Ayahs 40:1–2(حم۔۔۔۔۔۔۔ )
حم۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ عکرمہ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حم اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے یہ تیرے رب کے خزانوں کی چابیاں ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حم اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ الرحم وزن یہ رحمن کے حروف ہیں جو الگ الگ ہیں۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے جس کے ساتھ قسم اٹھائی ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ قرآن کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ سورتوں کے آغاز ہیں۔ عطاء خراسانی نے کہا : حاء اللہ تعالیٰ کے اسماء حمید، حنان، حلیم اور حکیم کا آغاز ہے میم اس کے اسم ملک، محید، منان، مکتبر اور مصور کا آغاز ہے اس کے اوپر روایت دلالت کرتی ہے جو حضرت انس نے روایت کی : ایک اعرابی نے پوچھا : حم کیا ہے ؟ ہم اپنی زبان میں اس کا معنی نہیں پہچانتے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ اسماء کے آغاز اور سورتوں کے فوتح ہیں “۔ ضحاک اور کسائی نے کہا : اس کا معنی ہے جو ہونا تھا اس کا فیصلہ ہوچکا گویا حم کے تہجی کی طرف اشارہ کا ارادہ کیا کیونکہ یہ حم ہوجاتا ہے جب حاء پر پیش اور میم کو مشدد پڑھا جائے یعنی فیصلہ کیا گیا اور وہ واقع ہوگیا۔ کعب بن مالک نے کہا :
فلما تلاقیناھم وادارت بنا الرحی ولیس لا م (رح) مدفع (1)
جب ہم ان سے ملے اور مصائب کی چکی ہم پر گھومی اللہ تعالیٰ جس امر کا قصد کرے اس کو دور کرنے والا کوئی نہیں۔
ان سے یہ بھی مروی ہے کہ حم امر اللہ کا معنی ہے اللہ کا امر قریب ہوگیا : جس طرح شاعر نے کہا :
1 ؎۔ تفسیر ام اور دی، جلد 5، صفحہ 141
قدحم یومی فسر قوم
میرا دن قریب ہوگیا تو قوم کو خوشی ہوئی۔
اسی معنی میں حمی ( بخار) ہے کیونکہ یہ موت کے قریب کردیتا ہے معنی مراد ہے کہ اس کی مدد اس کے اولیاء کے قریب آگئی اور اس کا انتقام اس کے دشمنوں کے قریب آگیا جس طرح یوم بدر کو ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد حروف ہجاء ہیں۔ جرمی نے کہا : اسی وجہ سے انہیں ساکن پڑھا جاتا ہے تو یہ حروف تہجی ہوئے جب اس کے ساتھ کسی شے کا نام رکھا جائے گا تو انہیں اعراب دیا جائے گا تو کہے گا : قرأت تو اسے نصب دے گا۔
عیسیٰ بن عمر ثقفی نے حم میم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس وقت اس کا معنی ہوگا میں حم پڑھتا ہوں یا اجتماع ساکنین کی وجہ سے اس پر زبر پڑھتے ہیں۔ ابن ابی اسحاق اور ابو اسمال نے اسے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے امالہ اور کسرہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہے یا قسم کے طریقہ پر اسے مجرور پڑھا۔ ابو جعفر نے حاء کو میم سے الگ کر کے پڑھا ہے باق قراء نے وصل کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح حم، عسق ہے۔ ابو عمرو، ابوبکر، حمزہ، کسائی، خلف اور ابن ذکوان نے حاء میں امالہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عمرو نے دو لفظوں کے درمیان مروی ہے، یہ نافع، ابو جعفر اور شیبہ کی قرأت ہے جبکہ باقی نہ فتحہ کے ساتھ اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔
تنزیل الکتب یہ مبتداء ہے اور خبر من اللہ العزیز ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تنزیل مبتداء مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہے ھذا التزیل الکتاب یہ بھی جائز ہے کہ حم مبتداء ہو اور تنزیل اس کی خبر ہو اس کا معنی ہوگا اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا یہ منقول نہیں اور نہ ہی اس کو جھٹلانا جائز ہے۔
غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب۔ فراء نے کہا : اے معرفہ کی لغت کی طرح بنا دیا ہے جبکہ یہ نکرہ ہے۔ زجاج نے کہا : یہ بدل کے طور پر محرود ہے۔ نحاس نے کہا : اس بارے میں کلام کی تحقیق اور تلخیص یہ ہے غافر الذنب و قائل التوب میں جائز یہ ہے کہ دونوں معرفہ ہوں اس شرط پر کہ ہم اس کے صیغے ماضی کے معنی میں ہوں تو یہ دونوں نعت ہوں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دونوں مستقبل اور حال کے منی میں ہوں تو یہ دونوں مستقبل اور حال کے معنی میں ہوں تو یہ دونوں نکرہ ہوں گے، یہ جائز نہیں کہ اس کی تعبیر کی بناء پر یہ نعت ہوں لیکن بدل ہونے کے اعتبار سے مجرور ہوں گے حال ہونے کی حیثیت سے مجرور پڑھنا بھی جائز ہے جہاں تک شدید العقاب کا تعلق ہے تو وہ نکرہ ہے اس کو بدل کی حیثیت سے مجرور پڑھنا جائز ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کے لیے وہ غافر الذنب (گناہوں کو بخشنے والا) اور جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کے لیے قابل التوب ہے اور جس نے لا الہ الا اللہ نہیں کہا اس کے لیے شدید العقاب ہے۔
ثابت بنانی نے کہ : میں حضرت معصب بن زبیر کے ایسے خیمہ میں ایسی جگہ تھا جہاں سے جانور نہیں گزرتے تھے میں نے کہا حم۔ تنزیل الکتب من اللہ العزیز العلیم۔ کو شروع کیا ایک آدمی میرے پاس سے ایک چوپائے پر سوار ہو کر گزارا جب میں نے غافر الذنب پڑھا اس نے کہا : کہو یا غافر الذنب ! اغفرلی ذنبی اے گناہوں کو بخشنے والے ! مجھ کو بخش دے میں نے کہا : قابل التوب تو اس نے کہا : کہو ! یاقبل التوب ! تقبل توبتی اے توبہ کو قبول کرنے والے ! میری توبہ قبول فرما۔ جب میں نے کہا : شدید العقاب اس نے کہا : کہو یا شدید العقاب ! عف عنی اے سخت عذاب والے ! مجھے معاف فرما دے جب میں نے کہا : ذی الطول اس نے کہا : کہا یا ذالطول ! طل علی بخیر اے فضل و احسان کرنے والے ! مجھ پر بھلائی کے ساتھ فضل و احسان فرما۔ میں اس کی طرف اٹھا تو میری نظر سلب کرلی گئی میں دائیں بائیں متوجہ ہوا تو میں نے کوئی چیز نہ دیکھی۔ اہل اشارہ نے کہا : غافر الذنب فضل ہے قابل التوب وعدہ ہے شدید القعاب عدل ہے لا الہ الا ھو الیہ المصیر۔ فرد ہے۔
