Ayahs 42:1–4حم، عسق، عبدالمئو من نے کہا : میں نے حسین بن فضل سے پوچھا حم کو عسق کو سے کیوں الگ کیا گیا ہے جبکہ کھیعص، المر اور المص کو الگ الگ نہیں کیا گیا۔ فرمایا : کیونکہ حم عسق سورتوں کے درمیان ہے جن میں سے پہلی حم ہے تو یہ ما قبل اور بعد کے نظائر پر جاری ہوئی گویا حم مبتدا ہے اور عسق خبر ہے اور اس کی اخوات جن کو اکٹھے لکھا گیا ہے وہ ایک آیات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حروف معجمہ سب کے سب ایک معنی میں ہیں وجہ اس کی منصل لکھا گیا ہے کیونکہ کلام یہ کی گئی ہے حم سے مراد ہے مم ماھو کائن۔ جو ہو کر رہنے والا ہے اس کا قصد کرلیا گیا ہے انہوں نے فرق کیا ہے جس میں فعل مقدر ہوتا ہے یا فعل مقدر نہیں ہوتا پھر اگر اسے الگ الگ کردیا جاتا اور اسے متصل لکھا جاتا تو بھی جائز تھا۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس کی قراءت میں حم سق ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت علی ؓ ان کے ذریعے فتنوں کو پہنچاتا کرتے تھے۔ ارطاۃ بن منذر نے کہا : ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللی عنہ سے عرض کی جبکہ ان کے پاس حضرت حذیفہ بن یمان موجود تھے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے فرمان حم عسق کی تفسیر کے بارے میں بتائیے، تو آپ نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ اس نے تین دفعہ اپنے سوال کو دہر دیاتو پھر بھی حضرت ابن عباس ؓ نے اس اعراض کیا، حضرت حذیفہ بن یمان نے کہا : میں تجھے اس کے بارے میں آگاہ کرتا ہوں میں خوب جانتا ہوں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر بیان کرنے سے کیوں اجتناب کیا ! یہ آیت اہل بیت کے ایک فرد کے بارے میں نازل ہوئی جسے عبد الالہ اور عبداللہ کہا جائے گا وہ مشرق کے دریائوں میں سے ایک دریا پر فروکش ہوگا اس پر دو شہر بسائے گا دونوں کو الگ الگ کردے گا۔ جب اللہ تعالیٰ ان کے مالک کے زوال اور حکومت کو ختم ہونے کا ارادہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ رات کے وقت ایک آگ بھیجے گا تو وہ شہری صبح کے وقت تاریک سیاہ ہوجائے گا وہ سب جل جائے گا گویا وہ اس جگہ شہر تھا ہی نہیں۔ اس کی مالکہ صبح کے وقت متعجب ہوگی یہ سب کچھ کیسے الٹ ہوگیا وہ دن ابھی بھی روشن ہی ہوگا یہاں تک کہ اس میں ہر جابر سر کش جمع ہوجائے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اور انہیں سب کو دھنسا دے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے حم عسق یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے ایک حق ہے اور فتنہ و قضا جس کس قصد کرلیا گیا ہے۔ حم۔ ع۔ عد لا منہ اس کی جانب سے عدل۔ س، سیکون عنقریب ہوگا۔ ق، واقع ان دو شہروں میں واقع ہوگا۔
اس تفسیر کی مثل وہ روایت ہے جو جریر بن عبد اللہ بجلی نے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : دجلہ اور دجیل، قطر بل اور صراہ کے درمیان ایک شہر آباد کیا جائے گا جس میں زمین کے جابر حکمران جمع ہوں گے وہ زمین جس میں خزانے جمع کیے جائیں گے وہ اپنے مکینوں کے ساتھ زمین میں دھنس جائیں گے وہ زمین میں اس عمدہ کیل سے جلدی جائیں گے جو نرم زمین میں جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے عین کے بغیر حم سق پڑھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے مصحف میں یہ اسی طرح ہے ؛ یہ طبری نے بیان کیا ہے۔ نافع نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے ؛ حا اسکے حلم سے، میم اس کی مجد سے، عین اس کے علم سے، سین اس سنا سے اور قاف اس کی قدرت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم اٹھائی ہے۔
محمد بن کعب سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم، اپنی مجد، اپنی علو، اپنی سنا اور اپنی قدرت کی قسم اٹھائی ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو عذاب نہیں دے گا جو خلوص دل سے لا الہ الا اللہ کی پناہ چاہتا ہے۔
جعفر بن محمد اور سعیدبن جبیر نے کہا : حاء رحمن سے، میم مجید سے، عین علیم سے، سین قدوس سے اور قاف قاصر سے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورتوں کے فواتح ہیں۔ عبداللہ بن بریدہ نے کہا : یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو دنیا کو محیط ہے۔ قشیری نے ذکر کیا جبکہ الفاظ ثعلبی کے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے چہرے پر پریشانی پہچانی جاسکتی تھی۔ آپ سے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ کس چیز نے آپ کو غمگین کیا ؟ فرمایا : مجھے ان امتحانات کے بارے میں بتایا گیا ہے جو میری امت میں واقع ہوں گے یعنی زمین میں دھنسا، پتھروں کی بارش کرنا، آگ جو انہیں سمندر میں پھینک دے گی، پے درپے آیات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول اور دجال کا نکلنا اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم ﷺ کی شان کے متعلق ہے حاء سے مراد آپ کا حوض جس پر ہر کوئی وارد ہوگا، میم سے مراد آپ کی وسیع حکومت، عین سے مراد موجود عزت، سین سے مراد وہ بلندی جس کی گواہی دی جائے گی، قاف سے مراد مقام محمود میں آپ کا کھڑا ہونا اور کرامت و بزرگی کے مقام پر اپنے مالک و مبعود کے قریب ہونا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کوئی صاحب کتاب نبی نہیں مگر اس کی طرف وحی کی گئی حم عسق۔ اسی وجہ سے فرمایا : یوحی الیک والی الذین من قبلک۔ مہدوی نے کہا : حدیث میں آیا ہے کہ حم عسق کا معنی ہے متقد میں انبیاء کی طرف وحی کی گئی۔ ابن محصین، ابن کثیر اور مجاہد نے پڑھا یو حی۔ کہ یہ فعل مجبول ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے جارمجرور محل رفع میں ہے کیونکہ یہ فاعل مضمر ہو یعنی آپ کی طرف قرآن وحی کیا جاتا ہے جسے یہ سورت اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے تو لفظ فعل مضمر کے ساتھ مرفوع ہوگا کلام یہ ہوئی : اللہ تعالیٰ تیری طرف وحی کرتا ہے جس طرح ابن عامر اور ابوبکر کر قراءت ہے یسبح لہ فیھا بالغدو والآ صال رجال یعنی لوگ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں َ سیبو یہ نے یہ شعر پڑھا :
