40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 40:56

اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 40:56 in the Quran reader

جو لوگ بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں ان کے دلوں میں اور کچھ نہیں (ارادہ) عظمت ہے اور وہ اس کو پہنچنے والے نہیں تو خدا کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

ان الذین یجادلوں بیشک وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات میں بغیر دلیل کے جوان کے پاس آئی ہو ان کے سینوں میں کبر ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے ان کے سینوں میں کبرہی ہے وہ اپنے ارادہ میں کامیاب ہونے والے نہیں۔ زجاج نے کلام میں حذف تسلیم کیا ہے تقدیر کلام یوں ہے ما ھم ببا لغی ارادتھم فیہ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے وہ اپنے کبرکو پانے والے نہیں اس میں حذف نہیں کیونکہ یہ ایسی قوم ہیں انہوں نے یہ رائے قائم کی اگر انہوں نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی تو ان کی بلندی میں کمی واقع ہوجائے گی اور ان کے حالات خراب ہوجائیں گے جب وہ آپ کی تابعداری نہیں کریں گے تو وہ بلند مقام پائیں گے اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ جس بلندی کی امید رکھتے تھے جھٹلانے کی صورت میں اس بلندی تک نہیں پہنچ پائیں گے مراد مشرک ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : مراد یہودی ہیں، آیت مدنی ہے جس طرح سورت کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے معنی اس کا یہ بنتا ہے اگر وہ حضرت محمد ﷺ سے اپنے آپ کو عظیم خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دجال عنقریب ظاہر ہوگا اور ملک ہماری طرف لوٹا دیا جائے گا اور اس کے ساتھ نہریں چلیں گے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت ہے تو وہ ایسا کبر ہے جس تک وہ پہنچ سکیں گے تو یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی، یہ ابو العالیہ اور دوسرے علماء نے بات کی ہے۔ سورة آل عمر ان میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ وہ نکلے گا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے سوا تمام علاقوں کو روندے گا ہم نے کتاب ’ ’ التذکرہ “ میں اس کا مفصل ذکر کردیا ہے وہ یہودی ہے اس کا نام صاف ہے اس کی کنیت ابو یوسف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد ہر وہ شخص ہے جو نبی کریم ﷺ کا انکار کرے : یہ اچھی تعبیر ہے کیونکہ یہ عام ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے ان کے سینوں میں عظمت ہے وہ اسے پانے والے نہیں معنی ایک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کبر سے مراد بڑا امر ہے یعنی وہ نبوت کا مطالبہ کرتے ہیں یا بڑے امور کو طلب کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ آپ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی قتل وغیرہ۔ وہ اس کو پانے والے نہیں یا آپ کا دین مکمل ہونے سے قبل آپ کی موت کی آرزو کرتے ہیں جبکہ وہ اسکو پانے والے نہیں۔ فاستعذباللہ ایک قول یہ کیا گیا : دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہیے یہ اس کے قول کے مطابق ہے جو کہتا ہے کہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ دوسرے قول کے مطابق کفار کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ کفر اور کبر جیسی جس مصیبت میں مبتلا ہوئے اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہ انہ ھو السمیع البصیر۔ وہ سمیع وبصیر ہے انہ ھو میں ھو ضمیر فصل ہے یہ مبتداء ہوگی اور اس کا ما بعد خبر ہوگی اور جملہ ان کی خبر ہوگا جس طرح پہلے بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 40:57

لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 40:57 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے کی نسبت بڑا (کام) ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس یہ مبتداء اور خبر ہے : یہ ابو العالیہ کا قول ہے یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق دجال کی تخلیق سے بڑھ کر ہے جب یہودیوں نے اس کی عظمت بیان کی (1) ۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : یہ منکرین بعث کے خلاف استدلال ہے یعنی وہ دونوں انسانوں کو دوبارہ تخلیق کرنے سے بڑھ کر ہیں تو انہوں نے کیوں یہ اعتقاد رکھا کہ میں اس سے عاجز ہوں۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 162 ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ یعلمون کا مفعول بہ ذلک ہے لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔
Ayah 40:58

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 40:58 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں اور نہ ایمان لانے والے نیکوکار اور نہ بدکار (برابر ہیں) (حقیقت یہ ہے کہ) تم بہت کم غور کرتے ہو

وما یستوی الا عمی والبصیر یعنی مومن اور کافر، گمراہ اور ہدایت یافتہ برابر نہیں ہو سکتے۔ والذین امنوا و عملوا الصلحت والا المسی جو اچھے اعمال کرتا ہے اور جو برے اعمال کرتا ہے وہ برابر نہیں ہو سکتے قلیلا ما تتذکرون۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے، ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا کیونکہ اس سے قبل اور ما بعد غائب کے صیغے ہیں۔ کو فیوں نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔
Ayah 40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 40:59 in the Quran reader

