42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 42:1–3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح وحی بھیجتا ہے اللہ آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) اور ان سب (حضرات) کی طرف جو کہ گزر چکے ہیں آپ سے پہلے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت حکمت والا ہے3

1 حضرات انبیائے کرام کی ایک امتیازی صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء و رسل کی تعلیم بھی ایک ہی رہی اور ذریعہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح اللہ وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف "۔ یعنی جس طرح اس سورة کریمہ کے مضامین کی وحی فرمائی جا رہی ہے اسی طرح آپ کی طرف اور ان تمام انبیائے کرام کی طرف بھی اللہ پاک کی طرف سے وحی فرمائی جاتی رہی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ ان سب کے مشمولات بھی ایک ہی قسم کے تھے اور مقاصد بھی مشترک۔ کیونکہ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم وغیرہ بنیادی عقائد و مسائل ان سب میں مشترک تھے۔ اور مقصد بھی ایک ہی تھا کہ انسانیت وحی کے بتائے ہوئے راستے کو اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و فیضیاب ہو سکے۔ سو تمام انبیائے کرام کی تعلیم بھی ایک ہی رہی۔ یعنی دین اسلام کی تعلیم جو کہ دین فطرت ہے۔ اور جو اس پوری کائنات کا دین ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا } ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کو اپناؤ۔ اور ان سب حضرات کا طریقہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ یعنی یہ کہ وحی خداوندی کے ذریعے اور اسی کی روشنی میں لوگوں کو حق و ہدایت کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو انکے خالق ومالک کے آگے جھکایا جائے اور اس سے ملایا جائے۔ اور وحدت مدعا کا ذکر اور اشارہ آگے آیت نمبر 13 میں فرمایا گیا ہے۔ سو یہ چیز حضرات انبیاء ورسل کے درمیان ایک مشترکہ امتیازی وصف کے طور پر موجود رہی۔ 2 اللہ پاک کی عظمت شان سے متعلق دو صفتوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جو کہ بڑا ہی زبردست اور نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ پس چونکہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ نہایت زبردست اور سب پر غالب ہے اس لئے جو کرنا چاہے کوئی اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ مگر وہ چونکہ انتہا درجہ کی حکیم بھی ہے اس لئے جو کچھ بھی وہ کرتا ہے انتہائی حکیمانہ طریقے پر کرتا ہے ۔ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْہَانُہٗ ۔ سو اسماء ِحسنی میں سے " عزیز " و " حکیم " کی دو صفتوں کے حوالے سے ایک طرف تو تحضیض و ترغیب اور تسلیہ و تسکین کا پہلو نکلتا ہے کہ جو لوگ اس دین حنیف کی تعلیم و تذکیر میں لگ جائیں گے وہ عزت اور حکمت کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوں گے۔ اور وہ خدائے عزیز و حکیم کی نصرت و امداد سے بھی سرشار ہوں گے۔ اور دوسری طرف ان دونوں صفتوں کے ذکر میں منکرین و مکذبین کیلئے تہدید و تخویف کا پہلو بھی موجود ہے کہ ایسے لوگ عزت و حکمت سے بھی محروم ہوں گے اور خداوند قدوس کی گرفت و پکڑ کے مورد بھی بنیں گے۔ اور جب وہ پکڑنے پر آئے گا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ تو ان کیلئے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ وہ عزیز اور نہایت ہی زبردست ہے۔ لیکن وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کی پکڑ۔ والعیاذ باللہ ۔ حکمت پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کفر و انکار اور جرم و قصور کے باوجود اگر کسی کو ڈھیل ملتی ہے تو اس سے اس کو مست نہیں ہونا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے اور وہی ہے بلند مرتبہ بڑی ہی عظمتوں والا

3 سب کچھ اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں میں ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ زمین میں ہے "۔ خَلْقًا وَمِلْکًا وَمُلْکًا وَتَصَرُّفًا یعنی اس سب کو پیدا بھی اس وحدہ لاشریک نے تنہا اور بلاشرکت غیرے فرمایا ہے۔ اس سب کا مالک حقیقی بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حقیقی بادشاہی اور حکومت بھی اسی کی ہے۔ اور اس سب پر حکم و تصرف بھی تنہا اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ پس ظاہری طور پر اور اسباب کے درجے میں جس کو جو کچھ ملا ہوا ہے وہ سب اسی کی بخشش و عطا سے ملا ہوا ہے۔ لہٰذا اس پر اکڑنے اور اترانے کی بجائے اس کو اسی وحدہ لاشریک کی بخشش و عطا اور ابتلاء و آزمائش سمجھ کر اس کا حقِّ شکر ادا کرنے کی فکر وسعی کرنی چاہیئے تاکہ یہ نعمتیں اس کی رضا اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بن سکیں۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ جن لوگوں نے " بلیوں والی سرکار " " کانواں والی سرکار " " سہیلی سرکار " " نویلی سرکار " وغیرہ وغیرہ ناموں سے طرح طرح کی من گھڑت سرکاریں بنا رکھی ہیں وہ سب کچھ ان لوگوں کا خود اپنا ساختہ پرداختہ، خود تراشیدہ اور بےحقیقت و بےبنیاد اور کتاب و سنت کی تعلیمات مقدسہ کے مخالف بھی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کی کتاب و سنت میں نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 4 اللہ پاک کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " وہ بڑی بلند مرتبہ اور نہایت ہی عظمت شان والی ذات ہے " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو وہ ہر قسم کی مماثلث و مشابہت سے بلند وبالا اور عظمتوں کا مالک ہے ۔ { لَیْسَ کَمِثْلِہ شَئٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ۔ پس نہ تو اسے کسی مخلوق سے تشبیہ دینا جائز ہے اور نہ اس کو کسی پر قیاس کرنا درست کہ وہ اس سب سے پاک وبالا ہے ۔ فتعالی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ۔ اس کی خلق و تدبیر اور اس کے حکم و تصرف میں کوئی بھی اور کسی بھی درجے میں اسکا شریک وسہیم نہیں ہے۔ کوئی بھی ہستی ایسی نہیں جو کسی بھی درجے میں اس کی کفو اور ہمسر ہوسکے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلیٰ وبالا ہے۔ وہ اگر کسی کو مہلت دیتا ہے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ لوگ اس کے دائرئہ اختیار سے باہر ہوگئے بلکہ ایسا سب کچھ اس کے حلم و کرم کی بنا پر ہوتا ہے۔ پس وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ پھٹ پڑیں آسمان اپنے اوپر سے اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور وہ بخشش مانگتے ہیں ان (ایماندار) لوگوں کے لئے جو کہ زمین میں (رہتے) ہیں آگاہ رہو کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

