42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsسراج البیان

Ayahs 42:1–4

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اللہ غالب حکمت والا تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف اسی طرح وحی بھیجتا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور وہی بلند مرتبہ سب سے بڑا ہے

سورة الشوریٰ 1: یہ سورت مکی ہے ۔ اس میں عقائد اور زندگی کے اہم مسائل بیان فرمائے گئے ہیں اس میں رسالت کا تذکرہ ہے ۔ توحید کی بحث ہے عمل کی ذمہ داریوں کا بیان ہے اور ان تمام شکوک و شبہات کا ازالہ ہے ۔ جو اس وقت کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے یا آج پیدا ہوسکتے ہیں ۔
Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے اور زمین والوں کے گناہ بخشاتے ہیں ۔ سنتا ہے اللہ جو ہے ۔ وہی بخشنے (ف 2) والا مہربان ہے

خدا کا جلال وجبروت 2: آیت کے دو معنے ہی ۔ ایک تو یہ کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے جلال وجبروت کا تعلق ہے آسمان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر اس کی زبردست قدرت اس کو نہ مقام رکھے ۔ تو اس ہیبت اور رعت کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ یہ سارا نظام علوے زمین پر آرہے ۔ دوسرے یہ کہ مشرکین مکہ مشرک کا ارتکاب کرکے خدا کی جناب میں سخت گستاخی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ قریب ہے کہ اجرام سماوی اس کو برداشت نہ کریں ۔ اور ان پر گرپڑیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور کرم ہے ۔ کہ اس نے ہر شخص کو اس کے اعمال میں آزادی دے رکھے ہے ۔ اور وہ مجبور نہیں کرتا کہ ہر شخص اس کے آستانے جلال وقدس پر ہی جھکے ۔ البتہ فطرت اور عقل کا مطالبہ یہی ہے کہ انسان اپنے ذاتی شرف کو محسوس کرے اور صرف اللہ کے سامنے تذل و عبودیت کا اظہار کرے ۔ اور کائنات میں اپنے آپ کو سب سے افضل واعلیٰ قراردے ارشاد فرمایا کہ انسان اللہ تعالیٰ کو کما حقہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ حالانکہ اس کو پاکیزہ ترین مخلوق یعنی فرشتے ہر وقت اس کی تسبیح وتقدیش میں مصروف رہتے ہیں ان کی زندگی کا نصب العین ہی یہ ہے کہ وہ ہمارا اطاعت بنے رہیں ۔ اور اسکے حکموں کو قطعاً مخالفت نہ کریں ۔ پھر ان میں یہ خوبی بھی ہے کہ یہ انسان کے لئے بخشش طلب کرتے رہتے ہیں ۔ اور خطیرۃ القدس سے انوار پھیلاتے رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اپنے بیشمار گناہوں کے عذاب الٰہی سے محفوظ ہے
Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جنہوں نے اللہ کے سوا رفیق پکڑے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد ہیں (انہیں ضرور سزا دے گا) اور تو ان پر داروغہ نہیں ہے

حضور کو ان مشرکین سے بڑی ہمدردی تھی ۔ آپ دل سے یہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ ہدایت سے بہرہ مند ہوجائیں ۔ اور پھر جب آپ دیکھتے ۔ کہ یہ لوگ قرآن کو نہیں مانتے اور توحید کے اسراء کو نہیں سمجھتے ہیں ۔ تو آپ کو روحانی کوفت ہوتی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ہدایت کے اجارہ دار نہیں ۔ اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ۔ آپ کوئی فکر نہ کریں ۔ اور بہرحال اپنے فراض تبلیغ میں مصروف رہیں ۔
Ayahs 42:7–8

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور اسی طرح تجھ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ۔ تاکہ تو بڑی بستی (مکہ) اور اس کے آس پاس ہونے والوں کو ڈرائے اور جمع ہونے کے دن سے ڈرائے جس میں شک نہیں ۔ ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت میں بنادیتا ۔ لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کا نہ کوئی رفیق اور نہ مددگار

