Ayahs 42:1–2سورة الشورے مکیۃٌ 62
حم عسق حروف مقطعات میں سے ہیں
1 ؎ حا۔۔ می۔۔ م عائی۔۔ ن سی۔۔ ن قا۔۔حروف مقطعات میں سے ہیں اور حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کے شروع میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے پھر یہ پانچ حروف کو دو آیات بتایا گیا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ اس سورت کے مضامین بہت ہی چونکا دینے والے اور نہایت ہی خبردار کرنے والے ہیں۔
Ayah 42:3اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کی طرف یہ قرآن کریم اسی طرح وحی کیا گیا ہے
2 ؎ { کذلک } کے لفظ سے یہ بات خود بخود واضح ہو رہی ہے کہ یہ وہ کلام ہے جس کے آنے کی خوشخبری اس سے پہلے سنائی جا چکی ہے گویا جس طرح لوگ اس کو انہونی بات سمجھ رہے ہیں جیسے کوئی اچانک حادثہ ہوجاتا ہے یہ ایسی بات نہیں بلکہ یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قبل ازیں ایک بار نہیں بار بار اطلاع دی جا چکی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ فلاں دھرتی میں پیدا ہوں گے اور ان کی طرف اللہ العزیز و الحکیم کا آخری کلام نازل ہوگا اس لیے کہ نبوت و رسالت کا منصب ان پر ختم کردیا جائے گا۔ تورات میں جو اصل صحیفہ سریانی زبان میں نازل ہوا جس کی زبان کو مختلف زبانوں میں نازل ہوا جس کی زبان کو مختلف زبانوں میں بدلا گیا لیکن اصل زبان میں نازل ہونے ولاے نسخہ کو محفوظ نہ رکھا گیا آج بھی ان الفاظ میں گواہی پیش کر رہا ہے کہ : ” میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اس سے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔ “ (استثناء 19 , 18:18) سیدنا داؤد (علیہ السلام) پر جو الہام ہوا اس میں وہ اس طرح گویا ہیں کہ : ” تُو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔ تیرے ہونٹوں میں لطیف بتایا گیا ہے اس لیے خدا نے تجھے ابد تک مبارک کیا۔ “ اور ایک جگہ ارشاد ہے ” میں ساری پشتوں کو تیرا نام یاد دلاؤں گا۔ پس سارے لوگ ابد الآباد تیری ستائش کریں گے۔ “ (زبور باب 45)
سبحان اللہ ! کس خلوص اور جوش محبت کے ساتھ سیدنا داؤد (علیہ السلام) نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے انوار حسن و جمال ، جاہ و جلال وغیرہ کا بیان فرمایا جس منہ سے انہوں نے آپ ﷺ کی یہ تعریف کی اس منہ پر قربان اور مبارک لب و دہن سے یہ مدح وثناء فرمائی اس پر جانم فدایم ؎ نہ من برآن گل عارض منزل سرایم و بس
کہ عندلیب تو ازہر طرف ہزار انند
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) نبی امی ﷺ کے اس طرح ثناء خواں ہیں کہ ” میرا محبوب نورانی گندم گوں ہزاروں میں سردار ہے ، اس کا سر ہیرے کا سا چمکدار ہے۔ اس کی زلفیں سلسل مثل کوے کے کال ہیں ، اس کا چہرہ مانند ماہتاب کے ، جوان مانند صنوبر کے ، اس کا گلا نہایت شیریں اور وہ بالکل محمد یعنی تعریف کیا گیا ہے۔ یہ ہے میرا دوست اور میرا محبوب اے بیٹیو یروشلم کی۔ “ (غزل الغزلات باب 15: 10 تا 16) تعصب و نفسانیت اور حق پوشی و حق ناشناسی کا برا ہو کہ اس بشارت میں جو صریح نام نامی موجود ہے پہلے تو اس میں معنی تغیر کیا گیا ہے اور محمد کے لفظی معنی ستودہ کے لیے گئے پھر اس لفظ ہی کو اڑا دیا گیا اور ترجمہ در ترجمہ کی ترمیم و تبدیلی اس مقام پر مختلف الفاظ کا ردو بدل کرتی رہی۔ تاہم اصل عبرانی اور قدیم عربی ترجموں میں اصل نام ” محمد “ موجود ہے اور مرقومہ بشارت عہد عتیق مطبوعہ 1840 میں اس عبارت سے مرقوم ہے کہ ” میرا محبوب سرخ وسفید ہے۔ دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔ وہ خوبی میں رشک و سرود ہے۔ اس کا منہ شیرینی ہے ، ہاں ! وہ سراپا عشق انگیز ہے اے یروشلم کی بیٹیو ! یہ میرا پیار یہ میرا جانی ہے۔ “ (غزل الغزلات) اس طرح ترجمہ میں تغیر و تبدل بھی کیا گیا اور لفظ ” محمد “ کو بالکل اڑا دیا گیا اور اس کو تحریف کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے حواریوں سے مخاطب ہیں کہ ” میں تم سے کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار (تسلی دینے والا) تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آ کر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔ (انجیل یوحنا 15: 7 , 6) غور کیجئے کہ اس سے زیادہ روشن اور صریح بشارت اور کونسی ہوگی۔ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بعد وہ تسلی دینے والا کون آیا ؟ وہی محمد رسول اللہ ﷺ جن کو وہ دوسری جگہ اس سے بھی زیادہ صاف صاف یاد کرتے ہیں کہ ” بعد اس کے میں تم سے بہت کلام نہ کروں گا اس لیے کہ اس جہان کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کی کوئی چیز نہیں۔ “ (یوحنا باب 30:15) بابی انت و امی یا رسول اللہ ! در وحی فداک یا نبی اللہ ! کتنا بلد ہے تیرا رتبہ ؟ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! مکہ والوں کو تعجب ہوتا ہے تو ہوتا رہے آپ ان کے اس تعجب پر تعجب کا اظہار کریں اور یہ پیغام ان تک بدستور پہنچاتے رہیں۔
یہ وحی الٰہی آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء و رسل کی طرف بھی کی گئی