حضرت عمر خطاب ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو شام کے علاقہ کا رہنے والا تھا وہ بڑا آدمی اور بہادر تھا آپ سے عرض کی گئی : وہ تو لگا تار شراب پیتا ہوتا تھا حضرت عمر ؓ نے اپنے کاتب سے فرمایا : لکھو عمر کی جانب سے فلاں کی طرف، تجھ پر سلام ہو میں تیرے سامنے اس اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ حٰمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللہ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ ۔ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِلا ذِی الطَّوْلِط لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَط اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ “ پھر خط پر مہر لگائی اور اپنے قاصد سے فرمایا : تو خط اسے نہ دینا مگر جب شور مچا رہا ہو، پھر آپ نے اپنے پاس بیٹھے لوگوں سے کہا : اس کے حق میں توبہ کی دعا کرو۔ جب اس آدمی کے پاس خط پہنچا تو وہ اسے پڑھنے لگا اور وہ کہتا : میرے رب نے مجھ سے بخشش کا وعدہ کیا ہے اور اپنے عقاب سے مجھے ڈرایا، وہ اسے لگاتاردہراتا رہا یہاں تک کہ رونے لگا پھر اس نے شراب کو چھوڑا تو اچھی طرح چھوڑا اور اس کی توبہ بہت اچھی ہوئی۔ جب حضرت عمرؓ تک اس کی خبر پہنچی : اس طرح کیا کرو جب تم کسی کو دیکھو اس سے لغزش ہوگئی ہے تو اس کی رہنمائی کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اس کی توبہ قبول فرمائے تم اس کے خلاف شیاطین کے مددگار نہ بنو (1) التوب اس میں یہ جائز ہے کہ یہ تاب یتوبکا مصدر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ توبہ کی جمع ہے جس طرح درمۃ سے دوم، عزمۃ سے عزمہ جمع آتی ہے اس معنی میں یہ قول ہے :
فیخبو ساعۃ ویھب ساعا
محل استدلال ساعۃ اور ساعا ہے وہ کسی لمحہ دن کی چال چلتا ہے اور کبھی تیز قدموں سے چلتا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ التوب، توبہ کے معنی میں ہو۔ ابو العباس نے کہا : میرے دل میں جو خیال آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ مصدر یعنی اللہ تعالیٰ اس فعل کو قبول فرماتا ہے جس طرح تو کہتا ہے : قال قولا جب یہ جمع کا صیغہ ہو تو اس کا معنی ہوگا بہت زیادہ کی توبہ کی قبول فرماتا ہے۔
Ayah 40:3ذی الطول یہ بدل یا صفت کے طور پر محل جر میں ہے کیونکہ یہ معرفہ ہے۔ کیونکہ یہ معرفہ ہے۔ طویل کا اصل معنی انعام اور فضل ہے اسی معنی میں یہ دعا کی جاتی ہے : اللھم طل علینا یعنی اے اللہ ! ہم پر انعام فرما اور فضل فرما۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ذی الطول کا معنی ہے نعمتوں والا۔ مجاہد نے کہا : معنی غنا اور وسعت والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : ذی الطول یعنی جو اللہ الہ الا اللہ نہیں کہتا اس سے غنی ہے۔ عکرمہ نے کہا : ذی الطول کا معنی ہے احسان والا (2) ۔ جوہری نے
1 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 50۔ 149 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 142
کہا : طول کا معنی احسان ہے، اسی معنی میں یہ قول کیا جاتا ہے : طال علیہ و تطول علیہ۔ جب اس پر احسان کرے۔ محمد بن کعب نے کہا : ذ الطول کا معنی ہے فضل و احسان فرمانے والا (1) مادردی نے کہا : من اور تفضل میں فرق یہ ہے کہ من کا معنی ہے گناہ سے بخشنا اور تفضل کا معنی ہے غیر مستحق پر احسان کرنا (2) طول، طول سے مآخوذ ہے گویا وہ غیر پر احسان کرنے کے لیے طویل ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے انعام کی مدت طویل ہوگئی۔ المطیر کا معنی لوٹنے کی جگہ ہے۔
Ayah 40:4ما یجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں مجادلہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر کفر کی مہر لگا دی ہے مراد ہے باطل کے ذریعے جھگڑا کرنا، اللہ تعالیٰ کی آیات میں طعن کرنا، حق کو رسوا کرنے کا ارادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دینا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے۔ وجدلوا بالباطل لید حضوا بہ الحق۔ جہاں تک آیات میں اس وجہ سے جدال کرنا تاکہ التباس کو واضح کیا جائے، اس کی پیچیدگی کو حل کیا جائے، اس کے معانی کے استنباط میں علماء کا بحث و تمحیص کرنا اور کج رو لوگوں کا رد کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت بڑا جہاد ہے۔ یہ بحث سورة بقرہ میں آیت ” اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰہٖمَ فِیْ رَبِّہٖٓ“ (بقرہ : 258 )
فلا یغررک اسے فلا فغرک بھی پڑھا گیا ہے تقلبھم کا معنی ان کا گھومنا پڑھتا، اگر تو انہیں مہلت بھی دے تو میں انہیں مہلت نہ دوں گا بلکہ میں انہیں سزا دوں گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد مکہ مکرمہ سے شام اور یمن کی طرف ان کا تجارتی سفر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لا یغررک ان کے پاس جو مال و متاع اور رزق میں وسعت ہے یہ تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے کیونکہ یہ دنیا میں قلیل ہے۔ زجاج نے کہا : معنی ہے ان کا کفر کے باوجود سلامت رہنا تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے کیونکہ ان کے انجام میں ہلاکت ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : جو لوگ قرآن میں جھگڑا کرتے ہیں یہ دو آیتیں ان کے لیے کتنی ہی شدید ہیں ” مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا۔ وان الذین اختلفوا فی الکتب لفی شقاق بعید۔ “ ( البقرہ)
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 142
Ayahs 40:5–9( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ )
کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔
لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا :
فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی (2)
اگر تم مجھے پکڑو گے تو تم مجھے قتل کرو گے اور کتنے ہی پکڑنے والے میری دائمی زندگی کو چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنے رسول کو کپ کپڑا (3) اس کے بارے میں دو قول ہیں (1) جب اس رسول نے انہیں دعوت دی (2) جب ان پر عذاب نازل ہوا۔
لید حضوا بہ الحق یعنی اس کے ذریعے وہ حق کو زائل کردیں، اس معنی میں یہ لفظ بولا جاتا ہے مکان دحض ایسی جگہ جو پھسلاہٹ والی ہو۔ باطل کو داحط بھی کہتے ہیں، کیونکہ وہ پھسل جاتا ہے اور زائل ہوجاتا ہے ایک جگہ قرار نہیں پاتا۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : انہوں نے شرک کر کے انبیاء کے ساتھمجادلہ کیا تاکہ اس کے ذریعے ایمان کو باطل کردیں انہیں عذاب نے پکڑ لیا تو جھٹلانے والی قوموں کے لیے میرا عذاب کیسا تھا (1) کہا : انہوں نے اسے حق نہیں پایا۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 143 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً جلد 5، صفحہ 144
وکذلک حقت یعنی واجب ہوگئی اور لازم ہوگئی یہ حق سے مآخوذ ہے کیونکہ حق بھی لازم ہوتا ہے کلمت ربک یہ عام قرأت ہے یعنی واحد کا صیغہ ہے۔ نافع اور ابن عامر نے اسے کلمات جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔
علی الذین کفروا انھم خفش نے کہا : اصل میں لا نھم اور بانھم تھا۔ زجاج نے کہا : یہ بھی جائز ہے کہ ہمزہ کو کسرہ دیتے ہوئے انھم پڑھا جائے اصحب النار یعنی انہیں آگ کے ساتھ عذاب دیا جائے گا گفتگو مکمل ہوئی، پھر نئے سرے سے کلام شروع ہوئی ” اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج “ روایت کی جاتی ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے ایسے ہیں کہ ان کے قدم سب سے نچلی زمین میں ہیں اور ان کے سر عرش کو پھاڑنے والے ہیں وہ سر جھکائے ہوئے ہیں وہ اپنی نظریں اٹھائے ہوئے نہیں وہ ملائکہ میں سب سے اشرف اور افضل ہیں (2) حدیث طبہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ صبح و شام حاملین عرش کو سلام پیش کریں مقصود تمام فرشتوں پر ان کی فضلیت کا اظہار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے : اللہ تعالیٰ نے عرش کو سبز موتی سے پیدا کیا ہے اس کے پائیوں میں سے دو پائیوں کے درمیان تیز رفتار پرندے کو اسی ہزار سال لگتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عرش کے ارد گرد فرشتوں کی ستر ہزار صفیں ہیں جو عرش کا طواف کرتے ہیں وہ لا الہ الا اللہ کہتے ہیں اور اللہ اکبر کہہ رہے ہوتے ہیں ان کے پیچھے ستر ہزار فرشتوں کی صفیں ہیں جو کھڑے ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھے ہوتے ہیں وہ لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کے ساتھ اپنی آوازیں بلند کررہے ہیں ہیں ان کے پیچھے ایک لاکھ صفیں ہیں جنہوں نے اپنے دائیں ہاتھ بائیں ہاتھوں پر رکھے ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک ایسے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہوں جن کے الفاظ کے ساتھ دوسرا تسبیح نہیں کر رہا۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے العرش پڑھا ہے۔ زمحشری نے ان تمام چیزوں کو ذکر کیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کفار کے ذکر کے ساتھ متصل ہے : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ الذین یحبلون العرش و من حولہ کا معنی ہے وہ اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو کفار کہتے ہیں ویستغفرون للذین امنوا یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ مفسرین کے اقوال یہ ہیں کہ عرش ایک چارپائی ہے۔ ایک عظیم جسم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے فرشتوں کو اس کے اٹھانے کا حکم دیا اور ان پر لازم کیا کہ وہ عرش کی تعظیم بجا لائیں اور اس کا طواف کریں جس طرح زمین میں ایک گھر بنایا اور انسانوں کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں اور نماز میں قبلہ رو ہوں۔
ابن طہمان، موسیٰ بن عقبہ سے وہ محمد بن منکدر سے وہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” مجھے اجازت دی گئی ہے کہ حاملین عرش فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کا ذکر کروں کہ اس کے کانوں کی لوئوں سے لے کر اس کے کندھے کے درمیان سات سو سال کی مسافت ہے (3) یہ بیہقی نے ذکر کیا سورة بقرہ کی آیت الکرسی میں عرشکا ذکر ہوچکا ہے کہ یہ سب سے عظیم مخلوق ہے۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 144 2 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 52۔ 151
3 ؎۔ سنن ابی دائود، کتاب النسۃ، باب الجھمیہ، جلد 2، صفحہ 294
ثور بن یزید، خالد بن معدان سے وہ کعب الاحبار سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا فرمایا : اس نے کہا : اللہ تعالیٰ کبھی بھی مجھ سے بڑی مخلوق پیدا نہیں فرمائے گا تو وہ لرزے گا تو اللہ تعالیٰ نے اسے سانپ کا طوق پہنایا سانپ کے ستر ہزار بازو ہیں ایک بازو میں ستر ہزار پر ہیں ہر پر میں ستر ہزار چہرے ہیں ہر چہرے میں ستر ہزار منہ ہیں ہر منہ ستر ہزار زبانیں ہیں ہر روز ہر منہ سے، بارش کے قطرات کے برابر، درختوں کے پتوں کے برابر، سنگریزوں اور مٹی کی تعداد برابر دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر فرشتوں کی تعداد کے برابر تسبیح نکلتی ہے سانپ عرش کے ساتھ لپیٹا ہوا ہے۔ عرش سانپ کے نصف کے برابر ہے سانپ اس عرش کے ساتھ لپٹا ہوا (1) ہے۔ مجاہد نے کہا : سا تویں آسمان اور عرش کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں نور کا حجاب ہے۔ ظلمت کا حجاب ہے نور کا حجاب ہے اور ظلمت کا حجاب ہے۔