لیبک یزید ضارع بخسومۃ واء شعت ممن طو ختہ الطوائح
کہا : لیبک یزید۔ پھر اس کی وضاحت کی من ینبغی ان یبکیہ۔ معنی ہے اسے ضارع رلاتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہوا اور خبر محذوف ہو گو یا فرمایا : اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے یا کلام مبتدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے ہے الموحی اللہ یا یہ مبتدا ہے اور خبر محذوف ہو گویا فرمایا : اللہ تعالیٰ وحی کرتا ہے یا کلام مبتدا کے مضمر ہونے کے اعتبار سے ہے الموحی اللہ یا بہ مبتدا ہے اور خبر العزیز الحکیم ہے باقی قراء نے یوحی الیک حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اسم اللہ کو غافل ہونے کی حیثیت سے رفع دیالہ ما فی السموت و ما فی الارض وھو العلی العظیم۔ اس کی وضاحت کئی مقامات پر گذر چکی ہے۔ آیت نمبر 5
عام قراءت تاء کے ساتھ ہے۔ نافع، ابن و ثاب اور کسائی نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے یتفظرن۔ نافع اور دوسرے قراء نے یاء، تاء اور طاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے یہ عام قراءت ہے۔ ابو عمرو، ابو بکر، مفضل، ابو عبید نے ینفطرن انفطار کے اساتھ پڑھا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذ السماء انفطرت۔ (الا انفطار) سورة مریم میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تکاد السموت یتفطرن یعنی آسمانوں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال سے اپنے اوپر لپٹ جائیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فو قھن سے مراد مینوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کے خوف سے لپٹ جاتے اگر وہ ان چیزوں سے ہوتے جو عقل رکھتے ہیں۔
Ayah 42:5والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم وہ اللہ تعالیٰ کی ان چیزوں سے پاکی بیان کرتا ہے جو اس کے وصف میں جائز نہیں اور جو اس کے جلال کے لائق نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مشرکین کی جراء توں سے متعجب ہوتے ہیں اور تعجب کے موقع پر تسبیح کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروری ہے کہ ان کی تسبیح ان چیزوں پر تعجب کا اظہار ہے جو وہ دیکھتے ہیں کہ مشرک اپنے کام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کی تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے جس کو وہ دیکھتے ہیں۔ بحد ربھم کا معنی ہے ان کے رب کے امر سے ؛ یہ سدی ہے۔
ویستغفرون لمن فی الارض ضحاک نے کہا : لمن فی الارض سے مراد مومن ہیں ؛ یہ سدی کا قول ہے اس کی وضاحت سورة المومن : ویستغفرون للذین امنو میں گذر چکی ہے یہاں ملائکہ سے مرادحاملین عرش کو اٹھانے والے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمام فرشتے مراد ہیں۔ کلبی کے قول سے یہی ظاہر ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : و یستغفرون للذین امنوا کے ساتھ منسوخ ہے یہ جگہ مومنین کے لیے خاص ہے۔ مہدوی نے کہا : صحیح یہی ہے کہ وہ منسوخ نہیں ہے کیونکہ یہ خبر ہے اور مومنین کے لیے خاص ہے۔ ابو الحسن ماوردی نے کلبی سے یہ قول نکل کیا ہے کہ فرشتوں نے جاب ان دونوں فرشتوں کو دیکھا جن کو آزمایا اور زمین کی طرف انہیں بھیجا گیا تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ زہرہ کی وجہ سے آزمائش میں پڑگئے اور دونوں حضرت ادریس (علیہ السلام) کی طرف بھاگ گئے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے پردادا تھے۔ دونوں فرشتوں نے حضرت ادریس (علیہ السلام) سے عرض کی کہ آپ ان دونوں کے حق میں دعا کریں۔ فرشتوں نے اپنے رب کی حمدبیان کرنے کے ساتھ تسبیح بیان کی اور بنی آدم کے لیے مغفرت طلب کی۔ ابو الحسن بن حصار نے کہا : بعض جاہلوں نے یہ گمان کیا کہ یہ آیت ہاروت و ماروت کے سبب نازل ہوئی ہے اور یہ مومنوں کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی اس کے ساتھ منسوخ ہے اور وہ نہیں جانتے کہ حاملین عرش تو مومنوں کے استغفار کے لیے خاص ہیں، اللہ تعالیٰ کے اور فرشتے ہیں جو اہل زمین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ مادردی نے کہا : فرشتوں کے اہل زمین کے لیے استغفار میں دو قول ہیں : گناہوں اور خطائوں سے ؛ مقاتل کے قول کا ظاہر یہی معنی ہے ان کے لیے رزق اور خوشحال کی طلب ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے۔
میں کہتا ہوں : یہی زیادہ نمایاں ہے کیونکہ زمین کافر اور غیر کو عام ہے مقاتل کے قول کے مطابق کافر اس میں داخل نہیں اس بارے میں ایک روایت مروی ہے جسے عاصم احوال نے ابو عثمان سے وہ سلمان سے نقل کرتے کرتے ہیں کہ بندہ جب خوشحالی کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا اب اسے تنگ دستی نے آلیا تو وہ اس کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ کمزوری سے معروف آواز ہے اور جب وہ خو شحال کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تھا تو اسے تکلیف نے آلیا تو فرشتے کہتے ہیں : انسان سے اجنبی سی آواز ہے وہ خوشحالی کے دور میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا تھا تو اسے مصیبت لاحق ہوئی تو وہ اس کے لیے بخشش طلب نہیں کرتے۔ یہ تعبیر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آیت کریمہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ تعالیٰ کا ذکر خوشحال اور تنگدستی میں کیا کرتا تھا تو یہ آیت اہل زمین سے یعنی مومنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
یہ بھی احتمال کہ انہوں نے استغفار سے اراردہ طلب علم اور طلب غفران لیا ہو ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا ولئن زالتا ان امسکھا من احد من بعدہ انہ کان حلیما غفورا۔ (فاطر) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وا ان ربک لز و مغفرۃ للناس علی ظلمھم یہاں استغفار کے مراد ان کے بارے میں حلم کرنا اور انتقام میں جلدی نہ کرنا ہے تو یہ حکم ہوگیا ؛ یہ زمحشری کا قول ہے۔ مطرف نے کہا : ہم نے اللہ کے بندوں کے ساتھ سب سے مخلص فرشتے پائے ہیں اور اللہ کے بندوں کے ساتھ سب سے زیادہ دھوکہ کرنے والے شیطان کو پایا ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم۔ بعض علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں ڈرایا اور عظمت شان کو بیان کیا اور آخر میں مہربانی کا ذکر کیا اور بشارت دی
