40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

(وقال رجل مومن۔۔۔۔۔ ) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ وقال رجل مومن بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے اس آدمی کا نام حبیب تھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام شمعان تھا۔ سہیلی نے کہا : یہ سب سے صحیح قول ہے، تاریخ طبرمی میں ہے اس کا نام فیر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام حزقیل تھا، ثعلبی نے یہ قول حضرت ابن عباس اور اکثر علماء سے ذکر کیا ہے۔ زمحشرمی نے کہا : اس کا حبیب شا شمعان تھا (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام خربیل یا جزبیل تھا۔ یہ اختلاف ہے کہ وہ قطبی تھا یا اسرائیلی تھا۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا : یہ قطبی تھا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ فرعون کا چچا زاد تھا (4) یہ سدی کا قول ہے کہا : یہ وہی شخص تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بچا تھا اسی وجہ سے فرمایا : من اٰل فرعون یہ وہ شحص ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مراد ہے ” وَجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی ز “ (القصص : 20) یہ مقاتل کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آل فرعون میں اس کے، فرعون کی بیوی اور جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا تھا کوئی اور ایمان نہیں لایا تھا اس نے کہا تھا : سردار تمہیں قتل کرنے کے مشورے کر رہے ہیں (5) ۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5 صفحہ 152 2 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 162 3 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 407 4 ؎۔ تفسیر الماوردی جلد، 5، صفحہ 152 5 ؎۔ ایضاً تم اس آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے تیسرا ابوبکر صدیق ہے یہ ان سب سے افضل ہے اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے آپ اپنی قوم کے مشرکوں پر تعجب نہ کریں اس آدمی کو فرعون کے ہاں بڑی وجاہت حاصل تھی اس لیے فرعون نے اس آدمی کے ساتھ کوئی برا رویہ نہ اپنایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آدمی بنی اسرائیل میں سے تھا وہ اپنا ایمان آل فرعون سے چھپاتا تھا : سدی سے بھی یہی قول مروی ہے اس کلام میں تقدیم و تاخیر ہے تقدیر کلام یہ ہے وقال رجل مومن یکتم ایمانہ من آل فرعون۔ جس نے اس آدمی کو قطبی بنایا تو اس کے نزدیک من اس محذوف کے متعلق ہے جو رجل کی صفت ہے تقدیر کلام یہ ہے وقال رجل مومن منسوب من آل فرعون یعنی وہ فرعون کے اہل اور قریبیوں میں سے تھا۔ جس نے اسے اسرائیلی قرار دیا ہے تو اس صورت میں من، یکتم کے متعلق ہوگا یہ یکتم کا مفعول ثانی ہوگا۔ قشیری نے کہا : جس نے اسے اسرائیلی قرار دیا ہے اس میں بعد ہے کیونکہ یہ کہ جاتا ہے کتمہ امر کذا یہ نہیں کہا جاتا : کنتم منہ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ؎ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ (النسائ) نیز یہ بات بھی ہے فرعون بنی اسرائیل میں سے کسی سے اس قسم کا قول برداشت نہیں کرتا تھا۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ اتقتلون رجلا ان یقل ربی اللہ یہاں ان سے پہلے لام محذوف ہے یا من اجلیہ محذوف ہے ان محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جار محذوف ہے وقد جاء کم بالبینت بینات سے مراد نو نشانیاں ہیں وانا یک گا ذبا فعلیہ کذبہ اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور صداقت میں کوئی شک نہ تھا لیکن جو کچھ وہ کر رہے تھے اس سے روکنے میں اور اذیت سے دور کرنے میں نرمی چاہی۔ اگر یہ ان یکن ہوتا تو بھی یہ جائز تھا لیکن سیبویہ کے قول کے مطابق کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ سیبویہ کے قول کے مطابق یہ نون اعرابی ہے۔ یصبکم بعض الذی یعد کم اگر تمہیں ان وعیدوں میں سے ایک ہی آپہنچے تو تم ہلاک ہو جائو گے۔ ابو عبیدہ کا مذہب یہ ہے کہ بعض الذی یعدکم کا معنی ہے کل الذی یعد کم بعنی بعض، کل کے معنی میں ہے : لبید کا شعر ذکر کیا : تراک امکنۃ اذا لم ارضھا او یرتبط بعض النفوس حمامھا جب میں راضی نہ ہوں تو میں کئی جگہوں کو چھوڑ دیتا ہوں یا ان کی موت تمام نفوس کو جکڑ لے۔ یہاں بھی بعض، کل کے معنی میں ہے کیونکہ بعض جب انہیں لا حق ہوگی تو لا محالہ کل کو لا حق ہوگی کیونکہ وہ عید میں داخل ہے وعظ میں کلام میں نرمی پیدا کرنا ہوتا ہے ماوردی نے ذکر کیا بعض کا لفظ کل کی جگہ استعمال ہوتا ہے مقصود خطاب اور کلام میں وسعت ہوتی ہے (1) جس طرح شاعر نے کہا : قدیدرک المثانی بعض حاجتہ قدیکون مع المستعجل الزلل بعض اوقات سستی کرنے والا اپنی حاجت پا لیتا ہے اور جلد باز سے لغزشیں ہوجاتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس لیے فرمایا کہ آپ نے انہیں عذاب کی کئی انواع سے خبردار کیا تھا ان میں سے ہر نوع ہلاک 1 ؎۔ تفسیر المادوری، جلد 5، صفحہ 153 کر دینے والی تھی گویا انہیں اس چیز سے خبردار کیا کہ انہیں ان انواع میں سے کچھ لا حق ہوجائیں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں عذاب دینا یا عذاب آخرت سے ڈرایا تھا اگر وہ کفر کریں معنی یہ ہوگا تمہیں ان میں سے ایک عذاب لا حق ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا : تمہیں عذاب پہنچے گا وہ یہ دنیا میں کہتے تھے یہ بعض وعید ہے پھر آخرت میں اس کے مترادف ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر کفر کریں تو عذاب کا وعدہ کیا اور اگر ایمان لائیں تو ثواب کا وعدہ کیا جب انہوں نے کفر کیا تو جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا اس کا بعض انہیں پہنچا۔ ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف جو اپنی ذات پر اسراف کرنے والا تھا کذاب۔ اپنے رب پر جھوٹ بولنے والا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ ہے، یہ مومن کے قول میں سے ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے عناد میں اسراف کرنے والا ہے کذاب وہ اپنے دعویٰ میں کذاب ہے، اس سے فرعون کی طرف اشارہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 3 :۔ یکتم ایمانہ ٗقاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : بعض نے یہ گمان کیا کہ مکلف جب اپنے ایمان کو چھپائے زبان سے اس کا اظہار نہ کرے تو وہ محض اپنے اعتقاد کی وجہ سے مومن نہ ہوگا (1) امام مالک نے کہا : ایک آدمی جب اپنے دل سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت کرتا ہے اور اپنی زبان سے طلاق نہ کہے تو طلاق اسے لازم ہوجائے گی جس طرح وہ اپنے دل کے اعتقاد کے ساتھ مومن اور کافر ہوجاتا ہے اور ایمان کا مداردل پر ہے حقیقت میں معاملہ اسی طرح ہے لیکن علی الاطاق ایسا نہیں ہم نے اس کی وضاحت اصول فقہ میں بیان کردی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مکلف جب اپنے دل سے کفر کا ارادہ کرے تو وہ کافر ہوجائے گا اگرچہ وہ اپنی زبان سے اظہار نہ کرے مگر جب وہ اپنے دل سے ایمان کی نیت کرے تو وہ کسی حال میں بھی مومن نہیں ہوگا یہاں تک کہ زبان سے اس کا اظہار کرے تقیہ اور خوف اس بات سے مانع نہیں کہ وہ اپنی زبان سے اس چیز کا اظہار کرے جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملات ہیں۔ تقیہ اس چیز سے مانع ہوتا ہے جسے غیر کو سنائے ایمان کی یہ شرط نہیں کہ کسی اور کو وہ سنائے غیر کا سماع اس لیے شرط ہے کہ وہ اپنا اور مال کا دفاع کرے۔ مسئلہ نمبر 4 :۔ بخارمی اور مسلم نے حضرت عروہ بن زبیر سے روایت نقل کی کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے کہا : مجھے وہ واقعہ سنائو (2) جس میں مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سخت ترین رویہ اپنایا ہو کہا : اسی اثناء میں رسول اللہ ﷺ کعبہ کے صحن میں موجود تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اس نے رسول اللہ ﷺ کا ک کندھا پکڑا آپ کا کپڑا گردن میں لپیٹا اور سختی سے آپ کا گلا دبایا حضرت ابوبکر صدیق آئے اس کا کندھا پکڑا اور رسول اللہ ﷺ سے ان کو دور کیا فرمایا : کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے جبکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے بینات لایا ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ ترمذی حکیم نے ” نوادر الاصول ‘ ‘(3) میں جعفر بن محمد سے وہ اپنے باپ سے وہ حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ قریش ابو طالب کی وفات کے تین دن بعد اکٹھے ہوئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ایک آتا آپ کو مارتا اور یہ آتا آپ کو دھکے دیتا اس روز نبی کریم ﷺ نے مدد چاہی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سوا کسی نے آپ ﷺ کی مدد نہ کی آپ کی دو مینڈھیاں تھیں آپ آگے بڑھے اس کو مارتے اور دوسرے کو پرے ہٹاتے اور بلند آواز سے کہتے : تم ہلاک ہو کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اللہ کی قسم ! وہ رسول ہیں اس دن حضرت ابوبکر صدیق کی ایک مینڈھی کٹ گئی۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : اللہ کی قسم ! ابوبکر وہ دن آل فرعون کے مومن سے بہتر تھا، آدمی نے اپنے ایمان کو چھپایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی تعریف کی یہ ابوبکر صدیق ہیں جس نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا اپنے مال اور جان کو اللہ تعالیٰ کے لیے خرچ کیا۔ 1 ؎۔ احکام القرآن لا بن العربی، جلد 4، صفحہ 1659 2 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الفضائل، فضائل ابی بکر، جلد 1، صفحہ 20۔ 519 3 ؎۔ نوادر الاصول، صفحہ، 45۔ 244 میں کہتا ہوں : حضرت علی شیر خدا ؓ کا قول اس آدمی نے اپنے ایمان کو چھپایا۔ آپ نے اس کے ابتدائی مرحلہ کا ارادہ کیا تھا جبکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا اور اسے نہ چھپایا اور نہ قرآن اس امر کی وضاحت کر رہا ہے کہ آل فرعون کے مومن نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا جس کی وضاحت آنے والی ہے۔ ” نور در الاصول “ (1) میں حضرت اسماء بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے لوگوں نے حضرت اسماء سے پوچھا : وہ کون سا تکلیف دہ امر ہے جو تم نے دیکھا جو مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے اپنایا ؟ حضرت اسماء نے کہا : مشرک مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ وہ کیا کچھ ان کے معبودوں کے بارے میں کہتے ہیں ابھی وہ اسی طرح تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے سب اٹھ کھڑے ہوئے جب وہ آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھتے تو آپ ان کی تصدیق کرتے انہوں نے کہا : کیا تو ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ نہیں کہتا ؟ فرمایا : کیوں نہیں، تو وہ سب آپ پر جھپٹ پڑے ایک خبر دینے والا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا آپ سے کہا : اپنے ساتھی تک پہنچو۔ وہ ہمارے پاس سے نکلے جبکہ ان کی مینڈیاں تھیں وہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ وہ کہہ رہے تھے : تم ہلاک ہو کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے میرا رب اللہ ہے جبکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے بینات لایا ہے ؟ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دیا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف متوجہ ہوئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہماری طرف لوٹے آپے اپنی مینڈھوں میں سے کسی کو ہاتھ نہ لگاتے مگر وہ آپ کے ساتھ ہی آجاتی آپ کہتے : تبارکت یا ذوالجلال والاکرام، اکرام اکرام۔ 1 ؎۔ نور درالاصول، صفحہ : 45۔ 244
Ayahs 40:29–33