5 خدائے علی و عظیم کی عظمت شان کی وضاحت : سو خدائے علیّ و عظیم کی عظمت شان کی وضاحت کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے اپنے اوپر سے "۔ یعنی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی عظمت شان اور جلالت قدر کی بناء پر۔ یا فرشتوں کی کثرت اور ان کے ثقل کی بناء پر۔ جیسا کہ سنن ترمذی و ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق یہی ہے کہ وہ چرچرائے کہ اس میں چپے کے برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی فرشتہ قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں مصروف عبادت نہ ہو ۔ " اَطَّتِ السَّمَآئُ وَحَقٌّ لَّہَا اَنْ تَئَطَّ " ۔ یا آسمانوں کا یہ حال اس بنا پر ہے کہ لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد تجویز کی اور اس کی مخلوق میں خدائی صفات تسلیم کیں اور ان کو حاجت روا و مشکل کشا جان کر ان کو پوجا اور پکارا جو کہ ایک نہایت ہی ہولناک اور سنگین جرم ہے۔ جیسا کہ سورة مریم کی آیت نمبر 88 سے آیت نمبر 92 میں بیان فرمایا گیا ہے۔ سو آیت کریمہ کے کلمات کریمہ کا عموم ان تینوں ہی مفاہیم کو شامل ہے۔ اور حضرات مفسرین کرام نے اپنے اپنے انداز میں ان تینوں کو ذکر وبیان فرمایا ہے۔ (روح، قرطبی، مدارک، مراغی، محاسن اور جامع وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے خدائے علیّ و عظیم کے علوّ اور اس کی عظمت شان کو واضح فرمایا گیا کہ اس کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ قریب ہے کہ اس کی عظمت کے بوجھ سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 6 فرشتوں کے اہل ایمان کے لیے استغفار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرشتے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں زمین والوں کیلئے "۔ یعنی لوگوں نے تو حضرات ملائکہ کرام کو خداوند قدوس کی خدائی میں شریک سمجھ رکھا ہے۔ اور ان میں اپنے طور پر حاجت روائی و مشکل کشائی کی صفات مان کر ان کو انہوں نے اپنا سفارشی قرار دے رکھا ہے۔ اور اسی بنا پر یہ ان کو پوجتے پکارتے ہیں۔ مگر فرشتوں کی شان بندگی کا عالم یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے اور اہل زمین کے لئے مغفرت و بخشش مانگتے رہتے ہیں۔ اور اہل زمین ۔ { لِمَنْ فِی الاَرْضِ } سے مراد یہاں اہل ایمان ہیں جیسا کہ سورة مومن کی آیت نمبر 7 میں وارد ہے ۔ { وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا } ۔ کے ارشاد سے اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو فرشتے تو ہر وقت اپنے رب کے خوف اور اس کی خشیت کی بنا پر اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے ہیں مگر ان نادانوں نے انکو اس کی خدائی میں شریک مان رکھا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ فرشتوں کا حال بایں ہمہ قربت و عظمت یہ ہے کہ وہ اس خالق عظیم کی خشیت کی بنا پر ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہتے ہیں اور اہل زمین کے لیے مغفرت و بخشش کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ مگر نادانوں نے ان کو خدا کی خدائی میں شریک قرار دے کر ان سے طرح طرح کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ اور اسی بنا پر وہ ان کی پوجاپاٹ میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ انکو خدا تعالیٰ کے یہاں بڑے بڑے مرتبے دلوا دیں گے جبکہ ان کی شان عبدیت و بندگی کا عالم یہ ہے کہ وہ دعاء و استغفار میں لگے رہتے ہیں۔ 7 اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کا مژدئہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تحضیض و تاکید کے ساتھ فرمایا کیا کہ " آگاہ رہو کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے "۔ اللہ سب گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ سو انسان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں وہ ان کو معاف فرما دیتا ہے کہ وہ غفور یعنی بڑا ہی بخشنہار ہے۔ جیسا کہ مشہور حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ابن آدم اگر تو زمین بھر کے گناہ لے کر میرے پاس آئے اور اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھوتے ہوں تو بھی میں ان سب کو معاف کر دوں گا اور مجھے کوئی پروا تک نہ ہوگی۔ ۔ " لَغَفَرْتُہَا لَکَ وَلا اُبَالِیْ " ۔ بس توبہ سچی اور صحیح معنوں میں توبہ ہونی چاہیئے اور وہ صرف گناہوں ہی کو معاف نہیں فرماتا بلکہ وہ اپنی مزید رحمت و عنایت سے بھی نوازتا ہے کہ وہ " غفور " کے ساتھ ساتھ " رحیم " بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَاغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیا اکرم الاکرمین ۔ سو اس سے مشرکین کو برمحل تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ آگاہ رہو اور کان کھول کر سن لو کہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ یہ چیز اگر فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اس قدر عجز و انکسار اور تذلل و عاجزی کے ساتھ لوگوں کیلئے بخشش کی دعائیں کیوں کرتے ؟ پس بندوں کو بھی چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اسی کی طرف رجوع کریں اور اسی سے مغفرت کی دعا کریں۔ اور فرشتوں کو خدا کی خدائی میں شریک ماننے کی بجائے ان کی شان عبدیت و بندگی سے سبق لیتے ہوئے ہمیشہ اللہ وحدہ لا شریک کی تسبیح وتحمید اور اس کے حضور توبہ واستغفار میں مشغول و منہمک رہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست (اور کارساز) بنا رکھے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہیں اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں1

8 مشرکین اور ان کے شرک کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور سرپرست اور کارساز بنا رکھے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ سو ایسے لوگ جو ان کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر ان کو پوجتے پکارتے، ان کے لئے عبادت و بندگی کے مراسم بجا لاتے، ان کے آگے دست بستہ کھڑے ہوتے، ان کے آگے جھکتے ان کے لئے رکوع و سجود کرتے، ان کی خوشنودی کے لئے ان کے طواف کرتے، چکر لگاتے، پھیرے مانتے، بکرے چھترے کاٹتے، دیگیں پکاتے، ان کے لئے ڈالیاں بھیجتے اور ان کے آستانوں پر چادریں چڑھاتے، پھول نچھاور کرتے اور ان کی مالا جپتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو ایسے مشرک لوگ بڑا ہی غضب ڈھاتے اور اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ انکو اپنے اس جرم کا خمیازہ بہرحال بھگتنا پڑے گا اور بڑے ہی ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 9 مشرکین کو نہایت سخت وعید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے سب لوگ اللہ کی نگاہ میں ہیں "۔ پس ان کی ان شرکیات میں سے کوئی چیز بھی اس وحدہ لا شریک سے مخفی و پوشیدہ نہیں۔ سب کا ریکارڈ پوری طرح تیار ہو رہا ہے اور ان کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور جو ڈھیل ان کو ملی ہوئی ہے اس سے ان کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ یہ امہال و استدراج تو حکمت کا تقاضا ہے۔ تاکہ ایسے لوگ اپنا یہ ظرف فل کرلیں اور اپنے سارے ارمان نکال لیں۔ پس کبھی ان کو کامیابی کی راہ پر نہ سمجھنا ۔ { فَلا تَحْسَبَنَّہُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ } ۔ (آل عمران : 188) ۔ سو اس میں مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور تنبیہہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے واضح دلائل کے باوجود اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے سرپرست اور کارساز بنا رکھے ہیں اور وہ تمام تر تنبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی نگاہ اور اس کی نگرانی میں ہیں۔ جونہی ان کی مدت مہلت پوری ہوجائے گی انکو دھر لیا جائے گا اور یہ قہر الہی کے پنجہ غیظ و غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے۔ پھر اس سے نکلنے اور بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہ ہوگی۔ سو یہ اس سے پہلے پہلے اپنی اصلاح کرلیں ورنہ اس ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں مشرکین کے لیے سخت وعید ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 10 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ انکے ذمہ دار نہیں ہیں کہ آپ ان سے حق بات کو منوا کر رہیں "۔ سو یہ نہ آپ ﷺ کے ذمے ہے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بس میں۔ آپ کے ذمے تو پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ آگے حساب لینا اور ہر ایک کو اس کے کئے کرائے کا پورا بدلہ دینا ہمارا کام ہے ۔ اِنْ عَلَیْکَ اِلّا الْبَلَاغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ پس آپ ان کے پیچھے اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ { فَلا تَذْہَبْ نَفْسَکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ } ۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری تو پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ ﷺ نے کردیا۔ اور آگے بھی کرتے رہو۔ اور جو ایمان نہیں لائے ان کی پرسش انہی سے ہوگی نہ کہ آپ ﷺ سے۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے بھی یہی پیغام ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف تبلیغِ حق ہے۔ اور وہ آپ کرچکے۔ اور آئندہ بھی کرتے رہیں۔ آگے لوگوں کو راہ حق پر ڈال دینا اور ان سے حق کو منوا لینا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی آپ اس کے ذمہ دار ہیں۔ تبلیغِ حق کے بعد جو لوگ نہیں مانیں گے وہ اپنی گمراہی کے ذمہ دار خود ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور ہاں اسی طرح ہم نے وحی کی آپ ﷺ کی طرف (اے پیغمبر ! ) عربی زبان کے ایک عظیم الشان قرآن کی صورت میں تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں بستیوں کے مرکز (مکہ مکرمہ کے باشندوں) کو اور ان سب کو جو اس کے ارداگرد (پورے عالم میں پھیلے) ہیں اور (ان کو) خبردار کریں جمع ہونے کے اس (ہولناک) دن سے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں (جس دن کہ) ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک دوزخ میں2

11 حضرات انبیاء ورسل کی دعوت کی وحدت واشتراک کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی عربی زبان کے ایک عظیم الشان قرآن کی صورت میں "۔ سو یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ اور ٹھکانا نہیں۔ اس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی ممکن ہے۔ اور یہ واحد کتاب ہے جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن ہے۔ سو جو اس سے منہ موڑے گا اور اعراض برتے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور اس سے بڑھ کر کوئی بدنصیب نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس طرح ہم نے آپ ﷺ سے پہلے آنے والے انبیا و رسل کو شرف وحی سے نوازا اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی طرف عربی زبان کے اس عظیم الشان قرآن کو اتارا۔ اور اسکا عربی زبان میں ہونا ان لوگوں کیلئے امتنان بھی ہے اور اتمام حجت بھی کہ اس کی بعد اہل عرب کے لیے کسی طرح کے کسی عذر اور حجت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ بہرکیف یہاں پر اس ۔ { کذالک } ۔ " اسی طرح " کا اشارہ اسی مضمون کی طرف ہے جو اوپر آیت نمبر 1 میں گزرا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے تم سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل کو اپنی وحی سے نوازا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی عربی زبان کا یہ قرآن اتارا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے خبردار کریں اس مرکزی بستی کے باشندوں کو اور اس کے ارداگرد کے سب لوگوں کو۔ سو اس سے حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کی وحدت واشتراک کا ثبوت ملتا ہے ۔ علی نبینا وعلیہم الصلاۃ والسلام ۔ 12 حضرت امام الانبیاء کی دعوت سارے جہاں کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ آپ خبردار کریں بستیوں کے مرکز ۔ مکہ مکرمہ کے باشندوں ۔ کو اور ان سب کو جو اس کے اراداگرد پھیلے ہیں ۔ پورے عالم میں ۔ "۔ کہ اس کتاب کامل کی ہدایت اور آپ ﷺ کی رسالت تمام دنیا جہاں اور سب بنی نوع انسان کے لئے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَمَآ اَرْسَلْنَکَ اِلَّا کَافَّۃً للنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ۔ (سبا : 28) نیز فرمایا گیا ۔ { وَمَآ اَرْسَلْنَاک الا رَحْمَۃً لِلْعٰلَمِیْنَ } ۔ (الانبیائ : 107) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا } ۔ (الفرقان : 1) ۔ سو عالمی دین صرف دین اسلام ہے۔ اور عالمی دعوت صرف اسی دین حق کی دعوت ہے جو قیامت تک کے سب زمانوں اور تمام انسانوں کیلئے ہے۔ اور اب قیامت تک کے سب انسانوں کیلئے راہ ہدایت اور نجات اسی میں منحصر ہے۔ اور یہ دعوت عام آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں براہ راست آپ کے ذریعے دی گئی۔ اور آپ کے بعد یہ ذمہ داری آپ کی امت پر ڈالی گئی اور اسی بنا پر آپ کی امت کو " شہداء اللہ فی الارض " کے منصب سے سرفراز فرمایا گیا۔ یعنی یہ خوش نصیب لوگ اللہ کی زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ سو اس امت کا یہ فریضہ منصبی ہے کہ یہ اس پیغام حق و ہدایت کو دوسروں تک پہنچائے اور حق کی گواہی برابر دیتی رہے۔ اور اسی فریضہ مقدسہ کے تقاضے سے اس امت کو یہ شرف واعزاز حاصل ہوا کہ اس میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر اس وقت بھی قائم رہے گا جبکہ دنیا کی رگ رگ میں باطل کا زہر سرایت کر جائے گا ۔ والعیاذ باللہ - 14 اِنذار عام کے بعد انذار خاص کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں جمع ہونے کے اس دن سے جس میں کوئی شک نہیں "۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ اس عظیم الشان اور ہولناک دن کے لئے فکر و تیاری کرسکیں قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے جو کہ آج ان کو میسر ہے۔ اور اس طرح یہ ہمیشہ کے خسارے میں پڑجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قیامت کے دن اور اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری اور پیشی کا یقین و احساس انسانی صلاح و فلاح کی اصل اساس و بنیاد ہے۔ سو اس سے انذار عام کے بعد انذار خاص کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی لوگوں کو خاص طور پر " یوم الجمع " یعنی قیامت کے روز سے ڈراؤ اور خبردار کرو۔ یعنی اس عظیم الشان اور ہولناک دن سے جس دن اللہ تعالیٰ بلا استثناء سب کو اکٹھا کرے گا۔ عابدوں کو بھی اور ان کے خود ساختہ معبودوں کو بھی۔ لیڈروں کو بھی اور ان کے پیروکاروں کو بھی۔ حضرات انبیاء و رسل کو بھی اور ان کے ساتھیوں کو بھی۔ کفار و مشرکین کو بھی اور ان کے حمایتیوں کو بھی۔ اور پھر ان سب کی موجودگی میں بھری عدالت میں فیصلہ فرمایا جائے گا کہ اللہ کے دین کے بارے میں کس کا کیا رول رہا ہے ؟ کس نے اس میں اختلاف بپا کیا اور فساد ڈالا اور کس نے اس کی وحدت و پاکیزگی قائم رکھنے کی کوشش کی ؟ کون انعام کا مستحق ہے اور کون سزا کا ؟ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 15 یوم الجمع کے فیصلے کی تفصیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن ایک گروہ جنت میں ہوگا "۔ اپنے ایمان صادق اور عمل صالح کے نتیجہ و صلہ میں جہاں ایسے خوش نصیب لوگ ابدی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں گے ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ سو یہ اس یوم فصل و جزا کی کھلی عدالت اور وہاں کے آخری فیصلے کا بیان ہے کہ جن لوگوں نے اپنی دنیاوی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور اس کی تعلیمات کے مطابق گزارا ہوگا وہ جنت کی سدا بہار نعمتوں اور دائمی اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے اس یوم الفصل والجزاء کے فیصلے کی تفصیل کے سلسلے میں ایک گروہ یعنی اہل حق اور اہل ایمان کا انجام ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ ناجی اور فائز المرام ہوں گے اور اپنے ایمان و عقیدے اور دولت حق و ہدایت سے سرفرازی کے نتیجے میں جنت کی دائمی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے ۔ اللہ ہمیں انہی میں سے کرے اور ایسا اور اس طور پر کہ رب راضی ہوجائے کہ اصل مقصود اس کی رضا ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالی - 16 منکرین و مشرکین کا انجام دوزخ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور ایک فریق دوزخ میں "۔ جہاں ان کو اپنے اعراض و انکار کے نتیجے میں زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھگتان طرح طرح کے ہولناک عذابوں کی صورت میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو منکرین و مشرکین کا انجام دوزخ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ دوسرے فریق اور دوسرے گروہ کا ذکر ہے جو ناکام و نامراد اور وہاں پر ہمیشہ کے ہولناک عذاب میں ہمیشہ کیلئے گرفتار ہونے والا گروہ ہوگا۔ جس نے اپنی دنیاوی زندگی کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی میں گزاری ہوگی۔ سو اس ہولناک انجام کو بیان فرما کر ان لوگوں کو خبردار فرما دیا گیا ہے جو اپنی لاپرواہی کی بنا پر اس عذاب کو جلد لانے کا مطالبہ کرتے اور اسکا مذاق اڑاتے ہیں کہ ان کیلئے خیر اس میں ہے کہ وہ اس عذاب کیلئے جلدی مچانے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کریں کہ وہ انجام اور عذاب بڑا ہی ہولناک انجام ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین -
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے اور ظالموں کا نہ کوئی یار ہے نہ مددگار

17 ہدایت سے سرفرازی کا دار و مدار انسان کی اپنی چاہت و طلب پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا "۔ یعنی جبراً وقہرا اور تکوینی طور پر۔ جیسا کہ کائنات کی بیشمار مخلوق جبری عبادت و فرمانبرداری میں مصروف ہے۔ سورج اپنے مدار میں لگاتار چل رہا ہے اور چاند اپنے مدار میں۔ دریا و سمندر اور پہاڑو جنگل وغیرہ سب مخلوق اپنے اپنے دائرے میں پابند حکم خداوندی اور مصروف عبادت و بندگی ہے۔ سو اگر تمام انسانوں کو اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی میں اسی طرح لگا دیا جاتا تو اللہ تعالیٰ کے لئے کیا مشکل تھا۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو حضرت انسان سے مطلوب ہی نہیں کہ اس میں امتحان اور ابتلاء و آزمائش کے معنیٰ ہی فوت ہوجاتے ہیں جو کہ اصل مطلوب ہے۔ نہیں تو پھر ثواب و عقاب کا ہے کا ؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا جبری ایمان پسند نہیں فرمایا بلکہ اس نے یہ چاہا کہ لوگوں کو اختیار دے کر انکے سامنے اپنی ہدایت رکھ دے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت سے کام لیکر اپنی آزادیِ رائے کے ساتھ ہدایت کو اپنائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 18 ہدایت اللہ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ داخل فرماتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے "۔ کہ وہی جانتا ہے کہ اس کے لئے کس کے دل میں طلب صادق موجود ہے اور کس کے دل میں نہیں۔ اور یہی چیز فیصلہ کی اساس و مدار ہے۔ اور اسی پر سارا انحصار ہے۔ اس لئے وہ اسی کے مطابق ہر ایک کو اپنی عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ ایسے طالب صادق ہی اس کی رحمت میں داخلے کے لائق ہوتے ہیں اور منکر اور ظالم و مشرک لوگ چونکہ طلب صادق کی اس دولت سے محروم ہوتے ہیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے قانون عدل وانصاف کے مطابق نور حق و ہدایت سے محروم ہوتے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کے عدل و انصاف اور حکمت کے تابع اور اس کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 19 اور ظالموں کیلئے نہ کوئی یار ہے نہ مددگار : جو ان کی ایسے مشکل موقع میں کوئی مدد کرسکے یا ان کی زبانی کلامی ہی کچھ حمایت و ہمدردی کا اظہار کرسکتے۔ کیونکہ کارساز حقیقی ۔ جل جلالہ ۔ سے ان لوگوں نے منہ موڑ لیا تھا اور جن خود ساختہ " سرکاروں " اور من گھڑت " ہستیوں " کو انہوں نے اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے رکھا تھا ان میں ایسی کوئی اہلیت اور لیاقت سرے سے تھی ہی نہیں۔ تو پھر ان بدبختوں کا کوئی حمایتی اور مددگار ہو ہی کیسے سکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و شرک محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ظالموں یعنی کافروں اور مشرکوں کے لیے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ کوئی حمایتی و مددگار۔ سو نہ ان کے خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت اولیاء وشفعاء میں سے کوئی ان کے کچھ کام آسکے گا اور نہ ان کی کوئی جمعیت اور جماعت ان کے کچھ کام آسکے گی۔ سو ظالم اور مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت سے محروم ہوں گے اور یہ اللہ پاک کی مشیت کا تقاضا ہے اور اس کی مشیت اس کے عدل وانصاف اور اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ظلم کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے محفوظ اور ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز بنا رکھے ہیں ؟ سو (واضح رہے کہ) کارساز تو اصل میں اللہ ہی ہے وہی زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