Ayah 42:6اولیاء سے مراد بت ہیں جن کی وہ عبادت کرتے ہیں حفیظ علیھم وہ ان کے اعمال کی حفاظت کرتا ہے تاکہ ان اعمال پر انہیں بدلہ دے وامآ انت علیھم بوکیل۔ یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے، حدیث طیبہ میں ہے : ا طت السماء و حق لھا ان تئط آسمان اپنے مکینون کے بوجھ کی وجہ سے آواز نکالنے لگا کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوتاہی نہیں کرتے اور یہ کفار اس کے ساتھ شرک کرتے تھے۔
Ayah 42:7جس طرح ہم نے آپ کی طرف اور آپ سے پہلے انبیاء کی طرف ان معافی کو وحی کیا اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن وحی کیا ہم نے اسے لغت عرب میں بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے آپ پر قرآن عربی آپ کی قوم کی زبان میں نازل کیا جس طرح ہم نے ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بیغام دے کر بھیجا۔ معنی ایک ہی ہے۔
ام القری سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ مکہ کو ام القری اس لیے کہتے ہیں کیونکہ زمین اسی کے نیچے سے پھیلائی گئی ہے ومن ھولھا یعنی باقی مخلوق۔ وتنذر یوم الجمع یوم الجمع سے مراد یوم قیامت ہے لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر۔ یہ مبتدا ہے۔ کسائی نے نصب کو جائز قرار دیا ہے تقدیر کلام یوں ہے لتنذر فریقال فی الجنۃ و فریقال فی السعیر۔
Ayah 42:8ضحاک نے کہا : امۃ واحدۃ سے مراد ایک دین والے، یعنی سب گمراہ یا سب ہدایت یافتہ۔ حضرت انس مالک نے کہا : رحمت سے مراد اسلام ہے والظلمون مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اس کی خبر ما بعد مالھم من ولی ولا نصیر۔ ہے نصیر کا عطف لفظ پر ہے اسے لانصیر پڑھنا بھی جائز ہے اس صورت میں اس کا عطف محل پے ہوگا اور من زائد ہوگا۔
Ayah 42:9ام یہاں بل کے معنی میں ہے۔ اولیاء سے مراد بت ہیں۔ اے محمد ! اللہ تعالیٰ کی ذات ہی تیرا اور تیرے پیروکاروں کا ولی ہے اس کے سوا اس کے سوا کوئی ولی نہیں وھو یحی الموتی سے مراد بعث بعد الموت ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہر چیز پر قادر ہے جبکہ اس کے سوا کوئی کسی شے پر قادر نہیں۔
Ayah 42:10اس میں رسول اللہ ﷺ کو مومنین کے لیے فرمان کی حکایت ہے یعنی اہل کتاب میں اور مشرکین میں سے کفار دین کے معاملہ میں تم سے اختلاف کریں تو انہیں کہو : اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے ‘ تمہارے سپرد نہیں اس نے فیصلہ کردیا کہ دین تو اسلام ہی ہے اور شریعت کے امور اللہ تعالیٰ کے بیان سے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں (1) ۔
ذلکم اللہ ربی یعنی جو ان صفات سے موصوف ہے وہ ہی میرا رب یکتا ہے۔ اس میں اضمار ہے یعنی اے محمد ! انہیں کہو وہ ذات جو مردوں کو زندہ کرتی ہے وہی اللہ ہے اور جو مختلف امور میں فصلہ کرنے والا ہے وہی میرا رب ہے اسی پر میں نے اعتماد کیا اور اسی کی طرف میں لوٹنے والا ہوں۔
Ayah 42:11فاطرالسموت یہ لفظ اللہ کی صفت ہونے کی بنا پر مرفوع ہے یا تقدیر کلام یہ ہے ھو فاطر۔ ندا کے طور پر اسے نصب دینا بھی جائز ہے اور علیہ کی ضمیر سے بدل کے طریقہ پر جر دینا بھی جائز ہے۔ فاطر کا معنی مبدع اور خالق ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔
جعل لکم من انفسکم ازواجا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ازواج معنی عورتیں ہیں یہاں من انفسکم فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حواء کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا۔ مجاہد نے کہا : معنی نسل کے بعد نسل ہے (2) ۔
ومن الانعام ازواجا یعنی آٹھ جوڑے جن کا ذکر سورة انعام میں گذر چکا ہے اونٹ ‘ گائے ‘ بھیڑ ‘ بکری اور ان کے جوڑے۔
یذرؤکم فیہ تمہیں رحم میں پیدا کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بطن ہے۔ فراء اور ابن کیسان نے کہا فیہ میں‘ باء کے معنی میں ہے اسی طرح زجاج نے کہا : یذرؤکم فیہ کا معنی ہے وہ تمہیں اس کے ذریعے زیادہ کرتا ہے یعنی تمہیں زیادہ کرتا ہے کہ تمہاری اس نے بیویاں بنادیں کیونکہ بیویاں نسل کا سبب بنتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیہ میں ضمیر جعل کے لیے ہے اس پر جعل دلالت کرتا ہے گویا فرمایا وہ تمہیں عورتوں کے بطن میں پیدا کرتا ہے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیہ میں ضمیر سے مراد رحم ہے۔ یہ تعبیر حقیقت سے بعید ہے کیونکہ رحم مونث ہے اور اس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔
لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کازائدہ تاکید کے لیے ہے یعنی اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ شاعر نے کہا :
وصالیات ککما یوثفین (1)
یہاں کاف کو کاف پر داخل کیا گیا مقصود تشبیہ میں تاکید بیان کرنا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : مثل تاکید کے لیے زائد ہے ‘ یہ ثعلب کا قول ہے لیس کھو شیٔ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فان امنوا بمثل مآامنتم بہ فقد اھتدوا (البقرہ :137) یہاں بھی مثل زائد ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں فان آمنوا بما آمنتم بہ فقداھتدوا اور بن حجر نے کہا :
وقتلی کمثل جذوع النخیل یغشام ھم مطر مئھمر (2)
کتنے ہی مقتول ہیں جو کھجور کے تنوں کی طرح ہیں جنہیں موسلادھار بارش نے ڈھانپ رکھا ہے۔