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

ان الساعۃ لاتیۃ یہ لام تاکید ہے جو ان کی خبر پر داخل ہے اس کا اصل طریقہ تو یہ ہے کہ کلام کے شروع میں ہو کیونکہ یہ جملہ کی تاکید کے لیے آتا ہے مگر اسے اپنی جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے سیبویہ نے بھی اسی طرح کہا ہے تو کہتا ہے : ان عمر الخارج عمرو جانے والا ہے۔ اسے اپنی جگہ سے مؤخر کیا گیا ہے تاکہ لام مفتوح اور ان دونوں جمع نہ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں ایک ہی معنی دیتے ہیں اسی طرح بصریوں کے نزدیک ان ان کو جمع کیا جاتا۔ ہشام نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ ان ان زیدا منطلق حق اگر تو حق کے لفظ کو حذف کر دے تو میں کسی نحوی کو نہیں جانتا کہ جس نے کہا ہو کہ یہ جائز ہے جتنا میں علم رکھتا ہوں : یہ نحاس کا قول ہے۔ لا ریب فیھا اس میں کوئی شک نہیں ولکن اکثر الناس لا یومنون۔ یعنی وہ اس کی تصدیق نہیں رتے اس سے اطاعت شعار اور گناہ گار کے درمیان جو فرق ہے واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 40:60

وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠ Open ayah 40:60 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے ازراہ تکبر کتراتے ہیں عنقریب جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے

( وقال ربکم ادعونی۔۔۔۔۔۔ ) وقال رجکم ادعونی اسجب لکم حضرت عمان بن بشر ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” دعا ہی عبادت ہے (1) “ پھر اس آیت ” وََقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ۔ “ تلاوت کی۔ ابو عیسیٰ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) یہ اس امر پر دال ہے کہ دعا ہی عبادت ہے : اکثر مفسرین نے اسی طرح کہا معنی یہ ہے تم میری وحدانیت کو بیان کرو اور میری عبادت کرو میں تمہاری عبادت کروں گا اور میں تمہیں بخش دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ذکر، دعا اور سوال ہے۔ حضرت انس ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے ہر ایک کو اپنی حاجت کا سوال اپنے رب سے کرنا چاہیے یہاں تک کہ اس کا جوتی کا تسمہ جب ٹوٹ جائے تو اس کا سوال بھی اپنے رب سے کرے “ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : دعا سے مراد گناہوں کا ترک کرنا ہے۔ قتادہ نے ذکر کیا ہے کعب الاحبار نے کہا : اس امت کو تین چیزیں ایسی عطاء کی گئی ہیں کہ ان سے قبل نبی کے سوا کسی امت کو یہ چیزیں نہیں دی گئیں جب کسی نبی کو بھیجا جاتاتو اسے کہا جاتا تو اپنی امت پر شاہد ہے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے بارے میں فرمایا :” لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآئَ عَلَی النَّاسِ “ (البقرہ : 143) نبی کو کہا جاتا تھا : لیس علیک فی الدین من حرج اور اس امت کو کہا گیا ” وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ط “ ( حج : 78) ایک نبی کو کہا جاتا تھا مجھ سے دعا کر میں تیری دعا کو قبول کروں گا جبکہ اس امت سے فرمایا گیا : ادونی استجب لکم۔ میں کہتا ہوں : اس قسم کی بات اپنی رائے سے نہیں کی جاسکتی، ایک مرفوع حدیث ہے جسے لیث، شہر بن حوشب وہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” میری امت کو تین چیزوں ایسی عطاء کی گئی ہیں جیسی مجھ سے قبل انبیاء کو دی گئیں اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے تو ارشاد فرماتا ہے : مجھ سے دعا مانگ میں تیری دعا قبول کروں گا اور اس امت کے بارے میں فرمایا : مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو مبعوث کرتا تو ارشاد فرمایا :” ما جعل علیکم فی الدین من حرج “ اور اس امت کے لیے فرمایا :” وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ط “ (حج : 78) اللہ تعالیٰ جب کسی نبی کو مبعوث فرماتا تو اسے اپنی قوم پر گواہ بناتا اور اس امت کو لوگوں پر گواہ بنایا “۔ اے ترمذی حکیم نے ” نوادر الاصول “ میں ذکر کیا ہے۔ 1 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب التفسیر، سورة بقرہ، جلد 2، صفحہ 121 2 ؎۔ جامع الترمذی، کتاب الدجوات، باب ما جاء فی فضل الدحاء، حدیث نمبر 3294، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ خالد بن ربعی کہا کرتے تھے : اس امت کی عجیب شان ہے اس امت کو کہا گیا : ادعونی استجب لکم انہیں دعا کا حکم دیا اور قبول کرنے کا وعدہ کیا دونوں کے درمیان کوئی شرط نہیں۔ ایک قائل نے اسے کہا : اس کی مثال کیا ہے ؟ فرمایا : اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ “ (البقرہ : 25) یہاں شرط ذکر کی اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ “ (یونس : 2) اس میں عمل کی شرط نہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ” فاذعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ اس میں شرط ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان : ادعونی استجب لکم میں کوئی شرط نہیں۔ امتی گھبراہٹ میں ضرورتوں کے وقت اپنے انبیاء کی طرف جاتے تھے یہاں تک کہ انبیاء ان کے حق میں سوال کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مطلق ہے جبکہ سورة بقرہ میں مقید ہے جو بحث پہلے گزر چکی ہے یعنی استجب لکم ان شئت اگر میں چاہوں گا تو تمہاری دعا قبول کروں گا جس طرح ارشاد فرمایا :” فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِنْ شَآئَ “ ( الانعام : 41) بعض اوقات دعا کی قبولیت عین مطلوب کے علاوہ میں ہوتی ہے جس کی وضاحت سورة بقرہ میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں گزر چکی ہے وہاں ہی اس میں غور کرلو۔ ابن کثیر، ابن محیصن، رویس نے یعقوب سے، عیاش نے ابو عمرو سے ابوبکر اور مفضل نے عاصم سے قرأت نقل کی ہے کہ سیدخلون یہ فعل مجہول ہے باقی قراء نے اسے معروف کا صیغہ پڑھا ہے داخرین کا معنی ہے وہ حقیر و ذلیل ہوں گے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 40:61

