42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 42:40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کر دے تو اسکا بدلہ خدا کے ذمے ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

مسئلہ نمبر 2 ۔ وجزؤ ا سیئۃ سیئۃ مثلھا علماء نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی دو قسمیں بنائی ہیں ایک قسم ہے جو ظالموں کو معاف کردیتی ہے اللہ تعایلٰ نے اس ارشاد کے ساتھ ان کے ذکر کا آغاز کیا واذا ماغضبوا ھم یغفرون۔ ایک قسم ایسی ہے جو ظالم سے انتقام لیتے ہیں پھر اس ارشاد وجز ؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا کے ساتھ انتقام کی حد بیان کی۔ جو آدمی ان پر ظلم کرتا ہے وہ ظالم سے انتقام لیتے ہیں مگر کسی قسم کی زیادتی نہیں کرتے۔ مقاتل اور ہشام بن تجیر نے کہا : یہ حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جس کو زخمی کیا گیا ہو زخمی کرے والے سے قصاص لے کر انتقام لیا جائے گا (3) ‘ جس نے سب و شتم کی ہے اس سے اتقام نہیں لیا جائے گا یہ امام شافعی ‘ امام ابوحنیفہ اور سفیان کا مذہب ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : ابن شبر مہ کہا کرتے تھے مکہ مکرمہ میں ہشام کی مثل کوئی نہیں۔ امام شافعی نے اس آی تمہیں یہ تاویل کی ہے کہ انسان کو حق حاصل ہے کہ خائن کے مال سے اتنا مال لے لے جتنی خائن نے اس کے مال میں خیانت کی تھی جبک اسے بتانے کی ضرورت نہیں اس بارے میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد سے استدلال کیا جو حضور ﷺ نے حضرت ابو سفیان کی بیوی ہندہ سے فرمایا تھا : ” تو اس کے مال سے اتنا لے لے جو تیرے اور تیرے بچے کے لیے کافی ہو “ (4) ۔ رسول اللہ ﷺ نے اجازت کے بغیر اسے مال لینے کی اجازت دی۔ اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں گذرچ کی ہے۔ ابن ابی نجیح نے فرمایا : یہ زخم لگانے میں مقابلہ پر محمول ہے (5) جب کہے : اللہ تعالیٰ اسے ذلیل ور سوا کرے یا اس پر لعنت کرے جب وہ اسکی مثل کہے تو وہ تہمت کا مقابلہ تہمت سے اور جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ سے نہ کرے۔ سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی مدح کی جو ظلم کرنے والے سے اس قدر بدلہ لیتا ہے جبکہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرتا اور جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے اتنا ہی ظلم کرتا ہے جس طرح عرب کیا کرتے تھے جزا کو سیئہ کہا گیا ہے کیونکہ یہ بدلہ اس عمل (ظلم) کے مقابلہ میں ہے پہلے نے مال اور بدن میں زیادتی کی اور یہ قصاص اسی کی مثل برا ہے (1) یہ بحث سورة بقرۃ میں مفصل گذرچ کی ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جس نے قصاص کو ترک کیا اور اپنے اور ظالم کے درمیان معافی کے ساتھ مصالحت کی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اللہ تعالیٰ اسے اس پر اجر دے گا۔ مقاتل نے کہا : عفو اعمال صالحہ میں سے ہے۔ سورة آل عمران میں اتنی بحث گذر چکی ہے جو اس میں کفایت کرجاتی ہے۔ الحمد اللہ۔ ابو نعیم حافظ نے حضرت علی بن حسین ؓ سے روایت نقل کی ہے : ” جب قیامت کا روز ہوگا تو ایک ندا کرنے وا الا ندا کرے گا : تم میں سے فضیلت والے کون ہیں ؟ کچھ لوگ کھڑے ہوں گے انہیں کہا جائے گا : جنت کی طرف چلے جائو ‘ فرشتے انہیں ملیں گے وہ پوچھیں گے : کہاں جارہے ہو ؟ وہ کہیں گے : جنت کی طرف جارہے ہیں ‘ فرشتے پوچھیں گے : حساب سے بھی پہلے ؟ ہ جواب دیں گے : ہاں۔ فرشتے پوچھیں گے : تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے : فضیلت والے۔ فرشتے پوچھیں گے ؎ : تمہاری فضیلت کیا ہے ؟ وہ فرمائیں گے : جب ہمارے ساتھ جہالت کارویہ اپنا یا جاتا تو ہم حلم کا مظاہرہ کرتے اور جب ہم پر ظلم کیا جاتا ‘ تو ہم صبر کرتے جب ہم پر زیادتی کی جاتی تو ہم معاف کردیتے۔ فرشتے کہیں گے : جنت میں داخل ہو جائو عمل کرنے والوں کا اجر کتناہی اچھا ہے “ اور حدیث کا ذکر کیا۔ انہ لا یحب الظلمین۔ جو ظلم کا آغاز کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا (2) ؛ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو آدمی قصاص میں حد سے تجاوز کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا ؛ یہ ابن عیسیٰ کا قول ہے (3) ۔
Ayah 42:41

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اسکے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کچھ الزام نہیں