20 کارساز سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی سب کا ولی و کارساز ہے "۔ وہی ہر کسی کی حاجت روائی کرتا اور کارسازی اور مشکل کشائی فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جنہوں نے اس کے سوا اور خود ساختہ کارساز و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ راہ حق و صواب سے ہٹے ہوئے اور گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ " ظالموں کیلئے نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ مددگار "۔ سو اس کے مقابلے میں اب یہاں پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ کارساز حقیقی سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس عقل و نقل اور فطرت مستقیم کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اسی کو اپنا کارساز سمجھے۔ اپنے سارے معاملات اسی کے حوالے کردے اور اسی کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے۔ اس کے سوا باقی تمام اوہام و خرافات ہیں۔ جو نہ کسی نفع کے مالک ہیں نہ نقصان کے۔ انکو اپنا ولی اور کارساز قرار دینا اپنے لیے دارین کی ہلاکت و محرومی اور ہولناک خسارے کا سامان کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 21 زندگی اور موت اللہ ہی کے اختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جو زندہ کرتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب احیاء و اماتت یعنی زندگی بخشنا اور موت سے ہمکنار کرنا اور ہر چیز پر پوری قدرت رکھنا اسی کی شان اور اسی کا کام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر کارساز اور حاجت روا و مشکل کشا اس کے سوا اور کون اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ سو کارساز حقیقی سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور وہ ایسا کارساز و حاجت روا ہے کہ بندوں کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر ہی ان کی حاجت روائی و کارسازی فرماتا ہے۔ ان کی پیدائش کے وقت سے بلکہ اس سے بھی پہلے سے۔ اور ان کی پوری زندگی میں اور اس کے بعد بھی اس کی کارسازی فرماتا ہے۔ آخر ہم جو پیدا ہوئے بطن عدم سے احاطہ وجود اور منصہ شہود پر نمودار ہوئے۔ اور جسم کے اندر اور اس کے باہر جو بےحد و حساب نعمتوں سے مستفید ومالا مال ہوئے اور لگاتار ہو رہے ہیں۔ آخر اس کیلئے ہم نے اس کے حضور کونسی درخواست پیش کی تھی ؟ اور ایسی کوئی اپیل و درخواست ہم کر ہی کس طرح سکتے ہیں ؟ کہ ان لامحدود نعمتوں کا سوال اس سے کرسکیں جن کا ہمیں نہ کوئی علم ہے نہ احاطہ۔ سو جس کارساز مطلق کی کارسازی کی یہ عظیم الشان صورتیں انسان کے وجود کے اندر اور اس کے باہر ہر چہار سو پھیلی بکھری ہیں اس کو چھوڑ کر دوسری بےحقیقت چیزوں کو اپنا کارساز سمجھنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی اور اندھیر نگری ہے۔ اور کس قدر ہولناک خسارے کا سودا ہے ؟ خواہ وہ خودساختہ اور اپنے ہاتھوں کا گھڑا ہوا کوئی بت ہو یا کوئی اور فرضی اور خودساختہ معبود کہ ایسی تمام چیزیں سراسر بےبنیاد اور بےحقیقت ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور (ان کو یہ بھی بتادو کہ) جس چیز کے بارے میں بھی تمہارے درمیان اختلاف واقع ہوجائے تو اس کا فیصلہ کرنا اللہ ہی کا کام ہے یہ ہے اللہ میرا رب میں نے اسی پر بھروسہ کر رکھا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

22 ہر اختلاف کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے : سو اس ارشاد سے ہر اختلاف اور تنازع کا فیصلہ اللہ ہی کے حکم و ارشاد کے مطابق کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور حاکم و حکیم اور علیم وخبیر بھی وہی۔ اور اپنے بندوں پر مہربان اور رحمن و رحیم بھی وہی۔ تو یہ فیصلہ بھی وہی فرما سکتا ہے کہ انسان کے لئے مفید کیا ہے اور مضر کیا۔ اس کا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں۔ اس کے لئے حق و حلال کیا ہے اور ناجائز و حرام کیا۔ اس کے لئے بہتر کیا ہے اور بدتر کیا۔ پس اسی کا فیصلہ صحیح اور عین حق و صدق ہوسکتا ہے اور اسی میں انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا راز مضمر ہے۔ اور اسی کی متعین فرمودہ راہ انسان کے لئے حقیقی فوز و فلاح کی ضامن و کفیل ہوسکتی ہے۔ لہٰذا ہر اختلاف کے موقع پر اور ہر حال میں رجوع بہرحال اسی کی طرف کرنا چاہیئے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ } ۔ (النسائ : 59) اور یہی راہ ہے حق و صواب کی جس سے روگردانی مومن کے لئے کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ } ۔ (الاحزب : 36) ۔ بہرکیف اس میں یہ عظیم الشان اور اہم بنیادی درس دیا گیا ہے کہ ہر اختلاف اور تنازع کی صورت میں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم و فیصلہ کی طرف رجوع کرو کہ ہر اختلاف کا فیصلہ اللہ ہی کے حوالے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 23 یہ ہے اللہ جو رب ہے میرا ۔ سبحانہ و تعالیٰ : جس کی یہ اور یہ صفتیں ہیں۔ وہی رب ہے میرا اور ساری مخلوق کا۔ اور اسی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ سب ظن وتخمین کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور راہ حق و صواب سے محروم ہیں ۔ { اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ } ۔ بہرکیف ربِّ معبود حقیقی اور ہر تنازع و اختلاف کا فیصلہ کرنے کا مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور حاجت روا و کارساز بنا رکھے ہیں وہ سراسر دھوکے اور گمراہی میں پڑے ہیں۔ اور ان کا انجام بڑا ہی بھیانک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے سوا لوگوں نے جو دوسرے طرح طرح کے سہارے گھڑ رکھے ہیں وہ سب بےحقیت اور بےبنیاد ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 24 اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کی زبان سے کہلوایا گیا اور حصر وقصر کے اسلوب میں کہلوایا گیا کہ " یہ ہے اللہ جو کہ رب ہے میرا "۔ میں نے اسی ۔ وحدہ لاشریک۔ پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ کہ بھروسہ و اعتماد کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس لئے میرا بھروسہ و اعتماد بھی اسی پر ہے اور ہر مومن کو بھی بھروسہ و اعتماد اسی پر رکھنا چاہیئے کہ ہر قسم کا نفع و نقصان اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم فرمائی گئی ہے کہ بھروسہ کے لائق وہی وحدہ لا شریک ہے جو بلاشرکت غیرے اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور ہر چیز کی باگ ڈور اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 42:11–12