شعر میں اصل کجذوع تھا۔ یہاں سے جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت ‘ کبریائی ‘ ملکوت ‘ اسماء حسنی ‘ صفات کی بلندی میں اپنی مخلوقات میں سے کسی کے بھی مشابہ نہیں جہاں تک ان اسماء کا تعلق ہے جن کو شرع نے خالق اور مخلوق دونوں کے لیے ذکر کیا ہے تو معنی حقیقی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی مشابہت نہیں کیونکہ قدیم ذات کی صفات مخلوق کی صفات سے مختلف ہیں کیونکہ مخلوقات کی صفات اغراض و اعراض سے جدا نہیں ہو تیں جبکہ اللہ تعالیٰ غرض و عرض سے پاک ہے بلکہ وہ ہمیشہ اپنی صفات و اسماء کے ساتھ رہتا ہے جس طرح ہم نے اس کی وضاحت الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں کی ہے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان : لیس کمثلہ شیء کافی ہے۔ بعض علماء محققین نے فرمایا : توحید کا مطلب ہے ایسی ذات کو ثابت کرنا جو کسی ذات کے مسابہنہ ہو اور نہ ہی وہ صفات سے معطل ہو۔ واسطی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ زائد بیان کیا ہے اس کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں ‘ اس کے اسم جیسا کوئی اسم نہیں ‘ اس کے فعل جیسا کوئی فعل نہیں ‘ اس کی صفت جیسی کوئی صفت نہیں مگر لفظ میں موافقت ہو سکتی ہے ذات قدیمہ اس سے بالا ہے کہ اس کی صفت حادث ہو جس طرح یہ محال ہے کہ حادث ذات کی کوئی صفت قدیم ہو ‘ یہ اہل السنہ والجماعۃ کا مذہب ہے۔
Ayah 42:12لہ مقالیدالسموات والارض اس کی وضاحت سورة زمر میں گذر چکی ہے۔ نحاس نے کہا : جو چابیوں کا مالک ہوتا ہے وہ خزانوں کا بھی مالک ہوتا ہے (3) ۔ مفتاح کو اقلید کہتے ہیں اس کی جمع خلاف قیاس آتی ہے جس طرح حسن کی جمع خلاف قیاس محاسن آتی ہے یبسطالرزق۔۔۔۔ اس کی بحث کئی مواقع پر گذرچ کی ہے۔
Ayahs 42:13–14شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ شرع لکم من الدین وہ ذات پاک جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں اس نے تمہارے لیے وہ دین مقرر فرمایا جو قوم نوح ‘ قوم ابراہیم ‘ قوم موسیٰ اور قوم عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے مقرر فرمایا تھا پھر اس کی وضاحت اپنے اس ارشاد سے بیان کی ان اقیموا الدین اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کرنا ‘ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے رسولوں ‘ کتابوں ‘ یوم جواز اور باقی ماندہ تمام امور جنکو بجا لانے سے ایک آدمی مسلمان ہوتا ہے پر ایمان لانا ہے۔ اور شرعی احکام جو امتوں کی مصلحتوں پر قائم ہیں اس طرح وارد نہیں ہوئے وہ مختلف اور متفاوت ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھا جا (المائد :48) اس بارے میں گفتگو گذر چکی ہے۔
شرع کا معنی ہے راستوں کو واضع کرنا قدشرع لھم یشرع شرعا یعنی سن سنت قائم کی ‘ واضح کیا۔ شارع سے مراد راستہ ہے قدشرع المنزل جب وہ ایسے راستی پر ہو جو آگے کھلتا ہو۔ وشرعت الابل۔ جب تو اونٹ کو گھاٹ پر جانے کا موقع دے شرعت الادیم۔ جب تو اس کا چمڑا اتارے۔ یعقوب نے کہا : میں نے ام الحارس بکریہ کو کہتے ہوئے سنا شرعت فی ھذا الامرشروعا یعنی میں اس میں گھس گیا۔
ان اقیموا الدین ان محل رفع میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی والذین وصی بہ نوحا أن اقیموا الدین اس تعبیر کی بنا پر عیسیٰ پر وقف کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان محل نصب میں ہے اس نے اقامت دین کو تمہارے لیے مقرر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بہ کی ھاء ضمیر سے بدل ہے گویا فرمایا : بہ أ قیموالدین ان دو تعبیروں کی بنا پر عیسیٰ پر وقف کرنا جائز نہیں یہ بھی جائز ہے کہ ان مفسرہ ہو جیسے ان امشوا (ص :6) میں ہے اس صورت میں اس کا کوئی محل اعراب نہیں ہوگا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : حدیث صحیح میں ثابت ہے (1) کہ نبی کریم ﷺ نے شفاعت کبیروالی مشہور حدیث میں کہا :” بلکہ تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جائو کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف بھیجا “ یہ صحیح ہے اس میں کوئی اشکال نہیں جس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) پہلے نبی ہیں اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) صرف نبی ہی تھے آپکے لیے فرائض معین ہوئے نہ محارم کا حکم دیا گیا ‘ بعض امور کے بارے میں صرف تنبیہ تھی ‘ معاش کی ضرورت تک معاملہ کو محدود رکھا گیا تھا ‘ حیات و بقا کے کچھ معاملات کو اپنانے کا حکم تھا اور معاملہ حضرت نوح (علیہ السلام) تک آپہنچا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مائوں ‘ بیٹیوں ‘ اور بہنوں کی حرمت کے ساتھ مبعوث کیا کچھ واجبات ان پر لازم کیے ‘ دیانت میں آداب کو واضح کیا یہ امر رسولوں کے ساتھ موکد ہو تارہا اور انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یکے بعد دیگرے اور ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کے ساتھ پختہ ہوتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسکا اختتام بہترین امت جو ہماری امت ہے پر کیا۔ اس کا ذکر تمام رسولوں سے معزز ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ پر ہوا معنی ہوگا اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک دین کی وصیت کی یعنی اصول جن میں شریعت مختلف نہیں ہوتی وہ توحید ‘ نماز ‘ زکوۃ ‘ زوزے ‘ حج ‘ اعمال صالحہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ‘ صدق ‘ عہد کو وپرا کرنا ‘ امانت ادا کرنا ‘ ذلت و پستی کے امور میں داخل ہونے کی حرمت ‘ جو امور مروت کو ختم کردیں ان کی حرمت یہ سب امور مشروع تھے ان میں سب دین ایک دین اور سب ملتیں ایک ملت ہیں ‘ انبیاء کی زبانوں سے ان امور میں کوئی اختلاف نہیں اگرچہ ان کی قومیں اور زمانے مختلف تھے اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی مقصود ہے : ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ یعنی اسے قائم رکھو اس سے مراد دائمی محفوظ ہے اس میں سے کسی قسم کا اختلاف نہ کرو کیونکہ ان امور میں کوئی اختلاف اور اضطراب نہیں۔ مخلوقات میں سے کچھ نے اس وعدہ کو پورا کیا اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جس نے اس کو توڑا۔ فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ (فتح :10) ان چیزوں کے علاوہ میں شریعتوں میں چند امور میں اختلاف ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ‘ مصلحت نے جس کا تقاضا کیا اور حکمت نے مختلف زمانوں میں امتوں پر ان کے رکھنے کو لازم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