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

(یقوم لکم الملک۔۔۔۔۔۔ ) یقوم لکم الملک الیوم یہ آل فرعون کے فرعون کا قول ہے اس کا یہ قول لقوم اس امر پر دلیل ہے کہ وہ قبطی تھا وہ اسی وجہ سے اس نے انہیں اپنی ذات کی طرف منسوب کیا اس نے کہا : یقوم تاکہ اس کے وعظ کو قبول کرنے کے قریب ہوجائیں آج حکومت تمہاری ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ظھرین فی الارض یعنی غالب۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تمہارے غلبہ کی حالت میں یہاں ارض سے مراد ارض مصر ہے : یہ سدی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسی طرح فرمایا :” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج “ (یوسف : 56) مصر کے علاقہ میں ” فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللہ اِنْ جَآئَ نَا ط “ (المومن : 29) باس سے مراد عذاب ہے انہیں اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے خبردار کرنا مقصود تھا اگرچہ حضرت موسیٰ سچے ہوں اس نے نصیحت کی اور خبر دار کیا تو فرعون کو ان کی دلیل کے غلبہ کا علمہ و گیا تو اس نے کہا : ما اریکم الا ما اری۔ عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے کہا : میں تمہیں وہی مشورہ دیتا ہوں جو میں بہتر خیال کرتا ہوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور ان پر ایمان لانے سے منع کرنے میں صحیح راستہ کی طرف ہی رہنمائی کرتا ہوں (1) ویقوم انی اخاف علیکم یوم التناد۔ وعظ اور تخویف میں زیادتی کی ہے اور اپنے ایمان کی وضاحت کی یا تو اس لیے یہ کہا کہ اپنے نفس کو قتل ہونے پر تیار کر رہے تھے یا یہ اعتماد تھا کہ وہ اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں گے اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے سچے قول کی وجہ سے ان کے شر سے محفوظ رکھا۔ عام قرأت التناد ہے دال مخفف ہے وہ یوم قیامت ہے۔ امیہ بن ابی صلت نے کہا : 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 154 وبت الخلق فیھا اذدحاما فھم سکانھا حتی التناد (1) جب اس زمین کو پھیلا دیا تو اس میں مخلوق کو پھیلا دیا وہ قیامت تک اس کے رہائشی ہیں۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے کو بلائیں گے اصحاب اعراف ایسے لوگوں کو بلائیں گے جن کو وہ چہروں سے پہچانتے ہوں گے اصحاب جنت، اصحاب النار کو آواز دیں گے :” اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا “ (الاعراف : 44) اور جہنمی اصحاب جنت کو ندا کریں گے :” اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآئِ “ (الاعراف : 50) ایک منادی کرنے والا بد بختی اور سعادت کے حوالے سے اعلان کرے گا خبردار ! فلان بن فلان ایسی بد بختی کے ساتھ بد بخت ہوا جس کے بعد وہ کبھی بھی سعادت مند نہ ہوگا خبردار فلان بن فلان ایسی سعادت کے ساتھ سعادت مند ہوا ہے جس کے بعد وہ بد بخت نہیں ہوگا یہ اعمال کے وزن کے بعد ہوگا ملائکہ جنتیوں کو ندا کریں :” اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ “ ( الاعراف) جب موت کو ذبح کردیا جائے گا تو اس وقت ندا کی جائے گی : اے جنتیو ! یہ ہمیشہ کی زندگی ہے اب موت نہیں اے جہنمیو ! یہ ہمیشہ کی زندگی ہے اب موت نہیں۔ اس ندا کے علاوہ ہر قوم کو اپنے امام کے ساتھ نداء کی جائے گی۔ حضرت حسن بصری، ابن سمیقع، یعقوب، ابن کثیر اور مجاہد نے التناد اصل اور وقف دونوں صورتوں میں یاء کو ثابت رکھنے کے ساتھ قرأت کی ہے۔ حضرت ابن عباس، ضحاک اور عکرمہ نے یوم التناذدال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے بعض اہل عریبہ نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ نہ ندا، یند سے مشتق ہے یہ اس وقت کہتے ہیں جب وہ اسی طرح بھاگتا چلا جائے جس طرح اسی کا منہ ہو۔ کہا : قیامت میں اس کا کوئی معنی نہیں۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ غلط ہے اس کی قرأت اچھی ہے جبکہ اس کا معنی یوم تنافر ہے۔ ضحاک نے کہا : جب وہ جہنم کی آواز کو سنیں گے تو وہ بھاگ کھڑے ہوں گے وہ زمین کے جس حصہ میں آئیں گے وہ فرشتوں کی صفیں پائیں گے تو اسی جگہ کی طرف لوٹ جائیں گے جہاں سے آئے تھے (2) یہی یوم التناد اللہ تعالیٰ کے فرمان :” یٰـمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاََرْضِ “ ( الرحمن : 33) سے مراد ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَآئِہَا ط “ ( الحاقۃ : 17) ابن مبارک نے اس کے معنی کا ذکر کیا۔ عبد الرحمن بن یزید بن جابر، عبد الجبار بن عبد اللہ بن سلمان نے آیت انی اخاف علیکم یوم التناد۔ یوم توتون مدبرین ان کی آنکھیں آنسوئوں کے ساتھ انہیں جواب دیں گی وہ روئیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے پھر آنکھیں خون کے ساتھ انہیں جواب دیں گی تو وہ روئیں گے یہاں تک کہ خون ختم ہوجائے گا پھر ان کی آنکھیں پیپ کے ساتھ جواب دیں گی کہا : ان پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے امر بھیجا جائے گا تو وہ منہ پھیر لیں گے پھر ان کی آنکھیں پیپ کے ساتھ انہیں جواب دیں گی وہ روئیں گے یہاں تک کہ پیپ ختم ہوجائے گی ان کی آنکھیں اتنی گہر ہوجائیں گی جس طرح مٹی میں شوق ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اس وقت ہوگا جب حضرت اسرافیل فزع کا نفخہ پھونکیں گے : اسے علی بن معبد، طبریٰ اور دوسرے علماء نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے ذکر کیا ہے اس میں ہے زمین اس کشتی کی مانند ہوگی جو سمندر میں ہوتی ہے جسے موجیں تھپیڑے مارتی ہیں لوگ اس پر کا نپنے لگیں گے دودھ پلانے والی اپنے بچوں سے غافل ہوجائیں گی اور حاملہ اپنے حملوں کو گرا دیں گی بچے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین بھاگتے ہوئے اڑ رہے ہوں گے فرشتے انہیں ملیں گے ان کے منہ پر ماریں گے جبکہ ایک دوسرے کو ندا کر رہے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی مراد ہے :” یَوْمَ التَّنَادِ ۔ لا یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَج مَا لَکُمْ مِّنَ اللہ مِنْ عَاصِمٍج وَمَنْ یُّضْلِلِ اللہ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ ۔ ہم نے اس کا ذکر کتاب ” التذکرہ “ میں کیا وہاں اس موضوع پر گفتگو کی ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 154 2 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 165 علی بن نصر نے ابو عمرو سے وصل کی صورت میں خاص طور پر التناد دال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو معمر نے عبد الوارث سے وصل کی صورت میں خاص کر یاء کا اضافہ کیا ہے : یہ ورش کا مذہب ہے۔ ابو معمر سے دونوں حالت میں اس کا حذف مشہور ہے۔ ورش اور ابن کثیر کے علاوہ سب نے اسے اسی طرح پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اسے یوم التناد اس لیے نام دیا گیا کیونکہ کافر اسی دن اپنے لیے ویل، ثور اور حسرت کو پکارے گا : یہ ابن صریح نے کہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں اضمار ہے تقدیر کلام یوں ہے انی اخاف علیکم یوم التناد اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے یوم تولون مدبرین یہ یوم التناد سے بدل ہے۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کے دل میں گمراہی پیدا کر دے تو اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں (1) اس کے قائل کے بارے میں دو قول ہیں (1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) (2) آل فرعون کا مومن : یہی زیادہ مناسب ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 40:34–35

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو وہ جو لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے، یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا، اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کردیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے، اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے

( ولقد جاء کم یوسف۔۔۔۔۔۔ ) ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینت ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آل فرعون کے مومن کی نصیحت کا کلمہ ہے انہیں یاد دلایا کہ وہ انبیاء پر پہلے بھی سرکشی کرتے آتے ہیں یہ ارادہ کیا کہ حضرت یوسف بن یعقوب (علیہما السلام) ان کے پاس بینات لائے :” ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار۔ “ (یوسف) ابن جریج نے کہا : اس سے مراد حضرت یوسف بن یعقوب ہیں اللہ تعالیٰ نے جنہیں قبطیوں کی طرف بھیجا تھا جبکہ بادشاہ فوت ہوچکا تھا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہوا، بینات سے مراد خواب ہیں (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد یوسف بن افرائیم ہیں۔ حضرت یوسف بن یعقوب ان کے درمیان بیس سال تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے نقاش نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جنوں میں سے ایک رسول بھیجا جسے یوسف کہا جاتا ہے (2) وہب بن منبہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون حضرت یوسف کا ہی فرعون تھا اسے طویل عمر دی گئی تھی (3) دوسرے علماء کہتے ہیں وہ کوئی اور تھا۔ نحاس نے کہا : آیت میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو اس بات پر دلالت کرے کہ وہ وہی فرعون تھا کیونکہ جب نبی بنیات لایا ان کے لیے جو اس کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے جو ان کے بعد ہیں تو وہ ان سب کے پاس لایا تو سب لازم ہے کہ وہ ان کی وجہ سے اس کی تصدیق کریں۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 155 فمازلم فی شک مما جاء کم بہ یعنی تمہارے اسلاف شک میں تھے حتی اذا ھلک قلتم لن یبعث اللہ من بعدہٖ رسولاً یعنی جو رسالت کا دعویٰ کرے کذلک یضل اللہ اس گمراہی کی طرح یضل اللہ من ھومسرف مسرف سے مرادمشرک ہے مرتاب جو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت میں شک کرے۔ الذین یجادلون فی ایت اللہ یعنی غالب دلائل۔ بغیر سلطن بغیر حجت اور برہان کے الدین یہ من سے بدل ہونے کی حیثیت میں محل نصب میں ہے۔ زجاج نے کہا : اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں مجادلہ کرتا ہے الذین محل نصب میں ہے کہا یہ بھی جائز ہے کہ یہ مرفوع ہو تقدیر کلام ھم الذین ہے، یا یہ مبتداء ہو اور خبر کبرمقتا ہو پھر کہا گیا : یہ آل فرعون کے مومن کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب کا آغاز ہے مقتا بیان کے طور پر منصوب ہے یعنی کبر جدالھم مقتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کبرت کلمۃ (الکہف : 5) مقت اللہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا ان کی مذمت کرنا، اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنی رحمتوں سے دور کرنا اور ان پر عذاب کو نازل کرنا۔ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان جھگڑا کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگائی اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر متکبر جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ ہدایت کو سمجھتا نہیں اور حق کو قبول نہیں کرتا۔ عام قرأت علی کل قلب متکبر ہے یعنی قلب، متکبر کی طرف مصاف ہے، ابو حاتم اور ابو عبید نے اسے پسند کیا ہے کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے کذلک یطبع اللہ علی کل قلب علی کل متکبر جبار دوسرا کل حذف کردیا گیا کیونکہ اس سے پہلے وہ گزر چکا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے جب کل کو حذف نہ کیا جائے تو معنی درست نہیں رہتا کیونکہ اس کا معنی بنتا ہے کہ وہ اس کے تمام دل پر مہر لگا دیتا ہے معنی اس طرح نہیں معنی اس کا یہ ہے کہ وہ متکبرین جبارین کے دلوں میں سے ایک ایک دل پر مہر لگا دیتا ہے ابو دائود کا قول بھی کل کے حدف پر دلالت کرتا ہے : 1 ؎۔ تفسیر ز الماوردی، جلد 5، صفحہ 155 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 166 اکل امرلی تحسبین امرا ونار توقد باللیل نارا کیا تو ہر انسان کو انسان گمان کرتا ہے اور یہ آگ جو رات کو روشن ہوتی ہے تو اسے ضیافت کی آگ سمجھتا ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں علی قلب کل متکبر ہے یہ قرأت تفسیر اور اضافت کی بناء پر ہے اور عمرو، ابن محیصن اور ابن ذاکو ان نے اہل شام سے قلب نقل کی ہے کہ متکبر قلب کی صفت ہے، قلب سے مراد پوری ذات ہے کیونکہ دل تکبر کرتا ہے اور باقی اعضاء اس کے تابع ہوتے ہیں اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان فی الجسد لمفغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوھی ھی القلب (1) بیشک جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب وہ درست ہوجائے تو سارا جسم درست ہوجاتا ہے اور جب وہ فاسد ہوجائے تو تمام جسم فاسد ہوجاتا ہے خبردار ! وہ دل ہے۔
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بنوا تاکہ میں اس پر چڑھ کر راستوں پر پہنچ جاؤں

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اسکے اعمالِ بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ راستے سے روک دیا گیا تھا، اور فرعون کی تدبیر تو بیکار تھی

(وقال فرعون یھا من۔۔۔ ) وقال فرعون لھا من ابی لی صرحا ًجب آل فرعون نے کہا جو کہا تو فرعون کو خوف ہوا کہ اس مومن کا کلام قوم کے دل میں اثر انداز ہوگا تو اسے خیال گزرا کہ وہ اس چیز کا امتحان لے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توحید کا پیغام لائے ہیں اگر اس کا درست ہونا صحیح ہوگیا تو وہ ان سے مخفی نہیں رکھے گا اگر وہ درست نہ ہو تو وہ انہیں ان کے دین پر پختہ رکھے گا اس نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ محل بنائے، سورة قصص میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ لعلی ابلغ الاسباب۔ اسباب السموات، اسباب السموات پہلے الاسباب سے بدل ہے۔ قتادہ، زہری، سدی اور خفش کے قول کے مطابق اسباب السماء سے مراد اس کے دروازے ہیں۔ اور یہ شعر پڑھا : ومن ھاب اسباب النمایا ینلنہٗ ولر رام اسباب السماء بسلم (2) جو موتوں کے اسباب سے ڈرتا ہے وہ اسے پالیتی ہیں اگرچہ آسمان کے دروازوں کا سیڑھی کے ذریعے قصد کرے۔ ابو صالح نے کہا : اسباب السموات سے مراد اس کے راستے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ امور ہیں جن کے وسیلہ سے آسمان مضبوط ہوتے ہیں۔ اسباب کو عظمت شان کے لیے مکرر ذکر کیا ہے کیونکہ جب کسی چیز کو مبہم ذکر کیا جائے پھر اس کی وضاحت کی جائے تو یہ اس کی عظمت شان کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ 1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الایمان جلد 1، صفحہ 13 2 ؎۔ تفسیر الماوردی جلد 5، صفحہ 158 فاطلع الی الہ موسیٰ میں اس کے الہ کی طرف جھانکنے والے کی نظر سے دیکھوں۔ اس نے گمان کیا تھا کہ وہ ایسا جسم ہے جسے مکان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ فرعون الوہیت کا دعویٰ کرتا تھا وہ خیال کرتا تھا کہ اسے ایسی جگہ بیٹھ کر ثابت کیا جاسکتا ہے جہاں سے کسی کی نگرانی کی جاسکے عام قرأت فاطلع ہے اس کا عطف ابلغ پر ہے۔ اعرج، سلمیٰ ، عیسیٰ اور حفص نے فاطلع کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : لعلی کے جواب میں فاء کے ساتھ ہے۔ نحاس نے کہا : نصب کا معنی رفع کے معنی کے خلاف ہے کیونکہ نصب کا معنی ہے جب میں اسباب تک پہنچوں گا میں مطلع ہو جائوں گا، رفع کا معنی ہے میں اسباب تک پہنچوں گا پھر اس کے بعد اس کی اطلاع پائوں مگر ثم، فاء کی بنسبت تراخی میں شدید ہے۔ وانی لا ظنہ گا ذبا میں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہ میرے سوا جو کسی کے الہ کا دعویٰ کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹا ہے۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ محض علت کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہوں یہ اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ فرعون کو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں شک تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ظن یقین کے معنی میں ہے یعنی میں یقین کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے میں جو کچھ کہتا ہوں یہ شبہ کو زائل کرنے کے لیے کہتا ہوں۔ وکذلک زین لفرعون سوء عملہٖ جس طرح فرعون نے یہ بات کی اور اسے شک ہوا شیطان نے یا اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسکے عمل کو مزید کردیا مراد شرک اور جھٹلانا ہے۔ وصدعن السبیل یہ کو فیوں کی قرأت ہے وصد مجہول ہے، یہ ابو عبید اور ابو حاتم کا پسندیدہ قول ہے۔ وصد کی قرأت بھی جائز ہے دال کے کسرہ کو صاد کی طرف نقل کردیا، یہ یحییٰ بن وثاب اور علقمہ کی قرأت ہے۔ ابن ابی اسحاق اور عبد الرحمن بن بکرہ نے وصد عن السبیل قرأت کی ہے یعنی رفع اور تنوین کے ساتھ قرأت کی ہے باقی قراء نے وصد یعنی فرعون نے لوگوں کو صراط مستقیم سے روکا۔ تباب کا معنی خسران اور گمراہی ہے اسی سے تبت یدا ابی لھب (لہب : 1) وما زادوھم غیر تتبیب۔ (ہود) ایک جگہ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کے مینار کو گرا دیا وہ خود اور اس کی قوم ہلاک ہوگئی جس طرح پہلے بحث گزر چکی ہے۔
Ayahs 40:38–44

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو، میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤں

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی (چند روز) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جو برے کام کرے گا اس کو بدلہ بھی ویسا ہی ملے، اور جو نیک کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ہوگا تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے، وہاں ان کو بیشمار رزق ملے گا

وَ یٰقَوْمِ مَا لِیْۤ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ وَ تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَى النَّارِؕ Open ayah 40:41 in the Quran reader

اور اے قوم ! میرا کیا (حال) ہے کہ میں تو تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے (دوزخ کی) طرف بلاتے ہو

تَدْعُوْنَنِیْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ اُشْرِكَ بِهٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١٘ وَّ اَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ Open ayah 40:42 in the Quran reader

تم مجھے اس لئے بلاتے ہو کہ خدا کے ساتھ کفر کروں اور اس چیز کو اس کا شریک مقرر کروں جس کا مجھے کچھ بھی علم نہیں، اور میں تم کو (خدائے) غالب (اور) بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ Open ayah 40:43 in the Quran reader

سچ تو یہ ہے کہ جس چیز کی طرف تم بلاتے ہو اس کو دنیا اور آخرت میں بلانے (یعنی دعا قبول کرنے) کا مقدور نہیں اور ہم کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں

فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ١ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ Open ayah 40:44 in the Quran reader

جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں، بیشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے

(وقال الذی امن یوم۔۔۔ ) وقال الذین امن یقوم اتبعون آل فرعون کے مومن نے جو کہا یہ اس کا تتمہ ہے یعنی دین میں میری اقتدار کرو اھدکم سبیل الرشاد۔ یعنی ہدایت کے راستہ کی طرف، اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت معاذبن جبل نے اسے الزشاد پڑھا ہے جبکہ اکثر عربوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ باب افعال سے یوں فعل ذکر کیا جاتا ہے ارشد یرشد۔ افعال سے فعال کا وزن نہیں ہوتا یہ ثلانی سے وزن آتا ہے جب تو رباعی سے کثرت کا ارادہ کرتا ہے تو مفعال کہتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رشاد، یرشد کے معنی میں ہو نہ کہ وہ اس سے مشتق ہو لیکن جس طرح یہ کہا جاتا ہے لا ال یہ لولو سے ہے یہ اس کے معنی میں ہے مگر اس سے مشتق نہیں مانا جاتا۔ یہ بھی جائز ہے کہ رشاد یہ رشد یرشد سے ہو جس کا معنی صاحب رشاد ہو۔ جس طرح کسی نے کہا : کلینی لھم یا میمۃ ناصب زمحشری نے کہا : اسے الرشاد بھی پڑھا گیا ہے یہ فعال کا وزن ہے یہ رشد سے مشتق ہے جس طرح علام، علم سے مشتق ہے یا رشد سے مشتق ہو جس طرح عباد ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارشد سے مشتق ہے جس طرح جبار، اجبر سے مشتق ہے یہ اس طرح نہیں کیونکہ افعل سے فعال چند کلمات سے ہی آتا ہے جس طرح دراک، سار، تضار اور جبار ان قلیل کلمات پر قیاس صحیح نہیں۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ رشد کی طرف منسوب ہو جس طرح عواج اور بتات ہے اس میں فعل کی طرف نہیں دیکھا جاتا مصحف میں اتبعون یاء کے بغیر ہے یعقوب اور ابن کثیر وصل اور وقف میں یاء کے اثبات کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عمرو اور نافع نے وقف میں اسے حذف کیا ہے اور وصل میں اسے ثابت رکھا ہے مگر ورش نے اسے دونوں حالتوں میں حذف کیا ہے۔ یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع یعنی تھوڑا سا اس سے لطف اندوز ہوجاتا ہے پھر یہ دنیا منقطع ہوجانی ہے اور زائل ہوجانی ہے وان الاخرۃ ھی دارالقرار۔ یعنی آخرت قرار اور ہمیشگی کا گھر ہے۔ دارآخرت سے مراد جنت اور دوزخ کیونکہ یہ دونوں فانی نہیں اس ارشاد کے ساتھ اس کی وضاحت کی من عمل سیۃ جس نے شرک کیا مثلھا سے مراد عذاب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عمل صالح سے مراد لا الہ الا اللہ ہے جبکہ وہ اپنے دل سے اللہ تعالیٰ اور انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہو یدخلون یہ مجہول کا صیغہ ہے : یہ ابن کثیر، ابن محصین، ابو عمرو، یعقوب اور ابوبکر کی عاصم سے روایت ہے باقی قراء نے اسے معروف کا صیغہ پڑھا ہے یعنی یدخلون۔ ویقوم ما لی ادعو کم الی النجوۃ نجات سے مراد ایمان کا راستہ ہے جو جنتیوں تک پہنچانے والا ہے وتدعوننی الی النار اس میں اس امر کی وضاحت کی کہ فرعون نے جو کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الارشاد۔ یہ وہ گمراہی کا راستہ تھا جس کا انجام جہنم ہے انہوں نے آپ کو فرعون کی اتباع کی دعوت دی تھی اسی وجہ سے کہا : تد عونتی لا کفر بالا واشراک بہ ما لیس لی بہ علم اس سے مراد فرعون ہے۔ اور میں تمہیں عزیز و غفار کی طرف دیتا ہوں لا جرم اس کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے اس کا معنی ہے حقا، ان ما اس میں ما، الذی کے معنی میں ہے لیس لہ دعوۃ زجاج نے کہا : تقدیر کلام یہ ہے (1) لیس لہ استجابہ دعوۃ تنفع اس کے لیے دعوت کی قبولیت نہیں جو نفع دے۔ دوسرے علماء نے کہا : اس کی ایسی دعوت نہیں جو اس کیل یے الوہیت کو ثابت کرے۔ فی الدنیا ولا فی الاخرۃ کلبی نے کہا : اس کے لیے دنیا و آخرت میں کوئی شفاعت نہیں، فرعون پہلے بتوں کی عبادت کی طرف بلاتا تھا پھر لوگوں کو گائے کی پوجا کی دعوت دی جب تک وہ زندہ ہوتی اس کی عبادت کی جاتی جب وہ بوڑھی ہوجاتی تو اسے ذبح کرنے کا حکم دے دیتا پھر دوسری گائے لے آتا تاکہ اس کی بادت کی جائے۔ جب اس پر طویل زمانہ گزر چکا تو کہا : میں تمہارا بڑا رب ہوں۔ وان المسرفین ھم اصحب النار۔ قتادہ اور ابن سیرین نے کہا : مفسرین سے مراد مشرک ہیں (2) مجاہد اور شعبی نے کہا : اس سے مراد سفہاء اور ناحق خون بہانے والے ہیں۔ عکرمہ نے کہا : مراد جبار اور متکبر ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حدود اللہ سے تجاوز کیا۔ اس کی تعبیر میں جو بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں یہ ان سب سے جامع ہے۔ ان جتنے بھی مواقع پر آیا ہے وہاں یہ محل نصب میں ہے کیونکہ حرف جار ساقط ہے۔ سیبویہ نے خلیل سے یہ قول نقل کیا ہے کہ لاجرم کلام کا رد ہے اور ان کا محل رفع میں ہونا بھی جائز ہوگا تقدیر کلام یہ ہوگی وجب انی ما تدعونی الیہ یعنی جس چیز کی طرف تم دعوت دیتے ہو وہ ثابت ہے گویا فرمایا : جس امر کی طرف تم دعوت دیتے ہوئے اس کا بطلان، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا اور مسرفین کا اصحاب نار میں سے ہونا ثابت ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 170 2 ؎۔ ایضاً فستذکرون ما اقول لکم یہ دھمکی اور وعید ہے اور ما کا الذی کے معنی میں ہونا بھی جائز ہے یعنی جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مصدر ہو جو میں نے تمہیں کہا ہے جب تم پر عذاب واقع ہوگا اس وقت تم میرا قول یاد کرو گے۔ واقوض امری الی اللہ میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنا معاملہ اس کے سپرد کر تا ہوں۔ ایک قول یہ کیا گا ہے : یہ ارشاد اس امر پر دلالت کرتا ہے انہوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ مقاتل نے کہا : یہ مومن پہاڑ کی طرف بھاگ گیا تھا اور وہ اسے پکڑنے پر قادر نہ ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بات کرنے والے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے، زیادہ ظاہر یہی ہے کہ بات کہنے والا آل فرعون کا مومن تھا (1) یہی حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
Ayahs 40:45–46

فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ Open ayah 40:45 in the Quran reader

غرض ! خدا نے موسیٰ کو ان لوگوں کی تدبیروں کی برائیوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا١ۚ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ Open ayah 40:46 in the Quran reader

(یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

( فوقہ اللہ سیات ما مکرواو۔۔۔۔۔۔۔۔ ) فوقہ اللہ سیات ماماکرواللہ تعالیٰ نے اسے بچا لیا عذاب کی جو انواع انہوں نے آپ کو پہنچانے کا مکر کیا تھا انہوں نے اسے تلاس کیا اور اور نہ پایا کیونکہ اس نے اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا۔ قتادہ نے کہا : وہ قطبی تھا اللہ تعالیٰ نے اسے اسرائیل کے ساتھ نجات دی، اس تعبیر کی بناء پر ھاء ضمیر آل فرعون کے مومن کے لیے ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہوگی جس طرح یہ اختلاف پہلے گزر چکا ہے۔ و حاق بال فرعون سوء العذاب۔ کسائی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے حاق یحیق حیقاوحیوقا یعنی کوئی چیز نازل ہو اور لازم ہو پھر عذاب کی وضاحت کی اور فرمایا : النار یعرضون علیھا اس میں چھ وجوہ ہیں : یہ مرفوع ہوا اور سوء سے بدل ہو یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام ہوں ہوھو الناریہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہو۔ فراء نے کہا : یہ ضمیر عائد کی وجہ سے مرفوع ہو تقدیر کلام یوں ہو النار علیھا یعرضون رفع میں یہ چار وجوہ ہیں۔ فراء نے اس میں نصب کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ اس کے ما بعد ضمیر عائد ہے اور اس سے ما قبل وہ چیز ہے جس کے ساتھ یہ متصل ہے۔ اخفش نے العذاب سے بدل کے طور پر جر کو جائز قرار دیا ہے۔ جمہور نے کہا ہے یہ پیشی برزخ میں ہے۔ بعض علماء نے النار یعرضون علیھاغدواو عشیا سے عذاب قبر کا اثبات کیا ہے جب تک دنیا قائم ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا : مجاہد، عکرمہ، مقاتل اور محمد بن کعب نے اسی طرح کا قول کیا ہے سب نے کہا : یہ آیت دنیا میں عذاب قبر پر دلالت کرتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ عذاب آخرت کے بارے میں فرمایا :” ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا آل فرعون اشد العذاب۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے حدیث طیبہ میں ہے :” آل فرعون اور جو ان کی مثل کافر ہیں ان کی روحوں کو صبح اور شام کے وقت آگ پر پیش کیا جاتا ہے انہیں کہا جاتا ہے : یہ تمہارا گھر ہے “۔ ان سے یہ بھی مروی ہے :” ان کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہیں وہ ہر روز صبح اور شام کے وقت دو دفعہ جہنم پر جاتے ہیں “۔ یہی ان کی پیشی ہے۔ شعبہ نے یعلی بن عطاء سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے میمون بن مہران کو کہتے ہوئے سنا حضرت ابوہریرہ ؓ صبح کے وقت یہ اعلان کرتے : الحمد اللہ ہم نے صبح کی اور آل فرعون کی آگ پر پیش کیا گیا جب شام ہوتی تو اعلان کرتے الحمد للہ ہم نے شام کی اور آل فرعون کو آگ پر پیش کیا گیا : کوئی بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کو نہ سنتا مگر آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 158 ضخر بن جویریہ، نافع سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” کافر جب فوت ہوتا ہے تو اسے صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت کی ” النار یعرضون علیھا عدواو عشیا “ جب مومن فوت ہوتا تو اس کی روح صبح و شام جنت پر پیش کی جاتی ہے “۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے جب کوئی فوت ہوتا ہے تو صبح اور شام کو اس کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنتی ہو تو جنتی ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جہنمی ہو تو جہنمی ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے : یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز تجھے دوبارہ اٹھائے گا “۔ (1) فراء نے کہا : غداۃ اور عشیہ یہ اس دنیا کے اعتبار سے ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ کہا : غدوا غشیا یہ دنیا کے ایام کے اعتبار سے ہے۔ حماد بن محمد فزاری نے کہا : ایک آدمی نے اوزاعی سے کہا ہم پرندے دیکھتے ہیں جو سمندر سے نکلتے ہیں جو مغرب کی سمت کو جاتے ہیں وہ سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں وہ فوج در فوج ہوتے ہیں ان کی تعداد اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا جب پچھلا پہر ہوتا ہے تو اسی کی مثل سیاہ پرندے لوٹتے ہیں فرمایا : یہی وہ پرندے ہیں جن کی پوٹوں میں آل فرعون کی روحیں ہیں جنہیں صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے ہیں جبکہ ان کے پر جل چکے ہوتے ہیں اور وہ سیاہ ہوجاتے ہیں رات کے وقت ان کے سفید پر اگتے ہیں پھر وہ صبح کرتے ہیں تو انہیں صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹتے ہیں۔ جب تک دنیا رہے گی ان کا یہ معمول رہے گا جب قیامت ہوگی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” ادخلو ال فرعون اشد العذاب۔ “ اشد العذاب سے مراد ھاویہ ہے۔ اوزاعی نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے وہ چھبیس لاکھ ہیں عدوا اصل میں مصدر ہے مجاوزاً اسے ظرف بنایا گیا ہے وغشیا کا اس پر عطف کیا گیا ہے گفتگو یہاں مکمل ہوئی پھر نئی کلام شروع کرے گا ویوم تقوم الساعۃ یوم کو نصب ادخلوا کے قول سے دی گئی ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ یعرضون کی وجہ سے منصوب ہو معنی ہوگا دنیا میں انہیں آگ پر پیش کیا جائے گا ویوم تقویم الساعہ اس پر وقف نہ کیا جائے گا۔ نافع، اہل مدینہ حمزہ اعور کسائی نے ادخلوا پڑھا ہے یعنی ہمزہ یعنی ہے اور خاء مکسور ہے یہ ادخل سے مشتق ہے : یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ انہیں جہنم میں داخل کریں اس کی دلیل النار یعرضون علیھا ہے باقی قراء نے اسے ادخلو پڑھا ہے یہ دخل سے مشتق ہے یعنی انہیں کہا جائے گا : اے آل فرعون ! شدید ترین عذاب میں داخل ہو جائو، یہ ابو حاتم کا پسندیدہ نقطہ نظر سے کہا : پہلی قرأت کے مطابق آل مفعول اول ہے اور اشد مفعول ثانی ہے یہاں حرف جار حذف ہے دوسری قرأت میں یہ منصوب ہے کیونکہ یہ منادی مضاف ہے اور آل فرعون سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس کے دین اور مذہب پر تھے۔ وہ لوگ جو اس کے مذہب اور دین پر تھے ان کا عذاب شدید ترین تھا تو اس کے لیے عذاب کا عالم کیا ہوگا۔ 1 ؎۔ صحیح بخاری، کتاب الجنائز، المیت یعوض علیہ مقعد، جلد 1، صفحہ 184 حضرت ابن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے :” بیشک بندہ جو مومن کی حیثت سے پیدا ہوتا ہے مومن کی حیثیت سے زندہ رہتا ہے اور مومن کی حیثیت سے مرتا ہے ان میں سے حضرت یحییٰ بن زکریا ہیں وہ مومن کی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں، مومن کی حیثیت سے زندہ رہے اور مومن کی حیثیت سے فوت ہوئے اور ایک بندہ کافر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے کافر کی حیثیت سے زندہ رہتا ہے اور کافر کی حیثیت سے مرتا ہے ان میں سے ایک فرعون ہے کافر کی حیثیت سے پیدا ہوا، کافر کی حیثیت سے زندہ رہا اور کافر کی حیثیت سے مرا “۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا۔ فراء نے آیت میں تقدیم و تاخیر کا قاعدہ جاری کیا ہے تقدیر کلام یوں ہے ادخلو ال فرعون اشد العذاب۔ النار یعرضون علیھا عدوا عشیا عرض آخر میں رکھا یہ نقطہ نظر اس کے خلاف ہے جو جمہور کا نقطہ نظر ہے کہ کلام کو اس کے سیاق پر رکھتے ہیں، جس طرح یہ گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 40:47–50

وَ اِذْ یَتَحَآجُّوْنَ فِی النَّارِ فَیَقُوْلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا نَصِیْبًا مِّنَ النَّارِ Open ayah 40:47 in the Quran reader

اور جب وہ دوزخ میں جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجے کے لوگ بڑے آدمیوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابع تھے تو کیا تم دوزخ (کے عذاب) کا کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُلٌّ فِیْهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ حَكَمَ بَیْنَ الْعِبَادِ Open ayah 40:48 in the Quran reader

بڑے آدمی کہیں گے کہ تم (بھی اور) ہم (بھی) سب دوزخ میں (رہیں گے) خدا بندوں میں فیصلہ کرچکا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّكُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ Open ayah 40:49 in the Quran reader

اور جو لوگ آگ میں (جل رہے) ہوں گے وہ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کرے

قَالُوْۤا اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِیْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ؕ قَالُوْا فَادْعُوْا١ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ۠ Open ayah 40:50 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے پیغمبر نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، تو وہ کہیں گے تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا (اس روز) بیکار ہوگی

(واذ یتحاجون۔۔۔ ) واذیتحاجون فی النار جب وہ آگ میں جھگڑیں گے تو کمزورلوگ انہیں کہیں گے جو انبیاء کی اطاعت سے تکبر یا کرتے تھے : ہم دنیا میں تمہا ری ان معاملات میں پیروی کیا کرتے تھے جس شرک کی طرف تم ہمیں بلا یا کرتے تھے کیا تم ہم سے اس چیز کو اٹھاتے ہو عذاب میں س سے جز کی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ تبع یہ واحد ہے اور بصریوں کے قول کے مطابق یہ جمع ہے اس کی واحد تابع ہے۔ اہل کوفہ نے کہا : یہ جمع ہے اس کا کوئی واحد نہیں جس طرح مصدر ہوا کرتا ہے اسی وجہ سے اس کی جمع نہیں بنائی جاتی اگر اس کی جمع بناتے تو کہتے۔ اتباع۔ قال الذین استکبرو انا کل فیھا، فیھا میں ھاء ضمیر سے مراد جہنم ہے اخفش نے کہا : کل مبتداء ہونے کی حیثت سے مرفوع ہے۔ کسائی اور فراء نے انا کلا فیھا نب کے طور پر پڑھا ہے انا میں جو ضمیر ہے اس سے کلا فعت اور تاکید ہے۔ ابن سمیقع اور عیسیٰ بن عمر نے اسی طرح پڑھا ہے۔ کوئی تاکید کو نعت کہتے ہیں۔ سیبویہ نے اس سے منع کیا ہے اس نے کل صفت بیان نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے ساتھ صفت بیان کی جاتی ہے اس میں بدل بھی جائز نہیں کیونکہ جس کے با رے میں خبر دی جا رہی ہو اسکو کسی غیر کا بدل نہیں بنایا جاسکتا، مبرد نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے یہاں اسم ضمیر کا بدل ذکر کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ مخاطب ہے اور مخاطب کا بدل ذکر نہیں کیا جاتا اور اسی طرح مخاطب کا بدل بھی ذکر نہیں کیا جاتا کیونکہ ان دونوں میں کوئی اشکال نہیں ہوتا کہ ان کا بدل ذکر کیا جائے، یہ اس کی کلام کی نص ہ۔ ان اللہ قدحکم بین العباد۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ وہ کسی کا دوسرے کے گناہ کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا پس ہم میں سے ہر ایک کافر ہے ( اس لیے ہم دونوں طبقات کو جہنم میں ڈالا گیا ہے) وقال الذین فی النار یعنی کافر امتوں میں سے لوگوں نے کہا : عربوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں اللذون یہ جمع سالم ہے مغبر ہے اور جس نے حالت رفع میں الذین کہا تو اس نے اس مبنی قرار دیا ہے جس طرح وہ واحد میں مبنی تھا اخفش نے کہا : الذی کے ساتھ نون ملایا گیا ہے تو یہ خمسۃ عشر کی طرح ہوگیا اور یہ مبنی برفتحہ ہوگیا خزنہ یہ خازن کی جمع ہے یہ کہا جاتا ہے، خزان خزان۔ ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب۔ یخفف جواب ہے اور مجزوم ہے اگر یہ فاء کے ساتھ ہو تو یہ منصوب ہوگا مگر کلام میں اثر جواب امر اور اس جیسی صورتوں میں فاء کے بغیر آتا ہے اسی وجہ سے قرآن فصیح ترین لغت میں آیا ہے جس طرح کہا : قفانبک من ذکر حبیب و منزل۔ تم دونوں ٹھہرو ! ہم محبوب اور منزل کو یاد کرکے رولیں۔ محمد بن کعب قرطبی نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے یا میرے سامنے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جہنمیوں نے جنم کے داروغوں سے مدد چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :” وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ ۔ “ انہوں نے ایک دن کیا کہ ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے تو ان کے مطالبہ رد کردیا گیا۔ ” اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِط قَالُوْا بَلٰیط قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ۔ “ حدیث میں ہے امام ترمذی اور دوسرے محدثین حضرت ابو درداء ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جہنمیوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی یہاں تک کہ بھوک ان کے ہم پلہ ہوجائے گی جس عذاب میں وہ مبتلا ہوجائیں گے (1) وہ مدد طلب کریں گے تو انکی ضریع کے ساتھ مدد کی جائیگی نہ وہ جسم کو موٹا کرے گا اور نہ بھوک سے نفع دے گا وہ اسے کھائیں گے وہ انہیں کچھ نفع نہ دے گا وہ مدد طلب کریں گے تو ان کی مدد ایسے کھانے سے کی جائے گی جو گلے میں اٹک جاتا ہے تو اس کے ساتھ ان کے گلے اٹک جائیں گے وہ یاد کریں گے کہ وہ گلے میں رکاوٹ کو پانی سے ختم کرتے تھے وہ مشروب طلب کریں گے تو ٹکڑوں کے ساتھ کھولتا ہوا پانی ان کی طرف بلند کیا جائے گا جب وہ کھولتا ہوا پانی ان کے مونہوں کے قریب ہوگا تو وہ انہیں جلا دے گا جب وہ کھولتا ہوا پانی انکے پیٹوں میں پہنچے گا تو ان کی انتڑیوں اور جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہوگا اس کو کاٹ کر رکھ دے گا۔ وہ فرشتوں سے مدد طلب کریں گے وہ کہیں گے :” ادعوا ربکم یخفف عنا یوما من العذاب۔ “ فرشتے انہیں جواب دیں گے :” اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِط قَالُوْا بَلٰیط قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ۔ “ ضلال کا معنی گھاٹا اور ہلاکت ہے۔
Ayahs 40:51–54

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْهَادُۙ Open ayah 40:51 in the Quran reader

ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 40:52 in the Quran reader

(یعنی قیامت کو بھی) جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لئے لعنت اور برا گھر ہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ Open ayah 40:53 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو ہدایت (کی کتاب) دی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

هُدًى وَّ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 40:54 in the Quran reader

عقل والوں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

(انا لنصر رسلنا والذین۔۔۔ ) انا لننصر رسلنا رسلنا کو ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کرنا جائز ہے تو کہا جائے گا : رسلنا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں والذین امنوا فی الحیواۃ الدنیا ہم موصول محل نصب میں ہے اس کا عطف الرسل پر ہے اس سے مراد وہ مومن ہے جس نے وعظ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رسل اور مومنین میں عام ہے۔ ابو العالیہ کے قول کے مطابق ان کی مدد سے مراد ان کے دلائل کو غلبہ دینا اور ان کو کامیابی دینا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے دشمنوں سے انتقام لینا ہے۔ سدی نے کہا : کسی قوم نے کسی نبی کو قتل نہیں کیا یا ایسی قوم کو قتل نہیں کیا جو مومن تھے (3) اور حق کی طرف دعوت دے رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ ان پر ایسے آدمی کو مسلط کردیتا ہے جو ان سے انتقام لیتا ہے تو وہ سب رحمت سے دور کیے گئے ہوتے ہیں اگرچہ قتل ہی کیے جائیں۔ 1 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب صفۃ جھنم، ماجاء ل صفۃ الطعام، جلد 2، صفحہ 82 2 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 160 3 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 161 ویوم یقوم الاشھاد۔ قیامت کے روز گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوں گے۔ زید بن اسلم نے کہا : اشہاد چار ہیں فرشتے، انبیاء، مومن اور جنم (1) ۔ مجاہد اور سدی نے کہا : اشہاد سے مراد ملائکہ ہیں جو انبیاء کے بارے میں یہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے پیغام حق پہنچایا اور امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے انبیاء کی تکذیب کی (2) ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد ملائکہ اور انبیاء ہیں (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : الاشھاد شہید کی جمع ہے جس طرح شریف کی جمع اشراف آتی ہے۔ زجاج نے کہا : الاشھاد، شاھد کی جمع ہے جس طرح اصحاب، صاحب کی جمع ہے (4) نحاس نے کہا : فاعل کے وزن کی جمع افعل کے وزن پر نہیں آتی اور نہ ہی اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے مگر جو الفاظ اس بارے میں مسموع ہیں انہیں اس طرح ادا کیا جائے گا جس طرح انہیں سنا گیا اس میں حروف زائد کو حذف کردیا گیا ہے۔ اخفش اور فراء نے ویوم تقوم الاشھاد فعل کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ جمع مونث ہوتی ہے۔ حضرت ابو دائود ؓ اور دوسرے محدثین نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ” جس نے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی حفاظت کی تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس سے جہنم کی آگ کو دور کرے پھر یہ آیت تلاوت کی “۔ انا لننصر رسلنا والدین امنوا “ نبی کریم ﷺ سے یہ روایت مروی ہے :” جس نے کسی مومن کی ایسے منافق کے مقابلہ میں حمایت کی جو منافق مومن کی غیبت کیا کرتا تھا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجے گا جو آگ سے اس کو بچائے گا۔ جس نے کسی مسلمان کا ذکر کسی ایسی چیز کے ساتھ کیا جو اس کے لیے عیب کا باعث تھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے پل پر روک لے گا یہاں تک کہ جو کچھ اس نے کہا تھا اس نے نقل کیا جائے گا “ (5) یوم یہ پہلے یوم سے بدل ہے لا ینفع الظلمین معذر تھم نافع اور کو فیوں نے یاء کے ساتھ اسے ینفع پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے و لھم اللعنۃ ولھم سوعا الدار۔ لعنت سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور سوء الدار سے مراد جہنم ہے۔ ولقد اتینا موسیٰ الھدی یہ دنیا اور آخرت میں رسولوں کی مدد میں داخل ہے یعنی ہم نے اسے تورات اور نبوی عطاء فرمائی۔ توران کو ھدی کہا گیا کیونکہ تورات میں ہدایت اور نور ہے قرآن حکیم میں ہے انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی و نور (المائدہ : 44 ) واورثنا بنی اسرائیل الکتب۔ کتاب سے مراد تورات ہے یعنی ہم نے تورات کو ان کو میراث بنایا ہے ھدی یہ الکتب سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ اصل میں ھوھدی ہو یعنی ذلک الکتاب اور اصحاب عقول کے لیے نصیحت ہے۔
Ayah 40:55

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ Open ayah 40:55 in the Quran reader

تو صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور صبح و شام اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو

( فاصبر ان وعد اللہ۔۔۔۔۔ ) 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 161 2 ؎؎۔ ایضاً ، جلد 5 صفحہ 160 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 161 5 ؎۔ سنن ابی دائود، کتاب الادب، الرجل ندب، جلد 2، صفحہ 313، ایضاً حدیث نمبر 4230، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ فاصبر ان وعد اللہ حق اے محمد ﷺ ! مشرکین کی اذیتوں پر صبر کیجئے جس طرح ان لوگوں نے صبر کیا جو آپ سے پہلے تھے تیری مدد اور تیری جانب سے غلبہ کا وعدہ حق ہے جس طرح تو نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی مدد کی۔ کلبی نے کہا : یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے واستغفر لذنبک ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصل میں لذنب امتک ہے مضاف حذف کردیا گیا ہے اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے لذنب نفسک ہے جو صغائر کو انبیاء کے لیے جائز سمجھتا ہے جس نے کہا : صغیرہ بھی انبیاء کے لیے جائز نہیں یہ نبی کریم ﷺ کو دعا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جس طرح فرمایا :” واتنا ماوعدتنا “ ( آل عمران : 194) اس کا فائدہ یہ ہے کہ درجات زیادہ ہوجائیں گے اور دعا ما بعد لوگوں کے لیے سنت ہوجائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کریں جو نبوت سے قبل آپ سے صادر ہوئے۔ وسبح بحمد ربک بالعثی والابکار۔ اس سے فجر کی نماز اور عصر کی نماز مراد ہے (1) حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا : ایک قول یہ ہے : اس سے مراد وہ نماز ہے جو پانچ نمازوں کے فرض ہونے سے قبل مکہ میں پڑھی جاتی تھی دو رکعتیں صبح اور دو رکعتیں شام کو۔ حضرت حسن بصری سے یہ بھی مروی ہے جسے ماوردی نے ذکر کیا ہے (2) یہ ان آیات میں سے ہے جس کا حکم منسوخ ہے بحمد ربک اس کا شکر بجا لانا اور اس کی ثناء کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ٗسبح بحمد ربک سے مراد نماز میں اور نماز کے باہر بھی تسبیح پر دوام اختیار کرو تاکہ اس کے ذریعے جلد مدد چاہنے سے مشرف ہوجائیں۔ 1 ؎۔ تفسیر حسن بصری، جلد 4، صفحہ 409 2 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 161