Explained with ayahs 51–53
قرآن حکیم شفا ہے
مقامات و مراتب و کیفیات وحی کا بیان ہو رہا ہے کہ کبھی تو حضور ﷺ کے دل میں وحی ڈال دی جاتی ہے جس کے وحی اللہ ہونے میں آپکو کوئی شک نہیں رہتا جیسے صحیح ابن حبان کی حدیث میں ہے کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بات پھونکی ہے کہ کوئی شخص بھی جب تک اپنی روزی اور اپنا وقت پورا نہ کرلے ہرگز نہیں مرتا پس اللہ سے ڈرو اور روزی کی طلب میں اچھائی اختیار کرو۔ یا پردے کی اوٹ سے جیسے حضرت موسیٰ سے کلام ہوا۔ کیونکہ انہوں نے کلام سن کر جمال دیکھنا چاہا لیکن وہ پردے میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی سے کلام نہیں کیا مگر پردے کے پیچھے سے لیکن تیرے باپ…
Read the full tafseer →سورة الشُّوْرٰی 78
تقریر ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کو پھر لیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوا تھا۔ بات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس سورة کی پہلے آیت اور اس کے حاشیے پر دوبارہ ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
سورة الشُّوْرٰی 79
یہاں وحی سے مراد ہے القاء، الہام، دل میں کوئی بات ڈال دینا، یا خواب میں کچھ دکھا دینا، جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت یوسف (علیہم السلام) کو دکھایا گیا (یوسف، آیات 4۔ 100۔ الصافات 102)۔
سورة الشُّوْرٰی 80
مراد یہ ہے کہ بندہ ایک آواز سنے، مگر بولنے والا اسے نظر نہ آئے، جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا کہ طور کے دامن میں ایک درخت سے یکایک انہیں آواز آنی شروع ہوئی مگر بولنے والا ان کی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کسی بشر (کی بحالت موجودہ) یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے، مگر (تین طریق سے) یا تو الہام سے (کہ قلب میں کوئی اچھی بات ڈال دے) یا حجاب کے باہر سے (کچھ کلام سنا دے جیسے موسیٰ ؑ نے سنا تھا) یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے، پیغام پہنچا دیتا ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ) وہ بڑا عالیشان ہے (اس سے جب تک وہ خود طاقت نہ دے کوئی ہمکلام نہیں ہو سکتا، مگر اس کے ساتھ) بڑی حکمت والا (بھی) ہے (اسی لئے بندوں کی مصلحت سے اس نے کلام کے تین مذکورہ طریقے مقرر فرما دیئے ہیں) اور (جس طرح بشر کے ساتھ ہمارے ہم کلام ہونے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے) اسی طرح…
Read the full tafseer →10۔ آگے کا مضمون … آیات :53-51
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں اور یہ خاتمہ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ پوری سورة سے بحیثیت مجموعی بھی تعلق رکھتا ہے اور اوپر کے پیرے سے بھی اس کا نہایت واضح ربط ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں کہ سورة جس مضمون سے شروع ہوتی ہے بالعموم اسی مضمون کے کسی پہلو کیوضاحت پر ختم ہوتی ہے۔ چناچہ اس سورة میں بھی دیکھ لیجیے۔ اس کا آغاز کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک … الایۃ سے ہوا تھا۔ یعنی یہ قرآن اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ دوسرے نبیوں اور رسولوں پر نازل فرما چکا ہے۔ پھر مقصد اور ذریعہ دونوں کی یکسانی کی وضاحت فرمائی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
51۔ 1 اس آیت میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں پہلی یہ کہ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلا دینا اور یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ دوسری، پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے حضرت موسیٰ ؑ سے کوہ طور پر کیا گیا، تیسری، فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا، جیسے جبرائیل ؑ اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے رہے۔
