41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 41:1–5

تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۚ Open ayah 41:2 in the Quran reader

(یہ کتاب خدائے) رحمن و رحیم (کی طرف) سے اتری ہے

كِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَۙ Open ayah 41:3 in the Quran reader

(ایسی) کتاب جس کی آیتیں واضح (المعانی) ہیں (یعنی) قرآن عربی ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں

بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 41:4 in the Quran reader

جو بشارت بھی سناتا ہے اور خوف بھی دلاتا ہے لیکن ان میں سے اکثروں نے منہ پھیرلیا اور وہ سنتے ہی نہیں

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 41:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے ہمارے دل پردوں میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ (یعنی بہرا پن ہے) اور ہمارے اور تمہارے درمیان پردہ ہے تو تم (اپنا) کام کرو ہم (اپنا) کام کرتے ہیں

(حم۔ تنزیل من الرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ اس کا رفع ھذا کا مضمر ہونے کی بناء پر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ کہا جائے کتب یہ تنزیل سے بدل ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ یہ تنزیل لی کی صفت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حم کی تقدیر یہ ہے ھذہ حم جس طرح تو کہتا ہے : باب کذا اصل میں ھو باب کذا تھا پس حم یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے اصل میں یہ ھو حم تھا تنزیل دوسرا مبتداء ہے اور کتب اس کی خبر ہے فضلیت ایتہٗ یعنی ان کی وضاحت و تفسیر بیان کردی گئی ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے اس کے حرام سے اس کے حلال کو اور اس کی معصیت سے اس کی اطاعت کو واضح کردیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وعدہ اور وعید کو بیان کردیا گیا۔ سفیان نے کہا : ثواب اور عقاب کو بیان کردیا گیا (1) اسے فصلت بھی پڑھا گیا ہے یعنی ان آیات نے حق اور باطل میں فرق کردیا ہے یا ان آیات میں سے بعض اپنے معانی میں اختلاف کی وجہ سے دوسری آیات سے مختلف ہیں۔ تیسرا قول فصل من الملد سے مشتق ہے یعنی وہ ملک سے دور ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 167 قرابا عربیا اس کے منصوب ہونے کی کئی وجوہ ہیں : اخفش نے کہا : یہ مدح کی حیثیت میں منصوب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فعل کے مضمر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی اذکر قرآنا عربیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دوبارہ وہی فعل ہے یعنی فصلنا قرآنا عربیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی آیات کی کھول کر بیان کیا گیا ہے اس حال میں کہ وہ قرآن عربی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب فصلت کا فعل آیات کے ساتھ مشغول ہوگیا یہاں تک کہ وہ نائب غافل ہوگیا تو قراٰنا اس کا بیان ہونے کی حیثیت سے منصوب ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اسے منصوب اس لیے پڑھا گیا ہے کہ اسے ما قبل کلام سے الگ کیا گیا ہے۔ لقوم یعلمون۔ ضحاک نے کہا : قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوا ہے۔ مجاہد نے کہا : وہ جانتے ہیں کہ تورات اور انجیل میں وہ ایک الہ ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ لغت عربی کو جانتے ہیں اور وہ اس کی مثل لانے سے عاجز ہیں اگر یہ عربی زبان میں نہ ہوتا تو اسے نہ جانتے۔ میں کہتا ہوں : یہ صحیح ترین ہے یہ قریش کو عاجز کرنے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لیے ہے کہ قرآن معجزہ ہے بشیرا و نذیرا یہ دونوں الایات سے حال ہیں اور اس میں عامل فصلت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ دونوں قرآن کی لغتیں ہیں بشیراً یہ اولیاء اللہ کے لیے ہے اور نذیرا یہ اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے لیے ہے اسے بشیر و نذیر بھی پڑھا گیا ہے یہ کتاب کی صفت ہے یا مبتداء محذوف کی خبر ہے فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعمون۔ یعنی اکثر اہل مکہ نے اعراض کیا تو ایسا سننا نہیں سنتے کہ وہ اس سے نفع اٹھائیں۔ روایت کیا گیا کہ ریان بن حرملہ نے کہا کہ قریش کے سرداروں اور ابو جہل نے کہا : ہم پر حضرت محمد ﷺ کا معاملہ ملتبس ہوگیا ہے اگر تم کوئی ایسا آدمی تلاش کرتے جو شعر، کہانت اور جادو کو جانتا ہوتا وہ حضرت محمد ﷺ سے کلام کرے پھر اس کے معاملہ کی ہمارے سامنے وضاحت کرے (3) عتبہ بن ربیعہ کہا : اللہ کی قسم ! میں نے کہانت، شعر اور جادو کو سنا ہے میں اس کے بارے میں اتنا علم رکھتا ہوں اگر معاملہ ایسا ہوا تو مجھ سے مخفی نہیں رہے گا، انہوں نے کہا : ان کے پاس جائو اور ان سے بات کرو۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضرہوا عرض کی : اے محمد ﷺ ! تو بہتر ہے یا قصی بن کلاب ؟ تو بہتر ہے یا ہاشم ؟ تو بہتر ہے یا عبد المطلب ؟ تو بہتر ہے یا عبد اللہ ؟ تو کس وجہ سے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے ؟ ہمارے آباء کو گمراہ قرار دیتا ہے ؟ ہمارے دانشمندلوگوں کو بیوقوف قرار دیتا ہے ؟ اور ہمارے دین کی مذمت کرتا ہے ؟ اگر تو ریاست چاہتا تو ہم اپنے سارے جھنڈے تیرے سپرد کردیتے ہیں جب تک تو زندہ رہے گا تو ہمارا سردارہو گا، اگر تو شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم قریش کی بچیوں میں سے دس عورتوں سے تیری شادی کردیتے ہیں جن سے تو چاہتا ہے، اگر تو مال کی خواہش رکھتا ہے تو ہم تیرے لیے مال جمع کردیتے ہیں جس سے تو اور تیرے بعد والے غنی ہوجائیں گے، اگر یہ سب کچھ جن کے سایہ کی وجہ سے ہے جو تجھ پر غالب آچکا ہے تو ہم تیرا علاج کروانے کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم تیرے 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 168 2 ؎۔ معالم التنزیل، جلد 5، صفحہ 61۔ 60 بارے میں اس پر غالب آجائیں۔ نبی کریم ﷺ خاموش رہے۔ جب وہ گفتگو سے فارغ ہوا فرمایا :” اے ابو ولید ! تو فارغ ہوگیا ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں۔ فرمایا : ” اے بھیجتے سنتا ہے ؟ اس نے کہا : سنتا ہو۔ پڑھا تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُہٗ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًاج فَاَعْرَضَ اَکْثَرُھُمْ فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۔ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْٓ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَیْہِ وَفِیْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْم بَیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـہُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْٓا اِلَیْہِ وَاسْتَـغْفِرُوْہُط وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ ۔ قُلْ اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَـہٗٓ اَنْدَادًاط ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبٰـرَکَ فِیْھَا وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍط سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ ۔ ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ وَھِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَھَا وَلِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْکَرْھًاط قَالَتَآ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ ۔ فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآئٍ اَمْرَھَاط وَزَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَحِفْظًاط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۔ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ ۔ توعتبہ اچھل پڑا اور اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے منہ پر رکھ دیا اور آپ کو اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دیا کہ وہ خاموش ہوجائیں، وہ گھر لوٹ آیا اور قریش کے پاس نہ گیا۔ ابو جہل اس کے پاس آیا پوچھا : کیا تو نے محمد کا دین قبول کرلیا ہے ؟ یا اس کا کھانا تجھے اچھا لگا ہے ؟ تو عتبہ غضبناک ہوگیا اور قسم اٹھائی کہ وہ محمد سے کبھی بھی ملاقات نہیں کرے گا پھر کہا : اللہ کی قسم ! تم جانتے ہو میں قریش سے سب سے زیادہ مالدارہوں لیکن جب میں نے اس پر واقعہ بیان کیا تو انہوں نے مجھے ایسا جواب دیا اللہ کی قسم ! وہ شعر نہیں، نہ کہانت ہے اور نہ ہی جادو ہے، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ سے جو سنا تھا وہ اس تلاوت کیا صعقہ عادو ثمود۔ تو میں نے اس کا منہ روکا اور رشتہ داری کا واسطہ دیا کہ وہ رک جائے۔ تم خوب جانتے ہو کہ جب وہ کچھ کہتا ہے تو جھوٹ نہیں بولتا، اللہ کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا یعنی صاعقہ نازل ہوگا نبی کریم ﷺ نے پڑھا حم فصلت یہاں تک کہ آیت سجدہ تک پہنچے تو سجدہ کیا جبکہ عتبہ توجہ سے سن رہا تھا اس نے پشت کے پیچھے سے ہاتھوں پر سہارا لیا ہوا تھا جب رسول اللہ ﷺ سے قرأت کو ختم کیا تو اسے کہا : ابو ولید ! تو نے وہ سن لیا ہے جو میں نے تجھ پر پڑھا ہے اب تو جو چاہے کر۔ عتبہ قریش کی مجلس میں ان کے پاس گیا انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ابو ولید تمہارے پاس اس چہرے سے آ رہا ہے جس چہرے سے گیا نہیں تھا پھر انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ابو ولید کیا چھوڑ آئے ہو ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں محمد سے ایسا کلام سن آیا ہوں جیسا کلام میں نے کبھی بھی کسی سے نہیں سنا تھا، اللہ کی قسم ! وہ شعر نہیں اور نہ ہی وہ کہانت ہے اس مسئلہ میں میری اطاعت کرو اور میرے کہنے پر اس کے ساتھ معاملہ کرو محمد اور اس کے معاملہ کو چھوڑ دو اس سے الگ تھلگ ہو جائو اللہ کی قسم ! میں نے جو اس کا کلام سنا ہے اس کی شان ہے اگر عرب اس تک رسائی حاصل کرلیں تو تم غیروں کے ہاتھوں اسے کافی ہو گے اگر وہ بادشاہ یا نبی ہو تو تم اس کی وجہ سے سب سے زیادہ سعادت مند ہو کیونکہ اس کا ملک تمہارا ملک ہے، اس کا شرف تمہارا شرف ہے انہوں نے کہا : دور ہوجا اے ابو ولید ! مجھ نے تجھ پر جادو کردیا ہے۔ ابو ولید نے کہا : یہ میری رائے ہے تم جو چاہو کرو۔ وقالو اقلوبنا فی اکنۃ مما تدعوان الیہ، اکنہ، کنان کی جمع ہے جس کا معنی ڈھکنا ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے : مجاہد نے کہا : کنان دل کے لیے اسی طرح ہوتا ہے جس طرح تیرے کے لیے جنہ ( جو تیر پر چڑھا دیا جائے) ہوتا ہے (1) وفی اذا تنا وقر ہمارے کانوں میں گرانی ہے، تیرا کلام ہمارے کانوں میں داخل نہیں ہوتا، ہمارے دل فہم سے پردہ میں ہیں ومن بیننا وبینک حجاب ہمارے اور تمہارے درمیان حجاب ہے یعنی دین میں اختلاف ہے کیونکہ وہ بتوں کی عبادت کیا کرتے جبکہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے، یہ معنی فراء اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسا پردہ جو قبول کرنے کے مانع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ابو جہل نے اپنا سر کپڑے سے ڈھانپا اور کہا : اے محمد ﷺ ! ہمارے اور تیرے درمیان پردہ ہے، یہ بات اس نے مذاق کے انداز میں کی : یہ بات نقاش نے کی اور زمحشری نے اسے ذکر کیا۔ یہاں حجاب سے مراد کپڑا ہے۔ فاعمل اننا عملون۔ یعنی ہمار ہلاکت کا اہتمام کرو ہم تیری ہلاکت کا اہتمام کرنے والے ہیں (2) یہ کلبی کا قول ہے۔ مقاتل نے کہا : تو اپنے اس الہ کے لیے سرگرم عمل رہ جس نے تجھے بھیجا ہے اور ہم اپنے معبودوں کے لیے کام کرتے رہیں گے جس کی ہم عبادت کرتے ہیں۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے : تیرا دین جو تقاضا کرتا ہے وہ کر اور ہم وہ کریں گے جو ہمارا دین تقاضا کرے گا۔ پانچویں قول کا بھی احتمال ہے اپنی آخرت کے لیے کام کرو ہم اپنی دنیا کے لیے کام کریں گے (3) یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 41:6–7