حل لغات :۔ ام القری ۔ مکہ یعنی آس پاس کے دیہات کا مرکز اس طرف کی بستیوں میں سب سے پہلے آیا ہوا ہے ۔ یوم الجمع ۔ قیامت کا دن جبکہ لوگ ان کے حضور جمع ہونگے ۔ یعنی قرآن کتب سابقہ کی طرح صداقت اور حقانیت کا حال ہے ۔ اس کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے ۔ تاکہ مکہ والوں کے لئے اتمام حجت ہوجائے اور وہ یہ عذر نہ کرسکیں ۔ کہ ہم قرآن کو سمجھ نہیں پاتے ۔ اسی طرح ان کے آس پاس کے رہنے والے لوگوں یہ اعتراض نہ کریں ۔ کہ عجمیت ہماری راہ میں حائل ہوئی ۔ اگر ہماری بولی میں قرآن نازل ہوتا تو ہم ضرور تسلیم کرتے اس کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ قرآن حکیم کے فیوض صرف اہل عرب کے لئے ہیں بلکہ غرض یہ ہے کہ کم از کم ایک قوم کو اللہ تعالیٰ ہدایت کے لئے بطور قیادت کے لئے منتخب کرلینا چاہتا ہے ۔ جن کی زندگی دوسروں کے لئے اسوہ اور نمونہ ہو اور ظاہر ہے کہ یہ پہلی جماعت تو ایسی ہونی چاہیے ۔ کہ وہ مطالب تسان کو پورے معنوں میں سمجھ سکے ۔ اور ان کے لئے کوئی عذر ممنوع نہ ہو تاکہ ان کی وساطت سے ساری دنیا میں جو اسلام پہنچے وہ یقینی عملی اور قطعی ہو ۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیوں انہوں نے اللہ کے سوا رفیق پکڑے ہیں ۔ سو اللہ جو ہے وہی کام بنانے والا (ف 1) اور وہی مردے جلاتا ہے اور وہ ہر شئے پر قادر ہے

ف 1: غرض یہ ہے کہ کفرو ایمان کی تقسیم بالکل فطری ہے ۔ اور اللہ کی مصالح کے سرافق ہے وہ اگر چاہتا تو ہر نوع کے اختلافات کو اٹھا دیتا ۔ اس کے لئے یہ بہت آسان اور سہل تھا ۔ اور جب کہ اس نے ان اختلافات کو باقی رکھا ہے ۔ تو ان سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ خندہ پیشانی سے کرنا چاہیے ۔ اور کوشش کرنی چاہیے ۔ اس کی خلیج زیادہ وسیع نہ ہونے پائے ۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس چیز میں تم اختلاف کرو گے اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو میرا رب ہے ، اس پر مجھ کو بھروسہ (ف 2) ہے اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

وہ حکم خدا ہے 2: جب اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ۔ کہ اختلاف تھا تو بالکل طبعی اور فطری بات ہے تو سوا ل پیدا ہوتا تھا ۔ کہ کیا پھر فیصلہ کی کوئی صورت نہیں اور کیا حق و باطل میں کوئی امتیاز نہیں معلوم ہوسکتا ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ فیصلہ کی صورت یہ ہے ۔ کہ اللہ کے حکم کو مان لیا جائے ۔ اور اپنے ذاتی خیالات اور افکار کو ترجیح نہ دیجائے ۔ کیونکہ سارے جھگڑے اس وقت پیدا ہوتے ہیں ۔ جب ہر شخص اپنی ذاتی رائے پر ناز کرے اور اپنے سے برتر عقل والے کے سامنے سرنیاز نہ جھکائے اور اگر ہر شخص بطور اصول و ضوابط اس حقیقت کو اپنے شامنے رکھے کہ ہمیں اپنی عقل و دانش پر اعتماد نہیں ۔ ہم اپنے ا احبارورہبان کی شخصیت کو کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ہم براہ راست ہر معاملہ میں اللہ کی اطاعت کا تہد کرتے ہیں ۔ اور اس کے علموں کو بلا شرط وقید تسلیم کرتے ہیں ۔ تو پھر اختلافات فورا دور ہوسکتے ہیں اور خیالات میں وحدت پیدا ہوسکتی ہے فرمایا کہ یہ تمہارا جو حکم ہے وہ انسان کی ذہنی وفکری مشکلات میں آخری وجہ استشہاد ہے ۔ یہی میرا پروردگار ہے ۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔ اور اسی کی جانب تمام توجہات کلی سے جھکتا ہوں ۔
Ayahs 42:11–12

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اس نے تم ہی میں سے تمہارے لئے جوڑے بنائے اور چارپایوں سے بھی جوڑے بنائے ۔ وہ تمہیں اس (جوڑا بنانے) میں پھیلاتا ہے ۔ اس کی مانند کوئی چیز نہیں اور وہ سنتا اور دیکھتا ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے بیشک وہ ہر شئے کو جانتا ہے

وہ بےنظیر ہے صفات الٰہی کا تذکرہ ہے ۔ کہ وہ خدا جو حکم ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا بھی ہے ۔ اس کو وسائل وذرائع کی قطعاً احتیاج نہیں ۔ اس نے بالکل کتم عام سے کائنات کو پیدا کیا ۔ اور وجود سے نوازا ۔ پھر اس نے انسانوں اور حیوانوں کو جوڑا جوڑا پیدا کیا تاکہ اس طرح ان کی نسل میں افزائش ہو ۔ اور وہ بےمثل اور بےنظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی چیز بھی ذات میں اور صفات میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ وہ سارے عالم امکان کو پیدا کرنے والا ہے اور ساری کائنات سے جدا ہے ۔ وہ لوگوں کو ستنا ہے اور حالات و کوائف کو جانتا ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس کو چاہے زیادہ روزی سے بہرہ مند کرے اور جس کو چاہے کم ۔ وہ ہر مصلحت سے آگاہ ہے ۔ اور ہر بات کو کامل طور پر جانتا ہے ۔ جعل لکم من انفسکم ازوجا سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ کہ تم لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک روا رکھو کیونکہ وہ تم میں سے ہیں اور ان کے ساتھ آبرومندانہ تعلقات استوار کرو ۔ لیس کمثلہ شیء میں بظاہر یہ اشکال ہے کہ نفی تو اس بات کی کی گئی ہے کہ اللہ کی مانند کوئی چیز نہیں ہے نہ اس بات کی کہ اللہ کی مثل کا ہونا ہی ناممن ہے ۔ اس لئے یہ بالکل خلاف مدعا ہے جواب یہ ہے کہ عرب جب کہتے تھے کہ مثلی لایفعل کذا کہ میری طرح کا آدمی یوں نہیں کرسکتا اور اس کے معنے ایسے ہوتے تھے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا ۔ یہ محاورہ ہے ۔ اس طرح اس کے معنے بھی یہی ہونگے کہ اللہ کی ذات کے مانند کوئی چیز نہیں ۔ کیونکہ مثل سے مراد ذات ہے ۔ شئی مماثل نہیں ۔
Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لئے دین کی وہ راہ مقرر کی جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو ہم نے (اے محمد ﷺ تیری طرف وحی کی ہے اور جو ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا ۔ یہ کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو ، مشرکوں پر وہ بات بھاری ہے جس کی طرف تو انہیں بلاتا ہے اللہ جسے چاہے اپنی طرف چن لے اور اپنی طرف اسے راہ دکھاتا ہے جو رجوع ہوتا ہے

حل لغات :۔ وصی ۔ تاکیدفرمائی ۔ وحدت اویان کی طرف تلمیح ہے ۔ کہ جو کچھ آپ کو دیا گیا ہے ۔ سی صداقت کے اعتبار سے بالکل یہی چیزیں پہلے انبیاء کو وہی گئیں ۔ صبعقت ۔ یعنے پہلے طے ہوچکا ۔
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور انہوں نے آپس کی ضد سے علم آنے کے بعد پھوٹ ڈالی اور اگر وہ بات نہ ہوتی تو تیرے رب سے ایک وقت مقرر تک کے لئے نکل چکی ہے ۔ تو ان میں فیصلہ ہوجاتا ۔ اور وہ جو ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے ان کی طرف سے قوی شک میں ہیں

اہل کتاب کی بددیانتی یعنی اہل کتاب خوب جانتے ہیں ۔ کہ حضور ﷺ صدق وحقانیت کا پیغام لے کر آئے ہیں ۔ ان پر تمام حجت ہوچکی ہے ۔ یہ تما صائیم ومعارف نبوت کو دیکھ چکے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ اس میں کسی طرح کے شک وشبہ کو دخل نہیں ہے ۔ یہ محض ان کی ضد ہے ۔ غرور اور فخر ہے ۔ کہ حق کو اپنی صالح ونبوی کی وجہ سے نظرانداز کررہے ہیں ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے نہ ہوتی ۔ کہ قوموں کو ان کی تکذیب کا بدلہ قیامت میں دیا جائے گا ۔ تو یہ اپنی خیانت اور بددیانتی کی وجہ سے کبھی کے مٹ چکے ہوتے ۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے ۔ کہ تما گناہوں کی سزا کو ایک مقرر دن کے اٹھا رکھا ہے ۔ ورنہ یہ ممکن تھا ۔ کہ قانون صدق وصفا یوں انکار کریں ۔ اور فطرت کے انتقام سے بچ جائیں ۔ فرمایا : ان کی اس بددیانتی کی وجہ سے مکہ والے پریشان ہیں ۔ کہ کیا کریں ۔ مانیں یا نہ مانیں ۔ جب یہ لوگ یہ دیکھتے ہیں ۔ کہ اہل کتاب کے علماء جو جانتے بوجھتے ہی وہ اسلام کی صداقتوں کو قبول نہیں کرتے تو پھر لازماً ان کے دلوں میں اس طرز عمل سے شکوک پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اس طرح ہدایت سے اور دور ہوجاتے ہیں ۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو تو اسی کی طرف بلا اور قائم رہ جیسے تجھے حکم ملا ہے اور اس کی خواہشوں کا پیرونہ ہو اور کہہ کہ میں ہر کتاب پر جو اللہ نے نازل کی ہے ایمان لایا اور مجھے حکم ملا ہے کہ تمہارے بیچ انصاف کروں ۔ اللہ ہمارا اور تمہارا رب ہے ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ۔ ہم می اور تم میں کچھ جھگڑا نہیں اللہ ہم سب کو جمع کریگا ۔ اور اسی کی طرف پھرجانا ہے

پیغمبر کا استقلال ارشاد ہے کہ ان لوگوں کی محرومی اور مخالفت کی وجہ سے آپ کے پیغمبرانہ عزائم میں کوئی کمزوری نہیں پیدا ہونی چاہیے ۔ آپ بدستور اللہ کی طرف ان کو بلاتے رہیے ۔ ایسا نہ ہو ۔ کہ آپ کے پائے استقلال میں ذرہ بھی لغزش پیدا ہوجائے ۔ آپ ان کے جذبات اور خیالات کی پرکاہ برابر بھی پرواہ نہ کریں ۔ بس یہی کہتے جائیے ۔ کہ میرا ایمان تو اللہ کی کتاب پر ہے ۔ میں اسی کو مانتا ہوں اور مکلف ومامور ہوں ۔ کہ اسی کی روشنی میں تمہارے درمیان عادلانہ طرز عمل اختیار کروں ۔ اللہ یہ ہمارا تمہارا پروردگار ہے ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے ۔ اور اصولاً تم میں اہم میں کوئی جھگڑا نہیں ۔ اللہ ایک وقت مقررہ پر ہم سب کو جمع کریگا ۔ اس کے حضور میں سب کو جانا ہے ۔ وہاں جاکر معلوم ہوگا ۔ کہ کون حق وصداقت پر ہے اور کون گمراہ ہے یہ انداز بیان گو انشاء کا ہے مگر مقصود خبر ہے ۔ غرض یہ ہے کہ پیغمبر سے تم غلط نوع کی توقعات نہ رکھو ۔ وہ برابر دعوت الی اللہ میں رہیگا ۔ اور ہمزیمت و استقامت کے ساتھ اللہ کے پیغام کو تم تک پہنچائیگا ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمہاری خواہشات نفس کی پیروی کرے ۔
Ayahs 42:16–18

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے بارے میں اس کے بعد کہ خلق اس کو مان چکی تھیں نکالتے ہیں ۔ ان کی حجت (ف 2) ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس نے کتاب سچے دین پر اتاری اور ترازو بھی (نازل کی) اور تو کیا جانے شاید قیامت قریب آلگی ہو

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

جو قیامت کو نہیں مانتے وہ اسے جلد مانگتے ہیں اور جو اسے مانتے ہیں وہ اس سے کانپتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے سنتا ہے جو لوگ قیامت کے بارہ میں جھگڑا کرتے ہیں ۔ وہ پرلے درجہ کی گمراہی میں ہیں

حل لغات : ۔ داحضہ ۔ باطل المیزان ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی صدقتوں کو تولنے کے لئے معیار مقرر فرمائے ہیں ۔ 2: اہل کتاب بھولے بھالے مسلمانوں سے کہتے تھے ۔ کہ کیوں نہ ہم اور تم ان انبیاء پر متفق ہوجائیں ۔ جن پر تمہارا بھی ایمان ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کو جو مختلف فیہ ہے ۔ چھوڑ دیں ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جبکہ حضور ﷺ میں اور گزشتہ انبیاء میں کوئی فرق نہیں ۔ سب کے پیغام میں یکسانی اور وحدت ہے ۔ اور معجزات وخوارق بھی ان کی تائید میں تم دیکھ چکے ہو ۔ تو پھر کیوں نہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر نرمی کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے اور وہ قوی غالب ہے

حل لغات :۔ لطیف ۔ باریک بین اور نہایت درجہ شفیق اور مہربان ۔ اللہ نہایت شفیق ہے 1: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں بدرجہ غایت مہربان ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حسب ضرورت اپنی ربوبیت عامہ سے بہرہ مند کرتا ہے ۔ رزق اور دولت اس کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ چاہے ہوں کے ہاتھ میں کاسہ گدائی دے اور چاہے تو فقیروں کی جھولیاں تمدومال سے بھردے ۔ کوئی شخص اس کے ارادوں میں اس کی مزاحمت نہیں کرسکتا ۔ وہ صاحب قوت واقتدار ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے ۔ اگر تم لوگ چاہتے ہو ۔ اور اس کی مہربانیوں کو حاصل کرلو ۔ اور قوت ومنفعت کی گرونقد رحمت کو پالو ۔ تو اس کی صورت یہی ہے کہ اس رب کریم وقدسیہ کی اطاعت کرو ۔ اس کے حکموں پر چلو ۔ اور اس کے منشاء کو پورا کرو ۔ پھر دیکھو کیونکر تم میں قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ کس طرح تم کائنات پرچھا جاتے ہو ۔ اور باطل پر تم کو اقتدار حاصل ہوتا ہے ؟ کیونکہ اس منبع فیوض وبرکات کے ساتھ ادنیٰ انتساب بھی برتری اور علو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے ۔ یہ ناممکن ہے کہ تم اس کے ساتھ عبودیت اور نیاز مندی کا تعلق ہو اور تم دنیا میں مارے مارے پھرو ۔ جب ایک معمولی دوست اپنے دوست کی توہین گوارا نہیں کرتا ۔ تو وہ کیونکر اپنے دوستوں عقیدت مندوں اور اپنے غلاموں کی توہین برداشت کرسکتا ہے ؎ دوستاں راکجاکنی خروم توکہ بادشمناں نظر داری وہ صنف و شفقت کا پیکر ہے اس نے اپنے اوپر عفو وکرم گستری کو لازم قرار دے لیا ہے ۔ وہ ماں باپ سے زیادہ اپنی مخلوق کو چاہتا ہے ۔ وہ یلازستل کے اپنے اوان جلال میں سب کو بلاتا ہے اور دعوت اجایت دیتا ہے اور کہتا ہے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں دونگا ۔ تم میرے باب قبولیت کو کھٹکھٹاؤ میں ہمدردانہ تمہارے معروضات کو سنوں گا ۔
Ayahs 42:20–22

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کھیتی میں اسے زیادہ دینگے اور جو کوئی دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے کچھ دینگے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ (ف 1) بھی نہیں

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان (اہل مکہ) کے اور شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین میں وہ راہ ڈالی ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا اور اگر فیصلہ کی بات (قیامت پر) نہ ہوتی تو ان میں (ابھی) فیصلہ ہوجاتا اور بیشک جو ظالم ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

تو ان ظالموں کو دیکھے گی کہ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس سے ڈر رہے ہونگے اور وہ ان پر پڑکر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ بہشت کے سبزہ زاروں میں ہوں گے ان کے لئے جو (بھی) وہ اپنے رب کے پاس چاہیں گے موجود ہے یہی تو بڑا فضل ہے

زندگی کی دو راہیں 1: کہ دو قسم کی زندگیاں ہیں اب یہ تمہارے انتخاب پر موقوف ہے کہ تم لوگ کس نوع کی زندگی کو اپنے لئے پسند کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے اختیار وانتخاب میں پوری پوری آزادی دے رکھی ہے ۔ اگر کشت آخرت چاہتے ہو ۔ تو اللہ کی مہربانیاں تمہارے شامل حال ہونگی ۔ اور تم کو ہر نوع کی اعانت سے نوازا جائیگا ۔ اور اگر کشت آخرت کی ضرورت نہیں ہے ۔ دنیا کی خوبصورتی پر پھرگئے ہو اور اسی زندگی کا بھلا چاہتے ہو ۔ تو یہ بھی تم کو مل سکتی ہے ۔ مگر یہ یاد رکھو آخرت کے حصوں میں تم دنیا کی کسی مسرت سے محروم نہیں رہوں گے ۔ وہ اگر تم نے صرف دنیا کو حاصل کیا ۔ تو پھر وہاں کچھ نہیں ملے گا ۔ ان دونوں باتوں کو خوب سوچ لو اور اپنے لئے ایک راہ متعین کرلو ۔ دنیا کی راہ تو عقبے کی لذتوں سے یک قلم محروم کردیتی ہے ۔ اور آخرت کی راہ میں کونین کی سعادتیں موجود ہیں ۔
Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ وہ ہے جس کی بشارت اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے تو کہہ میں تم سے اس (قرآن) پر سوائے رشتہ کی محبت (ف 1) کے اور کچھ مزدوری نہیں مانگتا اور جو نیکی کمائے گا ہم اس کے لئے اس نیکی میں خوبی بڑھائینگے ۔ بیشک اللہ بخشنے والا قدردان ہے

