Ayah 42:23ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا ‘ یبشر کو باب تفعل سے یبشر باب افعال سے یبشر اور مجرد سے یبشر بھی پڑھا گیا ہے اس میں حذف ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس کی بشارت دیتا ہے تاکہ انہیں جلدی خوشنودی حاصل ہو اور اطاعت میں وہ زیادہ شوق و محبت پائیں۔
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قل لا اسئلکم علیہ اجرا اے محمد ! ﷺ آپ کہہ دیجیے میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے انعام کا سوال نہیں کرتا۔
زجاج نے کہا : الا المودۃ مستثنی ہے معنی یہ بنتا ہے میں تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا مگر یہ کہ تم میری قرابت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میری حفاظت کرو (1) ۔ خطاب خاص طور پر قریش کے لیے تھا ؛ یہ حضرت ابن عباس ‘ عکرمہ ‘ مجاہد ‘ ابو مالک ‘ شعبی وغیرہ کا قول ہے۔ شعبی نے کہا : اس آیت کے بارے میں لوگوں نے ہم سے بہت زیادہ سوال کیے تو ہم نے اس کے متعلق سوال حضرت ابن عباس ؓ کی خدم تمہیں لکھ بھیجا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا : قریش کے خاندانوں میں سے کوئی خاندان ایسا نہ تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے نہ جنا ہو یعنی ( سب کے ساتھ ننہال کی رشتہ داری تھی کسی کے ساتھ اپنی اور کسی کے ساتھ آباء و اجداد کی) تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا : قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی یعنی جو رشتہ داری میرے اور تمہارے درمیان ہے تم اس کا لحاظ رکھو اور میری تصدیق کرو۔ یہاں القربی سے مراد ننہال کی رشتہ داری ہے گویا فرمایا : اگر تم میری اتباع نبوت کی وجہ سے نہیں کرتے تو رشتہ داری کا پاس رکھتے ہوئے ہی میر اتباع کرو۔ عکرمہ نے کہا : قریش ننہالی رشتہ داری کا بڑا پاس کرتے ‘ جب نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو انہوں نے اسے قطع کیا تو فرمایا :” تم میرے ساتھ ایسی ہی صلہ رحمی کرو جس طرح تم کیا کرتے تھے “۔ اس تعبیر کی بنا پر معنی یہ ہوگا میں تم سے اجر کا سوال کر نہیں کرتا لیکن میں تمہیں اپنی قرابت یاد دلاتا ہوں ؛ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔
بخاری شریف میں طائوس سے مروی ہے (2) وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ان سے الا المودۃ فی القربی کے بارے میں پوچھا گیا تو سعید بن جبیر نے کہا : قربی سے مراد آل محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تو نے بہت جلدی کی ہے قریش کے خاندانوں میں سے کوئی خاندان ایسانہ تھا جس میں نبی کریم ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو تو فرمایا : مگر یہ کہ تم رشتہ داری کی وجہ سے صلہ رحمی کرو ‘ یہ ایک قول ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ قربی سے مراد نبی کریم ﷺ کی قرابت ہے ‘ معنی ہے میں تم سے اجر کا سوال نہیں کرتا (3) مگر یہ کہ تم میری قرابت اور اہل بیت اطہار سے محبت کرو جس طرح انہیں قریبی رشتہ داروں کی تعظیم کا حکم دیا ؛ یہ قول علی بن حسین ‘ عمر و بن شعیب اور سدی کا ہے۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے ” جب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا صحابی نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ وہ کون لوگ ہیں جن سے ہم محبت کریں ؟ فرمایا :” علی ‘ فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (1) “ اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی بار گاہ میں حسد کی شکایت کی فرمایا :” کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو ان چانر میں چوتھا ہو جو جنت میں پہلے داخل ہوں گے میں ‘ تو ‘ حسن اور حسین ہماری ازواج ہمارے دائیں اور بائیں ہونگی اور ہماری اولادیں ہماری بیویوں کے پیچھے ہو نگی “ (2) ۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” ان لوگوں پر جنت حرام کردی گئی جس نے تیرے اہل بیت پر ظلم کیا ‘ میری عترت کے بارے میں مجھے اذیت دی ‘ جس نے عبد المطلب کے خاندان میں سے کسی فرد کے ساتھ حسن سلوک کیا اس نے اسے بدلہ نہ دیا جب قیامت کے روز وہ مجھے ملے گا تو میں اسے بدلہ دوں گا “ (3) ۔
حسن بصری اور قتادہ نے یہ کہا : معنی ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں اور اس کی اطاعت اپنا کر اس کا قرب حاصل کریں (4) ۔ اس صورت میں قربی ‘ قربت کے معنی میں ہوگا۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : قربۃ اور قربی ایک معنی میں ہیں جس طرح زلفۃ اور زلفی ہے۔
قزعہ بن سوید ‘ ابن ابی نجیح سے وہ مجاہد سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” فرمادیجئے جو میں تمہارے پاس لایا ہوں اس پر میں تم سے اجر کا سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم باہم محبت کرو اور اطاعت اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو “ (5) ۔
منصور اور عوف نے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت نقل کی ہے کہ مراد ہے : وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں اور اس کی اطاعت اختیار کرکے اس کا قرب حاصل کریں۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے : یہ آیت منسوخ ہے ‘ یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی مشرک رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتے تھے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ساتھ محبت کرنے اور اس کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ‘ جب نبی کریم ﷺ نے ہجرت کی تو انصار نے آپ کو پناہ دی اور آپ کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ آپ ﷺ کو آپ کے انبیاء بھائیوں کے ساتھ لاحق کردے کیونکہ انہوں نے کہا تھا : ومآ اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلمین۔ (شعرائ) تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : قل مآ اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین۔ (ص) اور اس ارشاد : ام تسئلھم خرجا فخراج ربک خیر (مومنون :72) اور اس ارشاد : ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون۔ (طور) کے ساتھ منسوخ ہوگئی ؛ یہ ضحاک اور حسین بن فضل کا نقطہ نظر ہے۔ جو یبر نے ضحاک سے اور وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں ثعلبی نے کہا : یہ قوی نہیں جو آدمی یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب اس کی اطاعت کے ساتھ ‘ اس کے نبی کی محبت کے ساتھ اور اہل بیت کی محبت کے ساتھ والا امر منسوخ ہے اس کے قول کی قباحت کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے جبکہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو آل محمد ﷺ کی محبت پر مرا وہ شہید کی حیثیت سے مرا ‘ جو آدمی آل محمد ﷺ کی محبت میں مرا اللہ تعالیٰ اس کی قبر کے زائرین رحمت کے فرشتوں کو بنا دے گا ‘ جو آدمی آل محمد کے بغض پر مرا تو وہ قیامت کے روز یوں آئیگا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے ‘ جو آدمی آل محمد ﷺ کے بغض پر مرا وہ جنت کی خو شبو نہیں سونگھے گا ‘ جو میرے آل بیت کے بغض پر مرا تو میری شفاعت میں سے اس کا کوئی حصہ نہیں “۔