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَاسْتَقِیْمُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَغْفِرُوْهُ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 41:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں (بھی) آدمی ہوں جیسے تم (ہاں) مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود خدائے واحد ہے تو سیدھے اسی کی طرف (متوجہ) رہو اور اسی سے مغفرت مانگو اور مشرکوں پر افسوس ہے

الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:7 in the Quran reader

جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کے بھی قائل نہیں

(قل انما انا بشر مثلکم۔۔۔۔ ) قل انماانا بشر مثلکم میں بادشاہ نہیں بلکہ میں انسان ہوں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو تواضع کی تعلیم دی یوحی الی یعنی فرشتوں کے ذریعے آسمانوں سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے (4) الما الھکم الہ واحد تمہارا معبود ایک ہے اس پر ایمان لائو اور دعا کرتے وقت اور سوال کرتے وقت اس یک طرف متوجہ ہو واستغفروہ اپنے شرک پر مغفرت طلب کرو۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5 صفحہ 241 2 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 168 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 412 وویل للمشرکین۔ الذین لا یوتون الزکوۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتے یہ نفس کی زکوٰۃ ہے۔ قتادہ نے کہا : وہ زکوٰۃ کے فرض ہونے کا اقرار نہیں کرتے۔ ضحاک اور مقاتل نے کہا : وہ صدقہ نہیں کرتے اور اطاعت میں خرچ نہیں کرتے انہیں بخل پر شرم دلائی گئی ہے جس سے صاحب فضل لوگ نفرت کرتے ہیں۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ کافر کو اس کے کفر پر عذاب دیا جائے گا۔ فراء اور دوسرے علماء نے کہا : مشرک مال خرچ کرتے، خاجیوں کو پانی پلاتے، انہیں کھانا کھلایا کرتے تو وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئے ان پر ان چیزوں کو مشرکین نے حرام کردیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ وھم بالاخرۃ ھم کفرون۔ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اس وجہ سے وہ اطاعت میں خرچ نہیں کرتے اور نہ ہی گناہوں پر بخشش طلب کرتے ہیں۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ سوال کرے کہ مشرکین کے اوصاف میں سے زکوٰۃ کا انکار آخرت کے انکار کے ساتھ کیوں ملایا گیا ہے (1) ؟ میں اس کا جواب دوں گا : انسان کو سب سے محبوب چیز اس کا مال ہوا کرتی ہے مال اس کی روح کا جڑواں ہے جب انسان اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو یہ اس کے ثابت قدم ہونے، اس کی استقامت، صدق نیت اور خلوص عمل پر دلیل ہے کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں دیکھتا :” وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللہ وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ “ (البقرہ : 265) اپنے نفسوں کو ثابت رکھتے ہیں اور اپنے مال خرچ کر کے اس کے ثبات پر دلائل قائم کرتے ہیں مولفہ قلوب ( وہ کفار جن کو زکوٰۃ کا مال تالیف قلوب کے لیے دیا جاتا تھا) ان کے ساتھ تھوڑے سے دنیاوی مال پر تدبیر کی گئی جس سے ان کی رشتہ داری قومی ہوگئی اور ان کی طبیعتوں میں نرمی آگئی، رسول اللہ ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد مرتدین نے زکوٰۃ کے انکار کے لیے ہی باہم تعاون کیا تو انکے ساتھ جنگیں کی گئیں اور جہاد کیا گیا : اس میں مومنوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی پر برانگیختہ کیا گیا ہے اور اس کے روکنے پر سخت ڈرایا گیا ہے کیونکہ زکوٰۃ کو مشرکین کی صفات قرار دیا گیا ہے اور آخرت کے انکار کے ساتھ اسے ملایا گیا ہے۔
Ayah 41:8