مسئلہ نمبر 4 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ جو مسلمان کا فر سے بدلہ لے تو اس مسلمان پر ملامت کرے کی کوئی صورت نہیں بلکہ مسلمان کی اس وجہ سے تعریف کی جائے گی ‘ اگر کوئی مسلمان مسلمان ظلام سے بدلہ لے تو پھر بھی اس پر کوئی ملامت نہیں۔ کافر سے انتقام لینا حتمی بات ہے اور مسلمان سے بدلہ لینا مباح ہے اور معاف کردینا مستحب ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ فا ولئک ما علیھم من سبیل۔ اس امر پر دلیل ہے کہ وہ انپا پورا پورا بدلہ لے۔ یہ تین قسموں میں منقسم ہے (1) وہ بدن میں قصاص ہو جس کا ایک آدمی مستحق ہوتا ہے اگر وہ زیادتی کے بغیر پورا پورا حق لیتا ہے اور حکام کے نزدیک اس کا حق ثابت ہوتا ہے تو اس پر کوئی حرج نہ ہوگا لیکن امام اسے جھڑکے کیونکہ اس پر خون بہانے پر جرأتکا اظہار کرنا ہے اگر اس کا حق حاکم کے نزدیک ثابت نہ ہو تو اس پر کوئی حرج نہ ہو گا لیکن امام اسے جھڑکے کیونکہ اس پر خون بہانے پر جرأت کا اظہار کرنا ہے اگر اس کا حق حاکم کے نزدیک ثابت نہ ہو تو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو معاملہ ہے اس میں اس پر کوئی حرج نہ ہوگا وہ ظاہر میں مطالبہ کرنے والا ہے اور اپنے فعل کے ساتھ مواخذہ کرنے والا ہے اور سزادینے والا ہے۔ 2 ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حد ہو کسی آدمی کا اس میں کوئی حق نہ ہو جس طرح حد زنا ‘ چوری کی وجہ سے ہاتھ کاٹنا اگر یہ حکم کے نزدیک ثابت نہ ہو ہو تو اس کا مواخذہ کیا جائے گا اور اس کو سزادی جائے گی اگر حاکم کے نزدیک وہ ثابت ہو تو انتظار کیا جائے گا اگر چوری میں کاٹنا ہی سزا ہو تو حد ساقط ہو جائیگی کیونکہ جس عضو کا کاٹنا لازم ہوا تھا وہ عضو زائل ہوچکا ہے اس پر اس بارے میں کوئی حق ثابت نہیں ہوا۔ کیونکہ تعزیر ادب سکھانے کے لیے ہے ‘ اگر اس آدمی کی سزا کوڑے مارنا ثابت ہو تو اس سے حد ساقط نہ ہوگی کیونکہ اس نے بعدی کی ہے جبکہ اس کا محل باقی ہے تو وہ اس میں ماخوذ ہوگا۔ 3 ۔ مال میں اس کا حق ثابت ہو تو مالک کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے حق پر غلبہ حاصل کرے یہاں تک کہ اگر وہ جانتا ہے تو اس مال تک رسائی حاصل کرے اگر وہ نہیں جانتا تو مہلت دی جائے اگر مطالبہ کی صورت میں مال تک پہنچنا ممکن ہو تو خفیہ طریقہ سے لینا جائز نہیں اگر مطالبہ کے ساتھ پہنچنا ممکن نہیں کیونکہ جس پر حق لازم ہوتا ہے وہ انکاری ہے کوئی گواہ بھی نہیں جو گواہی دے تو خفیہ طریقہ سے مال لینے میں دو مذہب ہیں : (1) یہ جائز ہے ؛ یہ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے (2) اس طرح لینا منع ہے ؛ یہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے (1) ۔
Ayah 42:42

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ملک میں ناحق فساد پھیلاتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو تکلیف دینے والا عذاب ہوگا