Read the full tafseer →10: اس دنیا میں کسی انسان سے اللہ تعالیٰ روبرو ہو کر ہم کلام نہیں ہوتا، البتہ تین طریقوں سے کوئی طریقہ اختیار فرماتا ہے، ایک کو وحی سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات فرمانا چاہتا ہے، وہ کسی کے دل میں ڈال دیتا ہے، دوسرے کو پردے کے پیچھے سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی صورت نظر آئے بغیر کوئی بات کانوں کے ذریعے ہی سنادی جاتی ہے، جیسے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ہوا تھا، اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنا کلام کسی فرشتے کے ذریعے کسی پیغمبر کے پاس بھیجا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اس آیت میں یہ بات قطعی انداز میں کہہ دی گئی ہے کہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ آمنے سامنے ہو کر بات نہیں کرسکتا۔ حضرت عائشہ ؓ سے یہ مروی ہے : “ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے بہت پر افترا باندھا ” (متفق علیہ ) خدا کا مکالمہ بندوں کے ساتھ تین طریقوں سے سر انجام پاتا ہے۔ بذریعہ وحی ، یہ وحی قلب نبی پر براہ راست ہوتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ یہ وحی ہے ، یا پردے کے پیچھے سے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ لیکن جب آپ نے اللہ کو دیکھنے کی درخواست کی تو اس درخواست کو قبول نہ کیا گیا۔ اور پہاڑ نے بھی تجلیات الہٰیہ کو برداشت نہ کیا۔
وخر موسیٰ…
Read the full tafseer →1 کوئی بشر اپنی عنصری ساخت اور موجودہ قویٰ کے اعتبار سے یہ طاقت نہیں رکھتا کہ خداوند قدوس اس دنیا میں اس کے سامنے ہو کر مشافہۃً کلام فرمائے اور وہ تحمل کرسکے۔ اسی لیے کسی بشر سے اس کے ہمکلام ہونے کی تین صورتیں ہیں (الف) بلاواسطہ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے، یعنی نبی کی قوت سامعہ استماع کلام سے لذت اندوز ہو مگر اس حالت میں آنکھیں دولت دیدار سے متمتع نہ ہو سکیں۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طور اور خاتم الانبیاء ﷺ کو لیلۃ الاسراء میں پیش آیا۔ (ب) بواسطہ فرشتہ کے حق تعالیٰ کلام فرمائے مگر فرشتہ متجسد ہو کر آنکھوں کے سامنے نہ آئے۔ بلکہ براہ راست نبی کے قلب پر نزول کرے اور قلب ہی سے ادراک…
Read the full tafseer →آیت 51 { وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ } ”اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے“
اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے ‘ وہ جو چاہے کرے ‘ مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔
{ اِلَّا وَحْیًا } ”سوائے وحی کے“
یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ”القاء“ یا ”الہام“ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا النحل : 69 ‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا حٰمٓ السجدۃ : 12 اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا القصص : 7 اس وحی کی…
Read the full tafseer →71 وحی کے مختلف طریقے :۔ اس آیت میں لفظ وحیا اپنے لغوی معنی (سریع اور تیز اشارہ۔ یعنی القاء والہام) کے معنوں میں آیا ہے اور لفظ یوحی اپنے اصطلاحی معنوں میں (یعنی اللہ کا اپنے نبی کو فرشتہ کے ذریعہ پیغام بھیجنا) استعمال ہوا ہے۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے کسی انسان سے کلام کرنے کے تین طریقے مذکور ہیں :
(1) القاء یا الہام۔ اس قسم کی وحی غیر نبی کو بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے ام موسیٰ کو ہوئی تھی۔ (28: 7) بلکہ غیر انسان کی طرف بھی ہوسکتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی (16: 68) اور ایسی وحی انبیاء کو خواب میں بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے سیدنا ابراہیم کو یہ خواب آیا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو…
Read the full tafseer →57۔ یہاں یہ مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے کہ عام فطری قوائے بشری اس قابل ہی نہیں کہ حق تعالیٰ سے براہ راست عزت ہم کلامی حاصل کرسکیں۔ مخاطبت کے ممکن طریقے صرف تین ہیں :۔
(1) بطریق وحی، یعنی بلاواسطہ مدرکات طبعی قلب میں کوئی بات ڈال دی جائے۔
(2) بواسطہ حجاب کچھ کلام کیا جائے۔ حجاب کا تعلق تجلی حق سے نہیں ضعف ادراک سے ہے۔ حجاب، حجاب عظمت ہے جو مشاہدۂ تجلیات سے بشر کو روک دیتا ہے ذات حق محجوب نہیں۔” اور یہ حجاب کوئی جسم حائل نہیں۔ اور نہ یہ حجاب حق تعالیٰ کے نور وذات کو مخفی کرسکتا ہے۔ بلکہ حقیقت اس حجاب کی بشر کا ضعف ادراک ہے۔ جس سے باوجود کمال ظہور نور ذات کے یہ ادراک سے قاصر ہے۔ “ (تھانوی (رح) ولیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیت نمبر 44 تا 53
ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان…
Read the full tafseer →وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورآئ حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ
ما یشاء اور (حالت موجودہ میں) کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے ‘ مگر (تین طریقوں سے ‘ یا تو) الہام سے ‘ یا پردے کی آڑ سے ‘ یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ اللہ کے حکم سے جو کچھ اللہ کو منظور ہو ‘ پیام پہنچا دے۔
وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ یعنی کسی انسان کیلئے جائز نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے۔
وَحْیًا لغت عربی میں وحی کا معنی ہے تیزی کے ساتھ اشارہ کرنا۔ اس جگہ وہ پوشیدہ کلام مراد ہے جو بسیط ہو ‘ حروف مقطعات سے مرکب نہ ہو اور پیغمبر کے دل میں بیداری میں یا خواب میں ڈال دیا جائے (اس کو پیغمبر) کا الہام بھی کہا جاتا…
Read the full tafseer →اور کسی آدمی کی یہ شان نہیں کہ روبرو ہو کر اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر یہ تو الہام سے خواہ خواب میں ہو یا پردے کے باہر سے جیسے موسیٰ سے کلام فرمایا تھا یا کسی فرشتہ کو بھیج دے کہ وہ اللہ کے حکم سے جو اللہ کو امر و نہی منظور ہوتا ہے وہ پیغام پہنچا دیتا ہے جیسا کہ رسول اکرم کے پاس جبریل امین کو بھیجا وہ بڑا عالی شان اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ : کفار کا کہنا تھا :(لولا یکلمنا اللہ) (البقرۃ :118)”اللہ ہم سے (خود) کلام کیوں نہیں کرتا ؟“ بلکہ ان کی خواہش تھی کہ جس طرح نبی ﷺ کو کتاب عطا ہوئی ہم میں سے ہر ایک کو اسی طرح کتاب ملے، جیسا کہ فرمایا :(بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفاً منشرۃ) (المدثر : 52)”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک سے کلام نہیں کرتا ، بلکہ وہ اس کے لئے فرشتوں اور انسانوں میں سے انتخابات کرتا ہے، فرمایا :(اللہ یصطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس) (الحج :85)”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 51 )
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا اس کا سبب یہ ہے (1) کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ تعالیٰ سے کلام کیوں نہیں کرتے اور اس کی طرف کیوں نہیں دیکھتے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے کلام کیا اور اس کو دیکھا ہم آپ پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ اس طرح کریں ؟ تو نبی کریم ﷺ :” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر گز اس کو نہیں دیکھیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی ؛ یہ نقاش واحدی اور شعلبی نے ذکر کیا ہے۔
وحیا مجاہد نے کہا : یہ پھونکنا ہے اس کے دل میں پھونکا جاتا ہے (2) تو وہ الہام ہوتا ہے ؛ اسی معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
کسی کے لیے اولاد ہونا نہ ہونا اللہ کے اختیار میں ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وحاکم (وصححہ) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری اولاد اللہ کا ہبہ ہیں (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے) اور اولاد اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہوجاؤ۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کی برکت میں سے ہے جو پہلی مرتبہ بچی جنے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت ) ” یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور “ (یعنی اس…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ [ اور (ممکن) نہیں ہے کسی بشر کے لئے ] اَنْ يُّكَلِّمَهُ [ کہ کلام کرے اس سے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلَّا وَحْيًا [ مگر وحی ہوتے ہوئے ] اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ [ یا پردے کے پیچھے سے ] اَوْ يُرْسِلَ [ یا (یہ کہ ) وہ بھیجے ] رَسُوْلًا [ کوئی پیغامبر (فرشتہ ) ] فَيُوْحِيَ [ نتیجتا وہ وحی کرے ] بِاِذْنِهٖ [ اس کی اجازت سے ] مَا يَشَاۗءُ ۭ [ وہ، جو وہ چاہتا ہے ] اِنَّهٗ عَلِيٌّ [ بیشک وہ بالاتر ہے ] حَكِيْمٌ [حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