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠ Open ayah 41:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے (ایسا) ثواب ہے جو ختم ہی نہ ہو

ان الذین امنوا و عملوالصلحت لھم اجر غیر ممنون۔ حضرت ابن عباس ؓ نے غیر ممنون کا معنی غیر مقطوع کیا ہے وہ ختم نہ ہوگا مننت الحبل سے مآخوذ ہے جب تو اس کو کاٹ دے اسی معنی میں ذی الاصبع کا شعر ہے : انی لعمرک مایابی بذی غلق علی الصدیق ولا خیری بممنون (2) تیری زندگی کی قسم ! میرا دروازہ دوست پر کبھی بند نہیں ہوا اور نہ میرا احسان ختم ہوا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : فتری خلفھا من الرجع والوقع منینا کا نہٗ اھباء منین سے مراد الغبار المنقطع الضعیف ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4 صفحہ 87۔ 186 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169 حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے (1) مقاتل نے کہا : اس میں نقص نہیں ہوگا اسی سے منون کا لفظ ہے کیونکہ موت انسان کی قوت کو کمزور کردیتی ہے۔ زہیر نے کہا : فعل الجیاد علی الخیل البطاء فلا یعطی بذلک ممنونا ولا نزقا جوہری نے کہا : اس کا معنی کاٹنا ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : اس کا معنی نقص ہے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لھم اجر غیر ممنون۔ لبید نے کہا : غبس کو اسب لا یمن طعامھا مجاہد نے کہا : اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان پر کوئی احسان نہیں جتلایا جائیگا۔ سدی نے کہا : یہ آیت اپاہج، مریضوں اور بوڑھوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اطاعت بجا لانے سے کمزور ہوتے تو ان کے لیے اتنا اجر لکھا جاتا رہے گا جتنا اجر ان کے لیے اس وقت لکھا جاتا تھا جب وہ عمل کیا کرتے تھے۔
Ayahs 41:9–12

قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 41:9 in the Quran reader

کہو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دن میں پیدا کیا اور (بتوں کو) اس کا مدمقابل بناتے ہو وہی تو سارے جہانوں کا مالک ہے

وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 41:10 in the Quran reader

اور اسی نے زمین میں اسکے اوپر پہاڑ بنائے اور زمین میں برکت رکھی اور اس میں سب سامان معیشت مقرر کیا (سب) چار دن میں (اور تمام) طلبگاروں کے لئے یکساں

ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ Open ayah 41:11 in the Quran reader

پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ دھواں تھا تو اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ (خواہ) خوشی سے خواہ ناخوشی سے انہوں نے کہا کہ ہم خوشی سے آتے ہیں

فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 41:12 in the Quran reader

پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس کے (کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں) سے محفوظ رکھا یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں

(قل ائنکم لتکفرون۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 169 قل ائنکم لتفکرون بالذی خلق الارض فی فومین ائنکم دو ہمزوں کے ساتھ ہے دوسرا ہمزہ بین بین ہے اور دو ہمزوں کے درمیان الف ہے اس کا معنی شرمندہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو حکم دیا تاکہ انہیں شرمندہ کیا جائے اور ان کے فعل پر تعجب کا اظہار کیا جائے معنی ہے تم کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو جبکہ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ یومین سے مراد اتوار اور سوموار ہے انداد ًاکا معنی اضداد اور شریک ہیں وجعل فیھا ھا ضمیر سے مراد زمین ہے، رواسی سے مراد پہاڑ ہیں۔ وہب نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو اسے پانی پر پھیلا دیا جبریل امین سے فرمایا : اے جبریل ! اسے ایک جگہ ٹھہرا دو حضرت جبریل امین اترے اسے ایک جگہ روکا تو ہوائیں حضرت جبریل امین پر غالب آگئیں عرض کی : اے میرے رب ! تو خوب جانتا ہے میں تو اس میں مغلوب ہوگیا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اسے پہاڑوں کے ساتھ مضبوط کردیا۔ وبرک فیھا یعنی اس زمین میں جو منافع پیدا کیے۔ سدی نے کہا : اس میں درخت اگائے وقدر فیھا اقواتھا سدی اور حسن بصری نے کہا : اہل زمین کے رزق اور ان کے مصالح مقرر فرمائے (1) قتادہ اور مجاہد نے کہا : اس میں نہریں، درخت اور چوپائے منگل اور بدھ کو پیدا فرمائے۔ عکرمہ اور ضحاک نے کہا : وقدرفیھا اقواتھا سے مراد ہے اس میں اس کے مکینوں کے رزق اور جو لوگوں کی معیشت کے مناسب چیزیں تھیں وہ پیدا کیں یعنی تجارت، درخت اور منافع ایک شہر میں ایسی چیزیں پیدا کیں جو دوسرے شہر میں پیدا نہ کیں تاکہ بعض لوگ بعض لوگوں سے تجارت کریں اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سفر کریں۔ عکرمہ نے کہا : یہاں تک کہ بعض ممالک ہیں وہ سونے کو نمک کے برابر خریدتے ہیں۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا : وہ سابری ( بڑھیا کھجور) سابور سے، بڑی چادریں ری سے اور دھاری دار چادریں یمن سے لیتے ہیں۔ فی اربعۃ ایام یعنی چار دنوں کی تکمیل میں، اس کی مثل ایک قائل کا قول ہے : خرجت من البصرہ الی بغداد فی عشرۃ ایام والی الکوفۃ فی خمسۃ عشریوما (2) یعنی پندرہویں دن کے مکمل ہونے پر میں کوفہ پہنچا : یہ معنی ابن انباری اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ سواء اللسائلین۔ حضرت حسن بصری نے کہا : معنی ہے مکمل چار دنوں میں (3) فراء نے کہا : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے معنی ہے اس نے ان میں ان کی روزیاں پیدا کیں جن کا حصول محتاجوں کے لیے یکساں ہے : یہ قول طبری نے پسند کیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور یعقوب حضرمی نے پڑھا سواء للسائلین ابن قینقاع سے سواء مرفوع ہے نصب مفعول مطلق ہونے کے اعتبار سے ہے جو استواء کے معنی میں ہے یعنی استوت استواء۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حال ہونے کے اعتبار سے منصوب ہے جبرء ایام یا اربعۃ کی صفت کے اعتبار سے ہے تقدیر کلام یہ ہے فی اربعۃ ایام مستویۃ تامۃ۔ رفع مبتداء کے اعتبار سے ہے اور خبر للسائلین ہے یا اس تقدیر کی بناء پر مرفوع ہے ھذہ سواء للسائلین۔ اہل معانی نے کہا : معنی ہے وہ سائلین اور غیر سائلین کے لیے برابر ہے معنی زمین اور زمین میں جو کچھ ہے وہ برابر ہے اس کے لیے جو سوال کرے اور اس کے لیے جو سوال نہ کرے اور وہ عطاء فرماتا ہے جو سوال کرے اور جو سوال نہ کرے۔ 1 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 414 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، 171 3 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 414 ثم استوی الی السمائو ھی دخان یعنی آسمان کی تخلیق کا ارادہ کیا اور اس کے درست کرنے کا قصد کیا۔ اکثر اقوال کے مطابق استواء افعال کی صفت ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے :” ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآئِ فَسَوّٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ط “ (البقرہ : 29) اس کے با رے میں بحث گزر چکی ہے۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے : ثم استوی الی السماء یعنی اس کا امر آسمان کی طرف بلند ہوا، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ جس نے یہ کہا یہ صفۃ ذاتیہ زائدہ ہے اس نے کہا : ازل میں اپنی صفات کا قصد کیا ثم کا لفظ ذکر کیا تو آسمان کو دخان کی صفت سے حالیت کثافت منقل کیا یہ دھواں پانی کے سانس لینے سے پیدا ہوتا تھا جس طرح سورة بقرہ میں حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء سے منقول ہے۔ فقال لھا وللارض ائتیا طوعا او کرھا یعنی میں نے تم دونوں سے جو منافع اور مصالح پیدا کیے تھے ان کو لے آئو اور میری مخلوق کے لیے تھے ان کو لے آئو اور میری مخلوق کے لئے نکالو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرمایا اپنے سورج، اپنے چاند اور اپنے ستاروں کو طلوع کرو اور اپنی ہوائیں اور بادل جاری کرو اور زمین سے فرمایا : اپنے دریائوں کو جاری کرو، اپنے درخت اور پھلوں کو نکالو راضی ہو کر یا مجبور ہو کر۔ دونوں نے جواب دیا : ہم انہیں خوشی خوشی لے آئے ہیں۔ کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ اتینا امرک، طائعین۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس امر سے مراد تسخیر ہے یعنی تم دونوں ہو جائو تو وہ ہوگئے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” انما قولنا لشیء اذا اردنہ ان تقول لہ کن فیکون۔ “ ( النحل) اس تعبیر کی بناء پر یہ ارشاد اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق سے پہلے کیا ان دونوں کو جو ارشاد فرمایا اس کی دو تو ج ہیں ہیں (1) یہ ایسا قول ہے جس کا تکلم ہوا۔ (2) یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قدرت ہے جو ان دونوں کے حق میں ظاہر ہوئی تو مقصد کو پانے میں یہ کلام کے قائم مقام ہوگئی : یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ قالتا اتینا طائعین۔ اس میں بھی دو توج ہیں ہیں (1) جب انہوں نے اطاعت کی اور جواب دیا تو دونوں سے اطاعت ظاہر ہوگئی تو یہ اطاعت ان کے قول کے قائم مقام ہوگئی : اس معنی میں راجز کا قول ہے : امتلا الخوض و قال قطنی مھلا رویداقد ملات بطنی حوض بھر گیا اور کہا : میرے لیے کافی ہے مہلت دو اور میں نے اپنا پیٹ بھر لیا ہے۔ یعنی اس میں یہ امر ظاہر ہوگیا ہے، اس نے قول نہیں کیا اکثر اہل علم لوگوں کی رائے ہے اللہ تعالیٰ نے دونوں میں کلام کو پیدا کیا تو دونوں نے اس طرح کلام کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا۔ ابو نصر سکسکی نے کہا : وہ کعبہ مشرفہ کی جگہ سے گویا ہوئی اور آسمان کی جو جگہ اس کے مقابل ہے وہ وہاں سے گویا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنا حرم رکھ دیا (1) ۔ فرمایا : طائعین، طاعتین نہیں فرمایا، لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے اور نہ طائعات کہا معنی کا اعتبار کرتے ہوئے کیونکہ دونوں کئی آسمانوں اور زمینیں ہیں کیونکہ خبر ان دونوں میں جو کچھ ہے ان کے بارے میں دی جا رہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ان کی صفت قول اور جواب دینے سے لگائی گئی جو ذوالعقول کی صفات ہیں تو ضمیر میں بھی انہیں ذوی العقول کے قائم مقام رکھا گیا اسی کی مثل رایتھم لی سجدین۔ ( یوسف) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ حدیثہ طیبہ میں ہے : ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! اگر میں آسمان اور زمین کو جب یہ کہوں : اتیا طوعا او کرھا تو وہ تیری نافرمانی کریں تو تو ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے ؟ فرمایا : میں اپنے جانوروں میں سے ایک جانور کو حکم دوں گا تو وہ ان کو نگل جائے گا عرض کی : اے میرے رب ! وہ دابہ (جانور) کہاں ہے ؟ فرمایا : میری چراگاہوں میں سے ایک چراگاہ میں عرض کی : وہ چراگاہ کہاں ہے ؟ فرمایا : میرے علم میں “۔ اے ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 173 حضرت ابن عباس ؓ، مجاہد، سعید بن جبیر اور عکرمہ نے اتیامد اور فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اتینا طائعین معنی ہے تم دونوں اپنی جانب سے اطاعت پیش کرو۔ دونوں نے کہا : ہم نے خوشی خوشی اطاعت کی تو دونوں مفعول حذف کردیئے گئے۔ اور یہ بھی جائز ہے اور یہ بہتر بھی ہے کہ اتینا فاعلنا کا وزن ہو تو ایک مفعول حذف کردیا گیا۔ جس نے اتینا پڑھا ہے تو معنی ہوگا جو کچھ ہم میں تھا ہم اسے لے آئے جس طرح اس کی وضاحت کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔ فقضھن سبع سموات فی یومنین انہیں مکمل کیا اور ان سے فارغ ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے انہیں پختہ کیا جس طرح کہا : وعلیھا مسرود تان قضاھما دائود او صنع السوابع تبع ان دونوں پر زر ہیں ہیں جنہیں حضرت دائود (علیہ السلام) نے پختہ بنایا ہے۔ فی یومین ان چار ایام کے علاوہ جن میں زمین کو پیدا کیا پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں واقع ہوئی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ “ (یونس : 3) جس طرح اس کی وضاحت سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔ مجاہد نے کہا : ان چھ دنوں میں سے ایک دن ہزار سال کی طرح ہے جسے تم شمار کرتے ہو۔ حضرت عبد اللہ بن سلام سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں میں زمین کو پیدا کیا اور دو دنوں میں اس کی روزیوں کو پیدا کیا دو دنوں میں آسمان کو پیدا کیا، زمین کو اتوار اور سوموار میں پیدا کیا منگل اور بدھ میں اس کی روزیوں کو مقرر کیا، آسمانوں کو جمعرات اور جمعہ کو پیدا کیا اور جمعہ کے روز آخری ساعت میں جلدی میں حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اسی گھڑی میں قیامت برپا ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے جو جانور بھی پیدا کیا ہے وہ جمعہ کے دن سے ڈرتا مگر انسان اور جن نہیں ڈرتے، علماء تفسیر کا یہی نقطہ نظر ہے مگر امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی جو حدیث روایت کی ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے روز پیدا کیا “ (1) ہم نے اس کی سند کے بارے میں سورة الانعام میں گفتگو کی ہے۔ واوحی فی کل سماء امرھا قتادہ اور سدی نے کہا : اس میں اس کا سورج، اس کا چاند، اس کے ستارے اور افلاک پیدا کیے اور ہر آسمان میں اس کی مخلوق یعنی فرشتے اور اس میں اس کی مخلوق یعنی سمندر، اولوں اور برفوں کے پہاڑ پیدا کیے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کہا : ہر آسمان میں اللہ تعالیٰ کا ایک گھر ہے جس کا فرشتے حج کرتے ہیں اور طواف کرتے ہیں یہ گھر کعبہ کے مقابلہ میں ہے جو گھر آسمان دنیا میں ہے وہ بیت معمور ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ واوحی فی کل سلما امرھا کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان میں جس کا ارادہ کیا اور جس کا حکم دیا ایحاء سے مراد کبھی امر ہوا کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بان ربک اوحی لھا۔ ( الزلزلۃ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا وحیت الی الحوارین ( المائدہ : 111) یعنی میں نے انہیں حکم دیا اور یہ امر تکوین ہے۔ 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقین، باب صفۃ القیامۃ، جلد 2، صفحہ 371 وزینا السماء الدنیا بمصابیح مصابیح سے مرادای سے ستارے ہیں جو روشن ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر آسمان میں روشن ستارے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بلکہ اس سے مراد وہ ستارے ہیں جو آسمان دنیا کے ساتھ خاص ہیں وحفظا ً اس کی تقدیر کلام یہ ہے وحفظنا ھا حفظنا یعنی ان شیاطین سے ہم نے اسے محفوظ کیا جو چوری چھپے سنتے تھے۔ یہ ستاروں کے ساتھ جو حفاظت ہے یہ وہی ہے جو شیاطین کو ان کے ساتھ رجم کیا جاتا ہے جیسا سورة حجر میں بیان گزر چکا ہے۔ اس آیت کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ زمین کو آسمان سے پہلے تخلیق کیا گیا، ایک دوسری آیت میں ہے : امر السماء بنھا۔ ( النازعات) پھر فرمایا والارض بعد ذلک دحھا۔ ( النازعات) دحو، خلق سے مختلف چیز ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا پھر آسمانوں کو پیدا کیا پھر زمین کو پھیلا دیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث مفصل گزر چکی ہے۔
Ayahs 41:13–14

