیک، ای ومثل ذلک الایحاء الیک والی من قبلک۔ اوحینا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے وحی کی۔ قرانا عربیا موصوف و صفت مل کر اوحینا کا مفعول۔ لتنذر۔ لام تعلیل کی ہے۔ تنذر مضارع معروف منصوب (بوجہ عمل لام) صیغہ واحد مذکر حاضر۔ انذار (افعال) مصدر (تاکہ) تو ڈرائے۔ ام القری۔ مضاف مضاف الیہ۔ القری جمع ہے القریۃ کی۔ قریۃ بمعنی بستی یا بستی کے رہنے والے۔ قریۃ کی جمع قری قیاسی نہیں سماعی ہے کیونکہ فعلۃ کی قیاسی جمع فعلۃ کے وزن پر آتی ہے جیسے ظبیۃ کی جمع ظباء ہے یا ذھبۃ کی جمع ذھاب ہے) بستیوں کی ماں۔ آبادیوں کا مرکز۔ یہاں اس سے مراد شہر مکہ ہے وہی مکۃ سمیت بھذہ الاسم اجلالا لہا۔ (تفسیر کبیر) ام القری مفعول اول ہے تنذر کا۔ ومن حولہا : اور جو اس کے اردگرد رہتے ہیں اس سے مراد صرف مکہ کے آس پاس کی بستیاں یا وہاں کے رہنے والے ہی مراد نہیں ہیں بلکہ سارا عالم مراد ہے ۔ مرکز سے قطر نزدیک ہو یا دور بہرحال اس مرکز ہی سے اس کا تعلق قائم رہیگا۔ ای ارض کلہا۔ (ابن جریر) ۔ یہ مفعول ثانی ہے تنذر کا۔ یوم الجمع۔ مضاف مضاف الیہ جمع ہونے کا دن۔ یوم القیامۃ۔ جب کہ اگلے پچھلے لوگ سب جمع ہوں گے۔ یہ بھی تنذر کا مفعول ہے۔ لاریب فیہ : جس میں ذرا شک نہیں۔ یہ یوم الجمع کی صفت ہے۔ فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر : فریق خبر مبتدا محذوف کی۔ ای بعضھم فریق فی الجنۃ (حقانی) فریق مبتدا فی الجنۃ اس کی صفت خبر محذوف ۔ وکذا فریق فی السعیر : ای منھم فریق کائن فی السعیر : ومنھم فریق کائن فی الجنۃ وضمیر منھم للمجموعین لدلدلۃ الجمع علیہ (روح المعانی) (اس روز) ایک گروہ اپنے ایمان وتقوی، او امر کی تعمیل اور نواہی سے بچنے کی وجہ سے جنت میں ہوگا یا جائے گا ۔ اور ایک گروہ اپنے شرک و کفر عدم تقویٰ اور احکام کی عدم تعمیل اور نواہی کے عدم ترک کی وجہ سے بھڑکتے ہوئے جہنم میں ہوگا (یا جائے گا) ۔ فریق فی الجنۃ بایمانہ وتقواہ اللّٰہ بفعل اوامرہ وترک نواہیہ وفریق فی السعیر بشر کہ وکفرہ باللّٰہ وعدم تقواہ فلا امتثل امرا ولا اجتنب نھیا (ابی بکر جابر) ۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

(42:8) ولوشاء اللّٰہ لجعلہم امۃ واحدۃ۔ پہلا جملہ شرط اور دوسرا جواب شرط ہے۔ لو حرف شرط ہے دو جملوں پر آتا ہے۔ اور دونوں جملے ماضیہ ہوتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوگیا ہوتا ۔ لام جواب شرط کے لئے ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اگر خدا چاہتا تو ان کو ایک ہی جماعت کردیتا ۔ (لو پر مزید تفصیل کے لئے ملاحظ ہو 3:159) ۔ امۃ واحدۃ موصوف صفت ہوکر مفعول ہے جعل کا۔ امۃ واحدۃ یعنی سب کو دین اسلام پر کردینا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ ولو شاء اللّٰہ لجمعھم علی الھدی اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ والظلمون مالہم من ولی ولا نصیر : الظلمون مبتدا۔ باقی جملہ اس کی خبر ہے۔ الظلمون ظلم کرنے والے۔ ظلم سے اسم فاعل جمع مذکر۔ ظلم کے معنی ہیں وضع الشیء فی غیر محلہ۔ کسی جگہ کو اپنی اصلی جگہ سے دوسری جگہ رکھنا۔ (عبادت صرف اللہ کا حق ہے غیر اللہ کی عبادت ظلم ہے۔ ولی : مددگار۔ محافظ، نگہبان، بچانے والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ بروزن فعیل۔ ولایۃ مصدر۔ نصیر : صیغہ صفت مجرور۔ نصر مصدر سے بچانے والا۔ محافظ۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

(42:9) ام : بمعنی بل ہے۔ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی و ناصر و کارساز قرار نہیں دیا بلکہ اس کے سوا دوسروں کو کارساز قرار دیا ہے (اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا) ۔ من دونہ : دون مضاف ہ مضاف الیہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔ من حرف جار ہے اولیائ : ولی کی جمع ۔ دوست۔ ساتھی۔ منصوب بوجہ اتخذوا کے مفعول ہونے کے ہے۔ اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔ فاللّٰہ ھو الولیجواب شرط مقدرہ کے لئے ہے۔ تقدیر کلام ہے : ان ارادوا ولیا بحق فاللّٰہ تعالیٰ ھو الولی بحق۔ اگر وہ حقیقی کار ساز کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ ہی حقیقی کارساز ہے۔ وھو یحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

(42:10) وما اختلفتم فیہ من شیئ : ما موصولہ ہے فیہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ جس بات میں۔ اور کسی شے میں تمہارے درمیان جس بات کا اختلاف ہوجائے ۔ یعنی دین اور دنیا میں کہیں بات پر اختلاف ہو۔ فحکمہ الی اللّٰہ۔ تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان الحکم الا اللّٰہ علیہ توکلت (12: 67) (بےشک) حکم اسی کا ہے میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللّٰہ والرسول (4:59) اور اگر کسی بات پر تم میں اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور خدا کے رسول (کے حکم کی طرف) رجوع کرو۔ ذلکم : ذا اسم اشارہ ہے اور کم حرف خطاب جمع مذکر حاضر کے لئے ہے۔ یہ۔ یہی۔ اس سے قبل قل محذوف ہے ای قل یا محمد ﷺ ۔ اے محمد ﷺ کہہ دیجئے ذلکم اللّٰہ ربی ۔۔ الخ۔ الیہ انیب۔ میں رجوع کرتا ہوں انابۃ (افعال) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ الیہ اس کی طرف ہ ضمیر واحد مذکر گا ئب اللہ کی طرف راجع ہے۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے) اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے (اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ دیکھتا اور سنتا ہے

