Explained with ayahs 51–53
قرآن حکیم شفا ہے
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 83
" اسی طرح " سے مراد محض آخری طریقہ نہیں ہے بلکہ وہ تینوں طریقے ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئے ہیں۔ اور " روح " سے مراد وحی، یا وہ تعلیم ہے جو وحی کے ذریعہ سے حضور ﷺ کو دی گئی۔ یہ بات قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ کو ان تینوں طریقوں سے ہدایات دی گئی ہیں
1)۔ حدیث میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ پر وحی آنے کی ابتداء ہی سچے خوابوں سے ہوئی تھی (بخاری و مسلم)۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا ہے، چناچہ احادیث میں آپ کے بہت سے خوابوں کا ذکر ملتا ہے جن میں آپ کو کوئی تعلیم دی گئی ہے یا کسی بات پر مطلع کیا گیا ہے، اور قرآن مجید میں بھی آپ کے ایک خواب کا صراحت کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
(آیت) مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ الآیة۔ یہ آیت پہلی ہی آیت کے مضمون کا تکملہ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بالمشافہ کلام تو کسی کا نہ ہوا نہ ہوسکتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں پر اپنی وحی بھیجتے ہیں جس کے تین طریقے پہلی آیت میں بیان ہوئے۔ اسی سنت الٰہیہ کے مطابق آپ پر بھی وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہودیوں کا یہ مطالبہ کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ کیوں مخاطب نہیں ہوتے محض جاہلانہ اور معاندانہ ہے۔ اس لئے یہ فرمایا کہ کسی انسان کو یہاں تک کہ کسی رسول کو جو کچھ بھی علم ملتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی ان کو یہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا ط ماکنت تدری مالکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نوراً انھدی بہ من نشآء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم، صراط اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض الا الی اللہ تصیراً الامور (53-52)
وحی کی تعبیر روح سے
یہ خطاب پیغمبر ﷺ سے ہے کہ اسی معروف طریقہ وحی کے مطابق ہم نے تمہاری طرف بھی ایک روح اتاری ہے۔ روح سے مراد وحی ہے۔ وحی کو روح سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ تمہارے لئے بھی حقیقی زندگی کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو اس کو اپنا لیں۔ تمام آسمانی صحیفوں میں اللہ کے کلام والہام کے لئے یہ تعبیر موجود ہے اس لئے کہ بندوں کو حقیقی زندگی،…
Read the full tafseer →52۔ 1 روح سے مراد ْقرآن ہے۔ یعنی جس طرح آپ سے پہلے اور رسولوں پر ہم وحی کرتے رہے، اسطرح ہم نے آپ پر قرآن کی وحی کی ہے قرآن کو روح اس لئے تعبیر کیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے جیسے روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔
52۔ 2 کتاب سے مراد قرآن ہے، یعنی نبوت پہلے قرآن کا بھی کوئی علم آپ کو نہیں تھا اور اسی طرح ایمان کی ان تفصیلات سے بھی بیخبر تھے جو شریعت میں مطلوب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
11: روح سے مراد قرآن کریم اور اس کے احکام ہیں، کیونکہ وہ انسان کے لئے روحانی زندگی کا باعث ہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ روح سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہوں جنہیں روح القدس بھی کہا جاتا ہے اور قرآن کریم کے نزول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہی کو واسطہ بنایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔
وخر موسیٰ…
Read the full tafseer →3 مترجم محقق قدس اللہ روحہ ' نے اس جگہ روح سے مراد فرشتہ لیا ہے۔ یعنی جبرائیل امین۔ اور یہ بعض مفسرین کی رائے ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہاں خود قرآن کریم کو روح سے تعبیر فرمایا کیونکہ اس کی تاثیر سے مردہ قلوب زندہ ہوتے ہیں۔ اور انسان کو ابدی حیات نصیب ہوتی ہے۔ دیکھ لو جو قومیں کفر و ظلم اور بداخلاقی کی موت مرچکی تھیں کس طرح قرآن نے ان میں جان تازہ ڈال دی۔