وہ کہتے ہیں : ربنا وسعت کل شی رحمۃ و علما یعنی تیری رحمت اور علم ہر شے کو وسیع ہے جب فعل کو رحمت اور عمل سے نقل کیا گیا تو یہ دونوں تفسیر کے طور پر منصوب ہوئے۔
فاغفر للذین تابو یعنی جنہوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی انہیں بخش دے سبیلک سے مراد دین اسلام ہے وقھم عذاب الجحیم۔ عذاب جہنم کو ان سے دور کر دے یہاں تک کہ وہ ان تک نہ پہنچ سکے۔ ابراہیم نخعی نے کہا : اصحاب عبد اللہ کہا کرتے تھے ملائکہ، ابن کو اء سے بہتر ہیں وہ اہل زمین کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں جبکہ ابن کو اء ان کے بارے میں کفر کی گواہی دیتا ہے۔ ابراہیم نے کہا : وہ کہا کرتے تھے وہ اہل قبلہ سے استغفار کو نہیں روکتے۔ مطرف بن عبد اللہ نے کہا : ہم نے اللہ کے بندوں کے سب سے مخلص فرشتے پائے ہیں اور ہم نے اللہ کے بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ سب سے زیادہ دھوکہ کرنے والے شیاطین پائے ہیں اور اس آیت کی تلاوت کی۔ یحییٰ بن معاذ رازی نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : اسے خوب سمجھو، عالم میں کوئی جنت نہیں جس کی اس سے امید کی جاتی ہو بیشک ایک فرشتہ اگر اللہ تعالیٰ سے تمام مؤمنین کے لیے مغفرت کا سوال کرے تو اللہ تعالٰ انہیں بخش دے تو پھر کیا حال ہوگا جب تمام فرشتے اور حاملین مومنوں کے لیے استغفار کر رہے ہوں۔ خلف بن ہشام بزار قاری نے کہا : میں سلیم بن عیسیٰ کو قرآن سنایا کرتا تھا جب میں اس آیت پر پہنچا تو رونے لگے پھر فرمایا : اے خلف ! مومن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کتنا معزز ہے وہ اپنے بستر پر سویا ہوا ہے جبکہ فرشتے اس کے حق میں بخشش طلب کررہے ہیں۔
ربنا وادخلھم جنت عدن یہ روایت کی جاتی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کعب الاحبار سے فرمایا : جنات عدن کیا ہے ؟ اس نے کہا : جنت میں سونے کے محلات ہیں جن میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور عادل امام داخل ہوں گے التی وعدتھم التی محل نصب میں ہے جو جنات کی صفت ہے ومن صلح من محل نصب میں ہے اس کا عطف ھم پر ہے جو وادخلھم میں ہے ومن صلح یعنی ایمان کے ساتھ صالح ہوگئے۔
1 ؎۔ یہ روایات اسرائیلیات پر مبنی ہیں جن کی صحت کا یقین نہیں کیا جاسکتا۔
من ابائھم وازواجھم وذریتھم سورة رعد میں اس آیت کی مثل گزر چکی ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : ایک آدمی جنت میں داخل ہوگا عرض کرے گا : اے میرے رب ! میرے با پ، دادا اور میری ماں کہاں ہے ؟ میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد اور میری بیویاں کہاں ہیں ؟ تو کہا جائے گا : انہوں نے تیرے عمل جیسا عمل نہیں کیا تھا : تو وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں اپنے لیے اور ان کے لیے عمل کرتا تھا، تو اسے کہا جائے گا : انہیں جنت میں داخل کر دو پھر یہ آیت تلاوت کی ” اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِنِ الَّتِیْ وَعَدْ تَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِم ْط “ آیت کے قریب یہ آیت ہے ” وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ “ (طور : 21 )
وقھم السیات قتادہ نے کہا : انہیں ان چیزوں سے بچا جو انہیں تکلیف دیتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہیں گناہوں کے عذاب سے بچا یہ وقاہ اللہ ییقہ و قایۃ سے امر ہے یعنی اس کی حفاظت کر فقد رحمتہ ٗ یعنی جنت میں داخل کر کے ان پر قوم نے رحم فرمایا، وہ عظیم نجات ہے۔
Ayah 40:10( ان الذین کفرو۔۔۔۔ )
ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفکم اخفش نے کہا : لمقت میں لام ابتدائیہ جو بتادون کے بعد واقع ہوا ہے کیونکہ اس کا معنی ہے یقال لھم ندا بھی ایک قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے انہیں کہا جائے گا : لمقت اللہ ایاکم فی الدنیا اکبر من مقت بعضکم بعضا یومالقیمۃ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تم سے ناراضگی اس سے بڑھ کر ہوگی جو قیامت کے روز تمہاری ایک دوسرے سے ناراضگی ہوگی کیونکہ ان میں سے بعض بعض سے قیادت کے روز دشمنی کریں گے اور ناراضگی کا اظہار کریں گے اس موقع پر وہ مطیع و فرمانبردار بنیں گے عاجزی کریں گے اور جہنم سے نکلنے کا مطالبہ کریں گے۔
کلبی نے کہا : جہنمیوں میں سے ہر ایک انسان اپنے آپ سے کہے گا : اے نفس ! میں تجھ سے ناراض ہوں ملائکہ انہیں کہیں گے جبکہ وہ جہنم میں ہوں گے : جب تم دنیا میں تھے جبکہ تمہاری طرف رسول مبعوث کیے گئے تھے تو اللہ تعالیٰ کی تم سے ناراضگی آج تمہاری اپنے نفسوں سے ناراضگی سے بڑھ کر تھی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہیں ان کی کتاب دی جائے گی جب وہ اپنی برائیوں کو دیکھیں گے تو وہ اپنے آپ سے ناراض ہوں گے تو انہیں ندا دی جائے گی دنیا میں تم سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی، جب تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی تو تم کفر کرتے تھے، آج تمہاری اپنی ذاتوں سے جو ناراضگی ہے اس سے بڑھ کر تھی : یہ مجاہد نے معنی بیان کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے تم سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تو تم کفر کرتے اس سے بڑھ کر تھی جو تم اپنی ذاتوں سے ناراضگی کا اظہار کررہے ہو جب تم نے جہنم کی آگ کو دیکھا ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے : یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے ناراض ہوئے ؟ اس میں دو وجود ہیں (1) انہوں نے اپنے نفوس کو گناہ کی جگہ رکھا جو اس کا محل ہے جس سے ناراض ہوا جاتا ہے (2) جب وہ اس حالت تک جا پہنچے جن سے خواہش نفس زائل ہوگئی اور انہیں علم ہوگیا کہ ان کے نفوس نے ہی انہیں نافرمانیوں میں رکھا تو وہ اس پر ناراض ہوئے۔