مجاہد نے کہا : اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے تاکیدی حکم دیا (1) وہ نماز قائم کرے ‘ زکوۃ دے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے اطاعت کا اقرار کرے یہی وہ دین ہے جو ان کے لیے مشروع کیا گیا ‘ یہی قول واسطی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ‘ یہی کلبی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : حلال کو حلال قرار دینا اور حرام کو حرام قرار دیتا (2) ۔ حکم نے کہا ‘ مائوںٔ‘ بہنوں اور بیٹیوں کو حرام قراردینا۔ قاضی نے جو ذکر کیا ہے وہ ان تمام اقوال کو جامع ہے اور اس سے زائد بھی ذکر کیا ہے۔
حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہم السلام) کو خصوصا ذکر کیا کیونکہ وہ شریعتوں والے ہیں۔
کبر علی المشرکین مشرکوں پر بہت بھاری ہے ما تدعوھم الیہ جس کی طرف آپ انہیں بلاتے ہیں یعنی توحید اپنانا اور بتوں کو چھوڑنا۔ قتادہ نے کہا : مشرکین پر یہ بہت عظیم ہے ان پر شدید ترین لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اس کے ساتھ ابلیس اور اس کے لشکر تنگ پڑجاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسی کو پسند کیا کہ وہ اس کی مدد کرے اسے بلند کرے اور جو اس کا مقابلہ کرے اس پر اسے غالب کرے۔ (3) ۔
اللہ یجتبی الیہ من یشآء اللہ تعالیٰ اختیار کرتا ہے۔ اجتباء کا معنی اختیار ہے یعنی توحید کے لیے جسے چاہتا ہے اپنا تا ہے ویھدی الیہ من ینیب۔ اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنے دین کے لیے چن لیتا ہے وما تفرقوا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وائو سے مراد قریش ہیں الا من بعد ما جآء ھم العلم علم سے مراد حضرت محمد ﷺ ذات ہے ‘ قریش یہ آرزو کرتے تھے کہ ان کی طرف نبی مبعوث کیا جائے اس کی دلیل سورة فاطر 42 میں یہ ارشاد ہے : و اقسموا باللہ جھد ایمانھم لئن جآء ھم نذیر۔ اس میں نذیر سے مراد نبی ہے سورة بقرہ میں ہے فلما جآء ھم ما عرفوا کفروا بہ (89) اس کی وضاحت وہاں گذر چکی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وائو ضمیر سے مراد متقد میں انبیاء ہیں کیونکہ جب ان کا زمانہ طویل ہوگیا تو انہوں نے باہم اختلاف کیا کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وائو ضمیر سے مراد اہل کتاب ہیں اس کی دلیل سورة منفکین کی آیت ہے وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جآء تھم البینۃ۔ (البینہ) مشرکوں نے کہا : اسے نبوت کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ؟ یہودیوں نے اس وقت حسد کیا جب آپ کو مبعوث کردیا گیا ‘ نصاری کی بھی یہی صورتحال ہے بغیا بینھم وہ ریاست کو طلب کرنے کی وجہ سے ایک دوسرے پر بغاوت کرتے تھے ان کا یہ تفرقہ بیان اور حجج میں کوتاہی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ بغاوت ‘ ظلم اور دنیا میں مشغول ہونے کی وجہ سے تھا ولولا کلمۃ سبقت من ربک ان لوگوں سے عذاب کو مؤخر کرنے کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا الی اجل مسمی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد قیامت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بل الساعۃ موعدھم (قمر :46) ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ وقت ہے جس میں ان پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے نقضی بینھم یعنی نزول عذاب کے ساتھ مومنوں اور کافروں میں فیصلہ کردیا جاتا وان الذین اور ثوا الکتب اسم موصول سے مراد یہود و نصاری ہیں۔ من بعدھم حق میں اختلاف کرنے والوں کے بعد۔ لفی شک منہ مریب۔ انبیاء نے جس کا تاکیدی حکم دیا اس میں شک میں مبتلاء ہیں۔ یہاں کتاب سے مراد تورات اور انجیل ہے۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے : ان الذین اور ثوا الکتب سے مراد قریش ہیں من بعدھم ضمیر سے مراد یہود نصاری ہیں لفی شک قرآن یا حضرت محمد ﷺ میں شک میں مبتلا ہیں (1) ۔ مجاہد نے کہا : من بعدھم کا معنی ہے ان سے قبل یعنی مشرکین مکہ سے پہلے وہ یہود و نصاری ہیں۔
Ayah 42:15فلذلک فادع واستقم جب یہ جائز ہے کہ شک یہود اور نصاری کی جانب سے ہے یا شک قریش کی جانب سے ہے اس لیے آپ کو فرمایا : آپ نے ان کے شک کو پہچان لیا ہے پس آپ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیں یعنی اس دین کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے لیے مشروع کیا اور انہیں اس کا تاکیدی حکم دیا۔ یہاں لام ‘ الی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : بان ربک اوحی لھا۔ (زلزال) اس میں لھا ‘ الیھا کے معنی میں ہے اور ذلک ‘ ھذا کے معنی میں ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذرچ کی ہے۔ معنی ہے قرآن کی طرف دعوت دیجیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اسی وجہ سے تم دعوت اور استقامت کا مظاہرہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مخلوق کو قرآن کی دعوت واستقم نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے امر پر استقامت کا مظاہرہ کرو (2) ۔ سفیان نے کہا : قرآن پر استقامت کا مظاہرہ کرو۔ ضیحاک نے کہا : رسالت کی تبلیغ پر استقامت کا مظاہرہ کرو (3)
ولا تتبع اھوآء ھم جو آدمی آپ کی مخالفت کرتا ہے اس کی مخالفت کی طرف نہ دیکھو وقل امنت بمآ انزل اللہ من کتب وامرت لاعدل بینکم۔ لا عدل لأ ن أعدل ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وامرت ان اسلم لرب العلمین۔ (غافر) ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ لام کئی ہے معنی بنے گا لکی اعدل حضرت ابن عباس ؓ اور ابو العالیہ نے کہا : تاکہ میں تمہارے درمیان دین میں برابری کروں اور میں ہر کتاب اور ہر رسول پر ایمان لائوں۔ دوسرے علماء نے کہا : میں تمام احوال میں عدل کروں۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ عدل ‘ احکام میں عدل ہے (4) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ تبلیغ میں عدل ہے۔
اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم لا حجۃ بیننا و بینکم حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا : خطاب یہودیوں کو ہے یعنی ہمارے لیے ہمارا دین اور تمہارے لیے تمہارا دین ہے ‘ کہا : پھر اس ارشاد کے ساتھ یہ حکم منسوخ ہوگیا : قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر (التوبہ :29)