میں کہتا ہو : اس روایت کو زمحشری نے اپنی تفسیر میں اس سے بھی طویل نقل کیا ہے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو آل محمد کی محبت پر مرا تو وہ شہید کی حیثیت سے فوت ہوا اور جو آل محمد کی محبت پر فوت ہوا تو مومن کی حیثیت سے فوت ہوا جبکہ وہ کامل ایمان والا ہوگا خبر دار ! جو آل محمد کی محبت پر مرا ملک الموت پھر منکر و نکیر اسے جنت کی بشارت دیں گے خبردار ! جو آل محمد کی محبت میں مرا اسے جنت کی طرف یوں لے جایا جائے گا جس طرح دلہن کو اس کے خاوند کے گھر لے جایا جاتا ہے خبر دار ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اس کی قبر میں دو دروازے جنت کی طرف کھول دیئے جاتے ہیں خبردار ! جو آل محمد کی محبت پر مرا اللہ تعالیٰ اس کی قبر کو رحمت کے فرشتوں کی زیارت گاہ بنا دیتا ہے خبر دار ! جو آل محمد کی محبت پر مرا وہ سنت اور جماعت پر مرا خبردار ! جو آل محمد کے بغض پر مرا وہ قیامت کے روز یوں آئیگا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے خبردار ! جو آل محمد کے بغض پر مرا وہ کافر کی حیثیت سے مرا خبردار ! جو آل محمد کے بغض پر مرا وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھے گا “ (1) ۔ نحاس نے کہا : عکرمہ کا مذہب ہے کہ یہ منسوخ نہیں۔ کہا : قریش صلہ رحمی کیا کرتے تھے جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے قطع رحمی کی۔ فرمایا :” میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم مجھ سے محبت کرو میری قرابت کی حفاظت کرو اور مجھے نہ جھٹلائو “۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس کا قول جو بخاری میں ہے امام شعبی نے بھی ان سے یہی قول نقل کیا ہے یہ کوئی منسوخ نہیں۔ نحاس نے کہا حضرت حسن بصری کا قول حسن ہے اس کی صحت پر یہ حدیث مسند دلالت کرتی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے جسے احمد بن محمد ازدی ‘ ربیع بن سلیمان مراوی سے وہ اسد بن موسیٰ سے وہ قزعہ بن یزید بصری سے وہ عبد اللہ بن ابی نجیح سے وہ مجاہد سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جو کچھ بینات اور ہدایات میں تمہیں پہنچا تا ہوں اس پر میں تم سے کوئی سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت اختیار کرکے اس کا قرب حاصل کرو “ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ واضح امر ہے آپ سے قبل انبیاء نے بھی یہی بات کہی تھی : ان اجری الا علی اللہ (سبا 47)
مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب نبی کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لاء تو آپ ﷺ کو ایسی مشکلات بار بار آتیں اور ایسے حقوق ادا کرنے پڑتے جو کچھ وسائل آپ کے پاس ہوتے وہ آپ کو کفایت نہ کرت ‘ انصار نے کہا : اس ذات نے تمہاری اللہ تعالیٰ کی طرف راہنمائی کی ہے جبکہ یہ تمہارے عزیز بھی ہیں انہیں ایسے حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے حقوق ادا کرنے پڑتے ہیں کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ انہیں کافی نہیں ہوتا ہم آپ کے لیے مال جمع کرتے ہیں انہوں نے اسی طرح کیا پھر وہ مال آپ ﷺ کے پاس لے آئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت حسن بصری نے کہا : یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب انصار اور مہاجرین نے باہم فخر کیا ‘ انصار نے کہا : ہم نے یہ کیا ‘ مہاجرین نے رسول اللہ ﷺ کی قرابت پر فخر کیا (1) ۔ مقسم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی امر کے بارے میں سنا تو خطبہ ارشاد فرمایا ‘ آپ ﷺ نے انصار سے فرمایا :” کیا تم بےبس نہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے عزت دی ؟ (2) “ فرمایا :” تم مجھے جواب نہیں دو گے ؟ “ انصار نے عرض کی : ہم کس طرح آپ کو جواب دیں ؟ فرمایا :” تم کہتے کیا آپ ﷺ کی قوم نے آپ کو رد نہیں کردیا تھا تو ہم نے آپ کو پناہ دی ؟ کیا انہوں نے آپ کو جھٹلایا نہیں تھا تو ہم نے آپ کی تصدیق کی ؟ “ حضور ﷺ نے کئی باتیں ان پر شمار کیں کہا : صحابہ کرام گھٹنوں کے بل کھڑے ہوگئے انہوں نے کہا : ہماری جانیں اور ہمارے مال آپ کے لیے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
قتادہ نے کہا : مشرکوں نے کہا حضرت محمد ﷺ جو چیز لاتے ہیں شائید اس کے ساتھ اجر کے طالب ہیں ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی تاکہ ان کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رشتہ داروں کی محبت پر برانگیختہ کرے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تعبیر آیت کے زیادہ مشابہ ہے کیونکہ سورت مکی ہے۔
ومن یقترف حسنۃ۔ یقترف کا معنی یکتسب ہے۔ قرف کا اصل معنی کسب ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : فلان یقرف لعیالہ فلاں اپنے اہل و عیال کے لیے مزدور کرتا ہے۔ اقتراف کا معنی اکتساب ہے ؛ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے رجل قرفۃ جب وہ محنت مزدوری کرتا ہو۔ سورة انعام میں اس کے بارے میں بحث گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ومن یقترف حسنۃ سے مراد ہے جس نے آل محمد سے محبت کی نزد لہ فیھا حسنا ہم اسے کے لیے دس یا اس سے زائد گنا اجر دے دیں گے۔ ان اللہ غفور شکور۔ قتادہ نے کہا : غفور یعنی گناہوں کو بخشنے والا شکور یعنی نیکیوں پر خوش ہونے والا (3) ۔ سدی نے کہا : آل محمد (علیہم السلام) کے گناہ بخشنے والا اور ان کی نیکیوں پر اجر دینے والا
Ayah 42:24ام یقولون افتری علی اللہ کذبا ‘ ام میں میم زائد ہے تقدیر کلام یہ ہے أیقولون افتری کلام ما قبل کے ساتھ متصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وقل امنت بمآ انزل اللہ من کتب (الشوری :15) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اللہ الذی انزل الکتب بالحق (شوری :17) بیان کو مکمل کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : ام یقولون افتری علی اللہ کذبا وائو ضمیر سے مراد کفار قریش ہیں انہوں نے کہا : (حضرت) محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑا ہے۔