محمد بن کعب قرطبی نے کہا : جب جہنمی اس چیز سے مایوس ہوگئے جو جہنم کے دروازوں کے پاس تھی تو مالک نے انہیں کہا تم اسی میں رہو گے جس کا ذکر بعد میں آئے گا تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا : اے ساتھیو ! تم پر عذاب اور آزمائش نازل ہوچکی ہے جسے تم دیکھتے ہو آئو ہم صبر کریں ممکن ہے صبر ہمیں کچھ نفع دے جس طرح اہل اطاعت نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کیا۔ جب انہوں نے صبر کیا تو صبر نے انہیں نفع دیا پس سب نے صبر پر اتفاق کیا انہوں نے صبر کیا تو ان کا صبر ان پر طویل ہوگیا پھر انہوں نے جزع فزع شروع کردی اور یوں ندا کی :” سوا علینا اجز عنا امر صبرنا ما لنا من محیص۔ ( ابراہیم) محیص کا معنی پناہ گاہ ہے اس موقع پر ابلیس نے کہا :” اِنَّ اللہ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْط وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْج فَـلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْط مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیّ َط “ (ابراہیم : 22) اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ط (ابراہیم : 22) جب انہوں نے شیطان کا قول سنا تو وہ اپنے آپ سے ناراض ہوگئے تو انہیں یوں ندا کی گئی :” لَمَقْتُ اللہ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فَتَکْفُرُوْنَ ۔ قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ “ تو ان کا رد اس طرح کیا گیا :” ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللہ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ ج وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْاط فَالْحُکْمُ ِﷲِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ۔ “ ابن مبارک نے اس کا ذکر کیا۔
Ayahs 40:11–12قالو ربنا امثنا اثنتین اہل تاویل نے اس کی کئی تفسرین کی ہیں۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک نے کہا : وہ اپنے آباء کی پشتوں میں مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی دی پھر انہیں دنیا میں وہ دعوت دی (1) جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں پھر انہیں بعث اور قیامت کے لیے دوبارہ زندہ کیا یہی دو زندگیاں اور دو موتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان :” کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ “ (البقرہ : 28) میں یہی مراد ہے۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 146
سدی نے کہا : انہیں دنیا میں موت دی گئی پھر سوال و جواب کے لیے قبروں میں انہیں زندہ کیا گیا پھر انہیں موت دی گئی پھر انہیں آخرت میں زندہ کیا گیا (1) یہ تعبیر اس لیے کی گئی کیونکہ عرف میں نطفہ پر میت کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا۔ علماء نے اس آیت سے قبر میں سوال کے اثبات کا استدلال کیا ہے اگر ثواب صرف روح کو ہونا ہوتا جسم کو نہ ہونا ہوتا تو زندہ کرنے اور مارنے کا کیا معنی تھا۔ جو لوگ آخرت کے احکام صرف ارواح تک محدود رکھتے ہیں اسے نہ موت آتی ہے نہ اس میں تغیر واقع ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خراب ہوتی ہے وہ بذات خود زندہ ہے اسی موت، غشی اور فنا لا حق نہیں ہوتی ابن زیاد نے ربنا امتنااثنتین کے بارے میں کہا : اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں پیدا کیا انہیں نکالا، انہیں زندہ کیا اور ان سے وعدہ لیا پھر انہیں موت دی پھر انہیں دنیا میں زندہ کیا پھر انہیں موت دی۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
فاعترفنا بذنوبنا انہوں نے اس وقت اعتراض کیا جب اعتراف انہیں نفع نہیں دیتا تھا وہ اس وقت شرمندہ ہوئے جب شرمندگی انہیں کوئی نفع نہیں دیتی تھی فھل الی خروج من سبیل۔ کیا ہمیں دنیا کی طرف لوٹا یا جائے گا تاکہ ہم آپ کی اطاعت کے مطابق عمل کریں، اس کی آیات ہیں ھل الی مرد من سبیل۔ ( الشوریٰ ) فارجعنا نعمل صالحاً ( السجدۃ : 12) یلیتنا نرد (الانعام : 27 )
ذلکم بانہ ٗ اذادعی اللہ ٗ وحدہٗ کفرتم۔ ذلکم محل رفع میں ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ الا مرا ذلکم یا تقدیر کلام یہ ہوئی ذلکم العذاب الذی انتم فیہ بکفرکم کلام میں اس کی تقدیر متروک ہے۔ انہیں جواب دیا گیا کہ لوٹنے کی کوئی راہ نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا تو تم نے اس امر کا انکار کردیا کہ الوہیت صرف اس کے لیے ہوا گر کوئی مشرک اس کے ساتھ شرک کرتا ہے تو تم اس کی تصدیق کرتے ہو اور اس کے قول پر ایمان لاتے۔ ثعلبی نے کہا : میں نے ایک عالم کو کہتے ہوئے سنا : اگر دنیا کی طرف لوٹائے جانے کے بعد بھی اس کے ساتھ شرک کیا جائے تو تم شرک کی تصدیق کرتے ہو اسی کی مثال یہ ارشاد ہے :” وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ “ (الانعام : 28) فالحکم للہ العلی الکبیر۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے اس سے بالا ہے کہ ان کی کوئی بیوی یا اولاد ہو۔
1 ؎؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 146
Ayahs 40:13–17( ھو الذی یرکم ایتیہ۔۔۔۔ )
وما یتذکر الامن ینیب۔ ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتا مگر جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت سے مراد اطاعت ہے اگرچہ کافر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ناپسند کریں تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔
رفیع الدرجت ذوالعرش۔ ذوالعرش مبتداء کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ اخفش نے کہا : مدح کی بناء پر نصب دینا بھی جائز ہے رفیع الدرجت کا معنی ہے بلند صفات والی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور سعید بن جبیر نے کہا : سات آسمانوں کو بلند کرنے والا (1) یحییٰ بن سلام نے کہا : جنت میں اپنے اولیاء کے درجہ کو بلند کرنے والا، اس صورت میں رفیع، رافع کے معنی میں ہوگا یعنی فعیل فاعل کے معنی میں ہے، پہلے قول کی بناء پر صفات ذات مراد ہونگی معنی ہوگا اس سے قدر و منزلت میں بڑھ کر کوئی نہیں وہی مدح وثناء کے درجات کا مستحق ہے یہی درجات اس کی اصناف اور ابواب ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی ان کا مستحق نہیں، یہ حلیمی کا قول ہے ہم نے اس کا ذکر ’ ’ الکتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی “ میں کیا ہے۔ الحمد للہ۔ ذوالعرش وہ عرش کا خالق ہے اور مالک ہے وہ عرش کا محتاج نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عربوں کے اس قول سے مآخوذ عرش فلاں یعنی اس کا مالک اور غلبہ زائل ہوگیا جبکہ اللہ تعالیٰ ذوالعرش ہے معنی ہے اس کی حکومت اور سلطنت قائم و ثابت ہے ہم نے اس کی وضاحت بھی ” شرح اسماء الحسنی “ میں کی ہے۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 147
یلقی الروح میں امرۃ علی من یشاء من عبادہ روح سے مراد وحی اور نبوت ہے، اسے روح کا نام دیا گیا ہے کیونکہ لوگ روح کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس طرح بدن روحوں سے زندہ ہوتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : روح سے مراد قرآن ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ط “ (الشوری : 52) ایک قول یہ کیا گیا ہے : روح سے مراد جبریل امین ہے (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ۔ عَلٰی قَلْبِکَ “ (الشعرا : 194) فرمایا :” قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ “ ( النحل : 102)
من امرہ امر سے مرادقول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد قضا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من باء کے معنی میں ہے یعنی اس کے امر سے۔ من یشاء سے مراد انبیاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ انبیاء ہوجائیں۔ اس میں کسی نبی کی مشیت کا کوئی عمل نہیں ہوتا لینذر یوم التلاق۔ اللہ تعالیٰ رسول اس لیے مبعوث کرتا ہے تاکہ قیامت کے دن سے ڈرائے۔ لینذر کی ضمیر رسول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے، معنی ہوگا اللہ تعالیٰ رسولوں کی مخلوقات کی طرف مبعوث کر کے انہیں ڈراتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے لتنذر پڑا ہے، اس میں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے۔
یوم التلاق۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ نے کہا : یوم التلاق سے مراد ہے جس روز آسمان اور زمین والے آپس میں ملیں گے۔ قتادہ، ابو العالیہ اور مقاتل نے کہا : جس میں مخلوق اور خالق ملیں گے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس روز عابد اور معبود ملیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ظالم اور مظلوم ملیں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہر انسان اپنے عمل کی جزاء پائے گا۔ ایک ہی میدان میں پہلے اور بعد والے ملیں گے، یہی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جس کا معنی صحیح ہے یوم ھم برزون یہ پہلے یوم سے بدل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ھم محل رفع میں ہے مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور برزون اس کی خبر ہے جملہ اضافت کی وجہ سے محل رفع میں ہے اسی وجہ سے یوم سے تنوین کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ تعبیر سیوبہ کے نزدیک اس وقت ہوگی جب ظرف اذ کے معنی میں ہو تو کہتا ہے : لقیتک یوم زید امیر جب یہ اذا کے معنی میں ہو تو پھر جائز نہیں جس طرح یہ ہے انا القاک یوم زیاد امیر برزون کا معنی ہے وہ قبروں سے نکلیں گے انہیں کوئی چیزہ پوشیدہ نہ رکھے گی کیونکہ اس روز زمین کھلا میدان ہوگی، اس میں کوئی کجی اور نشیب و فراز نہ ہوگا، جس طرح اس کی وضاحت سورة طہٰ میں گزر چکی ہے۔
لایخفی علی اللہ منھم شی ایک قول یہ کیا گیا ہے : یوم ھم بروزن میں ہی عامل ہے یعنی جس روز وہ نکلیں گے اس پر ان میں سے اور ان کے اعمال میں سے کوئی چیز مخفی نہ ہوگی۔
لمن الملک الیوم یہ مخلوق کے فنا ہونے پر بات ہوگی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : سوال کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ اور جواب دینے والا بھی اللہ تعالیٰ ہوگا، کیونکہ یہ اس وقت فرمائے گا جس وقت کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا، تو وہ خود ہی جواب دے گا (1) اللہ تعالیٰ فرمائے گا : للہ الواحد القھار۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 148 2 ؎۔ ایضاً
نحاس نے کہا : اس بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے ان میں سے صحیح ترین ابو وائل کی روایت ہے جو حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے : لوگوں کو چاندی کی مثل سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جس پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی گئی ہوگی، ایک منادی کو ندا کرنے کا حکم ہوگا جو اعلان کرے گا : لمن الملک الیوم تو مومن و کافر سب بندے کہیں گے : للہ الواحد القھار۔ مومن خوشی اور لذت حاصل کرتے ہوئے یہ کہیں گے اور کافر، عاجزی اور اطاعت کے طور پر کہیں گے۔ جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ یہ سوال ہو اور مخلوق موجود نہ ہو تو یہ امر بعید ہے کیونکہ اس میں تو کوئی فائدہ ہی نہ ہوگا۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے وہ قول صحیح ہے یہ قول قیاس اور تاویل سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔
میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ نمایاں ہے کیونکہ مقصود بادشاہت میں انفرادیت کو ظاہر کرنا ہے کیونکہ مدعیوں کے دعوے، انتساب کرنے والوں کے انتساب ختم ہوچکے ہیں کیونکہ ہر بادشاہ اور اس کا ملک، ہر متکبر اور اس کا ملک جاچکا ان کے نسب اور دعویٰ ختم ہوچکے ہیں۔ اسی چیز پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے کہ زمین کو لپیٹ لیا جائے گا روحیں قبض کرلی جائیں گی اور آسمان بھی لپیٹ لیے جائیں گے۔ انا الملک ابن ملوک الارض (2) میں بادشاہ ہوں اور زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ جس طرح حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عمر ؓ کی حدیث میں گزر چکا ہے پھر اللہ تعالیٰ زمین کو بائیں ہاتھ اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا : پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں جبار کہاں ہیں ؟ متکبر کہاں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لمن الملک الیوم یہ دنیا کے زمانہ کا انقطاع ہے اس کے بعد دوبارہ اٹھانا اور نشر ہوگا۔
محمد بن کعب نے کہا : یہ ارشاد دو نفخوں کے درمیان ہوگا جب مخلوقات فنا ہوجائیں گی اور خالق باقی رہے گا وہ اپنی ذات کے سوا نہ کوئی مالک اور نہ کوئی مملوک دیکھے گا (3) اسے کوئی جواب نہ دے گا کیونکہ تمام مخلوق مردہ ہوگی تو وہ خود ہی جواب دے گا وہ ارشاد فرمائے گا :” للہ الواحد القھار “ کیونکہ وہ خود ہی باقی ہے اور اپنی مخلوق پر غالب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک ندا کرنے والا ندا کرے گا وہ کہے گا : لمن الملک الیوم تو جنتی اسے جواب دیں گے : للہ الواحد القھار : اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، یہ زمحشری نے ذکر کیا ہے (4)
الیوم تجزی کل نفس بما کسبت انہیں یہ کہا جائے گا جب وہ اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے بادشاہت کا اقرار کرلیں گے یعنی ہر نفس نے خیر اور شر میں سے جو کچھ عمل کیا ہوگا اسے آج جزا دی جائے گی لا ظلم الیوم ہر ایک نے جو عمل کیا ہوگا اس کے بدلہ میں سے کوئی کمی نہ کی جائے گی۔
ان اللہ سریع الحساب۔ اسے تفکر اور گننے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی جس طرح حساب کرنے والے کرتے ہیں کیونکہ وہ ایسا عالم ہے جس کے علم میں کوئی چیز غائب نہیں ہوتی تو وہ کسی کی جزاء میں تاخیر نہیں کرتا اس لیے کہ وہ کسی اور کو جزا دینے میں مشغول ہوتا ہے جس طرح وہ ایک ساعت میں سب کو رزق دیتا ہے اسی طرح وہ ایک ساعت میں سب کا محاسبہ کرے گا۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے : ” ابھی نصف النہار کا وقت نہیں ہوگا کہ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے۔
1 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 9 صفحہ 405 2 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الرقاق، یقبض اللہ الارض، جلد 2، صفحہ 965
3 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 148 4 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4 صفحہ 157
Ayahs 40:18–22(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا :
ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد
اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے :
ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی
کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث ہے۔
اذا لقلوب لدی الحناحر کظمین۔ کا ظمین حال ہے معنی پر محمول ہے۔ زجاج نے کہا : معنی ہے دل غصے کی حالت میں گلے میں ہوں گے۔ فراء نے اس کو جائز قرار دیا کہ یہ تقدیر ہو وانذرھم کا ظمین، کا ظمین کو مبتداء کی حیثیت سے رفع دینا بھی جائز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یوم الآزفۃ سے مراد موت کے حاضر ہونے کا دن ہے (1) یہ قطرب کا قول ہے اسی طرح اذالقلوب لدی الحناجر سے مراد بھی موت کے حاضر ہونے کا وقت ہے، پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے۔ قتادہ نے کہا : خوف کی وجہ سے گلے میں اٹک جائے گا نہ یہ نکلے گا اور نہ ہی وہ اپنی جگہ واپس جائے گا (2) یہ قیامت کی گھبراہٹ کی خرب ہے جس طرح فرمایا وبکغت القلوب الحناجر (الاحزاب : 10) یوم کو الازقۃ کی طرف مضاف کیا تقدیر کلام یوں ہوگی یوم القیامۃ او یوم المجادلۃ
کوفیوں کے نزدیک یہ اضافۃ الثی الی نفسہ کے باب سے ہے جس طرح مسجد الجامع، صلاۃ الاولی۔ ما للظلمین من حمیم۔ حمیم کا معنی قریبی ہے جو نفع دے ولا شفیع یطاع۔ اور نہ کوئی ایسا شفیع ہے جو ان کے بارے میں شفاعت کرے۔
یعلم خائنۃ الاعین مورج نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے کلام یوں ہے یعلم الاعین الخائنۃ وہ خائن آنکھوں کو جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا ہو ایک عورت ان کے پاس سے گزرے وہ اس کی طرف نظریں بچا کر دیکھتا ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد وہ آدمی ہے جو ایک عورت کی طرف دیکھتا ہے جب اس کے ساتھی اسے دیکھیں تو وہ اپنی نظریں جھکا لیتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ جان لیا ہے کہ وہ آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کی بےپردگی کو دیکھے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے منع کیا ہے اس کی طرف نظریں بچا کر دیکھنا (3) ضحاک نے کہا : اس سے مراد انسان کا یہ قول ہے مارایت جبکہ اس نے دیکھا یا رایت جبکہ اس نے ہمیں دیکھا تھا۔ سدی نے کہا : اس سے مراد آنکھ سے اشارہ کرنا ہے۔ سفیان نے کہا : اس سے مراد ایک نظر کے بعد دوسری نظر کرنا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وما تخفی الصدور معنی ہے اگر اس کے ساتھ خلوت کرتا تو اس کے ساتھ بدکاری کرتا یا نہ کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وما تخفی الصدور سینے جس کو چھپائے ہوئے ہیں۔