حضور ﷺ کے اقرباء کی محبت 1: اہل بیت سے محبت اور عقیدت رکھنا بلاریب جزو ایمان ہے ۔ اور کون بد بخت ہے جو اس سعادت سے محروم رہنا پسند کریگا ۔ حضور ﷺ کے اقارب سے تعلقات ارادت اس بات کی علامت ہے ۔ کہ دلوں میں تقویٰ اور پاکیزگی موجود ہے ۔ اور حب پیغمبر کا جذبہ موجزن ہے ۔ اور درحقیقت یہ عشق نبوی کا لازمی نتیجہ ہے ۔ جب حضور ﷺ سے محبت ہوگی ۔ تو پھر آپ کے اقرباء سے محبت نہ رکھنا کوئی معنے ہی نہیں رکھتا ۔ یہ ایسا پاک جذبہ ہے کہ امام شافعی (رح) باوجود تستن کے اس بات پر فخر وناز کرتے ہیں ۔ کہ ؎ ان کنان دلان حبا ال محمد فلیشھد اسقلان انی رافضی کہ اگر آل محمد ﷺ سے محبت رکھنا رفض ہے تو کونین اس پر گواہ ہیں ۔ کہ میں راقضی ہوں مگر اس کے معنے یہ نہیں ہیں کہ اس آیت میں اسی محبت کی طرف اشارہ ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ایسا مطالبہ نہیں کرتے ۔ جس کا تعلق اساس دین سے ہو ۔ اقارب کی عزت واحترام تقاضائے ایمان ضرور ہے ۔ باقی صفحہ حل لغات :۔ ردضت ۔ روفعہ کی جمع ہے ۔ بمعنے باغ جنت ۔ کے معنے مقامات عیش ومسرت ہونگے ۔ حب میں داخل نہیں ہے کیونکہ حضور سے اپنے اقارب کی محبت رکھنا کوئی تبلیغ کا صلہ نہیں ہے ۔ جس کا حضور مطالبہ کرتے ہیں بلکہ ایک امرزائد ہے ۔ استثقاء اس قبیل سے ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ ولا عیب فھم یحران میر قھم ۔ مگر نفس دین سے اس کا تعلق نہیں ہے دین نام ہے صرف اللہ کا اطاعت اور حضور ﷺ کی پیروی کا ۔ یہ دو آخذ ہیں ۔ اسلام کے سارے نظام حیات کے اور ان کے علاوہ تمام پاک شخصیتیں اپنی جگہ پر قابل کریم ہیں ۔ مگر دین نہیں ہیں ۔ اسلام صرف حقائق کا نام ہے ۔ صداقتوں سے تعبیر ہے ۔ شخصیتوں کو اس میں داخل نہیں ہے ۔ پھر اگر آیت کے یہی معنے ہوں ۔ جو عام طور پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ تو اس میں شبہ یہ پیدا ہوتا ہے ۔ کہ معاذ اللہ حضور ﷺ نے یہ سارا کھڑاک ہی اس لئے کھڑا کیا تھا ۔ ک کہ بعد میں ان کے اقربا اور اعزۃ ان کی فتوحات اداوت سے فائدہ اٹھائیں ۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے حضور ﷺ وہ سرے انبیاء کی طرح اپنی تبلیغی مساعی پر بغیر اس کے کچھ اجر نہیں چاہتے ۔ کہ لوگ ان کی پاک کوششوں کو بار آور بنائیں ۔ اور اسلام کو قبول کریں ۔ بس الا المود یوفی الغربیٰ کے معنے ہی ہیں کہ میں جو کچھ جانتا ہوں یہ ہے کہ تم لوگ مجھے اپنے عزیز اور قریبی سمجھو اور مجھ سے وہی سلوک روا رکھو جو اقربا سے روا رکھا جاتا ہے ۔ مجھے اپنا دشمن قرار نہ دو ۔ اپنا ہمدرد سمجھو اور میری باتوں پر اعتماد کرو ۔
Ayahs 42:24–26

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے سو اگر اللہ چاہے تو تیرے دل (ف 2) پر مہر لگادے اور اللہ اپنی باتوں سے جھوٹ کو مٹانا اور حق کو ثابت کرتا ہے ۔ بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیاں معاف کرتا اور جو تم کرتے ہو جانتا ہے

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور ایمانداروں کی جو بھلے کام کرتے ہیں دعا قبول کرتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے زیادہ دیتا ہے او جو منکر ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے

ف 2: یختم علی قلبک ۔ دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ آپ سورت اللہ پر افتراء کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ آپ سے بصیرت چھین لے ۔ اور آپ کے قلب پر مہر کردے ۔ یعنی جس طرح ناممکن ہے ۔ اس رطح یہ ناممکن ہے ۔ کہ آپ غلط ملط باتیں اللہ کی طرف منسوب کریں ۔ دوسرے یہ کہ یہ لوگ تو اس رطح کے الزامات سے آپ کو دل برداشتہ کردیتے ہیں ۔ مگر اللہ چاہے گا تو آپ کے دل پر تسکین ۔ طمانیت می اوز ثبت کردیگا ۔ تاکہ ان اس طرز عمل کا اثر آپ تک نہ پہنچے اور آپ استقلال و عزیمت کے ساتھ اللہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتے رہیں ۔
Ayahs 42:27–36

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ اپنے بندوں کا رزق کشادہ کرے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں ۔ لیکن جس قدر چاہتا ہے اندازہ سے اتارتا ہے وہ اپنے بندوں کی خبر رکھتا دیکھتا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش نازل کرتا اور اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے اور وہی کام بنانے والا لائق تعریف ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین اور ان جانوروں کی پیدائش (ف 1) ہے جو ان دونوں کے درمیان پھیلائے ہیں اور وہ جب چاہے انہیں جمع کرنے پر قادر ہے

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہے اور بہت باتوں سے درگزر کرتا ہے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور تم زمین میں بھاگ کر عاجز کرنے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلتے جہاز میں جیسے پہاڑ

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو ہوا بند کردے پس جہاز سمندر کی پشت پر کھڑے رہ جائیں بیشک اس میں ہر صابر شاکر کے لئے نشانیاں ہیں

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کو ان کی کمائی کے سبب تباہ کردے اور بہت تقصیریں (تو) معاف کردیتا ہے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور تاکہ وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں جان لیں کہ ان کے لئے کہیں بھاگنے کی جگہ نہیں ہے

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو جو تمہیں کچھ شئے ملی ہے سو حیات دنیا کی بہرہ مندی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ ایمانداروں اور ان کے لئے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں بہتر اور پائیدار ہے