بندے اللہ تعالیٰ سے کیسے ہم کلام ہوسکتے ہیں ؟
معالم التنزیل ج، ص 132 میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ اللہ سے بات کیوں نہیں کرتے اور اللہ کو دیکھتے کیوں نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کو دیکھا آپ کی تائید میں یہ آیت نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی بشر کے لیے یہ بات حاصل نہیں کہ اللہ سے بات کرے بجز تین طریقوں کے، ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو الہام فرما دے یعنی قلب میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کوئی بات بتادے (مفسرین نے وحیاً کا مصداق بتاتے ہوئے یہ دو صورتیں لکھی ہیں) یا اللہ تعالیٰ پردہ کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسا کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
اثبات رسالت نبی کریم ﷺ وتحقیق اقسام وحی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ ...... الی ........ تصیرالامور “۔
(ربط) اس سورت کا آغاز وحی کے مضمون سے تھا درمیان میں دلائل نبوت و توحید بعث ونشر قیامت جزاء وسزا اور مجرمین ومطیعین کے احوال کا بیان فرمایا گیا اب سورت کا اختتام پھر مضمون وحی سے فرمایا جارہا ہے تاکہ سورت کے مضمون کا آغاز اور اس کی انتہاباہم مربوط ہوجائے اور ربط کی یہ خصوصیت اکثر سورتوں کے مضامین میں پائی جاتی ہے، اور بلغاء کے نزدیک کلام اللہ کی یہ بھی ایک معجزہ شان ہے، ان آیات میں مسئلہ نبوت کی تحقیق اور وحی کے اقسام کی تفصیل بیان کرکے مخالفین اور بالخصوص یہود کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
41:۔ وکذلک اوحینا “ یہ دلیل وحی ہے اور ہم نے انہی تین طریقوں سے آپ کی طرف روح کو وحی کیا ہے۔ روح سے مراد مسئلہ توحید ہے یا قرآن جس کی تعلیمات (توحید، رسالت، قیامت، احکام شریعت) دلوں کے لیے حیات جاودانی کا باعث ہیں۔ وسماہ روحا لان القلوب تحیا بہ (بیضاوی) ۔ ” ما کنت تدری الخ “ یہ ماقبل کے لیے علت ہے چونکہ آپ نزول وحی سے قبل قرآن کو اور ایمان تفصیلی حقیقت کو نہیں جانتے تھے اس لیے ہم نے آپ پر وحی سے قرآن نازل کیا اور اس قرآن کو ہدایت کا چراغ روشن اور سراج منیر بنایا تاکہ اس کے ذریعے سے ہر اس شخص کو ہدایت کی راہ دکھائیں جسے ہم چاہیں یعنی جو اخلاص کے ساتھ حق کی تلاش کرے، ضد وعناد سے دور رہے اور نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ربط آیات
گزشتہ درس میں معاد کا ذکر تھا کہ قیامت والے دن جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو دنیا میں واپسی کا کوئی راستہ تلاش کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہوگا بلکہ وہ ذلیل و خوار ہو کر عذاب مقیم کا شکار بن جائیں گے۔ پھر رسالت کے ضمن میں اللہ نے فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) آپ مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ آپ حق تبلیغ ادا کرتے ہیں ۔ ان کو راہ راست پر لے آنا آپکی ذمہ داری نہیں ہے ، آپ صرف اپنا کام کرتے جائیں ۔ پھر اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ جب انہیں آسودگی حاصل ہوتی ہے تو خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان ناشکر گزاری کا اظہار کرتا ہے ، پھر…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَاۗئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِـاِذْنِہٖ مَا يَشَاۗءُ 0 ۭ اِنَّہٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ 51
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ...…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
ترکیب : لبشر خبرکان ان مصدریۃ یکلمہ اللہ الجملۃ تباویل المصدر اسم کان۔ الاوحیاء استثناء منقطع لان الوحی لیس بتکلیم اومن وراء حجاب الجار متعلق بمحذوف تقدیرہ اویکلمہ و ھذا المحذوف معطوف علی وحی فتقدیر الکلام ان یوحی الیہ اویکلمہ اویرسل منصوب عطفاعلی موضع وحیاوقیل فی موضع جرای بان یرسل ماکنت الجملۃ حال من الکاف فی الیک صراط اللہ بدل من صراط مستقیم المعرقہ من المنکرۃ۔