جب عبد اللہ بن ابی سرح کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا جبکہ اہل مکہ کو مطمئن ہوچکے تھے، حضرت عثمان غنی ؓ نے اس کے لیے امان طلب کی تھی رسول اللہ ﷺ طویل وقت تک خاموش رہے تھے پھر فرمایا :” ہاں “۔ جب عبد اللہ بن ابی سرح چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے صحابہ سے فرمایا :” میں خاموش نہیں ہوا تھا مگر اس لیے کہ تم میں سے کوئی ایک اٹھے اور اس کی گردن مار ڈالے “۔ ایک انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے اشارہ کیوں نہ کردیا تو فرمایا : ” اللہ کا نبی آنکھ والا نہیں ہوتا “ واللہ یقضی بالحق جو آدمی محارم سے اپنی نظر کو جھکا کر رکھتا ہے اور جوان کی طرف دیکھتا ہے اور جو آدمی موقع ملنے پر فواحش کا اردہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر ان کو جزا دے گا۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 149 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 150
والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشی من دونہ سے مراد بت ہیں وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرتے کیونکہ وہ کسی چیز کو نہیں جانتے اس پر قادر نہیں اور اس کے مالک نہیں۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے، یہ ابو عبیدہ اور ابو حاتم کا پسندیدہ مسلک ہے۔ نافع، شبیہ اور ہشام نے تدعون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان اللہ ھو السمیع البصیر۔ ھو زائد ہے اور فاصلہ کے لیے آئی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ مبتداء ہونے کی حیثیت سے موفوع ہو اور اس کا ما بعد خبر ہو اور جملہ ان کی خبر ہے۔
اولم یسیر وا فی الارض فینظر وا، فینظر وا جزم کے محل میں ہے اس کا عطف یسیروا پر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل نصب میں ہو کیونکہ یہ جواب ہے تثنیہ اور جمع میں جزم اور نصب ایک ہی ہے کیف کان عاقبۃٗ عاقبۃ، کان کا اسم ہے اور اس کی خبر کیف ہے واق محل جر میں ہے لفظ پر عطف ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو اس کے رفع اور جر کی حالت ایک ہی ہے کیونکہ یاء حذف ہوجاتی ہے اور کسرہ اس پر دلالت کرتا ہے کئی مواقع پر اس آیت کے معنی میں گفتگو گزر چکی ہے پس اس نے اعادہ سے ہمیں غنی کردیا۔
Ayahs 40:23–27(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ )
ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور تکذیب میں اس کا عمل ان دونوں کے اعمال جیسا تھا فقالو سحر کذاب۔ جب وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے تو انہوں نے معجزات کو جادو پر محمول کردیا۔
فلما جاء ھم بالحق من عندنا یہاں حق سے مراد ظاہر معجزہ ہے قالو اقتلوا ابناء الذین امنوا معہ قتادہ نے کہا : یہ قتل پہلے قتل سے مختلف ہے کیونکہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد بچوں کو قتل کرنا چھوڑ دیا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا تو سزا کے طور پر دوبارہ بنی اسرائیل کو قتل کرنا شروع کردیا تھا تاکہ لوگ ایمان لانے سے رک جائیں اور ان کی جمعیت میں اضافہ نہ ہو کہ وہ اپنی اولادوں میں سے مذکر افراد سے قوت حاصل نہ کریں اللہ تعالیٰ نے ان پر جو مختلف قسم کے عذاب نازل کیے جیسے مینڈکوں کی صورت میں عذاب، جو ئوں کی صورت میں عذاب، خون اور طوفان کی صورت میں عذاب اس وجہ سے فرعونی بنی اسرائیل سے غافل ہوگئے یہاں تک کہ بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا معنی بھی یہی ہے : ” وما کید الکفرین الا فی ضلل۔ ضلال کا معنی خسارہ اور ہلاکت ہے۔ لوگ ایمان لانے سے نہیں رکتے اگرچہ وہ اس قسم کا عمل کرے تو اس کا مکر باطل چلا جاتا ہے۔
وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ ولیدع ربہ اقتل فعل مجزوم ہے کیونکہ یہ جواب امر ہے ولیدع مجزوم ہے کیونکہ وہ امر ہے ذرونی مجزوم نہیں اگرچہ امر ہے لیکن اس کا لفظ مجزوم کا لفظ ہے جبکہ وہ مبنی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ فرعون کو کہا گیا ہم ڈرتے ہیں کہ وہ تیرے خلاف بد دعا کریں تو اس کی دعا قبول ہوجائے تو اس نے کہا : وہ اپنے رب کو بلائے یعنی وہ اپنے رب کا جو ذکر کرتا ہے وہ تمہیں خوفزدہ نہ کرے کیونکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں میں تمہارا بڑا رب ہوں انی اخاف ان یبدل دینکم میں تو صرف اسی سے ڈرتا ہوں کہ تم جو میری عبادت کرتے ہو وہ اسے اپنے رب کی طرف نہ پھیر دے او ان یطھر فی الارض الفساد۔ اگر وہ تمہارے دین کو تبدیل کرسکے تو وہ زمین میں ضرور فساد برپا کر دے گا یعنی اس کی وجہ یس لوگوں میں اختلاف واقع ہوجائے گا۔ کو فیوں کی قرأت ہے اوان یظھر یعنی یاء کو فتحہ اور الفساد کو رفع۔ کو فیوں کے مصاحف میں اسی طرح ہے اور الف کے ساتھ ہے : ابو عبید بھی اسی طرف گئے ہیں کہا : اس میں حرف زائدہ ہے اس میں فصل ہے اور او، وائو کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا حاذق نحویوں کے نزدیک یہ جائز نہیں کہ او، وائو کے معنی ہو، کیونکہ اس میں وضعی معنی کا بطلان ہوتا ہے اگر یہ جائز ہو کہ او، وائو کے معنی میں ہو تو یہاں استدلال کی ضرورت ہی نہ ہوتی کیونکہ وائو کا معنی ہے میں دونوں امروں سے خوف کھاتا ہوں او کا معنی ہے دونوں میں سے ایک ڈرتا ہوں یعنی میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارے دین کو بدل دے گا اگر یہ امر اس کے لیے مشکل ہوگیا تو وہ زمین میں فساد کو ظاہر کر دے گا۔
وقال موسیٰ انی عذت بربی وربکم جب فرعون نے آپ کو قتل سے دھمکایا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ من کل متکبر یعنی جو اللہ تعالیٰ پر ایمان سے اپنے آپ کو عظیم خیال کرتا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ وہ یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