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ Open ayah 41:13 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو کہہ دو کہ میں تم کو ایسی چنگھاڑ (کے عذاب) سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر چنگھاڑ (کا عذاب آیا تھا)

اِذْ جَآءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ قَالُوْا لَوْ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 41:14 in the Quran reader

جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اسکو نہیں مانتے

(فان اعرضوا فقل۔۔۔۔۔ ) فان اعرضوا اے محمد ﷺ ! اگر کفار قریش ایمان سے اعراض کریں جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عادوثمود۔ یعنی ہم نے ڈرایا ہلاکت سے جس طرح عاد اور ثمود کی ہلاکت تھی اذجاء تھم الرسل من بین ایدیھم ومن خلفھم یعنی ان کی طرف انہیں مبعوث کیا گیا اور ان سے قبل قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا الا تعبدوا الا اللہ ان محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جر حذف ہے اصل میں کلام یوں تھی بالا تعبدوا۔ قالو لو شاء ربنا لا نزل ملیکۃ یعنی رسولوں کی جگہ فرشتے مبعوث کرتا فانابما ارسلتم بہ کفرون۔ یعنی انذار اور تبشیر کا انکار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کی طرف سے استہزاء ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلے انہوں نے اقرار کیا ہے کہ ان کی طرف رسول مبعوث ہوئے اس کی بعد انکار اور عناد ہے۔
Ayah 41:15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً١ؕ اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَهُمْ هُوَ اَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:15 in the Quran reader

جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے ؟ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے

فاما عاد فاسکتبرو فی الارض انہوں نے اللہ کے بندوں حضرت ہود اور مومنوں پر تکبر کیا۔ قالوا من اشد منا قوۃ جب انہیں عذاب کی دھمکی دی تو انہوں نے اپنے جسموں کی وجہ سے دھوکہ کھایا انہوں نے کہا : ہم اپنی قوت کی زیادتی کی وجہ سے اپنے آپ سے عذاب دور کرنے پر قادر ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لمبے جسموں والے اور موٹے تھے۔ سورة اعراف میں بحث گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ان میں طویل ترین سو ہاتھ اور چھوٹا ساٹھ ہاتھ کا ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :” اولم یروا ان اللہ الذی خلقھم ھو اشد منھم قوۃ، قوۃ “ کا معنی قدرت ہے جب بندہ اللہ تعالیٰ کے قدرت دینے سے قادر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ زیادہ قادر ہے ” وکانو بایتنا یجحدون۔ “ وہ ہمارے معجزات کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 41:16

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى وَ هُمْ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 41:16 in the Quran reader

تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ انکو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) انکو مدد بھی نہ ملے گی

فارسلنا علیھم ریحا صرصراً یہ صاعقہ کی تفسیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر بھیجی تھی ایسی ہوا جو سخت ٹھنڈی تھی آواز شدید اور تیز چل رہی تھی۔ یہ کہا جاتا ہے : اصل میں صرر تھا جو صر سے مشتق ہے جس کا معنی ٹھنڈک ہے درمیانی راء کو فعل کے فاء کلمہ سے بدل دیا جس طرح ان کا قول ہے کبکبوا اصل میں کببوا تھا۔ تجفجف الثوب اصل میں تجفف الثوب ہے۔ ابو عبید نے کہا : صرصرا کا معنی ہے سخت آندھی، عکرمہ اور سعید بن جبیر نے کہا : سخت سرد، قطرب نے ابو حطیہ ٔ کا قول ذکر کیا : المطعون اذا ھبت بصر صرۃ والحاملنو اذا ستودوا علی الناس (1) جب سخت ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ اور وہ جھنڈے اٹھانے والے ہیں جب لوگوں پر سردار بنایا جائے۔ مجاہد نے کہا : سخت زہریلی (2) معمر نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اس کا معنی ٹھنڈی ہے : یہ عطاء نے کہا : کیونکہ صر صر یہ صر سے مآخوذ ہے کلام عرب میں صر سے مراد سرد ہے : ان پر سوار کی یجاتی ہے سخت ہوا اور سردی میں۔ رکبن فی یوم ویح وصر 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 174 2 ؎۔ ایضاً سدی نے کہا : سخت آواز (1) اسی سے صرالقلم والباب، یصر صریرا جب قلم اور دروازہ آواز نکالے یہ جملہ کہا جاتا ہے : درھم صری وصری۔ جس کی آواز ہو جب اس کی چھان بین کی جائے۔ ابن سکیت نے کہا : صر صر جائز ہے کہ وہ صر سے ہو جس کا معنی ٹھنڈک ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ صر یر الباب سے مشتق ہو اور الصرۃ سے مشتق ہو جس کا معنی صیح ہے اسی معنی میں یہ ارشاد ہے :” فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُہٗ فِیْ صَرَّۃٍ “ (الذاریات : 29) صرصر، عراق میں ایک نہر کا نام ہے۔ فی ایام نحساب منحوس دنوں میں : یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ یہ شوال کے آخر میں ایک بدھ سے لے کر اگلے بدھ تک تھے یہی مراد ہیں ” سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًا “ (الحاقہ : 7) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کسی قوم کو عذاب نہیں دیا گیا مگر بدھ کے روز ہی (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : نحسات کا معنی ٹھنڈے ہیں : نقاش نے یہ بیان کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پے در پے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک نے کہا : سخت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غبار والا : یہ ابن عیسیٰ نے بیان کیا ہے : اسی معنی میں راجز کا قول ہے۔ قد اغتدی قبل طلوع الشمس للصید فی یوم قلیل النحس (3) وہ سورج کے طلوع ہونے سے قبل شکار کے لیے ایسے دن میں جا پہنچا جس میں غبار کم تھا۔ ضحاک اور دوسرے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے تین سالوں تک ان سے بارش کو روکے رکھا اور ہوائیں بارش کے بغیر ان پر خوب چلیں ان میں سے ایک جماعت مکہ مکرمہ کی طرف نکلی تاکہ وہاں بندوں کے لیے دعا کریں۔ اس زمانہ میں جب لوگوں کو کوئی مصیبت آپہنچی تو وہ مکہ مکرمہ میں آ کر اللہ تعالیٰ سے کشادگی کو طلب کرتے ان کا مطالبہ اللہ تعالیٰ سے بیت اللہ شریف کے پاس مکہ مکرمہ میں ہوتا وہ مسلمان ہوتے یا کافرہوتے، مکہ مکرمہ میں کثیر لوگ جمع ہوتے جن کے دین مختلف ہوتے ہر ایک مکہ مکرمہ کی تعظیم کرتا وہ اس کی حرمت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے مرتبہ کو پہنچانتا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ اور تیمی نے کہا : جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا تو اللہ تعالیٰ ان پر بارش کو نازل کرتا ہے اور زیادہ ہوائوں کو روک لیتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے بارے میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے اور سخت ہوائوں کو ان پر مسلط کرتا ہے۔ نافع، ابن کثیر اور ابو عمر نے نحسات حاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے نحوست والے، جو قبول اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ نحس مصدر ہے وہ یہ ہے فی یوم نحس مستمر۔ ( القمر) اگر یہ صفت ہوتا تو یوم کا لفظ اس کی طرف مضاف نہ ہوتا، ابو عمر اپنی قرات پر اسی آیت سے استدلال کیا کرتا تھا : ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ ابو عبید نے دوسری قرأت کو پسند کیا ہے کہا : ابو عمرو کی حجت صحیح نہیں کیونکہ اس نے یوم کے لفظ کو نحس کی طرف مضاف کیا ہے اور اس کی حاء کو ساکن کیا یہ دلیل تب ہوتی اگر یوم کو تنوین دی جاتی اور اس کی صفت لگائی جاتی اور اسے ساکن کیا جاتا اور وہ کہنا : فی یوم نحس یہ قرأت کسی نے بھی نہیں کی۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 174 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 175 جس کو ہم جانتے ہوں۔ مہدی نے کہا : نخس میں اسکان ہی سنا گیا ہے۔ جوہری نے کہا : فی یوم نحس میں اسے صفت کے طور پر پڑھا گیا ہے جبکہ اضافت بہت زیادہ اور عمدہ ہے قد نحس الشئی فھونحس شاعر نے کہا : ابلغ جزاما ولخما ان اخوتھم طیا وبھراء قوم نصرم نحس جزام اور لخم کو خبرپہنچا دو ان کے بھائی طی اور براء ایسی قوم ہیں جن کی مدد غبار والے دن نے کی۔ اس معنی میں ہے ایام نحسات ہے۔ لنذیقہم تاکہ مہ ان کو چکھائیں۔ عذاب الجزی فی الحیوۃ الدنیا یعنی بانجھ ہوا کے ساتھ ولعذاب الاخرۃ احزی آخرت کا عذاب بڑا اور شدید ہوگا۔
Ayahs 41:17–21

وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمٰى عَلَى الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَۚ Open ayah 41:17 in the Quran reader

اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا تو انکے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا

وَ نَجَّیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 41:18 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کو ہم نے بچا لیا

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

اور جس دن خدا کے دشمن دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے تو ترتیب وار کر لئے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب اس کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور چمڑے (یعنی دوسرے اعضاء) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضاء) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی ؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے

(واما ثمود۔۔۔۔ ) واما ثمود فھدینھم یعنی ہم نے ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا : یہ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء سے مروی ہے۔ حضرت حسن بصری، ابن ابی اسحاق اور دوسرے علماء نے اما ثمود نصب کہ ساتھ پڑھا ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف پر پسند کیا (1) فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون۔ الھون ضمہ کے ساتھ ہے جس کا معنی ذلت و رسوائی ہے۔ ہون بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر جو کنانہ اور اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اھانہ اس کو حقیر و خفیف جانا اس کا اسم ھوان اور مھانہ ہے۔ صاعقہ کو عذاب کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ صاعقہ کہتے ہیں ہلاک کرنے والی چیز کو۔ گویا فرمایا : مھلک العذاب یعنی ایسا عذاب جو مہلک ہے ھون اگرچہ مصدر ہے اس کا معنی اھانہ ہے اور اھانہ کا معنی عذاب ہے۔ یہ جائز ہے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے کی صفت بنا دیا جائے گویا کہا : صاعقۃ الھون وہ تیرے اس قول کی طرح ہے : عندی علم الیقین اور عندی العلم الیقین۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھون، دون کی طرح ایک اسم ہو یہ جملہ کہا جاتا ہے۔ عذاب ھون یعنی ایسا عذاب جو ذلیل کرنے والا ہے جس طرح فرمایا :” ما لمتوا فی العذاب المھین۔ “ (سبا) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایسے عذاب کا صاقعہ جو ذلت والا ہے بما گانو یکسبون۔ “ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 175 انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں جس طرح یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ونجینا الذین امنوا یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) اور جو ایمان لائے تھے یعنی ہم نے انہیں کفار سے ممتاز کردیا ان پر وہ عذاب نازل نہ ہوا جو کفار پر نازل ہوا تھا، اے محمد ﷺ ! ہم تیری قوم کے مومنوں اور ان کے کافروں کے ساتھ یہی معاملہ کریں گے۔ نافع نے نحشرنو کے ساتھ پڑھا ہے اور اعداء کو نصب دی ہے باقی قراء نے یحشریاء مضموم کے ساتھ پڑھا ہے اعداء مرفوع ہے دونوں کا معنی واضح ہے۔ اعداء سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور انکے امراء کی مخالفت کی فھم یوزعون انہیں ہانکا جائے گا اور جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔ قتادہ اور سدی نے کہا : پہلوں کو انکے آخری افراد پر روک لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ جمع ہوجائیں گے۔ ابو احوص نے کہا : جب تعداد مکمل ہوجائے گی تو جرم کے اعتبار سے سب سے بڑے پھر اس کے بعد بڑے کا آغاز کیا جائے گا یوزعون کے بارے میں گفتگو سورة النحل میں مفصل گزر چکی ہے۔ ” حَتّٰی اِذَا مَا جَآئُ وْھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ “ حتی اذا ما میں ما زائدہ ہے۔ اکثرمفسرین کی رائے یہ ہے کہ چمڑے بذات خود ان پر گواہی دیں گے۔ سدی اور عبید اللہ بن ابی جعفر اور فراء نے کہا : جلود سے مراد شرمگاہ میں ہیں۔ ایک ادیب نے عامربن جو یہ کا شعر پڑھا : المرء یعسی للسلا مۃ والسلامۃ حسبہ او سالم من قد تثنی جلدہ وابیض راسہ وقالو یعنی کفار نے کہا لجلودھم لم شھدثم علینا تم تمہاری جانب سے جھگڑا کیا کرتے تھے تو قالو انطقنا اللہ الذی انطق کلی شی انہوں نے کہا : اس اللہ تعالیٰ نے ہمیں گویا کیا جس نے ہر چیز کو گویا کیا : جب انہوں نے خطاب کیا اور انہیں خطاب کیا گیا تو انہیں ذوی العقول کے قائم مقام رکھا گیا : وھو خلقکم اول مرۃ یعنی پہلے تم نطفہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر زندگی پیدا کردی جو اس پر قادر ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ وہ چمڑے اور دوسرے اعضاء کو گویا کر دے۔ ایک قول یہ کیا یا ہے : وھو خلقکم اول مرۃ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کلام کا آغاز ہے۔ والیہ ترجعون۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے آپ ہنسے، پوچھا گیا :” کیا تم جانتے ہو میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ “ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا :” بندے کے اپنے رب سے خطاب کی وجہ سے ہنسا ہوں۔ بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیوں نہیں۔ وہ عرض کرتا ہے : میں اپنے خلاف کسی کو گواہ بننے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آج تیری ذات تیرے خلاف گواہ ہوگی اور کراماً کاتبین تیرے خلاف گواہ کافی ہوں گے فرمایا : اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو اس کے اعضاء کو کہا جائیگا : تم بولو، تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں گفتگو کریں گے پھر اسکے اور اس کی گفتگو کے درمیان رکاوٹ ختم کردی جائے گی تو وہ کہے گا : تمہارے لیے ہلاکت ہو، میں اس لیے تمہاری حفاظت کیا کرتا تھا “ (1) حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں یہ ہے پھر کہا جائیگا :” اب ہم اپناگواہ تیرے خلاف پیش کرتے ہیں وہ دل میں سوچے گا کون میرے خلاف گواہی دے گا ؟ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی، اس کی ران، اس کے گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائیگا : بول، اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے عمل کے بارے میں گفتگو کریں گی یہ اس لیے ہوگا کیونکہ اس نے بکثرت گناہ کیے ہوں گے وہ منافق ہوگا اور یہی وہ شخص ہوگا جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا (2) اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الزھد، جلد 2، صفحہ 409 2 ؎۔ ایضاً ، ان الاعضاء متطوقۃ، جلد 2، صفحہ 409
Ayahs 41:22–24

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور تم اس (بات کے خوف) سے تو پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور چمڑے تمہارے خلاف شہادت دیں گے بلکہ تم یہ خیال کرتے تھے کہ خدا کو تمہارے بہت سے عملوں کی خبر ہی نہیں

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور اسی خیال نے جو تم اپنے پروردگار کے بارے میں رکھتے تھے تم کو ہلاک کردیا اور تم خسارہ پانے والوں میں ہوگئے

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

اب اگر یہ صبر کریں گے تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور اگر یہ توبہ کریں گے تو انکی توبہ قبول نہیں کی جائے گی