تفسیر … وحی والہام کی بحث : یہب لمن یشاء میں مسئلہ نبوت کی طرف بھی اشارہ تھا کہ وہ جس کو چاہتا ہے یہ مرتبہ عطا کرتا ہے۔ انبیائِ سابقین کا نام اہل مکہ سن کر اس بات کو تو تسلیم کرتے تھے۔ مگر نبی کا مرتبہ بشریت کے جامہ سے باہر تصور…
Read the full tafseer →وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّـکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلاَّ وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْیُرْسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَایَشَآئُ ط اِنَّـہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ (الشوری : 51)
(کسی بشر کی یہ تاب نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ بھیجے کسی فرشتے کو، پس وہ وحی کردے اس کے اذن سے جو وہ چاہے، وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکمت والا ہے۔ )
کفار کے ایک اعتراض کا جواب
روایات میں ہے کہ بعض یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا ہم جس پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ بات کرتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان ہی نہیں بلکہ انسانوں کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے انبیائے کرام (علیہ السلام) بھی کوئی اختیارات نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک وہ اللہ تعالیٰ سے برائے راست بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔
اس سورة مبارکہ کا آغاز توحید و رسالت سے ہوا ہے۔ اس کا اختتام بھی توحید و رسالت کے عنوان پر ہورہا ہے۔ عام انسان نہیں بلکہ انسانوں کے سردار جنہیں نبوت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ ان کی بےاختیاری کا عالم یہ تھا کہ وہ بھی اللہ جلّ جلالہٗ سے براہ راست بات کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی کسی انسان میں یہ سکت ہے کہ وہ بلاواسطہ اپنے رب کے ساتھ ہم کلام ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے ساتھ…
Read the full tafseer →طرقِ وحی کی تفصیل :
1 5: وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ (اور کسی بشر کی یہ شان نہیں) کسی بھی انسان کیلئے یہ درست نہیں۔ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا (کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے) الہام کے طور پر جیسا کہ مروی ہے نفث فی روعی کہ دل میں یہ بات ڈالی گئی ] رواہ احمد : 3/50[ یا نیند میں خواب کے ذریعہ جیسا کہ نبی (علیہ السلام) کا قول ہے۔ رؤیا الانبیاء وحی۔] رواہ البخاری : 859[ وہ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کے ذبح کا حکم خواب میں ملا۔ اَوْمِنْ وَّرَآ یِٔ حِجَابٍ (یا حجاب کے باہر سے) یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کلام براہ راست سنتا ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا بغیر اس کے کہ کوئی سامع…
Read the full tafseer →تفسیر 50۔ ، اویزوجھم ذکرانا واناثا، اس کے لیے یہ دونوں جمع ہوجائیں ۔ پس اس کی مذکرومؤنث اولا دہوں ، ویجعل من یشاء عقیما، پس اس کی کوئی اولاد نہ ہو۔ کہا گیا ہے کہ یہ انبیاء (علیہم السلام) کے بارے میں ۔ ، یھب لمن یشاء اناثا، یعنی لوط (علیہ السلام) کہ ان کا کوئی بیٹا نہ تھا صرف دوبیٹیاں تھیں۔ ، ویھب لمن یشاء الذکور، یعنی ابراہیم (علیہ السلام) ان کی کوئی بیٹی نہ تھی۔ ، اویزوجھم ذکراناواناثا، یعنی محمد ﷺ کہ آپ (علیہ السلام) کے بیٹے ، بیٹیاں سب تھے۔ ، ویجعل من یشاء عقیما، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یہ مثال کے طور پر ہے ورنہ آیت عام ہے تمام لوگوں کے حق میں ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
51۔ 53۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہود آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لئے اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ہم کلام ہوتے اگرچہ یہ آیت مکی ہے لیکن مدینہ میں ہجرت سے پہلے جب آنحضرت کی نبوت کا شہرہ ہوا اس وقت یہود حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے ان کے اس اعتراض کا جواب اللہ تعالیٰ نے جس طرح سورة نسا کی مدنی آیت میں دیا ہے کہ انا اوحینا الیک کما او حینا الی نوح والنبیین من بعدہ الایۃ اسی طرح اس مکی آیت میں جواب دیا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ بلا پردہ کی آڑ کے تو نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