فان یشا اللہ یختم علی قلبک یہ شرط اور جواب ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ تیرے دل پر مہر لگا دے گا اور تجھے قرآن بھلا دے گا ‘ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردی اگر حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھتے تو اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یوں ہی معاملہ کرتا جس کی اس نے اس آیت میں خبر دی ہے۔ مجاہد اور مقاتل نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تیرے دل کو ان کی اذیتوں پر مضبوط کردے ان کے قول سے آپ کے دل کو کوئی مشقت نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تیری دانش کو زائل کردے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تیرے دل میں خیال آئے کہ تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے تو وہ تیرے دل پر مہر گلا دے (1) ؛ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کفار کے دلوں اور زبانوں پر مہر لگا دے اور جلدی عذاب میں مبتلا کردے ‘ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور کفار مراد ہیں ؛ یہ قشیری نے ذکر کیا ہے ‘ پھر کلام شروع کی اور فرمایا : ویمح اللہ الباطل ابن انباری نے کہا : یختم علی قلبک۔ کسائی نے کہا : اس میں تقدیم و تاخیر ہے کلام اس طرح ہے ویمح اللہ الباطل مصحف میں وائو محذوف ہے (2) یہ کلام محل رفع میں ہے جس طرح ان آیات میں حذف ہے سندع الزبانیۃ۔ (علق) کیونکہ اس کا عطف یختم علی قلبک پر ہے۔ زجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ام یقولون افتری علی اللہ کذبا مکمل گفتگو ہے ویمح اللہ الباطل یہ ان لوگوں کے خلاف استدلال ہے جو نبی کریم ﷺ کے پیغام حق کا انکار کرتے ہیں یعنی اگر نبی کریم ﷺ جو پیغام لاتے ہیں وہ باطل ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا جس طرح بہتان لگانے والوں کیب ارے میں اس کی عادت ہے۔
ویحق الحق بکلمتہ حق سے مراد اسلام ہے یعنی اسلام کو قرآنی آیات کے ساتھ ثابت کرتا ہے انہ علیم بذات الصدور۔ یہ عام ہے یعنی بندوں کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ حکم خاص ہے اس کا معنی ہے اگر تیرے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہو کہ تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولے تو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے اور تیرے دل پر مہر لگادے گا۔
Ayah 42:25حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب آیت قل لا اسئلکم علیہ اجرا نازل ہوئی کچھ لوگوں نے اپنے دلوں میں سوچا آپ ﷺ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ اپنے بعد ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں کی اتباع پر برانگیختہ کررہے ہیں جبریل امین نے اس بارے میں نبی کریم ﷺ کو آگاہ کردیا کہ انہوں نے آپ ﷺ پر تہمت لگائی ہے تو یہ آیت ام یقولون افتری علی اللہ کذبا نازل ہوئی تو ان لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ سچے ہیں اور ہم توبہ کرتے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ اپنے اولیاء اور اہل اطاعت کی توبہ قبول فرماتا ہے ‘ آیت عام ہے (2) ۔ توبہ کے معنی اور اس کے احکام کے متعلق گفتگو گذر چکی ہے۔ سورة براءت میں یہ لفظ گذر چکا ہے۔
ویعفوا عن السیات ویعلم ما تفعلون۔ یعنی اسلام لانے سے قبل جو شرک کیا کرتا تھا اس کو معاف فرماتا ہے اور تم جو اچھا یا برا عمل کرتے ہو اسے جانتا ہے۔ حمزہ ‘ کسائی ‘ حفص اور خلف نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود ؓ اور ان شاگردوں کی قرائت ہے باقی نے اسے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ؛ ابو عبید اور باو حاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے ‘ کیونکہ یہ دو خبروں کے درمیان ہے پہلی خبر وھوالذی یقبل التوبۃ عن عبادہ اور دوسری یستجیب الذین امنوا وعملوا الصلحت ہے۔
Ayah 42:26(آیت نمبر 26 )
الذین محل نصب میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس آدمی کی عبادت قبول فرماتا ہے جس نے دل کے اخلاص کے ساتھ عبادت کی ہو اور اپنے بدن کے ساتھ اطاعت کی ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی عرضداشت کو قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ مومنوں کے حق میں ایک دوسرے کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجاب اور استجاب کا ایک معنی ہے۔ سورة بقرۃ میں یہ بحث گذر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ مومنوں کی ایک دوسرے کے حق میں شفاعت قبول فرماتا ہے ویزیدھم من فضلہ کا معنی ہے وہ ان کے بھائیوں کے حق میں سفارش قبول فرماتا ہے (3) ۔ مبردنے کہا : ویستبیب الذین امنوا کا معنی ہے ولیستد الذین آمنوا الا جابۃ باب استفعال کے معنی میں طلب پائی جاتی ہے الذین محل رفع میں ہے۔
Ayahs 42:27–28(آیت نمبر 27 )
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ آیت کے نزول کے بارے میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت اہل صفہ کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رزق کی وسعت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ حضرت حباب بن ارت نے کہا : یہ ہمارے بارے میں آیت نازل ہوئی ہم نے بنو نضیر ‘ بنو قریظہ اور بنو قینقاع کے اموال کو دیکھا تو ہم نے اس کی تمنا کی تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔
ولو بسط اس کا معنی ہے وسیع کرنا۔ بسط الشیٔ کا معنی ہے اس کو پھیلادیا ‘ جب یہ لفظ سین کی بجائے صاد کے ساتھ ہو تب بھی اس کا یہی معنی ہوتا ہے۔
لبغوا فی الارض وہ سرکش ہوجاتے اور نافرمانی کرتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بغیھم سے مراد ہے ایک منزل کے بعد دوسری منزل ‘ ایک جانور کے بعد دوسرا جانور ‘ ایک سورای کے بعد دوسری سواری اور ایک لباس کے بعد دوسرا لباس طلب کرنا ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ انہیں کثیر مال دیتا تو وہ اس سے زیادہ کا مطالبہ کرتے کیونکہ سرور دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے : ” اگر انسان کی سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی خواہش کرتا ہے (3) “۔ یہی بغی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کا یہی مطلب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہم سب کو مال میں برابر کردیتے تو ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی اطاعت نہ کرتا اور صنعتیں معطل ہو کر رہ جاتیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رزق سے مراد بارش ہے رزق سبب ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ بارش لگاتار عطا فرماتارہتا تو وہ دعا سے غافل ہوجاتے وہ کبھی کبھی بارش روک لیتا ہے تو وہ آہ وزاری شروع کردیتے ہیں اور کبھی اس میں فراخی عطا فرماتا ہے تو وہ شکر بجا لاتے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے جب وہ خوشحال ہوتے ہیں تو وہ ایک دوسرے پر غارت گری مچاتے ہیں تو بغی کو اس پر محمول کرنا کوئی بعید نہیں۔ زمحشری نے کہا : لبغوا بغی سے مشتق ہے جس کا معنی ظلم ہے یعنی ایک دوسرے پر ظلم کرے اور دوسرا پہلے پر ظلم کرے کیونکہ مال و دولت تکبر و غرور کا باعث ہوا کرتی ہے قارون عبرت کے لیے کافی ہے (4) ۔
اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : أخوف ما أخاف علی امتی زھرۃ الدھی و کثرتھا جن چیزوں سے میں اپنی امت سے ڈرتا ہوں ان میں سے خوفناک ترین دنیا کی ترو تازگی اور کثرت ہے۔ ایک عرب نے کہا :
وقد جعل الوسمی ینبت بیننا و بین بنی دودان نبعا وشوحطا
موسم بہار کی پہلی بارش ہمارے اور بنی دو دان کے درمیان نبع اور شوحط (دوقسم کے درختض کو اگاتی ہے۔
یعنی ان میں خوشحالی آئی تو انہوں نے بغاوت اور باہم ظلم کا ارادہ کیا یا یہ لفظ بغی سے مشتق ہے جس کا معنی تکبر و غرور ہے یعنی تاکہ وہ زمین میں تکبر کریں اور وہ غلبہ پانے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کریں جو اس کبر کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔
ولکن ینزل بقدر ما یشآء وہ ان کے رزق اس مقدار میں نازل فرماتا ہے جتنا چاہتا ہے اور جو ان کی ضروریات کے لیے کافی ہوجاتا ہے۔ مقاتل نے کہا : ینزل بقدر مایشآء جسے چاہتا ہے غنی بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے فقیر بنا دیتا ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ ہمارے علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ کے افعال مصلحتوں سے خالی نہیں ہوں گے اگرچہ اللہ تعالیٰ پر یہ واجب نہیں۔ وہ اپنے بندے کے حال کو جانتا ہے کہ اگر وہ اس پر رزق کو وسیع کردے تو یہ اسے فساد کی طرف لے جائے گا تو وہ مصلحت کے باعث اس سے دنیا لپیٹ لیتا ہے ‘ یہ رزق کی کمی اس کی ذلت نہیں اور نہی رزق کی وسعت فضیلت ہے اس نے کئی قوموں کو رزق کی فراوانی دی جبکہ اسے علم تھا کہ وہ اسے فساد میں استعمال کریں گے اگر وہ اسے کے برعکس کرے تو یہ صلاح کے زیادہ قریب ہوگا مجموعی طور پر امر اللہ تعالیٰ کی مشئیت کے سپرد ہے اللہ تعالیٰ کے تمام افعال میں استصلاح کا نقطہ نظر لازم کرنا ممکن نہیں۔
حضرت انس ؓ نبی کریم ﷺ سے حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :” جس نے میرے دوست کو ذلیل کیا اس نے مجھے دعوت مبارزت دی ‘ میں اپنے دوستوں کی مدد کرنے میں دوسروں سے زیادہ تیز ہوں میں ان کے لیے اس طرح غضبناک ہوتا ہوں جس طرح غضبناک شیر غصہ میں ہوتا ہے جس چیز کو میں کرنے والا ہوتا ہوں میں کسی میں بھی اتنا متردد نہیں ہوتا جتنا متردد اس مومن کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہوں جو موت کو ناپسند کرتا ہے ‘ میں اسے ناراض کرنا ناپسند کرتا ہوں اس کے بغیر کوئی چارہ کا ہ نہیں ہوتا بندہ مومن کسی ذریعہ سے میرے قریب نہیں ہوتا جس قدر وہ فرائض کی بجا آوری کے ذریعے قریب ہوتا ہے بندہ مومن نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے کان ‘ آنکھ ‘ زبان اور ہاتھ اور تائید کرنے والا بن جاتا ہوں اگر وہ مجھے سے سوال کرے تو میں اسے عطا کرتا ہوں ‘ اگر وہ مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ‘ میرے مومن بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو مجھ سے عبادت کے ایک دروازے کا سوال کرتے ہیں جبکہ میں جانتا ہوں اگر میں انہیں وہ دے دو تو اس میں عجب داخل ہوجائے گا اور وہ چیز انہیں تباہ و برباد کردے گی اور میرے مومن بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جسے غنا ہی درست کرسکتی ہے اگر میں اسے فقر و تنگدستی دوں تو فقرا سے تباہ و برباد کردے اور میرے مومن بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں فقرہی درست کرسکتا ہے اگر میں اسے غنی کردوں تو غنا اسے فاسد کردیتی ہے۔ میں اپنے بندوں میں سے بعض سے اعراض برتتا ہوں کیونکہ مجھے ان کے دلوں کا علم ہوتا ہے کیونکہ میں علیم وخبیر ہوں “ (1) ۔ پھر حضرت انس نے دعا کی : اے میرے اللہ ! میں تیرے ان مومن بندوں میں سے ہوں جنہیں غنا ہی درست رکھتی ہے اپنی رحمت کے ساتھ مجھے محتاج نہ کرنا۔ (آیت نمبر 28 )
ابن کثیر ‘ ابن محیصن ‘ مجاہد ‘ ابو عمرو ‘ یعقوب ‘ ابن و ثاب ‘ اعمش اور کسائی نے ینزل کو مخفف پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے تشدد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن و ثاب ‘ اعمش اور دوسرے قراء نے قنطوا پڑھا ہے۔ یہ سب بحثیں پہلے گذر چکی ہیں۔ غیث کا معنی بارش ہے ‘ غیث کو غیث اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ مخلوق کی مدد کرتا ہے قد غاث الغیث الارض زمین پر بارش ہوئی غاث اللہ البلاد یغیثھا غیثا اسی طرح یوں بھی استعمال ہوتا ہے غیث الا رض تغاث غیثا فھی أرض مغیثۃ ومغیوثۃ۔
اصمعی نے کہا : میں ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گذرا جبکہ ان پر بارش ہوئی تھی میں نے ان کی ایک بوڑھی سے پوچھا تم پر بارش ہوئی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : غثنا ما شئنا غیثا یعنی ہم پر بارش ہوئی ہے۔ ذور مہ نے کہا : اللہ تعالیٰ بنی فلاں کی لونڈی کو ہلاک کرے وہ کتنی فصیح ہے میں نے اسے کہا : تمہارے ہاں بارش کیسے ہوئی ؟ تو اسے نے جواب دیا غثنا ما شئنا پہلے قول کا ذکر ثعلبی نے کیا ہے اور دوسرے قول کا ذکر جوہری نے کیا ہے۔ بعض اوقات سحاب اور نبات کو بھی غیثا کہتے ہیں قنوط کا معنی مایوس ہونا ہے ‘ یہ قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا ہے۔ یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطا ب سے عرض کی ! اے امیر المومنین قحط المطرو قل الغیث و قنط الناس بارش نا پید ہوگئی نباتات نا پید ہوگئی اور لوگ مایوس ہوگئے ؟ تو آپ نے فرمایا : انشاء اللہ تم پر بارش ہوگی پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ غیث اس بارش کو کہتے ہیں جو اس وقت میں نافع ہو۔ مطر اس بارش کو کہتے ہیں جو کسی وقت نافع ہوتی ہے اور کسی وقت نقصان دہ ہوتی ہے ؛ یہ ماوردی کا قول ہے (1) ۔
وینشر رحمتہ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ رحمت کا معنی بارش ہے ؛ یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بارش کے بعد سورج کا ظاہر ہونا ؛ یہ مہددی نے ذکر کیا ہے۔ مقاتل نے کہا : اہل مکہ سے سات سال تک بارش رکی رہی یہاں تک کہ وہ مایوس ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے بارش کو نازل فرمایا (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایک بدو کے بارے میں آیت نازل ہوئی جس نے جمعہ کے روز نبی کریم ﷺ سے بارش کے متعلق سوال کیا تھا جس کا ذکر استسقاء میں ہے ؛ یہ قشیری نے ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ولی اسے کہتے ہیں جو اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے ‘ حمید اسے کہتے ہیں جس کی ہر زبان سے تعریف کی جائے
Ayah 42:29(آیت نمبر 29 )
آیات سے مراد وہ علامات ہیں جو اس کی قدرت کی دلالت کرتی ہیں من دآبۃ میں فرشتے اور انسان بھی داخل ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ویخلق مالا تعلمون۔ (النحل) فراء نے کہا : یہاں مراد زمین میں پھیلائی جانے والی چیزیں ہیں نہ کہ وہ چیزیں جو آسمان میں ہیں جس طرح یہ فرمان ہے یخرج منھما اللؤ لؤ والمرجان۔ (الرحمن) یہ نمکین سمندر سے نکلتے ہیں میٹھے سمندر سے نہیں نکلتے ہیں۔ ابو علی نے کہا : اس کی تقدیر یوں ہے جو ان میں سے ایک میں پھیلائیں ‘ تو مضاف کو حذف کردیا گیا یخرج منھما یعنی من احمد ھما قیامت کے روز ان کے جمع کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 42:30ومآ آصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم نافع اور ابن عامر نے بما کسبت فاء کے بغیر پڑھا ہے یجب کہ باقی قراء نے اسے فاء کے ساتھ پڑھا ہے ؛ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ حرف اور اجر میں زیادتی ہے۔ مہدوی نے کہا : اگر تو یہ مقدر کرے کہ ماموصولہ ہے تو فاء کا حٓذف اور اس کا اثابت جائز ہے اور فاء کو ثابت رکھنا بہت اچھا ہے۔ اگر تو اسے شرطیہ کہتے تو سیبویہ کے نزدیک اس کا حذف جائز نہیں۔ اخفش نے اسے جائز ہے اور فاء کو ثابت رکھنا بہت اچھا ہے۔ اگر تو اسے شرطیہ کہے تو سیبویہ کے نزدیک اس کا حذف جائز نہیں۔ اخفش نے اسے جائز قرار دیا ہے اور اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : ان اطعتموھم انکم لمشرکون۔ (الانعام) یہاں مصیبت سے مراد معاصی پر حدود ہیں ؛ یہ حضرت حسن بصری نے کہا : ضحاک نے کہا : کسی انسان نے قرآن سیکھا پھر اس کو بھول گیا تو یہ کسی گناہ کے ہی سبب ہوگا (1) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومآ اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم پھر کہا : قرآن بھولنے سے بڑی مصیبت کو نسی ہوگی ؟ اسے ابن مبارک نے عبدالعزیز بن ابی رواد سے نقل کیا ہے۔ ابو عبید نے کہا : یہ ترک کرنے پر ہے جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جو تلاوت کرتا رہتا ہے وہ اس کے حفظ پر حریص ہوتا ہے مگر نسیان اس پر غالب آجاتا ہے تو یہ اس میں سے نہیں جو چیز اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ قرآن بھول جایا کرتے یہاں تک کہ آپ کو یاد دلایا جاتا۔ اس ضمن میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں ایک آدمی کی قرأت کو سنا تو فرمایا :” اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر ہو اس نے مجھے ایسی آیات یا ددلائی ہیں جن کو میں فلاں فلاں سورت سے بھول گیا تھا “ (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ما ‘ الذی کے معنی میں ہے معنی ہے زمانہ گذشتہ میں جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کے باعث ہے۔
حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : کتاب اللہ میں سے زیادہ امید والی یہ آیت ہے جب وہ مصائب کے ساتھ مجھ سے خطائوں کو بخش دیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے تو کفارہ اور معافی کے بعد کیا رہ جاتا ہے (3) یہی چیز آپ نے ایک مرفوع حدیث میں بھی بیان کیا ہے حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا : کیا میں تمہیں کتاب اللہ میں سے سب سے افضل آیت کے بارے میں آگاہ نہ کروں جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے ہم سے کیا ہے وہ ومآ اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ہے فرمایا :” اے علی ! جو تمہیں بیماری ‘ تکلیف یا آزمائش دنیا میں آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کماء یکے باعث ہے اللہ تعالیٰ اس سے بالا ہے کہ وہ آخرت میں تمہیں دو بارہ سزا دے اور دنیا میں جس گناہ کو اس نے معاف کردیا ہے اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ حلم والا ہے کہ وہ معافی کے بعد اس پر سزا دے “ (1) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے کہا : جو رگ پھڑکتی ہے ‘ جو لکڑی سے خراش آتی ہے اور جو انسان پتھر پر گرتا ہے تو یہ کسی نہ کسی گناہ کے باعث ہوتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ بخش دیتا ہے “ (2) ۔
حضرت حسن بصری نے کہا : ہم عمران بن حصین کے پاس گئے تو ایک آدمی نے کہا : جو تکلیف میں تجھ میں دیکھ رہا ہوں میں اس کے بارے میں تم سے ضرور سوال کروں گا۔ عمران نے کہا : اے میر بھائی ! اس طرح نہ کر اللہ کی قسم ! میں درد کو پسند کرتا ہوں اور جو اسے پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں میں سبے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے (3) ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومآ اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر۔ یہ میرے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے جو گناہ باقی بچے ہیں میرے رب نے انہیں معاف کردیا ہے۔ وہ تعداد میں بہت بڑھ کر ہیں۔
مرہ ہمدانی نے کہا : میں نے شریح کی ہتھیلی کی پشت پر ایک زخم دیکھا میں نے پوچھا : اے ابو امیہ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا : یہ میرے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت زیادہ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
ابن عون نے کہا : جب محمد بن سیرین پر قرض چڑھ جاتا تو اس وجہ سے وہ غمگین ہوتے فرماتے : میں اس غم کو پہچانتا ہوں یہ اس گناہ کی وجہ سے ہے جو میں نے چالیس سال پہلے کیا تھا۔
احمد بن ابی حواری نے کہا : ابو سلیمان دارانی سے کہا گیا : ان عقلاء کو کیا ہوگیا ہے انہوں نے ان لوگوں سے ملامت کو زائل کردیا ہے جنہوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ؟
انہوں نے جواب دیا : کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے گناہوں کے باعث آزمائش میں ڈالا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ومآ اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفوا عن کثیر۔۔
عکرمہ نے کہا : انسان کو گرنے کی صورت میں جو بھی تکلیف پہنچتی ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس گناہ کے باعث ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ اس مصیبت کے ساتھ بخشنے والا تھا یا وہ ایسا درجہ پائے جس درجہ تک اس مصیبت کو برداشت کیے بغیر نہیں پہنچ سکتا تھا۔
ایک روایت کی گئی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کی : اے موسیٰ ! (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں ایک حاجت کا سوال کیجئے کہ وہ میری حاجت پوری فرمادے (1) جبکہ اللہ تعالیٰ اس حاجت کو بخوبی جانتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی طرح کیا جب وہ نیچے آئے تو وہ اسی آدمی کے پاس تھے جسے درندے نے چیڑپھاڑ دیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے ارشاد فرمایا : اے موسیٰ ! اس نے مجھ سے ایک ایسے درجے کا سوال کیا جس کے بارے میں مجھے علم تھا کہ وہ اپنے عمل کے ذریعے یہاں نہ پہنچ پائے گا تو میں نے اسے وہ تکلیف دی جسے تو دیکھ رہا ہے تاکہ میں اس درجہ کو پانے کے لیے اسے مصیبت کو وسیلہ بنادوں۔ ابو سلیمان دارانی جب اس حدیث کا ذکر کرتے تو کہتے : اس ذات کے لیے تمام پاکیزگیاں ہیں جو اس پر قادر ہے کہ آزمائش کے بغیر اسے اس درجہ پر پہنچا دے لیکن وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
میں کہتا ہوں : معنی میں اس آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : من یعمل سوء ایجز بہ (النسائ : 123) اس بارے میں گفتگو پہلے گذر چکی ہے۔ ہمارے علماء نے کہا : یہ مومنین کے حق میں ہے جہاں تک کافر کا تعلق ہے اس کی سزا آخرت تک موخر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ کفار کو خطاب ہے جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو کہتے : یہ حضرت محمد ﷺ کی نحوست کی وجہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کیا بلکہ فرمایا : یہ ان کے کفر کی نحوست کی وجہ سے ہے جبکہ پہلی تعبیر زیادہ علماء نے کی ‘ یہ زیادہ ظاہر اور زیادہ مشہور ہے۔
ثابت بنانی نے کہا : یہ بات کہی جاتی تھ یکہ تکلیف کی ساعتیں خطائوں کی ساعتوں کو ختم کردیتی ہیں (2) پھر اس میں دو قول ہیں : (1) یہ بالغوں کے بارے میں خاص ہے کہ ان کے حق میں عقوبت ہو اور بچوں کے حق میں یہ اجر کا ذریعہ ہو۔ (2) یہ عقوبت عام ہے بالغوں کے حق میں انکی ذاتوں کے حوالہ سے اور بچوں کے حق میں ان کی والدہ اور والد کے حوالہ سے ہے۔