(وما کنتم تسترون۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم یہ جائز ہے کہ یہ اعضاء کا ان کے لیے قول ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ یا فرشتوں کا قول ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک روایت مروی ہے کہ بیت اللہ شریف کے پاس تین افراد جمع ہوئے دو قریشی تھے اور ایک ثقفی یا دو ثقفی اور ایک قریشی۔ ان کے دلوں میں فہم کم تھا اور پیٹوں کی چربی بہت زیادہ تھی ان میں سے ایک نے کہا : بتائو ہم جو کہتے تھے اللہ تعالیٰ اسے سنتا ہے۔ دوسرے نے کہا : اگر ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ سنتا ہے اور اگر ہم خفیہ طریقہ سے بات کریں گے تب بھی وہ نہیں سنتا۔ تیسرے سے کہا : جب ہم بلند آواز سے بات کریں تو وہ سنتا ہے پھر جب ہم مخفی طریقہ سے بات کریں گے تب بھی وہ سنتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا (1) وما کنتم تسترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم امام ترمذی نے اسے نقل کیا ہے کہا : بیت اللہ شریف کے پاس تین آدمی اکٹھے ہوئے پھر حرف حرف اس حدیث کا ذد کر کیا ہے اور کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہناد، ابو معاویہ سے وہ اعمش سے وہ عمارہ بن عمیر سے وہ عبد الرحمن بن یزید سے روایت نقل کرتے ہیں کہا حضرت عبد اللہ نے کہا : میں اپنے آپ کو بیت اللہ شریف کے پردوں سے چھپائے ہوئے تھا کہ تین افراد آئے ان کے پیٹ بڑھے ہوئے تھے اور دانش کم تھی ایک قریشی اور دو اس کے داماد ثقفی اور دو اس کے داماد قریشی تھے انہوں نے آپس میں گفتگو کی جس کو میں نہ سمجھ سکا ان میں سے ایک نے کہا : بتائو، اللہ تعالیٰ ہماری گفتگو سنتا ہے ؟ دوسرے نے کہا : جب ہم اپنی آوازیں بلند کریں تو وہ سن لیتا ہے اور جب ہم اپنی آوازوں کو بلند نہ کریں تو نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا : اگر وہ ہماری گفتگو سے کچھ سنتا ہے تو وہ تمام کچھ سن لیتا ہے۔ حضرت عبد اللہ نے کہا : میں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان آیت کو نازل فرمایا :” وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْھَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَآ اَبْصَارُکُمْ وَلَا جُلُوْدُکُمْ وَلٰـکِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللہ لَا یَعْلَمُ کَثِیْرًامِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ “ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) ثعلبی نے کہا : ثقفی عبد یا لیل تھا اور اسکے داماد ربیعہ اور صفوان بن امیہ تھے۔ تسترون کا اکثر علماء کے نزدیک معنی ہے جسے تم چھپاتے ہو ینی جسے اپنے نفوس سے چھپاتے ہو کہ اعضاء تمہارے خلاف گواہی نہ دیں کیونکہ انسان کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے نفس سے کوئی عمل چھپا سکے پس استحفاء، معصیت کو ترک کرنے کے معنی میں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استثنار، اتقاء کے معنی میں ہے یعنی تم دنیا میں قویٰ اختیار کرنے والے نہیں کہ آخرت میں تمہارے اعضاء تمہارے خلاف کوئی گواہی دیں گے تو تم اس شہادت کے خوف سے معاصی کو ترک کر دو ، یہ معنی مجاہد نے بیان کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : وما کنتم تسترون یعنی تم گمان نہیں رکھتے کہ وہ کہے میں نے حق کو سنا اور میں نے یاد نہیں رکھا اور میں نے وہ بات سنی جو معاصی میں سے تھی اور سننا جائز نہ تھی ولا ابصارکم یعنی وہ کہیں : میں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو دیکھا اور میں نے عبرت حاصل نہ کی اور میں نے ایسی چیز کو دیکھا جو جائز نہ تھی ولکن ظنتم انا اللہ لا یعلم کثیراً مما تعملون، لیکن تمہارا گمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت سی چیزوں کو نہیں جانتا جنہیں تم جانتے ہو پس تم اس بات پر جھگڑتے ہو یہاں تک کہ تمہارے اعضاء تمہارے اعمال کے بارے میں گواہی دیں گے۔ بہزبن حکیم نے اپنے باپ سے وہ اپنے ددا سے وہ نبی کریم ﷺ سے ان یشھدعلیکم سمعکم ولا ابصار کم ولا جلودکم کی تفسیر کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں ” قیامت کے روز تمہیں بلایا جائے گا تمہارے مونہوں میں فدام (جانور کے منہ پر ایسی چیز چڑہانا کہ وہ چر نہ سکے) چڑھایا گیا ہوگا انسان کے اعمال کے بارے میں سب سے پہلے جو چیز وضاحت کرے گی وہ اس کی ران اور ہتھیلی ہوگی۔ “ عبداللہ بن عبدالاعلی شامی نے کہا اور خوب کہا : العمر ینقص والذنوب تزید وتقال عثرات الفتی فیعود ھل یستطیع جحود ذنب واحد رجل جوارحہ علیہ شھود والمرء یسال عن سنیہ فیشتھی تقلیلھا وعن الممات یحید عمر کم ہو رہی ہے اور گناہ بڑھ رہے ہیں نوجوان کی لغزشوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور واپس لوٹتا ہے۔ کیا کوئی انسان کسی ایک گناہ کے انکار کی طاقت رکھتا ہے جبکہ اعضاء اس پر گواہ ہیں۔ انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جاتا ہے وہ کمی کی خواہش کرتا ہے اور موت سے پہلو تہی کرتا ہے۔ حضرت معقل بن یسار، نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں :” کوئی دن جو انسان پر آتا ہے نہیں ہے مگر وہ اعلان کرتا ہے اے انسان ! میں نئی مخلوق ہوں جو کچھ تو کرے گا میں کل تیرے خلاف اس پر گواہ ہوں گا مجھ میں اچھا عمل کر میں کل تیرے حق میں گواہی دوں گا اگر میں ایک دفعہ گذر گیا تو مجھے کبھی نہیں دیکھے گا اور رات بھی اس طرح کہتی ہے (1) “ ابو نعیم حافظ نے اسے ذکر کیا ہے ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرۃ “ میں زمین، راتوں، دنوں اور مال کی شہادت کے بارے میں کیا ہے۔ محمد بن بشیر نے کہا اور خوب کہا : مضی امسک الادنی شھیدا معدلاً ویومک ھذا بالفعال شھید فان تک بالا مس اقترفت اساءۃ فثن باحسان وانت حمید ولا ترج فعل الخیر متک الی غد لعل غدا یاتی وانت تقید تیرا قریبی کل گذر گیا جو ایسا گواہ ہے جس کو عادل قرار دیا گیا ہے تیرا یہ دن اعمال پر گواہی دینے والا ہے اگر تو نے گذشتہ کل برا عمل کیا ہے تو دو گناہ احسان کر جبکہ تو، جمود ہے۔ اچھے عمل کو کل تک موخر نہ کر ممکن ہے کل آئے اور تو نہ ہو۔ وذلکم ظئکم الذی ظنتم بربکم اردکم یعنی تمہیں ہلاک کردے اور تمہیں جن ہم میں داخل کردے، قتاوہ نے کہا : یہاں ظن کا لفظ علم کے معنی میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا یمو تن احد کم الا وھو یحسن الظن باللہ فان قوما اساء والظن بربھم فاھلکم تم میں سے کوئی آدمی نہ مرے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسن نظر رکھتاہو اگر کوئی قوم اپنے رب کے بارے میں سوء ظن رکھے تو وہ انہیں ہلاک کردے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان و ذلکم ظئکم الذی ظننتم بربکم اردکم کا یہی مطلب ہے۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ نے کہا : کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں آرزوئوں نے غافل کردیا ہے (1) یہاں تک کہ وہ جھوٹ بولتا ہے اگر وہ اپنے رب کے بارے میں حسن ظن رکھتا تو حسن عمل کرتا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی۔ وذلکم ظئکم الذی ظننتم بربکم اردکم فاصبحتم منالخسرین قتاوہ نے کہا : جو آدمی یہ طاقت رکھتا ہو کہ وہ مرے تو اپنے رب کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو تو وہ ایسا کرے کیونکہ گمان دو طرح کے ہیں ایک ظن نجات دیتا ہے اور ایک ظن ہلاک کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ بدکاریاں کرتے رہے تھے اور ان سے توبہ نہ کرتے تھے، وہ مغفرت کے بارے میں گفتگو کرتے تھے یہاں تک کہ وہ دنیا سے مفلس کی حیثیت سے نکلے پھر اس آیت کو پڑھا ـ: وذلکم ظئکم الذی ظننتم بربکم اردکم فا صبحتم من الخسرین۔ فان یصبروا فا لنار مثوی لھم اگر وہ دنیا میں جہنمیوں کے اعمال پر صبر کرتے رہے تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فما اصبرھم علی النار (بقرہ) جس طرح یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ وان یستعنبوا اگر دنیا میں رضائے الہی کے طالب ہوتے جبکہ وہ اپنے کفر پر قائم ہو تو انہیں اللہ کی رضا نصیب ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر وہ جن ہم میں صبر کریں وہ جزع کریں تو جن ہم ہی ان کا ٹھکانہ ہے اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں جزع پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : وان یستعتبوا کیونکہ مستعب جزع کرتا ہے اور معتسب اسے کہتے ہیں جس کی جزع قبول ہو، نابغہ نے کہا : فاء ن اک مظلوما فعبد ظلمتہ وان تک ذاعتبی فمثلک یعتب اگر میں مظلوم ہوں تو ایسا بندہ ہوں جس پر تو نے ظلم کیا اگر تو رضا والا ہے تو تیری مثل ہی ناراضگی کا سبب دور کرتا ہے تعنی تیری مثل ہی وہ ذات ہے جو صالحیت کو قبول کرتی ہے اور مراجعت کو قبول کرتی ہے جب اس سے اس کا سوال کیا جائے۔ خلیل نے کہا : عتاب سے مراد ہے محبت سے خطاب کرنا اور نارضگی کا ذکر کرنا تو کہتا ہے : عاتبتہ معا تبۃ میں نے کہا اس سے ناراضگی اور محبت کے ساتھ اظہار کیا یہ کہا جاتا ہے : بینھم اعتوبۃ یتعا تبون بھا۔ یہ حملہ بھی کہا جاتا ہے : اذ تعاتبوا صلح مابینھم العتاب اعتبنی فلان، جب وہ نااضگی سے میری خوشی کی طرف لوٹا۔ اس سے اسم عتبی آتا ہے اس سے مراد جس پر عتاب کیا جارہا تھا وہ اس امر کی طرف لو ٹا جس سے عتاب کرنے والا راضی ہوتا ہے۔ استعتب اور اعتب کا معنی ایک ہی ہے۔ استعتب کا معنی یہ بھی ہے کہ اس نے رضامندگی کا مطالبہ کیا تو تو کہتا ہے : استعتتہ فا عتبنی میں نے اسے راضی کرنا چاہا تو اس نے مجھے راضی کردیا۔ وان یستعبوا معنی ہے انہوں نے رضا کو طلب کیا تو اس طلب نے انہیں کچھ نفع نہ دیا بلکہ ان کے لیے جن ہم ضروری ہے۔ تفاسیر میں یہ معنی لکھا ہوا ہے اگر وہ اپنے رب سے بخشش کے طالب ہوں گے تو وہ بخشے جانے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں گے (1) عبید عمیر اور ابو العالیہ نے سے پڑھا ان یستغتبوا یہ مجمول کا صیغہ ہے۔ فما ھم من المتعتئین۔ یعنی اگر اللی تعالیٰ انہیں دنیا کر طرف لوٹا دے تب بھی وہ اس کی اطاعت والے عمل نہیں کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود ہے کہ وہ بدبخت ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولور ذو العاد والمانھو عنہ (الا انعام 28) یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ ثعلب نے کہا : جب وہ نارض ہو تو کہا جاتا ہے اعتبہ جب وہ راضی ہو تو کہتے اعتب (2) ۔
Ayah 41:25