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 40:61 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا (کہ اس میں کام کرو) بیشک خدا لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

اللہ الذی جعل لکم اللیل لتسکنوا فیہ اس میں جعل، خلق کے معنی میں ہے جب جعل، خلق کے معنی میں ہو اور جب وہ خلق کے معنی میں نہ ہو تو عرب ان میں فرق کرتے ہیں جب یہ خلق کے معنی میں ہو تو اس وقت یہ ایک مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے اور جب یہ خلق کے معنی میں نہ ہو تو اس وقت یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” انا جعلنہ قرانا عربیا “ ( الزخرف : 3) یہ بحث پہلے گزر چکی ہے والنھار مبصرا یعنی دن کو روشن بنایا تاکہ تم دن میں اپنی ضروریات کو دیکھو اور اپنی معاش کی طلب میں چل پھر سکو ” ان اللہ لذوفضل علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون۔ “ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور انعام کا شکر بجا نہیں لاتے۔
Ayahs 40:62–63

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١ۘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 40:62 in the Quran reader

یہی خدا تمہارا پروردگار ہے جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کہاں بھٹک رہے ہو

كَذٰلِكَ یُؤْفَكُ الَّذِیْنَ كَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 40:63 in the Quran reader

اسی طرح وہ لوگ بھٹک رہے تھے جو خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے

ذلکم اللہ ربکم خالق کلی شیء اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلالت کو واضح کیا لا الہ الا ھو فاتی توفکون۔ جب تمہارے لیے دلائل واضح ہوچکے ہیں تو تم ایمان سے کیسے پھرتے ہو یعنی جس طرح دلیل کے قائم ہونے کے باوجود تم حق سے پھرتے ہو اسی طرح ان لوگوں کو حق سے پھیر دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار کرتے ہیں۔
Ayahs 40:64–65

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں یہی خدا تمہارا پروردگار ہے پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہ زندہ ہے اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو اس کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے

اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا تعریف اور دلیل کی تاکید میں زیادتی کی، زمین کو تمہاری زندگی اور تمہاری موت کے بعد ٹھکانہ بنائو یا والسماء بناء کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ وصور کم فاحسن صور کم یعنی تمہیں بہترین صورت میں پیدا کیا۔ ابو رزین اشہب عقیلی نے صور کم پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : صور میں صور بھی ایک قرأت ہے یہ صورۃ کی جمع ہے اس شعر کو اس لغت میں پڑھا جاتا ہے وہ لونڈیوں کی تعریف کرتا ہے : اشبھن من بقر الخلصا اعینھا وھن احسن من صیرانھا صورا محل استدلال صور ہے صیران یہ صوار یا صوار کی جمع ہے یہ گائیوں کا ریوڑ ہے صوار کا معنی کستوری کا برتن بھی ہے شاعر نے دونوں کو اس شعر میں جمع کیا : اذا اخ الصوار ذکرت لیعی واذکر ھا اذا نفح الصوار جب گائیوں کا ایک ریوڑ ظاہر ہوتا ہے تو میں لیلیٰ کو یاد کرتا ہوں اور جب کستوری کا برتن مہ کے تو تو اسے یاد کر۔ الصیار بھی اس میں ایک لغت ہے۔ ورزقکم من الطیبت ذلکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العٰلمین۔ اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے ھو الحی وہ باقی رہنے والا ہے مرے گا نہیں لا الہ الا ھو فادعوہ مخلصین لہ الدین دین سے مراد اطاعت و عبادت ہے الحمد للہ رب العٰلمین۔ فراء نے کہا : یہ جملہ خبر یہ ہے اور اس میں فعل امر مضمر ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ادعوہ واحمد وہ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے لا الہ الا اللہ تو وہ کہے الحمد للہ رب العٰلمین۔ 1 ؎۔ معالم التنزیل، جلد 5، صفحہ 52
Ayahs 40:66–68

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو میں ان کی پرستش کروں (اور میں انکی پرستش کیونکر کروں) جبکہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان رہوں

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو (پہلے) مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ بنا کر پھر لوتھڑا بنا کر پھر تم کو نکالتا ہے (کہ تم) بچے (ہوتے ہو) پھر تم اپنی جوانی کو پہنچتے ہو پھر بوڑھے ہوجاتے ہو اور کوئی تو تم میں سے پہلے مرجاتا ہے اور تم (موت کے) وقت مقرر تک پہنچ جاتے ہو تاکہ تم سمجھو

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی تو ہے جو جلاتا اور مارتا ہے پھر جب کوئی کام کرنا (اور کسی کو پیدا کرنا) چاہتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

( قل انی نھیت۔۔۔۔۔۔ ) قل انی نھیت اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے مجھے اس اللہ نے منع کیا ہے جو حی وقیوم ہے اور لا الہ الا غیرہ ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں لما جاءنی المینت من ربی یہاں بینات سے مراد توحید کے دلائل ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عاجزی کا اظہار کروں رب العٰلمین کے لیے۔ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کو اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی تو آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ یہ کہیں۔ ھو الذین خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقمۃ ثم یخر جکم طفلا ًیہاں طفل بمعنی اطفال ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ثم لتبلغوا اشد کم یہ وہ حالت ہے جس میں قوت مجتمع ہوجاتی ہے اور عقل مکمل ہوجاتی ہے۔ سورة الانعام میں یہ وضاحت گزر چکی ہے۔ ثم لتکونوا شیوخا، شیوخا میں شین کے ضمہ کے ساتھ۔ نافع، ابن محیصن، حفص، ہشام، یعقوب اور ابو عمرو نے اپنے اصل پر پڑھا ہے کیونکہ یہ فعل کی جمع ہے جس طرح قلب کی جمع قلوب ہے اور راس کی جمع رئوس آتی ہے باقی قراء نے یاء کی رعایت کرتے ہوئے شین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے دونوں جمع کثرت کے صیغے ہیں بہت تھوڑی تعداد میں اشیاخ کا وزن آتا ہے جو اصل میں اشیخ تھا جس طرح فلس کی جمع افلس ہے مگر یاء میں حرکت ثقیل ہے اسے شیخا واحد بھی پڑھا گیا ہے جس طرح طفلا۔ یعنی تم میں سے ہر ایک۔ واحد پر اقتصار کیا گیا ہے کیونکہ غرض جنس کا بیان ہے۔ صحاح میں ہے شیخ کی جمع شیوخ، اشیاخ، شیخۃ، شیخان، مشیخۃ، مشایخ اور مشیوخاء آتی ہے عورت کے لیے شیخۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے عبید نے کہا : کانھا شیخۃ رقوب گویا وہ نگاہ رکھنے والی بڑھیا ہے یوں اس کا باب ذکر کیا جاتا ہے شاخ الرجل یشیخ شیخا یہ اپنے اصل پر حرکت کے ساتھ ہے شیخوخۃ۔ اصل میں یاء متحرک ہے تو اسے کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ کلام میں مفعول کا وزن نہیں۔ شیخ، تشیبخا۔ یعنی وہ بوڑھا ہوگیا۔ و شیختہ۔ میں نے اس کی تکریم کی خاطر اس کو شیخ کے طور پر بلایا۔ شیخ کی تصغیر شبیخ ہے شبیخ شین کے کسرہ کے ساتھ ہے تو شویخ نہ کہہ۔ نحاس نے کہا : اگر شاعر مجبور ہو تو اس کے لیے اشیخ کہنا جائز ہے جس طرح عین اور اعین ہے کیونکہ عین میں حسن ہے کیونکہ یہ مونث ہے۔ شیخ اسے کہتے ہیں جس کی عمر چالیس سال سے بڑھ جائے۔ ومنکم من یتول من قبل مجاہد نے کہا : اس سے مراد قبل اس کے کہ وہ بوڑھا ہوجائے یا ان احوال سے قبل جب وہ ماں کے پیٹ سے نامکمل بچہ کی حیثیت سے نکلے ولتبلغوا اجلا ًمسمی۔ مجاہد نے کہا : موت تو سب کے لیے ہے اور فعل میں لام عاقبت کا ہے لعلکم تعقلون۔ اس کا مفعول ذلک ہے پس تم جانو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ھوا لذی یحی ویمیت تنبیہ میں اضافہ کیا یعنی وہی ذات ہے جو زندہ کرنے اور موت دینے پر قادر ہے فاذا اقضی امرا یعنی جب وہ کسی عمل کو کرنے کا ارادہ کرلے تو اسے فرماتا ہے کن فیکون۔ بن عامر نے جواب امر کے طور پر یکون نصب دی ہے۔ سورة البقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 40:69–76