4 یعنی ایمان اور اغمال ایمانیہ کی یہ تفاصیل جو بذریہ وحی اب معلوم ہوئیں پہلے سے کہاں معلوم تھیں۔ گو نفس ایمان کے ساتھ ہمیشہ سے متصف تھے۔
5 یعنی قرآن کی روشنی میں جن بندوں کو ہم چاہیں سعادت و فلاح کے راستہ پر لے چلتے ہیں۔
6 یعنی آپ تو سب بندوں…
Read the full tafseer →آیت 52 { وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا } ”اور اے نبی ﷺ ! اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے۔“
یہاں پر قرآن کو رُوحًا مِّن اَمْرِنَا کہا گیا ہے۔
اگلی آیت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ایمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو ایمان کہاں سے ملا ؟ اس مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کا اہم ترین مقام ہے۔ حضور ﷺ کی ذات کی مثال ایمان کی دہکتی ہوئی بھٹی کی سی ہے کہ جو بھی آپ ﷺ کے قریب آگیا ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگیا۔ البتہ جس طرح ایک خراب موصل bad conductor بھٹی کے سامنے ہونے کے باوجود بھی ”اتصالِ حرارت“ کے عمل سے محروم رہتا ہے اسی طرح بعض بد نصیب…
Read the full tafseer →72 آپ کو وحی کی تمام صورتوں میں وحی ہوئی :۔ اسی طرح سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان تمام قسموں کی وحی آپ کی طرف بھی کی ہے۔ القاء والہام سے متعلق سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پہلے جو وحی رسول اللہ پر ہوئی وہ سچا خواب تھا جو کچھ آپ نیند کی حالت میں دیکھتے وہ (بیداری میں) صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوتا۔ (بخاری۔ باب کیف کان بدء الوحی)
ایسا ہی خواب آپ کو صلح حدیبیہ سے پیشتر آیا تھا کہ مسلمان امن و اطمینان سے کعبہ کا طواف اور عمرہ کر رہے ہیں جس کا ذکر سورة فتح کی آیت نمبر 27 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ دوسری صورت اللہ تعالیٰ کا پردہ کے پیچھے سے بات کرنا ہے۔…
Read the full tafseer →59۔ (اور آپ ﷺ کو نبی بنا کر آپ کی نبوت پر دلائل قائم کئے ہیں) روح سے یہاں مراد قرآن یا وحی ہے۔ جبرئیل یافرشتہ مراد نہیں۔ وما اوحی الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) اوالقرآن الذی ھو للقلوب بمنزلۃ الروح للابدان (روح) والمراد بہ القران وسماہ روحا لانہ یفید الحیاۃ من موت الجھل اوالکفر (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم انبیاء قدیم پر وحی نازل کرتے رہے ہیں۔ اے کما اوحینا الی الرسل قبلک (مدارک)
60۔ یہاں اس عام حقیقت کا اظہار ہے کہ بلافیضان الہی، کامل ترین استعداد وصلاحیت رکھنے والا بھی بیکار ہے اور اس خاص حقیقت کا اعلان کہ قبل نبوت آپ کی یہ لاعلمی ہرگز ان کمالات کی قادح نہیں جو بعد نبوت آپ ﷺ کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیت نمبر 44 تا 53
ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…
Read the full tafseer →وکذلک اوحیناالیک روحامن امرنا ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ
نورا نھدی بہ من نشاء من عبادنا وانک لتھدی الی صراط مستقیم اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی یعنی اپنا حکم بھیجا۔ آپ کو خبر نہ تھی کہ کتاب (ا اللہ) کیا چیز ہے اور نہ یہ خبر تھی کہ ایمان (کا انتہائی کمال) کیا ہے ‘ لیکن ہم نے اس (قرآن) کو ایک نور بنایا جس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں ‘ ہدایت کرتے ہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ آپ ایک سیدھے راستے کی ہدایت کر رہے ہیں۔
وَکَذٰلِکَ اور اسی طرح ‘ یعنی جس طرح ہم نے دوسرے انبیاء کے پاس وحی بھیجی ‘ اسی طرح آپ کے پاس بھی بھیجی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح ہم نے آپ سے بیان…
Read the full tafseer →اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس جبریل امین کے ذریعہ قرآن کریم بھیجا جبریل کے آنے سے پہلے آپ کو تو یہ خبر نہ تھی کہ قرآن کریم کیا ہے اور نہ آپ قرآن کریم اچھی طرح پڑھنا جانتے تھے اور نہ آپ توحید کی دعوت کا طریقہ جانتے تھے۔