مسئلہ نمبر 5 ۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس ان لوگوں پر ملامت ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں یعنی ان پر اپنی جانب سے حد سے تجاوز کرتے ہیں ؛ یہ اکثر علماء کا نقطہ نظر ہے۔ ابنجریج نے کہا : وہ ان پر شرک کے ذریعے ظلم کرتے ہیں جو ان کے دین کے مخالف ہے۔ (2) ۔ ویبغون فی الارض بغیر الحق وہ زمین میں ناحق نفوس اور اموال کے معاملہ میں فساد برپا کرتے ہیں ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ مقاتل نے کہا : بغیھم سے مراد نافر مانیوں کے اعمال کرنا ہے (3) ۔ ابو مالک نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے قریش کے کفار جس کی امید رکھتے تھے یعنی مکہ میں اسلام کے علاوہ کوئی اور دین ہو (4) ۔ اس تعبیر کی بنا پر ابن زید نے کہا : یہ سب جہاد کے ساتھ منسوخ ہے ‘ یہ مشرکین کے ساتھ خاص ہے۔ قتادہ کا قول ہے : یہ عام ہے کلام کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے۔ ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ الحمد للہ۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ ابن عربی نے کہا : یہ آیت سورة براۃ میں آیت کے مقابل ہے (5) وہ آیت یہ ہے ماعلی المحسنین من سبیل (التوبہ :91) جس طرح اللہ تعالیٰ نے احسان کرنے والے پر ملامت کی نفی کی اسی طرح مظلوم جب بدلہ لے تو اس پر سے ملامت کی نفی کردی دونوں قسموں کو مکمل کردیا۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ علماء نے ایسے حاکم کے بارے میں اختلاف کیا ہے جو ایک بستی کے لوگوں پر معین مال لازم کرتا ہے جو مال ان سے لے گا وہ لوگ اپنے اموال کی مقدار کے مطابق اسے دیں گے کیا وہ آدمی جو اس مال کی ادائیگی سے چھٹکارا پاسکتا ہے اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے جب وہ اس سے چھٹکارا پاتا ہے تو حاکم باقی مکینوں سے پورا مال لیتا ہے جو اس نے ان پر لازم کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس آدمی کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ‘ یہ ہمارے علماء میں سے سحنون کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہاں ایسا کرسکتا ہے اگر وہ چھٹکارا حاصل کرنے پر قادر ہو ؛ اسی طرف ابو جعفر احمد بن نصر داودی ‘ مالکی گئے ہیں۔ امام مالک کا قول جو زکوۃ کا مال و صول کرنے والے کے بارے میں ہے اس کی تائید کرتا ہے : جو شریک افراد میں سے ایک کے ریوڑ میں سے ایک بکری لیتا ہے سب میں نصاب نہیں تھا جس سے بکری لی گئی وہ اس پر ظلم ہے وہ اپنے ساتھیوں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ کہا :: سحنون سے جو روایت مروی ہے میں اسے اپنانے والا نہیں کیونکہ ظلم میں کوئی برابری نہیں کسی آدمی پر یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے آپکو محض اس خوف سے ظلم میں داخل کرلے کہ کسی اور پر ظلم دو گنا ہوجائے گا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : انما السبیل عل الذین یظلمون الناس۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ علماء نے تحلیل (کسی کے لیے کوئی چیز حلال قرار دینا ‘ کسی کے لیے کوئی چیز جائز قرار دینا) میں اختلاف کیا ہے۔ ابن مسیب سامان اور مال میں سے کوئی چیز کسی کے لیے حلال نہیں کرتے تھے سلیمان بن یسار اور محمد بن سیرین سامان تجارت اور مال میں سے ہر چیز جائز قرار دے دیتے تھے۔ امام مالک مال کو جائز قرار دے دیتے تھے سامان تجارت کو جائز قرار نہیں دیتے تھے۔ ابن قاسم اور ابن وہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے آپ سے سعید بن مسیب کے قول لا احلل احمدا کے بارے میں پوچھا گیا فرمایا : اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ میں نے عرض کی : اے ابا عبد اللہ ! ایک آدمی دوسرے کو مال قرض دیتا ہے اور وہ مال ہلاک ہوجاتا ہے اب وہ اس کو ادا بھی نہیں کرسکتا ؟ فرمایا : میری رائے یہ ہے کہ مال دینے والا مال لینے والے کے لیے مال حلال کر دے یہ میرے نزدیک افضل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ (الزمر :18) آپ کی خدمت میں ععرض کی گئی : ایک آدمی دوسرے پر ظلم کرتا ہے۔ فرمایا : میں اس کے لیے تحلیل کی رائے نہیں رکھتا یہ میرے نزدیک پہلے قول سے مختلف ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے : انما السبیل علی الذی یظلمون الناس اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے : ماعلی المحسنین من سبیل میری رائے نہیں کہ اس نے جو ظلم اس پر کیا ہے اسے اس پر حلال کردے۔ ابن عربی نے کہا : اس مسئلہ میں تین قول ہیں : (1) کسی حال میں بھی اس کے لیے حلال نہ کرے ‘ یہ سعید بن مسیب کا قول ہے (2) وہ اس کے لیے حلال کردے ؛ یہ محمد بن سیرین کا قول ہے (3) اگر مال ہو تو حلال کردے ‘ اگر ظلم ہو تو حلال نہ کرے ؛ یہ امام مالک کا قول ہے۔ پہلے قول کی دلیل یہ ہے اللہ تعالیٰ نے جو حرام کیا اسے حلال نہ کرے یہ صورت ایسی ہوگی کہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تبدیل کرنے کی طرح ہوگا ‘ دوسرے قول کی دلیل یہ ہے کہ یہ اس کا حق ہے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے ساقط کردے جس طرح وہ قصاص اور سامان تجارت کا حق ساقط کردیتا ہے۔ تیسرے قول کی دلیل جسے امام مالک نے پسند کیا ہے ایک آدمی تیرا حق ادا کرنے میں مغلوب ہوگیا ہے تو اس کے ساتھ نرمی کی صورت یہ ہے کہ وہ مال اس کے لیے حلال کردے اگر وہ ظالم ہو تو پھر مناسب یہ ہے کہ تو اسے نہ چھوڑے تاکہ ظالم لوگ دھوکہ میں مبتلا نہ ہوں اور اپنے قبیح افعال میں آزاد نہ ہوجائیں۔ صحیح مسلم میں ابو یسر طویل کی حدیث ہے اس میں ہے کہ آپ نے اپنے مقروض سے کہا : باہر آجائو میں جانتا ہوں تو کہاں چھپا ہوا ہے ؟ مقروض باہر آگیا آپنے پوچھا : کس چیز نے تجھے اس امر پر برانگیختہ کیا کہ تو مجھ سے چھپے ؟ جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں تجھ سے ذکر کروں گا اور تجھ سے جھوٹ نہیں بولوں گا ‘ اللہ کی قسم ! میں ڈرتا ہوں کہ تجھ سے بات کروں اور جھوٹ بولوں اور میں تجھ سے وعدہ کروں اور تیرے ساتھ اس کی خلاف ورزی کروں تو صحابی رسول ہے ‘ اللہ کی قسم ! میں تنگ دست ہوں۔ پوچھا : تو نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی ہے ؟ عرض کی : اللہ کی قسم ! وہ صحیفہ لائے اور اس قرض کی تحریر کو مٹا دیا فرمایا : اگر تو قرض ادا کرنے کی صورت پائے تو ادا کردینا بصورت دیگر تو آزاد ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ تو اس زندہ آدمی کے بارے میں ہے جس سے ادائیگی کی امید ہوتی ہے کیونکہ ذمہ سلامت ہے اور حیلہ سے طلب کرنے کی امید موجود ہے تو اس میت کا کیا عالم ہوگا جس سے حیلہ سے طلب کی کوئی صورت نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی ذمہ ہے (1) ؟ مسئلہ نمبر 10 ۔ بعض علماء نے کہا : جس پر ظلم کیا گیا اور اس کا مال لے لیا گیا تو اس کا جو مال روکا گیا ہے اس کی موت تک اس کا ثواب ہے پھر ثواب اس کے وارثوں کی طرف لوٹ جائے گا یہ سلسلہ آخر تک چلتا رہے گا کیونکہ وفات کے بعد مالوارثوں کا ہوجاتا ہے۔ ابو جعفر داودی مالکی نے کہا : یہ نظر وف کر کے اعتبار سے صحیح ہے ‘ اسی معنی میں یہ بھی ہے اگر ظالم مظلوم سے پہلے مرگیا اور اس نے کوئی چیز نہ چھوڑی جس کو وارث نہیں جانتا تھا تو مظلوم کا بوجھ ظالم کے وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوگا کیونکہ ظالم کی کوئی ایسی چیز باقی نیہ مظلوم کے ورثاء جس کے مستحق بنتے۔
Ayah 42:43

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں

مسئلہ نمبر 11 ۔ ولمن صبرو غفر یعنی جس نے تکلیف پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بدلہ نہ لیا۔ یہ اس صورت میں ہے جب مسلمان نے اس پر ظلم کیا ہو۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں ایک آدمی نے دوسرے کو گالیاں دیں جس آدمی کو گالیاں دی گئیں غصہ ضی رہا تھا اور اسے پسینہ آرہا تھا وہ اپنا پسینہ صاف کررہا تھا پھر وہ اٹھا اور اس آیت کی تلاوت کی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے اس آیت کو جانا اور سمجھا ‘ جب جاہل لوگوں نے اسے ضائع کیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاف کرنا مستحب ہے بعض صورتوں میں معاملہ الٹ ہوجاتا ہے تو معافی کو ترک کرنا مستحب ہوجاتا ہے ج سطرح بحث پہلے گذرچ کی ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب سرکشی کی زیادتی کو روکنا اور تکلیف کے مادہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ‘ نبی کریم ﷺ سے بھی ایک روایت ایسی مروی ہے جو اسی معنی پر دال ہے روایت یہ ہے کہ حضرت زینب ؓ نے حضور ﷺ کی موجودگی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو برا بھلا کہا رسول اللہ ﷺ اسے روکا کرتے تو وہ نہ رکتیں (2) ۔ رسول اللہ ﷺ نے حضر تعائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا :” اس سے بدلہ لو “۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ معاصی سے صبر کرے اور برائیوں پر پر دہ ڈالے۔ ان ذلک لمن عزم الامر۔ یعنی یہ وہ امور ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان درست امور میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے۔ کلبی اور فراء نے ذکر کیا ہے : یہ آیت اور اس سے قبل کی تین آیات حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئیں (1) کسی انصاری نے انہیں برا بھلا کہا تو آپ نے اسے جواب دیا پھر خاموشی اختیار کرلی۔ یہ آیات اس سورت کی مدنی آیات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیات مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئیں یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی تھیں پھر جہاد والی آیات نے انہیں منسوخ کردیا۔ یہ ابن زید کا قول ہے جو پہلے گذر چکا ہے۔ تفسیر ابن عباس میں ہے : ولمن انتصر بعد ظلمہ سے مراد حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ‘ حضرت عبیدہ ‘ حضرت علی اور تمام مہاجرین ہیں فاولئک ماعلیھم من سبیل۔ سے مراد حضرت حمزہ ‘ حضرت عبیدہ اور حضرت علی شیر خدا ؓ ہیں۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس سے مراد عتبہ بنربیعہ ‘ شیعبہ بن ربیعہ ‘ ولید بن عتبہ ‘ ابو جہل اور اسود اور تمام وہ مشرک ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ ویبغون فی الارض اس سے مراد ظلم اور کفر ہے الیم سے مراد درد ناک عذاب ہے ولمن صبر وغفر اس سے مراد حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت ابو عبیدہ بن جرح ‘ حضرت مصعب بن عمیر اور تمام بدری صحابہ ہیں ان ذلک لمن عزم الامور۔ کیونکہ انہوں نے فدیہ کو قبول کیا اور تکلیفوں پر صبر کیا۔
Ayah 42:44