3 ؎ یہ وحی الٰہی جو آپ ﷺ کی طرف کی جا رہی ہے جس پر ان کو اتنا تعجب ہو رہا ہے کوئی نئی چیز نہیں۔ آپ ﷺ سے قبل اے پیغمبر اسلام دوسرے سارے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی تھی جس طرح آپ ﷺ کی طرف کی گئی ہے۔ وحی کیا ہے ؟ اس کی وضاحت پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی کہ وحی ” اشارہ سریع “ ہے جو نہایت خفی بھی ہو یعنی ایسا اشارہ جو نہایت سرعت اور تیزی سے ہو اور اس طرح کیا جائے کہ وہ سمجھے جو اشارہ کرنے والا ہے یا وہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور درمیان میں بڑے دھیان سے سننے اور دیکھنے والوں کے پلے کچھ بھی نہ پڑے کہ کیا دیا گیا اور کیا لیا گیا لیکن اصطلاح اسلامی میں دراصل مراد اس خاص اشارہ سے ہے جو اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف سے اس کے نبیوں اور رسولوں کی طرف کیا جاتا تھا تاہم اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو مزیدواضح کرنے کے لیے روح القدس کے ذریعہ دوسرے فرشتوں کی معیت میں جب نازل کیا جاتا تھا اور وہ روح القدس اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو کانوں تک پہنچانے کا خاص اہتمام بھی کرتا تھا تو اس کو وحی متلو سے ذکر کیا جاتا تھا اور وہ روح القدس اس دل میں ڈالی جانے والی بات کو کانوں تک پہنچانے کا خاص اہتمام بھی کرتا تھا تو اس کو وحی متلو سے ذکر کیا جاتا تھا اور وہی وحی قرآن کریم کے اندر محفوظ ہے جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ یہ باتیں جو آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی باتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی بات بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی ہیں کوئی نرالی اور نئی باتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو دوسرے نبیوں اور رسولوں کی طرف بھی اسی طرح وحی کی گئی تھیں لیکن ان نبیوں اور رسولوں کے جانے کے بعد ان کی قوموں نے تحریف کردی جس کی مثالیں اور شہادتیں پیچھے ذکر کی جا چکی ہیں اس لیے اس ربِّ کریم نے جو عزیز و حکیم ہے اب خاص اہتمام کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ان کو نازل کیا ہے اور اب اس میں یعنی اس کے اصل مضامین اور ان مضامین کی زبان میں اس زبان کے ساتھ جس میں یہ نازل کیا گیا محفوظ رہے گا اور اس کے الفاظ و مضامین میں کوئی ردو بدل نہیں کرسکے گا یہ وہ تحدی اور چیلنج ہے جو قرآن کریم کے زندہ وجاوید معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔
Ayah 42:4آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی ربِّ کریم کے لیے ہے
4 ؎ آسمان کیا ہے ؟ جو کچھ بلندیوں میں ہے سب آسمان ہے۔ زمین کیا ہے ؟ جو کچھ پستیوں میں ہے سب کا سب زمین ہے اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ جو کچھ تمہاری نگاہیں اوپر سے اوپر تک دیکھتی ہیں سب آسمان ہے اور جو کچھ تمہاری نگاہیں نیچے سے نیچے اور پھر اس سے بھی نیچے سے نیچے دیکھتی ہیں سب کا سب اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی کی ملکیت ہے اور پھر جب اس کی ملکیت ہے تو اس کے بغیر اور کس کو یہ حق ہے کہ وہ انسان ہو کر اپنے جیسے انسانوں کے لیے کوئی ضابطہء حیات تجویز کرے اور اس کے بغیر کون ہے جس میں اتنا علم اور ایسی قدرت ہو کہ وہ اس نہایت پیچیدہ اور از حد اہم کام کو حسن و خوبی سے انجام دے سکے۔ جن کو اس کا ہمسر بنایا جاتا ہے اور یہ بھی کہ جو بدبخت اور بدقسمت اس کا ہمسر بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں وہ سب کے سب اس کی مخلوق اور اس کے مملوک ہیں۔ ان کا علم بھی محدود اور ان کی قدرت بھی ناتمام ہے پھر تم خود ہی سوچ لو کہ خالق و مخلوق ، مالک و مملوک ، عالم و جاہل ، قادر اور عاجز بھی کبھی ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ پھر تف ہے تم پر کہ تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی طرف ، مالک کو چھوڑ کر مملوک کی طرف اور قادر کو چھوڑ کر عاجز کی طرف پھرتے ہو حالانکہ یہ بھی باور کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے اونچا ، سب سے اعلیٰ ، سب سے بلند اور سب سے زیادہ عظمت و سطوت والا ہے۔
Ayah 42:5قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں اگر وہ اس کے حکم کے پابند نہ ہوں
5 ؎ انسان خواہ اس دھرتی کے کسی حصہ میں بھی رہتے ہیں اور کون سی زبان بولتے ہوں جذبات بہرحال یکساں رکھتے ہیں۔ آب و ہوا اور ماحول کا اثر بلاشبہ ہوتا ہے لیکن اس قدر نہیں کہ اس سے جذبات و احساسات میں فرق پڑجائے۔ مشرکوں کے شرک کے باعث کہا جا رہا ہے کہ شرک اتنی بڑی برائی ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و شرف بخشا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ربِّ کریم کی اطاعت سے سرمو بھی فرق نہ کرتا اور اس کی خوشنودی کے لیے اس کا سب کچھ وقف ہوتا اور اس کی ساری کوششیں توحید الٰہی کی نغمہ سرائی میں ہوتیں لیکن اس نے کیا کردیا کہ اس نے صرف عملی طور پر ہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہیں کی بلکہ اس کی عظمت و تقدس پر بھی حرف گیری شروع کردی اور اس کی صفات سے بھی آگے بڑھ کر اس کی ذات تک میں شرک کا مرتکب ہونے لگا اور اس کو وہ حیثیت بھی نہ دی جو حیثیت وہ چار پانچ سال کے بچے کو دیتا ہے اور اس ذات والا صفات سے غداری کی جو دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے۔