ویعفوا عن کثیر۔ یعنی بہت سے ایسے گناہوں کو بخش دیتا ہے جن پر حدود نہیں ہوتیں (3) ؛ یہی حضرت بصری کے قول کا مقتضا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ بہت سے گناہگاروں کو نہیں بخشتا یعنی ان پر جلدی عذاب نہیں دیتا۔
ومآ انتم بمعجزین فی الارض یعنی تم اللہ تعالیٰ کو فوت نہیں پائو گے یعنی تم بھی اسے عاجز نہیں پائو گے اور نہ ہی تم اسے نا پید پائو گے۔
Ayah 42:31ومالکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر۔ اس کی بحث کئی مواقع پر گذرچ کی ہے۔
Ayah 42:32ومن ایتہ الجوار فی البحر کالاعلام۔ ان کی ان علامات میں سے جو اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہے وہ سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں گویا وہ بڑے ہونے میں پہاڑ ہیں۔ اعلام کا معنی پہاڑ ہے جواری کی واحد جاریۃ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انا لما طغا المآء حملنکم فی الجاریۃ۔ (الحاقہ) اسے جاریہ نام اس لے دیا گیا کیونکہ وہ پانی میں چلتی ہے۔ جاریہ کا معنی نوجوان لڑکی بھی ہے ‘ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس میں نوجوانی کا پانی چلتا ہے۔ مجاہد نے کہا : اعلام کا معنی محلات ہیں اس کا واحد علم ہے (1) ‘ یہ ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ مادردی نے ان سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد پہاڑ ہیں (2) ۔ خلیل نے کہا : عربوں کے ہاں ہر بلند شے کو علم کہتے ہیں۔ خنساء اپنے بھاء یصخر کا مرثیہ کہتے ہوئے کہتی ہے :
وان صخر لتآتم الھداۃ بہ کأ نہ علم فی رأسہ نار (3)
بے شک صخر کا راہنما بھی قصد کرتے ہیں گویا وہ ایسا پہاڑ ہے جس کی چوٹی پر آگ ہے۔
Ayahs 42:33–35ان یشا یسکن الریح اہل مدینہ نے اسی طرح جمع کا صیغہ پڑھا ہے فیظللن رواکد علی ظھرہ کشتیاں سطح سمندر پر ساکن رہتی ہیں وہ چلتی نہیں ہیں رکدالساء رکودا یعنی پانی ٹھہر گیا ‘ اسی طرح ہوا اور کشتی ہے۔ سورج جب دوپہر کو ٹھہر جائے تو اس کے لیے بھی راکد کا لفظ استعمال ہوتا ہے ‘ ہر وہ چیز جو کسی جگہ ثابت ہوا ہے راکد کہتے ہیں راکد المیزان جب وہ جھکنے سے رک جائے ‘ مراکد ان مقامات کو کہتے ہیں جہاں انسان اور دوسری چیزیں ٹھہرتی ہیں۔ قتادہ نے اسے فیظللتن پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے جس طرح ضللت ‘ اضل ہے اور لام کے فتحہ کے ساتھ بھی ہے ؛ یہ قرأت مشہور ہے۔
ان فی ذلک لایت لکل صبارشکور۔ آیات سے مراد دلالات اور علامات ہیں یعنی جو آزمائش پر صبر کرتا ہے اور نعمتوں پر شکر بجالاتا ہے۔ قطرب نے کہا : صابر و شاکر بندہ کتنا اچھا ہے جب اسے عطا کیا جائے تو شکر کرتا ہے اور جب اسے آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرتا ہے (4) عون بن عبداللہ نے کہا : کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر انعام کیا جاتا ہے تو شکر نہیں کرتے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کو امتحان میں ڈالا جاتا تو صبر نہیں کرتے۔ (آیت نمبر 34‘ 35)
اویوبقھن بما کسبوا اگر چاہے تو ہوائوں کو آندھیاں بنادے اور کشتیوں کو تباہ کردے یعنی ان لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے انہیں ہلاک کردے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ کشتیوں والے افراد کو ہلاک کردے۔
ویعف عن کثیر۔ ان کشتیوں والے بہت سے افراد کو معاف فرما دیتا ہے اور ان کشتیوں کے ساتھ انہیں غرق نہیں کرتا ؛
یہ ماوردی نے حکایت بیان کی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے وہ بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور انہیں ہلاکت سے اللہ تعالیٰ نجات عطا فرماتا ہے۔ قشیری نے کہا : عام قراءت ویعف ہے اس میں اشکال ہے کیونکہ معنی ہے اگر چاہے تو ہوا کو ساکن کردے اور وہ کشتیاں ایک ہی جگہ پھہری رہیں اور ان کے سواروں کے گناہوں کے سب انہیں تباہ کردے اس صور تمہیں عطف کرنا اچھا نہیں کیونکہ اس صورت میں معنی بن جاتا ہے اگر چاہے تو معاف کردے معنی یہ نہیں بلکہ معنی ہے بغیر مشیئت کی شرط کے انہیں معاف کرنے کی خبر دینا ہے اس صورت میں مجزوم پر عطف لفظ کے اعتبار سے ہوگا معنی کے اعتبار سے نہیں ہوگا۔
ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص۔ اس کا مصداق کفار ہیں یعنی جب وہ سمندر کے بیچ میں ہوتے ہیں اور ہوائیں ہر طرف سے گھیر لیتی ہیں یا کشتیاں کھڑی رہتی ہیں تو انہیں علم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ ہی انہیں بچا نے والا ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرنے کا ارادہ کرے پس وہ اللہ تعالیٰ کی اخلاص سے عبادت کریں۔ یہ بحث بھی کئی مقامات پر گذر چکی ہے۔ سمندر میں سفر کرنے کے بارے میں بحث سورة بقرہ اور دوسرے مقامات پر گذر چکی ہے اس لیے اعادہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ نافع اور ابن عامر نے ویعلم رفع کے ساتھ پڑھا ہے جبکہ باقیوں نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔ شرط وجزا کے بعد رفع استناف کے طریقہ پر ہوگا جس طرح سورة توبہ میں ہے ویخزھم وینصر کم علیھم (14) پھر فرمایا : ویتوب اللہ علی من یسآء (التوبہ : 15) رفع کے طور پر فرمایا ‘ اس کی مثل کلام عربی میں ہے ان تأتنی اتک وینطلق عبداللہ یا یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے اور نصب محض کلام پھیرنے کے اعتبار سے ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ویعلم الصبرین۔ (آل عمران) جزم کی حالت سے نصب کی حالت کی طرف اسے پھیرا ہے مقصد تخفیف پیدا کرنا ہے کیونکہ پے درپے جزم ناپسندیدہ ہے جس طرح نابغہ کا قول ہے :
فان یھلک ابو قابوس یھلک ربیع الناس والشھر الحرام
ویمسک بعدہ بذناب عیش اجب الظھر لیس لہ سنام
اگر ابو قابوس ہلاک ہوگیا ہے تو لوگوں کا موسم بہار اور شہر حرام فوت ہوگیا ہے اس کے فوت ہونے کے بعد وہ زندگی کی دنب کو ہی پکڑے گا جس کی کہاں کٹی ہوئی ہے۔
یہ فراء کے قول کا معنی ہے۔ اگر یعلم کو جزم دی جائے تو یہ بھی جائز ہے۔ رجاج نے کہا : ان کے مضمر ہونے کی بنا پر اسے نصب دی جائے گی (1) کیونکہ اسے سے قبل جزم ہے تو کہتا ہے : تصنع اصنع مثلہ وأکرمک۔ اگر تو چاہے تو تو کہہ سکتا ہے واکرمک بعض مصاحف میں ولیعلم ہے یہ اس امر پر دال ہے کہ نصب معنی کی وجہ سے ہے کہ پہلا مصدر کے حکم میں ہے ویکون منہ عفو و أن لیعلم۔ جب اسے اسم پر محمول کیا تو ان کو مضمر کیا جس طرح تو کہتا ہے : ان تاتنی وتعطینی اکرمک اور تو تو تعطینیو نصب دیتا ہے تقدیر کلام یہ بنے گی ان یکن منکم اتیان وأن تعطینی۔
من محیص۔ کا معنی فرار اور بھاگنے کی جگہ ہے (1) ؛ یہ قطرب نے کہا : سدی نے کہ : معنی ہے پناہ گاہ۔ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے (2) ؛ حاص بہ البعیر حیصۃ جب اونٹ نے اسے پھینک دیا اسی معنی میں ان کا قول ہے : فلان یحیص عن الحق فلاں حق سے مائل ہوتا ہے۔