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟

(آیت نمبر 44 ) ومن یضلل اللہ جسے اللہ تعالیٰ بےیارومدد گار چھوڑ دے فما لہ من ولی من بعدہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے ان امور میں اعراض کیا جن امور کی طرف نبی کریم ﷺ نے انہیں دعوت دی تھی یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور قربی میں محبت اور ان لوگوں نے دوبارہ اٹھائے جانے اور دنیا کے سامان کے قلیل ہونے میں آپ کی تصدیق نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ جسے ان چیزوں سے گمراہ کردے تو کوئی ہدایت دینے والا اسے ہدایت نہیں دیتا۔ وتری الظلمین یہاں ظالمین سے مرادکفار ہیں لما راوا العذاب عذاب سے مراد جہنم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے موت کے وقت عذاب کو دیکھا یقولون ھل الی مرد من سبیل۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کی طرف لوٹا یا جائے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں تو ان کی عرضداشت قبول نہیں کی جائیگی۔
Ayah 42:45

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تم ان کو دیکھو گے کہ دوزخ کے سامنے لائے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی (اور نیچی) نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے اور مومن لوگ کہیں گے کہ خسارہ اٹھانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا دیکھو ! کہ بےانصاف لوگ ہمیشہ کے دکھ میں (پڑے) رہیں گے

(آیت نمبر 45 ) وترھم یعرضون علیھا ھا ضمیر سے مراد آگ ہے کیونکہ یہی ان کا عذاب ہے اگر تو چاہے تو جہنم مراد لے لے اگر لفظ کی رعایت کی جاتی تو علیہ ہوتا پھر یہ کہا گیا : اس سے مراد سب مشرک ہیں جنہیں جہنم پر پیش کیا جائے گا (1) جب وہ اس کی طرف جائیں گے ؛ یہ اکثر علماء کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سیمراد آل فرعون ہیں ان کی روحوں کو سیاہ پرندوں میں محبوس کیا جاتا ہے (2) جو صبح کے وقت جہنم پر آتے ہیں اور شام کو واپس پلٹتے ہیں یہی جہنم پر ان کی پیشی ہے ؛ یہ حضرت ابن مسعود کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد عام مشرک ہیں ان کی قبروں میں ان کے گناہ پیش کیے جاتے ہیں اور وہ قبروں میں عذاب پر پیش کیے جاتے ہیں ؛ ابو حجاج کے قول کا یہ یہی معنی ہے (3) ۔ خشعین من الذل بعض قراء نے خشعین پر وقف کیا اور من الذل ‘ ینظرون کے متعلق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خشعین کے متعلق ہے۔ خشوع کا معنی تواضع و عاجزی ہے۔ ینظرون من طرف خفی کا معنی ہے وہ اپنی نظروں کو وپرا نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ اپنے سرکو جھکائے ہوئے ہوتے ہیں۔ عرب ذلیل کی صفت غض الطرف سے کرتے ہیں جس طرح اس کے مقابل کے لیے حدید النظر سے صفت بیان کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : من طرف خفی سے مراد ہے ذلیل (4) ۔ وہ اپنے دلوں سے دیکھیں گے کیونکہ وہ اندھے اٹھائے جائیں گے عین قلب سے مراد طرف خفی ہے۔ قتادہ ‘ سدی ‘ قرظی اور سعید بن جبیر نے کہا : وہ خوف کی شدت کی وجہ سینظریں چراتے ہیں (5) ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے وہ کمزور نظر سے دیکھتے ہیں۔ یونس نے کہا : من کا معنی باء ہے (6) تقدیر کلام یہ ہوگی ینظرون بطرف خفی یعنی ذلت اور خوف کی وجہ سے کمزور نظر سے دیکھتے ہیں اسی کی مثل اعمش سیمروی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ کملائی ہوئی کمزور نظر سے دیکھتے ہیں (7) ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ عذاب کی اصناف کو دیکھتے ہیں تور پوری آنکھ سے دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ وقال الذین امنوا ان الخسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم یوم القیمۃ مومن جب اس چیز کا مشاہدہ کریں گے جو کفار پر واقع ہوا تو جنت میں یہ کہیں گے : حقیقت میں خسارہ تو وہ ہے جس کی طرف یہ لوگ پہنچے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈالا ہے کیونکہ یہ دائمی عذاب میں ہیں اور انہوں نے اپنے اہل میں بھی خسارہ اٹھایا ہے کیونکہ ان کے گھر والے اگر آگ میں ہوں گے تو ان کی وجہ سے انہیں کوئی نفع نہ ہوگا اگر اہل جنت میں ہوں گے تو اس کے اور ان کے درمیان رکاوٹ موجود ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اہل کے خسران سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ ایمان لاتے تو جنت میں ان کے اہل حورعین میں سے ہوتے۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں ایک گھر جنت میں ہے اور ایک گھر دوزخ میں ہے جب وہ مرتا ہے اور جہنم میں داخل ہوتا ہے تو جنتی اس کے گھر کا وارث بن جاتا ہے (1) اللہ تعالیٰ کے فرمان : اولئک ھم الورثون۔ (المومنون) کا یہی مطلب ہے۔ یہ بحث پہلے گذرچ کی ہے۔ مسند دارمی میں حضرت ابی امامہ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کوئی آدمی جسے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرتا ہے اللہ تعالیٰ بہتر (72) بیویاں حورعین میں سے اور ستر (70) جہنمیوں کی میراث کے طور پر عطا فرماتا ہے ان میں سے ایک کی شرمگاہ دل پسند ہوگی اور اس کا آلہ تناسل دہرہ نہیں ہوگا “ (2) ہشام بن خالد نے کہا : من میراثہ من اھل النار سیمراد ایسے مرد ہیں جنہیں جہنم میں داخل کیا گیا تو جنتی ان کی عورتوں کے وارث ہوگئے جس طرح عورتوں کے وارث ہوگئے جس طرح فرعون کی بیوی کے وارث ہوجائیں گے (3) ۔ الا ان الظلمین فی عذاب مقیم۔ یعنی ایسا عذاب جو ختم نہ ہوگا۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ مومنوں کا قول ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ کلام ہو۔
Ayah 42:46