فرمایا اگر انسان ایسا عیار و مکار ہے کہ اس نے ربِّ کریم کی وہ قدر نہیں کی جو اس کی قدر کرنے کا حق تھا تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں فرشتے بھی ہیں جن کا کام ہی دن رات اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی حمد و تقدیس کے گیت گانا ہے اور اس کی پاکیزگی بیان کرنا اور صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و تقدیس بیان کر رہے ہیں بلکہ اہل زمین کے لیے بھی مغفرت طلب کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرنا بلاشبہ مفید ہے اس کے لیے بھی جس کے لیے مغفرت طلب کی جا رہی ہے اور اس کے لیے بھی جو مغفرت طلب کر رہا ہے اور یہ نظریہء مغفرت قرآن کریم نے پیش کیا ہے کہ زندہ زندہ کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت طلب کرے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں زندہ مردوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں وہ بھی براہ راست نہیں بلکہ دوسروں کے سہارے اور مغفرت طلب کرنے کے لیے کچھ خاص قسم کے لوگ مقرر کیے گئے ہیں جو زندوں سے اشیاء صرف وصول کر کے مردوں کو اس کا ثواب بخشتے ہیں اور اشیاء صرف خود لے اڑتے ہیں لیکن ملائیت کے اس تصور کا قرآن کریم میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہاں ! ایمان کو شرط خاص رکھ کر خاتمہ بال ایمان والوں کے لیے عجومی دعا سے کوئی انکار نہیں جو نہ تو کسی کی طفیل ہو اور نہ ہی کسی مخصوص فرد کو دکھانے کے لیے ہاتھ کھڑے کرنا رسم اسلامی سے کوئی تعلق رکھتا ہے۔ یہ دعائے مغفرت سارے انسانوں کے لیے خواہ وہ کون ہوں ، کہاں ہوں اور کیسے ہوں جائز اور درست ہے جس طرح زیر نظر آیت میں فرشتے اہل زمین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں کیونکہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے اور کسی کو دوزخ کا ایندھن بنانا اس کی رضا نہیں ہے۔
Ayah 42:6جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو کار ساز جانتے ہیں آپ ﷺ ان پر داروغہ نہیں ہیں
6 ؎ انسانوں میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنا رشتہ عبودیت اللہ سے توڑ کر غیروں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ غیروں کے وجود کو وہ دیکھ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو وہ دیکھ نہیں سکتے ان کو ماننا ہی نہیں آتا وہ غیر اللہ ہی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں اور انہیں کے ناموں کی نذریں دیتے اور منتیں مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں۔ پہلے تو آخرت و اخرت کچھ ہے ہی نہیں لیکن آخرت اگر ہوئی بھی تو یہ ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ان کے اس نظریہ کا کوئی جواز موجود نہیں تھا صرف ایک وہم تھا جو انہوں نے قائم کرلیا۔ آخرت لازم و ضروری ہے اور کس کو طاقت ہے کہ وہ اس روز کسی کی کسی طرح کی سفارش کرسکے اِلاّ یہ کہ خود اللہ ربِّ کریم کسی کو اجازت مرحمت فرما دے۔ رہی ان کی چالاکی اور تتر تیزی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور وہ بذاتہٖ ان پر نگہبان ہے اور رہے آپ ﷺ تو اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان و نگران نہیں لگائے گئے آپ ﷺ نے اپنا فرض منصبی پورا کردیا۔ رہی ان کی ذمہ داری اگر وہ اس کو پورا نہیں کر رہے تو وہ خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہیں۔ آپ ﷺ سے ان کے متعلق پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور نہ ہی آپ ﷺ ان کے کارساز و وکیل ہیں۔
Ayah 42:7آپ ﷺ کی طرف ایسے ہی یہ قرآن کریم وحی کیا گیا تاکہ آپ ﷺ مکہ والوں کو ڈرائیں
7 ؎ { کذلک } کے متعلق پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ اس مقصد کے لیے ہے کہ یہ بات واضح کردی جائے جیسے گزشتہ نبیوں اور رسولوں کی طرف وحی کی گئی اسی طرح یہ قرآن کریم آپ ﷺ کی طرف وحی کیا گیا۔ فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ گزشتہ کتابوں کی زبان ان کے نبیوں اور رسولوں کی زبان تھی اور قرآن کریم کی زبان وہ ہے جو آپ ﷺ کی ہے یعنی وہ عربی ہے جو دنیا کی ساری زبانوں سے واضح اور صاف ہے اور کسی طرح کا کوئی ابہام اس میں نہیں ہے اور مکہ جو تمام بستیوں کی اصل اور ماں ہے اس کے رہنے والوں کو آپ ﷺ بروقت خبردار کریں اور ان کے اردگرد حدود اربعہ میں جتنے دیہات اور بستیاں آباد ہیں آپ ﷺ ان کو بھی خبردار کردیں کہ یقینا قیامت کا دن آئے گا جس کے آنے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں لیکن وہ دن ایسا ہوگا کہ اس میں کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کسی طاقتور کو کمزور پر اور کمزور کو طاقتور پر فوقیت نہ ہوگی بلکہ انسانوں کے صرف دو گروہ ہوں گے ایک اہل جنت کہلائیں گے جو جنت میں داخل ہوں گے اور دوسرے اہل النار کہلائیں گے جو دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے جو انہی کی خاطر بھڑکائی گئی ہے۔
Ayah 42:8اگر اللہ چاہتا تو سب کے سب انسانوں کو ایک ہی جماعت بنا سکتا تھا
8 ؎ جس طرح دنیا میں جتنے حیوانات پیدا کیے گئے ہیں ان میں سے ہر جنس حیوان کو ایک امت بنایا ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ؎
کند جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز باباز
اس طرح اگر اس کی مشیت کا فیصلہ اسی طرح ہوتا تو وہ سارے انسانوں کو بھی ایک جماعت بنا دیتا اور وہ مجبور محض ہوتے کہ جس طرح دنیا کے حیوانوں کی تمام امتیں مجبور محض ہیں اور وہ صرف اور صرف ایک ہی امت ہیں گویا ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو انسانوں کو بھی ارادہ کی آزادی اور اختیار نہ دیتا جس طرح دوسری مخلوقات بےچون و چرا اس کے احکام کی تعمیل کر رہی ہیں اسی طرح انسان بھی اس کے احکام کے سامنے سرافگندہ رہتا لیکن مشیت الٰہی کا فیصلہ یہ نہ ہوا بلکہ اس نے چاہا کہ اس کی تخلیق کا یہ شاہکار ایک حد تک عمل کی آزادی سے فائدہ اٹھائے اور اس بنا پر اس کو مکلف قرار دیا گیا۔ اب وہ بلاشبہ گدھے اور بیل کی طرح بےارادہ اور بےاختیار نہیں ہے بلکہ اس کو ایک حد تک ارادہ اور اختیار دیا گیا ہے اور اب وہ گمراہ ہوتا ہے تو اپنے اختیار سے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کام کرتا ہے تو اپنی مرضی سے اس لیے ان میں سے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی رضا حاصل کریں گے اور جو شیطانکے چیلے بننا چاہیں گے ان کو بھی اس کے چیلے ہونے سے بزور نہیں ہٹایا جائے گا بلکہ سب کو ایک ہی طرح کی عملی آزادی دی جائے گی اس طرح جو بچنا چاہیں گے ان کو یقینا بچایا جائے گا لیکن جو خود غلط راہ پر گامزن ہوں گے ان کے سامنے وہی راہ آسان کردی جائے گی لیکن ظالموں کے لیے کوئی مددگار اور دوست ایسا نہیں ہوگا جو ان کے اعمال کے نتائج سے ان کو دوچار نہ ہونے دے یا ان کی سفارش کر کے ان کو بچوا لے۔ ہاں ! جب سیدھی راہ چلنے والوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا تو وہاں غلط راہ چلنے والوں کو بھی ان کے کیے کی پوری پوری سزا دی جائے گی۔