آیت 51
چونکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرنے والے تکبر اور سرکشی کی بنا پر کہتے تھے : (لو لایکلمنا اللہ اوتاتینا ایۃ) (البقرۃ 118/2) ” ہمارے ساتھ اللہ کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ “ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے سے ان کا رد کیا اور واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں میں سے صرف اپنے خاص بندوں، یعنی رسولوں سے کلام کرتا ہے اور وہ بھی ذیل کی صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔
(1) یا تو وہ ان کے ساتھ وحی کے ذریعے سے کلام کرتا ہے اور وہ اس طرح کہ فرشتہ بھیجے بغیر اور بالمشافہ مخاطب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے قلب پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–53
انتقام لینا کب جائز ہوتا ہے ؟
قول باری ہے (والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ (برابر کا ) بدلہ لے لیتے ہیں) ابراہیم نخعی سے آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ لوگ مسلمانوں کے لئے اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو دبا کر اور عاجز بنا کر رکھیں جس کی بنا پر فاسق وفاجر لوگوں کو ان کے خلاف جرات دکھانے کا موقعہ مل جائے۔
سدی کا قول ہے کہ (ھم ینتصرون) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں سے بدلہ لے لیتے ہیں جو ان پر ظلم کرتے ہیں لیکن وہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کرتے۔ ابولکر حبصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر ہمیں اس بات کی…
Read the full tafseer →102 حق تعالیٰ کی عظمت شان اور بندے کا عجز و قصور : سو ارشاد فرمایا گیا " کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے ۔ براہ راست ۔ بات کرے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے پاک کے ساتھ بندے کے بالمشافہ کلام میں جو چیز مانع ہے وہ دراصل بندے کا اپنا عجز و قصور اور اس کی درماندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ایسی باعظمت اور ایسے انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو در رو ہم کلام ہونے کی تاب نہیں لاسکتا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے قصے سے بھی ظاہر و واضح ہے۔ کیونکہ انسان من حیث الانسان ایک مادی مخلوق اور مادیت میں پھنسی ہوئی چیز ہے۔ اور حضرت حق ۔ جل شانہ ۔ خالق اور مادیات سے پاک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وحی الٰہی کا طریقہ
تشریح : ان آیات میں وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں جو درج ذیل ہیں۔
1۔ دل میں کسی بات کا ڈال دینا یا خواب میں بتلادینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے جیسے ام موسیٰ کے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ انہیں ایک صندوق میں بند کرکے دریا میں بہا دیں۔
2۔ پردے کے پیچھے سے کلام کرنا جیسے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا تھا۔
3۔ فرشتے کے ذریعے اپنی وحی بھیجنا جیسے جبرئیل امین (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر آتے اور پیغمبروں کو سناتے۔
ڈاکٹرمحمد حمید اللہ بڑی خوبصورت وضاحت کرتے ہیں۔ ” ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اب تک اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–53
آیات 44 تا 53۔
اسرار ومعارف۔
اور جس شخص کے کردار کے باعث اللہ نے ہی اس پر ہدایت کے دروازے بند کردیے اور گمراہی مقدر کردی پھر اسے کوئی بھی راہ پر نہیں لاسکتا بلکہ اسے مخاطب ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں گے اور تو دیکھے گا کہ ان ظالموں کو جب عذاب کا مشاہدہ ہوگا تو پکار اٹھیں گے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ کہ ہم دنیا میں واپس جاسکیں تاکہ اب نیکیاں کرکے لائیں اور ایمان کی حالت میں یہاں پہنچیں اور دیکھو گے کہ جب دوزخ کی آگ کے روبرو ہوں گے توشرمندگی اور ذلت کے سبب نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے اور کن اکھیوں سے دوزخ کی آگ کو ڈرتے ڈرتے دیکھیں گے تب مومن کہیں گے خسارہ اور بہت بڑا نقصان حقیقتا یہ ہے کہ جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1 کسی کی مجال نہیں کہ اس کے فیصلہ کو نافذ ہونے سے روک سکے یا اس کی تخلیق و تقسیم پر حرف گیری کرسکے۔