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں یہ کہاں بھٹک رہے ہیں ؟

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے کتاب (خدا) کو اور جو کچھ ہم نے پیغمبروں کو دے کر بھیجا اس کو جھٹلایا وہ عنقریب معلوم کرلیں گے

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی (اور) گھسیٹے جائیں گے

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

یعنی کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئیے جائیں گے

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم (خدا کے) شریک بناتے تھے ؟

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

(یعنی) غیر خدا کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اسکے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اسکی (سزا ہے) کہ تم اترایا کرتے تھے

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہو گے متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ ) الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔ اذا لا غلل فی اعناقھم یعنی عنقریب انہیں علم ہوجائے گا کہ جس عقیدہ کو انہوں نے اپنا رکھا تھا اس میں وہ باطل ہیں جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے اور ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے جکڑ دیئے جائیں گے۔ تیمی نے کہا : اگر جہنم کے طوقوں میں سے ایک طوق پہاڑ پر رکھا جائے تو اسے ریزہ ریزہ کر دے گا یہاں تک کہ سیاہ پانی تک پہنچ جائے گا۔ السلسل عام قرأت رفع کے ساتھ ہے اس کا عطف الا غلل پر ہے ابو حاتم نے کہا : یسحبون اس قرأت کی بناء پر جملہ مستانفہ ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے اذا الا غلل فی اعناقھم والسلسل مسحوبین حضرت ابن عباس، ابو جوزاء، عکرمہ اور حضرت ابن مسعود نے السلسل کو منصوب پڑھا ہے اور یسحبون کو یاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس قرأت کی صورت میں تقدیر کلام یہ ہوگی یسحبون السلاسل ہے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب وہ اسے کھینچیں گے تو یہ ان پر بہت سخت ہوگا بعض سے یہ السلاسل جر کی صورت میں مروی ہے اس کی توجیہ یہ ہے کہ وہ معنی پر محمول ہے کیونکہ اس کا معنی ہے ان کی گردنیں اغلال اور سلاسل میں ہیں، یہ فراء نے کہا : زجاح نے کا : جس نے والسلسل یستحبون جر کی صورت میں پڑھا ہے اس کے نزدیک اس کا معنی ہے زنجیروں میں انہیں گھسیٹا جائے گا۔ ابن انباری نے کہا : اس معنی کی بناء پر جر جائز نہیں کیونکہ جب تو یہ کہے زید فی الدار تو یہ اچھا نہیں کہ تو فی کو مضمر کردے اور تو کہے زید الدار لیکن معنی کے اعتبار سے جر دینا جائز ہے کیونکہ ان کی گردنیں اغلال اور سلاسل میں ہونگی تو سلاسل کو عطف کی وجہ سے جر دینا جائز ہے کیونکہ اغلال جر کی تاویل میں ہے جس طرح تو کہتا ہے : خاصم عبد اللہ زید العالمین تو تور العافلین کو نصب دے دونوں کو رفع دینا بھی جائز ہے کیونکہ دونوں میں سے جب ایک اپنے ساتھی سے مخاصمت کرے تو اس کا ساتھی بھی اس سے مخاصمت کرے گا : فراء نے یہ شعر پڑھا : قد سالم الحیات منہ القدما الافعوان الشجاع الشجعما الافعوان کو نصب، حیات کی اتباع میں دی گئی جب انہوں نے قدم سے صلح کرلی تو قدم نے بھی ان سے صلح کرلی۔ جو آدمی السلاسل کو نصب دے گا یا اس کو جر دے گا تو وہ اس پر وقف نہیں کرے گا۔ حمیم اسے کہتے ہیں جو گرمی میں اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد کھولتی ہوئی پیپ ہے۔ ثم فی النار یسجرون۔ یعنی اس آگ میں پھینکا جائے گا تو وہ اس کیلئے ایندھن ہوں گے، یہ مجاہد کا قبول ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے مجرت، التنور میں تنور کو روشن کیا، سجرتہ۔ میں نے اسے بھر دیا۔ اسی سے والبحر المسجور۔ ( الطور) ہے یعنی بھرا ہوا سمندر۔ اس تعبیر کی صورت میں معنی یہ ہوگا ان کے ساتھ جہنم بھر جائے گی۔ شاعر ایک پہاڑی بکرے کی تعریف کرتا ہے : اذا شاء طارع مسجورۃ تری حولھا النبع والسمسم جب وہ چاہتا ہے تو بھرے ہوئے چشمے پر جا پہنچتا ہے تو اسے چشمے کے اردگرد نبع کے درخت اور تل کے پودے دیکھے گا۔ ثم قیل لھم ابن ما کنتم تشرکون۔ من دون اللہ یہ کلام شرمندہ کرنے کے لیے ہے قالو اضلوا عنا یعنی ہلاک ہوگئے اور ہم سے دور چلے گئے اور ہمیں عذاب میں چھوڑ دیا یہ ضل الماء فی اللبین سے مآخوذ ہے جس کا معنی ہے پانی دودھ میں چھپ گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اس طرح ہوگئے کہ ہم انہیں پاتے بل لم نکن ندعوا من قبل شیاء یعنی ایسی چیز جو نہ دیکھتی ہے، نہ سنتی ہے، نہ تکلیف دیتی ہے اور نہ نفع دیتی ہے یہ بتوں کی عبادت کا انکار نہیں بلکہ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ وہ بتوں کی جو عبادت کرتے رہے وہ باطل تھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کذلک یضل اللہ الکفرین۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں گمراہی کی تخلیق کیا اسی طرح ہر کافر کے بارے میں یہی کرتا ہے۔ ذلکم بما کنتم تفرحون اسم اشارہ کا مشارالیہ عذاب ہے یعنی یہی وہ عذاب ہے کہ تم نافرمانیاں کرتے خوش ہوا کرتے تھے۔ یہ بات انہیں شرمندہ کرنے کے لیے کہی جائے گی مراد یہ ہے کہ تمہیں یہ چیز اس لیے پہنچی ہے کہ دنیا میں معصیت، کثرت مال، کثرت خدام اور تابعداروں کی زیادتی اور صحت پر خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان باتوں پر ان کی خوشی سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے رسولوں سے کہا ہم جانتے ہیں کہ ہم کو نہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور نہ ہی ہمیں عذاب دیا جائے گا۔ مجاہد نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :” فَلَمَّا جَآئَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَہُمْ مِّنَ الْعِلْمِ “ (المومن : 83) میں یہی کچھ کہا ہے۔ بما کنتم تمرحون۔ مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : یہ اس کے بدلہ میں ہے جو تم اترایا کرتے تھے ” سبحان “ میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ ضحاک نے کہا : فرح کا معنی خوش ہونا ہے مرح کا معنی سرکشی کرنا ہے۔ خالد، ثور سے انہوں نے حضرت معاذ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان اللہ یبغض البذخین الفرحین ویحب کل قلب حزین و یغض اھل بیت الحمین ویبغض کل حبر سمین (1) بیشک اللہ تعالیٰ متکبروں اور خوش ہونے والوں سے بغض رکھتا ہے اور ہر غمگین دل والے سے محبت کرتا ہے، غیبت کرنے والوں سے بغض رکھتا ہے اور اسے علم سے بغض رکھتا ہے جو اپنا علم دوسرے لوگوں کو نہیں بتاتا۔ اھل بیت الحمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو غیبت کے ذریعے لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں حبر سمین سے مراد وہ ہے جو بہت بڑا عالم ہو اور لوگوں کو اس علم سے آگاہ نہ کرے یعنی جس کے پاس علم وافر ہو اور لوگوں کو اس سے فائدہ نہ پہنچائے : یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ لحمین کا معنی یہ بھی کیا گیا ہے وہ بہت زیادہ گوشت کھاتے ہوں اسی معنی میں حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہے : اتقوا ھذہ المجاز فان لھا ضراوۃ کضراوۃ الخمر گوشت کھانے کی عادت سے بچو اس میں ایسی عادت ہے جس طرح شراب کی عادت ہوا کرتی ہے : یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے : پہلا سفیان ثوری کا قول ہیادخلوا ابواب جھنم یعنی انہیں یہ بات کہی جائے گی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” لھا سبعۃ ابواب “ ( الحجر : 44 ) 1 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 165
Ayahs 40:77–78