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہ بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس عظیم الشان کائنات) کا اور اسی نے بنائے تمہارے لئے خود تمہاری ہی جنس سے عظیم الشان جوڑے (اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے) اور چوپایوں میں سے بھی (اسی طرح انہی کی جنس سے) جوڑے بنائے اس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا1

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین (کے تمام خزانوں) کی وہ روزی کشادہ فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور جس کو چاہتا ہے (حساب کی اور) نپی تلی دیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے

28 آسمانوں اور زمین کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین ۔ کے خزانوں ۔ کی "۔ پس وہ جس کو چاہے دے اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ وہ جس کو دینے اور نوازنے پر آجائے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جس کو نہ دینا چاہے کوئی اس کو دلوا نہیں سکتا۔ پس تم لوگ ہر حال میں اسی کے حضور دست سوال دراز کرو اور اس کے سوا اور کسی سے مانگنے کی ذلت نہ اٹھاؤ کہ تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اور اس کی تخلیق فرمودہ اور قائم کردہ اس کائنات میں حکم و تصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کا خالق وہ ہے تو ضروری ہے کہ اسکا مالک بھی وہی ہو۔ یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ ان سب کو پیدا تو کرے وہ لیکن پیدا کرنے کے بعد ان کی چابیوں کے مالک بن جائیں کوئی دوسرے ؟ سو ایسا ہر تصور غلط اور اس طرح کی ہر سوچ گمراہی پر مبنی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ زمین و آسمان کے تمام خزانوں کی چابیاں اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی کے حکم و ارشاد سے آسمان سے بارش اترتی ہے جس سے ہر چیز کو زندگی ملتی ہے۔ اور اسی کے حکم و ارشاد سے زمین اپنے طرح طرح کے خزانے اگلتی ہے جس سے دنیا طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی ہے۔ پس معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اور ہر قسم کے شکر کا حقدار بھی وہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو کچھ ملتا ہے اسی کے یہاں سے اور ای کی طرف سے ملتا ہے ۔ جل جلالہ و عم نوالہ ۔ 29 رزق روزی بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور نپی تلی دیتا ہے جسکو چاہتا ہے "۔ سو رزق روزی کی تقسیم کے سلسلے میں اس ارشاد عالی سے دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتیں واضح فرما دی گئیں۔ ایک یہ کہ روزی کی بست و کشاد کا معاملہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ کسی اور کا اس میں نہ کوئی عمل دخل ہے نہ اختیار۔ اور دوسری بات یہ کہ رزق و روزی کی فراخی و تنگی نہ کسی کے محبوب و مقبول عند اللہ ہونے کی علامت ہے اور نہ ہی اس کی تنگی اس کے مبغوض و مطرود ہونے کی نشانی۔ بلکہ اس کا تعلق دوسری مختلف حکمتوں اور مصلحتوں سے ہے جس کا علم و احاطہ حضرت حق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہی کے ساتھ مختص ہے۔ سو رزق و روزی کے پیدا کرنے میں اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی دیوی دیوتا یا کسی " ہستی " اور " سرکار " وغیرہ کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ اس کی تقسیم میں۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ وہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جسکو چاہتا ہے کشادہ روزی عطا فرماتا ہے اور جسکو چاہتا ہے نپی تلی دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس ہر قسم کے شکر اور ہر طرح کی عبادت و بندگی کا حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فانا نسال التوفیق لذلک والسداد والثبات علیہ - 30 اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک وہ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے "۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کے لئے روزی کی کشادگی بہتر ہے اور کس کے لئے اس کی تقتیر و تنگی۔ بندے کا کام ہے کہ اپنے بس کی حد تک کوشش اور محنت کرے۔ اور اس کے بعد معاملہ اسی وحدہ لاشریک کے حوالے کر دے کہ جو وہ کرے گا اسی میں بہتری ہوگی اور ہمارا کام ہے رضا بقضاء ہے اور بس۔ اس لیے بندے کو ہمیشہ امید بھی اسی سے رکھنی چاہیئے اور اسی سے ڈرتے بھی رہنا چاہیئے۔ اور اگر کسی کے رزق و روزی میں تنگی ہو تو اس کو اس طرح کی کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے کہ خدا کو اس کی خبر نہیں یا اس نے اس کے ساتھ کوئی ناانصافی کی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ یہ اطمینان رکھنا چاہیئے کہ جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے خدا کے علم سے ہو رہا ہے اور یہی حکمت کا تقاضا ہے۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اسی نے مقرر فرمایا تمہارے لئے (سعادت دارین سے سرفرازی کے لئے) دین کا وہی طریقہ جس کا حکم وہ (اس سے پہلے حضرت) نوح کو دے چکا ہے اور جس کی وحی اب ہم آپ کی طرف کر رہے ہیں اور جس کا حکم ہم (اس سے پہلے) ابراہیم موسیٰ اور عیسیٰ کو دے چکے ہیں (اس تاکید کے ساتھ) کہ قائم کرو تم اس دین کو اور اس میں پھوٹ نہیں ڈالنا2 بڑی بھاری ہے مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں اللہ چن لیتا اپنی طرف جس کو چاہتا ہے اور وہ راہ دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع کرتا ہے (اس وحدہ لاشریک کی طرف)