آیت 27 تا 36: حل لغات :۔ بقدر ۔ یعنی ایک انداز کے ساتھ اس طرح کہ کائنات کا نظام باقی رہے اقنطوا ۔ مایوس ہوگئے ۔ قنوط سے ہے ۔ بمعنی مایوسی بٹ ۔ پھیلایا ۔ منتشر کیا دابۃ ۔ حیوان زمین پرچلنے والے جانور ۔ حل لغات :۔ کالا علام ۔ پہاڑوں کی طرح اعلام ۔ جمع علم کی ہے یوبھن ۔ تباہ کردے ۔ مادیات میں غور وفکر 1: قرآن حکیم اس بات پر بڑا زور دیات ہے ۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ان فیوض کو غورو تعمق کی نظر سے دیکھیں جو کارگاہ حیات کو زندگی بخش رہے ہیں ۔ اس کے نزدیک جس طرح یہ ضروری ہے ۔ کہ شریعت اور فقہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ معاشری قوانین کی افادیت پر غور کیا جائے ۔ اور سیاست واخلاق کے مسائل کو زیر بحث لایا جائے ۔ اسی طرح یہ ضروری ہے کہ قدرت ، طبیعت اور مادیت کا عمیق مطالعہ کیا جائے ۔ اور کائنات کے اسرار مکنون کو دریافت کیا جائے کیونکہ جس طرح صحیح معاشرتی اور اخلاقی تعلیم سے انسان کو روحانی سعادت حاصل ہوتی ہے اور اس کے مشکل ترین مسائل سلجھ جاتے ہیں اور زندگی نہایت پرسکون اور پر از طمانیت ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح صحیفہ قدرت کی نصوص سے استنباط مسائل ہماری مادی قوتوں میں اضافہ کردیتا ہے ۔ اور تمدن کو زیادہ وسیع ، زیادہ شاندار اور زیادہ بہتر بنادیتا ہے قرآن کا منشا یہ ہے ۔ کہ سابقہ مذاہب نے جو دماغوں میں ایک نوع کا جمود اور تعطل پیداکررکھا ہے ۔ وہ دور ہو اور غور وفکر کے لئے فراغ اور شادات میدان مہیا ہوں ۔ تاکہ انسان تسخیرات اور فتوحات فکری اپنے لئے ایسے اقلیم لامحدود کو پالیں ۔ کہ نگ ووہ کہیں ختم نہ ہو ۔ اسی لئے آپ اس کتاب عزیز میں دیکھیں گے ۔ کہ آسمانوں اور زمین کی وسعتوں پر غور کرنے کے لئے بارہا آمادہ کیا گیا ہے ۔ اور کہا گیا کہ تمام مظاہر قدرت پر فرداً فرداً غور کرو ۔ اور سوچو اور پھر اس نتیجہ پر پہنچو ۔ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں کس درجہ وسیع ہیں اور وہ کس درجہ لائق اکرام واحترام ہیں ۔ فرمایا : اللہ کے اجرام سماوی کو پیدا کیا ہے ۔ زمین کو بھی تمہارے پاؤں تلے بچھایا ۔ اور پھر اس میں زندہ کائنات بھی پھیلا رکھی ہے ۔ کیا اب اس بات کا ثبوت نہیں ۔ کہ وہ جب جائے گا انسانوں کو محاسبہ کے لئے جمع کرسکے گا ۔ کہ بتاؤ تم نے دنیا میں رہ کر ہمارے فیوض سے کس حد تک استفادہ کیا ۔ اسی طرح اس کی نشانیوں میں سے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز ہیں ۔ کہ سمندر میں پہاڑوں کی طرح کھڑے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کھیلنے کے لئے کچھ محالات مقرر کر رکھے ہیں ۔ اگر وہ ہواؤں کو روک لے اور ان قانونوں کو حرکت میں نہ لائے تو یہ کشتیاں اور یہ جہاز ایک قدم آگے نہ بڑھ سکیں ۔ وہ لوگ جو صبر کے زیور سے آراستہ ہیں اور جو اللہ کی نعمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ ان مظاہر قدرت سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ افسوس ہے کہ اور چیزوں کو تو قرآن بیان کرتا ہے ۔ مگر سمندروں پر حکومت دوسری قوموں کی ہے ۔ آج وہ جانتے ہیں ۔ کہ کیونکر بڑے بڑے جہازوں کو سمندر کی سطح پر چلایا جاسکتا ہے اور جن کو ان کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ وہ محض ناآشنا ہیں ۔ درمیان میں بعض وہی حقائق کو بھی بیان فرمایا ہے اور بعض غلط فہمیوں کو دور کیا ہے ۔ مثلاً لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مصیبتیں آتی ہیں ۔ وہ خدا کی طرف سے آتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ہے ۔ کہ جہاں تک اجتماعی مصائب کا تعلق ہے ۔ وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں ۔ اور تمہارے اکثر جرائم تو ایسے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ ان سے یکسر درگزر فرماتے ہیں ۔ اور ان کی سزا نہیں دیتے ۔ ورنہ تمہارے لئے جینا مشکل ہوجائے ۔ اسی طرح ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے ۔ کہ تمہاری مخالفانہ کوششوں سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ فرمایا یقین رکھو ۔ کہ تم اللہ کو عاجز اور مجبور نہیں کرسکتے پھر اسی طرح دنیائے دوں کے متعلق جو ان لوگوں کا خیال تھا ۔ اس کی تردید فرمائی ۔ اور کہا کہ سچی اور حقیقی زندگی عقبیٰ اور آخرت کی زندگی ہے ۔ اور اللہ کے نیک بنے اسی زندگی کے حصول میں کوشاں رہتے ہیں ۔ اور اپنے پروردگار پر پورا پورا بھروسہ رکھتے ہیں ۔