2 یعنی اس طرح کہ دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) کو خواب دکھایا گیا۔ ( الصافات :103، یوسف 4) ایک حدیث میں ہے کہ ” روح القدس ( جبریل ( علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی جان اس وقت تک نہ جائے گی جب تک اپنا رزق پورا نہ کرے اور اس کی ہوئی اجل نہ آجائے اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر وحی آنے کی ابتداء سچے خوابوں سے ہوئی۔ ( ابن کثیر) ۔
3 یعنی اس طرح کہ بندہ آواز سنے مگر بولنے والانظر نہ آئے، جیسے…
Read the full tafseer →(42:51) وما کان لبشر۔ اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ (ضیاء القرآن) اور کسی بشر کا مقدرو نہیں (حقانی) اور یہ کسی بشر کا مرتبہ نہیں (تفسیر ماجدی) ۔
ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیا : ان مصدریہ۔ یکلم مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب ۔ کہ کلام کرے وہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع بشر ہے اور یہ کسی بشر کا یہ مرتبہ نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے۔
الا۔ حرف استثنائ۔ جس کی مندرجہ ذیل صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں :
(1) وحیا۔ یعنی بطریق وحی۔ یعنی عام قدرتی ذرائع ابلاغ کے واسطہ کے بغیر دل میں کوئی بات ڈال دی جائے ۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں :۔
(ا) بحالت بیداری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 53
یکلم (وہ کلام کرتا ہے) وراء حجاب (پردے کے پیچھے) روح ( جان ( فرشتہ) ماتدری (تو نہیں جانتا) تصیر الامور (کاموں کو لوٹنا)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 53 : قرآن کریم میں متعد مقامات پر کفار و مشرکین کے وہ بہت سے اعتراضات نقل کر کے ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے ان ہی میں سے یہ اعتراض بھی تھا کہ آپ جس کلام کو اللہ کا کلام کہہ کر پیش کر رہے ہیں ہم کیسے یقین کرلیں کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل سچ ہے۔
کفار کہتے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس کلام کو خود سے گھڑ لیا ہے کیونکہ نہ تو آپ نے اللہ کو دیکھا نہ وہ آپ کے پاس آتا ہے نہ آپ اس کے پاس جاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–51
قرآن خدا کی کتاب ہے۔
(ف 1) شان نزول : یہود نبی کی نبوت پر لوگوں کے بہکانے کے لیے اور حسد کے سبب سے یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے بلاواسطہ فرشتے کے کلام کرتے وقت اس کو کیوں نہیں دیکھتے جیسا کہ حضرت موسیٰ دیکھتے تھے ان کے اس اعتراض کو جواب نبی ﷺ نے یہ دیا کہ حضرت موسیٰ بھی نہیں دیکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اصل مطلب یہ ہے کہ بلاپردہ کی آڑ کی تو نہ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور نہ کسی آدمی میں یہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبروباتیں بےپردہ حجاب فرمائے، ہاں پچھلے تمام انبیاء مین جو وحی کا طریقہ تھا کہ خواب میں کوئی بات معلوم ہوجاتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
[26] یعنی دل میں کوئی بات ڈال دے یا خواب میں کچھ دکھا دے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کو دکھایا گیا۔
[27] یعنی بلاواسطہ پردے کے پیچھے سے کلام فرمائے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر پیش آیا۔
[28] یعنی فرشتہ کے ذریعے وحی بھیجتا ہے جیسے قرآن مجید جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے نبی ﷺ کو بھیجا گیا۔ اس آیت میں جواب ہے مخالفین کے اس مطالبے کا جو قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف اسلوبوں سے نقل ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ محمد ﷺ سے بات کرتا ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو آخر وہ ہم سے روبرو ہو کر بات کیوں نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →مکالمہ کی تین صورتیں
1: بندوں کو اللہ تعالیٰ جب شرف مکالمہ سے نوازتے ہیں ۔ تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ یا تو قلب میں القا ہوگا ۔ اور لوح دل پر منشاء الٰہی مرتسم ہوجائیگا ۔ یا پیغمبر اور الہام کے درمیان کوئی حجاب اور واسطہ ہوگا ۔ مگر وہ پیغام بہر آئینہ پیغمبر تک پہنچ جائے گا ۔ اور یا یہ صورت ہوگی کہ جبرائیل امین بنفس نفیس تشریف لائیں گے ۔ اور بالمشافہ مراد الٰہی سے آگاہ فرمادیں گے جہاں تک نفس الہام کا تعلق ہے ۔ یہ عقلاً ممکن ہے ۔ کیونکہ اپنے سینے کے خیالات کو دوسرے تک منتقل کردینا بالکل ممکن ہے ۔ مسمریزم میں یہ ہوتا ہے ۔ کہ عامل وسیط (میڈیم) میں اپنے خیالات کو بجنسہ پہنچا دیتا ہے ۔ اور یہ…
Read the full tafseer →(51) اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے مگر یہ کہ یا تو الہام اور اشارے کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو منظور ہوتا ہے وہ پیغام پہنچا دیتا ہے بلا شبہ وہ بڑا عالیشان بڑی حکمت والا ہے - بعض کفار کہا کرتے تھے کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہے کہ یہ ہمارے رسول ہیں اور بھی ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے روبرو آنے اور اس سے کلام کرنے اور فرشتوں کے سامنے آنے کی خواہش کیا کرتے تھے جیسا کہ انیسویں پارے میں گزر چکا ہے۔ اسی پر یہ بات فرمائی کہ کسی بشر کی یہ طاقت نہیں کہ اس سے موجودہ حالت…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی قلب میں کوئی اچھی بات بلا واسطہ مدرکات طبعیہ کے ڈال دے، خواہ وہ الہام قطعی ہو جیسا انبیاء کا یا غیر قطعی ہو جیسا غیر انبیاء کا۔
2۔ یہ حجاب کوئی جسم حائل نہیں اور نہ یہ حجاب حق تعالیٰ کی ذات و نور کو مخفی کرسکتا ہے بلکہ حقیقت اس حجاب کی بشر کا ضعف اداراک ہے۔ اور یہی حجاب تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو رویت سے مانع ہوا تھا، اور یہی مانع جنت میں مرتفع ہوجاوے گا یعنی رویت کی قوت اور عمل دیدیا جاوے گا۔
Read the full tafseer →کسی انسان سے اللہ تعالیٰ رو در رو بات نہیں کرتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو
51 ؎ رو در رو بات کرنا کیا ہے ؟ یہی کہ دو انسان آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے جس طرح بات کی جاتی ہے کریں ، کیوں ؟ اس لیے کہ انسان کی مرئی آنکھ اس کی متحمل ہی نہیں کہ وہ ذات خداوندی کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھ سکے خواہ وہ آنکھ کسی رسول اور نبی کی ہو اور خواہ وہ کسی دوسرے ولی و بزرگ کی اور اس کی وضاحت قرآن کریم کے دو لفظوں میں کردی گئی کہ { لا تدرکہ الابصار } کہ کوئی آنکھ اس کو دیکھ نہیں سکتی۔ اس کے باوجود یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ انبیاء و رسول کا وہ راز ہے جو عام انسان اور نبی و رسول کے درمیان خط…
Read the full tafseer →Commentary
The first of the above verses (51) was revealed in response to a hostile Jewish demand. As mentioned by Baghawl, Qurtubi and others, the Jews asked the Holy Prophet ﷺ ، "How can we believe in you while you neither see Allah Ta’ ala, nor do you speak to Him face to face, as Sayyidna Musa (علیہ السلام) used to see and converse with Allah Ta’ ala?"
The Holy Prophet ﷺ told the Jews that it is wrong to say that Sayyidna Musa (علیہ السلام) has seen Allah Ta’ ala. Then this verse was revealed to announce that it is not possible for any human being to converse with Allah Ta'ala face to…
Read the full tafseer →78. In conclusion, the same theme with which the discourse began has been reiterated. To understand it fully, please see the(first verse of this Surah and the E.N). on it.
79. Here, wahi means to inspire somebody with something, or to show something to somebody in a vision as were the Prophets Abraham and Joseph shown (peace be upon them). See (Surah Yousuf, Ayats 4, 100); (Surah As-Saaffat, Ayat 102).
80. That is, one may hear a voice without seeing the speaker, just as it happened in the case of the Prophet Moses (peace be upon him) when he suddenly began to hear a voice from a tree on…
Read the full tafseer →