مجاہد نے کہا : لاحجۃ بیننا و بینکم کا معنی ہے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی خصوصیت نہیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم منسوخ نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ معنی کرنا بھی جائز ہے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ تمہارے خلاف دلیل قائم کی جائے اور تم سے جنگ کی جائے پھر اسے منسوخ کردیا گیا جس طرح تحویل قبلہ سے پہلے کوئی کہے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھو پھر لوگوں کو قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دیا گیا تو یہ جائز ہے کہ یہ حکم منسوخ کردیا گیا۔
اللہ یجمع بیننا یوم قیامت کا ارادہ کیا والیہ المصیر۔ جب ہم اس کی بار گاہ میں حاضر ہوں گے تو وہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمادے گا اور ہر ایک کو اسی کے مطابق جزادی جائیگی جس پر وہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ کے حق میں نازل ہوئی دونوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا تھا کہ وہ اپنی دعوت اور دین سے قریش کے دین کی طرف پلٹ آئیں شرط انہوں نے یہ لگائی کہ ولید آپ کو اپنا نصف مال دے دے گا اور شیبہ اپنی بیٹی کا رشتہ آپ سے کردے گا
Ayah 42:16والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ مشرکین کی طرف رجوع کیا۔ مجاہد نے کہا : لوگوں کے اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے دین میں حجت بازیاں کرتے ہیں۔ کہا : ان لوگوں نے وہم کیا کہ جاہلیت لوٹ آئے گی (3) قتادہ نے کہا : جو لوگ اللہ تعالیٰ کی دین کے بارے میں حجت بازیاں کرتے ہیں وہ یہودو نصاری ہیں (4) ان کی حجت بازی ان کا یہ قول تھا : ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے ‘ وہ اپنی فضیلت کا تصور رکھتے تھے کیونکہ وہ اہل کتاب تھے اور انبیاء کی اولاد ہیں مشرکین کہتے ہیں ای الفریقین خیر مقاما و احسن ندیا۔ (مریم) تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : والذین یحآجون فی اللہ من بعد ما استجیب لہ حجتھم داحضۃ عندربھم ان کے لیے کوئی ثابت نہیں اس شے کی طرح جو اپنی جگہ سے پھسل جاتی ہے لہ میں ھاء ضمیر نبی کریم ﷺ کے لیے ہے بعد اس کے محمد ﷺ کی دعا قبول کی جا چکی تھی جیسے اہل بدر اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کی تھی یوں اس کا باب ذکر کیا جاتا ہے دحفت حجۃ دھوضا وہ باطل ہوگئی ادحضھا اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا۔ ادحاض کا معنی پھسلانا ہے۔ مکان دحض و دحض ایسی جگہ جس پر پھسلن ہو۔ دحضت رجلہ تدحض دحضا اس کا پائوں پھسل گیا دحضت الشمس عند کبد السماء سورج زائل ہوگیا وعلیھم غضب مراد دنیا ہے یعنی دنیا میں اپ پر غضب ہوگا ولھم عذاب شدید۔ اس سے مراد ہے آخرت میں ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔
Ayah 42:17اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعۃ قریب۔
” اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے نازل کیا ہے کتاب کو حق کے ساتھ اور نازل کیا ہے میزان کو اور تمہیں کیا معلوم کہ شاید وہ گھڑی قریب ہی ہو “۔
اللہ الذیی انزل الکتب قرآن اور باقی کتب منزلہ ہیں۔ بالحق حق سے مراد صدق ہے والمیزان سے مراد عدل ہے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کا قول ہے (1) ۔ عد کو میزان کہتے ہیں کیونکہ میزان انصاف اور عدل کا آلہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میزان سے مراد وہ ہے جو کتاب میں واضح کیا گیا ہے جس پر عمل کرنا انسان پر واجب ہے۔ قتادہ نے کہا : میزان سے مامور اور منہی میں عدل کرنا ہے (2) ۔ یہ تمام اقوام معنی میں قریب قریب ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد اطاعت پر ثواب کے ساتھ جزادینا اور معصیت پر عقاب سے جزادینا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میزان سے مراد ترازو ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان سے نازل کیا اور لوگوں کو اس کے ساتھ وزن کرنے کی تعلیم دی تاکہ لوگوں میں باہم ظلم اور حقوق میں کمی نہ ہو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لقد ارسلنا رسلنا با لبینت وانزلنا معھم الکتب والمیزان لیقوم الناس بالقسط (حدید :25)
مجاہد نے کہا : یہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ وزن کیا جاتا ہے انزل المیزان کا معنی ہے مخلوق کو الہام کیا کہ اسکو کام میں لائیں (3) ۔
وما یدریک لعل الساعۃ قریب۔ قیامت کے وقت کے بارے میں آپ کو آگاہ نہ کیا کتاب اللہ پر عمل ‘ عدل ‘ برابری اور شرائع پر عمل کرنے پر برانگیخۃ کیا قب اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں محاسبہ اور اعمال کا وزن ہو جس نے ان احکام پر وپرا وپرا عمل کیا تھا اس کو پورا پورا عطاکرے گا اور جس نے اس میں کمی کی ہوگی اس کے حق میں کمی کرے گا۔
لعل الساعۃ قریب۔ ممکن ہے قیامت آپ کے قریب ہو جبکہ آپ اپنی دانش سے اس کو نہ جانیں۔ یہاں قریب فرمایا ہے قریبہ نہیں فرمایا کیونکہ اس کی تانیث غیر حقیقی ہے۔ کیونکہ یہ وقت کی طرح ہے (4) ‘ یہ زجاج کا قول ہے معنی ہے ممکن ہے بعث یا قیامت کا آنا قریب ہو۔ کسائی نے کہا : قریب صفت ہے جس کے ساتھ مذکر ‘ مونث اور ایسی جمع کی صفت لگائی جاتی ہے جو معنا جمع ہو اور لفظا واحد ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان رحمت اللہ قریب من المحسنین۔ (اعراف)
شاعر نے کہا :
کنا قریبا والدیار بعیدۃ
ہم قریب تھے اور گھر دور تھے۔ محل استدلال قریبا ہے۔
Ayah 42:18یستعجل بھا الذین لا یؤمنون بھا وہ یہ کلام استہزاء کے طور پر کرتے ‘ ان کا گمان یہ تھا کہ قیامت واقع نہ ہوگی یا کمزور لوگوں کو وہم دلاتے تھے کہ وہ واقع نہ ہوگی مشفقون منھا وہ اس سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اطاعت میں جس طرح انہیں کوشش کرنی چاہیے اس میں انہوں نے کوتاہی کی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرمان ہے : والذین یؤتون مآاتوائو قلوبھم و جلۃ انھم الی ربھم رجعون۔ (مومنون) ویعلمون انھا الحق یعنی اس میں کوئی شک نہیں۔