یہ مضمون قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے اگر مزید وضاحت چاہتے ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 99 ، جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 13 ، پھر مزید وضاحت سورة الدھر کی آیت 31 , 29 میں آئے گی ، انشاء اللہ۔
Ayah 42:9کیا انہوں نے اللہ ربِّ کریم کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کار ساز بنا لیا ہے ؟
9 ؎ گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا جا چکا ہے کہ جو لوگ بےراہ ہوگئے ہیں ان کا کوئی حامی و ناصر قیامت کے روز نہیں ہوگا اور جو آسرے اور سہارے انہوں نے بنا رکھے ہیں سب کے سب یک قلم ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ اب اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی بجائے اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کار ساز بنا لیتے ہیں انہیں ان سے کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟ بھلا جو اپنی بگڑی نہیں بنا سکتے وہ ان کا کیا بھلا کریں گے جو خود مشکلات میں گھرے رہے اور دوسروں کو مشکلات سے کیا نکالیں گے۔ کیا ان میں سے وہ کسی ایک کا نام لے سکتے ہیں جو اپنی حاجتوں کو خود پورا کرنے والا تھا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں وہ تو سب کے سب اپنی حاجات و مشکلات میں اللہ ربِّ کریم ہی کو پکارتے رہے ، اسی کے سامنے گڑگڑاتے رہے اور اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہے ، اپنی ضروریات اسی سے طلب کرتے رہے بلاشبہ وہی ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور ہی ہے جس نے اس کائنات کے ایک ایک ذرہ کو پہلی بار پیدا کیا اور وہی ہے جو مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور یہ کام چشم زدن میں ہوجائے گا جس میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی کیونکہ اس نے دنیا کے لیے بھی ضابطے مقرر کردیئے ہیں اور آخرت کے لیے بھی اس نے ایک قانون بنا دیا جس کا اعلان کردیا گیا ہے پھر یہ سب کچھ ہو چکنے کے بعد کیا کی ضرورت کیا رہی کہ اس کو چھوڑ کر کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کے پیچھے دوڑا جائے مشرکین کی مت معلوم نہیں کیوں ماری گئی۔
Ayah 42:10اختلاف کرنے والوں کا سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے
10 ؎ ان لوگوں کا معاملہ آپ ﷺ اللہ کے سپرد کردیں جو اپنی ضد پر قائم ہیں اور بات کو سمجھنے کی بجائے الجھنا ان کو زیادہ پسند ہے ان کا معاملہ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کے حوالے کر کے اس بات کا اعلان کر دیجئے کہ میں تو اپنا سب کچھ اپنے مالک حقیقی اللہ کریم کے سپرد کرتا ہوں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وہی میرا کار ساز اور وہی میرا حاجت روا اور مشکل کشا ہے اسی پر میں توکل کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوا متوجہ ہوتا ہوں۔ آپ ﷺ لوگ جس معاملہ میں بھی اختلاف کرتے ہیں واہ وہ توحید الٰہی ہے یا آخرت میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور حق تم تک پہنچا دیا۔ رہا اس کا فیصلہ تو وہ اللہ کے سپرد ہے وہی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 42:11اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے
11 ؎ توحید الٰہی کا وہ بیان جو گزشتہ آیت میں شروع ہوا اس کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ اس کائنات کی ہر ایک چیز کو خواہ بڑی ہے یا چھوٹی ، خواہ وہ نیک ہے یا بد ، اچھی ہے یا بری سب کا موجد اور خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہرچیز کو وجود بخشنے والا ہے اور دوسرا کوئی ایسا نہیں جس نے اس ساری کائنات میں سے کوئی چیز بنائی یا تخلیق کی ہو اور کوئی چیز نہیں جو اس کا مثیل یا اس کی ضدوند ہو اور کوئی بھی ان صفات کا مالک نہیں جو صفات اللہ ربِّ کریم کی ہیں اور نہ ہی کوئی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی بینا ہے تو وہ آنکھ کا محتاج ہے اور اس محتاجی کے ساتھ پھر اس کی بینائی ایک حد تک محدود ہے یہاں تک کہ اس کے بالکل سامنے اس کی حد نظر تک وہ دیکھ سکتا ہے لیکن پیچھے سے بالکل کمر کے ساتھ یا کمر پر کسی چیز کا بھی اس کو علم نہیں پھر انسان کا بینا ہونا اللہ کریم کے بینا ہونے سے کیونکر مل گیا جو بلاشبہ بینا ہے لیکن آنکھ کا محتاج نہیں اور نہ ہی وہ یہ مرئی آنکھ رکھتا ہے اس ایک مثال پر دنیا کی ہرچیز کو پرکھتے چلے جائیں پھر آپ یہ کیسے کہہ سکیں گے کہ اس کی صفات میں کوئی شریک ہے اس لیے اس آیت میں ذات اور صفات کی تقسیم کرنے پر بیٹھ جانا کسی حال میں درست نہیں ہے سیدھی اور صاف بات یہی ہے کہ نہ تو اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں کوئی اس کا مثل ہے اسی لیے اس نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ { لیس کمثلہ شئی } وہ اپنی ذات اور صفات میں بالکل یکتا ہے۔ اگر وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا خالق ہے تو پھر کیا چیز ہے جو اس سے پوشیدہ رہ گئی ہے یا اس طرح یہ بھی کہ اگر خالق ہرچیز کا وہ ہے تو کیا ہرچیز کا رب اور پروردگار وہ نہیں ؟ کیوں نہیں بلاشبہ ہرچیز کا وہ رب اور اسی کی ربوبیت کے سہارے ہرچیز کی زندگی ہے اور وہ ایسا سمیع ہے کہ ہر ایک کی زبان حال اور قال دونوں کو سنتا ہے اور ایسا بصیر ہے کہ ہمر ایک کا ظاہر و باطن اس کے سامنے ہے اور وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے کوئی چیز اور کسی چیز کا حال اس سے پوشیدہ نہیں پھر کتنے نادان اور ناسمجھ ہیں وہ لوگ جو اس ذات الٰہ کو چھوڑ کر مخلوق کے پیچھے پڑے ہیں حالانکہ مخلوق میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ان صفات کا حامل ہو اور اس کائنات کا نظام یا نظام کا کوئی حصہ اس نے کسی دوسرے کے کنٹرول میں دے دیا ہو اور نہ ایسا ممکن ہے۔
Ayah 42:12آسمانوں اور زمین کی چابیاں اس کے پاس ہیں وہ ہرچیز کو جانتا ہے
12 ؎ مقالید کا استعمال ملکیت کو ظاہر کرنے اور بنانے کے لیے ہوتا ہے اس آیت کا اور اس جیسی دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کا خالق وہ ہے تو اس نے ان کو خلق کر کے کسی دوسرے کے حوالے نہیں کردیا بلکہ وہ بذاتہٖ ان کا مالک ہے پھر کسی کو اس نے اس ملکیت میں شریک نہیں کیا اور کسی کو اس کی ملکیت کی کنجیاں سپرد نہیں کیں یہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسی کے حکم سے ہو رہا ہے اور اس میں سے کوئی چیز اس نے کسی کو ٹھیکہ پر نہیں دی۔ یہ بات قرآن کریم میں بار بار بیان کی جاتی ہے آخر کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کو سب سے زیادہ دھوکا اسی میں لگتا ہے کہ وہ بادشاہوں اور ارباب ثروت کی ہاں میں ہاں محض اس لیے ملاتا ہے کہ اس کو یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کا رزق چھن جائے گا اور اس کو وہ منصب حاصل نہیں رہے گا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ ان کی ہاں میں ہاں ملا کر وہ کونسا ظلم کر رہا ہے اور اس میں اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی نافرمانی اور اس کے بندوں کی حق تلفی اور دل آزاری ہے اس کا ضمیر بھی بعض اوقات اس کو ملامت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس سے باز نہیں آتا۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ رزق کا کشادہ کرنا یا تنگ کرنا براہ راست اس کے اپنے ہاتھ میں ہے کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہیں ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کی چابیاں تو اس کے پاس ہوں اور رزق دوسروں کے ہاتھ میں یہ تم کیونکر مان سکتے ہو۔ کان کھول کر سن لو کہ رزق کا کلی اختیار اسی کو حاصل ہے وہ جس کو چاہتا ہے بیحد و حساب عطا فرما دیتا ہے۔ انسان کا کام دیانتداری کے ساتھ محنت کرنا ہے جو محنت وہ حدود الٰی کے اندر رہ کر کرسکتا ہے لیکن رزق کو محنت و مشقت اور ذریعہ محنت و مشقت میں ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے۔ رزق کے معاملہ میں انسان کو ایسی غلطی لگتی ہے کہ وہ ساری زندگی اسی غلطی میں بھٹکتا پھرتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو نعمت اللہ رب العزت کسی بندہ کو عطا کرنا چاہتا ہے اسے کوئی جابر و قاہر بادشاہ بھی نہیں روک سکتا اور جس کو وہ محروم کرنا چاہتا ہے اسے کوئی دوسرا دے بھی نہیں سکتا اس لیے بندہ بننا ہے تو اللہ ہی کنا بندہ بنو غیر اللہ کا بندہ بن کر اپنی دنیا اور عاقبت دونوں کو مت خراب کرو اور جو کچھ طلب کرنا ہے وہ اسی سے طلب کرو جو تمہاری ساری احتیاجات کو پورا کرنے والا ہے اور وہی ہے جو تمہاری احتیاج سے پوری طرح واقف ہے کیونکہ اسی نے تم کو بنایا ہے اس سے زیادہ تمہاری احتیاج کو سمھجنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا وہ ہر ایک چیز کا جاننے والا ہے۔
Ayah 42:13تمہارا وہی دین ہے جو تم سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور دوسرے نبیوں (علیہ السلام) کو وحی کیا گیا
13 ؎ اس سورت کی تیسری آیت کو ایک بار نگاہ میں لاؤ جس سے سلسلہ مضمون شروع کیا گیا تھا کیونکہ پہلی دونوں آیتیں تو صرف چوکنا کرنے کے لیے اور خبردار کرنے کے لیے تھیں اور جس مضمون کے لیے خبردار کیا گیا وہ تیسری آیت سے شروع ہوا جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کیا اور فرمایا تھا کہ آپ ﷺ کو اے پیغمبر اسلام اس دین حق کی طرف وحی کی جا رہی ہے جس کی وحی آپ ﷺ سے پہلے دوسرے نبیوں اور رسولوں کو کی گئی تھی۔ اب زیر نظر آیت سے اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور اس وضاحت کے لیے مخاطبین اوّل قریش اور اہل عرب ہیں جو ان ناموں سے واقف تھے جن نبیوں اور رسولوں کا نام لے کر اس دین کی وضاحت چاہی ہے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہی دین ہے جس کی ہدایت رسول اوّل نوح (علیہ السلام) کو کی گئی تھی اور یہ وہی دین ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) پر ہم نے وحی کیا تھا اور یہ دین وہی ہے جس کو موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اپنے دور میں لے کر آئے تھے۔ اس کی ضرورت کیا پیش آئی ؟ اس کی ضرورت یہ تھی کہ اہل مکہ ، قریش اور اہل عرب جن میں یہود و نصاریٰ بھی موجود تھے اس دنیا کو نیا دین کہہ رہے تھے اور سارے گروہ مل کر یہ کہہ رہے تھے کہ جو کچھ محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے کیونکہ یہ الف سے یا تک سارے کا سارا نیا دین ہے جو ہمارے آباؤ اجداد میں سے کسی کا دین بھی نہیں تھا ان کو بتایا جا رہا ہے کہ نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سب کے سب کن لوگوں کے آباؤ اجداد تھے پھر جب تم ان سب کو اپنے آباؤ اجداد بھی مانتے ہو اور اپنے اپنے دور کے نبی و رسول بھی اور میں بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ میں نے تمہارے سامنے وہی کچھ رکھا ہے جو یہ سارے انبیاء و رسول اپنی اپنی قوموں کے سامنے پیش کرچکے ہیں تو پھر میرے کیے کا جواب کسی دلیل سے تم کو دینا چاہئے جب میں کہہ رہا ہوں کہ میں وہی کچھ پیش کر رہا ہوں جو نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے نبی و رسول پیش کرچکے تو تمہیں میری اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے یہ عجیب معاملہ ہے کہ نہ تو دلیل سے جواب دینے کے لیے تیار ہو اور نہ ہی میری بات کو ماننے کے لیے تیار ہو اس ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو اور اس دین کو قائم کرو جو سارے نبیوں اور رسولوں کا مشترکہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے تم تک پہنچایا ہے اور تم انسانوں میں تفریق مت ڈالو ، تعجب ہے کہ تفریق تم لوگوں نے ڈالی کہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور ایک نام پر بھی تم نے بس نہ کی بلکہ اپنے لیے مختلف نام پسند کرتے ہوئے کوئی اپنے آپ کو یہودی کہتا ہے اور کوئی عیسائی اور کوئی صائبی حالانکہ ان تمام نبیوں اور رسولوں کا لایا ہوا دین ایک ہی دین اسلام اور ان کی ساری امتوں کا نام ایک نام ” مسلمین “ تھا۔ یہ تو ان گروہوں کا ذکر تھا جو ہادئی اسلام نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد سے قبل تقسیم ہوچکی تھی پھر آپ ﷺ نے اس تقسیم کو مٹایا اور ان سب جماعتوں اور گروہوں سے نکال کر اس دین اسلام پر اکٹھا کیا جو سارے نبیوں اور رسولوں کا دین تھا اور ایک دوسرے کی نفرتوں کو ختم کر کے ایک امت ، ایک جماعت بنا دیا اور اس ایک ہی جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کی بار بار تلقین فرمائی اور اس جماعت سے الگ ہونے والوں کو سخت وعیدیں سنائیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا : (من فارق الجماعۃ شبرا فقد خلع ربقۃ الاسلام من عنقہٖ ) ابوداؤد و احمد بن ابی ذر ؓ ” جس شخص نے دانستور طور پر ایک بالشت بھی جماعت سے علیحدگی اختیار کی اس نے گویا اپنے گلے سے اسلام کا تعلق اتار پھینکا۔ “
اور آپ ﷺ نے فرمایا :
(ان ال شیطان ذئب الانسان کذئب الغنم یاخذ الشاذۃ و القاصیۃ والناحیۃ وایاکم والشعاب وعلیکم بالجماعۃ والعامۃ) رواہ ابوداؤد عن معاذ بن جبل ؓ ” جس طرح بھیڑوں کے لیے بھیڑیا ہوتا ہے اسی طرح شیطان انسانوں کے لیے بھیڑیا ہے اور بھیڑیا اپنے ریوڑ سے الگ ہوجانے والی یا دور چلی جانے ولای یا ایک طرف ہوجانے والی بھیڑ کو فوراً پکڑ لیتا ہے اور میں تم کو اس بات سے ڈراتا ہوں کہ تم گروہ گروہ نہ ہوجاؤ ۔ تم پر لازم ہے کہ تم جماعت کے ساتھ رہو اور عام لوگوں کے ساتھ رہو۔ “ (آپ ﷺ کا ارشاد (ید اللہ علی الجماعۃ و من شذشذ فی النار) رواہ الترمذی عن ابن عمر ؓ ” جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے جو شخص جماعت سے جدا ہوا وہ آگ میں ڈال دیا گیا “ غور کرو کہ آج ہم مسلمان سینکڑوں جماعتوں میں تقسیم ہوگئے اور ہر جماعت نے اپنا ایک الگ امیر مقرر کرلیا اور ساری جماعتیں انہی احادیث کو اپنے لیے استعمال کر رہی ہیں حالانکہ یہ ایسی دھاندلی ہے کہ اس جیسی دھاندلی دنیا میں اس سے پہلے نہ ہوئی یہود ایک گروہ تھا اور نصاریٰ دوسرا گروہ ، صائبین تیسرا گروہ ان ساری گروہ بندیوں میں ضمنی گروہ اس وقت بھی موجود تھے اور اس حالت کو گمراہی کی حالت قرار دیا گیا اور ان سب گروہوں کو مخاطب کر کے ان کو وعیدیں سنائی گئیں اور ان سب کو ایک دین اسلام اور ایک نام ” مسلمین “ پر جمع ہونے کے لیے کہا گیا لیکن زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ہمارے اندر وہی گروہ بندی شروع ہوگئی اور یہود و نصاریٰ اور ان کے ضمنی گروہوں سے کہیں بڑھ کر ہمارے مستقل گروہ اور پھر گروہ در گروہ بنتے ہی چلے گئے جس کا نتیجہ آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ پہلے ہم مسلمان کہلانے والے شیعہ اور سنی دو گروہوں میں بٹے پھر شیعوں کے الگ گروہ ہوتے گئے اور سیوں کے الگ اس وقت ہمارے ہر ایک گروہ کے اندر بیسیوں گروہ بن گئے فقط ایک چھوٹی سی جماعت اہلحدیث کو ہی لے لیجئے کہ اس وقت 1998 ء میں سات مستقل جماعتوں میں وہ تقسیم ہے اور ہر جماعت اپنا الگ امیر اور الگ نظام رکھی ہے اور پھر ہر جماعت انہی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کو لے کر اپنے اوپر چسپاں کر کے اپنی جماعت سے الگ ہونے والوں پر فتویٰ صادر کرتی ہے حالانکہ حقیقت میں وہ خود اس فتویٰ کی زد میں اور اس کے نتیجہ سے دوچار ہے۔ بلاریب مسلمانوں کے لیے ضروری اور لازم ہے کہ وہ سب مل کر ایک امیر کی امارت سے وابستہ ہوں اور ان سب کا ایک امام ہو ، ایک نظام ہو ، سارے اسلامی ممالک کے سارے ممالک اس ایک ہی ملک کے الگ الگ صوبے قرار دیئے جائیں۔ دین سب کا ایک اسلام اور اسلام کے اصولوں کی وضاحت یکساں طور پر ان سے تسلیم کرائی جائے اور سب مل کر ایک جماعت قرار پائے اور اس جماعت سے الگ ہونے والوں کے لیے باقاعدہ سزائیں تجویز کی جائیں۔ اسلامی بلاک کا ایک اپنا نظام ہو اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ وہی رابطہ ہو جو ایک صوبہ کا دوسرا صوبہ سے ہوتا ہے اور عالم اسلام کا ایک اپنا وفاق ہو جس وفاق کے تحت یہ سارا نظام چلایا جائے جب تک یہ نظام قائم نہیں کیا جاتا اس وقت تک مسلمان ایک جماعت نہیں کہلا سکتے اور جب تک ایک جماعت نہیں کہلاتے جماعتی فوائد ان کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہ کام ہونا ہے آج بھی اور کل بھی اور بلاشبہ یہ ناگزیر ہے اللہ تعالیٰ عالم اسلام کے راہنماؤں کو اس ایک ہی منہج پر جمع ہونے اور اسی نقطہ پر سوچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ جماعتی برکتوں سے مسلمان مستفید ہو سکیں اس کے لیے ہماری تجویز یہی ہے جس کا ذکر ہم قبل ازیں کئی ایک مقامات پر کرچکے کہ آل سعود کو جو اس وقت سعودیہ حکومت کے نام سے ایک مملکت رکھتے ہیں ان ہی کو اسلام کا امیر ، صدر یا امیر المومنین یا جو نام بھی اس کا رکھ لیں تسلیم کرلیں اور اس وقت کے سارے اسلامی ممالک اس ایک ملک کے صوبہ جات قرار دیئے جائیں اور صوبائی انتظام اسی وفاق کے تحت چلایاجائے جس میں قومی اتحاد کے ادارے قائم کیے جائیں جس طرح ہر ملک کے لیے ایک الگ سپریم کورٹ ہے اس کو سارے اسلامی ممالک کی ایک سپریم کورٹ بنائی جائے اور اس وقت کی ساری سپریم کروٹیں ہائی کورٹ قرار دی جائیں۔ سارے اسلامی صوبوں میں ضمنی قانون اس طرح بحال رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ ایک قدم پر ان کی اصلاح کی جائے تا آنکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ہی قانون جو کتاب و سنت کا قانون ہے اس پر کاربند بنایا جائے اور اسلامی وسعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ باتیں جو ہم نے اس جگہ بیان کی ہیں یہی باتیں اس وقت کرنے کی ہیں اور انہی اقدامات کے تحت قوم مسلم ایک قوم بن سکتی ہے لیکن قرآن کریم نے خود اس کی وضاحت فرما دی کہ یہ کام مشرکوں پر بہت بھاری ہے اس لیے وہ کبھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکتے ایک بار نہیں اگرچہ سو بار آپ ان کو اس بات کی طرف دعوت دیں۔ دین اسلام کو قبول کرنے کا اصل مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنے سارے نظاموں سے کٹ کر ایک نظام کے ساتھ وابستہ ہوں اور اپنے سارے رسم و رواج کو جو ایک عرصہ سے ان کے مطابق زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں ان سب کو جھٹک کر وہ دور پھینک دیں اگرچہ مشرک اس تبدیلی کو کبھی پسند نہیں کریں گے۔ کیا اس سے یہ راز نہیں کھلتا کہ جو اس طرح کے نظام کو ” ایں خیال است و محال است و جنون “ کہہ کر ٹال دے وہی مشرک ہے۔
اب نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ ان باتوں سے تنگ نہ ہوں اور یہ جو کہتے ہیں ان کو کہنے دیں آپ ﷺ کو اللہ نے پسند کیا ہے اور اپنا آخری رسول آپ ﷺ کو چن لیا ہے تو ان کے نہ ماننے سے کیا ہوگا۔ رسالت ان کے اختیار کی چیز تو نہیں کہ یہ چاہیں گے تو کسی کو دی جائے گی۔ رسالت تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اس کے لیے چن لیتا ہے اور اپنے قانون کے مطابق جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اس کے قانون کے مطابق اس کو ملتی ہے جو اللہ رب العزت کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ اس کا قانون ہے کہ تلاش کرنے والا پاتا ہے اور جو وہ اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے تاکہ ہدایت حاصل کرے تو ہدایت اس کو دی جاتی ہے۔
Ayah 42:14تفریق ڈالنے والوں نے تفریق نہیں کی مگر سوچ سمجھ کر محض سرکشی کے باعث
14 ؎ حکم الٰہی کیا ہے ؟ یہ کہ { لاتتفرقوا } تفرقہ مت ڈالو۔ جب زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو مختلف فرقوں میں تقسیم ہوئے وہ تقسیم نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ متفرق ہونا اچھا نہیں اس کے باوجود انہوں نے راہ حق سے انحراف کیا اور الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور جب طرح پڑگئی تو پھر بٹتے ہی چلے گئے۔ اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ان فرقوں کا معرض وجود میں آجانا محض بےعلمی اور غلط فہمی کے باعث نہیں ہوتا بلکہ اکثر و بیشتر اسی انتشار و افتراق کا باعث ان کا باہمی حسد ، عناد ، بغض اور رقابت ہوتی ہے اور ہر ایک اپنی برتری کا سکہ جمانے کے لیے اپنی الگ پارٹی بناتا ہے اور اس طرح ملت کی وحدت میں نقب زنی کر کے اس کو اندر ہی اندر ختم کرنے کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس راہ کو وہ چھوڑ رہے ہیں یہی سدھی راہ ہے اور جو راستہ وہ اپنا رہے ہیں وہ ان کو اصل منزل سے دور کرتا چلا جائے گا لیکن اپنی ذاتی اغراض اور اپنی دنیاوی مصلحتیں انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور وہ اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں مجبور ہوجاتے ہیں۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے { بغیابینہم } کے الفاظ استعمال کر کے ان کے سارے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ بات اگرچہ ان ہی کی ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کے وقت یہ سب کچھ کہہ رہے تھے لیکن کیا آج ہم وہی کچھ نہیں کر رہے جس کے متعلق قرآن کریم نے ہم کو آگاہ کیا تھا بلکہ آج ہماری گروہ بندی ان کی اس گروہ بندی سے چند قدم مزید آگے نکل چکی ہے اس لیے کہ یہود و نصاریٰ کے درمیان بہت سے اختلافات بنیادی اہمیت رکھتے تھے کیونکہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول مانتے اور جانتے تھے جب کہ یہود نعوذ باللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الحرام قرار دیتے تھے اور اسی طرح کے اور بھی بہت سے اختلاف ان میں موجود تھے لیکن آج ہم اپنی حالت کو دیکھیں تو اسلام کے اندر جتنی گروہ بندی ہے ان گروہوں کے درمیان کوئی ایسا مہلک اختلاف بظاہر نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ سب کے ہاں یکساں تسلیم کیا گیا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ سب کے ہاں خاتم النبیین نبی و رسول تسلیم کیے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کتاب اللہ ہے سب کا اس پر اتفاق ہے اسی طرح آخرت سے بھی کسی گروہ کو انکار نہیں۔ اس بات کا بھی سب اعتراف کرتے ہیں کہ فروعات کا اختلاف ایسا اختلاف ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے سے روکے ہوئے ہیں اور آئے دنوں یہاختلاف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور ایک الگ گروہ کے مزید آٹھ آٹھ دس دس گروہ بن کر رہ گئے اور اب اس پر جتنے دکھ کا اظہار کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔
تفریق ڈالنے والوں نے تفریق نہیں کی مگر سوچ سمجھ کر محض سرکشی کے باعث
14 ؎ حکم الٰہی کیا ہے ؟ یہ کہ { لاتتفرقوا } تفرقہ مت ڈالو۔ جب زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو مختلف فرقوں میں تقسیم ہوئے وہ تقسیم نہیں ہوئے مگر اس کے بعد کہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ متفرق ہونا اچھا نہیں اس کے باوجود انہوں نے راہ حق سے انحراف کیا اور الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے اور جب طرح پڑگئی تو پھر بٹتے ہی چلے گئے۔ اس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ ان فرقوں کا معرض وجود میں آجانا محض بےعلمی اور غلط فہمی کے باعث نہیں ہوتا بلکہ اکثر و بیشتر اسی انتشار و افتراق کا باعث ان کا باہمی حسد ، عناد ، بغض اور رقابت ہوتی ہے اور ہر ایک اپنی برتری کا سکہ جمانے کے لیے اپنی الگ پارٹی بناتا ہے اور اس طرح ملت کی وحدت میں نقب زنی کر کے اس کو اندر ہی اندر ختم کرنے کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس راہ کو وہ چھوڑ رہے ہیں یہی سدھی راہ ہے اور جو راستہ وہ اپنا رہے ہیں وہ ان کو اصل منزل سے دور کرتا چلا جائے گا لیکن اپنی ذاتی اغراض اور اپنی دنیاوی مصلحتیں انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہیں اور وہ اپنی ضرورتوں کے ہاتھوں مجبور ہوجاتے ہیں۔ غور کرو کہ قرآن کریم نے { بغیابینہم } کے الفاظ استعمال کر کے ان کے سارے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ بات اگرچہ ان ہی کی ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی آمد کے وقت یہ سب کچھ کہہ رہے تھے لیکن کیا آج ہم وہی کچھ نہیں کر رہے جس کے متعلق قرآن کریم نے ہم کو آگاہ کیا تھا بلکہ آج ہماری گروہ بندی ان کی اس گروہ بندی سے چند قدم مزید آگے نکل چکی ہے اس لیے کہ یہود و نصاریٰ کے درمیان بہت سے اختلافات بنیادی اہمیت رکھتے تھے کیونکہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول مانتے اور جانتے تھے جب کہ یہود نعوذ باللہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الحرام قرار دیتے تھے اور اسی طرح کے اور بھی بہت سے اختلاف ان میں موجود تھے لیکن آج ہم اپنی حالت کو دیکھیں تو اسلام کے اندر جتنی گروہ بندی ہے ان گروہوں کے درمیان کوئی ایسا مہلک اختلاف بظاہر نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ سب کے ہاں یکساں تسلیم کیا گیا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ سب کے ہاں خاتم النبیین نبی و رسول تسلیم کیے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کتاب اللہ ہے سب کا اس پر اتفاق ہے اسی طرح آخرت سے بھی کسی گروہ کو انکار نہیں۔ اس بات کا بھی سب اعتراف کرتے ہیں کہ فروعات کا اختلاف ایسا اختلاف ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے سے روکے ہوئے ہیں اور آئے دنوں یہاختلاف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور ایک الگ گروہ کے مزید آٹھ آٹھ دس دس گروہ بن کر رہ گئے اور اب اس پر جتنے دکھ کا اظہار کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔
فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! اگر تیرے رب کے نزدیک ان سب کو ڈھیل دیئے جانے کا فیصلہ طے نہ کیا گیا ہوتا تو ان کے درمیان کب کا فیصلہ ہوگیا ہوتا بلاشبہ ان کے کرتوتوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انہیں فوراً تہس نہس کر کے رکھ دیا جائے لیکن تیرے رب کا فیصلہ کبھی بدلا نہیں کرتا اس لیے جو وقت ان کی ڈھیل کا مقرر کیا جا چکا ہے اس وقت تک اب ان کو یہ ڈھیل دیا جانا ضروری ہے اگر انہوں نے سنبھلنے کی کوشش نہ کی تو ایک چشم زدن میں ان کا کام تمام کردیا جائے گا اور جو گزشتہ قوموں کے ساتھ ہوا وہی کچھ ان کے ساتھ ہوگا۔ پھر ان پہلے گروہوں کے بعد اہل مکہ کو { الکتب } یعنی قرآن کریم کا وارث بنایا گیا اور ان کو یہ وراثت سپرد کی گئی وہ بھی اس طرح اندھے اور بہرے ہوئے جاتے ہیں اور ان کا یہ شک بھی دور نہیں ہوا کہ آیا یہ کتاب ، کتاب اللہ ہے یا نہیں ؟ پھر ان میں سے قوم مسلم کا یہ شک نکلا اور انہوں نے کتاب اللہ کو کتاب اللہ تسلیم کیا لیکن ان کے تسلیم کرنے کا بھی کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا کیونکہ وہ بھی صدر اوّل کے بعد اس طرح مختلف گروہوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے اور اب تک بدستور تقسیم ہوتے ہی چلے جا رہے ہیں اور اسی طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہم اس عذاب کو عذاب ہی نہیں سمجھتے۔ اللہ ہمیں سمجھ کی توفیق دے۔ آمین