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور ہم نے (شیطانوں) کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا تھا تو انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے تھے اور جنات اور انسانوں کی جماعتیں جو ان سے پہلے گزر چکیں ان پر بھی خدا (کے عذاب) کا وعدہ پورا ہوگیا بیشک یہ نقصان اٹھانے والے ہیں

و قیضنا لھم قرناء نقاش نے کہا : ہم نے ان کے لیے شیاطین کو تیار کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے ان پر ایسے شیاطین مسلط کردیے ہیں جو ان کے ہاں معاصی کو مزین کر کے پیش کرتے ہیں یہ جنوں، شیاطین اور انسانوں میں سے قرتاء ہوں گے یہ کہا جاتا ہے : قیض اللہ فلانا قر ناء۔ قشیری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے میرے لیے رزق کو مقرر کیا جس طرح میں اسے طلب کرتا تھا تقیض کا معنی بدل دینا ہے اسی سے مقایضہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : قا یضت الرجل مقا یضۃ یعنی میں نے اس کے ساتھ سامان کے ساتھ مبادلہ کیا۔ فزینو الھم ما بین ایدیھم مابین ایدیھم سے مراد امور دینا ہیں ان شیاطین نے اسے ان کے لیے مزین کیا یہاں تک کہ اسے آخرت پر ترجیح دی وما خلفھم ان کی موت کے بعد مزین کیا اور انہیں امور آخرت کی تکزیب کی طرف دعوت دی، یہ مجاہد سے مروی ہے سبم نے ان پر مقرر کیا کہ ایسا ہوگا اور ہم نے ان کے خلاف اس کا فیصلہ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے انہیں اقران کا محتاج کردیا یعنی ہم نے فقیر کا محتاج کردیا تاکہ اس سے لے اور غنی کو فقیر کا محتاج کردیا ہے تاکہ وہ اس سے مدد لے تو ان میں بعض نے بعض کے لیے معاصی کو مزین کیا وما خلفھم کا عطف مابین ایدیھم پر نہیں بلکہ معنی ہے انہوں نے آخرت کو ان سے بھلادیا، اس میں اضمار ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مابین ایدیھم سے مراد ہے ان کا امور آخرت کو جھٹلانا اور وما خلفھم سے مراد ہے دینا میں رغبت دلانا۔ زجاج نے کہا : مابین ایدیھم سے مراد ہے جو انہوں نے اعمال کیے وما خلفھم سے مراد ہے انہوں نے نے جن اعمال کا ارادہ کیا۔ مجاہد کا قول پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے لیے وہ ہے جو انہوں نے گناہ کیے اور وما خلفھم سے مراد جو ان کے بعد عمل کیا جاتا رہا۔ وحق علیھم القول فی اممان پر عذاب ثابت ہوگیا جو عذاب ان سے قبل امتوں پر ثابت ہوا تھا جو کافر ہوئے جس طرح انہوں نے کفر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی مع کے معنی ہوگا وہ کافر امتوں کے ساتھ داخل ہوں گے جو ان سے قبل ہوئیں ایسے امور جن میں وہ داخل ہوئے۔ ایک قل یہ کیا گیا ہے : فی امم، فی جملۃ کے معنی میں ہے اسی کی مثل شاعر کا قول ہے : ان تک عن احسن الضیعۃ ما فوکا ففی آخرین قد اء فکوا شاعر یہ ارادہ کرتا ہے تو آخرین کے زمرہ میں ہے تو کوئی اکیلا نہیں۔ فی امم محل نصب میں ہے علیھم کی ضمیر سے حال ہے تقدیر کلام یہ ہوگی حق علیھم القول کا ئنین فی جملۃ امم۔ انھم کانوا خسرین۔ دنیا میں اپنے اعمال میں سے خسارہ اٹھانے والے اور قیامت کے روز اپنی ذاتوں اور اہل میں خسارہ اٹھانے والے تھے۔