الا ان الذین یمارون فی الساعۃ وہ قیامت کے برپا ہونے میں شک کرتے ہیں اور اس میں مخاصمت کرتے ہیں لفی ضلل بعید۔ وہ حق اور عبرت کے راستہ سے بہت بعید ہیں کیونکہ اگر وہ سوچ و بچار کرتے تو وہ یہ جان لیتے کہ جس ذات پاک نے انہیں مٹی سے پھر نطفہ سے پیدا کیا ہے یہاں تک کہ وہ پہنچے جہاں تک پہنچے تو وہ اس بات پر قادر ہے کہ انہیں دو بارہ اٹھائے۔
Ayah 42:19اللہ لطیف بعباد ہ ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ان پر شفیق ہے۔ عکرمہ نے کہا : وہ ان کے ساتھ نیکی کرنے والا ہے۔ سدی نے کہا : وہ ان کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے۔ مقاتل نے کہا : وہ نیک اور فاجر کے ساتھ مہربانی کرنے والا ہے کیونکہ ان کے معاصی کیوجہ سے وہ بھوکوں نہیں مرتے۔ قرظی نے کہا : وہ پیشی اور محاسبہ کے موقع پر شفقت فرمانے والا ہے۔ کہا : غدا عند مولی الخلق للخلق موقف یسا ئلھم فیہ الجلیل و یلطف
قیامت کے روز مخلوق نے خالق کے ہاں کھڑا ہونا ہے ‘ اس روز اللہ تعالیٰ ان کے باز پرس کرے گا اور مہربانی فرمائے گا۔ جعفر بن محمد بن علی بن حسین نے کہا : رزق میں دو طریقوں سے مہربانی فرماتا ہے : (1) اس نے تیرا رزق پاکیزہ چیزوں سے بنایا ہے (2) اس نے رزق تجھے ایک ہی دفعہ نہیں دے دیا کہ تو اسمیں فضول خرچی کردے۔ حسین بن فضل نے کہا : قرآن میں اس کے ساتھ شفقت کرنے والا ہے ‘ اس کی تفسیر اور تفصیل بیان کرنے والا ہے۔ جنید نے کہا : وہ اپنے اولیاء پر مہربانی کرنے والا ہے یہاں تک کہ وہ اسے پہچان لیتے ہیں اور اگر وہ اپنے دشمنوں پر مہربانی فرماتا تو وہ اس کا انکار نہ کرتے۔ محمد بن علی کتانی نے کہا : لطیف سے مراد اس کے بندوں سے جو اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہے جب وہ مخلوق سے مایوس ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس پر توجہ فرماتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث طیبہ میں آیا ہے ” اللہ تعالیٰ بوسیدہ قبروں کی طرف جھانکتا ہے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ان کے آثار مٹ گئے اور ان کی صورتیں محو ہوگئیں اور ان پر عذاب باقی ہے جبکہ میں لطیف ہوں اور أرحم الراحمین ہوں ‘ ان سے عذاب میں تخفیف کردو ‘ تو ان سے عذاب میں تخفیف کردی جاتی ہے “ (1) ۔ ا بو علی ثقفی ؓ نے کہا :
أمر بأ فنانء القبور کا ننی أخوفطئۃ والثوب فیہ نحیف
ومن شق فاہ اللہ قدر رزقہ روبی بمن یلجأ الیہ لطیف
میں قبر ستانوں سے گذرتا ہوں گو یا میں سمجھدار ہوں جبکہ کپڑا اس میں کمزور ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کا منہ کھولتا ہے اس کا رزق مقرر کردیتا ہے اور جو اس کی پناہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لطیف اسے کہتے ہیں جو اپنے بندوں کے مناقب کو عام کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو چھپاتا ہے اسی تعبیر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : یا من أظھر الجمیل و ستر القبیح اے وہ ذات پاک ! جو جمیل کو ظاہر کرتی ہے اور قبیح امرکو پوشیدہ رکھتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لطیف اسے کہتے ہیں کہ قلیل کو قبول کرے اور عظیم چیزکو خرچ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرے اور مشکل کو آسان کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اس سے مراد وہ ذات ہے جس کے عدل سے ڈرا جاتا ہے اور اس کے فضل سے امید رکھی جاتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ ذات ہے جو اپنے بندے پر ہمت سے بڑھ کر نعمت کرتا ہے اور طاقت سے بڑھ کر اطاعت کی توفیق دیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم :34) واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ (لقمان :20) وماجعل علیکم فی الدین من حرج (حج :78) یریداللہ ان یخفف عنکم (النسائ :28) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے جو خدمت پر مدد کرتا ہے اور زیادہ وہ مدح کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے جو اس کی نافرمانی کرے اس کو جلدی سزا نہیں دیتا اور جو اس سے امید رکھے اسے خائب و خاسر نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے سائل کو خالی نہیں لوٹا تا اور امیدرکھنے والے کو مایوس نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو لغزش کرتا ہے اسے معاف کردیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس پر رحم فرماتا ہے جو اپنے آپ پر رحم نہیں فرماتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ ذات ہے جو عارفین کے دلوں میں مشاہدہ کا چراغ روشن کرتی ہے اور صراط مستقیم کو اس کا منہاج بنا دیتی ہے اور اپنے نیکی کے بادلوں سے ان کے لیے موسلادھار بارش برساتی ہے۔ سورة الانعام میں ابو العالیہ اور جنید کا قول گذر چکا ہے ہم نے یہ سب باتیں الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں لطیف اسم کے ضمن میں ذکر کردی ہیں۔ الحمد اللہ۔
یرزق من یشآء جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے ‘ کسی قوم کو مال میں فضیلت دینے میں حکمت ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں جس طرح ارشاد فرمایا : لیتخذ بعضھم بعضا سخریا (زخرف :32) یہ بندوں پر مہربانی ہے ‘ یہ بھی مقصود ہے کہ اس کے ذریعے غنی کو فقیر اور فقیر کو غنی کے ساتھ امتحان میں ڈالا جائے جس طرح ارشاد فرمایا : وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ اتصبرون (فرقان :20) اس کی وضاحت پہلے گذر چکی ہے
Ayah 42:20من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حزئہ حرث سے مراد عمل اور کسب ہے ‘ اسی معنی میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کا قول ہے : تو دنیا کے لیے تگ و دو کر گویا تو نے ہمیشہ رہنا ہے اور اپنی آخرت کے لیے کوشش کرو گے یا تو نے کل ہی مرجانا ہے (1) ۔ اسی وجہ سے انسان کو حارث کہتے ہیں معنی ہے ہم نے اسے رزق دیا ہے جو اسے آخرت کی کھیتی کے طور پر طلب کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرتا ہے اور دین کی عزت کی خاطر مال خرچ کرتا ہے تو ہم اس کا ثواب ایک کے بدلہ میں دس گنا ‘ سات سو گنا اور اس سے زیادہ تک دیتے ہیں۔