لیکن ہم نے اس قرآن حکیم کو اوامرو نواہی حلال و حرام حق و باطل کے اظہار کے لیے ایک بیان بنایا ہم اس قرآن حکیم کے ذریعے سے جو اس کا اہل ہوتا ہے اس کو ہدایت نصیب کرتے ہیں اور آپ ایک سیدھے رستہ کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وکذلک اوحیناً الیک روحاً من امرنا :(روحاً) سے مراد وحی ہے، خواہ قرآن کی صورت میں ہو یا سنت کی صورت میں، کیونکہ وہ دونوں وحی ہیں، جیسا کہ فرمایا :(وما ینطق عن الھویٰ ان ھوالا وحی یوحی) (النجم : 102)”اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔“ اسے ”روح“ اس لئے کہا گیا ہے کہ حقیقی زندگی اسی کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسے فرمایا :(ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ) (النحل : 2)”وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔“
(2) ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان : اس فرمان میں ایک تو…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 52‘ 53 )
مسئلہ نمبر 1 ۔ وکذلک اوحینآ الیک یعنی جس طرح ہم نے آپ سے قبل انبیاء کی طرف وحی کی اسی طرح آپ کی طرف وحی کی روحا یعنی نبوت ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے (1) حضرت حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے (2) اپنی جناب سے رحمت۔ سدی نے کہا : وحی (3) کلبی نے کہا : کتاب (4) ربیع نے کہا : اس سے مراد جبریل امین ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد قرآن ہے (5) یہ مالک بن دینار کا قول ہے۔ اسے روح کا نام دیا کیونکہ اس میں جہالت کی موت سے زندگی ہے روح کو اپنے امر کا حصہ بنانا اس معنی میں ہے اسے نازل کیا جس طرح چاہا اور جس پر چاہا یعنی جو نظم معجز ہے اور تالیف معجب ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ویسئلونک عن الروح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “ (اور اسی طرح ہم نے آپ کے پاس وحی بھیجی یعنی اپنے حکم میں سے) میں روحا سے مراد ہے قرآن مجید۔
2:۔ ابونعیم (رح) (نے دلائل میں) وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کی آپ نے کبھی بتوں کی عبادت کی ؟ فرمایا نہیں پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ نے کبھی شراب پی ؟ فرمایا نہیں میں لگاتار ان چیزوں کے بارے میں پوچھتا رہا جن پر کافر پابند تھے (آیت ) ” ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان “ (یعنی میں نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا چیز ہے اور ایمان کیا ہے) اور اسی بارے میں قرآن نازل ہوا…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ [ ہم نے وحی کی آپ کی طرف ] رُوْحًا [ ایک جانفز چیز (قرآن ) ] مِّنْ اَمْرِنَا ۭ [ اپنے حکم سے ] مَا كُنْتَ تَدْرِيْ [ آپ نہیں جانتے تھے ] مَا الْكِتٰبُ [ کیا ہے کتاب ] وَلَا الْاِيْمَانُ [ اور نہ (کیا ہے ) ایمان ] وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ [ اور لیکن ہم نے بنایا اس (قرآن ) کو ] نُوْرًا [ ایک ایسا نور ] نَّهْدِيْ بِهٖ [ ہم ہدایت دیتے ہیں جس سے ] مَنْ نَّشَاۗءُ [ اس کو جس کو ہم چاہتے ہیں ] مِنْ عِبَادِنَا ۭ [ اپنے بندوں میں سے ] وَاِنَّكَ [ اور بیشک آپ ] لَـــتَهْدِيْٓ [ یقینا رہنمائی کرتے ہیں ] [اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھے راستے کی طرف…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ﴿ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا﴾ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اسی طرح آپ کی طرف بھی روح یعنی نبوت کی وحی بھیجی۔ بعض مفسرین نے روح سے نبوت اور بعض حضرات نے روح سے قرآن مراد لیا ہے ﴿ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ ﴾ (آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے) یعنی نبوت ملنے سے پہلے آپ کو یہ پتہ نہ تھا کہ اللہ کی کتاب کیا ہے اور نہ آپ کو ایمانیات کا تفصیلی علم دیا گیا تھا جب آپ کو نبوت عطا کی گئی اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور ایمان کی تفصیلات بتادی گئیں اس وقت آپ کو اللہ کی کتاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اثبات رسالت نبی کریم ﷺ وتحقیق اقسام وحی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ ...... الی ........ تصیرالامور “۔