31 یہی دین تمام انبیاء و رسل کا دین ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے مقرر فرمایا تمہارے لیے دین کا وہ طریقہ جس کا حکم وہ اس سے پہلے نوح اور دوسرے انبیاء ورسل کو دے چکا ہے "۔ کہ اصول و مبادی ان سب ادیان کے ایک ہی ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا کہ ہم انبیاء کی جماعت آپس میں علاتی بھائی ہیں۔ کہ دین تو سب کا ایک ہی ہے۔ البتہ شریعتیں یعنی فروعی احکام و مسائل مختلف ہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الانبیائ) اور حضرت نوح کی تخصیص اس لئے فرمائی گئی کہ آپ (علیہ السلام) سب سے پہلے صاحب شریعت رسول ہیں۔ اور آپ (علیہ السلام) کو توحید کی دعوت اور شرک کی تردید و مذمت کی ذمہ داری کے علاوہ حلال و حرام کے احکام سے بھی نوازا گیا تھا۔ جبکہ ابو البشر حضرت آدم علی الاطلاق پہلے نبی و رسول ہیں۔ مگر آپ کی نبوت میں تحلیل و تحریم اور فرائض و واجبات کے اس طرح کے احکام و مسائل نہ تھے۔ بلکہ آپ کی شریعت کا اصل اور بنیادی تعلق زندگی کی معاشی ضروریات وغیرہ سے تھا۔ اور تخصیص نوح کی یہ وجہ احادیث کریمہ میں بھی بیان فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے ۔ " و لکن أتوا نوحا فانہ اول رسول بعثہ اللّٰہ الی اہل الارض " ۔ (حاشیہ جامع البیان : ج 2 ص 254 ابن کثیر اور روح المعانی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہی دین چونکہ دین فطرت ہے یعنی اسلام۔ یہی جملہ انبیاء و رسل کا دین رہا ہے۔ سب نے اسی کی تعلیم و تبلیغ فرمائی ہے کہ دین اصل میں یہی دین ہے ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلاَمِ } ۔ (آل عمران : 19 ) ۔ 32 اولوا العزم رسولوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو بھی اس سے پہلے کی تھی "۔ ان انبیائے کرام کی تخصیص اس لئے فرمائی گئی کہ یہ اولوا العزم رسول ہیں۔ نیز اس لئے کہ ان کے ماننے والے ہمیشہ رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ سو یہ پانچ حضرات ہیں جن کا ذکر جمیل یہاں بھی فرمایا گیا اور سورة احزاب کی آیت نمبر 7 میں بھی فرمایا گیا ہے۔ سو دین سب انبیائے کرام کا ایک ہی رہا۔ یعنی اسلام جو کہ عبارت ہے توحید خداوندی اور اس کی وحدانیت کے اقرار اور ہر طرح کی عبادت کو اسی کیلئے خالص کرنے سے۔ البتہ ان کی شریعتیں اور انکے مناہج مختلف رہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْہَاجًا } ۔ (المائدۃ :47) ۔ ان پانچ انبیائے کرام کا حوالہ یہاں پر اس طرح دیا گیا ہے کہ پہلے اس سلسلہ مطہرہ کی ابتدائی اور آخری کڑی یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور بیچ میں تین انبیائے کرام یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ مشرکین عرب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کے مدعی تھے اور یہود و نصاریٰ کی حضرت موسیٰ و عیسیٰ کی۔ سو اس طرح گویا حضرات انبیائے کرام کی پوری تاریخ کی طرف بھی اشارہ ہوگیا اور قابل ذکر امتیں بھی سامنے آگئیں ۔ والحمد للہ جل وعلا - 33 اِقامت دین کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سب حضرات کو یہ تلقین فرمائی گئی کہ تم قائم کرو اس دین کو اور اس میں پھوٹ نہیں ڈالنا "۔ یعنی اس دین کے اصول و مبادی میں اختلاف اور پھوٹ نہیں ڈالنا کہ ان فروعی مسائل میں جن کا تعلق مصالح اقوام و امم سے ہے۔ ان میں اختلاف ایک طبعی امر اور فطری ضرورت ہے۔ اس لئے ان میں مناقشہ و اختلاف نہ صرف یہ کہ ممنوع و محذور نہیں بلکہ ایک حد تک مطلوب و محمود ہے۔ بہرکیف دین حق یعنی اسلام سے متعلق امتوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ تم اس کو قائم رکھنا اور اس میں اختلاف اور تفرقہ نہیں کرنا۔ اور دین سے یہاں پر مراد اللہ کا دین ہے جو کہ دین فطرت ہے اور جو ہمیشہ سے ایک ہی دین رہا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا ہے۔ اور اس دین کی بنیاد خالص اور کامل توحید پر ہے۔ اور اسی دین حنیف کے اپنانے اور اختیار کرنے سے سعادت دارین سے سرفرازی نصیب ہوسکتی ہے کہ راہ حق و ہدایت اب اسی دین میں منحصر ہے ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ - 34 مشرکوں کو عقیدئہ توحید سے سب سے زیادہ چڑ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ مشرکوں کو سب سے زیادہ چڑ دعوت توحید سے ہوتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی بھاری ہے مشرکوں پر وہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔ یعنی توحید خدا وندی کی دعوت جو کہ اس دین حق کی اصل اصیل اور اساس متین ہے کہ ہر طرح کی عبادت و بندگی اسی کے لئے خاص کرو اور اپنی ہر حاجت و ضرورت میں اسی وحدہ لاشریک کی طرف رجوع کرو اور صرف اسی کو پکارو۔ اسی کو حاجت روا و مشکل کشا جانو۔ وہی ہے سب کی حاجتیں پوری کرنے والا۔ مگر شرک کے مارے ہوؤں کو یہی بات سب سے زیادہ بھاری لگتی اور گراں گزرتی ہے۔ اور اسی سے ان کو سب سے زیادہ چڑ اور ضد ہے کہ ان کے دلوں کی تاریں جگہ جگہ اور طرح طرح کے خود ساختہ معبودان باطلہ سے اٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لئے عقیدئہ توحید کی یہ دعوت جو سراسر معقول اور فطرت سیلمہ کا عین مقتضیٰ ہے ان کو اعجوبہ لگ رہی ہے۔ اور یہ اس کے بارے میں تعجب کرتے ہوئے صاف اور صریح طور پر کہتے ہیں ۔ { اَ جَعَلَ اْلاٰلِہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًا اِنَّ ہٰذَا لَشَئٌ عُجَابُ } ۔ یعنی " کیا اس شخص نے سب معبودوں کو ختم کر کے ایک ہی معبود بنادیا۔ یقینا یہ تو ایک بڑی ہی عجیب بات ہے " (ص :5) ۔ افسوس کہ آج کے کلمہ گو مشرکوں کا حال بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ ان کو بھی باقی سب کچھ گوارا ہے لیکن ان کو اگر ناگوار ہے تو یہی دعوت توحید اور تردید شرک و بدعت ناگوار ہے اور یہاں تک کہ یہ لوگ اس کے لئے مرنے مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ توحید خالص کا بیان ان کو گوارا نہیں ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 35 ہدایت کے بارے میں سنت الہی کا بیان : سو اس سے ہدایت خداوندی سے سرفرازی کیلئے سنت الہی اور دستور خداوندی کا بیان فرمایا گیا ہے۔ سو اس واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کے نوازنے اور کرم فرمانے کی یہ دو بڑی صورتیں ہیں۔ ایک اجتبا کہ وہ اپنے بندوں میں سے کچھ کو براہ راست چن کر اس طرح اپنا بنا لیتا ہے کہ ان کے مزاج اور ان کی طبیعتیں عین اس کی رضا کے مطابق ہوجاتی ہیں۔ اور یہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور اس کے دوسرے خاص اور مخلص بندوں کی شان ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّا اَخْلَصْنَاہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَ الدَّارِ } ۔ (ص : 46) اور دوسری صورت اس کی کرم فرمائی کی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہدایت سے نوازتا ہے اور اپنی طرف وصول کی راہ دیتا ہے ان لوگوں کو جو صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور یہ کوئی اندھی بانٹ نہیں ہوتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ یہ نہایت حکمت اور عدل و انصاف پر مبنی اس کی بخشش و عطا ہوتی ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کے باطن کی کیفیت اور نیت کیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ یعنی " اللہ خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے " (الانعام : 125) ۔ سو اس ارشاد سے ہدایت خداوندی سے سرفرازی کیلئے سنت الہی اور دستور خداوندی کو واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ راہنمائی اور ہدایت سے انہی لوگوں کو نوازتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جو اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے وہ اس نور سے محروم رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور صدق دل سے اپنی طرف رجوع رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس پہنچ گیا علم (حق اور حقیقت کا) محض آپس کی ضد (اور حسد) کی وجہ سے اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک (ڈھیل دینے کی) ایک بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقینا ان لوگوں کے درمیان (اس جرم شدید کے عذاب کا) فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور جن لوگوں کو وارث بنایا گیا اس کتاب (ہدایت) کا ان کے اگلوں کے بعد تو وہ یقینا اس کے بارے میں ایک بڑے ہی اضطراب انگیز شک میں پڑے ہیں

36 باہمی ضد اور حسد باعث محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا تھا " یعنی حق اور حقیقت کا علم۔ سو انہوں نے محض آپس کی ضد اور حسد کی بنا پر اس میں اختلاف کیا اور باہم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ورنہ راہ حق و صدق میں کسی طرح کا کوئی خفاء و غموض نہیں تھا۔ مگر آپس کی ضد اور حسد نے ان کا بیڑا غرق کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو باہمی ضد و حسد اور عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی و ہلاکت اور وہ بھی اس صورت میں کہ علم حق و ہدایت کا نور انکے پاس پہنچ گیا کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کا جرم مزید سخت اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے کیونکہ رات کے اندھیرے میں اگر کوئی ٹھوکر کھائے تو اس کیلئے عذر و معذرت کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن جو دن کی روشنی میں ہلاکت کے کھڈے میں جاگرے اس کیلئے کسی عذر کی کوئی گنجائش آخر کس طرح ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اسی مضمون کو اس مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ۔ { وَمَا تَفَرَّقُوْا الاَّ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ } ۔ (الشوری :14) ۔ یعنی " یہ لوگ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا محض آپس کی ضد کی بنا پر "۔ سو باہمی ضد وحسد اور عناد وہٹ دھرمی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اس بیماری سے اور اس طرح کی جملہ بیماریوں سے ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 37 ہر امت کیلئے ایک حد تک مہلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک مدت تک مہلت کی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا معاملہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا "۔ اور یہ کہ اصل اور پوری سزا آخرت میں ہی ہوگی نہ کہ دنیا میں۔ کہ دنیا دارالجزاء نہیں دارالعمل اور امتحان گاہ ہے۔ اس لیے تمہارے رب کی طرف سے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ہر امت کو اتمام حجت کیلئے ایک خاص حد تک مہلت دی جائیگی۔ تاکہ وہ غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و حقیقت کو اپنالے۔ نہیں تو اپنا پیمانہ لبریز کرکے اپنے آخری انجام کیلئے تیار ہوجائے۔ اور اس طور پر کہ اس کیلئے عذر و معذرت کی پھر کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ سو اسی بنا پر دور حاضر کے ان منکروں کو بھی مہلت دی جا رہی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو انکے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ سو اس ارشاد میں ایک طرف تو حضور ﷺ کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف ان امتوں کیلئے زجر و توبیخ اور تنبیہ و تذکیر کہ وہ اپنے کفر و انکار سے باز آجائیں۔ ورنہ اپنے اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 38 اہل کتاب کو نعمت قرآن کی قدردانی کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں کو کتاب کا وارث بنایا گیا ان کے بعد جو ان سے پہلے گزر چکے وہ اس قرآن کی بنا پر خلجان انگیز شک میں پڑے ہیں "۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب جن کو اپنی کتاب اپنے بڑوں سے ملی کہ ان کا ایمان و یقین اپنی کتاب پر چونکہ حقیقی اور دلیل و برھان پر مبنی نہیں تھا۔ محض رسمی موروثی اور برائے نام تھا۔ اس لئے ان کا حال یہ تھا جو آگے بیان فرمایا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یا یہاں پر کتاب سے مراد قرآن مجید ہے جس کے بارے میں یہ لوگ ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ (المراغی، المحاسن، البیضاوی وغیرہ) ۔ سو حضرت عیسیٰ کی دعوت سے جو امت ظہور میں آئی اس کے اور یہود کے درمیان شروع ہی سے ایک چپقلش اور مخاصمت و دشمنی برپا رہی اور اس میں اصلی دخل علمائے یہود کے عناد کا تھا۔ اور وہ اسی وجہ سے ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بعد میں خود نصاریٰ کے اندر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے اور پال نے اپنی شیطنت سے ان کو تورات اور انجیل دونوں کی روشنی سے محروم کردیا۔ اس کے بعد جب خداوند قدوس نے دنیا کو نعمت قرآن سے نوازا تو عقل و نقل کا تقاضا تھا کہ تمام لوگ اور خاص کر یہود و نصاریٰ آگے بڑھ کر اس کو اپناتے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوارنے کا سامان کرتے۔ مگر انہوں نے الٹا اسی روشنی کو گل کرنے کی سعی نامراد شروع کردی۔ سو اس طرح اس ارشاد میں ان لوگوں کی توبیخ و تقریع بھی ہے اور نعمت قرآن کی قدردانی کی تعلیم و تلقین بھی۔ 39 ایمان سے محرومی کا نتیجہ خلجان و اضطراب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نعمت قرآن سے روگردانی برتنے والے اور اس کے ساتھ کفر وانکار کا برتاؤ کرنے والے اس قرآن کی وجہ سے قطعی طور پر ایک خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ یعنی جن لوگوں کو ان کی کتاب ان کے اگلوں سے وراثت میں ملی اور وہ اس پر ویسے ایمان نہیں لائے جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ وہ ایمان و یقین کی دولت سے ملنے والے سکون و اطمینان سے محروم اور خلجان و اضطراب انگیز شک میں پڑے ہیں۔ سو ایمان و یقین سے محرومی کا نتیجہ خلجان و اضطراب ہے۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت سے انسان کو سکون و اطمینان کی دولت سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور کفر و انکار سے خلجان و اضطراب اور سکون واطمینان سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -