41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 41:26–27

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کافر کہنے لگے کہ اس قرآن کو سنا ہی نہ کرو اور (جب پڑھنے لگیں تو) شور مچا دیا کرو تاکہ تم غالب رہو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

سو ہم بھی کافروں کو سخت عذاب کے مزے چکھائیں گے اور ان کے برے عملوں کی جو وہ کرتے تھے سزا دیں گے

وقال الذین کفروا لا تسمعو الھذا القران والغوا فیہ جب اللہ تعالیٰ نے قوم ہود، قوم صالح اور دوسرے لوگوں کے کفرد کا ذکر کیا تو قریش کے مشرکین کے بارے میں خبر دی اور یہ بتایا کہ انہوں نے قرآن کو جھٹلا دیا اور کہا : لا تسمعو ا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لا تسمعوا کا معنی ہے تم اطاعت نہ کرو یہ جملہ کہا جاتا ہے : سمعت لک، یعنی میں نے تیری اطاعت کی وا لغوا فیہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ابو جہل نے کہا جب حضرت محمد ﷺ قرآن پڑھیں تو اس کے سامنے چیخنا چلانا شروع کردیا تھا تو اس وقت انہوں نے کہا : مجاہد نے کہا : شور مچانے، سیٹیاں بجانے اور گفتگو میں خلط ملط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ لغو ہوجائے۔ ضحاک نے کہا : زیادہ گفتگو کیا کرو تاکہ جو کچھ وہ کہیں وہ خلط ملط ہوجائے۔ ابو العالیہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ کہا ہے : اس میں عیب لگائو۔ لعلکم تغلبون۔ ممکن ہے تم محمد ﷺ کی قرائت پر غالب آجائو نہ وہ لوگوں پر غالب آئیگا اور نہ وہ دلوں کو مائل کرئے گا۔ عیسی بن عمر حجدری بن ابی اسحاق، ابو جیوہ اور بکر بن حبیب سہمی نے اسے والفوا پڑھا ہے یہ لغا یلغو کی ایک لغت ہے۔ جماعت کی قراءت لغی یلغی مہدوی نے کہا : والغوا فیہ کا معنی ہے اس کا سامنا ایسی کلام سے کرو جو سمجھ نہ آتی ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے لغوت، الغود الغی لغی، لیغی۔ یہ تین لغتیں ہیں۔ لغو کا معنی سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ لغو اسے کہتے ہیں جس کی حقیقت کا علم نہ فلئذیقن الذی کفر و اعذبا شدیدا یہ بحث پہلے کذر چکی ہے کہ ذوق محسوس ہوا کرتا ہے۔ عذاب شدید کا معنی یہ ہے جو پے درپے ہو منقطع نہ ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد تمام اجزاء میں عذاب ہے۔ ولنجز ینھم اسوالذی کانو یعلمون۔ یعنی ہم آخرت میں ان کے ان برے اعمال کی جزا دیں گے جو عمل وہ دنیا میں کرتے رہے۔ اور اعمال میں سے برا شرک ہے۔
Ayah 41:28

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ خدا کے دشمنوں کا بدلہ ہے (یعنی) دوزخ ان کے لئے اسی میں ہمیشہ کا گھر ہے یہ اس کی سزا ہے کہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

ذلک جزاء اعدآء للہ النار یعنی وہ عذاب شدید اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی جزا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی وضاحت النار سے کی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے ذلک جزاء اعداء اللہ النار دار الخلود پڑھا ہے دار کو النار سے تعبیر کیا یہی آیت کا معنی ہے ذلک مبتدا ہے اور جزاء اس کی خبر ہے النار، جزا سے بدل ہے یا ضمیر مبتدا کی خبر ہے اور خبر جملہ پہلے جملہ کے بیان کے محل میں ہے۔
Ayah 41:29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار جنوں اور انسانوں میں سے جن لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا ان کو ہمیں دکھا کہ ہم ان کو اپنے پاؤں کے تلے (روند) ڈالیں تاکہ وہ نہایت ذلیل ہوں

وقال الذین کفروا وہ جن ہم میں یہ بات کریں گے۔ اسے ماضی کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا مراد مستقبل ہے ربنا ارنا الذین اضلنا من الحین ولانس، الذین سے مراد ابیلس اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا وہ بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا ؛ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء سے مروی ہے اس قول کی تائید مرفوع کرتی ہے م من مسلم یقتل ظلما الا کان علی ابن آدم الاول کفل من ذنبہ لانہ اول من سن القرل (1) جو مسلمان بھی ظلما کسی کو قتل کرتا ہے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کے پلے بیٹے پر اس کے گناہ کا حصہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے ہی سب سے پہلے قتل کیا تھا۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : الذین اسم موصول تثنیہ ذکر کیا ہے مگر مراد جنس ہے کیونکہ دونوں جنسیں مختلف ہیں۔ نجعلھما تحت اقد منا لیکونا من الا سفلین۔ انہوں نے یہ سوال اس لیے کیا تاکہ ان سے شفا حاصل کریں کہ انہیں اپنے قدموں کے نیچے رکھیں الا سفلین سے مراد ہے کہ وہ سب سے نچلے گڑھے میں ہوں۔ انہوں نے یہ سوال اس لیے کیا تھا کہ اس کے لیے عذاب کو کئی گنا کر دے جو جن و انس میں ان کی گمراہی کا سبب بنا تھا۔ ابن محیص اور سو سی نے ابو عمرو، ابن عامر، ابوبکر اور مفضل نے اسے ارنا پڑھا ہے یعنی اراء ساکن ہے۔ ابو عمر نے اس میں اختلاس کا قاعدہ جاری کیا ہے باقی نے کسرہ میں اشباع کا قاعدہ جاری کیا ہے۔ سورة اعراف میں بحث پہلے گزر چکی ہے
Ayahs 41:30–32

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی (تمہارے رفیق ہیں) اور وہاں جس (نعمت) کو تمہارا جی چاہے گا تم (کو ملے گی) اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے (موجود ہوگی)

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے

ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا عطا نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئی، اس کی وجہ یہ بنی کی مشرکین نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے، فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں تو انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : ہمارا رب وحدہ لا شریک ہے حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو آپ نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ترمذی میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرائت کی ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقامو فرمایا : لوگوں نے کہ بھی کہا پھر ان میں سے اکثر نے کفر کیا جو اس پر مرگیا تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے نے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ کہا یہ حدیث غریب ہے۔ اس آیت وضاحت بنی کریم ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان، حضرت علی شیر خدا ؓ سے معنی مروی ہے۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی سے صحیح مسلم میں روایت مروی ہے کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ مجھے اسلام میں ایک ایسی نصیحت کریں کہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے بھی سوال نہ کروں۔ فرمایا : کہہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا پھر اس پر استقامت کا اظہار کر، ترمذی نے اس کا یہ اضافہ کیا ہے میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ جس چیز کے بارے میں آپ مجھ پر زیادہ خوف کھاتے ہیں وہ کیا ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی فرمایا : یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے یہ مروی ہے کہ ثم استقاموا کا معنی ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کیا۔ اسود بن بلال نے ان سے روایت کیا ہے کہ آپ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا : تم ان دو آیات کے بارے میں کیا کہتے ہو ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا۔ الذین امنو ولم یلبسوٓا ایمانھم بظلم انہوں نے جواب دیا : انہوں نے استقامت کا مظاہرہ کیا اور گناہ نہ کیے اور اپنے ایمان کو خطا کے ساتھ خلط ملط نہ کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا : تم نے اسے ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو اس کا معنی ہے قالو ربنا اللہ ثم استقاموا مراد ہے وہ کسی اور الہ کی طرف متوجہ نہ ہوئے امنو ولم یلبسو ایمانھم ( الا نعام :82) انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہ کیا۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے طریقہ پر قائم رہے پھر انہوں نے لومڑی کے مکر جیسے مکر نہ کیے۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے پھر انہوں نے عمل کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کیا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : انہوں نے فرائض ادا کیے۔ تابعین کے اقوال بھی اسی کے معنی میں ہیں۔ ابن زید اور قتاوہ نے کہا : انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اطاعت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ اللہ تعالیٰ کے امر پر مستقیم رہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت بجا لاتے رہے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا۔ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت پر مسقیم رہے یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ سفیان ثوری نے کہا : اس کے موافق عمل کیا۔ ربیع نے کہا : انہوں نے ماسوی اللہ سے اعراض کیا۔ فضیل بن عیاض نے کہا : فانی دنیا میں زاہد اختیار کیا اور باقی آخرت میں رغبت کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے مخفی طریقہ سے استقامت کا مظاہرہ کیا جس طرح اقرار میں استقامت کا مظاہرہ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے فعل میں اسی طرح استقامت کا مظاہرہ کیا جس طرح قول استقامت کا مظاہرہ کیا تھا۔ حضرت انس ؓ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے کہا :ـ رب کعبہ کی قسم ! وہ میری امت ہیں۔ امام ابن فورک نے کہا : اس میں سین، طلب سین ہے جس طرح استسالی میں طلب کا معنی پایا جاتا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ انہیں دین پر ثابت رکھے۔ حضرت حسن بصری جب اس آیت کو پڑھا تو کہتے : اے اللہ ! تو ہمارا رب ہے ہمیں استقامت عطا فرما۔ میں کہتا ہوں : اگرچہ ان اقوال میں مفہوم باہم ملا ہوا ہے ان کی تلخیص یہ ہے عقیدہ، قول اور عمل میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اعتدال سے کام لو اور اس پر ہمیشگی اختیار کرو۔ تتنذل علیھم الملکئکۃ ان زیاد اور مجاہد نے کہا : یہ موت کے وات ہوگا۔ مقاتل اور قتاوہ نے کہا : جب وہ اپنی قبروں سے بعث کے لیے کھڑے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یہ آخرت میں فرشتوں کی جانب سے سان کے لیے بشارت ہوگی۔ وکیع اور ابن زید نے کہا : بشارت تین مقامات پر ہوگی موت، قبر اور دوبارہ اٹھانے کے وقت۔ الا تخافواصل میں باء لاتخافو تھا حرف جا کو حذف کردیا گیا۔ مجاہد نے کہا موت سے نہ ڈرو۔ ولا تحز نوا اپنی اولاد پر غم نہ کھائو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارا ان پر نائب ہے۔ عطا بن ابی رباح نے کہا : اپنے ثواب کے رد کا خوف نہ کرو کیونکہ وہ مقبول ہے اپنے گناہوں کا غم نہ کرو کیونکہ میں نے انہیں تمہارے حق میں بخشے والا ہوں۔ عکرمہ نے کہا : آنے والے وقت کا خوف نہ کرو اور اپنے گناہوں پر غمگین نہ ہو۔ نحن او لیوء کم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ یہ بات انہیں فرشتے کہیں گے جو بشارت لے کر ان پر نازل ہوں گے۔ مجاہد نے کہا : ہم تمہارے ساتھی ہیں دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جب قیامت کا دن ہوگا تو کہیں گے : ہم تم سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک تمہیں جنت میں داخل کردیں۔ سدی نے کہا : ہم دنیا میں تمہارے اعمال کے محافظ تھے اور آخرت میں تمہارے دوست ہوں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قول ہو کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی اور مولیٰ ہے۔ ولکم فیھا ما تشتھی انفعکم یعنی لذت والی چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ جو چاہے گا ولکم فیھا ما تد عون۔ جو تم سوال کرتے ہو اور جس کی تم تمنا کرتے ہو نذلا سے مراد رزق اور ضیافت ہے۔ سورة آل عمران میں بحث پہلے گذر چکی ہے۔ یہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے انزلناہ نزلا۔ ایک قول یہ کیا گیا : یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے : یہ نازل کی جمع ہے تقدیر کلام یہ ہوگی لکم ماتد عن نازلین، تد عن میں جو ضمیر مرفوع ہے اس حال ہے یا لکم میں جو ضمیر مجرور ہے اس سے حال ہے۔
Ayah 41:33

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ؟

ومن احسن قولا ممن دعآ الی اللہ وعمل صالحا جنہوں نے قرآن میں لغو بات کرنے کی ایک دوسرے کو وصیت کی تو انہیں شرمندہ کیا جارہا ہے معنی قرآن سے بہتر کون سا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کی اطاعت کی طرف دعوت دینے والے سے بہتر قول میں کو اچھا ہو سکتا ہے ؟ حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ ابن سیرین، سدی، ابن زید، اور حسن بصری نے کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے۔ حضرت حسن بصری جب یہ آیت پڑھتے تو کہتے : یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، یہ حبیب اللہ ہیں، یہ اللہ کے ولی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق ہیں اللہ کی قسم ! یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے محبوب ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعائوں کو قبول کیا اور لوگوں کو ایسے امر کی طرف دعوت دی جس کو اللہ کی قسم ! یہ اللہ تعالیٰ نے قبول کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ، عکرمہ، قیس بن ابی حاتم اور مجاہد نے کہا :؛ یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی۔ فضیل بن رفیہ نے کہا : میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے اصحاب کا موزن تھا مجھے عاصم بن ہیرہ نے کہا : جب تو آذان کہے اور تو کہے : اللہ اکبر اللہ اکبر لالہ الا اللہ، تو کہہ میں مسلمانوں میں سے ہوں پھر اس آیات کی تلاوت کی۔ ابن عربی نے کہا : پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ آیات مکی ہے اور آذان مدنی ہے آذان آیت میں معنی کے اعتبار سے داخل ہوجائے گی نہ یہ کہ یہ قول کے وقت مقصود تھی اس میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی داخل ہوں گے جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں اس وقت کہا جب ملعون لوگوں نے آپ ﷺ کے گلے کو دبایا : اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ (غافر :28) یہ آیت ان تمام کلاموں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے جن میں توحید اور ایمان کا ذکر ہو۔ میں کہتا ہوں : تیسرا قول ہے یہ سب سے اچھا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : یہ آیت ہر اس آدمی میں عام ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی۔ قیس بن ابی حازم نے یہی کہا ہے کہا : آپ نے آذان اورا قامت کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی۔ عکرمہ نے کہا : وعمل صالحا سے مراد ہے نماز پڑھی اور روزہ رکھا۔ کلبی نے کہا : فرائض ادا کیے۔ میں کہتا ہوں : یہ سب اچھی تعبیر ہے جبکہ وہ محارم سے اجتناب اور مستحب امور کو کثرت سے بجالائے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے و قال اننی من الملمین۔ ابن عربی نے کہا : جو بحث پہلے گزر چکی ہے وہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہاں اسلام مراد ہے لیکن جب قول اور تلوار کے ساتھ دعوت اعتقاد اور غلبہ کے لیے ہوتی ہے اور علم ریاء اور اخلاص کے لیے ہو سکتا ہے یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ وضاحت ضروری ہے اس میں اعتقاد اللہ کے لیے ہے اور عمل اس کی رضا کی خاطر ہے۔ مسئلہ : جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : و قال اننی من المسلمین۔ اسے یہ نہیں فرمایا کہ کہے : ان شاء اللہ۔ اس میں اس آدمی کا رد ہے جو یہ کہتا ہے : انا مسلم ان شاء اللہ۔
Ayah 41:34

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے

ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ فراء نے کہا : لا زائدہ ہے کلام یوں ہے ولا تستوی الحنۃ والسئۃ اور یہ شعر پڑھا : ما کان یرضی رسول اللہ فعلھم ولطیبان ابوبکر والاعمر رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر دونوں پاکیزہ ہستیاں ان کے عمل پر راضی نہ تھے۔ شعر میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا : حسنہ لاء الہ الا اللہ ہے اور سیئہ شرک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حسنہ سے مراد طاعت ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے بعینہ یہ قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حسنہ سے مراد عفو و درگزر ہے اور سیئہ سے مراد انتقام ہے۔ ضحاک نے کہا : حسنہ سے مراد علم ہے اور سیئہ سے مراد فحش ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے حسنہ سے مراد آل رسول سے محبت ہے اور سیئہ سے مراد ان سے بغض ہے۔ ادفع بالتی ھی احسن آیت سیف کی وجہ سے یہ منسوخ ہے اور اس میں سے مستحب باقی ہے وہ حصن معاشرت، برداشت کرنا اور چشم پو شی کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آدمی تیرے ساتھ جہل سازی کرتا ہے اپنے حلم کے ساتھ اسے کے جہل کو دور کرے۔ ان سے یہ قول بھی مروی ہے : مراد ایسا آدمی ہے جو دوسرے کو گالی دیتا ہے دوسرا کہتا ہے : اگر تو سچا ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے بخش دے، اسی طرح ایک اثر مروی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہی بات ایک ایسے آدمی سے کہی جس سے آپ نے اسی قسم کی اذیت پائی تھی۔ مجاہد نے کہا : بالتی ھی احسن سے مراد یہ ہے سلام کہنا جب وہ پانے دشمن سے ملے ؛ یہ عطا کا قول ہے۔ ایک تیسرا قول ہے جو قاضی ابوبکر بن عربی نے احکام میں ذکر کیا ہے جو مصافحہ ہے ایک اثر میں ہے تما فحوا یذھب الغل باہم مصافحہ کیا کرو کینہ جاتا رہتا ہے۔ امام مالک مصافحہ کی رائے نہ رکھتے تھے آپ کی سفیان کے ساتھ ملاقات ہوئی اور مصافحہ کے بارے میں گفتگو کی۔ سفیان نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے حضرت جعفر طیار سے اس وقت مصافحہ کیا تھا جب آپ حبشہ سے واپس کوٹے تھے۔ امام مالک نے فرمایا : یہ حکم خاص ہے۔ سفیان نے ان سے کہا : جو چیزوں رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے وہ ہمارے لیے بھی خاص جو بھی خاص ہے جو آپ کے لیے عام ہے وہ ہمارے لیے بھی عام ہے، مصافحہ ثابت ہے اس کے انکار کی کوئی وجہ نہیںَ قتاوہ نے روایت کی ہے کہا میں نے حضرت انس سے کہا : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں مصافحہ کا معمول تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ ایک اثر ہے : محبت کا کمال ہاتھ پکڑنا ہے۔ محمد بن اسحاق (جو امام مقدم ہے) زہری سے وہ عروہ سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت زید بن حارثہ مدینہ طیبہ آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تھے اس نے دروازہ کھٹکھٹایا رسول اللہ ﷺ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے اس کی طرف بڑھے جبکہ جسم پر پورا لباس نہ تھا اللہ کی قسم ! میں نے اس سے قبل اور اس کے بعد آپ کو بےلباس نہ دیکھا رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ معانقہ کیا اور اسے بوسہ دیا۔ میں کہتا ہوں : امام مالک سے مصافحہ کا جواز مروی ہے یہی علماء کی جماعت کا نقطہ نظر ہے۔ سورة یوسف میں بحث گذر چکی ہے وہاں ہم نے حضرت براء کی حدیث کا ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو وہ مسلمان آپس میں ملتے ہیں ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑتا ہے وجہ دونوں میں محبت اور خلوص ہوا کرتی ہے تو ان کے گناہ ان دونوں کے درمیان گرادیے جاتے ہیں۔ فاذ الذی بینک وبینہ عد اوۃ کا نہ ولی حمیم۔ ولی حمیم یعنی قریبی دوست۔ مقاتل نے کہا : یہ آیت ابو سفیان بن حرب کے حق میں نازل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کو اذیت پہنچایا کرتا پہلے وہ دشمن تھا بعد میں رشتہ مصاہرت کی وجہ سے دوست بن گیا پھر وہ اسلام لے آیا۔ اسلام میں ولی اور قرابت میں حمیم بن گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی وہ نبی کریم ﷺ کو اذیتیں دیا کرتا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کو اس پر صبر اور درگزر کا حکم دیا ؛ یہ مادر دی نے ذکر کیا ہے۔ پہلا قول ثعلبی اور قشیری نے ذکر کیا ہے وہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فاذ الذی بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے حکم تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں غضب کے وقت صبر، جہل کے وقت حلم، زیادتی کے وقت عفو کا حکم دیا جب لو ایسا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں شیطان سے محفوظ رکھتا ہے اس کے دشمن کو زیر کردیتا ہے۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی شیر خدا کے غلام قنبر کو گالی دی حضرت علی شیر خدا نے اپنے غلام کو آواز دی : اے قنبر ! اپنے گالی دینے والے کو چھوڑ دو ، اس سے بےنیاز ہوجا رحمٰن تجھ سے راضی ہوگا شیطان ناراض ہوگا اور تو اپنے گالی دینے والے کو سزادے گا احمق کو اس سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں کہ اس کو جواب نہ دیا جائے انہوں نے یہ اشعار ذکر کیے : ولکفت عن شتم اللیم تکرما اضرلہ من شتہ حین یشتم شرافت کی بنا پر کمینے آدمی کو گالی پر جواب نہ دینا اس کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے بنسبت اس کے گالی کے وقت اسے گالی دی جائے۔ وما شیء احب الی سفیہ ءاذا سب الکریم من الجواب متارکۃ السفیہ بلا جواب اشد علی السفیہ من السباب بے وقوف کے لیے جو سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں جب وہ جو کریم کو گالی دے۔ جواب کے بغیر سفیہ کو چھوڑ دینا سفیہ بیوقوف کے لیے گالی دینے سے زیادہ سخت ہے۔ محمود راق نے کہا : سانزم نفسی الصفح عن کل مذنب وان کثرٹ منہ لدی الجرائم متاکۃ السفیہ بلا جو ابط اشد علی السفیہ من السباب بے وقوف کے لیے جو سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں جب ہو کریم کو گالی دے۔ جواب کے بغیر سفیہ کو چھوڑ دینا سفیہ بیوقوف کے لیے گالی دینے سے زیادہ سخت ہوتا ہے۔ محمود راق نے کہا : سائزم نفی الصفح عن کل مذنب وان کثرت منہ لدی الجرائم میں ہر گناہ گار سے درگذر کرنا اپنے اوپر لازم کرتا ہوں اگرچہ اس کے جرائم میرے ہاں بہت زیادہ ہوجائیں۔ فما الناس الا و احد من ثلا ئۃ شریف و مشروف ومثل مقاوم فاما الذی فوقی فاعرف قدرہ واتبع فیہ الحق والحق لازم لوگ تینوں میں سے ایک ہی ہوتا ہے شریف، کمینہ اور مد مقابل جو مجھ سے بلند مرتبہ ہے میں اس کی قدرو منزلت کو پہچانتا ہوں اور میں اس کے بارے میں حق کی اتباع کرتا ہوں اور حق لازم ہے۔ واما الذی دونی فان قال صنت عنء اجابیہ عرجی وان لام لا تم جو مجھ سے مرتبہ میں کم ہے اگر وہ کچھ بات کرے تو میں اپنی عزت کو اس کا جواب دینے سے محفوظ رکھتا ہوں اگرچہ ملا مت کرنے والا ملامت کرے۔ وء اما الذی مثلی فان ذل اوھفا تفضلت ان الفضل بالحلم حاکم جو مرتبہ میں میری مثل ہے اگر وہ بغزش کرے تو میں بڑائی کا اظہار کروں بیشک فضیلت کا فیصلہ حلم کے ساتھ ہی ہونے والا ہوتا ہے۔
Ayahs 41:35–37

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور یہ بات انہیں لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو بیشک وہ سنتا (اور) جانتا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ خدا ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اس کی عبادت منظور ہے

وما یلقھا ھا ضمیر سے مراد معزز فعل اور علی خصلت ہے الا الذین صبروا جو غصہ پی کر اور اذیت برداشت کرکے صبر کرتے ہیں و ما یلقھا الا ذو حظ عظیم۔ حظ عظیم سے مراد بھلائی میں سے وافر حصہ ہے ؛ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : قتاوہ اور مجاہد نے کہا : حظ عظیم سے مراد جنت ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حظ جنت کے بغیر کبھی بھی عظیم نہیں ہوتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یلقھا میں ضمیر سے مراد جنت ہے یعنی جنت صرف صابر لوگ ہی پاتے ہیں۔ معنی قریب قریب تر ہے۔ ایتہ سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہے الیل والنھار و الشمس والقمر یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ پھر ان دونوں کو سجدہ کرنے سے منع کیا اگرچہ یہ دونوں عظیم مخلوق ہیں لیکن ان میں یہ فضیلت ان کی حالت کی وجہ سے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ عبادت کے مستحق بن جائیں ان دونوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کو نیست و نابود کردے یا ان کے نور کو ختیم کردے۔ واسجدو اللہ الذی خلقھن اللہ تعالیٰ نے انہیں صورت عطا کی اور انہیں مسخر کیا ضمیر سورج، چاند، رات اور دن کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک قول یہ بھی کیا گیا ہے : یہ خاص کر سورج اور چاند کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ تثنیہ بھی جمع ہوا کرتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : ٖضمیر آیات کے معنی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ضمیر کو مونث ذکر کیا ہے جمع مذکر ہونے کی بناء پر اس میں مذکر مونث کے اعتبار سے تغلیب کا قاعدہ جاری نہیں کیا کیونکہ یہ ایسے اسماء ہیں جو زو العقول ہیں۔
Ayah 41:38

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو خدا کو بھی انکی پرواہ نہیں جو (فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور (کبھی) تھکتے ہی نہیں

فان استکبروا یعنی کفار اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے تکبر کریں فالذین عند ربک اسم موصول سے مراد ملائکہ ہیں یسبحون لہ بالیل والنھار وھم لیسمون۔ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے نہیں اکتا تے۔ زہیر نے کہا : سئمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابا لک یسام میں زندگی کے امور سے اکتا گیا اور جو آدمی اسی سال کا ہوجائے۔ تیرا باپ نے رہے۔ وہ اکتا جاتا ہے۔ مسئلہ : یہ آیت بلا اختلاف آیتہ سجدہ ہے سجود کے محل کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک نے کہا : اس کا محل ان کنتم ایاہ تعبدون۔ کیونکہ یہ امر کے ساتھ مفصل ہے۔ حضرت علی شیر خدا، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء تعبدون پر سجدہ کرتے تھے۔ ابن و ہب اور امام شافعی نے کہا : اس کا محل وھم لا یسئمون ہے کیونکہ یہی کلام کا، عبادت اور اطاعت کی غایت ہے امام اعظم ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ یسئمون پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے کہا : ان دونوں میں سے اخری پر سجدہ کرو۔ مسروق، ابو عبد الرحمن سلمی، ابراہیم نخفی، ابو صالح، یحییٰ بن وثاب طلحہ، زبید یمانی، حسن بصری اور ابن سیرین سے اسی طرح مروی ہے۔ ابو وائل، قتاوہ، اور بکر بن عبداللہ یسئمون پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ ابن عربی نے کہا : امر قریب ہے۔ مسئلہ : ابن خویز منداد نے ذکر کیا ہے یہ آیت چاند گرہن اور سورج گرہن والی نماز کو متضمن ہے کیونکہ عرب کہا کرتے تھے : سورج اور چاند کو گرہن عظیم آدمی کی وفات سے ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے صلاۃ کسوف پڑھی ہے۔ میں کہتا ہوں : صلاۃ کسوف صحاح بخاری و مسلم بخاری و مسلم وغیرہما میں ثابت ہے اس نماز کی کیفیت میں بہت زیادہ اختلاف ہے کیونکہ آثار مختلف ہیں صحیح مسلم میں جو کچھ ہے وہ تیرے لیے کافی ہے اس باب میں وہی بہترین ہے، اللہ تعالیٰ صحیح کی توفیق دینے والا ہے۔
Ayah 41:39

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور (اے بندے یہ) اسی کی قدرت کے نمونے ہیں کہ تو زمین کو دبی ہوئی (یعنی خشک) دیکھتا ہے جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو شاداب ہوجاتی اور پھولنے لگتی ہے تو جس نے زمین کو زندہ کیا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے

ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ خطاب ہر دانشمند کو ہے اس کی آیات جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے انکا تری الارض خاشعۃ تو زمین کو خشک اور بنجر دیکھے گا۔ یہ زمین کی خشوع سے صفت بیان کرنا ہے۔ نابغہ نے کہا ہے : رماد ککحل العین لایا ابینہ ونوی کجذم الحوض اثلم خاشع الا رض خاشعۃ سے مراد ایسی مٹی ہے جو فصل نہ اگائے بلد خاشعۃ سے مراد ایسی زمین ہے جس کی کوئی منزل نہ ہو اسی طرح مکان خاشع ہے۔ فاز انزلنا علیھا لماء اھتزت یعنی نباتات سے جھومنے لگتی ہے۔ یہ مجاہد کا قول ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : اھتز الاء نسان یعنی انسان نے حرکت کی اسی معنی میں یہ قول ہے : تراہ کنصل السیف یھتذ للندی تو اسے دیکھے گا کہ وہ تلوار پھل کی طرح سخاوت کے لیے جھومتا ہے۔ وربت وہ پھول جاتی ہے، یہ مجاہد کا قول ہے یعنی اپنی موت کے بعد نباتات سے اوپر کو اٹھ آتی ہے۔ اس تعبیر کی بنا پر کلام میں تقدیم و تا خیر ہے ربت و اھتزت، اھتزاز اور ربو بعض اوقات زمین سے نکلنے سے پہلے ہوتا ہے اور بعض اوقات سطح زمین کی طرف نکلنے کے بعد ہوتا ہے اس کے بو سے مراد اس کا بلند ہونا ہے بلند جگہ کو ربوۃ اور رابیۃ کہتے ہیں نباتات ظاہر ہونے کے لیے حرکت کرتی ہے پھر طو لاً اور عرضاً کا جسم بڑا ہوجاتا ہے۔ ابو جعفر اور خالد نے ورباءت پڑھا ہے اس کا معنی عظیم الجثہ ہونا ہے، یہ ربینۃ سے مشتق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بارش سے خوش اور نبات سے پھول گئی زمین جب نبات سے پھٹتی ہے تو ضحک کے ساتھ اس کی صفت بیان کی جاتی ہے اس کی صفت استبشار سے لگان بھی جائز ہے کہ ربو اور اھتزاز ایک ہی چیز ہے یہ نبات کے نکلنے کی حالت ہے۔ سورة حج میں معنی گذر چکا ہے۔
Ayahs 41:40–42

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کج راہی کرتے ہیں وہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں بھلا جو شخص دوزخ میں ڈالا جائے وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن وامان سے آئے (تو خیر) جو چاہو سو کرلو جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس کو دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے نصیحت کو نہ مانا جب وہ انکے پاس آئی اور یہ تو ایک عالی مرتبہ کتاب ہے

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے (اور) دانا (اور) خوبیوں والے (خدا) کی اتاری ہوئی ہے

آیت نمبر 40, 41.42 ان الذین یلجدون فی ایتنا یعنی ہمارے دلائل میں حق سے دو گردانی کرتے ہیں۔ الحاد کا معنی ایک طرف جھکنا اور صراط مستقیم کو چھوڑنا ہے اسی سے قبر میں لحد ہے کیونکہ اسے قبر سے ایک طرف بنایا گیا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : الحد فی دین اللہ یعنی اس سے ایک طرف ہوگیا لحد اس میں ایک لغت ہے یہ کلام بھی انہیں کے متعلق ہے جنہوں نے کہا : لا تسمعوا لھذ القرآن والغوا فیہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیات میں الحاد کیا اور حق سے ایک طرف جھک گئے انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہے وہ شعر ہے یا جادو ہے۔ آیات سے مراد قرآن کی آیات ہیں۔ مجاہد نے کہا : یلجدون فی ایتنا سے مراد ہے وہ قرآن کی تلاوت کے موقع پر شور کرنے، لغو اور غناء کرنے کے ساتھ الحاد ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا معنی کلام کو تبدیل کرنا اور بےموقع اسے رکھنا ہے۔ قتاوہ نے کہا : معنی ہے وہ ہماری آیات میں جھوٹ بولتے ہیں۔ سدی نے کہا : وہ دشمنی اور مخالفت کرتے ہیں۔ ابن زید نے کہا : وہ شرک کرتے ہیں اور مقاتل نے کہا : یہ آیات ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیات سے مراد معجزات ہیں، یہ پہلے قول کی طرف راجع ہے کیونکہ قرآن حکیم معجز ہے۔ افمن یلقی فی النار کہا : وہ جسے منہ کہ بل آگ میں ڈالا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے علماء کے نزدیک وہ ابو جہل ہے خیر ام من یانی امنا یوم القیمۃ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من تاتی سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں، یہ مقاتل کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت عثمان غنی ؓ ہیں ایک قول کہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت عماربن یا سے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت حمزہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مومنین ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عام ہے جسے آگ میں پھینکا جائے گا اس سے مراد کافر ہے جو قیامت کے روز امن سے آئے گا وہ مومن ہے۔ یہ ابن بحر کا قول ہے۔ اعلموا ماشیتم یہ امر تہدید کے لیے ہے یہ جاننے کہے بعد کہ وہ برابر نہیں ہوسکتے تو تمہارے لیے جزاء الازمی ہے انہ بما تعلمون بصیر۔ یہ تہدید کے ساتھ وعید اور وعدہ ہے۔ ان الذین کفرو بالذکر لما جاء ھم تمام کے اقوال میں یہاں ذکر سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس میں احکام ہیں جن کی انہیں ضرورت ہے خبرمحذوف ہے تقدیر کلام ھالکون او معز بون ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : خبر اولئک ینادون من مکان بعید۔ درمیان میں مایھال لک جمل معترضہ ہے پھر ذکر کی طرف کلام کو لوٹا یا اور فرمایا ولو جعلنہ قراناً ا عجیاً پھر فرمایا : اولئک ینادون پہلا قول پسندیدہ ہے۔ نحاس نے کہا : نحویوں کے نزدیک سب اقوال درست ہیں جنکا میں علم رکھتا ہوں۔ وانہ لکتب عزیز۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول۔ ان سے ایک قول یہ مروی ہے : اللہ تعالیٰ کی جانب معزز ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مناسب یہ ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کی عظمت شان کا اظہار کیا جائے اور اس میں کوئی لغو عمل نہ کیا جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ اس چیز سے محفوظ ہے کہ شیطان اس میں تبدیلی کرے : یہ سدی کا قول ہے۔ مقاتل نے کہا : یہ شیطان اور باطل سے محفوظ ہے۔ سدمی نے کہا : یہ غیر مخلوق ہے اس کی کوئی مثل نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عزیز کا معنی ہے اس سے ممتنع ہے کہ لوگ اس قسم کی کلام کریں۔ لا یا یتہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ جو اس سے قبل نازل ہوا وہ اس کی تکذیب نہیں کرتا اور نہ اس کے بعد کوئی کتاب نازل ہوگی جو اسے باطل اور منسوخ کردے : یہ کلبی کا قول ہے۔ سدمی اور قتاوہ نے کہا : اس کے پاس شیطان نہیں آتا وہ طاقت نہیں رکھتا کہ اس میں تبدیلی کرے نہ اس میں اضافہ کرسکتا ہے اور نہ کمی کرسکتا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : س میں تکذیب داخل نہیں ہو سکتی۔ اب جریج نے کہا :ـ اس میں باطل نہیں آسکتا جو ان چیزوں میں جن کی زمانہ گذشتہ کے اعتبار سے خبر دی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : من بین یدیہ سے مراد اللہ تعالیٰ اور من خلفہ سے مراد حضرت جبریل امین ہیں اور حضرت محمد ﷺ ہیں تنزیل من حکیم حمید۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنی مخلوق میں حکیم اور محمود ہے۔ قتاوہ نے کہا اپنے امر میں حکیم اور اپنی مخلوق میں محمود ہے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تم سے وہی باتیں کہی جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں بیشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی ہے اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے

ما یقال لک اذیت اور تکذیب میں سے جو بات کی جاتی ہے الا ماقد قیل للرسل من قبلک اس میں اپنے نبی کو تسلی دینا مقصود ہے ان ربک لذو مغفرۃ تجھے اور تیرے صحابہ کو بخشنے والا ہے ذو عقاب الیم۔ تیرے دشمنوں کے لیے دردناک عذاب دینے والا ہے۔ ایک قو کیا گیا ہے : آپ کو جو یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کرو وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزم : 65) یعنی آپ انہیں دعوت نہ دیں مگر اسی کی طرف جس کی طرف تمام انبیاء دعوت دیتے رہے ہیں اس لیے وہ آپ کا انکار کرتے ہیں اس کا کوئی معنی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ استفہام ہے تقدیر کلام ہے : ای شئی یقال لک الاماقیل للرسل من قبلک۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان ربک نئی کلام ہے اس سے قبل کلام مکمل ہے جب خبر مضمر ہو، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ کلام ما یقال لک کے ساتھ متصل ہے ان ربک لذو ومغفرۃ ذو عقاب الیم۔ یعنی آپ ﷺ کو اندازہ اور تبشیر کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو غیر زبان عرب میں (نازل) کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اسکی آیتیں (ہماری زبان میں) کیوں کھول کر بیان نہیں کی گئیں کیا (خوب کہ قرآن تو عجمی) اور (مخاطب) عربی کہہ دو کہ جو ایمان لاتے ہیں ان کے لئے (یہ) ہدایت اور شفا ہے اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں گرانی (یعنی بہراپن) ہے اور یہ ان کے حق میں (موجب) نابینائی ہے گرانی کے سبب ان کو (گویا) دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے

آیت نمبر 44 مسئلہ نمبر 1 ۔ ولو جعلنہ قرانا اعجیا یعنی یہ عربی لغت میں نہ ہوتا لقالو لو لا فصلت ایتہ یعنی اس کی آیات ہماری زبان کیوں نہ بیان کی گئیں کیونکہ ہم عرب ہیں عجمی زبان کو تو نہیں سمجھتے تو یہ واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کی زبان میں نازل فرمایا تاکہ اعجاز کی حقیقت ان پر واضح ہوجائے کیونکہ نظم و نثر کے اعتبار سے وہ کلام کی اقسام کو خوب جانتے تھے۔ جب وہ اس کے مقابلہ سے عاجز آگئے تو یہ سب سے قوی دلیل بن گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اگر یہ عجمی زبان میں ہوتا تو کہتے ہمیں اس زبان کا علم نہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ جب یہ بات ثابت ہے تو اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ قرآن عربی ہے اور یہ لغت عرب میں نازل ہوا ہے یہ عجمی زبان میں نازل نہیں ہوا اور جب اسے کسی اور زبان میں نقل کیا جائے گا وہ قرآن نہ ہوگا۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ء اعجبی و عربی ابو بکر، حمزہ، کسائی نے اسے اعجبی و عربی دو ہمزوں کے ساتھ پڑھا ہے۔ عجمی اسے کہتے ہیں جو عربی نہ ہو خواہ فصیح ہو یا نہ ہس اعجمی اسے کہتے ہیں جو فصیح نہیں ہوتا وہ عربی ہو یا عجمی ہو۔ اعجم، فصیح کی ضد ہے وہ وہ ہوتا ہے جو اپنے کلام کی وضاحت نہیں کرسکتا حیوان جو غیر ناطق ہے اسے اعجم کہتے ہیں اسی معنی میں یہ ارشاد ہے : صلاۃ النھار عجماء اس میں قراءت بلند آواز سے نہیں کی جاتی۔ اعجم کی طرف نسبت زیادہ موکد ہے کیونکہ عجمی کی طرف نسبت بیان میں زیادہ موکد ہے معنی ہوگا کیا قرآن عجمی اور نبی عربی ہو ؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ حضرت حسن بصری، ابو العالیہ، نصر بن عاصم، مغیرہ اور ہشام نے ابن عامر سے اعجمی ایک ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے معنی ہوگا اس کی آیات کو کیوں بیان ہمیں کیا گیا ان میں سے کوئی عربی تھا تو عربی سمجھ لیتا اور کوئی عجمی تھا تو وہ عجمی سمجھ لیتا۔ سعید بن جبیر نے روایت نقل کی ہے کہ قریش نے کہا : قرآن عجمی اور عربی کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کی بعض آیات عجمی ہوتیں اور بعض عربی ہوتیں ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی قرآن حکیم میں ہر لغت سے کچھ نہ کچھ نازل کیا گیا ہے ان میں سجیل بھی ہے یہ فارسی ہے اس کی اصل سنگ گل ہے یعنی مٹی اور پتھر۔ اسی سے ایک لفظ فردوس ہے یہ رومی زبان کا لفظ ہے اسی طرح قسطاس ہے۔ اہل حجاز، ابو عمرو، ابن ذکوان اور حفص نے استفہام کی قراءت ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ قل ھو للذین امنوا ھدی و شفاء اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ قرآن شک، ریب اور درد سے ہدایت اور شفا ہے ہر اس آدمی کے لیے جو اس پر ایمان لایا۔ والذین لا یومنون فی اذانھم وقر یعنی قرآن کے سننے سے بہرے ہیں، اسی وجہ سے وہ آپس میں باہم لغو عمل کی وصیت کرتے ہیں اس آیت کی مثل وننزل من القران ماھو شفاء ورحمۃ للمومنین ولا یزید الظلمین الا خسار۔ (الا سراء) ہے یہ بحث مکمل گذر چکی ہے عام قراءت عمی ہے یہ مصدر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت عبد اللہ زبیر، حضرت عمرو بن خاص، حضرت معاویہ اور سلیمان بن قتہ نے اسے وھو علیھم میم کے کسرہ کے ساتھ ہے یعنی ان کے لیے وہ واضح نہیں ابو عبید نے پہلی قراءت کو پسند کیا کیونکہ سب لوگوں کا اس پر اجماع ہے کیونکہ پہلا قول ہے : ھدی و شفاء اگر یہ ھاد اور شاف ہوتا تو عمی میں کسرہ عمدہ ہوتا تاکہ یہ نعت ہوتا تقدیر کلام یہ بنتی ہے جو ایمان نہیں رکھتے قبول کو ترک کرنے میں ان کے قائم ہیں جن کے کانوں میں ثقل ہے اور قرآن ان پر عمی والا ہے کیونکہ وہ سمجھتے نہیں تو مضاف کو حذف کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے وقر ہی ان پر عمی ہے۔ اولئک ینادون من مکان بعید۔ یہ قول اس آدمی کے لیے کیا جاتا ہے جو تمثیل کو نہیں سمجھتا۔ اہل لغت نے حکایت بیان کی ہے کہ جو آدمی سمجھتا ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : انت تسمع من قریب اور جو نہیں سمجھتا تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے : انت تنادی من بعید گویا اسے دور سے ندادی جاتی ہے تو وہ آواز کو نہیں سنتا اور اسے نہیں سمجھتا۔ ضحاک نے کہا : قیامت کے روز انہیں قبیح ترین نام سے بلایا جائے گا۔ من مکان بعید یہ ان کے لیے شدید ترین ہوگا مقصد انہیں شرمندہ کرنا اور ذلیل کرنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس نے قرآن میں بد تر نہیں کیا تو وہ اعمی اور اصم کی طرح ہوگا تو اسے دور کے مکان سے ند کی جاتی ہے بلانے والے کی آواز اس تک نہیں پہنچتی تو وہ نہیں سنتا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ اور مجاہد نے کہا : وہ ان کے دلوں سے دور ہے۔ تفسیر میں ہے گویا انہیں آسمان سے ندا کی جاتی ہے تو وہ اسے نہیں سنتے، نقاش نے یہ معنی بیان کیا ہے
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور یہ اس (قرآن) سے شک میں الجھ رہے ہیں

الکتب سے مراد تو رات ہے فاختلف فیہ یعنی کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ نے جھٹلا یا۔ ضمیر کتاب کی طرف راجع ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے یعنی آپ کی قوم جو آپ کی کتاب میں اختلاف کرتی ہے وہ آپ کو غمگین نہ کرے جو آپ سے قبل انبیاء ہو گذرے ہیں ان کی کتابوں میں بھی کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ضمیر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ولو لا لا کلمۃ سبقت من ربک یعنی انہیں مہلت دینے کا فیصلہ پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو ان کے عذاب کے جلدی آنے کا فیصلہ کردیا جاتا۔ وہ قرآن کے بارے میں سخت شک میں مبتلا ہیں۔ اس کے بارے میں بحث پہلے گزر چکی ہے۔ کلبی نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے عذاب کو قیامت تک موخر نہ کرتا تو انہیں عذاب آچکا ہوتا جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری امتوں کے ساتھ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے عذاب میں تا خیر اس وجہ سے ہوئی کہ ان کی صلبوں س مومن نکلنے والے تھے۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کرے گا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا اور تمہارا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

من عمل صالحا فلنفسہ یہ کلاف شرط اور جواب ہے، اسی طرح یہ کلام ہے ومن اسمآء فعلیھا للہ تعالیٰ بندوں کی اطاعت سے مستغنی ہے پس جو اطاعت کرے اس کے لیے ثواب ہے اور جو برائی کر عقاب اسی پر ہوگا وما ربک بظلام للعید۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات سے تھوڑے اور زیادہ ظلم سے نفی کی۔ جب مبالغہ کی نفی ہوئی تو غیر کی بھی نفی ہوگئی اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا کہ فرمان ہے : ان اللہ لا یظلم الناس شیئاً (یونس : (44 عادل سے امین ارض سے وہ امین السماء سے وہ رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں فرمایا : اے میرے بندو ! میں نے اپنی ذات پر ظلم کو حرام کردیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان حرام کردیا تم باہم ظلم نہ کیا کرو نیز وہ حکیم ومالک ہے مالک اپنی مملوکہ چیز میں جو تصرف کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ اسے اپنی مملوکہ چیز میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف کرنے کا حق ہوتا ہے
Ayahs 41:47–48

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گابھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جن کو پہلے وہ (خدا کے سوا) پکارا کرتے تھے (سب) ان سے غائب ہوجائیں گے اور وہ یقین کرلیں گے کہ ان کے لئے مخلصی نہیں

آیت نمبر 47,, 48 الیہ یرد علم الساعۃ یعنی کب وہ قائم ہوگی ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا : اے محمد ! اگر تو نبی ہے تو ہمیں بتائو قیامت کب برپا ہوگی ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی وما تخرج من ثمرت من زائدہ ہے، مراد ہے جو اس کا پھل نکلتا ہے من اکمامھا اپنے برتنوں سے۔ اکمام پھلوں کے برتن ہوتے ہیں اسکی واحد کمۃ ہے یہ مال اور دوسری چیزوں کا برتن ہوتا ہے اسی وجہ سے گا بھے کے چھلکے کو کہۃ کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کمہ، کفری اس وقت ہوتا ہے جو ابھی پھٹا نہ ہو جب وہ پھٹ جائے تو کمہ نہیں ہوتا۔ سورة الرحمن میں اس کی مزید وضاحت آئیگی۔ نافع، ابن عامر اور حفص نے جمع کا صیغہ من ثمرت پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے اسے واحد کا صیغہ پڑھا ہے مراد جمع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وماتحمل من انثی یہاں بھی جمع مراد ہے فرماتا ہے : قیامت کا علم اسی کی طرف لوٹا یا جاتا ہے جس طرح پھلوں اور بچوں کے جننے کا علم اسی کی طرف لوٹا یا جاتا ہے۔ ویوم ینادیھم اللہ تعالیٰ مشرکین کو ندا کرے گا : این شرکاءی دنیا میں جن کے بارے میں تم گمان کیا کرتے تھے کہ وہ الہ ہیں اور سفارش کریں گے وہ کہاں ہیں ؟ قالو ابتوں نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد مشرک ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مراد عابد اور مبعود سب ہیں اذنک ہم نے تجھے سنادیا اور تجھے آگاہ کیا کہا جاتا ہے آذن یوذن جب وہ آگاہ کرے، کہا : اذنتنا ببنیھا اسماء اسماء نے اپنے بیٹوں کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا۔ ما منا من شھید۔ ہم تجھے آگاہ کرتے ہیں ہمارے پاس کوئی بھی ایسا نہیں جو اس امر کی گواہی دے کہ تیرا کوئی شریک ہے۔ جب انہوں نے انہوں نے قیامت کو دیکھا تو انہوں نے بتوں سے براءت کا اظہار کیا اور بتوں نے ان سے براءت کا اظہار کردیا، جس طرح یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ وضل عنھم ماکانو ید عون من قبل دنیا میں جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گے اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ آگ سے فرار کی کوئی صورت نہیں یہاں ماحرف ہے اہم نہیں اس وجہ سے ظن نے اس میں عمل نہیں کیا اور فعل کو ملغا کردیا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی وظنو انھم مالھم من محیص ولا مھرب یہ جملہ کہا جاتا ہے حاص، یحیص حیصا و محیصا جب وہ بھاگ جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہاں ظن، غالب رائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس میں انہیں کوئی شک نہیں کہ وہ جہنمی ہیں لیکن وہ یہ طمع کرتے ہیں کہ اس سے نکل جائیں گے، یہ کوئی بعید نہیں کہ ان کا ظن اور رجا ان کے مایوس ہونے تک رہے۔
Ayahs 41:49–50

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے اور آس توڑ بیٹھتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو اور اگر قیامت سچ بھی ہو تو میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے پس کافر جو عمل کیا کرتے ہیں وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

آیت نمبر 49, 50, 51 لا یسئم الانسان من دعا الخیر بھلائی کی دعا کرنے سے نہیں اکتاتا۔ یہاں خیر سے مراد مال، صحت، غلبہ اور عزت ہے۔ سدی نے کہا : یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ولید بن مغیرہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عتبہ اور شیبہ جو ربیعہ کے بیٹے تھے اور ولید بن خلف۔ عبد اللہ کی قراءت میں لا ایسام الاء نسان من عاء المال ہے۔ وان مسہ الشر شر سے مراد فقر اور مرض، اگر اسے فقر اور مرض پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیئوس دعا کی قبولیت کے حوالے سے اور قنوط اپنے رب کے بارے میں سوء ظن کے حوالے سے ذکر کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے : فیئوس سے مراد ہے کہ اسے جو تکلیف لاحق ہے اس کے زائل ہونے سے مایوس اور قنوط اس معنی میں ذکر کیا کہ یہ تکلیف ہمیشہ رہے گی۔ معنی قریب قریب ہے۔ ولئن اذ قنہ رحمۃ منا یہاں رحمت سے مراد عاقبت، آسود گی، اور غنا ہے۔ ضراء سے مراد تکلیف، بیماری، سختی، اور فقر ہے لیقو لن ھذا لی یہ وہ جیز ہے جس کا میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مستحق بن چکا ہوں کیونکہ وہ میرے لیے عمل پر راضی ہوچکا ہے تو وہ نعمت کو حتمی اور اللہ تعالیٰ پر واجب خیال کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھذالی کا معنی ہے یہ میرے پاس ہے۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہ للحسنی حسنی سے مراد جنت ہے اور لام تاکید کے لیے ہے وہ عمل کے بغیر آرزوئیں کرتا ہے حضرت حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے کہا : کافر کی دو آورزوئیں ہونگی جہاں تک دنیوی آرزو کا تعلق ہے وہ کہے گا : لئن ترجعت الی ربی ان لی عندہ اور آخرت کے بارے میں کہے گا : یلیتنا نر دو لا نکذب بایت ربنا ونکون من المومنین (الانعام) اور یلیتنی کنت تربا (لنبائ) فلنئتن الذی کفرو بما عملو ہم ضرور انہیں جزا دیں گے۔ یہ قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر قسم اٹھائی ہے۔ غلیظ کا معنی شدید ہے
Ayahs 41:51–52

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر یہ (قرآن) خدا کی طرف سے ہو تو پھر تم اس سے انکار کرو تو اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو (حق) کی پرلے درجے کی مخالفت میں ہو

واذ انعمنا علی الانسان انسان سے مراد کافر ہے اعرض ونا بجانبہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ خلف ہیں جنہوں نے اسلام سے اعراض کیا اور اس سے دور ہوئے نابجانبہ کا معنی ہے حق کی اطاعت کرنے سے اپنے آپ کو بلند جانا اور اللہ تعالیٰ کے انبیاء پر تکبر کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نا کا معنی دور ہونا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : نا یتہ و نایت عنہ نآ یا۔ میں اس سے دور ہوا اء نا یتہ فانتای میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ تناء وا۔ وہ دور ہوگئے منتاء ی۔ دور جگہ۔ نابغہ نے کہا : فانک للیل الذی ھو مدر کی وان خلت ان المنتاءی عنک واسع تورات کی طرح ہے جو مجھے پانے والی ہے اگرچہ میں خیال کرتا تھا کہ تجھ سے دوری بہت جائز وسیع ہے۔ یزید بن قعقاع نے اس ناء بجا نبہ پڑھا ہے یعنی ہمزہ سے پہلے الف ہے یہ بھی جائز ہے کہ یہ ناء سے مشتق ہو جب وہ اٹھے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ہمزقلب کیا گیا ہو معنی پہلے والا ہی ہے واذمسہ الشر فدود عاء عریض۔ جب اسے تکلیف پہنچے تو بہت زیادہ دعائیں کرتا ہے عب طول اور عرض کا لفظ کثرت کے معنی میں استعمال ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : اطال فلان فی الکلام وا عرض فی الد عاء : جب وہ گفتگو اور دعا کثرت سے کرے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : وہ تضرع کرنے والا اور مدد طلب کرنے والا ہے کافر مصیبت میں اپنے رب کو پہنچانتا ہے اور خوشی میں اسے نہیں پہنچانتا۔ آیت نمبر 52, 53, 54 قل ارء یتم اے محمد ﷺ کہو : اے مشرکو ! اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے پاس ہو پھر اس کا انکار کرو تو زیادہ گمراہ کو ہے تم سے زیادہ گمراہ کوئی نہیں کیونکہ تمہاری بہت زیادہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کان من عنداللہ میں ضمیر اسی کتاب کی طرف لوٹ رہی ہے جس کا ذکر اس فرمان میں ہے : اتیناموسی الکتب (المومنون :49 ۔ ) پہلا معنی زیادہ واضح ہے۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ (قرآن) حق ہے کیا تم کو یہ کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار ہر چیز سے خبردار ہے ؟

سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم ہماری وحدانیت اور ہماری قدرت کی نشانیاں سابقہ امتوں کی منازل کی بربادی میں ہیں اور فی انفسھم سے مراد زمین کے حادثات ہیں۔ مجاہد نے کہا : فی الافاق سے مراد بستیوں کی فتوحات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فتوحات کو اپنے رسول اللہ ﷺ آپ کے بعد خلفاء اور آفاق دنیا میں اس کے دین کے مدد گاروں کے لیے فتو حات کو مشرق و مغرب کے علاقوں کو عموماً اور مغرب کے علاقوں کو خصوصاً آسان کردیا۔ کیونکہ یہ ایسی فتوحات ہیں جو ان سے قبل زمین کے کسی حاکم کے لیے آسسان نہ ہوئیں اس طرح جابر حکمرانوں، فارس کے کسری تھوڑے لشکر کو کثیر لشکر پر فتح دینا، کمزوروں کو قوی لوگوں پر غلبہ دینا اور ان سے ایسے امور کا ما صادر کرانا جو عام معمول سے ہٹ کر تھے سب صادر ہوئے فی انفسھم سے مراد فتح مکہ ہے ؛ یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے یہ منہال بن عمرو اور سدی کا قول ہے۔ قتاوہ اور ضحاک نے کہا : فی الافاق سے مراد قوموں میں واقعات اور فی انفسھم سے مراد غزوہ بدر کا واقعہ ہے۔ عطارابن زید نے بھی کہے فی الافاق سے مراد آسمانوں اور زمین کے قحط ہے یعنی سورج، چاند، ستارے، رات، دن، ہوائیں، بارشیں، کڑک بجلی، صواق، نبات، ، درخت، پہاڑ، سمندر وغیرہ۔ صحاح میں ہے : آفاق سے مراد اطراف ہیں اس کا واحد افق اور افق ہے جس طرح عئر اور عئر ہے رجل افقی یعنی ہمزہ اور فا مفتوح ہے جب وہ زمین کے آفاق سے ہو : یہ ابو نصر نے حکایت بیان کی ہے۔ بعض کہتے ہیں افقی جو ہری کے علاوہ کسی اور نے یہ شعر پڑھا : اخذنا بآ فاق السماء علیکم لنا قمراھا النجوم الطولع ہم نے تمہارتے خلاف آسمان کے افق اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ہمارے لیے اس کے دونوں چاند اور روشن ستارے ہیں۔ فی انفسھم یہ لطف صنعت اور بدیع حکمت میں سے ہے یہاں تک کہ براز اور بول کے راستے اس میں شامل ہیں کیونکہ انسان ایک محل سے کھاتا پینا دو الگ الگ جگہوں سے نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صنعت اور حکمت میں بدعت اس کی آنکھوں میں نمایاں ہوتی ہے دونوں پانی کا ایک قطرہ ہیں وہ ان دونوں کے ساتھ زمین سے آسمان تک دیکھتا ہے جس کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اس کے دونوں کانوں کے درمیان میں بدعت کا اظہار ہے جن کے ساتھ انسان مختلف آوازوں میں فرق کرتا ہے اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کی بد اعت کی امثلہ ہیں۔ ایک قول یہ کی گیا ہے : فی انفسھم وہ نطفہ تھا اس کے علاوہ اس کے احوال میں جو انتقال ہے جس طرح سورة مومنوں میں اس کی وضاحت گذر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے عنقریب تم وہ فتنے اور غیب کی خبریں دیکھو گے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ لائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو مظاہر انہیں دکھاتا ہے اور جو کرتا ہے وہ حق ہے محمد ﷺ رسول بر حق ہے۔ اولم یکف بربک، بربک محل رفع ہے کیونکہ یہ یکف کا فاعل ہے انہ ربک سے بدل ہے اگر محل سے بدل بنائیں تو مرفوع ہوگا اگر لفظ سے بدل بنائیں تو یہ مجرور ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ لام کے حذف کے ساتھ منصوب ہو معنی ہوگا کیا تیرا رب انہیں کافی نہیں ہوگا جس توحید پر اس نے ان کی راہنمائی کی ہے، کیونکہ وہ ہر شے پر شہد ہے جب وہ ہر چیز کا مشاہدہ کر ررہا ہے تو اس پر جزا دے گا۔ یہ قول کیا گیا ہے : کیا تیرا رب کفارہ کو سزا دینے میں کافی نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اے محمد ﷺ کیا تیرا رب کافی نہیں کہ وہ کفار کے اعمال پر گواہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : معنی ہے کیا تیرا رب گواہ کافی نہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیا یہ کافی نہیں کہ بندہ عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بہتر جانتا ہے۔ یہ لفظ سے مشتق ہے جس کا معنی حضور ہے کیا تیرا رب ہر چیز کے پاس حاضر ہونے کے اعتبار سے کافی نہیں۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونے سے شک میں ہیں سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے

الا انھم فی مریۃ مریۃ کا معنی شک ہے من لقاء ربھم آخرت میں اپنے رب کی ملاقات سے۔ سدی نے کہا : بحث سے۔ خبر دار ! وہ اپنے رب کی ملاقات سے شے میں مبتلا ہیں (1) الا انہ بکل شیء محیط۔ اس کا علم ہر چیزکو محیط ہے ؛ اسدی نے یہ قول کیا۔ کلبی نے کہا : اس کی قدرت ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کیا ہوا ہے اور ہر چیز کا شمار کر رکھا ہے، یہ ہم کثیر طور پر وعید کے ضمن میں آتا ہے اس کا حقیقی معنی ہر سے کا احاطہ کرنا ہے جس کا احاطہ کیا ہوا ہے اس کو جڑ سے اکھیڑنا ہے یہ اصل میں محیط تھا یاء کی حرکت حاء کی طرف نقل کردی تو یاء ساکن ہوگئی اسی سے یہ کہا گیا ہے : اء حاط یحیط اء حاطۃ وحیطۃ۔ اسی سے حائد الدار (گھر کی دیوار) ہے حاطت الخیل بفلان یہ جملہ اس وقت بو جاتا ہے جب اس آدمی کو ہر جانب سے گھیر لیا جائے اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واحیط بثمرہ ( کہف : 42) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