(ربط) اس سورت کا آغاز وحی کے مضمون سے تھا درمیان میں دلائل نبوت و توحید بعث ونشر قیامت جزاء وسزا اور مجرمین ومطیعین کے احوال کا بیان فرمایا گیا اب سورت کا اختتام پھر مضمون وحی سے فرمایا جارہا ہے تاکہ سورت کے مضمون کا آغاز اور اس کی انتہاباہم مربوط ہوجائے اور ربط کی یہ خصوصیت اکثر سورتوں کے مضامین میں پائی جاتی ہے، اور بلغاء کے نزدیک کلام اللہ کی یہ بھی ایک معجزہ شان ہے، ان آیات میں مسئلہ نبوت کی تحقیق اور وحی کے اقسام کی تفصیل بیان کرکے مخالفین اور بالخصوص یہود کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
41:۔ وکذلک اوحینا “ یہ دلیل وحی ہے اور ہم نے انہی تین طریقوں سے آپ کی طرف روح کو وحی کیا ہے۔ روح سے مراد مسئلہ توحید ہے یا قرآن جس کی تعلیمات (توحید، رسالت، قیامت، احکام شریعت) دلوں کے لیے حیات جاودانی کا باعث ہیں۔ وسماہ روحا لان القلوب تحیا بہ (بیضاوی) ۔ ” ما کنت تدری الخ “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے چونکہ آپ نزول وحی سے قبل قرآن کو اور ایمان تفصیلی حقیقت کو نہیں جانتے تھے اس لیے ہم نے آپ پر وحی سے قرآن نازل کیا اور اس قرآن کو ہدایت کا چراغ روشن اور سراج منیر بنایا تاکہ اس کے ذریعے سے ہر اس شخص کو ہدایت کی راہ دکھائیں جسے ہم چاہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ حق کی تلاش کرے، ضد وعناد سے دور رہے اور نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ربط آیات
گزشتہ درس میں معاد کا ذکر تھا کہ قیامت والے دن جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دنیا میں واپسی کا کوئی راستہ تلاش کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا بلکہ وہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب مقیم کا شکار بن جائیں گے۔ پھر رسالت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ آپ حق تبلیغ ادا کرتے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لے آنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے ، آپ صرف اپنا کام کرتے جائیں ۔ پھر اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ جب انہیں آسودگی حاصل ہوتی ہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان ناشکر گزاری کا اظہار کرتا ہے ، پھر…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا 0 ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّہْدِيْ بِہٖ مَنْ نَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِنَا 0 ۭ وَاِنَّكَ لَـــتَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 52 ۙ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ترکیب : لبشر خبرکان ان مصدریۃ یکلمہ اللہ الجملۃ تباویل المصدر اسم کان۔ الاوحیاء استثناء منقطع لان الوحی لیس بتکلیم اومن وراء حجاب الجار متعلق بمحذوف تقدیرہ اویکلمہ و ھذا المحذوف معطوف علی وحی فتقدیر الکلام ان یوحی الیہ اویکلمہ اویرسل منصوب عطفاعلی موضع وحیاوقیل فی موضع جرای بان یرسل ماکنت الجملۃ حال من الکاف فی الیک صراط اللہ بدل من صراط مستقیم المعرقہ من المنکرۃ۔
تفسیر … وحی والہام کی بحث : یہب لمن یشاء میں مسئلہ نبوت کی طرف بھی اشارہ تھا کہ وہ جس کو چاہتا ہے یہ مرتبہ عطا کرتا ہے۔ انبیائِ سابقین کا نام اہل مکہ سن کر اس بات کو تو تسلیم کرتے تھے۔ مگر نبی کا مرتبہ بشریت کے جامہ سے باہر تصور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ط مَاکُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْـکِتٰبُ وَلاَالْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنٰـہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَاِنَّـکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَـہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُالْاُمُوْرُ ۔ (الشوری : 52، 53)
(اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اسے ایک نور بنادیا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، بیشک آپ ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید بھی وحی کے ذریعے نازل ہوا ہے۔ لیکن یہ وحی جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے آیا کرتا تھی۔ اس لیے بالخصوص جبرائیل امین (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے حکم سے آپ ﷺ کی طرف جبریل امین (علیہ السلام) کے ذریعے قرآن نازل کیا۔ حالانکہ اس سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ “ اَلْکِتَابُ “ اور ” اَلْاِیْمَانُ “ کیا ہوتا ہے ؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے نور ہدایت بنایا ہے۔ اس کے ساتھ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں کو ہدایت کے ساتھ سرفراز فرماتا ہے۔ اے نبی ﷺ ! یقین جانو ! کہ آپ صراط مستقیم کی راہنمائی کرنے والے ہیں۔ یہ صراط مستقیم اللہ کا متعین کردہ ہے۔ اللہ ہی وہ…
Read the full tafseer →52: وَکَذٰلِکَ (اور اسی طرح) یعنی جیسا ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی طرف وحی بھیجی یا جیسا کہ ہم نے آپ کو بیان کردیا۔ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (ہم نے آپ کی طرف وحی کی) وحی کرنا اسی طرح ہوتا ہے۔ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا (یعنی اپنا حکم بھیجا) مراد یہ ہے کہ جو آپ کی طرف بھیجی گئی کیونکہ لوگ اس کی وجہ سے اپنے دین میں زندہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ جسم روح سے زندہ ہوجاتا ہے۔ مَا کُنْتَ تَدْرِیْ (آپ کو نہ یہ خبر تھی) : الیک کے کاف سے یہ حال ہے۔ مَا الْکِتٰبُ (کتاب کیا چیز ہے) وَلَا الْاِیْمَانُ (اور نہ ایمان کیا چیز ہے) یعنی اس کے احکامات، اور نہ ایمان بالکتاب کیونکہ جب وہ یہ نہیں جانتے کہ کتاب نازل ہوگی تو وہ اس…
Read the full tafseer →51، وماکان لبشران یکلمہ اللہ الاوحیا، اور یہ اس وجہ سے کہ یہودنے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ (علیہ السلام) نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ سے کلام اور زیارت کیوں نہیں کی جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام اور ان کی زیارت کی ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ، وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا، اس کی طرف وحی کرے نیند میں یا الہام کے ذریعے۔ ، او من وراء حجاب ، کہ اس کو اپنی کلام سنائے اور اس کونہ دیکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے موسیٰ (علیہ السلام) نے کلام کی۔ ، اویرسل رسولا، جبرئیل (علیہ السلام) یا ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51۔ 53۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لئے اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ہم کلام ہوتے اگرچہ یہ آیت مکی ہے لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے جب آنحضرت کی نبوت کا شہرہ ہوا اس وقت یہود حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے ان کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے جس طرح سورة نسا کی مدنی آیت میں دیا ہے کہ انا اوحینا الیک کما او حینا الی نوح والنبیین من بعدہ الایۃ اسی طرح اس مکی آیت میں جواب دیا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ بلا پردہ کی آڑ کے تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51
چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے : (لو لایکلمنا اللہ اوتاتینا ایۃ) (البقرۃ 118/2) ” ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ “ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں، یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔
(1) یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →108 پیغمبر کی نبوت کوئی انوکھی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے آپ ﷺ کی طرف بھی وحی کی ۔ اے پیغمبر !۔ ایک عظیم الشان روح کی اپنے حکم سے "۔ یعنی جس طرح کہ ان طرق ثلاثہ کے ذریعے پہلے انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی طرف وحی ہوتی رہی اسی طرح ہم نے آپ کی طرف بھی یہ وحی بھیجی ہے اے پیغمبر !۔ تو پھر اس میں منکرین کیلئے اچنبھا و اعتراض کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ سو نہ تو آپ ﷺ کا دعوائے نبوت و رسالت کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے اور نہ ہی آپ ﷺ پر نازل کی جانے والی وحی کوئی انوکھی اور نئی چیز ہے۔ سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ مَا کُنْتُ بدْعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وحی الٰہی کا طریقہ