Ayah 42:36من شیء سے مراد دنیا میں غنا اور خوشحالی ہے فمتاع یہ چند دنوں کا سامان ہے جو دن ختم ہوجائیں گے اس لیے مناسب نہیں کہ کوئی اس پر فخر کرے ‘ خطاب مشرکوں کو ہے۔ وما عند اللہ خیر و ابقی سے مراد اطاعت پر ثواب ہے للذین امنوا جنہوں نے تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا وعلی ربھم یتوکلون۔ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنا تمام مال اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کردیا تو لوگوں نے آ پکو ملامت کی۔ حدیث طیبہ میں آیا ہے ” انہوں نے اسی ہزار خرچ کیا “۔
Ayah 42:37(آیت نمبر 37)
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: والذین یجتنبون اسم موصول محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف للذین امنوا پر ہے یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ گناہ کبیرہ کے بارے میں بحث سورة النساء میں گذرچ کی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے کبیر الاثم پڑھا ہے اضافت کے وقت واحد سے بھی جمع کا ارادہ کیا جاتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و ان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم :34) جس طرح حدیث طیبہ میں ہے منعت العراق درھمھا و قفیر ھا (3) محل استدلال درھمھا اور قفیزھا ہے۔ باقی قراء نے یہاں اور سورة نجم میں جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔
والفواحش سدی نے کہا : اس سے مراد زنا ہے (4) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کہا : کبئر الاثم سے مراد ثرک ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر ہے : یہاں کبئر الاثم سے مراد گناہ ہیں کہ جب کوئی ان سے اجتناب کرتا ہے تو چھوٹے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ فواحش بھی کبائر میں داخل ہوتے ہیں لیکن یہ زیادہ فحش اور زیادہ شنیع ہوجاتے ہیں جس طرح قتل ‘ زخمی کرنے کی بنسبت اور بد کاری گناہ کی ترغیب دینے کی بنسبت زیادہ قبیح ہوتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ فواحش اور کبائر دونوں کا معنی ایک ہے لفظ متعدد ہونے کی وجہ سے اسے مکررذ کر کیا یعنی وہ نافرمانیوں سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ وہ کبائر اور فواحش ہیں۔ مقاتل نے کہا : فواخش سے مراد حدود کو واجب کرنے والے امور ہیں (1) ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ واذا ماغضبوا ھم یغفرون۔ یعنی وہ در گذر ہے کام لیتے ہیں اور جس نے ان پر ظلم کیا ہوتا ہے ان سے حلم کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت عمر کے حق میں نازل ہوئی جب انہیں مکہ مکرمہ میں گالیاں دی گئیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب تمام مال خرچ کرنے پر لوگوں نے ان کی ملامت کی اور جب انہیں گالیاں دی گئیں تو انہوں نے حلم کا مظاہرہ کیا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : ایک دفعہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس مال جمع ہوا تو آپ نے اللہ کی راہ میں تمام مال صدقہ کردیا مسلمانوں نے انہیں ملامت کی اور کافروں نے ان پر غلط عمل کرنے کا الزام لگایا (آیت نمبر فما اوتیتم۔۔۔۔۔۔۔ والذین یجتنبون۔۔۔۔۔۔۔۔ یغفرون۔ ) تک آیات نازل ہوئیں (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مشرکوں میں سے ایک آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو گالیاں دیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ محاست اخلاق میں سے ہے وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے پر شفقت کرتے ہیں اور جو جاہل ہوتا ہے اس سے در گذر کرتے ہیں ‘ وہ عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ثواب اور عفو کا سوال کرتے ہیں کیونکہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والکظمین الغیظ والعافین عن الناس (آل عمران :134) وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی تیری عزت سے کھیلے اور تو اس سے غصہ پر قابو پائے ‘ کسی نے یہ شعر کہا :
بق عفوت بظالمی ظلمی ووھبت ذاک لہ علی علمی
مازال یظلمی وأرحمہ حتی بکیت لہ من الظلم
میں نے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو معاف کردیا میں نے سب کچھ جانتے ہوئے اسے یہ چیز ہبہ کی۔ وہ لگاتار مجھ پر ظلم کرتارہا اور میں اس پر رحم کرتا رہا یہاں تک کہ اس کے ظلم کی وجہ سے میں اسے کے حق میں رویا
Ayah 42:38اس میں تین سائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین استجابوا لربھم واقاموا الصلوۃ عبدالرحمن بن زید نے کہا : اس سے مراد مدینہ طیبہ کے انصار ہیں (1) ‘ رسول اللہ ﷺ کی ذات پر ایمان لانے کی جب انہیں دعوت دی گئی تو انہوں نے اس پر لبیک کہی جب رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے قبل انہیں میں سے بارہ نقیب ان کی طرف روانہ کیے تھے۔
واقاموا الصلوۃ یعنی انہوں نے نماز کو اس کے اوقات میں شروط اور ہئیتوں کے ساتھ ادا کیا۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ وامرھم شوری بینھم وہ امور میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ شوری ‘ شاورتہ کا مصدر ہے جس طرح بشری اور ذکری وغیرہ نبی کریم ﷺ کے انصار مدینہ کے پاس آنے سے پہلے انصار کا یہ معمول تھا کہ جب وہ کسی امر کا ارادہ کرتے تو وہ آپس میں مشورہ کرتے پھر اس پر عمل کرتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی مدح کی (2) ؛ یہ نقاش کا قول ہے۔
حضرت حسن بصری نے کہا : وہ امور میں رائے کی اتباع کرتے ہیں اس لیے وہ اتفاق کرتے ہیں وہ اختلاف نہیں کرتے تو ان کے اتفاق کی وجہ سے ان کی مدح کی گئی (3) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کسی قوم نے کبھی بھی مشورہ نہیں کیا مگر انہیں بہترین امر کی طرف ہدایت دی گئی ( 4) ۔ ضحاک نے کہا : جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ظہور کے بارے میں سنا تو آپس میں مشورہ کیا وہ مراد ہے اور ان کے نقیب ان کے پاس آئے یہاں تک کہ ان کی رائے حضرت ایوب کے گھر میں آپ پر ایمان لانے اور آپ کی مدد کرنے پر متفق ہوگئی (5) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب بھی ان پر کوئی امر ظاہر ہوتا تو وہ آپس میں مشورہ کرتے ان میں سے بعض بعض کی خبر کو ترجیح نہ دیتے۔ ابن عربی نے کہا : مشورہ جماعت میں محبت پیدا کرتا ہے ‘ عقلوں کو پرکھنے کا آلہ ہے اور صحیح نتیجہ تک پہنچنے کا سبب ہے کسی قوم نے جب بھی مشورہ کیا وہ ہدایت پا گئے (6) ایک دانا نے کہا :
اذا بلغ الرأی المشورۃ فاستعن برأی لبیب او مشورۃ حازم
ولا تجعل الئسوری علیک غضا ضۃ فان الخوافی قوۃ للقوادم