(42:11) فاطر السموت والارض : فاطر اسم فاعل واحد مذکر فطر (باب ضرب و نصر) مصدر سے مضاف ہے السموت مضاف الیہ ۔ واؤ حرف عطف الارض معطوف، فاطر السموت والارض مبتداء جعل لکم خبر۔ فاطر کے معنی ہیں عدم کو پھاڑ کر وجود میں لانے والا۔ نیست سے ہست کرنے والا۔ لغت میں فطر کے معنی پھاڑنے کے ہیں۔ ازواجا : زوج کی جمع جوڑے۔ ہم مثل چیزیں۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نر ہو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ من انفسکم : انفسکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے نفس، تمہاری جانیں۔ یعنی تم میں سے ، تمہاری جنس میں سے۔ الانعام۔ مویشی ، بھیڑ، بکری، گائے، بھینس، اونٹ۔ مویشی کو اس وقت تک انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک اسمیں اونٹ شامل نہ ہو ومن الانعام ازواجا : ای خلق للانعام من جنسھا ازواجا۔ اور مویشیوں کے لئے بھی ان کی جنس سے جوڑے پیدا کئے یذرء کم فیہ۔ مضارع واحد مذکر غائب ذرو باب فتح مصدر بمعنی پیدا کرنا۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولقد ذرانا لجھنم (7:179) اور ہم نے جہنم کے لئے پیدا کئے۔ ذرء کے معنی کسی چیز میں زیادتی کرنا۔ اور زمین میں بیج بکھیرنا کے ہیں کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ یذرء کم تمہیں کثیر التعداد کرتا ہے۔ تمہاری افزئش کرتا ہے۔ فیہ میں فی بمعنی ب ہے یعنی اس تدبیر سے کہ تمہاری جنس سے جوڑے پیدا کئے اور مویشیوں کی جنس سے جوڑے پیدا کئے ۔ تاکہ توالد و تناسل کس سلسلہ جاری رہے اور تم کثرت سے بڑھو۔ لیس کمثلہ شیئ۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں۔ علامہ پانی پتی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ مثل کا لفظ زائد ہے۔ مطلب یہ کہ وہ کسی چیز کی طرح نہیں ہے مثل کے لفظ کی زیادتی مزید تاکدی کے لئے ہے جس طرح ایک اور آیت میں آیا ہے فان امنوا بمثل ما امنتم بہ (2:137) بعض کے نزدیک کمثلہ میں کاف زائد ہے یعنی اس کی مثل کوئی شے نہیں ہے جو اس کی ہم پلہ اور اس سے جوڑ کھانے والی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ :۔ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ مثل کا لفظ مبالغہ کے لئے بطور کنایہ استعمال کیا گیا ہے جیسے نفی فعل کا اگر مبالغہ مقصود ہو تو کہا جاتا ہے کہ تجھی جیسا آدمی یہ کام نہیں کرتا یعنی تو یہ کام نہیں کرتا۔ جب مخاطب کی مثل جو مخاطب کا ہم پلہ اور برابر کا ہو یہ کام نہیں کرتا۔ تو مخاطب کا نہ کرنا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوجائے گا۔ اور کنایہ کے لئے حقیقت کا وجود یا امکان ضروری ہے۔ جیسے کسی دراز قامت آدمی کو بطور کنایہ کہتے ہیں فلان طویل النجاد ہے ۔ یعنی فلاں شخص کا پر تلا لمبا ہے یعنی وہ درازقد ہے۔ اس کلام کی صداقت کے لئے ضروری نہیں کہ اس کا پر تلہ بھی ہو۔ اس طرح آیت بل یداہ مبسوطتن (5:64) سے بطور کنایہ معنی ہے صفت یعنی اس کی صفات کی طرح کسی کی صفت نہیں ہے۔ السمیع : فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے سمع مصدر سے۔ بہت سننے والا۔ البصیر : فعیل بمعنی فاعل۔ بصر باب کرم۔ مصدر سے ۔ دیکھنے والا۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے بیشک وہ ہر چیز سے واقف ہے

(42:12) لہ : میں لام ملک و ملکیت کا ہے ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اسی کی ہے۔ اسی کی ملکیت ہے۔ مقالید السموت والارض۔ مضاف مضاف الیہ۔ آسمانوں اور زمین کی کنجیاں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔ القلد القلد (باب ضرب) رسی بٹنا۔ قلدت الحبل میں نے رسی بٹی۔ بٹی ہوئی رسی کو قلید یا مقلود کہتے ہیں۔ قلادۃ اس بٹی ہوئی رسی کو کہتے ہیں جو گلے میں ڈالی جائے۔ جیسے ڈور، زنجیر وغیرہ۔ اسی سے باب تفعیل سے تقلید ہے۔ کسی مسئلہ میں تقلید کرنا۔ بےسوچے سمجھے پیروی کرنا۔ امام راغب (رح) نے لکھا ہے :۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حفاظت کی طرف اشارہ ہے جو تمامکائنات کو محیط ہے۔ یسبط : فعل مضارع واحد مذکر غائب۔ بسط (باب نصر) مصدر۔ وہ کشادہ کرتا ہے۔ وہ وسیع کرتا ہے۔ وہ فراخ کرتا ہے۔ یقدر : مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر۔ وہ تنگ کرتا ہے ، وہ رزق تنگ کرتا ہے وہ اندازہ کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے فالتقی الماء علی امرقد قدر (54:12) تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر یا معین ہوچکا تھا (جس کا اندازہ کیا جاچکا تھا) جمع ہوگیا تھا۔ اور انہی معنوں میں کہتے ہیں قدرت علیہ الشیء میں اس پر کسی چیز کی تنگی کردی یعنی وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی۔ اس کے بالمقابل فراخی کرنا بسط ہے یا بغیر حساب (بےاندازہ) دینا ہے واللّٰہ یرزق من یشاء بغیر حساب (2:212) اور اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ اور تنگی کے معنی میں آیا ہے ومن قدر علیہ رزقہ (65:7) اور جس کے رزق میں تنگی کی گئی ہو۔ یا جس کے رزق میں تنگی ہو۔ آیت ہذا میں یقدر : ای یقدر لمن یشائ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ وہ جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ علیم : علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے ۔ بہت بڑا دانا۔ خوب جاننے والا۔ خداوند تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے قرآن مجید میں بیشتر مقامات پر علیم کا استعمال اللہ تعالیٰ کی صفت میں ہی وارد ہوا ہے اس وقت اس کا مطلب ہوگا : سب سے زیادہ عالم
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے

(42:13) شرع۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ شرع (باب فتح) مصدر۔ شریعت جاری کرنا۔ قانون بنانا۔ دین مقرر کرنا۔ اس نے شریعت جاری کی۔ اس نے دین مقرر کیا۔ ما وصی بہ نوحا : ما موصولہ ہے وصی ماضی واحد مذکر غائب توصیۃ (تفعیل) مصدر۔ اس نے حکم دیا۔ وصی بمعنی وصیت کرنا جیسے ووصی بھا ابراہیم بنیہ و یعقوب (2:132) اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اس بات کی اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) نے بھی۔ نوحا مفعول وصی کا۔ اللہ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے (حضرت) نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا۔ والذی اوحینا۔ واؤ عاطفہ ہے الذی اسم موصول اوحینا ماضی جمع متکلم (ایحائ) (افعال) مصدر۔ ہم نے وحی کی۔ یعنی اور جو ہم نے آپ کے پاس وحی کیا ہے۔ وما وصینا بہ ابراہیم وموسی و عیسیٰ : واؤ عاطفہ، ما موصولہ ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ ما وصی بہ نوحا پر ہے۔ اور جس کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کو حکم دیا تھا۔ فائدہ : مطلب یہ ہے کہ دین اسلام جو امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کیلئے مقرر کیا ہے یہ کوئی نیا دین نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین یہی رہا ہے۔ پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو طوفان کے بعد موجودہ نسل کے پیشوا مانے جاتے ہیں وہ پہلے پیغمبر ہیں جن سے سلسلہ نبوت باقاعدہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک۔ اوحینا الیک کے بعد حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کا ذکر تاکید مزید کے لئے لایا گیا۔ پھر صرف ان تین جلیل القدر پیغمبران کے نام ہی لئے گئے۔ کیونکہ جہاں تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق ہے انہیں اہل عرب متفقہ طور پر اپنا جد اعلیٰ مانتے تھے۔ اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی طرف یہودی اور عیسائی اپنے مذہب کو منسوب کرتے تھے۔ ان اقیموا الدین : ان مصدریہ ہے اقیموا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر قامۃ (افعال) مصدر سے۔ تم قائم کرو۔ تم درست رکھو۔ الدین مفعول اقیموا کا اس فقرہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) یہ شرع کے مفعول کا بدل ہے۔ یعنی مشروع کا مقصود اقامت دین ہے۔ (2) یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ کلام کے پہلے حصہ کو سننے کے بعد سوال ہوسکتا ہے کہ وہ کیا ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو دیا تھا ۔ جواب ہوگا :۔ ھو اقامۃ الدین تو ان اقیموا الدین خبر ہے ھو مبتدا محذوف کی۔ ولا تتفرقوا فیہ : لاتتفرقوا فعل نہی جمع مذکر حاضر تفرق (تفعل) مصدر۔ تم متفرق نہ ہو۔ تم جدا نہ ہو۔ فرقوں میں نہ بٹ جاؤ فیہ ای فی الدین۔ دین میں۔ کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ شاق ہے۔ دشوار ہے۔ ک ب ر حروف مادہ ہیں ۔ اس سے مشتقات مختلف ابواب سے مختلف معانی میں آتے ہیں۔ مثلا باب کرم سے بمعنی بڑا ہونا۔ جسامت میں بڑا ہونا۔ باب نصر اور سمع سے عمر میں زیادہ ہونا۔ ما تدعوھم الیہ : ما موصولہ تدعوا مضارع واحد مذکر حاضر۔ دعاء (باب نصر) مصدر سے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ تو ان کو پکارتا ہے۔ تو ان کو بلاتا ہے ۔ تو ان کو دعوت دیتا ہے۔ سارا جملہ فاعل ہے فعل کبر کا۔ اور المشرکین مفعول۔ یجتبی۔ مضارع واحد مذکر غائب اجتباء (افتعال) مصدر وہ چن لیتا ہے۔ وہ منتخب کرلیتا ہے۔ وہ اختیار کرلیتا ہے۔ ینیب : مضارع واحد مذکر غائب۔ انابۃ (افعال) مصدر، وہ لوٹتا ہے۔ نافرمانی سے اطاعت کی طرف ۔ شرک سے توحید کی طرف
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ (اس کی طرف سے) شبہ کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں

(42:14) بغیا : اسم تمیز۔ ضد۔ زیادتی۔ بغیا بینھم : باہمی ضد (کی بناء پر) ماتفرقوا : ما نافیہ ہے تفرقوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تفرق (تفعیل) مصدر سے وہ فرقوں میں بہ بٹ گئے۔ لولا۔ اگر نہ ہوتا۔ کیوں نہ۔ لو شرطیہ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ یہ حرود تحضیض والعرض میں سے ہے (الا، ھلا، لولا، لوما) نیز ملاحظہ ہو 6:43 ۔ کلمۃ۔ حکم ازلی۔ کلمہ کا صحیح ترجمہ بات ہے۔ بات قول کو بھی کہتے ہیں۔ جیسے میری بات سنو۔ اور فعل کو بھی۔ یہ بات کرو۔ قرآن مجید میں مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ مثلا وعدہ قیامت۔ یعنی قیامت کے دن فیصلہ ہونے کا حکم ازلی (10:19) بمعنی کلام یا جملہ (23:100) ۔ سبقت : ماضی واحد مؤنث غائب۔ سبق باب نصر ، ضرب) مصدر۔ وہ پہلے سے ہوچکی۔ وہ پہلے سے ٹھہرچ کی۔ اجل مسمی۔ موصوف و صفت۔ وقت مقرر۔ میعاد مقرر۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات ایک وقت معین تک کیلئے طے نہ ہوچکی ہوتی (یہ جملہ شرط ہے) لقضی بینھم لام جواب شرط کے لئے۔ قضی ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ قضاء (باب ضرب) فیصلہ کیا گیا۔ تو ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ یعنی اسی دنیا میں ان کا عملا اور عیانا بدلہ مل گیا ہوتا۔ اور ثوا الکتاب : اور ثوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ایراث (افعال) مصدر۔ (ورث مادہ) الکتب مفعول ۔ بمعنی تورات۔ انجیل۔ (جن کو) کتاب یعنی تورات و انجیل کا وارث بنایا گیا۔ ان سے مراد وہ یہود و نصاری ہیں جو رسول کریم ﷺ کے ہمعصر تھے۔ ای اہل الکتاب کانوا فی عھد رسول اللہ ﷺ الاکثرون ھم الیہود والنصاری۔ من بعدھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب منکرین سابقین اہل کتاب کی جانب راجع ہے ای من بعد انبیاء ہم۔ لفی۔ میں لام تاکید کے لئے ہے۔ شک مریب۔ موصوف و صفت۔ مریب اسم فاعل واحد مذکر ارابۃ (افعال) مصدر۔ (ریب مادہ) بےچین کردینے والا۔ متردد کردینے والا۔ قلق انگیز۔ منہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب کی طرف راجع ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ منکرین سابقین جن کے پاس صحیح علم آیا اور وہ باہمی حسد کے باعث مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ انکے بعد جو اہل کتاب (حضور ﷺ کے زمانہ میں) کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اپنے ہی دین اور اپنی ہی کتابوں کی حقیقت کی طرف سے متردد و متذبذب ہیں اور اس پر اس طرح ایمان نہیں رکھتے جو ایمان کا حق ہے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