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

تو (اے پیغمبر ﷺ صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو انکو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دئیے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سواء کوئی نشانی لائے پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑگئے

فاصبر ان وعد اللہ حق یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ہے۔ ہم تیرے لیے ان سے انتقام ضرور لیں گے اس دنیا میں اور آخرت میں فاما نرینک شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے ” ما “ تاکید کی وجہ سے زائدہ ہے اسی طرح نون بھی تاکید کے لیے ہے جزم زائل ہوگئی اور فعل منبی پر فتحہ ہوگیا۔ اوتتو فینک اس کا اس پر عطف ہے فالینا یرجعون یہ شرط کا جواب ہے ولقد ارسلنا رسلا ًمن قبلک اس آیت میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان سے قبل رسولوں نے تکلیفیں پائی ہیں منھم من قصصنا علیک یعنی ہم نے ان خبریں تمہیں بتائیں اور انہوں نے اپنی قوموں سے جو کچھ حاصل کیا وہ تمہیں بتایا ومنھم من لم نقصص علیک وما کان الرسول ان یاتی یاتہ یعنی کوئی رسول بھی اپنی جانب سے کوئی آیت نہیں لایا تھا الا باذن للہ فاذا جاء امر اللہ یعنی جب ان کے عذاب کا مقررہ وقت آپہنچا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اس میں تاخیر اس لیے ہو رہی ہے تاکہ وہ لوگ اسلام لے آئیں جن کے اسلام لانے کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے اور اسی طرح جو ان کی پشتوں میں ہیں اور انہوں نے اسلام قبول کرنا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے ساتھ غزوہ بدرہ میں قتل کی طرف اشارہ ہے قضی بالحق و خسرھنا لک المبطلون۔ مبطلون سے مراد ہے جو باطل اور شرک کی اتباع کرتے ہیں۔
Ayahs 40:79–81

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے چارپائے بنائے تاکہ ان میں سے بعض پر سوار ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں (اور بھی) فائدے ہیں اور اس لئے بھی کہ (کہیں جانے کی) تمہارے دلوں میں جو حاجت ہو ان پر (چڑھ کر وہاں) پہنچ جاؤ اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تو تم خدا کی کن کن نشانیوں کو نہ مانو گے

( اللہ الذی جعل لکم۔۔۔۔۔۔۔ ) اللہ الذی جعل لکم الانعام ابو اسحاق زجاج نے کہا : انعام سے مراد یہاں اونٹ ہیں لترکموا منھا ومنھا تاکلون۔ جن علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ گھوڑے کا گوشت کھانا منع ہے اور اونٹ کا گوشت کھانا مباح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انعام کے بارے میں فرمایا :” ومنھا تاکلون “ اور گھوڑوں کے بارے میں فرمایا :” وَّالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْکَبُوْھَا “ (النحل : 8) ان کے کھانے کی اباحت کا ذکر نہیں کیا۔ سورة نحل میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ولکم فیھا منافع اونٹ کے بالوں، اون بکری کے بالوں، دودھ، مکھن، گھی اور پنیر وغیرہ میں تمہارے لیے منافع ہے ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدور کم یعنی یہ جانور بوجھ اٹھاتے ہیں اور دور دراز سفروں پر لے جاتے ہیں۔ سورة نحل میں مفصل بحث گزر چکی ہے اب اس کے اعادہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ پھر فرمایا : وعلیھا یعنی خشکی میں اونٹوں پر وعلی الفلک اور سمندر میں کشتیوں پر تحملون۔ ویریکم ایتہ یہاں آیات سے مراد وہ آیات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کی قدرت پر دلات کرتی ہے فای ایت اللہ تنکرون۔ تنکرون کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ کلمہ استفہام کلام کے شروع میں آتا ہے اس لیے اس میں اس کا ما قبل عمل نہیں کرتا اگر فعل کے ساتھ ایسی ضمیر ہو جو اسی کی طرف لوٹے تو اس میں رفع پسندیدہ ہے اگر استفہام ہمزہ یا مل کی صورت میں ہو اور ان کے بعد کوئی اسم، اس کے بعد فعل ہو جس کے ساتھ ایسی ضمیر ملی ہو جو اس اسم کی طرف لوٹے تو نصیب دینا پسندیدہ ہوگا معنی یہ بنے گا جبکہ اس کا انکار نہیں کرتے کہ یہ اشیاء اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں تو تم دوبارہ اٹھانے پر اس کی قدرت کا کیوں انکار کرتے ہو ؟۔
Ayahs 40:82–84