تشریح : ان آیات میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1۔ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلادینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جیسے ام موسیٰ کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ انہیں ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دیں۔
2۔ پردے کے پیچھے سے کلام کرنا جیسے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا تھا۔
3۔ فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا جیسے جبرئیل امین (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے۔
ڈاکٹرمحمد حمید اللہ بڑی خوبصورت وضاحت کرتے ہیں۔ ” ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیات 44 تا 53۔
اسرار ومعارف۔
اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی جس طرح پہلے انبیاء پر ہم نے وحی بھیج۔ اسی طرح۔۔۔۔۔ یا وحی کے جو طریقے اوپر مذکور ہوئے ہیں ان سب کے ذریعہ۔۔۔۔۔
6 روح سے مراد قرآن بھی ہے اور حدیث بھی اور قرآن و حدیث کو ” روح “ سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ انہی سے انسان کو اخلاقی زندگی حاصل ہوتی ہے ورنہ وہ اخلاقی اعتبار سے مردہ ہوتا ہے۔
7 یعنی منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پیشتر آپ ﷺ کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آئی تھی کہ کبھی آپ ﷺ پر کتاب نازل کی جائیگی اور آپ ﷺ کو صفات باری تعالیٰ اور دین و شریعت کی تفصیلی معلومات دی جائیں گی جن پر آپ خود بھی ایمان لائیں گے اور دوسروں کو بھی ایمان لانے کی دعوت دیں گے۔ تفصیلی معلومات کی قید ہم نے اس…
Read the full tafseer →(42:52) وکذلک۔ وائو عاطفہ ۔ کاف تشبیہ کا ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ۔ اور اسی طرح سے : ای شل ایحاء نا الی غیرک من الرسل، جس طرح ترے علاوہ دوسرے رسولوں پر ہم نے وحی کی (اسی طرح)
اوحینا۔ ماضی جمع متکلم ایحاء (افعال) مصدر۔ ہم نے وحی نازل کی۔
روحا : ای القران۔ روح چونکہ حرارت جسم کا باعث ہے۔ اسی طرح کتاب اللہ عالم کی حیات ابدیہ کا باعث ہے اس لئے روح کا لفظ اس پر بولا گیا یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے بعض کہتے ہیں کہ روح سے مراد جبرائیل ہے :
ما کنت تدری۔ ماضی استمراری کا صیغہ واحد مذکر حاضر : تدری درایۃ (باب ضرب) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے بمعنی جاننا۔ تو نہیں جانتا تھا۔
ما الکتب۔ میں ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 53
یکلم (وہ کلام کرتا ہے) وراء حجاب (پردے کے پیچھے) روح ( جان ( فرشتہ) ماتدری (تو نہیں جانتا) تصیر الامور (کاموں کو لوٹنا)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 53 : قرآن کریم میں متعد مقامات پر کفار و مشرکین کے وہ بہت سے اعتراضات نقل کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے ان ہی میں سے یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کر رہے ہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے۔
کفار کہتے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کلام کو خود سے گھڑ لیا ہے کیونکہ نہ تو آپ نے اللہ کو دیکھا نہ وہ آپ کے پاس آتا ہے نہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے قرآن کو اتار کر سارے جہان میں نور پھیلایا، اور قرآن کو اپنا چراغ بنادیا، امر، نہی حق، باطل، حلال، حرام صاف صاف بیان کرتا ہے، ہم بذریعہ قرآن جس کو چاہتے ہیں اور اپنے بندوں میں سے جس کو لائق سمجھتے ہیں اسی کو راہ اور اس قرآن کی روشنی دکھاتے ہیں۔
(ف 1) اے محبوب ﷺ تم تو سب بندوں کو قرآن کریم کے ذریعہ سے اللہ تک پہنچنے کی سیدھی راہ بتلاتے رہتے ہو کوئی اس پر چلے یا نہ چلے۔
Read the full tafseer →[29] اسی طرح سے مراد محض آخری طریقہ نہیں ہے بلکہ وہ تینوں طریقے ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئے ہیں۔ روح سے مراد وہ تعلیم ہے جو وحی کے ذریعے رسول ﷺ کو دی گئی، یعنی قرآن جو مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے اور حیات ابدی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
آیت 52 ۔ 53:
کتابِ زندگی
2: یعنی آپ کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ۔ بلکہ نہیں ذرائع الہام کو استعمال کیا گیا ہے ۔ اور سابقہ پیغمبروں کی طرح آپ کو بھی یہ شرف حاصل ہوا ہے ۔ کہ اللہ نے آپ سے گفتگو فرمائی ہے ۔ اور اس چیز کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے ۔ جو انسانیت کے لئے بمنزلہ روح کے ہے ۔ جس کی وجہ سے انسانی ہیئت اجتماعیہ میں زندگی اور تازگی ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرت اور تہذیب و تمدن کا بقا ہے ۔ آپ اس سے قبل کتاب وصحیفہ کے نام سے آگاہ نہیں تھے ۔ اور نہ آپ یہ جانتے تھے ۔ کہ ایمان کی حقیقت مفصلہ کیا ہے ؟ ہم نے آپ کو ایک کتاب عنایت کی ہے جو نور اور روشنی ہے ۔ اور اس سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں…
Read the full tafseer →(52) اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے قرآن کو جو ہمارا حکم ہے آپ کی جانب بھیجا ہے نہ تو آپ یہ جانتے تھے کہ کتاب الٰہی کیا چیز ہے اور نہ آپ یہ جانتے تھے کہ ایمان کیا چیز ہے لیکن ہم نے قرآن کو ایک ایسا نور بنایا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں راہ دکھاتے ہیں اور بلاشبہ آپ لوگوں کو سیدھا راستہ بتاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3۔ یعنی ھادی الی العلوم والا عمل بنایا۔
Read the full tafseer →قرآن کریم نبی اعظم و آخر ﷺ کی طرف وحی کیا گیا ہے
52 ؎ وحی کا نام لیتے ہی ہم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم علم کے ان درجات سے بہت اعلیٰ وارفع چیز ہے جن درجات کو مادی وسائل سے انسان حاصل کرتا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم وحی کے معروف تین طریقوں میں سے آخری طریقہ کے مطابق نازل ہوا ہے اور پھر اس قرآن کریم کی وحی کو مزید بلند سے بلند تر بلکہبلند ترین کرنے کے لیے اس پر ” روح “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی تعریف صرف امر ربی ہے گویا اس کیل یے ایک ایسا لفظ استعمال کیا گیا جس سے یہ معلوم ہوجائے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کو اس کی اپنی ذات کا اس میں کسی طرح کا بھی عمل دخل نہیں ہے بلکہ خالصتاً امرربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن (You did not know earlier what is the Book or what is "Iman', but We have made it a light with which We guide whomsoever we will from among Our slaves - 42:52). This verse is a complement of the subject of the first verse. The gist is that in this world, nobody has ever seen, nor can ever see and converse face to face with Allah Ta’ ala. However, Allah Ta’ ala does send ` wahy' to His chosen bondsmen in three ways described in the first verse. And in accordance with Allah Ta’ ala's practice, ` wahy' is sent to the Holy Prophet ﷺ as…
Read the full tafseer →83.“And thus”does not refer only to the last method of wahi, but to all the three methods as mentioned in the preceding verses, and a spirit implies wahi (revelation), or the teaching given to the Prophet (peace be upon him) by revelation. Both the Quran and the Hadih confirm that the Prophet (peace be upon him) was given instruction by all these three methods:
(1) In a Hadith Aishah has stated that revelation in the beginning came to the Prophet (peace be upon him) in the form of true visions. (Bukhari, Muslim) This continued in later life also. Traditions mention many visions in which he…
Read the full tafseer →