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے کہ خدا کے سوا ان کو مدد دے سکیں اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کے لئے (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں

(آیت نمبر 46 ) اولیاء سے مراد مددگار ہیں من دون اللہ یعنی اس کے عذاب سے انہیں بچائیں ومن یضلل اللہ فما لہ من سبیل۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کے لیے کوئی راہ نہیں جس کے ذریعے وہ دنیا میں حق تک اور آخرت میں جنت تک پہنچ سکے کیونکہ ان پر نجات کا راستہ بند کردیا گیا ہے۔
Ayah 42:47

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

(ان سے کہہ دو کہ) قبل اس کے کہ وہ دن جو ٹلے گا نہیں خدا کی طرف سے آموجود ہو اپنے پروردگار کا حکم قبول کرو اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم سے گناہوں کا انکار ہی بن پڑے گا

(آیت نمبر 47 ) استجیبوا لربکم اس نے تمہیں ایمان اور اطاعت کی طرف جو دعوت دی ہے اس پر لبیک کہو : استجاب اور اجاب دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ مالکم من ملجا کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں ہوگی جو تمہیں عذاب سے نجات دے۔ وما لکم من نکیر۔ کوئی مددگار نہیں جو تمہاری مدد کرے (1) ؛ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نکیر منکر کے معنی میں ہے جس طرح الیم ‘ منولم کے معنی میں ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے گا تو اس روز تم کسی انکار کرنے والے کو نہ پائو گے ؛ یہ ابن ابی حاتم نے بیان کیا ہے ؛ یہ کلبی کا قول ہے (2) ۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے وہ ان گناہوں کے انکار پر قادر نہ ہوں گے جن سے وہ آگاہ ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من نکیر سے مراد ہے تم پر جو عذاب نازل ہوگا اس کو تبدیل کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ نکیر اور انکار کا معنی ہے ناپسندیدہ چیز کو تبدیل کرنا۔
Ayah 42:48

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے

(آیت نمبر 48 ) فان اعرضوا اگر انہوں نے ایمان سے اعراض کیا فمآ ارشلنک علیھم حفیظا یعنی ہم نے آپ کو ان کے اعمال کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا یہاں تک کہ آپ ان کا اعمال پر محاسبہ کریں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ جب تک وہ ایمان نہ لائیں آپ ان سے جدانہ ہوں یعنی انہیں ایمان پر مجبور کرنا جو آپ کی ذمہ داری نہیں ان علیک الا البلغ آپ کے ذمہ پیغام حق پہنچا نا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : آیت قتال سے یہ آیت منسوخ ہے وانا اذآ اذقنا الانسان یہاں انسان سے مراد کافر ہے منا رحمہ رحمت سے مراد خوشحالی اور صحت ہے فرح بھا اس کی وجہ سے وہ اترانے لگتا ہے وان تصبھم سیئۃ اگر انہیں آزمائش اور سختی آتی ہے بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفور۔ یہ اس کے اعمال کا نتیجہ ہے جو نعمتیں اس پر پہلے ہوچکی ہیں ان کی ناشکری کرنے والا ہے وہ مصائب کو شمار کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

تمام بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخش دیتا ہے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے

(آیت نمبر 49‘ 50 ) اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ للہ ملک السموت والارض یہ مبتدا اور خبر ہیں یخلق ما یشآء یعنی مخلوقات میں سے جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے یھب لمن یشآء انا ثا ویھب لمن یشآ الذکور۔ ابو عبیدہ ‘ ابو مالک ‘ مجاہد ‘ حسن اور ضحاک نے کہا (1): جن کے بارے میں چاہتا ہے انہیں مونث عطا کرتا ہے ان کے ساتھ مذکر نہیں ہوتے اور جن کے بارے میں چاہتا ہے مذکر عطا فرماتا ہے ان کے ساتھ مونث نہیں ہوتے ذکور پر الف لام داخل کیا اناث پر الف لام داخل نہیں کیا کیونکہ مذکر شرف والے ہیں پس الف لام تعریف کے ساتھ مذکروں کو ممتاز کیا۔ واثلہ بن استع نے کہا : عورت کی برکت میں سے یہ ہے (2) کہ اس کا ذکر مردوں سے پہلے کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور عورتوں سے ذکر شروع کیا اویزوجھم ذکرانا واناثا مجاہد نے کہا : عورت پہلے بچہ اور پھر بچی جنے ‘ پھر وہ بچہ اور پھر بچی جنے (3) ۔ محمد بن حنفیہ نے کہا : وہ جڑواں بچے اور بچی کو جنے یا انہیں مذکر اور مونث کی حیثیت میں جمع کردے (4) قتبی نے کہا : یہاں تزویج سے مراد بیٹوں اوبیٹیوں کو جمع کرتا ہے (5) ‘ عرب کہتے ہیں : زوجت ابھی۔ جب تو بڑوں اور چھوٹوں کو جمع کرے۔ ویجعل من یشآء عقیما یعنی اس کی اولاد ہی نہیں ہوتی یوں کہا جاتا ہے : رجل عقیم ‘ امرۃ عقیم۔ عقمت المرأۃ تعقہ عقا یہ بات اسی طرح ہے جس طرح حمد یحمد ہے عقمت تعقم جس طرح عظم یعظم ہے اس کا اصل معنی کاٹنا ہے اسی سے الملک العقیم ہے یعنی ایسا ملک جس میں رشتہ داریوں کو قتل اور نافرمانی کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے کیونکہ ملک چھن جانے کا خوف ہوتا ہے ریح عقیہ یعنی ایسی ہوا جو بادلوں اور درختوں میں ملاقحہ کا فریضہ سرانجام نہیں دیتی۔ یوم قیامت یوم عقیم ہے کیونکہ اس کے بعد کوئی دن نہیں ‘ یہ کہا جاتا ہے : نساء عقم وعقہ۔ شاعر نے کہا : عقم الئساء فما فلدن شبیھہ بن الساء بمثلہ عقم عورتیں بانجھ ہوگئیں وہ اس کی مثل نہیں جنتیں عورتیں اس کی مثل لانے سے بانجھ ہیں۔ نقاش نے بیان کیا ہے : یہ آیت انبیاء کے بار میں نازل ہوئی اگرچہ اس کا حکم عام ہے (6) حضرت لوط (علیہ السلام) کو صرف بیٹیاں عطا کی گئیں انکے ساتھ بیٹے نہ تھے ‘ حضرت ابراہیم علیہالسلام کو بیٹے اور بیٹیاں عطا کیں ‘ حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کو کوئی اولاد نہ دی ‘ اسی کی مثل حضرت ابن عباس ؓ اور اسحاق بن بشر سے مروی ہے۔ اسحاق نے کہا : یہ آیت انبیاء کے بارے میں نازل ہوئی پھر یہ حکم عام رکھتی ہے یھب لمن یشآء اناثا یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ ان کا کوئی بچہ نہ تھا ان کی صرف دو بیٹیاں تھیں یھب لمن یشآء الذکور۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بچی نہ تھی بلکہ ان کے آٹھ بیٹے تھے اویزوجھم ذکرانا واناثا اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے آپ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ویجعل من یشآء عقیما یعنی حضرت یحییٰ بن زکر یا علہما السلام کا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ذکر نہ کیا۔ ابن عربی نے کہا : ہمارے علماء نے کہا یھب لمن یشآء اناثا کا مصداق حضرت لوط (علیہ السلام) ہیں ان کی صرف بیٹیاں تھیں ان کا کوئی بیٹا نہ تھا ویھب لمن یشآء الذکور۔ کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں ان کے بٹے تھے ان کی کوئی بیٹی نہ تھی او یزوجھم ذکرانا و اناثا اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں حضرت حواء ہر بطن سے دو بچے ایک لڑکا اور ایک لڑکی جنا کرتی تھیں اس بطن کے مذکر کی دوسرے بطن کی مونث سے شادی کردی جاتی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی شریعت میں حرمت کے حکم کو قطعی طور پر نافذ کردیا اسی طرح حضرت محمد ﷺ کے بیٹے بھی تھے اور بیٹیاں بھی تھیں قاسم ‘ طیب ‘ طاہر ‘ اور عبد اللہ ‘ زینب ‘ ام کلثوم ‘ رقیہ اور فاطمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہ سب حضرت خدیجہ کے بطن سے تھے حضرت ابراہیم حضرت ماریہ قبیطیہ کے بطن سے تھے۔ اس تقدیر پر جو اس کی حکمت بالغہ اور مثیت نافذہ کے ساتھ متعلق ہے نظام چل رہا یہ تاکہ نسل باقی رہے مخلوقات بڑھتی رہے وعدہ پورا ہوتا رہے امر ثابت ہوتا رہے دنیا آباد ہوتی رہے جنت اور جہنم میں سے ہر ایک اپنا حصہ لے جو اس کو بھر دے اور کچھ حصہ باقی رہے حدیث طیبہ میں ہے کہ ” جہنم نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو وہ کہے گی : قط قط۔ مجھے کافی ہے ‘ مجھے کافی ہے جہاں تک جنت کا معاملہ ہے تو اس کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا فرمائے گا “۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی قدرت عامہ اور قوت شدیدہ کی وجہ سے مخلوق کو ابتدا بغیر کسی چیز کے پیدا فرماتا ہے وہ اپنی عظیم مہربانی اور حکمت بالغہ کے ساتھ ایک چیز سے دوسری چیز پیدا فرماتا ہے یہ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ہوتا کیونکہ وہ حاجات سے پاک ہے اور آفات سے سلامت ہے (1) ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین سے پیدا فرمایا اور حضرت حواء کو آدم سے پیدا فرمایا اور دونوں سے مخلوق کو وطی کے طور پر پیدا فرمایا :” وہ حمل ہوتا ہے وہ جنینہوتا ہے اس میں وضع حمل ہوتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جاتا ہے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ صحیح میں اسی طرح ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچا اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی کے غالب ہوتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ میں کہتا ہوں : حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث کا معنی ہے (1) اس کے الفاظ نہیں امام مسلم نے حضرت عروہ بن زبیر کے واسطہ سے ان سے اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھے تو کیا وہ غسل کرے گی ؟ فرمایا :” اسے چھوڑ دے مشابہت تو اسی وجہ سے ہوتی ہے جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو بچہ اپنے مامووں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہوتا ہے تو وہ اپنے چچائوں کے مشابہ ہوتا ہے “۔ ہمارے علماء نے کہا : اس حدیث کے مقتضا کے مطابق غلبہ مشابہت کا تقاضا کرتا ہے ‘ حضرت ثوبان کی حدیث میں ہے (2) جسے امام مسلم نے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا : ” مرد کا پانی سفید اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے جب دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آتا ہے تو اللہ کے حکم سے بچی پیدا ہوتی ہے “۔ اس حدیث میں بھی یہی ذکر ہوا کہ غلبہ مذکر اور مونث کا تقاضا کرتا ہے۔ دونوں حدیثوں کے مطابق یہ لازم آتا ہے کہ چچائوں کے ساتھ مشابہت کے ساتھ اور مذکر ہونا اس صورت میں ہوگا جب مرد کا پانی غالب آجائے اسی طرح جب عورت کا پانی غالب آجائے تو مامووں کے ساتھ مشابہت اور مونث ہونا لازم آئیگا کیونکہ دونوں چیزیں ایک علت کا معلول ہیں معالمہ اسی طرح نہیں بلکہ اس کے خلاف بھی صورت موجود ہوتی ہے کیونکہ ہم یہ پاتے ہیں کہ مشابہت مامووں کے ساتھ ہوتی ہے اور بچہ ہوتا ہے اور چچائوں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے بج کہ بچی ہوتی ہے پس دونوں حدیثوں میں سے ایک کی تاویل متعین ہوگئی حدیث ثوبان کا جو معنی متعین ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غلبہ ہو تو یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے سابقنی فلان فسبقتہ فلاں نے میرے ساتھ دوڑ میں مقابلہ کیا تو میں اس پر سبقت لے گیا اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما نحن بمسبوقین۔ (الواقعۃ) یعنی ہم مغلوب نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غلبہ کا معنی ہے علا علیہ اس قول کی تائید حدیث کرتی ہے ” جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر سبقت لے جائے تو وہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت لے جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے “ (3) ۔ قاضی ابوبکر بن عرب ینے ان احادیث کی بنا پر قاعدہ بنایا ہے کہ : ان دونوں پانیوں کی چارصورتیں ہو سکتی ہیں : (1) مرد کا پانی پہلے نکلے۔ (2) عورت کا پانی پہلے نکلے۔ (3) مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو۔ (4) عورت کا پانی پہلے نکلے اور زیادہ ہو۔ تقسیم اسی طرح مکمل ہوتی ہے کہ مرد کا پنی پہل نکلے پھر اس کے بعد عورت کا پانی نکلے اور عورت کا پانی زیادہ ہو یا اس کے برعکس ہو جب مرد کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچہ ہوگا اور کثرت کی وجہ سے بچہ چچائوں کے مشابہ ہوگا جب عورت کا پانی پہلے نکلے اور وہ زیادہ ہو تو سبقت کی وجہ سے بچی ہوگی اور غلبہ کی وجہ سے مشابہت مامووں کے ساتھ ہوگی اگر مرد کا پانی پہل نکلے لیکن جب عورت کا پنی نکلا تو وہ زیادہ تھا تو سبقت کی وجہ سے بچہ مذکر ہوگا اور ماں کے پانی کے مشابہت سے بچہ مامووں کے مشابہ ہوگا ‘ اگر عورت کا پانی پہلے نکلے لیکن جب مرد کا پانی نکلا تو وہ عورت کے پانی پر غالب آگیا تو بچی ہوگی کیونکہ عورت کا پانی پہلے نکلا تھا اور مشابہت چچائوں کے ساتھ ہوئی کیونکہ مرد کا پانی غالب تھا کہا : اقسام کو اس طرح ترتیب دینے سے کلام درست ہوجاتی ہے ‘ احادیث کے درمیان تعارض ختم ہوجاتا ہے۔ تمام تر پاکیزگیاں خالق علیم کے لیے ہیں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ہمارے علماء نے کہا : نسل انسانی مذکر اور مونث کی حیثیت سے رواں دواں رہی یہاں تک کہ دور جاہلیت میں پہلا خنثی واقع ہوا اسے علم میراث کے ماہر اور ان کے معمر آدمی عامر بن ظرب کے سامنے پیش کیا گیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے بارے میں کیا کہے اس نے ان سے مہلت مانگی۔ جب اس پر رات تاریک ہوگئی تو وہ بےکل ہوگیا وہ پہلو بدلتا رہا اس کے پاس ایک سوچ آتی اور ایک جاتی یہاں تک کہ اس کی خادمہ نے اس کی کیفیت کو عجیب جانا ‘ پوچھا : کیا بات ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک معاملہ میرے پاس پیش کیا گیا ہے جس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ کیا کہوں اس وجہ سے جاگ رہا ہوں ؟ خادمہ نے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ عامر نے اسے کہا : ایک آدمی ہے جس کا ذکر اور فرج دونوں ہیں اس کا میراث میں کیا حال ہوگا ؟ لونڈی نے اسے کہا : جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے اسی مناسبت سے اسے وراثت دے دو ‘ عامر اسے سمجھ گیا اس نے صبح کی اور عامر نے اس کا حل پیش کردیا وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ یہی صورتحال تھی کہ اسلام آگیا حضرت علی شیر خدا ؓ کے دور میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے اس بارے میں فیصلہ کیا۔ کلبی نے ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ سے ایک بچے کیب ارے میں پوچھا گیا جس کا ذکر اور فرج تھی تو کس اعتبار سے اسے ورثہ دیا جائے گا ؟ فرمایا :” جہاں سے اسے پیشاب آتا ہے “ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ کی خدمت میں انصار کا ایک خنثی پیش کیا گیا تو فرمایا : جہاں سے اسے پہلے پیشاب آتا ہے اس اعتبار سے اسے وارث بنائو “ محمد بن حنیفہ : حضرت علی شیر خدا ؓ سے اسی طرح مروی ہے ‘ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ‘ ابن مسیب ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ مزنی نے کہا : امام شافعی سے اسی طرح مروی ہے۔ ایک قوم کا نقطہ نظر یہ ہے : پیشاب کا کوئی اعتبار نہیں اگر دونوں سے پیشاب آئے تو امام ابو یوسف کا قول ہے اکثر پر حکم لگایا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے اس کا انکار کیا ہے ‘ فرمایا : کیا تو اس کا کیل کرے گا ؟ امام شافعی کے مقلدین نے اکثریت پر کوئی حکم نہیں لگایا۔ حضرت علی اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہمانے کہا : ان کی پسلیاں شمار کی جائیں گی (1) کیونکہ عورت کی پسلی مرد کی نسبت ایک زائد ہوتی ہے۔ میراث والی آیت میں علماء نے جو کچھ کہا ہے مفصل گذر چکا ہے۔ الحمد اللہ۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : ایک قوم نے خنثی کیوجود کا نکار کیا (2) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے مونث ‘ مذکر۔ ہم کہتے ہیں : یہ لغت سے ناواقفیت ‘ فصاحت سے کندذہنی اور قدرت کی وسعت کی پہچان سیکوتاہی کی بنا پر ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدر تکا تعلق ہے کیونکہ وہ وسعت والا اور علیم ہے جہاں تک قرآن کے ظاہر کا تعلق ہے وہ خنثی کیوجود کی نفی نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : للہ ملک السموت والارض یخلق ما یشآء یہ عموم مدح ہے اس میں تخصیص جائز نہیں کیونکہ قدرت اس کا تقاض کرتی ہے جہاں تک اس آیت یھب لمن یشآء اناثا ویھب لمن یشآء الذکور۔ او یزوجھم ذکرانا واناثا ویجعل من یشآء عقیما کا تعلق ہے تو یہ موجودات میں غالب کی خبر دیتا ہے نادر کے ذکر سے سکوت فرمایا کیونکہ وہ کلام اول کے عموم کے تحت داخل ہے وجود اس کی گواہی دیتا ہے اور مشاہدہ منکر کی تکذیب کرتا ہے۔ رباط میں ہمارے ساتھ ابو سعید خنثی ‘ امام شہید کے پاس پڑھتا تھا جو بلا و مغرب سے تعلق رکھتا تھا نہ اس کی داڑھی تھی اور نہ ہی پستان تھے اس کے پاس ایک لونڈی تھی تیرا رب اس کے بارے میں خوب آگاہ ہے طویل سنگت کے باوجود حیاء اس سے سوال کرنے سے مانع رہا ‘ آج میرے دل میں خواہش پیدا ہورہی ہے کاش میں اس کے حال سے آگاہ ہوجاتا۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا اس سے بات کرے مگر الہام (کے ذریعے) سے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے تو وہ خدا کے حکم سے جو خدا چاہے القا کرے بیشک وہ عالی رتبہ (اور) حکمت والا ہے