(42:15) فلذلک فادع :سببیہ ہے لام علت کے لئے ہے ذلک اسم اشارہ اس کا مشار الیہ منکرین سابقین کا دین کی پیروی میں باہمی رفاقت کی وجہ سے فرقوں میں بٹ جانا اور مابعد کے اہل کتاب کا اپنی ہی کتابوں میں شک و تردد میں پڑجانا ہے۔ پس ان حالات کے پیش نظر ادع تو (ان کو) بلا۔ دعوت دے۔ ادع امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے ای ادع علی الاتفاق علی الملۃ الحنفیۃ۔ واستقم : واؤ عاطفہ۔ استقم امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استقامۃ (استفعال) مصدر۔ تو قائم رہ۔ تو ثابت قدم رہ۔ قوم مادہ۔ ای استقم علی الدعوۃ الی الدین۔ کما امرت : ک تشبیہ کا ہے امرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ امر (باب نصر) مصدر سے۔ تجھے حکم دیا گیا ہے۔ ولا تتبع۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ اتباع (افتعال) مصدر۔ تبع مادہ۔ تو اتباع نہ کر۔ تو پیروی نہ کر۔ اھواء ھم : اھواء جمع ھوی کی۔ ھوی مادہ ۔ خواہشات، مضاف، ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ دونوں مل کر لاتتبع کا مفعول۔ من کتب : از قسم کتاب۔ ما انزل اللّٰہ من کتب۔ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے۔ امرت ماضی مجہول کا صیغہ واحد متکلم ۔ مجھے حکم دیا گیا۔ نیز ملاحظہ ہو امرت متذکرۃ الصدر۔ لاعدل : لام تعلیل کی ہے اعدل مضارع واحد متکلم عدل (باب ضرب) مصدر منصوب بوجہ عمل لام ۔ کہ میں انصاف کروں۔ لاحجۃ : لا نفی جنس کا ہے حجۃ اسم مفرد نکرہ ۔ مبنی برفتحہ بوجہ عمل لانفی جنس، حجت ، بحث۔ المصیر : اسم ظرف مکان۔ ومصدر (باب ضرب) صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا۔ قرار گاہ۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

(42:16) یحاجون : مضارع جمع مذکر غائب محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر وہ جھگڑتے ہیں وہ جحت کرتے ہیں۔ وہ بحث کرتے ہیں۔ فی اللّٰہ۔ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے باب (یعنی اس کے دین و شریعت کے باب میں) مسلمانوں سے جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ من بعد ما میں ما زائدہ ہے۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔ استجیب لہ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب استجابۃ (استفعال) قبول کرنا۔ مان لینا۔ اسے مان لیا گیا۔ اسے قبول کرلیا گیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو الدین ہے ۔ جس کی دعوت کے لئے رسول کریم ﷺ کو استقامت کے لئے حکم دیا گیا۔ یعنی بعد اس کے کہ لوگوں نے اس کی دعوۃ الی الدین قبول کرلی۔ یا رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے یعنی بعد اس کے کہ وہ رسول ﷺ مان لئے گئے۔ حجتھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی حجت، ان کی بحث۔ واحضۃ : اسم فاعل واحد مؤنث۔ باطل ۔ گرنے والی۔ زائل ہونے والی۔ (دلیل) دحض (باب فتح) مصدر۔ جس کا مطلب ہے پاؤں کا پھسلنا۔ اور ٹھوکر کھا کر گرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق (18:56) اور جو کافر ہیں وہ باطل (سے استدلال کرکے) جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو اس کے مقام سے پھسلا دیں۔ حجتھم داحغۃ عند ربھم۔ ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل بالکل بودی ہے۔ ہم کی ضمیر الذین کی طرف راجع ہے۔ مکمل جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ اللہ کے دین کے بارے میں ازان بعد کہ (اکثر حق شناس) اس کو مان بھی چکے ہیں حجت بازی کرتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل بالکل بودی ہے۔ وعلیہم غضب : جملہ معطوفہ ہے اور اسی طرح ولہم عذاب شدید۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو

(42:17) المیزان۔ مصدر یا اسم۔ یہ انزل کا مفعول ثانی ہے اور مفعول اول الکتاب (ای القران) ہے بمعنی ترازو۔ قتادہ، مجاہد، مقاتل نے کہا ہے میزان سے مراد عدل ہے۔ میزان یعنی ترازو انصاف اور صحیح مساوات کا آلہ ہوتا ہے اور عدل کا معنی بھی انصاف ہے۔ اس لئے عدل کو میزان کہا گیا۔ ما یدرک۔ جملہ استفہامیہ ہے ما استفہامیہ ہے ۔ بمعنی ای شیئ ؟ او، من، یدریک مضارع واحد مذکر غائب : ادراء (افعال) مصدر۔ درء اور دری مادہ ثلاثی مجرد (باب ضرب) سے آتا ہے۔ الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے کون چیز سمجھائے (ای شیء یجعلک عالما) تجھے کون بتائے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ تجھے کیا خبر ؟ تجھے کیا معلوم ؟ قرآن مجید میں جہاں کہیں وما ادرک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی آیا ہے۔ مثلا آیۃ ہذا میں لعل الساعۃ قریب۔ شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو۔ یا وما ادرک ما ھیۃ نار حامیۃ (101:10-11) تم کیا سمجھے کہ یہ (ھاویہ) کیا ہے ؟ (وہ) دھکتی ہوئی آگ ہے یا وما ادرک ما لیلۃ القدر ، لیلۃ القدر خیر من الف شھر (97:2-3) اور تجھے کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ دری و درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا۔ لعل۔ حرف مشبہ بالفعل ہے شاید، ممکن ہے۔ اسم کو نصب خبر کو رفع دیتا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 11:12 ۔ الساعۃ قریب : الساعۃ (مؤنث) مبتدا۔ قریب (مذکر) خبر۔ الساعۃ ۔ لعل کے عمل سے منصوب ہے۔ الساعۃ (مؤنث) اور قریب (مذکر) میں عدم توافق کی مندرجہ ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔ (1) بعض نے کہا کہ قریب کا لفظ اگرچہ مذکر ہے لیکن اس کے معنی قرب والی یعنی مؤنث مراد ہیں۔ گویا اس قائل کے نزدیک وزن فعیل مؤنث کے لئے بھی استعمال کرلیا جاتا ہے۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ ساعۃ بمعنی بعث ہے اور بعث مذکر ہے اس لئے قریب بصیغہ مذکر لایا گیا ہے۔ (3) امام کسائی کا قول ہے قریب نعت ہے اور یہ مذکر و مؤنث دونوں کی نعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان رحمت اللّٰہ قریب من المحسنین (7:56) کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرتے والوں کے قریب ہے۔ (4) کسائی کا قول یہ بھی ہے کہ قریب کا فاعل محذوف ہے کلام یوں ہے :۔ لعل الساعۃ اتیانھا قریب۔ جب کہ ھا ضمیر الساعۃ کی طرف راجع ہے شاید قیامت کا آنا قریب ہے۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے وہ اس کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ برحق ہے دیکھو جو لوگ قیامت میں جھگڑتے ہیں وہ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں

(42:18) یستعجل بھا : یستعجل مضارع واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے) استعجال (استفعال) مصدر۔ وہ جلدی مانگ رہے ہیں وہ جلدی مچاتے ہیں۔ وہ تعجیل چاہتے ہیں عجلۃ بمعنی جلدی۔ بھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ۔ القیامۃ ہے۔ الذین لایؤمنون بھا۔ وہ لوگ جو اس (قیامت) پر ایمان نہیں رکھتے یہ جملہ اپنے اسم موصول اور صلہ سے مل کر فاعل ہے فعل یستعجل کا والذین امنوا مشفقون منھا : الذین امنوا۔ اسم موصول و صلہ مل کر مبتداء مشفقون منھا خبر۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں ۔ مشفقون اسم فاعل جمع مذکر اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد۔ شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط۔ اسی لئے جو محبت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں ۔ باب افعال سے اشفاق کا معنی ہوا ایسی محبت کرنا جس میں ڈر بھی لگا ہوا ہو۔ اس معنی کے دو جزو ہیں۔ محبت اور خوف۔ اگر اس کے بعد من مذکور ہو تو خوف کا معنی ظاہر ہوتا ہے جیسے مشفقون منھا اس سے (قیامت سے) ڈرنے والے۔ اور اگر علی یا فی مذکور ہو تو محبت کے معنی کا زیادہ ظہور ہوتا ہے۔ شفق (باب سمع) علیہ مہربان ہونا۔ شفقت برتنا۔ اور اشفق منہ ڈرنا اور اشفق علیہ مہربان ہونا۔ قرآن مجید میں شفقت اور مہربانی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ الا : خبردار ہوجاؤ۔ جان لو۔ سن رکھو۔ یہ ہمزہ استفہامیہ اور لا نافیہ سے مرکب نہیں ہے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے بلکہ یہ ایک حرف بسیط ہے۔ تنبیہ اور استفتاح کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال کبھی عرض کے لئے ہوتا ہے یعنی کسی چیز کو نرمی سے طلب کرنا۔ جیسے کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے : الا تحبون ان یغفر اللّٰہ لکم (24:22) کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو معاف کر دے اور کبھی تحضیض یعنی کسی چیز کے سختی کے ساتھ مطالبہ کے لئے بھی آتا ہے۔ مثلا الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وھم یدء وکم اول مرۃ (9:13) کیا تم نہیں لڑو گے ان لوگوں سے کہ جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کو نکالنے کا ارادہ کیا۔ اور انہوں نے تم سے پہلے چھیڑخانی کی ۔ جب یہ تنبیہ اور استفتاح (یعنی کلام کے شروع کرنے) کے لئے استعمال ہوتا ہے تو جملہ اسمیہ اور فعلیہ دونوں پر داخل ہوتا ہے اور جب عرض اور تحضیض کے لئے آتا ہے تو صرف افعال کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے۔ خواہ وہ الفاظ لفظا مذکور ہوں یا تقدیرا۔ (لغات القرآن) یمارون : مضارع جمع مذکر غائب : ماری (ماضی کا صیغہ) مراء ومماراۃ (مفاعلۃ) مصدر وہ جو جھگڑا کرتے ہیں ۔ مری مادہ فی الساعۃ : ای فی القیامۃ۔ لفی میں لام تاکید کے لئے ہے۔ ضلل بعید : موصوف و صفت گمراہی جو دور نکل گئی ہو۔ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے

(42:19) لطیف : جب یہ کسی جسم کی صفت واقع ہو تو یہ جثل کی ضد ہوتا ہے جس کے معنی بھاری اور ثقیل کے ہیں۔ کہتے ہیں شعر جثل (زیادہ اور بھاری بال) اور کبھی لطافۃ یا لطف سے حرکت خفیفہ اور رقیق امور کا سرانجام دینا مراد ہوتا ہے اور لطائف سے وہ باتیں مراد لی جاتی ہیں جن کا انسانی حواس ادراک نہ کرسکتے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے معنی یا تو یہ ہیں کہ وہ انسانی حواس کے ادراک سے مافوق اور بالا تر ہے۔ اور یا اسے اس لئے لطیف کہا جاتا ہے کہ وہ باریک سے باریک اور دقیق امر تک سے واقف ہے اور یا یہ کہ وہ انسانوں کو ہدایت دینے میں نہایت نرم انداز اختیار کرتا ہے۔ لطیف کا ترجمہ :۔ بڑا مہربان (ابن عباس : بندوں سے بھلائی کرنے والا (عکرمہ) نرمی کرنے والا (سدی) نیکوں اور بدوں سب پر مہربانی کرنے والا۔ (مقاتل) کیا گیا ہے۔ القوی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ طاقتور۔ العزیز۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ زبردست گرامی قدر۔ القوی العزیز : اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا

(42:20) من شرطیہ ہے۔ کان یرید۔ ماضی استمراری واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) مصدر (جو دنیا میں) چاہتا تھا۔ چاہا کرتا تھا۔ حرث الاخرۃ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر کان یرید کا مفعول ۔ آخرت کی کھیتی۔ یعنی جو نیک کام دنیا میں اس نیت سے کیا کرتا تھا کہ اسے اس کا پھل آخرت میں ملے نزد (مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط صیغہ جمع متکلم۔ زیادۃ مصدر باب ضرب) لہ فی حرثہ ہم اس کی کھیتی کے پھل یعنی ثواب (آخرت) میں اضافہ کریں گے۔ یعنی بڑھا دیں گے۔ حرث کھیتی، زراعت، حرث یحرث (باب ضرب) سے مصدر ہے۔ بیج ڈالنا کھیتی کرنا۔ کھیت۔ نؤتہ۔ مضارع جمع متکلم ایتاء (افعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو عطا کریں گے۔ منھا : من تبعیضیہ ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع حرث الدنیا ہے۔ منھا، ای شیئا منھا وھو رزقہ الذی قسم لہ لاما یرید۔ اس کو دنیا کے مال سے اسی قدر رزق ملے گا جو اس کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے نہ کہ جو وہ چاہتا ہے۔ نصیب۔ حصہ۔ (آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہ ہوگا) ۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے

(42:21) ام۔ حرف عطف ہے بمعنی کیا۔ یہاں ہمزہ استفہام کے معنی میں آیا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ایقبلون ما شرع اللّٰہ لہم من الدین ام لہم شرکاء شرعوا لہم من الدین ۔۔ الخ کیا وہ اس دین کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ یا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جو شریک (باطل) بنا رکھے ہیں انہوں نے ان کے لئے کوئی (نیا) دین مقرر کر رکھا ہے ۔۔ (نیز ملاحظہ ہو 18:9) مالم یاذن بد اللّٰہ : ما اسم موصول ہے باقی جملہ اس کا صلہ۔ لم یاذن مضارع نفی جحد بلم۔ بمعنی ماضی منفی اذن (باب سمع) مصدر (جس کی اللہ نے) اجازت نہیں دہ ہے۔ لولا : اگر نہ ہوتا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 14 متذکرۃ الصدر و 6:43) کلمۃ الفصل۔ مضاف مضاف الیہ۔ فیصلے کی بات۔ قول فیصل۔ اگر (روز ازل سے ہی) فیصلے کی بات ٹھہرائی ہوئی نہ ہوتی (کہ قیامت کے آنے سے پہلے ان کو پوری سزا نہیں دی جائے گی) لولا کلمۃ الفصل جملہ شرطیہ ہے۔ لقضی بینھم۔ جواب شرط : لام جواب شرط کے لئے ہے۔ قضی ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ قضاء (باب ضرب) مصدر فیصلہ کرنا۔ بینھم۔ ای بین الکافرین والمؤمنین۔ تو کافروں اور مؤمنوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔ الظالمین ای المشرکین۔ ضمیر غائب کی جگہ اسم ظاہر (الظلمین) کی صراحت یہ بتانے کے لئے کہ وہ ظلم یعنی شرک کی وجہ سے عذاب الیم (درد ناک عذاب) کے مستحق ہیں۔ تری کا مفعول اول ہے۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تم دیکھو گے کہ ظالم اپنے اعمال (کے وبال) سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے کے پروردگار کے پاس (موجود) ہوگا یہی بڑا فضل ہے

(42:22) مشفقین : اسم فاعل جمع مذکر ڈرنے والے (ملاحظہ ہو آیت 18 متذکرۃ الصدر۔ تری کا مفعول ثانی ہے۔ مما کسبوا۔ مما۔ من اور ما سے مرکب ہے۔ ما موصولہ کسبوا صلہ ہے اپنے موصول کا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے کسب (باب ضرب) مصدر۔ جو انہوں نے کھایا۔ (جو کام شرک و معاصی کے انہوں نے کئے ہوں گے) ۔ وھو واقع بھم۔ جملہ حالیہ ہے ھو کی ضمیر ماکسبوا کی طرف راجع ہے حال یہ کہ وہ ان پر پڑ کر ہی رہیگا۔ یعنی ان کے کئے کا وبال۔ روضت الجنت : مضاف مضاف الیہ۔ جنتوں کے باغات۔ الروض اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں پانی جمع ہو اور سبزہ بھی ہو۔ باغ۔ مایشاء ون : جو وہ چاہیں گے۔ ما موصولہ ۔ یشاء ون مضارع جمع مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ ذلک : یعنی جنت کی یہ نعمت جس کا ذکر کیا گیا۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے

(42:23) ذلک۔ ای الفضل الکبیر : یہی فضل کبیر ہے ۔ جس کی اللہ نے اپنے بندوں کو بشارت دیتا ہے۔ الذین امنوا وعملوا الصلحت یہ بدل ہے عبادہ کا۔ ” اسی کے بندوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ قل : ای قل یا محمد ﷺ للمشرکین۔ لا اسئلکم : لا اسئل۔ مضارع منفی واحد متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ علیہ ای علی تبلیغ الرسالۃ یعنی تبلیغ رسالت پر (میں کچھ اجرت نہیں مانگتا) ۔ اجرا۔ مفعول ثانی لا اسئلکم کا۔ اجرت۔ معاوضہ۔ الا المودۃ فی القربی : الا حرف استثناء یہ استثناء متصل ہے (تفسیر حقانی) المودۃ فی القربی مستثنیٰ ۔ سوائے قرابت کی محبت کے۔ صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ الا حرف استثناء ہے یہاں مستثنیٰ منقطع ہے یعنی المودۃ فی القربی جو کہ مستثنیٰ ہے یہ مستثنیٰ منہ میں داخل نہیں ہے تاکہ آیت کا یہ مفہوم ہو۔ کہ میں تم سے کوئی اجر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ مگر یہ اجر طلب کرت اہوں کہ تم آپس میں محبت اور پیار کرو۔ من یقترف حسنۃ : جملہ شرط ہے ۔ یقترف مضارع مجزوم بوجہ شرط۔ واحد مذکر غائب ۔ اقتراف (افتعال) مصدر۔ کمائے گا۔ حسنۃ نیکی ، بھلائی، یقترف کا مفعول۔ القرف والاقتراف کے اصل معنی درخت سے چھال اتارنے اور زخم سے چھلکا کریدنے کے ہیں۔ اور جو چھال یا چھلکا اتارا جاتا ہے اسے قرف کہتے ہیں۔ اور بطور استعارہ اقترف (افتعال) کمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، خواہ وہ کسب اچھا ہو یا برا۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو شخص نیکی کماتا ہے۔ نزدلہ فیہا حسنا۔ جملہ جواب شرط ہے۔ نزر مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط صیغہ جمع متکلم زیادۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہم بڑھا دیں گے۔ حسنا : اچھائی ، عمدگی، خوبی۔ حسن۔ ہم اس کے لئے اس نیکی میں اور بھی خوبی بڑھا دیں گے۔ غفور صیغہ مبالغہ ، خوب بخشنے ولا۔ بڑا معاف کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ شکور۔ بڑا قدردان۔ تھوڑے کام پر زیادہ ثواب دینے والا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ جب یہ بندے کی طرف منسوب ہوگا تو مطلب ہوگا بڑا شکر گزار، بڑا احسان ماننے والا۔ شکر سے بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے مبالغہ کے اوزان میں سے ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے اس کی جمع شکر ہے۔
Ayahs 42:24–25

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور (ان کے) قصور معاف فرماتا ہے اور جو تم کرتے ہو (سب) جانتا ہے

(42:24) ام : ام منقطعہ بمعنی بل : ام یقولون۔ ای بل یقول کفار مکۃ (الخازن) (کفار مکہ معاوضہ رسالت تو داد نہیں کرتے) بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ :۔ (افتری علی اللہ کذبا) ۔ افتری : ماضی واھد مذکر غائب افتراء (افتعال) مصدر۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ر ی مادہ الفری (باب نصر) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں ۔ افراء (افعال) بمعنی خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ہیں۔ اور باب افتعال سے ادتراء کا لفظ اصلاح اور فساد ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ لیکن اس کا زیادہ تر استعمال فساد ہی کے معنوں میں آتا ہے۔ اسی لئے قرآن مجید میں جھوٹ، شرک، ظلم کے موقعوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ انظر کیف یفترون علی اللّٰہ الکذب (40:50) دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں۔ کذبا : جھوٹ۔ فان یشا اللّٰہ یختم علی قلبک۔ جملہ اول شرط اور جملہ ثانی جواب شرط ہے ۔ ان شرطیہ ہے۔ یشا مضارع واحد مذکر غائب۔ اصل میں یشاء تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یشاء ہوگیا۔ مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ وہ چاہتا ہے۔ وہ چاہے۔ یختم : مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان شرطیہ) واحد مذکر غائب وہ مہر لگاتا ہے وہ مہر لگا دے۔ اگر خدا چاہتا تو تیرے دل پر مہر لگا دیتا مطلب یہ ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مہر لگا دیتا ۔ پھر تجھے کچھ یاد نہ رہتا جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولو تقول علینا بعض الاقاویل ۔ لاخذنا منہ بالیمین ۔ ثم لقطعنا منہ الوتلین ۔ (69:44:46) اور اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتے تو ہم ان کو داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ان کی رگ گردن کی کاٹ ڈالتے (ابن کثیر) ویمح اللّٰہ الباطل۔ یہ جملہ مستانفہ ہے جملہ سابقہ کا معطوف نہیں ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے محو (باب نصر) سے مصدر۔ اخیر میں واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم الخط کی موافقت کی وجہ سے ہے۔ جیسے سندع الزبانیۃ (96:18) ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے۔ یا یدع الانسان بالشر (17:11) اور انسان برائی کی دعا بھی (اسی تقاضہ سے) کرتا ہے ۔ میں واؤ نہیں ہے۔ ویحق الحق بکلمتہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور بین کردیتا ہے اپنے کلمات سے، یعنی دلائل بیان فرما کر یا حجت پیش کرکے۔ ذات الصدور : مضاف مضاف الیہ۔ سینوں کی۔ ذات مؤنث ہے ذو کی بمعنی والی۔ صاحب ۔ صدور جمع ہے صدر کی سینہ۔ علیم : دانا۔ خوب جاننے والا۔ علم سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 42:26

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کی (دعا) قبول فرماتا اور ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

(42:26) ویستجیب مضارع واحد مذکر غائب۔ استجابۃ (استفعال) مصدر۔ جوب مادہ۔ وہ قبول کرتا ہے ، وہ دعا قبول کرنا ہے۔ ای یستجیب دعاء الذین امنوا ۔۔ اور وہ دعا قبول کرتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔ ویزیدھم : ای ویزید فی ثواب اعمالہم اور ان کے اعمال کے ثواب میں زیادتی کردیتا ہے۔ یعنی ان کی عبادت کے لحاظ سے اجر کئی گناہ دیتا ہے۔ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ : ای اذا دعوہ استجاب دعاء ہم واعطاھم ما طلبوا وزادھم علی مطلوبھم جب وہ دعا کرتے ہیں ان کی دعا قبول کرتا ہے اور جو طلب کرتے ہیں وہ ان کو عطا کرتا ہے اور ان کے مطلوب سے بھی زیادہ دیتا ہے۔ عذاب شدید : موصوف و صفت ۔ شدید صفت مشبہ کا صیغہ ہے بروزن فعیل سخت۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے

(42:27) ولو بسط اللّٰہ الرزق لعبادہ۔ جملہ شرطیہ ہے لو حرف شرط ہے۔ بسط ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر۔ اس نے کشادہ کیا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روزی فراخ کر دے۔ لبغوا فی الارض : جواب شرط۔ لام جواب شرط کا ہے۔ بغوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بغی (باب ضرب) مصدر۔ اس نے بغاوت کی۔ اس نے سرکشی کی اس نے زیادتی کی۔ تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں گے۔ ینزل : مضارع واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر۔ وہ نازل کرتا ہے۔ وہ اتارتا ہے۔ قدر۔ اندازہ شدہ۔ مقدار۔ مقدار مقررہ۔ اللہ کا حکم جو وہ اپنے بندوں کے لئے مقدد کرچکا ہے۔ فعل بمعنی مفعول۔ خبیر ۔ خبر سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے، بمعنی خبردار۔ دانا اللہ تعالیٰ جل و علاشانہ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ صرف ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ بصیر : فعیل بمعنی فاعل۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ یہ بھی اللہ رب العزت کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے

(42:28) ینزل ملاحظہ ہو آیت سابقہ۔ الغیث : بارش۔ غاث یغیث غیث (باب ضرب) مصدر۔ اجوف یائی ہے۔ یہ فعل متعدی ہے۔ کہا جاتا ہے غاثنی : اس نے مجھ پر بارش کی۔ اس کے مشابہ لفظ غوث ہے جو اجوف دادی ہے۔ غوث سے اغاث یغیث (باب افعال) ماضی و مضارع آتا ہے۔ باب استفعال میں پہنچ کر دونوں کی شکل ظاہری ایک ہوجاتی ہے یعنی استغاث یستغیث مدد طلب کرنا۔ یا بارش طلب کرنا۔ قرآن مجید کی آیت وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمہل (18:29) میں دونوں معنی کا احتمال ہے یعنی جب دوزخی مدد طلب کریں یا پانی مانگیں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کا پانی ان کو دیا جائے گا۔ یا پگھلے ہوئے تابنے کا پانی دے کر ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ یغاثوا فعل مجہول جمع مذکر غائب میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ مدد طلب کرنے کی صورت میں یہ اغاث (باب افعال) سے ہوگا اور دوسری صورت میں غاث یغیث (ضرب) سے۔ قنطوا ماضی جمع مذکر غائب قنوط اگرچہ جملہ ابواب اس سے مستعمل ہیں لیکن اعلیٰ یہی ہے کہ اس کو باب ضرب سے قرار دیا جائے کیونکہ من بعد ما قنطوا (آیت ہذا) میں ماضی فتح عین سے اور من یقنط (15:56) زیر سے ہے یا زبر سے (لیکن عام نسخہ جات میں یہ عین کلمہ کے زیر سے ہے اس صورت میں ماضی اور مضارع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ باب فتح سے ہوگا) ۔ قنطوا وہ ناامید ہوگئے۔ ینشر : مضارع واحد مذکر غائب نشر (باب نصر) مصدر۔ وہ پھیلاتا ہے۔ پھیلائے گا۔ الولی ولایۃ (باب ضرب) سے مصدر فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے کارساز۔ دوست۔ مددگار۔ الحمید۔ ستودہ۔ صفات کیا گیا۔ سراہا ہوا۔ حمد باب سمع مصدر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی محمود سے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے کیونکہ وہی حقیقی طور پر مستحق حمد ہے۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے

(42:29) وما بث فیہما۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف السموت پر ہے ما موصولہ ہے بث ماضی واحد مذکر غائب بث (باب نصر و ضرب) مصدر۔ اس نے بکھیر دیا۔ اس نے پھیلا دیا۔ اصل میں بث کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں۔ اسی لئے ہوا سے خاک اڑنے، غم سے بےقرار ہوجانے اور راز کے افشاء کرنے کے لئے بث کا استعمال ہوتا ہے۔ دابۃ۔ جانور۔ چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب ودبب (باب ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اس کی جمع دواب ہے اگرچہ عرف یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں جو لفظ دابۃ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ مثلا وبث فیہما من کل دابۃ (2:164) اور اس نے زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلائے ہیں۔ فیہما میں ھما ضمیر تثنیہ مذکر و مؤنث غائب السموت والارض کے لئے آیا ہے۔ اذا یشاء میں اذا متعلقہ اجمعھم ہے ۔ یعنی وہ جب بھی ان کو جمع کرنا چاہے۔ قدیر قدرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدرت والا ہے۔ زبردست خداوند تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔
Ayah 42:30

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے

(42:30) وما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم : ما اسم موصول مبتداء اصابکم من مصیبۃ اس کا صلہ۔ جب مبتداء اسم موصول ہو اور اس صلہ جملہ فعلیہ ہو تو اس کی خبر پر اکثرلاتے ہیں کیونکہ اس (ما) کے اندر شرط کے معنی پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے یہاں خبر پراستعمال ہوا ہے۔ اصابکم : اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اصابۃ (افعال) مصدر۔ تم کو پہنچے۔ تم کو پہنچا۔ تم کو پیش آیا۔ من مصیبۃ جار مجرور۔ کوئی مصیبت۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے ۔ یہ سبب (اس گناہ کے) جو تمہارے ہاتھوں نے کیا۔ کسبت : ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی گناہ اٹھانا کمانا۔ حاصل کرنا۔ ایدیکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے ہاتھ۔ یعفوا عن کثیر یعفوا مضارع واحد مذکر غائب۔ عفو (باب نصر) مصدر وہ معاف کردیتا ہے۔ کثیر : ای کثیر من الذنوب۔ اکثر گناہ۔
Ayah 42:31

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے اور خدا کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار

(42:31) وما انتم واؤ عاطفہ۔ ما نافیہ ہے۔ معجزین ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اعجاز (افعال) مصدر۔ عاجز بنا دینے والے۔ ہرانے والے۔ عجز مادہ۔ من دون اللّٰہ۔ اللہ کے سوا۔ اللہ کے درے۔ ولی۔ کا معنی ہے متولیا لشیء من امروکم بالاستقلال یحمیکم من المصائب یعنی وہ ذات جو تمہارے کسی کام کی متولی ہو اور تمہیں مصیبتوں سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Ayah 42:32

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں (جو) گویا پہاڑ (ہیں)

(42:32) الجوار : جاریۃ کی جمع اصل میں جاریۃ کی جمع جواری یاء کو بطور زائد حزف کیا گیا ہے ۔ کشتیاں ۔ جہاز۔ جاریۃ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ جری (باب ضرب) مصدر سے۔ چلنے والی۔ جاری ۔ بہنے والی۔ چونکہ کشتی پانی کی سطح پر ثلتی ہے۔ اس لئے جاریۃ کہلاتی ہے۔ کالاعلام : علم کی جمع۔ پہاڑ۔ علم اصل میں اس علامت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے کسی شے کا علم ہوسکے۔ جیسے نشان راہ کے پتھر۔ اور فوج کا علم اس اعتبار سے پہاڑوں کا نام بھی علم ہوگیا۔ ایک آیت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو علم کہا گیا ہے وانہ لعلم للساعۃ (43:61) بیشک وہ (یعنی حضرت عیسی) قیامت کی نشانی ہیں۔
Ayah 42:33

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر (خدا) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں

(42:33) ان یشاء ان شرطیہ۔ یشأ مضارع مجزوم (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب مشیۃ (باب فتح) مصدر۔ اگر وہ چاہے۔ یسکن مضارع مجزوم بوجہ شرط : واحد مذکر غائب کا صیغہ ن مکسور بالوصل اسکان (افعال) مصدر وہ روک دے۔ الریح ہوا۔ اسم مفعول ۔ ریح کی جمع ریاح ہے قرآن مجید میں جہاں ارسال کی ہوائیں مراد ہیں اور اگر واحد کا لفظ ریح استعمال ہوا ہے تو وہاں عذاب کے معنی مراد ہیں۔ ان یشا یسکن الریح جملہ شرطیہ ہے۔ فیظللنجواب شرط کے لئے ہے یظللن مضارع فعل ناقص جمع مؤنث غائب ظل (باب سمع) مصدر وہ ہوجائیں۔ وہ ہوجائیں گی۔ ضمیر جمع مؤنث کا مرجع الجوار ہے۔ رواکد : ایستادہ : ٹھہری ہوئیں۔ تھمی ہوئیں۔ راکد کی جمع ہے رکود (باب نصر) مصدر بمعنی (ہوا، پانی۔ یا جہاز کا) رک جانا۔ اپنے مقام پر ٹھہر جانا۔ اپنی جگہ پر برقرار رہنا۔ علی ظھرہ میں ہ ضمیر کا مرجع البحر ہے۔ پس کشتیاں یا جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ فی ذلک : ذلک کا اشارہ کشتیوں یا جہازوں کا پانی کی سطح پر ہواؤں کے چلنے سے رواں دواں رہنا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہواؤں کو روک کر کشتیوں کو پانی پر ساقط کردینا کی طرف ہے۔ صبار صبر سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے بہت صبر کرنے والا بڑا تحمل کرنے والا۔ شکور شکر سے فعول کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے مبالغہ کے اوزان میں سے ہے۔ بڑا شکر گزار، بڑا احسان ماننے والا۔ یہاں صبار شکور ، مؤمن مخلص کی تعریف میں آئے ہیں۔