ومن کان یرید حرث الدنیا تعالیٰ نے اسے جو مال دیا ہے وہ اس کے ذریعہ دنیا کی ریاست چاہتا ہے ممنوعات تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے ہم اسے رزق سے محروم نہیں کرتے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان : یریدالعاجلۃ۔۔ (بنی اسرائیل)
ایک قول یہ کیا گیا ہے : نزد لہ فی حرثہ کا معنی ہے ہم اسے عبادت کی توفیق دیتے ہیں اور ہم اسے ان پر آسان کردیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حرث الا خرۃ سے مراد اطاعت ہے یعنی جس نے اطاعت کی اس کے لیے ثواب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نزدلہ فی حرثہ کا معنی ہے ہم اسے دنیا ‘ آخرت کے ساتھ دیتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت جہاد کے بارے میں ہے یعنی جس نے جہاد کے ساتھ آخرت کا ارادہ کیا اسے ثواب دیا جائے گا جس نے اپنے جہاد سے غنیمت کا ارادہ کیا تو اسے غنیمت دے دی جائی گی۔
قشیری نے کہا : آیت کافر کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ جسے دنیا میں وسیع رزق دیتا ہے یعنی اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس سے دھوکہ میں مبتلا ہو کیونکہ دنیا باقی رہنے والی نہیں۔ قتادہ نے کہا : جو آخرت کی نیت کرتا ہے (2) اللہ تعالیٰ اسے دنیا کی چیزیں بھی عطا فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور جس نے دنیا کی نیت کی اسے صرف دنیا میں عطا فرماتا ہے ‘ یہ بھی فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو آدمی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو ہم اس کے عمل میں اضافہ کردیتے ہیں اور دنیا سے اسے وہ کچھ عطا کرتے ہیں جو کچھ ہم نے اس کے لیے لکھا ہوتا ہے اور جو اپنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو ہم اس کے لیے آخرت میں صرف آگ کا ہی حصہ بنادیتے ہیں اور دنیا سے وہی رزق پاتا ہے جو ہم نے اس کے لیے تقسیم کررکھا ہوتا ہے جو اسے دیا جانا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ ترجیح دے یا نہ دے۔
جویبر نے ضحاک سیوہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے : جو ابرار سے ہوتا ہے وہ اپنے عمل صالح کے ساتھ آخرت کے ثواب کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اس کی نیکیوں میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو فاجر ہوا کرتا ہے وہ اپنے عمل حسن کے ساتھ دنیا کا ارادہ کرتا ہے تو ہم اسے وہی دے دیتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ یہ منسوخ ہوگیا : من کا یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید (اسرائیل :18) صحیح یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں کیونکہ یہ خبر ہے اور تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوا کرتی ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہے لا یقل أحد کم اللھم أغفرلی ان شئت اللھم ارحمنی ان شئت (1) ۔ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : اے اللہ ! مجھے بحش دے اگر تو چاہے ‘ اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما اگر تو چاہے۔ قتادہ نے کہا : جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے وہ تیرے سامنے اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ نسخ نہیں۔ ہم نے سورة ہود میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ یہ مطلق اور مقید کے باب سے ہے اور نسخ اخبار میں داخل نہیں ہوتا۔
مسئلہ : یہ آیت امام ابوحنیفہ کے اس قول کو باطل کرتی ہے (2): جس نے ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے وضو کیا تو یہ وضو اس کے فرض کے قائم مقام ہوجائے گا کیونکہ وضو کی فرضیت آخرت کی کھیتی ہے اور ٹھنڈک حاصل کرنا امور دنیا سے ہے ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر داخل نہ ہوگا اس آیت کے ظاہر سے اس کی نیت اس کے قائم مقام نہ ہوگی ؛ (٭) یہ ابن عربی کا قول ہے۔
Ayah 42:21ام لھم شراکؤ ام میں میم زائدہ ہے اور ہمزہ تقریع کے لیے ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا اور اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے تھے کیا ان کے اپنے معبود ہیں جنہوں نے انکے لیے شرک مشروع کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی جب یہ محال ہے تو اللہ تعالیٰ نے شرک کو مشروع نہیں کیا تو پھر تم کس طرح اس کو اپناتے ہو۔
ولولا کلمۃ الفصل اس سے مراد یوم قیامت ہے کیونکہ ارشاد فرمایا : بل الساعۃ موعدھم (قمر :46) لقضی بینھم دنیا میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا یعنی ظالم کو جلدی عذاب دیتا اور اطاعت شعار کو ثواب دیتا۔ ظالمین سے مراد مشرک ہیں ان کے لیے دنیا میں قتل ‘ قید اور مغلوب ہونا ہے اور آخرت میں آگ کا عذاب ہے۔ ابن ہر مزنے کہا ان ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کا عطف ولو لا کلمۃ پر ہے معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان فاصلہ لو لا کے جواب کے ساتھ جائز ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ان محل رفع میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی وجب أن الظالمین لھم عذاب الیم اسی صورت میں یہ کلام ماقبل سے منقطع ہوگی جس طرح جب ان کے ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھا جائے۔
Ayah 42:22مشفقین کا معنی ڈر نے والے ہیں۔ مما کسبوا جو کچھ انہوں نے کیا اس کی جزا۔ یہاں ظالمون سے مراد کافرون ہیں ‘ کیونکہ مومن اور کافر کے درمیان تقسیم والی دلیل موجود ہے۔
واقع بھم ان پر نا زل ہونے والا ہے روضت سے مراد ایسی جگہ ہے جہاں بہت زیادہ سر سبزی ہوتی ہے۔ سورة روم میں یہ بحث گذر چکی ہے لھم ما یشآء ون عند ربھم یعنی ان کے لیے ان کے رب کے ہاں نعمتیں اور عظیم ثواب ہے۔
ذلک ھوالفضل الکبیر۔ اس کا وصف بیان نہیں کیا جاسکتا اور عقلیں اس کی صفت کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لیے کبیر کا لفظ استعمال کرے تو کون اس کا اندازہ لگائے گا ؟