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین کی سیر نہیں کہ تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ اور طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

اور جب انکے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے

( افلم یسیروا فی الارض۔۔۔۔۔۔۔۔ ) افلم یسیروا فی الارض کیا انہوں نے زمین میں سیرو سیاحت نہیں کی کہ وہ سابقہ قوموں کے آثار کا مشاہدہ کرتے جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے فما اغنی عنھم ما کانو یکسبون۔ یعنی عمارات، اموال، اولاد اور پیروکاروں نے انہیں کچھ نفع نہ دیا یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ دلوت بفلان الیک یعنی میں نے اسے تیرے پاس سفارش کے لیے بھیجا۔ اس تاویل کی بناء پر ما نافیہ ہے یعنی اس چیز نے انہیں کوئی نفع نہ دیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما استفہامیہ ہے یعنی جب وہ ہلاک ہوئے تو کسی چیز نے انہیں نفع نہ دیا۔ اکثر غیر منصرف ہے کیونکہ وہ فعل کے وزن پر ہے کو فیوں کا خیال ہے کہ ہر وہ اسم جو غیر منصرف ہو تو اسے منصرف پڑھنا جائز ہے مگر افعل من کذا منصرف نہیں ہوگا کیونکہ اسے شعر اور کسی دوسرے صورت میں منصرف پڑھنا جائز نہیں جب اس کے ساتھ من ہو۔ ابو العباس نے کہا : اگر من منصرف ہونے سے مانع ہے تو یہ ضروری ہوگا کہ یہ نہ کہا جائے : مررت بخیر منک و شرمنک و من عمرو۔ فلما جاء تھم رسلھم بالبینت بینات سے مراد واضح آیات ہیں فرحوا بما عندھم من العلم اس کے معنی میں تین قول ہیں : مجاہد نے کہا : بیشک اس علم کی وجہ سے خوش تھے جو ان کے پاس موجود تھا وہ کہتے ہم ان سے زیادہ علم رکھتے ہیں کہ نہ ہمیں عذاب دیا جائے گا اور نہ ہی ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار کے پاس جو دنیوی علم تھا اس پر وہ خوش تھے جس طرح اس آیت میں ہے ” یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج “ (الروم : 7) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو خوش ہوئے وسوال کرتے تھے جب ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ کافروں کو ہلاک کرنے والا ہے اور رسولوں اور مومنوں کو نجات دینے والا ہے تو رسول مومنوں کی نجات سے آگاہی حاصل کرنے کی بناء پر خوش ہوئے وحاق بھم بھم سے مراد وہ کفار ہیں ما کانوا بہ یستھزون۔ یعنی جو رسل ان کے پاس لائے ان کا ان کفار نے استہزا اڑایا تو اس کے عقاب نے ان کا احاطہ کرلیا۔
Ayah 40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے انکو کچھ فائدہ نہ دیا (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اسکے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑگئے

فلما راوا باسنا جب انہوں نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا قالو امنا باللہ وحدہٗ و کفرنا بما کنا بہ مشرکین۔ یعنی ہم ان بتوں کا انکار کرنے والے ہیں جنہیں ہم نے عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا۔ فلم یک ینفعھم ایمانھم جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا انہیں کچھ نفع نہ دے گا۔ سنت اللہ، سنۃ مصدر ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں سن لیس سناوسنۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار میں یہ ضابطہ نافذ کردیا ہے کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ایمان انہیں کچھ نفع نہ دے گا۔ سورة النساء اور سورة یونس میں یہ بحث گذر چکی ہے کہ عذاب دیکھنے اور علم ضروری کے حصول کے بعد توبہ قبول نہ ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے اہل مکہ ! کفار کو ہلاک کرے کا جو ضابطہ ہے اس سے ڈرو سنت اللہ یہ حذ یر واغراء کے طور پر منصوب ہے۔ وخسرھنا لک الکفرون۔ زجاج نے کہا : وہ اس سے قبل خسارے میں تھے مگر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا تو ہمارے لیے ان کا خسران واضح ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہے ” فلم یک ینفعھم ایمانھم المار اواباسنا، وخسرھنا لک الکفرون۔ “ جس طرح تمام کافروں میں ہماری سنت ہے پس سنۃ کا لفظ حرف جا رکے حذف کے ساتھ منصوب ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کی تمام امتوں میں ضابطہ ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 165