(آیت نمبر 51 ) اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا اس کا سبب یہ ہے (1) کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کیوں نہیں کرتے اور اس کی طرف کیوں نہیں دیکھتے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام کیا اور اس کو دیکھا ہم آپ پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ اس طرح کریں ؟ تو نبی کریم ﷺ :” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر گز اس کو نہیں دیکھیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی ؛ یہ نقاش واحدی اور شعلبی نے ذکر کیا ہے۔ وحیا مجاہد نے کہا : یہ پھونکنا ہے اس کے دل میں پھونکا جاتا ہے (2) تو وہ الہام ہوتا ہے ؛ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ان روح القدس نفث فی روعی ان نفسا لن تموت حتی تستکمل رزقھا وأجلھا فاتقواللہ وأحملوا فی الطلب روح القدس نے میرے دل میں الہام کیا کہ ایک نفس ہر گز نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ اپنا مکمل رزق پائے گا اور اپنی مدت پوری کرے گا اللہ تعالیٰ سے ڈر و اور طلب اچھی کرو۔ اومن ورآیٔ حجاب یا حجاب کے پیچھے سے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام کی۔ اویرسل رسولا جس طرح حضرت جبریب امین کو بھیجا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الا وحیا کا معنی ہے (3) ایسے خواب جنہیں وہ اپنی نیند میں دیکھتا ہے ؛ یہ محمد بن زبیر کا قول ہے اومن ورآیٔ حجاب جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا او یرسل رسولا زہیر نے کہا : رسول سے مراد حضرت جبریل امین (علیہ السلام) ہیں (1) فیوحی باذنہ ما یشآء یو وحی جو رسل کی جانب سے ہوتی ہے یہ رسل یعنی فرشتوں کی جانب سے انبیاء کو خطاب ہوتا ہے جس کو انبیاء سنتے ہیں اور آنکھوں سے جسے دیکھتے ہیں ‘ حضرت جبریل امین کی بھی یہی حالت تھی جب وہ وحی لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت جبریل امین ہر نبی کے پاس آتے رہے مگر حضرت جبریل امین کو حضرت محمد (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ‘ حضرت موسیٰ اور حضرت ذکر یا (علیہم السلام) کے سوا کسی نے بھی نہیں دیکھا جہاں تک دوسرے انبیاء کا تعلق ہے تو ان کی طرف وحی نیند کی حالت میں الہام ہوا کرتا تھا (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے الا وحیا سے مراد ہے جبریل امین کو بھیج کر او من ورآیٔ حجاب جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے گفتگو کی اویرسل رسولا جس طرح تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ زہری ‘ شیبہ اور نافع نے او یرسل رسولا فیوحی دونوں فعلوں کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے باقی قراء نے اسے منصوب پڑھا ہے۔ رفع جملہ مستائفہ کے طور پر ہے تقدیر کلام یوں ہوگی ھو یرسل ایک قول یہ کیا گیا ہے یرسل فعل حال ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے تقدیر کلام یہ ہوگی الا حیا أ و مرسلا جنہوں نے اسے نصب دی ہے انہوں نے فعل کو محل وحی پر معطوف کیا ہے تو اس کا معنی ہوگا کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلام ہو مگر یہ اس کی طرف وحی کرے یا رسول بھیجے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نصب حرف جار کے حذف کی وجہ سے ہو جو ان مضمرہ سے پہلے ہے اور وہ حال کے محل میں ہو تقدیر کلام یہ ہوگی اوبان یرسل رسول یہ جائز نہیں کہ اویرسل منصوب فعل کا عطف ان یکلمہ پر ہو کیونکہ معنی میں فساد واقع ہوتا ہے کیونکہ معنی یہ بنتا ہے کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اسے بھیجے یا اس کی طرف رسول بھیجے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں میں رسول بنا کر بھیجے ہیں اور انسانوں کی طرف بھیجے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اس آیت سے اس آدمی نے استدلال کیا ہے جس کی رائے یہ ہے : جس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ فلاں آدمی سے کلام نہیں کرے گا تو اس نے اس آدمی کی طرف قاصد بھیجا تو وہ حانث ہوجائے گا کیونکہ آدمی بھیجنے والے کو بھی بعض اوقات اس آدمی کے ساتھ کلام کرنے والا ہی سمجھا جاتا ہے جس طرف اس نے آدمی بھیجا تھا مگر یہ صورت مختلف ہوگی کہ اس نے با لمشافہ گفتگو کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ابن منذر نے کہا : اس آدمی کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے جو یہ قسم اٹھاتا ہے کہ وہ فلاں سے کلام نہیں کرے گا تو اس نے اس کی طرف خط لکھا یا اس کی طرف کوئی آدمی بھیجا تو ثوری نے کہا : رسول کلام نہیں ہے ‘ امام شافعی نے کہا : اس کا حانث ہونا واضح نہیں ہوگا۔ امام نخعی نے کہا : خط کی صور تمہیں حکم یہ ہے کہ وہ حانث ہوجائے گا۔ امام مالک نے کہا : وہ خط اور قاصد دونوں کی صورت میں حانث ہوجائے گا۔ ایک دفعہ کہا قاصد ‘ خط سے آسان ہے۔ ابو عبید نے کہا : کلام ‘ خط اور اشارہ سے مختلف ہے۔ ابو ثور نے کہا : وہ خط کی صورت میں حائث نہیں ہوگا۔ ابن منذر نے کہا : وہ خط اور قاصد میں حائث نہیں ہوگا۔ میں کہتا ہوں اور یہی امام مالک کا قول ہے ابو عمر نے کہا : جس نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ کسی آدمی سے کلام نہیں کرے گا اس نے اسے جان بوجھ رک یا بھول کر سلام کیا یا ایک جماعت کو سلام کیا جبکہ وہ بھی ان میں موجود تھا امام مالک کے نزدیک تمام صورتوں میں حائث ہوجائے گا۔ اگر اس نے اس کی طرف قاصد بھیجا یا اسے سلام کیا جبکہ وہ حالت نماز میں تھا تو وہ حائث نہیں ہوگا۔ میں کہتا ہوں : قاصد بھیجا تب بھی حائث ہوجائے گا مگر وہ بالمشافہ کی نیت کرے ؛ یہ امام مالک اور ابن ماجشون کا قول ہے سورة مریم کے آغاز میں یہ ہمارے علماء کی مفصل بحث گذر چکی ہے الحمد اللہ