جب رائے مشورہ تک جا پہنچے تو دانشمند کی رائے اور محتاط کے مشورہ سے مدد لے تو مشورہ اپنے لیے نقص نہ سمجھ بیشک چھوٹے پر ‘ بڑے پروں کی قوت ہوا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے امور میں مشورہ کی مدح کی ہے اس قوم کی مدح کے ساتھ جو اس کی پیروی کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ جنگوں کے متعلق امر میں اپنے صحابہ سے مشورہ کی طلب کیا کرتے تھے یہ آراء میں بہت زیادہ ہوتا ہے آپ احکام میں صحابہ سے م سورة لیا کرتے تھے کیونکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوتے وہ فرض ہوتے ‘ مستحب ہوتے ‘ مکروہ ہوتے ‘ مباح ہوتے یا حرام ہوتے ‘ جہاں تک صحابہ کرام کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہم پر ترجیح دی ہے وہ احکام میں بھی مشورہ کیا کرتے تھے اور کتاب و سنت سے ان کو مستنبط کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام نے سب سے پہلے جس معاملہ میں مشورہ کیا وہ خلافت کا معاملہ تھا نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں واضح ارشاد فرمایا تھا یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور انصار کے درمیان معاملہ ہوا جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : ہم اپنی دنیا کے لیے اسی پر راضی ہیں جس پر نبی کریم ﷺ ہمارے دین کے بارے میں راضی تھے۔ مرتدوں کے بارے میں صحابہ نے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا ‘ صحابہ نے دادا اور اس کی میراث میں مشورہ کیا ‘ شراب اور ان کی حد کے بارے میں مشورہ کیا ‘ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد انہوں نے جنگوں کے بارے میں مشورہ کیا یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ہر مزان سے بھی جنگوں کے بارے میں مشورہ کیا جب وہ مسلمان کی حیثیت سے آپکی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہر مزان نے آپ سے عرض کی : اس جنگ اور اس جنگ میں مسلمانوں کے جو دشمن شریک ہیں ان کی مثال اس پرندے جیسی ہے جس کا ایک سر ہے اس کے دو بازو ہیں اور دو پائوں ہیں اگر ایک بازو ٹوٹ جائے تو دونوں ٹانگیں ‘ ایک بازو اور سر کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوتی ہیں اگر دوسرا بازو بھی ٹوٹ جائے تو دونوں ٹانگیں اور سر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اگر سر کچل دیا جائے تو دونوں پائوں اور دونوں بازو بھی ختم ہوجاتے ہیں ‘ سرکسریٰ ہے ‘ ایک بازو قیصر اور دوسرا بازو فارس ہے مسلمانوں کو حکم دو کسری کی طرف نکلیں۔
ایک دانشمند نے کہا : میں نے کبھی بھی غلطی نہیں کی جب مجھے کوئی امر لاحق ہوتا تو میں اپنی قوم سے مشورہ کرتا میں وہی کرتا جو وہ رائے دیتے اگر میں صحیح نتیجہ تک جا پہنچتا تو وہ بھی صحیح نتیجہ تک پہنچتے اگر میں غلطی کرتا تو وہ بھی غلطی کرتے۔
مسئلہ نمبر 3 ۔ سورة آل عمران آیت 159 میں شوری کے احکام : وشاورھم فی الامر میں گذر چکے ہیں۔ مشورہ برکت ہے مشورہ سے مراد شوری ہے اسی طرح مشورہ ہے تو کہتا ہے : شاورتہ فی الا مردأستشرتہ کا معنی ایک ہی ہے۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” جب تمہارے امر اء تم میں سے بہترین لوگ ہوں ‘ تمہارے اغنیاء تم میں سے سخی لوگ ہوں اور تمہارے امور باہم مشورہ سے ہوں تو تمہارے لیے سطح زمین ‘ زمین کے بطن سے بہتر ہے جب تم میں سے امراء تم میں سے شریر ترین ہوں۔ تمہارے اغنیاء تم میں سے بخیل ترین لوگ ہوں اور تمہارے امور تمہاری عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے حق میں زمین کا بطن اس کی سطح سے بہتر ہے (1) “ یہ حدیث غریب ہے۔ ومما رزقنھم ینفقون۔ یعنی جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے صدقہ کرتے ہیں۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گذر چکی ہے
Ayah 42:39(آیت نمبر 39 to 42)
ان میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ والذین اذ آ اصابھم البغی یعنی مشرکوں کی جانب سے ان پر زیادتی کی جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کی وجہ یہ بنی کہ مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں پر بغاوت کی انہیں اذیتیں دیں اور انہیں مکہ مکرمہ سے نکالا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نکلنے کی اجازت دی ‘ زمین میں انہیں اختیار دیا اور جنہوں نے بغاوت کی تھی ان کے خلاف مسلمانوں کی مدد کی اللہ تعلایٰ کے اس فرمان : اذن للذین یقتلون با نھم ظلموا وان اللہ علی نصر ھم لقدیر۔ الذین اخرجوا (الحجض کا یہی مصداق ہے۔ ایک قول ہی کیا گیا ہے : یہ ہر باغی میں عام ہے خواہ وہ کافر ہو یا مومن یعنی جب انہیں ظالم کی جانب سے ظلم پہنچتا ہے تو وہ اس کے ظلم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے اس میں امر بالمعروف نہیں عن المنکر اور اقامت حدود کی طرف اشارہ ہے۔
ابن عربی نے ذکر کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ظلم کی صورت میں مدد کا ذکر مدح کے انداز میں کیا ہے ‘ ایک اور موقع پر جرم سے معافی کا ذکر مدح کے انداز میں کیا ہے تو یہ احتمال موجود ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو ختم کرنے والا ہے (1) اور یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ دو حالتوں کی طرف راجع ہو ان دونوں حالتوں میں سے ایک حالت یہ ہے کہ باغی اعلانیہ فجور کرنے والا ہے عام لوگوں میں بےحیائی کا ارتکاب کرنے والا ہو اور چھوٹے بڑے کو اذیتیں دینے والا ہو تو ایسے شخص سے انتقام لینا افضل ہے اس کی مثل میں حضرت ابراہیم نخعی نے فرمایا : وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ وہ اپنے نفوس کو ذلیل کریں کہ فاسق ان پر جری ہوجائیں۔
2 ۔ وہ امر جلد بازی میں ہوجائے یا اس سے واقع ہو جو لغرش کا اعتراف کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طالب ہوتا ہے تو یہاں معاف کرنا افضل ہے اسی کی مثل میں یہ آیات نازل ہوئیں وان تعفوا اقرب للتقوی (البقرۃ :237) اللہ تعالیٰ کا فرمان : فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ (المائدۃ : 45) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم (النور :22)
میں کہتا ہوں : یہ تعبیربہت اچھی ہے۔ کہا : طبری نے احکام میں یہی ذکر کیا ہے کہا : اللہ تعالیٰ کا فرمان : والذین اذآ اصابھم البغی ھم ینتصرون۔۔ اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ اس موقع پر اتقام لینا افضل ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول کرنے اور نماز قائم کرنے کے ذکر کے ساتھ اسے ملایا ہے یہ اسی معنی پر محمول ہے (1) جو ابراہیم نخعی نے ذکر کیا ہے وہ مومنوں کے لیے اس امر کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آ پکو ذلیل کردیں ‘ فساق ان پر جری ہوجائیں یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو حد سے تجاوز کرے اور اس پر اصرار کرے۔ وہ موقع جس میں معافی کا حکم دیا گیا ہے وہ اس وقت ہوگا جب جنایت کرنے والا شرمندہ ہو اور غلطی کا ازالہ کرنے والا ہو اس آیت کے بعد ارشاد فرمایا : ولمن انتصر بعد ظلمہ فا ولئک ما علیھم من سبیل۔ یہ انتقام لینے کے مباح ہونے کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا حکم دیتا ہے اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا : ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور۔ یہ غیر مصر کے لیے بخشش پر محمول ہے جہاں تک اس آدمی کا تعل ق ہے جو بغی اور ظلم پر مصر ہوتا ہے تو اس سے انتقام لینا افضل ہوتا ہے کیونکہ اس سے ماقبل آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب ان پر ظلم کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف باہم مدد کرتے ہیں یہاں تک کہ ظلم اپنے آپ سے دور کرلیتے ہیں (2) ؛ اور اس کو دور کرتے ہیں یہ ابن بحر نے کہا جسطرح ہم نے ذکر کیا ہے یہ عموم کی طرف لوٹتا ہے۔